Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode16

Mera Kia Qasoor by Muniba Asif Episode16

اشعر تھک ہار کے گھر واپس آگیا تھا، اشعر اپنے کمرے میں جاکے سو جاتا ہے
اشعر کے موبائل پر رینک ہوئی ۔ اشعر موبائل بجنے کی آواز پر نیند سے بیدار ہوا
بوجھل آنکھیں کھولتا ہوا موبائل اٹھتا ہے ۔ اشعر کے موبائل پر انجان نمبر سے کال
آرہی تھی، اشعر نیا نمبر دیکھ کے کچھ سوچتا ہوا کال اٹھا لیتا ہے، ہیلو اشعر فون کان
سے لگا کہ بولا، اشعر ندیز صاحب بات کررہے ہیں دوسری جانب لڑکی فون پر تھی
جی آپ کون ہے؟ اور اتنی رات کو فون کس لیے کیا، اشعر بے زاری سے بولتا ہوا سامنے دیوار
پر لگی گھڑی دیکھتا ہےجس میں رات کے 1 بجے تھے ۔ وہ معاف کیجئے گا میں نے اتنی رات
گئے آپ کو زحمت دی، میں آیت کی دوست نمرہ بات کررہی ہوں ، آیت میرے گھر پر ہے، میں
نے آیت کے سونے کے بعد أسکے موبائل فون سے نمبر لیے کہ آپ کو فون کیا وہ تو
خود تو نا آپکا نمبر دے رہی تھی نا فون پر بات کررہی تھی، مجھے نہیں پتا آپ کا
قصور تھا یا نہیں لیکن میری دوست بہت غمگین ہے میں نے أسے اتنا روتے کبھی نہیں
دیکھا، نمرہ دکھی لہجے میں کہا، مس نمرہ آپ کا شکریہ آپ نے مجھے آیت
کا بتایا میں خود بہت پریشان تھا، میں نے آیت کو ہرجگہ تلاش کیا لیکن آیت
کا مجھے کچھ پتا نہیں چلا، اشعر گہری سانس لیتے ہوئے بولا، ٹھیک میں آپ کو اپنے گھر
کا ایڈریس میسج کررہی ہوں، آپ کل آکے آیت سے مل لیے گا، آیت کو پتا نہیں چلے
میں نے آپکو بتایا ہے، نمرہ نے کہا، ٹھیک ہے اشعر بات کرنے کے بعد موبائل میز پر
رکھ کے لیٹ گیا ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
اریشہ تم فرمان کے ساتھ چلی جاؤ فرمان تمہیں لینے آیا ہے، اشعر اریشہ کے کمرے میں
آکے کہا، بھائی میں آپکو چھوڑ کے کہی نہیں جاؤ گی اگر میں چلی گئی تو آپکا خیال
کون رکھے گا، بھابھی بھی نہیں ہے ۔ اریشہ پریشانی سے بولی، اریشہ میں
کوئی چھوٹا بچہ نہیں ہو جو اکیلے نہیں رہ سکتا، میں پہلے بھی اکیلے رہتا
تھا ۔ تم ابھی کچھ دن تو پہلے یہاں رہنے آئی تھی ۔ اشعر اریشہ کو سمجھاتے ہوئے کہا
اریشہ منہ بنا کے اشعر کی طرف دیکھتی ہے، اب جلدی سے نیچے آو اشعر
اریشہ کو بول کہ چلا گیا،
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
اریشہ فرمان کے ساتھ گھر چلی گی تھی ۔ اشعر آیت سے ملنے نمرہ کے گھر آگیا تھا،
نمرہ گیٹ کھولتی ہے، اسلام وعلیکم! اشعر بھائی وعلیکم السلام اشعر مسکراتےہوئے کہا
بھائی اندر آئے نمرہ اشعر کو راستہ دیتی ہے ۔ اشعر گھر کے اندر داخل ہوتا ہے
آیت سامنے والے کمرے میں ہے میں آپ ہی کا انتظار کررہی تھی ۔ آپ آیت سے مل لیے
میں یونیورسٹی جارہی ہوں نمرہ اشعر سے بولنے کے بعد گھر جاتی ہے
اشعر کمرے کا دروازہ پر دستک دے کے اندر جاتا ہے ۔ آیت کھڑکی کے پاس کھڑی کسی سوچ
میں گم تھی ۔ آیت اشعر کو آواز دیتا ہے ۔ آیت اشعر کی آواز سن کے اشعر کی طرف دیکھتی
ہے ۔ آپ یہاں کیا کرنے آئے ہیں ۔ آیت غصے سے کہا، آیت میری بات تو سنو اشعر
آیت کے قریب آکے بولا، اشعر میرے قریب مت آئے مجھے کچھ نہیں سنا نکل جائے یہاں سے
آیت اشعر کو دھکا دیتے ہوئے کہا، آیت پیلز میری بات تو سنو اشعر بے بسی سے کہا
لیکن آیت اشعر کا ہاتھ پکڑ کے گھر سے باہر نکل دیتی ہے ۔ آیت پیلز دروازہ کھولو
کیوں تماشا بنا رہی ہوں، آیت پیلز میری بات سنو اشعر چیخ چیخ کے کہا
شور کی آواز سے محلے والے اکٹھا ہوگئے تھے، کون ہو تم کیوں پاگلوں کی طرح دروازہ
بجا رہے ہو نکلو یہاں سے ۔ ایک محلے کا آدمی غصے سے بولا، دیکھے تمیز سے بات
کررہے ہاتھ مت لگائے، اشعر نے کہا، تم ہمارے محلے میں کھڑے ہوکے ہم سے
ہی اکھڑ دیکھا رہے ہو ۔ دوسرا آدمی نے کہا، تم جارہے ہم پولیس کو بلائے
یہ شریفوں کا محلہ ہے، سب لوگ مل کے بولے۔ اشعر غصے سے گاڑی میں بیٹھ کے
چلا گیا ۔۔ آیت پردے سے اشعر کو جاتا دیکھ رہی تھی
☆☆☆☆☆☆☆☆☆
اشعر غصے گاڑی ڈرئیف کرتا ہوا آفس پہنچا، سر کوئی آدمی آپ سے ملنے آیا ہے
ریسیپشن پر بیٹھی لڑکی نے کہا، کون آدمی؟ اشعر کا پہلے سے موڈ خراب تھا اشعر غصے سے کہا!
سر ہمیں کچھ نہیں بتایا وہ زبردستی آپ کے کمرے میں داخل ہوگیا
سر اسکی اسٹاف سے لڑائی بھی ہوگی تھی ۔ شیما نے کہا، اشعر اپنے کمرے کی طرف بڑھتا
ہے ۔ وہ آدمی اشعر کو دیکھ کے کھڑا ہوگیا تھا، اشعر أس آدمی کو اگنور کرتا ہوا
اپنی کرسی پر بیٹھتا ہے ۔ کون ہو تم؟ تم جانتے نہیں ہو میری طاقت کو، میرے
آفس میں میری اجازت کے بغیر تم یہاں بیٹھے ہوں، اشعر أس آدمی کی طرف
دیکھتے ہوئے کہا، میں تمہارا برا وقت ۔ ماجد اشعر کی آنکھوں میں
دیکھتے ہوئے کہا ۔ کیا مطلب؟ اشعر چونک کے ماجد کی طرف دیکھتا ہے
میں ماجد خان ہوں، تمہیں یاد ہے آج سے سات سال پہلے تم نے ایک
لڑکی کا دل بے دردی سے توڑا تھا ۔ کچھ یاد آیا؟ میں أس معصوم لڑکی کا بھائی ہوں
ماجد نم آنکھوں سے اشعر کی طرف دیکھتے ہوئے کہا، کیا بکواس کررہے ہو
اشعر غصے سے کہا، لگتا ہے تمہیں یاد نہیں میری بہن علیشا تم سے بہت محبت کرتی
تھی ۔ تم سے اپنے پیار کا اظہار کیا تم نے سب کے سامنے أسے ذلیل کیا
أسے بے شرم بے حیا کہا، تم پہلے خود أسکے ساتھ وقت گزاری کرتے رہے فون پر
پیار بھری باتیں کرتے رہے لیکن جب علیشا نے تم سے شادی کی بات کی تو تم نے
منع کردیا ۔ خود شریف بن کے أسکو زمانے کے سامنے رسوا کردیا ۔
ماجد غصے سے بولا، میرا تمہاری بہن کے ساتھ کوئی تعلق نہیں تھا نہ ہی میں کبھی
أسے ملا ہو، میں ایک انٹرنیشنل بسنیس مین ہوں، میرا بسنیس دنیا کے ہر ملک میں
پھیلا ہوا ہے ۔ تمہاری بہن سے میں کب ملا؟ مجھے پاکستان آئے ہوئے ایک سال
ہوا ہے اس پہلے میں پاکستان کبھی نہیں آیا تو تمہاری بہن سے کہاں سے مل لیا
تمہاری بہن کا نام پہلی بار سن رہا ہوں ۔ میں پچھلے کئی سالوں سے
یورپ میں مقیم تھا ۔ اشعر حیرت سے کہا، تم جھوٹ بول رہے ہو اشعر
تم میری بہن سے فیسک بوک سے بات کرتے تھے، یہ تمہارا اکاؤنٹ نہیں ہے
ماجد اشعر کو موبائل دیکھاتے ہوئے کہا، نہیں یہ میرا اکاؤنٹ نہیں
یہ ایک فیک اکاؤنٹ ہے ۔ میں فیسک بوک پر نہیں ہو ۔ میرے پاس اتنا وقت نہیں
میں ان چکروں میں پڑو میرا ایک ایک منٹ قیمتی ہے ۔ اشعر نے کہا
تم کتنے جھوٹ بولو گے یہ دیکھو یہ تمہاری تصویر ہے تم سے ملنے میری بہن
امریکہ گئ تھی ۔ یہ أس پارٹی کی تصویر تھی جس میں اشعر نے شرکت کی تھی
اشعر کے پیچھے ایک لڑکی کھڑی تھی ۔ دیکھنے میں ایسا لگ رہا تھا اشعر
علیشا سے بات کررہا ہے ۔ یہ لڑکی؟ اشعر تصویر کو دیکھتے ہوئے کہا
یہ میری بہن ہے ۔ ماجد نے کہا
یہ مجھ سے ملنے میرے آفس آئی تھی ۔ میں اس سے پہلی بار ملا تھا ۔
وہ مجھ سے فضول باتیں کررہی تھی ۔ مجھے غصہ آگیا تھا میں نے أسے ڈانٹ کے
نکال دیا تھا اشعر نے کہا، اشعر ندیز میری بہن کا أس رات بہت برا ایکسیڈنٹ ہوگیا تھا
آج تک وہ کومے میں ہے ۔ یہ سب تمہاری وجہ سے ہوا ہے ۔ تم ہو أسکے زمیندار
میں تمہیں چھوڑو گا نہیں، میں تمہیں برباد کردو گا، تمہاری وجہ سے میری بہن
اس حالت میں ہے تم سے تمہارا سب کچھ چیھین لوں گا، تم ترسو گے موت کے لیے
تمہاری بیوی کو تم سے دور کیا آہستہ آہستہ سب کچھ تم سے چیھین لوں گا
ماجد جنونی انداز میں کہا، اشعر آیت کا نام سن کے بھڑک گیا، مطلب تم نے
انعم کو میرے گھر بیجھا تھا میں تمہیں چھوڑو گا نہیں اشعر ماجد کا گلہ
پکڑ کے زور سے دبانے لگتا ہے ۔ ماجد اپنے آپ کو اشعر سے چھوڑانے کی کوشش کرتا ہے
اشعر ماجد کو نہیں چھوڑتا ۔ کیا ہو رہا ہے یہ ؟ اشعر چھوڑو اسے مر جائے گا یہ
دروازے پر کھڑے مختار مسعود نے کہا، اشعر ماجد کو چھوڑ کے پیچھے ہٹا ماجد کی سانسیں
بحال ہوئی، ماجد جلدی سے اشعر کے آفس سے نکلتا ہے ۔ اشعر ریلکس My son ، مختار مسعود نے کہا
اشعر میں سب سن چکا ہوں، تم پریشان نہ ہوں ہم دیکھ لئے گے، مختار نے کرسی پر
بیٹھے ہوئے کہا، انکل آپ کب پاکستان آئے؟ اشعر پانی پینے کے بعد کہا
ابھی کچھ دیر پہلے، تم سناؤ ہماری اریشہ کیسی ہے؟ ٹھیک ہے اشعر
کرسی سے ٹیک لگا کے کہا،
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
تم نے یہ ٹھیک نہیں کیا آیت، تم نے ایک بار تو اشعر بھائی کی بات سنی چاہیے تھی
نمرہ نے کہا، نمرہ پیلز تم مجھے لیکچر مت دو، مجھے اس بارے میں بات نہیں
کرنی، اشعر نے بے وفائی کی ہے میرے ساتھ، دھوکہ دیا ہے مجھے ، میرے جذبات سے
کھیلا ۔ تم نہیں سمجھو گی، کوئی بھی عورت اپنے شوہر کا ہر ظلم برداشت کرسکتی ہے
لیکن بے وفائی نہیں، آیت روتے ہوئے کہا اور پھر کمرے میں جاکے خود کو بند کرلیتی ہے
نمرہ افسوس سے آیت کی طرف دیکھتی ہے ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
اشعر مختار ملک کے ساتھ اپنے گھر میں بیٹھا تھا ۔ انکل آپ مجھے بلالیںتے اشعر مختار ملک کو اپنے کمرے
میں بیٹھا دیکھ کے بولا، اشعر کوئی بات نہیں، تم مجھے اتنی محبت دیتے ہو میں شرمندہ ہوجاتا ہوں مختار
مسعود نے کہا، انکل میں آج جو کچھ بھی ہوں آپ کی وجہ سے اس مقام پر پہنچا ہوں، اگر آپ أس دن
میری مدد نہیں کرتے تو آج میں یورپ کی جیل میں سزا کاٹ رہا ہوتا اشعر ماضی کے بارے میں سوچتے ہوئے
کہا، اشعر تم میرے بیٹے کی طرح ہوں،اور میں نے کوئی احسان نہیں کیا مجھے اللہ نے تمہارا وسیلہ بنا کے بیجھا
تھا مختار ملک نے کہا، انکل میں بنا پاسپورٹ کے یورپ گیا تھا، میری عمر أس وقت
18 سال تھی، اریشہ کو مامی کے پاس چھوڑ کے میں کسی کی مدد سے یورپ
آگیا تھا، مجھے مامی نے کسی آدمی سے بول کے یورپ بیجھا دیا تھا،
مجھے نہیں پتا تھا یہ غیر قانونی ہے ۔اشعر بھول جاؤ پرانی بتاتیں
کیا فائدہ أنھیں یاد رکھنے کا جو صرف درد دیتی ہے ۔ مختار نے کہا
اچھا چلوں کھانا کھلاؤ مجھے بہت بھوک لگی ہے ۔ مختار نے بیڈ سے اٹھتے ہوئے کہا
اشعر تلخی سے مسکراہتے ہوئے مختار مسعود کو دیکھتا ہے
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
ہاشم بیگ کا گھر بینک نے چیھین لیا تھا، ہاشم بیگ کو اولڈ ہوم میں
بیجھ دیا تھا ۔ عرشی نے ہاشم بیگ سے زبردستی طلاق لیے لی تھی ۔ ہاشم کو
عدنان کے غنڈہ نے پستول رکھ کے طلاق کے کاغذات پر سائن کرائے تھے
ہاشم بیگ عدنان کے اس دھوکے سے مکمل ٹوٹ گیا تھا ۔ جس دوست پر اتنا
ناز تھا وہی دھوکے باز نکلے گا ۔ عرشی نے عدات کے بغیر عدنان سے نکاح کرلیا تھا
ہاشم بیگ اپنی زندگی کے دن اولڈ ہوم میں کاٹ رہا تھا ۔ وہ روز اللہ سے اپنے
مرنے کی دعائیں مانگتا تھا ۔ اب أسکے پاس سوائے پچھتاوے کچھ نہیں بچا تھا
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
اریشہ فرمان کے ساتھ گھر آگی تھی ۔ اریشہ حمیدہ کو دل سے معاف کردیا تھا
لیکن وہ اپنے باپ اور دادای کی شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتی تھی ۔
اریشہ نے فرمان کی پسند کی ڈیشس بنائی تھی ۔ فرمان اریشہ سے ناراض تھا
فرمان اب مان بھی جائے نا میں مانتی ہوں مجھے آپکے ساتھ ایسا سلوک نہیں
کرنا چاہیے تھا ۔ مجھے معاف کردے پیلز اریشہ اپنی آنکھیں چپکاکے
بولی۔ فرمان اریشہ کے معصومیت سے بولنے پر ہسنے لگتا ہے ۔ جائے میں
آپ سے نہیں بولتی اریشہ منہ بنا کے بولی ۔ اچھا نا سوری فرمان پیار سے کہا۔
اریشہ مسکراتےہوئے اپنے ہاتھ سے فرمان کو کھانا کھلاتی ہے
دروازے پر کھڑی حمیدہ دونوں کو خوش دیکھ کے اللہ کا شکر ادا کرتی ہے
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
اشعر بالکونی میں کھڑے ہوئے سگریٹ پی رہا تھا ۔ آیت کو مسلسل فون کررہا تھا
لیکن آیت کال کاٹ رہی تھی ۔ اشعر آیت کو میسچ کرتا ہے
❤️محبت واجب تھی ہم پر
جو ہم نے کر ڈالی تم سے❤️
وفا فرض ہے تم پر😊
دیکھتے ہیں ادا کرتے ہو یا قضاء کرتے ہو😊
آیت اشعر کا میسج پڑھ کے رونے لگی۔ پھر غصے سے اشعر کو
میسج کیا۔ وفا کی بات اشعر آپ کے منہ سے اچھی نہیں لگتی
مجھے فون کرکے پریشان نہ کرے ۔ آیت کا میسج پڑھ کے اشعر تلخی سے مسکراتا ہے
خیال تیرا بھی___ جان لیوا ھے مگر…
تیرے خیال سے نکلوں تو___جان جاتی ھے…!!!
تعلق کے وسوسوں کو ابھی تک پال رکھا ہے
اس طرح سے اس نے رابطہ بحال رکھا ہے
اپنی طرف سے کیا ہے دکھوں کا ازالہ اس نے
مجھے کھو دیا ہے اور نشانیوں کو سنبھال رکھا ہے
ابھی مدہوش ہیں تو ذرا سا مسکرانے دو
اداسیوں کوہم نے، کل پہ ڈال رکھا ہے
سب کچھ گنوا دیا ہے مگر پھر بھی مطمئن ہیں
کہ دل سے ہم نے خواہشوں کو نکال رکھا ہے
ایک ہم ہی تو تھے باعثِ زوالِ دوستاں
ہمارے سوا جس کو بھی رکھا کمال رکھا ہے❤
جینے پڑے گا تم کو میرے نام کے بغیر
یہ کہ کے اس نے مجھ کو مشکل میں ڈال رکھا ھے
اشعر پھر آیت کو غزل میسج کیا ۔ آیت پڑھنے کے بعد بہت روتی ہے ۔ اشعر میں آپ
کو کبھی معاف کرو گی کبھی نہیں، آیت دل میں اشعر سے مخاطب تھی۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *