Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mein Kese Kahun (Last Episode)

Mein Kese Kahun by Umme Emman Fatima

فاریہ نے اسکی باتوں پہ جھکا ہوا سر اٹھایا۔۔

مگر زین۔۔۔میرے اندر بری طرح گھاٶ لگا ہے۔وہ نم لہجے سے بولی۔

فاریہ آپ مام کے گھاٶ کا سوچو تو آپ کو اپنے گھاٶ بہت معمولی لگے گٸے۔انہوں نے اپنے پیار اپنے محبوب کے دھوکےکو سہا۔ثمن ماں کی لعن طعن اور بددعاٶں کو سہا،تم سے اتنی محبت تھی مگر وہ تمہیں درد دیتی تھی تو اس سے زیادہ وہ درد میں مبتلا ہو جاتی تھی۔۔۔زین نے کہا۔۔

فاریہ نے کرب سے دیکھا۔۔

تم چلو گی نہ میری ساتھ،؟ زین نے پوچھا۔۔

فاریہ نے اثبات میں سر ہلادیا۔۔

پھر زین کچھ دیر تک بیٹھا اور پھر فاریہ کو لیکر وہ آفندی ولا کیلٸے نکل آیا۔۔

وہ دونوں جب گھر پہنچے تو ناٸلہ آفندی لاٶنج میں ہی بیٹھی۔فاریہ اور زین کو دیکھ کر وہ اٹھ کر کھڑی ہوگٸی۔

فاریہ تیزی سے انکی طرف بڑھی اور انکے گلے لگ کر رودی۔۔

پھر ناٸلہ آفندی رات کو بھی اسی کے ساتھ سوٸی اور زین کچھ دیر بیٹھا اور پھر اٹھ کر اپنے روم میں چلا آیا۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بیل کی آواز پہ ہانیہ نے چولہے کے نیچے جلتی آگ بند کی اور باہر نکل آٸی۔اس نے ہول سے باہر دیکھا تو فرح اور وقاص کو دیکھ کر چونک گٸی۔۔

پھر اس نے دروازہ کھولا۔۔

فرح جلدی سے اسے دیکھ کے اسکے گلے لگ گٸی۔۔

پھر ہانیہ انکو لاٶنج میں بیٹھا کر ثانیہ کو بلانے چلی آٸی۔۔

السلام علیکم۔۔۔کچھ دیر بعد ثانیہ نے اندر داخل ہوکر سلام کیا۔۔

پھر ادھر ادھر کی باتوں کیساتھ فرح نے وقاص کی تعریفوں کے پل باندھنے شروع کر دٸیے۔۔

پتا ہے وقاص نے ڈھونڈ ہی نکالا آپ کے گھر کومجھے تو ہانیہ پہلی نظر میں ہی بہت اچھی لگی تھی۔تو میں رشتہ لیکر آنا چاہتی تھی مگر آپ کے گھر کا پتا معلوم نہیں تھا۔فرح نے کہا۔۔

ہانیہ محض پہلو بدل کر رہ گٸی۔۔

بہت خوشی اور اعزاز کی بات ہے یہ ہمارے لٸے مگر سوری ہم ایسے ہی رشتہ نہیں طے کر سکتے۔کچھ دنوں کا وقت دیجٸے ہم آپ کو سوچ و بچار کے بعد بتاتے ہیں۔ثانیہ نے کہا۔

پھر وہ دونوں کچھ دیر بعد اجازت لیکر وہاں سے چلے گٸے۔مگر ثانیہ کی نظروں نے دیکھا کہ وقاص نے صوفے کی ساٸیڈ پہ لگا ڈکٹا فون اتار لیا تھا۔

پھر بھی انکے جانے کے بعد اس نے اچھے سے چیک کر لیا کہ کہیں اور تو نہیں لگا گیا ڈکٹا فون مگر اسے کہیں نظر نہیں آیا۔

ثانیہ گہرا سانس لیکر دھپ سے صوفے پہ بیٹھ گٸی۔۔

ہمیں اس رشتے کے متعلق سوچنا ہی پڑے گا کیونکہ اگر انکار کر دیا تو یہ شخص ہمارے پیچھے لگ جاۓ گامگر ہاں کی تو ہماری نظروں میں ہی رہے گا تو ہانیہ تمہیں اس انسپکٹر سے شادی کرنے پڑے گی۔ثانیہ نے کہا۔۔

ہانیہ نے اثبات میں سر ہلا دیا۔۔

پھر اگلے دن ثانیہ نے رشتے کیلٸے ہاں بول دی۔۔

اور فرح نے اگلے دن انہیں شاپنگ کیلٸے بلوایا تھا

اگلے دن وہ دونوں شاپنگ مال پہنچی اور ہانیہ نے اپنی پسند کا ڈریس چوز کیا اور پھر وقاص اسے لیکر ریسٹورنٹ ایریا میں آگیا۔۔

اکچوٸلی میں بہت شرمندہ ہوں ہانیہ۔۔بس تمہارے بہن کو کوٸی اور سمجھ لیا تھا۔۔وقاص نے کہا۔۔

اچھا۔۔مگر کون سمجھا تھا کہ وہ کون ہے؟ ہانیہ نے پوچھا۔۔

وہ ایک ہے لڑکی ثانی نام کی۔۔بہت خطرناک کرمنل ہے وہ سمجھ لیا تھا۔وقاص نے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوۓ کہا۔۔

رٸیلی۔۔۔آپ کو میری معصوم سی بہن کرمنل لگی تھی۔ہاہاہاہا۔۔سو فنی یار۔۔۔۔وہ کھلکھلاٸی۔۔

یہ جو تم اتنا مسکرا رہے ہو

کیا غم ہے جو چھپا رہے ہو۔۔۔

وہ گنگنایا۔تو ہانیہ گڑبڑا گٸی۔

نہیں تو ایسا تو کچھ نہیں ہے۔۔وہ دھیما سا بولی۔

ارے مزاق کر رہا ہوں یار۔۔ وقاص نے مسکرا کر کہا۔اور پھر پاکٹ سے ایک کنگن نکال کر اسکی طرف بڑھایا۔۔

یہ کنگن میری ماں کا ہےتو آج تمہاری امانت تمہیں دے رہا ہوں. وقاص نے کہا۔۔

ہانیہ نے جھجھکتے ہوۓ ہاتھ اسکی طرف بڑھا دیا۔۔وقاص نے مسکرا کر کنگن پہنا دیا۔۔

پھر وہ انہیں گھر ڈراپ کر گیا واپس چلا گیا۔۔

ہانیہ گھر میں آکر گرنے والے انداز میں صوفے پہ بیٹھ گٸی۔۔

کیا ہوا تھک گٸی۔۔؟ثانیہ نے پوچھا۔۔

انسکٹر وقاص کو برداشت کر رہی ہوں تو تھکو گی ہی۔۔بڑا خود کو توپ سمجھتا ہے۔پتا ہے معافی مانگ رہا تھا کہ تمہاری بہن کو غلط سمجھا۔۔بیوقوف کہیں کا۔۔۔۔نجانے پولیس فورس میں سب بیوقوف ہی کیوں بھرے ہوتے ہیں کہ خوبصورت لڑکی دیکھ کر ہی ریشہ خطم ہو جاتے ہیں۔۔مگر خیر اسکے شک سے جان چھوٹی،مگر پلیز آپی اس انسان سے بھی جلدی جان چھڑوا دیں۔۔وہ جھلاٸی۔۔

یار اتنا اچھا تو ہے وقاص اور پھر پسند بھی بہت کرتا وہ بھی اور اسکی بہن بھی۔۔تمہیں کہیں تو شادی کروانی ہے تو اسی سے کروا لو۔۔ثانیہ نے کہا۔۔

اوففففف آپی۔۔۔۔آپ کو خطرہ رہے گا،ہانیہ نے کہا۔

میں یہ کام ہی چھوڑ دونگی اور عام انسانوں کیطرح جی لونگی۔۔ثانیہ بولی۔

ہانیہ پرسوچ انداز میں سر ہلا کر رہ گٸی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وقاص نے لیپ ٹاپ آن کرکے ہیڈ فون کان کو لگاۓ۔

پھر کچھ دیر بعد کھڑ کھڑ کی آواز آٸی اور پھر ثانیہ اور ہانیہ کی گفتگو ہونے لگی اور جیسے جیسے گفتگو ہوتی گٸی وقاص کے ماتھے پہ بل پڑ گٸے۔پھر اسکے چہرے پہ تلخ مسکراہٹ آ گٸی۔۔

تمہیں میں بیوقوف لگتا ہوں نہ مگر دیکھو تم دونوں مجھ بیوقوف کے جال میں پھس گٸی ہو چوہے کی طرح،وہ طنزیہ انداز میں بڑبڑایا۔۔

پھر اگلے دن وہ لوگ منگنی کی انگوٹھی پہنانے ہانیہ کے گھر پہنچے۔پھر کچھ دیر بعد سکاٸی بلیو فراک پہنے ہانیہ اندر آٸی اور وقاص بھی اسے دیکھ کر ٹھٹھکا۔مگر پھر سر جھٹک کر اس نے خود پہ قابو کیا۔۔

انگوٹھی پہنانے کے بعد وقاص اور ہانیہ اپارٹمنٹ سے باہر نکل آۓ اور ٹہلتے ٹہلتے نیچے آ گٸے۔وقاص وقتا فوقتا اسکے بیزاری بھرے چہرے پہ بھی نظر ڈال رہا تھا۔۔

تمہیں پتا ہے ہانیہ مجھے ثانی ڈان کا پتا لگ گیا ہے۔کل میری ڈیوٹی سے چھٹی ہے پرسوں سب سے پہلے ثانی ڈان جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہوگی۔۔

وقاص نے کہا۔۔

ہانیہ نے چونک کر دیکھا۔۔

اچھا۔۔۔کون ہے وہ؟ اور کیسے پتا لگا۔۔؟ ہانیہ نے پوچھا۔۔

وقاص نے اسے گہری نظروں سے دیکھا۔۔

فکر مت کرو ہانیہ تمہیں میرے ساتھ رہنے کی ضرورت نہیں ہے اور نہ شادی کی ضرورت ہے،میں اپنی اپیا کو سمجھا لونگا۔مگر تمہارے لٸے ہمیشہ دکھ رہے گا کہ تم آگے بہت درد سہنے والی ہو۔اور ہاں کنگن ضرور واپس کر دینا۔۔وقاص کی بےترتیب گفتگو سے ہانیہ کے دل میں انہونی کا احساس ہوا۔پھر کچھ دیر بعد فرح بھی نیچے آ گٸی۔

وقاص کے جانے کے بعد وہ بھاگتی ہوٸی اندر آٸی اور ڈریسنگ پہ رکھا کنگن اٹھا کر دیکھنے لگی۔۔پھر ٹٹولتے ہوٸے کنگن کے نچلے حصے پہ لگی چپ دیکھ کر ہانیہ کا رنگ زرد پڑگیا۔

پھر وہ تیزی سے بھاگ کر باہر نکلی اور ثانیہ کو ضروری کام کا کہہ کر صفدر کے فلیٹ پہنچی۔

اس نے بیل بجاٸی اور کچھ دیر بعد دروازہ کھلا اور صفدر کی شکل دیکھاٸی دی۔۔

صفدر نے چونک کر اسے دیکھا۔

صفدر بھاٸی مجھے بہت ضروری بات کرنی آپ سے۔۔۔وہ نم لہجےمیں بولی۔۔

اووووووہ کم۔۔۔صفدر نے چونک کر کہا۔۔

پھر وہ دونوں لاٶنج میں پہنچ گٸے۔۔

کیا ہوا۔۔سب ٹھیک ہے نہ ہانیہ ؟ صفدر نے اسکے ستے ہوۓ چہرے کو دیکھ کر پوچھا۔۔

وہ کچھ کہنے کی بجاۓ رونے لگ گٸ۔۔صفدر اسکے رونے پہ گھبرا گیا۔۔

پھر وہ جو بولتی گٸی اس نے صفدرکے ہوش اڑا دٸیے۔

آپ میری آپی کو لیکر یہاں سے کہیں چلے جاٸیں۔۔وہ نم لہجے میں بولی۔

صفدر سر پکڑ کر بیٹھ گیا۔۔

مم۔میں کرتا ہوں کچھ۔مگر سب سے پہلے ہمیں اس انسپکٹر کو روکنا ہوگا فی الفور۔صفدر نے کہا۔

میں اس سے بات کرنے کی کوشش کرتی ہوں۔ہانیہ نے کہا اورپھر وقاص کیلٸے میسیج چھوڑ دیا۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آج ہوٹل میں باقاعدہ احمر،فاریہ اور پری زیب، زین کی انگیجمنٹ کا فنکشن تھا۔

دونوں دولہنوں نے واٸٹ اور بلیو اوپن شرٹس پہنی تھی اور دونوں دولہوں نے واٸٹ شیروانیاں پہنی تھی۔۔

منگنی کی رسم کے بعد وہ لوگ سٹیج پہ بیٹھے گپ شپ کر رہے تھے۔کہ ثانیہ اور ہانیہ سٹیج پہ آتی دیکھاٸی دی۔۔

گانگریجولیشنز ۔۔۔۔ثانیہ اور ہانیہ نے وش کیا۔۔

تھینک یو سو مچ۔۔اور آپ کو بھی ہانیہ کی منگنی کی بہت بہت مبارک ہو۔۔پری زیب نے کہا۔۔

ویسے ثانیہ اب میرے خیال میں آپ کی بھی منگنی ہو جانی چاہیے۔۔کب تک اپنے ہونے والے کو ویٹ کرواٶ گی۔زین نے صفدر کیطرف دیکھتے ہوۓ کہا۔۔

نہیں میرا ابھی کوٸی موڈ نہیں اپنی بربادی کروانے کا۔۔وہ منہ بنا کر بولی۔۔

سب کے چہرے پہ مسکراہٹ آ گٸی۔۔

پھر پری زیب نے گم صم سی ہانیہ کو دیکھا تو چونکی۔۔پھر اس نے صفدرکو کوٸی اشارہ کیا جو کہ پری زیب سے مخفی نہیں رہا۔۔کچھ دیر بعد صفدر وہاں سے نکلا تو پیچھے ہی ہانیہ بھی نکل گٸی۔۔

میں واشروم سے ہوکر آتی ہوں۔پری زیب نے کہا اور پھر اتر کر سٹیج سے تیزی سے ان دونوں کے پیچھے چلی آٸی اور وہ دونوں راہداری میں کھڑے تھے اور ہانیہ رو رہی تھی۔۔پری زیب انکی طرف بڑھی اور اوٹ میں ہوکر انکی گفتگو سننے لگی۔۔

اچھا تم رو مت۔۔۔میں ثانیہ کو اغوا بھی کرنا پڑا تو وہ بھی کر لونگا۔۔صفدر کی آواز سناٸی دی۔۔

صفدر بھاٸی۔۔۔پلیز میری آپی کو اس انسپکٹر سے بچا لیں وہ اگر جیل چلی گٸی میں کیسے جی پاٶں گی۔۔ہانیہ کی سسکیوں کے درمیان کی گٸی بات نے پری زیب کو متوحش کردی۔۔وہ تیزی سے باہر نکلی تو صفدر اور ہانیہ گھبرا گٸے۔

تم لوگ یہ بات ثانیہ سے چھپا کر ٹھیک نہیں کر رہے۔اسکی جان کو خطرہ ہے اور تم لوگ یہ سب چھپا رہے ہو۔۔وہ پاس آکر تپ کر بولی۔

آپ۔۔۔آپ بھی اپیا کی سچاٸی جانتی ہیں۔۔؟ہانیہ نے حیرت سے پوچھا۔

یس میں اور مام جانتے ہیں۔پری زیب کی بات پہ وہ دونوں حیران رہ گٸے۔۔

اب تم نے اس انسپکٹر وقاص سے کیا کہا ہے؟پری نے پوچھا۔

وہ کچھ سننےکیلٸے تیار نہیں۔۔ہانیہ نے کہا۔۔

تم فکر مت کرو۔۔ہم کل ہی اس سے ملنے چلیں گے۔۔پری زیب نے محبت سے کہا۔۔ہانیہ کی آنکھیں چھلک اٹھی۔۔

پھر پری زیب مسز ناٸلہ آفندی کیطرف بڑھ گٸی۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سیون سٹار ہوٹل کے ایک کیبن میں ناٸلہ آفندی،پری زیب اور ہانیہ بیٹھے انسپکٹر وقاص کا انتظار کر رہے تھے۔۔

کچھ دیر بعدکیبن کا دروازہ کھلا اور انسپکٹر وقاص ہانیہ کیساتھ دو اور عورتوں کو دیکھ کر حیران ہوا۔وقاص کو ہانیہ کا میسیج آیا تھا اور یہاں بلوایا تھا۔۔

وقاص گہرا سانس بھرتا سامنے رکھی چیٸر پہ بیٹھ گیا۔۔

تو تم ان این جی او والی خاتون کو لیکر آٸی ہواور میرے خلاف کوٸی پلان بنانا چاہتی ہیں آپ خواتین تو جان لیجٸے مجھے ہرانا آسان نہیں۔۔وقاص نے تلخ لہجے میں کہا۔۔

ہم کوٸی پلان نہیں بنا رہی،صرف ریکویسٹ کرنے آٸی ہیں کہ یہ کیس سے ہٹ جاٸیں۔۔ناٸلہ آفندی نے سنجیدگی سے کہا۔۔

واہ کیا بات ہے۔۔دھمکا رہی ہیں مجھے آپ؟ مگر افسوس میں آپکی دھمکیوں میں نہیں آنے والا۔آپ پیسےکے زور سے مجھے نہ تو خرید سکتی ہیں اور نہ ہی میں بکنے والا ہوں۔میں ثانیہ ڈان کو اکسپوز ضرور کرونگااور اپنا فرض نبھاٶں گا۔۔وقاص نے کہا۔۔

آپ کو خریدنا نہیں چاہتے ہم۔اور نہ ہی آپکی ایمانداری کو خریدے گےکیونکہ ایماندار آفیسر صدیوں بعد پیدا ہوتے ہیں اور سپشل برانچ کے انسپکٹر وقاص نے ایسے کارنامے انجام دٸیے ہیں کہ وہ قابل تعریف ہے۔لیکن کیا ثانی ڈان نے ملک میں کوٸی وحشت پھیلاٸی ہے۔آپ کے کٸے گے کارنامے میں ثانی ڈان نےایک کردار نبھایا ہے۔چاہے وہ لڑکیوں کو اغوا کرنے والی گینگ ہو یا پھر لوگوں کو ناحق مارنے والی گینگ۔انکو پکڑانے میں ہمیشہ ثانیہ آگے رہی ہیں“

ناٸلہ آفندی کی بات پہ وقأص چونک گیا۔۔

پلیز وقاص ۔۔میں نے ہمیشہ آپ کو درد دیا ہے اس بات کو دل میں مت رکھیں۔میں زندگی بھر آپکی غلامی کرنے کو تیار ہوں مگر پلیز میرے آپی کو چھوڑ دیں،وہ آٸندہ یہ کام بھی نہیں کریں گی۔میں وعدہ کرتی ہوں۔۔ہانیہ گھٹنوں کے بل بیٹھ کرروتےہوۓ بولی۔۔

وقاص لب بھینچ کر رہ گیا۔۔

انسکٹر وقاص ایک بار ثانیہ جیسی عام سی لڑکی کا ثانی ڈان بننے کی ریزن جان لیں پھر چاہے جو کرنا ہو کرٸیے گا۔۔پری زیب نے کہا۔۔

اور پھر وہ جیسے جیسے بولتی گٸی انسپکٹر وقاص کا رنگ بدلتا گیا۔۔

پھر وہ گہرا سانس بھرتا ہوااٹھا۔

سوری لیڈیز۔۔میں اپنے فرض سے کبھی پیچھے نہیں ہٹتا،کل ثانی ڈان کا قصہ ختم ہوکر ہی رہے گا،وہ سپاٹ لہجے سے کہہ کر وہاں سے نکل گیا۔

وہ تینوں ساکت جامد بیٹھی تھیں۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

انسپکٹر وقاص کیا بنا کیس کا؟ آٸی جی صاحب نے پوچھا۔۔

وقاص اس وقت اسلام آباد میں ثانیہ کے پیچھے آیا تھا۔۔

سر آج ثانی ڈان کا قصہ ختم ہی سمجھے۔وقاص نے کہا اور پھر تیزی سے باہر نکل گیا۔۔

پھر ثانیہ کے اڈے پہ پہنچا جسکا پتا وہ کل رات لگا چکا تھا۔اور آج ثانیہ کو پکڑنے کا سوچ چکا تھا۔۔

وہ اس اڈے پہ پہنچا تو صوفی پہلوان اور ثانیہ بیٹھے تھے۔وہ اسے دیکھ کر چونک کر اٹھے۔

صوفی پہلوان نے ہاتھ اٹھا لٸے۔تو ثانیہ چونکی۔

ایم سوری میم۔۔۔میں گواہ بن چکا ہوں۔۔صوفی پہلوان نےکہا۔

ثانیہ نے غصے سے اسکی غداری پہ اسے دیکھا۔۔

پھر وہ چیل کیطرح وقاص پہ جھپٹی اور ایک زوردار لات وقاص کے سینے پہ پڑی کہ وقاص کو اپنا سینہ جکڑتا محسوس ہوا۔۔أور ثانیہ اڑتی ہوٸی باہر کو لپکی۔۔

تم باقی سب کو پکڑ کرپولیس اسٹیشن جاٶ،اورمیں اس کو دیکھتا ہوں۔۔وقاص نے کہا

اور پھر تیزی سے باہر کو لپکا۔۔

ثانیہ کی گاڑی آگے جا رہی تھی اور اسکے پیچھے وقاص کی گاڑی تھی۔

اچانک ثانیہ کی گاڑی ہچکولے کھاتی ہوٸی کھاٸی کی طرف بڑھتی چلی گٸی۔

ساتھ ہی گاڑی کھاٸی سے نیچے گرتی چلی گٸی۔۔

وقاص نے ایک جھٹکے سے گاڑی روک دی۔کچھ دیر بعد ہولیس کی گاڑیاں رکی اور سب باہر نکل آۓ۔

سر یہ تو مر گٸی۔

ثانی ڈان کا قصہ ختم ہوا انسپکٹر کمال۔۔۔دی کیس از اوور۔۔۔وقاص نے کہا اور آنکھوں پہ گاگلز لگا کر اپنی گاڑی کیطرف بڑھ گیا۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہانیہ اس وقت گھر میں تھی۔اور صبح جب اٹھی تو اسے پتا چلا کہ ثانیہ اسلام آباد گٸی ہے۔وہ متوحش ہوکر پری زیب کو فون کرنے لگی۔کچھ دیر بعد پری زیب،ناٸلہ آفندی اور زین اسکے گھر پہنچ چکے تھے۔۔

صبح سے شام ہو گٸی تھی۔اچانک زین نے ٹی وی آن کیا تو نیوز اینکر کی بات پہ وہ چونکے۔۔

ناظرین انسپکٹر وقاص نے ایک اور کارنامہ انجام دےدیا ہے۔۔ہمیں ابھی اطلاع ملی کہ دہشت کا نام ثانی ڈان کے اڈے پہ چھاپہ مار کر اسکے آدمیوں کو اریسٹ کر لیا پولیس نےاور ثانی ڈان وہاں سے فرار ہوٸی اور انسپکٹر وقاص نے اسکا پیچھا کیا اور جب اس ڈان نے کوٸی فرار کا راستہ نہیں پایا تو گاڑی کو کھاٸی میں گرا دیا۔اور ثانی ڈان کی گاڑی کو آگ کی لپٹوں نے پکڑ لیااور ایک دہشت کی وجہ ختم کرکے انسپکٹر وقاص نے ایک بارپھر تاریخ رقم کردی ہے۔

ہانیہ کی چیخیں نکل گٸی۔ان سب کی آنکھیں نم ہوگٸی۔۔

پھر کچھ دیر بعد بیل بجی۔زین تیزی سے باہر کو لپکا۔

جب واپس آیا تو اسکے ساتھ انسپکٹر وقاص تھا۔۔

ہانیہ نے سرخ آنکھوں سے دیکھا اور پھر وہ تیر کیطرح وقاص کیطرف اور کس کر اسکے منہ پہ تھپڑ مارا۔۔

مل گٸی شہرت تمہیںبہت خوش ہونگے اب تم؟نفرت کرتی ہوں میں تم سے۔۔وہ چیخی۔۔

وقاص نے اپنا غصہ ضبط کیا اورپھر اسکا بازو پکڑا۔۔

چلو میرے ساتھ۔۔وہ سنجیدگی سے بولا۔

چھوڑو مجھے۔۔۔وہ چلاٸی۔۔

آپ لوگ بھی میرے پیچھے آٸیں۔وہ کہہ کر ہانیہ کو کھینچتا ہوا باہر نکل آیا۔۔

کچھ دیر بعد وہ سب صفدر کے گھر کے سامنے تھے۔۔

وہ سب فلیٹ میں داخل ہوۓ تو لاٶنج میں صفدر اور ثانیہ کو بیٹھا دیکھ کر چونک گٸے۔۔ان دونوں کے ماتھے پہ پٹیاں بندھی تھی۔۔

ہانیہ تیزی سے ثانیہ کیطرف لپکی۔اوراسکے گلے لگ کر رودی۔

آپی نیوز والے تو کہہ رہے تھے کہ ثانی ڈان۔۔وہ بولتے بولتے رک گٸی۔۔

وہ بالکل ٹھیک کہہ رہے تھے۔صفدر نے کہا۔۔

ثانی ڈان مر چکی ہے اور اب ثانیہ ایک عام لڑکی بن کر زندگی گزارے گی۔۔۔

پھر صفدر ان کو سب بتانے لگا۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اب سے کچھ گھنٹے پہلے۔۔۔

صفدر اپنے فلیٹ میں بیٹھا تھا کہ باہر بیل بجی“وہ اٹھ کر باہر نکلا تو انسپکٹر وقاص کو دیکھ کر چونکا۔۔۔

ہاۓ مسٹر صفدر۔۔۔

ہاۓ انسپکٹر۔۔۔۔

بہت پیار کرتے ہو تم ثانی ڈان سے۔۔وقاص نے پوچھا۔۔

صفدر نے سر جھٹکا۔۔

ثانیہ کو میں بچانا چاہتا ہوں تاکہ وہ اپنی زندگی عام لڑکیوں کیطرح جی سکے۔۔وقاص کی بات پہ صفدر چونک کر سیدھا ہوا۔۔

کیسے،کیسے کرو گے یہ آپ؟

ثانیہ کے قریبی آدمی نے ثانیہ کے خلاف گواہ بننے کا فیصلہ کیا ہے،اور وہ مری میں ابھی پہنچی ہے اور ہمیں بھی پہنچنا ہے اسکے پیچھے۔وہاں پہنچ کر سب کو اریسٹ کریں گے۔اور ثانیہ وہاں سے بھاگے گی تو اسکا پیچھا کرونگا میں اور تم ثانیہ کی گاڑی میں چھپ جاٶ گے اور پھر تھوڑے دیر بعد ثانیہ کو کلوروفام سے بیہوش کرو گے۔اور گاڑی کھاٸی کیطرف موڑوں گے اور ثانیہ کو لیکر تھوڑا پیچھے کود جاٶ گے۔۔اور پھر گاڑی کو آگ لگ جاۓ گی اور ثانی ڈان کا قصہ ختم۔۔وقاص نے اپنا پلان سمجھایا۔۔

پھر وہاں پہنچ کر ویسا ہی ہوا جیسا وقاص نے سوچا۔اور کودتے ہوۓ تھوڑی بہت چوٹیں آٸیں اور پھر ہم واپس کراچی آ گٸے۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفدر بول کر چپ ہوا تو ہانیہ نے شرمندگی سے وقاص کو دیکھا۔۔

مگر وقاص بیٹے تو آٸی جی صاحب کوکیا رپورٹ دی۔۔ناٸلہ آفندی نے پوچھا۔۔

میں نے انہیں کہا کہ جس ثانیہ پہ شک تھا وہ عام لڑکی ہےاور ثانی ڈان اور کوٸی لڑکی تھی۔وقاص نے جواب دیا۔۔

تھینک یو۔۔۔آج آپ نے جو کیا اسکا احسان کبھی بھولیں گے نہیں،ثانیہ نے کہا۔۔

مس ثانیہ مسٹر صفدر کو اپنا کر اپنی لاٸف کو بہترین طریقے سے گزارے۔اب مجھے اجازت دیجٸے۔۔وقاص نے کہا اور پھر بنا ہانیہ پہ نگاہ ڈالے باہر نکلتا چلا گیا۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آج احمر اور فاریہ کی بارات تھی۔۔

ناٸلہ آفندی اور زبیر آفندی ہوٹل میں پہنچ کر مہمانوں کو رسیو کر رہے تھے۔۔کچھ دیر بعد بارات آ گٸی۔

پری زیب گولڈن اور ییلو فراک میں میک اپ سے مبرا چہرے کیساتھ بھی غضب ڈھا رہی تھی۔۔

کچھ دیر بعد ثانیہ اور ہانیہ اندر داخل ہوٸی۔ثانیہ نے آج پاٶں تک گرے اور گولڈن ایمبراٸیڈری والی فراک زیب تن کی تھی۔اور وہ اس مشرقی روپ میں صفدر کے ہوش اڑا رہی تھی۔۔۔

اور ہانیہ نے مونگیا کلر کی فراک پہنی تھی۔وہ بھی بہت پیاری لگ رہی تھی۔۔

دروازے پہ کھڑے زین اور صفدر نے انکا استقبال کیا۔۔

صفدر کا چہرہ تو اسے مشرقی روپ میں دیکھ کر کھلا تھا۔۔

اہممممم۔۔اہممممم۔۔بس کر یار۔۔۔زین نے اسے ہلا کر کہا۔۔۔

وہ ہڑبڑا کر ادھر ادھر دیکھنے لگا۔۔

پھر اس سے پہلے وہ آگے بڑھتے کہ انسپکٹر وقاص اندر داخل ہوا۔۔ہانیہ کی آنکھوں میں جیسے ٹھنڈک سی اتر گٸی۔وہ مسکرا کر زین اور صفدر سے مل رہا تھا اسکی مسکراہٹ ہانیہ کے دل کی دھڑکن تیز کر رہی تھی۔۔

آٸیے نہ آپ لوگ اندر۔۔زین نے کہا اور پھر انہیں لیکر ایک ٹیبل پہ آیا جہاں پری زیب اور ساٸرہ لوگ بیٹھے تھے۔

پھر وہ لوگ بیٹھے باتیں کرنے لگے۔پھرکچھ دیر بعد پری زیب اور ساٸرہ اٹھ کر براٸیڈل روم سے فاریہ کو لینے چل دی۔اور صفدر اور ثانیہ کسی بات پہ مسکرا کر باتیں کر رہے تھے۔۔

کیا باتیں ہو رہی ہیں۔آپی اینڈ جیجا جی۔۔ہانیہ نے چھیڑا۔۔

کچھ نہیں سالی صاحبہ ہم سوچ رہے کہ ہماری شادی کے دن آپ کی بھی شادی ہو جاۓ تو کیا ہی اچھا ہو۔۔۔انکی بات پہ ہانیہ نے چونک کروقاص کو دیکھا جو زبیر آفندی کے پاس کھڑا باتیں کر رہا تھا۔۔پھر اسکا فون بجا تو وہ موباٸل کان کو لگاتا ہال سے باہر نکل گیا۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہانیہ مضطرب سی کچھ دیر دیکھتی رہی۔پھر وہ تیزی سےاٹھ کر وقاص کے پیچھے باہر نکل آٸی۔۔

اپیا۔۔۔پلیز کیا ہو گیا ہےآپ کو؟مجھے ابھی شادی وادی نہیں کرنی اور بحث مت کریں۔اور ہانیہ سے مجھے کوٸی لینا دینا نہیں۔۔وقاص نے جھلا کر کہااور فون کاٹ کر مڑا تو ہانیہ نے اسے اپنی طرف دیکھتا پایا تو نظریں جھکا۔۔

کیا مسٸلہ ہےتمہیں،کیوں گھور رہی ہو تم مجھے؟۔۔وہ دھاڑا۔۔

ہانیہ اسکی دھاڑ پہ لرز گٸ۔

ایم۔ایم سوری۔وہ نم لہجے سے بولی۔

مجھے تمہارے سوری ووری سے فرق نہیں پڑتااور تم میرے زندگی میں کوٸی اہمیت نہیں رکھتی۔۔۔اور ہاں اتارو یہ انگوٹھی۔۔وقأص نے کہا۔۔

اس نے نفی میں سر ہلا دیا۔۔

وقأص نے غصے سے اسکا ہاتھ پکڑ کر انگوٹھی اتارنی چاہی تو ہانیہ نے زور سے مٹھی بند کرلی۔۔

پپ۔پلیز۔۔۔میں بہت شرمندہ ہوں۔۔۔اور میں باقی کی زندگی صرف آپ کے ساتھ جینا چاہتی ہوں۔وہ سسک کر بولی۔۔

مگر میں تمہاری شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتا۔۔

پلیز وقاص،صرف ایک بار،کبھی بھی آپ کو اور اپیا کو ناراض نہیں کرونگی۔۔پلیز مجھے خود سے الگ مت کریں۔۔۔۔وہ روتےہوۓ بولی۔

وقاص نے اسے پیچھےدھکیلا اور اپنی گاڑی میں بیٹھ کر وہاں سے نکل گیا۔۔

ہانیہ بوجھل قدموں کیساتھ چلتی ہوٸی اندر آ گٸی۔۔۔

کچھ دیر بعد فاریہ کی رخصتی ہوگٸی تو وہ دونوں بھی واپس آ گٸی۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

فاریہ گھونگھٹ ڈالے بیٹھی احمرکا انتظار کر رہی تھی۔۔

تھوڑی دیر بعد دروازہ کھلا اور احمر اندر داخل ہوا۔۔

وہ کھنکھارتا ہوا اسکے سامنے بیٹھ گیا۔۔

بہت خوبصورت لگ رہی ہو آج تم۔۔احمر نے اسکا چہرہ ٹھوڑی سے پکڑ کر اوپر کرتے ہوۓ کہا۔۔

فاریہ کے چہرے پہ حیا کے رنگ چھا گٸے۔۔

پھر اس نے فاریہ کا ہاتھ تھاما اور کھڑکی میں لے آیا۔۔

وہ دیکھو چاند فری۔۔آج تمہارے سامنے چاند بھی مدھم لگ رہا ہے،،احمر اسکی کمر میں بانہیں ڈالتے ہوۓ کہا۔۔

فاریہ نے شرما کر اسکے سینے میں منہ چھپا لیا۔۔

فاریہ میں ان شاء اللہ پوری کوشش کرونگا کہ کبھی تمہیں دکھ نہ دوں۔

احمر آپ نے مجھے پہلے بھی کبھی دکھ نہیں دٸیے۔ہمیشہ میرے ہونٹوں پہ مسکراہٹ کا سبب بنے رہے ہو۔۔آپ نے ہمیشہ مجھے بتایا کہ میں اکیلی نہیں آپ میرے ساتھ ہیں۔میں آج آپ سے ایک وعدہ کرتی ہوں کہ میں آپ سے کبھی خود کو دور نہیں کرونگی ان شاء اللہ،۔۔وہ دھیمے سے لہجے میں بولتی چلی گٸی۔۔

احمر نے سرشار ہوکر اپنے لب اسکے ماتھے پہ رکھ دٸیے۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وقاص دروازہ کھول کر اندر آیا تو فرح لاٶنج میں ہی بیٹھی تھی۔۔

اپیا آپ سوٸی نہیں۔۔۔

کیسے سو سکتی ہوں میں جب میرے بھاٸی نے میری نیندیں حرام کی ہوں۔تم مجھے بتا دو کہ اب میں ہانیہ اور اسکی بہن کو کیا جواب دونگی۔؟ وہ تپ کر بولی۔

آپ فکر مت کریں۔۔میں سنبھال لونگا۔

وقاص مسٸلہ کیا ہے تمہارا؟تم اب اس بچی کے جذبات سے کھیل رہے ہو،وہ چڑ کر بولی۔۔

اپیا مجھے بہت نیند آٸی ہے۔۔گڈ ناٸٹ۔۔۔وقاص نے کہا اور اپنے روم میں آگیا۔۔اور کپڑے چینج کرکے وہ آکر آنکھیں موند کر لیٹ گیا۔ابھی کچھ پل گزرے تھے وہ ہڑبڑا کر سیدھا ہوا۔

اوففففف۔۔۔۔کیا ہو گیا ہے مجھے۔اسکے آنسو میرے دل کو بوجھل کیوں کر گٸے ہیں؛؛؛وقاص بڑبڑایا۔پھر پوری رات وقاص نے کروٹیں بدلتے ہی گزاری۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

فاریہ اور پری زیب پارلر میں تیار ہونے کیلٸے پہنچ گٸی تھی۔۔

پارلر والی نے جب انہیں مکمل تیار کر دیا تو انکا فوٹو شوٹ شروع ہوا۔۔

فاریہ نے گرے کلر کی گولڈن کام والی ٹیل میکسی پہنی تھی…

اور پری زیب نے ریڈ اور سکن اور گولڈن کام والا ٹیل لہنگا پہنا تھا۔۔

پھر کچھ دیر بعد انہیں ہوٹل لے جایا گیا

فاریہ تو احمر کیساتھ جاکر سٹیج پہ بیٹھ گٸی۔مگر پری زیب براٸیڈل روم میں تھی۔پری زیب کے تجدید نکاح کے بعد اسے بھی لاکر زین کے پہلو میں بیٹھایا گیا۔۔

زین نے محبت سے اسے نظروں کے حصار میں لے لیا۔۔پھر کچھ دیر بعد رخصتی ہوٸی۔۔

آفندی ولا میں اسکا دوبارہ سے پرجوش استقبال کیا گیا تھا۔۔

پھر کچھ رسموں کے بعد اسے زین کے کمرے میں لے جایا گیا۔وہ جب کمرے میں گٸی تو حیران رہ گٸی کیونکہ بھاری دبیز پردے یہاں تک کے فرنیچر بھی بدل دیا گیا تھا۔پہلے سب کچھ ڈارک ڈارک تھا۔مگر اب ڈیکو پینٹ فرنیچر تھا۔جس میں سی گرین شیڈ تھی۔اور پردے بھی میچنگ تھے۔

پورا کمرا گلاب کی خوشبو سے مہک رہا تھا۔۔

پری زیب تو خوشی سے ہر چیز چھو چھو کر دیکھ رہی تھی۔۔

پھر کچھ دیر بعد زین اندر آیا تو وہ اسکی طرف گھومی۔زین مسکراتا ہوا اسکی طرف بڑھا۔۔

جی تو کیسا لگا مادام سب کچھ۔۔؟

بہتتتت اچھا۔وہ آنکھیں میچ کر بولی۔

زین نے اسکی کمر میں ہاتھ ڈال کر اسے خود کے قریب کیا۔

کل تک تو صرف بہت اچھا تھا مگر پھیکا تھا مگر آج تمہارے قدم پڑتے ہی کھلا کھلا سا روشن روشن ہو گیا۔زین نے اسکی رخسار سے رخسار مس کرتے ہوۓ کہا۔۔

زز۔زین پپپ۔پلیز۔۔اس نے گھبرا کر کہا۔۔

جی جان زین۔۔کچھ کہنا ہے کیا؟۔زین نے شرارتی انداز میں پوچھا۔

تو وہ سر جھکاکر لب کاٹنے لگی۔۔

اونہوں۔۔۔بری بات ان پہ ظلم مت کیجٸے۔زین نے اسکے لبوں پہ انگلی پھیرتے ہوۓ کہا۔۔

پری زیب نے جلدی سے اپنا آپ چھڑوایا اور ساٸیڈ پہ ہو گٸی۔

کیا ہوا۔۔۔؟ زین نے حیرت سے پوچھا۔

یہ اوووور ڈریس بہت تکلیف دے رہا۔۔وہ منہ بنا کر بولی۔

ہاں مجھے بھی دے رہا۔جاٶ نہ واشروم میں تمہارا ناٸٹ ڈریس رکھا۔۔۔پہن لو۔زین نے کہا اور بیڈ پہ بیٹھ گیا۔۔

یو آر سو بورنگ زین۔۔۔وہ کمر پہ ہاتھ رکھ کر بولی۔۔

اب میں نے کیا کیا؟ وہ جھلا کر بولا۔

میری ہیلپ کرو۔۔۔۔

کس چیز میں۔۔؟ زین نے آنکھیں گھما کر کہا۔۔۔

کس میں مدد کرتے ہیں۔۔میرے زیور اتارنے میں۔۔وہ تپ کر بولی۔

اووووہ زیور اتارنے میں۔۔مجھے لگا کہ۔۔۔۔۔۔زین نے بات ادھوری چھوڑ دی

چھییییی۔کتنے بےشرم ہو تم۔؟ پری زیب نے زور سے اسکے کندھے پہ مارا۔۔

پھر زین نے اسکا سارا زیور اتارنے میں مدد کی۔

اور وہ اٹھ کر ڈریسنگ روم کیطرف بڑھ گٸی۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پری زیب کو پارلر والی نے گھر ہی تیارکرنے آنا تھا تو اس لٸے وہ آج مزے سے لاٶنج میں بیٹھی ناٸلہ آفندی کیساتھ باتیں کر رہی تھی۔

کچھ دیر بعد فاریہ اور احمر بھی آ گٸے۔اور وہ سب لوگ ہنسی مزاق کر رہے تھے کہ زبیر آفندی اندر داخل ہوۓ۔۔

انہوں نے فاریہ کے سر پہ ہاتھ رکھا اور ناٸلہ کیساتھ آکر بیٹھ گٸے۔۔

پری زیب۔۔۔چاۓ لیکر کمرے میں آجانا۔زین نے سپاٹ چہرے سے کہا اور وہاں سے چلا گیا۔۔تو زبیر آفندی کی آنکھیں نم ہو گٸی۔۔

چاۓ تیار ہوٸی تو وہ چاۓ لیکر روم میں آٸی اور چاۓ پکڑا کر ایک ساٸیڈ پہ بیٹھ گٸی۔۔

پری جاناں اتنی دور کیوں بیٹھی ہو۔۔زین نے کہا۔۔

کیوں بیٹھوں میں آپ کے پاس۔؟

زین اسکے غصے پہ چونک کر اسے دیکھنے لگا۔۔

کیا ہوا پری۔۔۔؟

کیا تھا یہ سب نیچے؟ ڈیڈ سے کیسے بات کی تم نے۔پری نے غصے سے کہا۔

نہیں ہے وہ میرے ڈیڈ؟ انہوں نے کیا کیا گناہ کٸے وہ سب نہیں بھول سکتا۔۔زین نے کہا۔

زین آپ نے میرے ساتھ دھوکہ کیا تھا نہ اگر تم اپنے لٸے معافی پسند کر سکتے ہو توپھر معاف کرنا کیوں پسند نہیں۔۔ وہ ڈیڈ ہیں تمہارے۔اس قدر محبت کرتے ہیں تم سے،اور انکے اس پیار،محبت کیلٸے تم انہیں معاف نہیں کر سکتے۔مام کیلٸے معاف نہیں کر سکتے کیا تم؟ پری زیب نے کہا۔۔

زین نے گہرا سانس بھرا۔۔

کم۔۔۔زین نے اسے پاس بلایا۔۔

پری زیب اٹھ کر پاس آٸی تو زین نے اسے بانہوں میں بھر لیا۔

تم جو چاہتی ہو ویسا ہی ہوگا۔۔۔چلو اب جلدی سے ایک کیوٹ سی سماٸل دے دو۔۔

پری زیب اطمینان سے مسکرا دی۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

زین اور پری زیب کا ولیمے کا فوٹو شوٹ ہو رہا تھا۔۔

پھر وہ سب لوگ فوٹو شوٹ کے بعد نیچے ایک ٹیبل پہ بیٹھ کر ہنسی مزاق کرنے لگے۔۔

صفدر کی شادی کب ہے؟ احمر نے پوچھا۔۔

ان شاء اللہ ،سر اگلے ہفتے کا سوچ رہے ہیں اور سادگی سے شادی ہوگی۔۔صفدر نے کہا۔۔

ارے تو پھر بہت بہت مبارک ہو؟ سب باری باری مبارک دینے لگے۔۔

اور ہانیہ ،، وقاص کی بھی ساتھ ہوگی۔زین کی بات پہ ہانیہ اور وقاص ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔

ان شاء اللہ،،،ثانیہ نے کہا۔۔

ایکسیوزمی،ضروری کال ہے تو اٹنڈ کرکے آتا ہوں۔۔وقاص کہہ کر وہاں سے نکل گیا۔۔

زین ڈیڈ ابھی آۓ ہیں۔۔چلو فوٹو بناتے انکے ساتھ بھی۔پری زیب نے کہا۔

زین اور فاریہ نے ایک دوسرے کو دیکھا۔

فری جان چلو۔۔۔احمر نے کہا۔۔

پھر وہ لوگ زبیر آفندی کے پاس چلے آۓ۔

وہ چونک کر انہیں دیکھنے لگے۔۔

پری زیب نے زین کو اشارہ کیا۔۔

زین آگے بڑھا۔۔

ڈڈ۔۔۔ڈیڈ۔وہ ہکلا کر بولا۔۔زبیر آفندی کی آنکھیں بھیگنے لگی۔

پھر فاریہ آگے بڑھی اور زبیر آفندی کا ہاتھ تھام کر کھڑی ہو گٸی۔انہوں نے فاریہ کو سینے سے لگایا پھر زین کو سینے سے لگایا۔اور پھر فوثو شوٹ کیلٸے ناٸلہ آفندی بھی آ گٸی۔

اور پھر انکے فیملی البم کیلٸے فوٹو شوٹ ہونے لگا۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہانیہ وقاص کو ڈھونڈتی ہال سے اوپر بنے ٹیرس پہ آٸی تو وہ ایک ساٸیڈ پہ کھڑا سگریٹ کا دھواں چھوڑ رہا تھا۔۔

وہ ہولے سے چلتی ہوٸی اسکے پیچھے آٸی۔

تم پھر میرے پیچھے آگٸی ہو۔۔اس سے پہلے وہ کچھ بولتی کہ وقاص نے مڑے بغیر کہا۔۔

وقاص پلیز۔۔میں جانتی ہوں کہ میں آپ کے قابل نہیں ہوں مگر پلیز آپ سے ریکویسٹ کرنے آٸی ہوں کہ پلیز مجھے اپنا لیں۔۔میری آپی نے زندگی میں صرف دکھ دیکھے ہیں اگر میرا آپ کا رشتہ ختم ہو گیا تو انکی خوشیاں ادھوری ہو جاٸیں گی۔مجھے فی الحال اپنا لیں پھر چاہے آپ کسی اور سے شادی کر لیجٸے گا۔۔وہ سر جھکا کر بولی۔۔

وقاص نے اسے دیکھا اور پھر تلخ لہجے سے مسکرا دیا۔۔

ایک چیز بتاٶ۔۔تم اپنی بہن کیلٸے کچھ بھی کر سکتی ہو نہ تو پھر میرے سے کل رات محبت کا دعوی کیا تھا تو مجھے بتاٶ اس محبت کیلٸے کیا کر سکتی ہو۔۔کیونکہ بہن کو چھوڑنے کو کہوں گا تو تم چھوڑ نہیں پاٶ گی۔مگر کیا میرے لٸے یہ دنیا چھوڑ سکتی ہو۔۔؟وقاص نے سفاک لہجے میں کہا۔۔

ہانیہ نے آنسو بھری نظروں سے دیکھا۔پھر اثبات میں سر ہلادیا۔۔

چلو یہاں سے اس دیوار پہ آنکھیں بند کر کے چلتی جاٶ۔۔بچ گٸی تو تمہاری قسمت ۔۔وقاص نے کہا۔۔

ہانیہ نے اس پتھر دل کو دیکھا اور پھر منڈیر پہ چڑھ گٸی۔۔

پھر اس نے آنکھیں بند کر لی۔اور چلنے لگی۔۔پھر تھوڑا آگے چلی تھی کہ اسکے قدم لڑکھڑا گٸے اس سے پہلے وہ گرتی وقاص نے اسے اپنی طرف کھینچا۔اور وہ دونوں زمین پہ گرے۔وہ وقاص کے اوپر تھی۔۔دونوں ایک دوسرے کی بےترتیب دھڑکن کی آواز سن سکتے تھے۔۔

اگر وہ کچھ پل لیٹ ہو جاتا تو وہ شاید اسے کھو دیتا۔۔

تم پوری پاگل ہو۔۔وقاص کی گھمبیر آواز اسکے کانوں سے ٹکراٸی تو اس نے چونک کر دیکھا۔

پھر وہ ہڑبڑا کر سیدھی ہونے لگی تو وقاص نے اسکی کمر کے گرد ہاتھ ڈال کر اسے اپنے پہلو میں گرا لیا۔۔

تم جیسی پگلی مجھے ملنی کہاں ہے۔پتا ہے پہلی بار تمہیں دیکھا تھا تو دل ہار بیٹھا تھا۔اور کل تو تم نے میری نیند بھی مجھ سے چرالی۔۔وقاص نے اس پہ جھکتے ہوۓ کہا۔

وقاص۔۔پپ۔پلیز۔۔وہ گھبرا کر بولی۔

وقاص نے مسکرا کر اٹھ کر کھڑے ہوکر اسکی طرف ہاتھ بڑھایا۔۔ہانیہ نے اسکا ہاتھ تھاما اور اٹھ کھڑی ہوٸی۔۔

تھری میجیکل ورڈز بولو گی تو مانو گا میں“وقاص نے کہا۔۔

آآآٸی،لا۔۔لو ۔۔یو۔وہ ہکلا کر بولی۔

یہ کیا تھا۔یہ تو تھری سے زیادہ نہیں ہو گٸے؟۔وقاص نے شرارتی انداز میں پوچھا۔۔تو وہ گھبرا کر انگلیاں مڑورنے لگی۔

آہاں۔۔۔بلیک بیلٹ لڑکی ہوکر اتنی گھبراہٹ۔وقاص نے مسکرا کر کہا۔۔

پلیز وقاص۔۔

وہ گھبرا کر بولی۔۔

وقاص نے اسکا ہاتھ تھاما اور پھر نیچے چلا آیا۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بیل بجی تو ثانیہ نے دروازہ کھولا تو صفدر تھا۔۔

تیرے کو آج کیا کام ہے ادھر؟ کل شادی ہے نہ ہماری۔۔ثانیہ نے تنک کر کہا۔۔

ہانیہ گڑیا کدھر ہوآپ؟ صفدر نے اسے اگنور کرتے ہوۓ کہا۔۔

کچھ دیر بعد ہانیہ اندر آٸی تو صفدر نے اسکی طرف بیگ بڑھایا اس نے چونک کر بیگ تھاما۔

یہ کیا ہے بھیا؟

یہ میرے بہن کی شادی کا تحفہ ہے۔یعنی آج ہماری مہندی تو تمہاری کھڑوس بہن نے رکھنے نہیں دی۔مگر آپ کے لٸے سوٹ لایا ہوں مہندی کا۔۔صفدر نے کہا۔۔

اووووہ تھینک یو بھیا۔۔ہانیہ کھل اٹھی تھی۔۔

پھر وہ اٹھ کر چینج کرنے چلی گٸی۔

کتنا مین ہے رے تو؟ میرے لٸے کیوں نہیں لایا۔۔وہ تپ کر بولی۔

تیرے کو پسند جو نہیں تو کیوں لاتا تیرے لٸے۔۔وہ لاپرواہی سے بولا۔

تومجھے گفٹ دیگا تو مجھے کیوں نہیں پسند آۓ گا۔۔وہ جھلا کر بولی۔

تجھے کونسا مجھ سے پیار ہے۔احسان کا بدلہ چکا رہی۔۔صفدر نے کہا۔

میں تیرا منہ توڑ دونگی۔اگر پیار نہ ہوتا تو ہاں کیوں بولتی۔اور تیرے سے ہم تب سے پیار کرتی ہیں جب ہم جنگل میں پھسے تھے۔وہ ہولے سے بولی۔

صفدر کی آنکھیں پھیل گٸی۔

تو تو سچ بول رہی۔۔صفدر نے کہا تو وہ سر جھکا گٸی۔

ایک منٹ رک۔۔۔۔صفدر واپس مڑا پھر دس منٹ بعد آیا تو اسکے ہاتھ میں ایک اور بیگ تھا۔

یہ تیرے لٸے۔صفدر نے کہا۔۔

ثانیہ نے کھول کر دیکھا تواسکا مہندی کا ڈریس تھا۔اسکا چہرہ کھل اٹھا۔

پھر کچھ دیر بعد زین،فاریہ اور احمر،پری زیب وہ چاروں بھی آ گٸے اور انہوں نے تیل مہندی کی۔اور پھر رات دیر تک وہ سب بیٹھے رہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پری زیب ۔۔زین جلدی کر لو۔۔بارات لیکر پہنچنا ہم نے۔اور ادھر فاریہ اور احمر کے ہوٹل سے فون پہ فون آ رہے کہ دولہنیں تیار ہونے والی ہیں۔۔اور یہ صفدر تیار ہو گیا کہ نہیں؟ ناٸلہ آفندی نے پوچھا۔۔

بس مام زین اسی کو شیروانی پہنا رہے ہیں۔۔بلیک ساڑھی کی فال ٹھیک کرتے ہوۓ پری زیب بولی۔۔

اوفففففف لڑکی۔۔۔ساڑھی کی فال نہیں بن رہی تم سے۔۔ناٸلہ آفندی نے کہا۔

پری زیب نے مسکرا کر اپنی سوٸیٹ سی ساس کو دیکھا۔۔

پھر ساڑھی کی فال بنا کر وہ باہر نکلے تو سب لوگ لاٶنج میں پہنچ چکے تھے۔۔

پھر وہ لوگ صفدر کی بارات لیکر روانہ ہوۓ۔

جب ہوٹل پہنچے تو وقاص بھی بارات لیکر پہنچ چکا تھا۔۔

پھر نکاح ہوۓ۔۔اور رخصتی سے پہلے دولہنوں کو سٹیج پہ لاکر بیٹھایا گیا۔۔

ثانیہ یار۔ شادی کے بعد اگر صفدر نے الٹا کام کیا تو رکھ کرمارنا ایک دو سمارٹ موو۔۔زین نے چھیڑا۔۔

سر۔۔وہ جھلایا۔

ثانی بالکل ایسا مت کرنا۔۔۔۔

تھینک یو میم۔پری زیب کی بات پہ وہ کھل کر بولا۔۔

صفدر بھاٸی بات پوری نہیں ہوٸی۔ہاں ثانی تو میں کہہ رہی تھی ایسا مت کرنا کہ صرف ایک دو سمارٹ موو کرو۔بلکہ دو چار ہڈیاں توڑ دینا۔پری زیب کی بات پہ وہ سب کھلکھلا کر ہنس پڑے۔۔

دور کھڑی ناٸلہ آفندی نے نم آنکھوں سے دیکھا اور پھر وہ مسکرا کر کھڑکی سے پار چاند کو دیکھنے لگی۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میں ناٸلہ آفندی۔۔۔جو کہ سپر وومین،سپر واٸف،اور اب اپنے بچوں کی سپر مام ہوں۔۔مگر میں بھی اندر سے عام کمزور سی عورت ہوں۔۔جوکہ ہزاروں خدشات میں جیتی رہی۔۔اور سب سے بڑھ کر میں کیسے کہوں کی کشمکش میں جیتی رہی۔۔اور میری اس کشمکش سے میرے بچوں نے بھی اسی چیز کا سفر کیا۔مگر میری زندگی میں آٸی پھر ایک لڑکی۔پری زیب۔۔جو کہ اس کشمکش سے ہم سب کو نکالتی چلی گٸی۔میں اپنی آٸندہ کی نسل کو پری زیب جیسا بہادر،،نڈر بناٶں گی۔جو کہ اپنے دل کی بات کو بنا کشمکش کے سب سے بیان کرینگے۔۔

ناٸلہ آفندی نے چاند کو دیکھتے ہوۓ سوچا۔۔

مام چلٸے فیملی البم کیلٸے تصویر بنانی ہے۔پری زیب نے انکے پاس آکر کہا۔پھر وہ دونوں ایک دوسرے کا ہاتھ تھام کر سٹیج کیطرف بڑھ گٸیں۔۔۔

زین محبت سے پری زیب کو دیکھ رہا تھا۔۔

میرے ہمسفر میرے ہم نشین۔

تو چاند ہے فلک کا۔۔

توبہتا ہو سمندر ہے۔

تو چلتی ہوٸی پاون ہے۔

تو برستاہوا ساون ہے۔

ختم شد

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *