Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode17

Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode17

انکل یہ حذیفہ کیسا ہے اور کیا کررہا ہے آج کل؟ اشعر چائے پیتے ہوئے پوچھا۔
بیٹا میں کہنے کو صرف ایک باپ ہوں لیکن مجھے کوئی اختیار نہیں ۔ وہ مجھ سے بدظن
ہے أسے ہمیشہ یہی لگتا ہے کہ میں نے تم کو ہمیشہ أس سے زیادہ اہمیت دی، پتا نہیں کیوں
وہ تمہیں اتنا نا پسند کرتا ہے ۔ وہ دو سال پہلے پاکستان آگیا تھا، اب وہ یہی رہ رہا ہے
سنا ہے اسکا یہاں بہت بڑا بسنیس ہے ۔ مختار مسعود اپنے بیٹے کے بارے میں بتاتے ہوئے
غمگین ہوگئے ۔ انکل سوری میں نے آپ کو ہڑٹ کردیا، اشعر اپنا ہاتھ مختار کے ہاتھ
پر رکھ کے بولا، نہیں بیٹا یہ ایک تلخ حقیقت ہے۔ مختار تلخی سے مسکرائے ۔
انکل میں آفس کے لیے نکلتا ہوں، آپ گھر پر انجوائے کرے میں شام تک آجاوں گا
اشعر اپنا کورٹ پہنتے ہوئے کہا، نہیں مجھے کسی کام سے جانا ہے تو ہوسکتا ہے
میں وہی روک جاؤ مختار نے کہا، ٹھیک ہے جو آپ کو مناسب لگے، اشعر مسکراتےہوئے کہا
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
مختار مسعود اپنے بیٹے سے ملنے اسکے گھر آئے تھے ۔ Excellent
اچھا کام کیا تم نے، اشعر کو اب پتا چلے گا۔ مجھے أسکو برباد ہوتے دیکھنا ہے
أسکو تو پتا بھی نہیں میں نے أسکے موبائل فون سے أس لڑکی سے بتاتیں کرتا تھا
بیچارہ کو تو کچھ پتا نہیں، ماجد خان چھوڑے گا نہیں أسکو ہا ہا ہا حذیفہ نے
قہقہہ لگایا، اچھا ٹھیک ہے فون رکھتا ہوں ۔
مختار مسعود دروازے سے اندر داخل ہوتے ہوئے سب کچھ سن لیا تھا ۔
حذیفہ یہ سب تم نے کیا ہے؟ مختار بے یقینی سے حذیفہ کو دیکھتے ہوئے کہا !
مختار کی آواز پر حذیفہ پیچھے موڑ کے دیکھتا ہے سامنے دروازے پر مختار مسعود کھڑے
تھے ۔ ڈیڈ آپ کب آئے؟ حذیفہ زبردستی مسکراتےہوئے بولا۔ حذیفہ یہ سب کیوں کیا تم نے ؟
تم کو ذراسی بھی شرم نہیں آئی وہ تمہیں اپنا چھوٹا بھائی مانتا ہے اور تم أسی کے
ساتھ دھوکہ کررہے ہوں؟ مختار غصے سے بولے۔ میں اشعر سے نفرت کرتا ہوں،
جب سے اشعر ہماری زندگی میں شامل ہوا تو سب کچھ بدل گیا ۔ مجھ سے میرا باپ
چھین لیا أسنے جو مجھے چاہیے تھا وہ ہر چیز أسکے پاس ہیں۔ چاہے اسکول ہو ، کالج اور
یونیورسٹی ہر جگہ أس نے مجھے مات دی۔ ہر جگہ سب أسی ہی کی تعریف کرتے تھے ۔
میرے دوست أس جیسا بنانا چاہتے تھے أسکو اپنا آئیڈیل مانتے تھے ۔ ہر کوئی مجھے أس
جیسا بنے کا بولتا ۔ کیوں ایسا کیا ہے اشعر میں جو مجھ میں نہیں ۔ میں ایک رئیس
باپ کی اولاد ہوں لیکن ساری Attention اشعر کو ملتی رہی ۔ وہ جہاں جاتا لوگ
أسی کے گرویدہ ہوجاتے تھے ۔ ڈیڈ آپ بھی أسی کے ہوگئے تھے ۔
حذیفہ جنونی انداز میں کہا! بس حذیفہ تم اشعر سے اس قدر حسد کرتے ہوں ۔
تمہارے دل میں اشعر کے لیے اتنا بغض بھرا ہوا ہے۔ مجھے افسوس ہو رہا ہے
تم پر۔ میں تمہاری بہتر تربیت نہیں کرسکا مختار صوفے پر گرنے کے انداز میں
بیٹھتے ہوئے کہا! ڈیڈ اشعر نے مجھ سے آپکو چھین لیا وہ دو ٹکے کا غریب
لاوارث انسان پاکستان سے آیا آپ نے أسکو اپنے اسٹور میں نوکری دی
اور أسکے رہنے کا بندوبست کیا أسکا پاسپورٹ بناکے دیا ۔ وہ غریب میرے
مقابل کھڑا ہوگیا حذیفہ حقارت سے کہا! حذیفہ، مختار چیخ کے بولے۔
مت بھولو ہمارے پاس پہلے ایک معمولی سا اسٹور اور ایک چھوٹا سا گھر تھا
لیکن اشعر کے آنے کے بعد ہمارے پاس أسے کے نصیب سے دولت آئی
وہ بچہ بہت محنتی ہے آج جس مقام پر ہے اپنی محنت سے ہے ۔ میں نے دیکھی ہے
أسکی محنت کیسے وہ راتوں کو جاگ کر پڑھتا تھا کیسے وہ صرف تین گھنٹے
سوتا تھا صبح اسکول اور اسکول سے آنے کے بعد اسٹور سنھبالیتا تھا
سردی لگتی تھی تو سڑکوں پر بھاگتا تھا پہنے کیلے أسکے پاس گرم کپڑے نہیں تھے
دن میں اسٹور میں کام کرتا شام میں ہوٹلوں میں جاکے انکے برتن دھوے کے
پیسے کماتا ۔ بھوک لگتی کھانے کے پیسے نہیں ہوتے مجھ سے کبھی أس نے ایک
پیسہ نہیں مانگا ۔ لوگوں کا جھوٹا کھاکے بیٹ بھرتا ۔ میں نے بس اسکو کام دیا تھا
وہ اسکے علاوہ صبح صبح اخبار لوگوں کے گھروں میں ڈالنے کا کام کرتا
وہ چار جگہ کام کرتا تھا جو پیسے ملتے وہ تھوڑی سے پیسے اپنے پاس رکھ کے باقی سارے
رقم پاکستان اپنی مامی کے پاس بیجھتا تھا تاکہ اسکی بہن کوئی پریشانی نہیں ہوں
وہ آرام سے رہ سکے ۔ تم کو کیا پتا محنت کیا ہوتی ہے باپ کی دولت سے
بسنیس کرنا بہت آسان ہے لیکن خود کو اس قابل بنانا بہت مشکل ۔
ایک بات یاد رکھنا حذیفہ حسد بہت بری چیز ہے حسد کرنے والا اپنی آگ میں جلتا ہے
ابھی بھی وقت ہے سدر جاؤ اس پہلے توبہ کے دروازے تمہارے لئے بند ہوجائے
تمہاری اس حرکت سے وہ معصوم لڑکی کا ایکسیڈنٹ ہوگیا تھا وہ آج تک کومے میں
ہے ۔ یہ سب تمہاری وجہ سے ہوا۔ تم نے اشعر کے سامنے اچھے بن کے رہے
اسکی چیزوں کا استعمال کرتے رہے اور أسکا بھروسہ جیت کے اسی کو دھوکہ دیا
کاش حذیفہ تم میری اولاد ہی نہیں ہوتے ۔ مختار مسعود بے بسی سے کہا
ڈیڈ آپ اشعر کی خاطر مجھے ایسا بول رہے ہیں حذیفہ بجائے شرمندہ ہونے کے
اپنی بات پر زور دیتے ہوئے کہا ۔ مختار نے اپنے بیٹے پر افسوس کی نگاہ ڈالی
میں ابھی جاکے اشعر کو سب سچ بتاتا ہوں مختار مسعود اپنی جگہ سے
کھڑا ہوکے بولے۔ نہیں ڈیڈ آپ ایسا کچھ نہیں کررہے گئے ۔ اگر آپ نے ایسا کچھ کیا
تو آپ اپنے بیٹے کو ہمیشہ کے لیے کھودے گے ۔ حذیفہ پستول اپنے سر پر رکھ
کے بولا ۔ مختار گبھرا کے حذیفہ سے پستول چھیننے لگتے ہیں ۔ بیٹا ایسا مت کرو
پاگل ہوگئے ہوں ۔ مختار نے بے بسی سے کہا! ڈیڈ آپ اشعر کو کچھ نہیں بتائے گئے
حذیفہ نے کہا، ٹھیک ہے جیسا تم چاہتے ہوں ویسا ہی ہوگا مختار لاچار ہوکے
بولے ۔ کچھ گرنے کی آواز آتی ہے ۔ یہ باہر کون ہے حذیفہ چونک کے بولا
اور باہر جاکے دیکھتا ہے وہاں کوئی نہیں ہوتا ۔ بلی کھڑی ہوئی میاؤں میاؤں کررہی تھی
حذیفہ اپنی بلی کو أٹھاکے اندر چلا گیا
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
آیت یونیورسٹی سے گھر آگئی تھی ۔اشعر کی یادیں آیت کو سکون سے رہنے نہیں دے رہی
تھی ۔ آیت اشعر کی تصویر دیکھتی ہے جو اسکے موبائل کے اسکرین پر لگی تھی
اشعر کیوں کیا آپ نے ایسا ۔ میرا اشعر مجھ سے چھین لیا ۔ کتنی پاگل تھی میں
اس ناٹک کو میں محبت سمجھ بیٹھی ۔ میں نے خود سے بھی زیادہ اشعر میں نے
آپ سے محبت کی ۔ اور بدلے میں آپ نے میرے ساتھ بے وفائی کی
آیت اشعر کی تصویر سے گلہ کرتے ہوئے رونے لگی ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
فرمان اریشہ کے ساتھ اسلام آباد گیا تھا ۔ فرمان کو ایمرجنسی کی وجہ سے اسلام آباد
جانا پڑا رہا تھا تو حمیدہ نے مشورہ دیا کہ وہ اریشہ کو بھی ساتھ لے جانے کا جب
کام سے فارغ ہوجائے تو گھوم پھیر لینا اور اپنے ہنی مون کے لیے کینڈا چلے جانا
فرمان اور اریشہ پھر اسلام آباد چلے گئے تھے ۔ حمیدہ اپنے بھائی کے گھر رہنے
کے لے چلیں گی تھی ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
دروازےپر کب سے بیل ہو رہی ہے تم دیکھ کیوں نہیں رہی نمرہ کچن سے آکے بولی
تم دروازے پر مت جاؤ اشعر باہر کھڑے ہے ۔ آیت سنجیدہ لہجے میں کہا
کیا لیکن کیوں آیت باہر اتنی ٹھنڈ میں وہ کب سے کھڑے ہے میں جارہی ہوں
نمرہ ناراضگی سے کہا، نمرہ پیلز بات مان لوں ورنہ میں یہاں سے چلی جاؤ گی
آیت نے دھمکی دی ۔ نمرہ بے بسی سے آیت کی طرف دیکھتی ہے ۔ ٹھیک ہے تمہاری
مرضی ۔ نمرہ دوبارہ کچن میں چلی گی۔ آیت گیٹ کھولو مجھے پتا ہے تم اندر
ہوں میں تم سے بات کرکے یہاں سے جاؤ بس ایک بار میری بات سن لوں مجھے صفائی کا
ایک موقع تو دو، اشعر گیٹ پر کھڑے ہوئے کہا، آیت گیٹ سے ٹیک لگا کے رونے لگتی ہے
اشعر پوری رات گیٹ پر کھڑا رہا ۔
آیت سورج نکلنے کے بعد کھڑکی کی پردے ہٹاتی ہے تو سامنے اشعر کھڑا نظر آیا
اشعر پوری رات سخت سردی میں کھڑا رہا تھا ۔اشعر گھر نہیں گئے
آیت سوچتی ہے ۔ لیکن آیت دروازے پر نہیں آتی ۔
آیت تم اتنی سنگ دل کب سے ہوگی؟ نمرہ آیت کی طرف دیکھتے ہوئے کہا،
آیت اشعر بھائی ساری رات باہر کھڑے رہے تمہیں کوئی فرق نہیں پڑتا؟
نمرہ دکھ سے کہا! بس کردو میں نے نہیں کہا اشعر سے وہ میرے خاطر باہر
کھڑا رہے ۔ اور مجھے سکون سے ناشتہ کرنے دو آیت غصے سے کہا،
جانتی ہو تم ناشتہ کررہی ہوں ۔ کل سے تم نے کھانا نہیں کھایا اور اب بس چائے پی رہی
ہوں یہ تمہارا ناشتہ ہے نمرہ نے طنز کرتے ہوئے کہا،
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
اریشہ یہاں کا موسم کتنا رومینٹک ہے ، فرمان اریشہ کا ہاتھ پکڑ کے بولا!
فرمان آپ واقعی میں ڈاکٹر ہے یقین نہیں آتا ، کوئی ڈاکٹر اتنا رومینٹک کہاں ہوتا ہے
اریشہ ہسنتے ہوئے کہا۔ کیوں بھئی ہمارے دل نہیں ہوتے؟ فرمان منہ بنا کے بولا
مجھے کیا پتا؟ اریشہ نے کندھے اچکائے ۔ اچھا جلدی چلو یہاں سے شام ہونے
والی ہے ۔ فرمان پہاڑ سے اترتے ہوئے کہا، فرمان اتنی جلدی کیوں، ابھی
مجھے اور گھومنا ہے اریشہ نے کہا، نہیں اریشو کسی اور دن ابھی چلوں
یار ۔ فرمان اریشہ کا ہاتھ پکڑ کے جلدی جلدی پہاڑ سے اترنے لگا ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
اشعر آیت کے گھر سے نکلنے کے بعد آیت کے پیچھے اشعر بھاگتا ہوگیا آیت روکو میری بات
سنو ۔ اشعر پیچھے سے آیت کو آواز دیتا ہے ۔ آیت جلدی جلدی چلنے لگتی ہے ۔
آیت، اشعر ہانپتے ہوئے آیت کا راستہ روکتے ہوئے کہا، آیت اشعر کی آنکھوں
میں دیکھتی ہے اشعر کی آنکھیں لال ہورہی تھیں ۔ اشعر کی حالت دیکھ کے
آیت کو دل کچھ ہوا لیکن پھر انعم کی بات یاد آنے پر آیت پھر سے اپنی انا
کے خول میں بند ہوگی۔ کیا مئسلہ ہے اشعر کیوں تماشا بنا رہے
ہے؟ مجھے چین سے جینے دے ۔ میرا پیچھا چھوڑ دے مجھے آپ سے اب کوئی رشتہ
نہیں رکھنا ۔ آیت تپ کہ بولی ۔ آیت تم بہت پچھتاوگی ۔ ٹھیک ہے میں اب نا
تمہارے پیچھے آؤں گا نا ہی تمہیں اپنی کوئی صفائی دونگا ۔ اب تم خود ہی سچ
جانے کے آؤ گی لیکن یاد رکھنا شاید أس وقت تمہارے لئے گھر کے دروازے بند ہوجائے ۔ اشعر
غصے سے کہتے ہوئے چلا گیا ۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *