Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mein Kese Kahun (Episode 12)

Mein Kese Kahun by Umme Emman Fatima

ناٸلہ آفندی واک کرکے کمرے میں جا ہی رہی تھی کہ زین کے کمرے سے آتی آواز پہ چونک گٸی۔

زین کسی کو اغوا کرنے کی بات کر رہا تھا۔۔انہوں نے پاس ہوکر کان لگاۓ۔۔

تمہیں جو کام کہا ہے غنی وہ کرو۔۔میں نے جس دو لڑکیوں کی تصویر بھیجی۔ان میں سے جو لڑکی پہ داٸرہ لگایا اسکو ہی اغوا کرنا ہے۔اور اس لڑکی کا نام فاریہ ہے۔۔پارلر میں جاٸیں گی یہ دونوں ۔تم بس جاکر کہنا کہ مس فاریہ کو بلوا دیں۔جب وہ باہر آۓ تم اسے اٹھا کر میرے فارم ہاٶس چھوڑ دینا۔۔زین نے کہا اور کال کاٹ دی۔۔۔

باہر کھڑی ناٸلہ آفندی کا رنگ فق ہو گیا۔۔پھر وہ تھکے تھکے قدموں کیساتھ باہر لپکی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صوفی پہلوان اپنے اڈے پہ بیٹھا حقے سے کش لگا رہا تھا اور اسکے آدمی سامنے کشتی لڑ رہے تھے۔کہ ایک گاڑی آکر اکھاڑے میں رکی۔

اور ایک عورت باہر نکلی اور اس نے اسکارف اور گلاسسز سے چہرہ کور کر رکھا تھا۔۔اور ہاتھ میں بریف کیس تھا

صوفی پہلوان جلدی سے اٹھ کر کھڑا ہوگیا اور ادب سے ہاتھ سینے پہ باندھ لٸے۔۔

صوفی اندر آٶ۔وہ عورت تحکمانہ انداز میں کہہ کر اندر بڑھ گٸی۔۔

صوفی جلدی سے اسکے پیچھے لپکا۔۔

اس عورت نے اندر آکر اسکارف اتار دیا۔۔اور سگریٹ سلگا کر کش لینے لگی۔۔

(وہ ایک ستاٸیس ،اٹھاٸیس سال کی لڑکی تھی۔جو کہ ایک مافیا ڈان ثانیہ تھی۔جسکو آج تک کوٸی نہیں جانتا تھا۔۔)

جی مادام۔۔؟صوفی بولا۔۔

یہ بریف کیس کھولو۔۔ثانیہ نے کہا۔۔

صوفی پہلوان نے بریف کیس کھولا تو اس میں ہزار ہزار کے نوٹوں کی بنڈل تھے۔۔

اتنے سارے پیسے؟ کیا کافی بڑی پارٹی ہے؟ صوفی پہلوان نے پوچھا۔۔

آم کھاٶ صوفی گھٹلیاں مت گنو۔۔۔وہ سرد آواز میں بولی۔۔

یہ لڑکی کو اغوا کرنا ہے۔۔اس نے تصویر دیکھاتے ہوۓ کہا۔۔

صوفی نے تصویر پکڑ کر دیکھی۔۔

کون ہے یہ لڑکی؟صوفی نے پوچھا۔۔۔

میرے محسن کی بیٹی ہے۔یہ اس وقت خطرے میں ہے۔کیونکہ غنی اسکو اغوا کرنے والا ہے۔۔تو اس سے بچانے کیلٸے مجھے اسکو اغوا کرنا ہے۔۔ثانیہ نے کہا۔۔

ہو جاۓ گا مادام۔صوفی سر جھکا کر بولا۔۔

عزت اور احترام سے میرے گھر پہنچانا۔اس کو ایک خراش نہ آۓ۔سمجھ گے نہ۔۔؟ ثانیہ نے کہا۔۔

جی جی مادام۔۔صوفی نے کہا۔۔

پھر ثانیہ اٹھی اور اسکارف سے خودکو کور کرکے باہر نکل گٸی۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفدر بھاٸی آپ کو ناٸلہ میڈم نے بلایا ہے۔۔صفدر لان کی سجاوٹ کروا رہا تھا جب ایک ملازمہ نے آکر کہا۔۔

صفدر سر ہلا کر اندر بڑھ گیا۔۔

ہاۓ میم۔صفدر نے اندر آکر کہا۔۔

صفدر آج سے تم ہیڈ سرونٹ کے طور پہ کام نہیں کرو گے۔۔ناٸلہ آفندی نے کہا۔۔

میم مجھ سے کوٸی غلطی ہو گٸی کیا؟ صفدر نے چونک کر پوچھا۔۔۔

صفدر بات ختم نہیں ہوٸی میری۔ناٸلہ آفندی نے ناگوار لہجے میں کہا۔۔

صفدر نے جلدی سے سر جھکا لیا۔۔

صفدر مجھے پتا ہے تم پہلے گارڈ کی نوکری کیلٸے آۓ تھے مگرتمہاری ذہانت کیوجہ سے ہم نے تمہیں اپنا ہیڈ سرونٹ رکھا۔۔۔۔

ناٸلہ آفندی تہمید باندھی۔۔

صفدر سر جھکاۓ سن رہا تھا۔۔

آج سے تم زین صاحب کے گارڈ کے طور پہ کام کرو گے اور انکو ہر برا کام کرنے سے روکنے کی کوشش کروگے۔اور اسکے عوض میں تمہارے تنخواہ میں اضافہ کرتی ہوں۔۔ناٸلہ آفندی نے کہا۔۔

سنجیدہ مزاج صفدر نے سر جھکا کر اثبات میں سر ہلا دیا۔۔۔

اب تم جا سکتے ہو۔۔۔۔

صفدر جلدی سے واپس مڑ گیا۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

فاریہ کے موباٸل کی میسیج ٹون بجی اس نے چونک کر موباٸل دیکھا اور پھر میسیج کھول کر ریڈ کرنے لگی۔۔

ابھی اور اسی وقت پارک میں ملو،زین آفندی کا راز بتانا ہے۔۔۔

واٹ نان سینس“کون ہے یہ اور ایسی بات کیوں کی اس نے۔؟وہ بڑبڑاٸی۔۔

اور پھر جلدی سے باہر کیطرف لپکی۔۔

کدھر جا رہی ہو؟ احمر نے اسے روک کر پوچھا۔

احمر ایک بہت ضروری کام ہے۔بس وہ نبٹا کر آتی ہوں“فاریہ نے کہا اور باہر نکل آٸی۔۔

کون ہو سکتا یہ۔۔وہ کیب میں بیٹھی وہ سوچ ہی رہی تھی کہ اچانک کیب نے راستہ بدل لیا۔۔فاریہ نے چونک کر دیکھا۔۔

کدھر موڑ رہے ہو بھاٸی۔فاریہ نے تپ کر کہا۔۔۔

پھر اچانک اس سے پہلے وہ کچھ کر پاتی اس آدمی نے اسکے منہ پہ سپرے چھڑکی۔۔اور فاریہ کو اپنا سر بھاری محسوس ہوا۔۔اور اسی وقت وہ دنیا وما فیھا سے بیگانہ ہوکر ایک طرف لڑھک گٸی۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پری زیب نہا کر بال سکھا رہی تھی کہ ساٸرہ اندر داخل ہوٸی۔۔

پری زیب گڑیا جلدی کرو۔پارلر پہنچنا ہے تمہیں۔۔ساٸرہ کہہ کر الماری سے اسکا براٸیڈل ڈریس نکالنے لگی۔۔

بھابھی آپ صبح سے کہاں تھی۔اور فاریہ آپی کدھر ہیں۔؟پری زیب نے پوچھا۔۔

میں کام میں مصروف تھی اور فاریہ آفس کے کام میں پھنسی ہے۔ساٸرہ نے نظریں ملاۓ بغیر کہا۔۔

پری زیب نے جلدی سے جاکرپیچھے سے بازو ڈال کر ساٸرہ کا گال چوم لیا۔۔

ساٸرہ کے کب سے ضبط کٸے آنسو بہنے لگے۔۔

اور پری زیب بھی رونے لگ گٸی۔۔

کب سے دروازے پہ کھڑا احمر انہیں دیکھتا رہا۔پھر وہ اندر داخل ہوا۔۔

ارے یار بھابھی،اپنی نند کی رخصتی پہ ہی رو رو کر آنسو بہانے کیا؟ آپ کی بہن صاحبہ کی بھی رخصتی باقی ہے اسکےلٸے بھی کچھ بچا لیں“ورنہ وہ کہے گی کہ آپ کو پری زیب سے زیادہ پیار ہے۔۔۔احمر نے چھیڑتے ہوۓ کہا۔۔

تو ساٸرہ نے جلدی سےپری زیب کے آنسو صاف کٸے۔۔اور پھردونوں مسکرا دی۔۔

احمر ”یہ فاریہ کدھر ہے؟ساٸرہ نے پوچھا۔۔۔

اوففف یہی تو بتانے آیا تھا۔۔وہ اکچوٸلی میسیج آیا اسکا کہ وہ اپنے آفس کی ایک میٹنگ میں ہے اور لندن سےکانفرس کال ہے۔اسکو ٹاٸم لگ جانا ہے اور وہ وہی سے تیار ہوکر ہوٹل پہنچ جاۓ گی۔۔۔احمر نے بتایا۔۔۔

اوففف یہ لڑکی بھی نہ،آج ہی اسکو میٹنگ رکھنی تھی۔ساٸرہ نے جھلا کر کہا۔۔

بھابھی اچھا ہی ہے۔وہ اکچوٸلی ہم دونوں پاکستان میں ہی اپنا ٹرانسفر کروانا چاہتے ہیں تو اس لٸے بھی شاید وہ یہ بھاگ دوڑ کر رہی ہے۔احمر کی بات پہ ساٸرہ اور پری زیب کا چہرہ کھل اٹھا۔۔

اچھا چلو،ایک کام کرو تم پری زیب کو پارلر پہنچاٶ۔میں مہمانوں کو تیار کروا کر ہوٹل بھیجتی ہوں۔ساٸرہ نے کہا۔اور باہر نکل گٸی۔۔۔۔

چلو پری جلدی آ جاٶ۔احمر نے کہا اور باہر نکل گیا۔

اور پری زیب بھی چادر اوڑھ کر باہر نکل آٸی۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

فاریہ کو ہوش آیا تو اس نے خود کو ایک تاریک کمرے میں بیڈ پہ پایا۔۔

اس نے جلدی سے ساٸیڈ پہ ہاتھ مارا تو سوٸچ پہ ہاتھ لگا۔۔اس نے جلدی سے سارے سوٸچ آن کر دٸیے۔۔اور ساتھ ہی کمرے کی جگمگاہٹ سے فاریہ کی آنکھیں چندھیا گٸی۔۔

اس نے زور سے آنکھیں بند کرکے آہستہ آہستہ کھولی۔۔

پھر وہ بیڈ سے اتر کر باہر کو لپکی۔وہ لاٶنج میں پہنچی تو باہر ایک لڑکی موباٸل کان کو لگاۓ کسی سے بات کر رہی تھی۔۔اسکی فاریہ کیطرف پیٹھ تھی

آپ کی بیٹی کو کچھ نہیں ہو گا۔اور فکر مت کریں وہ ٹاٸم سے پہنچ جاۓ گی۔۔وہ لڑکی بولی۔۔

اووففف گاڈ،لگتا میرے علاوہ یہاں کوٸی اور لڑکی بھی ہے جو اغوا ہوٸی ہے۔۔فاریہ بڑبڑاٸی کر مڑی۔۔

پھر اچانک پیچھے کھڑے بڑی بڑی موچوں والے آدمی کو دیکھ کر ڈر گٸی۔اس آدمی نے اسکے چہرے پہ سپرے چھڑکا تو وہ لڑکھڑا کر بیہوش ہوکر زمین پہ گر گٸی۔۔

پھر اسکو جب ہوش آیا تووہ کرسی کیساتھ بندھی تھی اور اسکے سامنے ایک نقاب پوش لڑکی بیٹھی تھی۔

کک“کون ہو تم۔۔؟ وہ گھبرا کر بولی۔۔

تمہاری نند کی شادی ہے۔اور بارات پہنچنے والی ہے۔ایک منٹ میں واشروم میں پڑے کپڑے پہن کر آٶ اور بیوٹیشن نے تمہیں تیار بھی کرنا ہے۔۔وہ لڑکی اسکی بات کا جواب دٸیے بغیر اسکو تیار ہونے کا کہنے لگی۔۔

اوووہ گاڈ“رات بھی ہو گٸی۔میرے گھر والے پریشان ہو رہےہونگے۔فاریہ نے کہا۔۔

فکر مت کرو انکو کہہ دیاتھا کہ تم ایک میٹنگ میں ہو ،فارغ ہوکر ہوٹل پہنچ جاٶ گی۔۔وہ لڑکی بولی۔۔

پھر فاریہ کپڑے چینج کرکے نکلی تو بیوٹیشن نے اسکی ساڑھی سیٹ کی۔پھر اسکا میک اپ کیا۔۔۔

وہ تیار ہوکر فارغ ہوٸی تھی کہ وہ لڑکی اندر داخل ہوٸی۔۔

چلو جلدی آ جاٶ میرے پیچھے۔۔وہ لڑکی کہہ کر باہر نکل گٸی۔۔

فاریہ بھی تیزی سے اسکے پیچھے بھاگی۔۔اور پھر وہ دونوں گاڑی میں بیٹھی تو ڈراٸیور نے گاڑی سٹارٹ کر دی۔۔

پھر گاڑی نے ہوٹل کے سامنے جاکر بریک لگاٸی۔فاریہ ابھی تک کچھ سمجھ نہیں پاٸی تھی کہ اسے اغوا کیوں کیا گیا تھا۔۔پھر وہ سر جھٹک کر باہر نکل کر ہوٹل کیطرف بڑھ گٸی۔۔

اور اسے چھوڑنے آٸی ثانیہ نے اپنا نقاب اتارا اور اوپر کا بلیک گاٶن بھی اتارا اور نیچے سے اس نے بلیک پینٹ اور واٸٹ شرٹ پہن رکھی تھی۔پھر وہ بھی گاڑی سے اتر کر ہوٹل کیطرف بڑھ گٸی۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

زین موباٸل کیساتھ لگا تھا کہ صفدر اندر داخل ہوا۔۔

ارے سر۔۔ابھی تک تیار نہیں ہوۓ آپ؟ صفدر نے حیرت سے پوچھا۔۔۔

کیوں تیار کس لٸے ہونا ہے مجھے؟ وہ اطمینان سے انجان بنتے ہوۓ بولا۔۔

سر بارات ہے آج آپکی۔۔۔۔۔۔

کوٸی بارات ورات نہیں جاۓ گی میری۔زین نے ناگواری سے کہا۔۔۔ صفدر حیران پریشان اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔

مگر سر۔۔۔

کہہ دیا نہ،اب جاٶ یہاں سے۔۔زین نے کہا۔

صفدر کچھ دیر اسے دیکھتا رہا پھر تاسف سے سر ہلا کرباہر نکل گیا۔۔۔

اسکے جانے کے بعد زین نے کال ملا کر موباٸل کان کو لگایا۔۔

ہاں غنی کام ہوا کہ نہیں ؟ زین نے دوسری طرف سے کال پک ہوتے ہی پوچھا۔۔

نہیں سر۔۔۔۔دوسری طرف سے جواب آیا۔۔۔

مگر کیوں۔؟ زین نے پوچھا۔۔۔

کیونکہ سر وہ لڑکی پارلر آٸی ہی نہیں۔۔۔۔۔

واٹ۔۔دوسری طرف کی بات سن کر اس نے چلا کر کہا۔۔

جی سر۔۔غنی نے کہا۔۔

زین نے کال کٹ کردی۔۔اور غصے سے ادھر ادھر چکر کاٹنےلگا..

کچھ دیر بعد اسے پکارتی ناٸلہ آفندی آٸی۔

زین صفدر کیا کہہ رہا ہے؟ ناٸلہ آفندی نے ناگواری سے کہا۔۔

سوری مام “بس غصے میں کچھ بھی بول دیا میں آ رہا ہوں تیار ہوکر۔زین نے نظریں چراتے ہوۓ کہا۔

اوکے۔۔اگلے آدھے گھنٹے میں تم نیچے پہنچو،ناٸلہ آفندی نے تحکمانہ انداز میں کہا۔

زین نے اثبات میں سر ہلا دیا۔۔

پھر زین شیروانی پہن کر نیچے آیا تو ناٸلہ آفندی نے سکھ کا سانس لیا۔

پھر سہرابندی کے بعد بارات کی روانگی ہوٸی۔زین کا چہرہ ہر طرح کے جذبات سے عاری تھا جو کہ ناٸلہ آفندی کو اضطراب میں مبتلا کر رہا تھا۔۔

وہ ہوٹل پہنچے تو انکا شاندار استقبال کیا گیا۔۔اور زین کو سٹیج پہ لا کر بیٹھا دیا۔زین کی بےتاب نظریں فاریہ کو ہی تلاش رہی تھی۔۔

پھر کچھ دیر بعد وہ ہال میں داخل ہوتی دیکھاٸی دی۔تو زین سیدھا ہوکر بیٹھ گیا۔۔

وہ چلتی ہوٸی ساٸرہ کےپاس آ کر کھڑی ہو گٸی۔

اور تھینک گاڈ فری تو آ گٸی۔وہ احمر پری زیب کے پاس ہے اور وہ اسے اپنے پاس سے کہیں جانے نہیں دی رہی۔۔تو تم اسکے پاس چلی جاٶ۔۔ساٸرہ نے کہا۔۔

تو فاریہ سر ہلا کر سیڑھیوں کیطرف بڑھی تھی کہ احمر کو نیچے آتا دیکھ کر ٹھٹھک کر رک گٸی۔۔اور اسے دیکھ کر اسکےکب سے ضبط کٸے آنسو بہنے لگے۔۔

احمر تیزی سے اسکی طرف بڑھا۔

فری کیا ہوا۔۔رو کیوں رہی ہو؟ احمر بےچین ہو کر پوچھا۔۔

وہ بنا کچھ بولے اسکے گلے لگ کر رودی۔۔

احمر تو اسکے سب کے سامنے گلے لگنے پہ ساکت ہو گیا تھا۔۔

فری آر یو اوکے۔۔۔۔۔۔

احمر کے پوچھنےپہ اس نے اثبات میں سر ہلا دیا۔۔

پھر احمر اسےاپنے بازوٶں کے گھیرے میں لیکر اوپر سیڑھیاں چڑھ گیا۔۔زین نے بمشکل اپنے اندر بڑھکتی آگ کو قابو کیا۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفدر اپنے دھیان میں چلا آ رہا تھا جب وہ کسی کیساتھ زور سے ٹکرایا۔۔اور وہ ثانیہ تھی

ایم سو سوری۔صفدر نے جلدی سے کہا۔۔

اندھے ہو کیا؟ ثانیہ نے تپ کر کہا۔۔

سوری بول رہا ہوں نہ۔۔صفدر نے کہا۔۔

بندہ دھیان سے چلے تو سوری بولنے کی نوبت ہی نہ آۓ۔وہ تنک کر بولی۔۔

کیا مصیبت ہے یار۔۔صفدر بڑبڑایا

تجھے میں مصیبت دکھتی ہوں“وہ تپ کر بولی۔

محترمہ میں نے آپ کو مصیبت نہیں کہا“صفدر نے وضاحت دی۔

تجھے میں بڈھی کھوسٹ لگتی ہوں کیا؟۔وہ چلاٸی۔۔

میں نے ایسا کب کہا؟ صفدر حیران ہوا۔

ابھی تو بولا کہ محترمہ۔۔وہ گھورتے ہوۓ بولی۔۔

اوووہ سوری بہن جی،غلطی ہو گٸی۔۔صفدر نے ہاتھ جوڑ کر کہا۔۔

بہن جی۔۔۔۔۔۔۔وہ دانت پیس کر چلاٸی۔۔

اب اس میں بھی پرابلم ہے کیا؟صفدر جھلا کر بولا۔۔۔

ہاں تو نہیں ہوگی پرابلم۔اتنی ہاٹ لڑکی کو بہن جی بول رہا“وہ جلدی سے بولی۔۔۔

اوففففف۔۔۔۔صفدر کا دل کیا کہ اپنا سر دیوار میں مار ڈالے۔۔

مجھے معاف کردیں مادام۔۔۔صفدر نےہاتھ جوڑ کر کہا۔۔

بہتر ہے اب۔۔وہ کہہ کر آگے بڑھ گٸی۔اور صفدر بھی سر جھٹک کر اندر چلا آیا۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہاۓ پری زیب“فاریہ نے اندر داخل ہوکر کہا۔۔

پری زیب جلدی سے اٹھ کر فاریہ کے گلے لگ کر رودی۔۔۔

اوففففف اللہ لڑکیوں،کتنے آنسو بہاتی ہو تم لوگ۔۔اتنے آنسو کہاں سے آتے ہیں۔احمر نے ہلکے پھلکے انداز میں انہیں چھیڑا۔۔اور پری زیب چڑ بھی گٸی۔۔

آپ مرد تو ہوتے ہی سخت دل ہیں۔۔پری زیب نے چڑ کر کہا۔۔

اچھا یعنی زین بھی ایسا ہے کیا؟ احمر نے شرارتی انداز میں کہا۔۔

بھیا،وہ روہانسی ہوکر بولی۔۔

احمر میری جان کو تنگ مت کریں“فاریہ نے احمر کو گھور کر کہا۔۔

اوفففف کاش ہم بھی آپ کی جان ہوتے“احمر اسکے کان میں بڑبڑایا۔۔

فاریہ کے دل نے ایک بیٹ مس کی۔۔اسکا چہرہ لال ہوگیا۔۔احمر دلچسپی سے اسے دیکھنے لگا۔۔۔

پھر احمر کے جانے کے بعد فاریہ نے اسے زبردستی کھانا کھلایا۔۔اور پھر باہر سے رخصتی کا پیغام آیا۔۔تو فاریہ اسے تھام کر نیچے ہال کیطرف بڑھ گٸی۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

زین کب سے کوشش کر رہاتھا کہ وہ فاریہ سے کسی طرح بات کر لے۔۔مگر اسے نہ فاریہ نظر آٸی اور نہ نکلنے کا موقعہ ملا۔۔

پھر کھانے کے بعد فاریہ پری زیب کو تھامے نیچے اترتی دیکھاٸی دی۔سب کی نظریں پری زیب کی من موہنی صورت پہ تھی۔

ریڈ اور گولڈن لہنگے میں وہ بہت خوبصورت دکھ رہی تھی۔

پھر فاریہ اسے لیکر سٹیج پہ چڑھی اور اسے زین کے ساتھ بیٹھا دیا۔۔۔

اور فاریہ نے ہی دودھ پلاٸی کرواٸی اور اس سب میں ناٸلہ آفندی بہت مطمٸن تھے۔زین مضطرب تھا اور زبیر آفندی مسلسل فاریہ کو نفرت سے دیکھ رہے تھے۔۔

پھر رخصتی ہونے لگی تو ساٸرہ نے آگے بڑھ کر اس پہ چادر اوڑھ دی۔۔

اور فاریہ رسم کے مطابق پری زیب کیساتھ جا رہی تھی۔۔۔

اس چیز نے زین کو خوش کردیا۔۔مگر ناٸلہ آفندی پھر سے مضطرب ہو گٸی۔زین گاڑی خود ڈراٸیو کر رہا تھا۔۔اور پری زیب اسکے ساتھ فرنٹ سیٹ پہ بیٹھی تھی۔اور فاریہ پیچھے بیٹھی تھی۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

گاڑیاں جا کر آفندی ولا کے سامنے رکی تو پری زیب کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔ساری رسومات کے بعد پری زیب کو اسکے کمرے میں پہنچا دیا گیا۔۔۔

فاریہ اسے بیڈ پہ بیٹھا کر اسکے پاس بیٹھ گٸی۔۔

پری میری جان“شادی کے بعد شاید تمہیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑے مگر تم میری بہادر پری ہو تم ان چیزوں کو چپ چاپ نہیں سہو گی۔بلکہ انکا بہادری سے مقابلہ کرو گی۔۔فاریہ نے اسکا ہاتھ تھام کر کہا۔۔

فری آپی مشکلات بھی مجھے دیکھ کر بھاگ جاۓ گی۔۔وہ چہک کر بولی۔۔

فاریہ نے محبت سے اسکا ماتھا چوما اور باہر جانے کیلٸے مڑی تو پیچھے کھڑی زین کو دیکھ کر چونکی۔۔

پھر وہ تیزی سے زین کی ساٸیڈ سے نکل گٸی۔۔

زین بھی تیزی سے اسکے پیچھے لپکا۔۔

رکو سوہنی۔۔۔۔زین کے پکارنے پہ فاریہ کے قدم رک گٸے۔۔

پھر وہ مڑ کر اسے ناگواری سے دیکھنے لگی۔۔

کدھر تھیں آپ آج۔اور پارلر کیوں نہیں پہنچٕی؟ زین نے غصے سے پوچھا۔۔

مسٹر زین۔۔ آپ مجھ پہ نظر رکھے ہوۓ ہیں کیا؟ فاریہ نے ناگواری سے پوچھا۔۔۔

یہ میرے سوال کا جواب نہیں ہے سوہنی“وہ سنجیدگی سے بولا۔۔۔۔۔

میرا نام فاریہ ہے۔۔بہتر ہوگا کہ آپ میرے نام سے پکارے اور اس سے بھی بہتر ہوگا کہ پری زیب کیطرح آپ بھی فری آپی کہے۔۔۔۔

زین اسکی بات پہ لب بھینچ کر اسے گھورنے لگا۔۔

پھر وہ آگے بڑھنے لگی تو زین اسکے سامنے کھڑا ہوگیا۔۔

آپکی لاڈلی پری زیب کی زندگی کی آج بہت دردناک رات ہے۔احمر کی بہن ہونے کی اسے سزا ملے گی۔زین نے غصے سے کہا۔۔

فکر مت کرو،پری زیب کو درد دو گے تو پری زیب تمہیں اسکی سزا دے گی۔۔وہ کوٸی عام لڑکی نہیں ہے۔تمہیں سدھار کر دم لے گی۔۔فاریہ نے طنزیہ انداز میں کہا۔۔اور پھر اسے پیچھے ہٹا کر نیچے اتر گٸی۔۔

زین نے زور سے آنکھیں بند کرکے خود کو کمپوز کیا۔۔اور پھر غضب ناک انداز میں اپنے کمرے کی طرف بڑھا۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پری زیب نے فاریہ کے جانے کے بعد بیڈکراٶن کیساتھ ٹیک لگاکرآنکھیں موند لیں۔۔

کچھ دیر بعد دھاڑ سے دروازہ کھلا تو پری زیب نے چونک کر دیکھا۔تو زین تھا۔۔اسکا چہرہ غصے سے سرخ ہوا تھا۔۔

پری زیب جلدی سے سیدھی ہوکر بیٹھ گٸی۔۔زین چلتا ہوا بیڈ کے پاس آیا۔۔۔

اٹھو۔۔۔

جی۔۔۔پری زیب نے حیرت سے کہا۔۔

میں نے کہا اٹھو۔۔وہ دھاڑ کر بولا۔۔

پری زیب کا دل اسکی دھاڑ پہ سکڑ گیا تھا۔۔

زی“زین “مم۔مجھ سے کوٸی غلطی ہو گٸی کیا؟ اس نے تھوک نگلتے ہوۓ پوچھا۔۔

مجھے زہر لگتی تم جیسی اوور کانفیڈینٹ لڑکیاں۔اٹھو اور میرے کمرے سے دفع ہو جاٶ۔۔زین نے سرخ آنکھیں اس پہ گاڑتے ہوۓ کہا۔۔۔

وہ فق چہرے کیساتھ اسے دیکھ رہی تھی۔۔

زین نے اسکا بازو پکڑ کر کھینچ کر بیڈ سے نیچے اتارا۔۔

زین “یہ کیا ہو گیا ہے آپ کو،مجھ سے کوٸی غلطی ہو گٸی کیا۔۔؟اس نے تڑپ کر پوچھا۔۔

نہیں غلطی مجھ سے ہو گٸی ہے جو میں نے تم سے شادی کر لی۔۔وہ دھاڑ کر بولا۔۔

میرا گناہ تو بتا دیں۔پھر مجھے سزا دیں۔وہ تڑپ کر بولی۔۔

آٶ میرے ساتھ بتاتا ہوں تمہیں کس چیز کی سزا مل رہی ہے۔زین نے کہا۔۔اور پھر اسکو کھینچتا ہوا باہر لے آیا۔۔

اور پھر اسے لیکر باہر لان سے منسلک بنی انیکسی میں لے آیا۔۔اورپھر دروازہ کھول کر اسے اندر لاکر ہاتھ چھوڑ کر سب لاٸیٹس آن کی۔کہ کچھ پل کیلٸے پری زیب کی آنکھیں چندھیا گٸی۔۔

پھر اس نے دھیرے سے آنکھیں کھول کر دیکھا تواسے لگا اسکے سرپہ آسمان ٹوٹ پڑا ہے۔۔

وہ انیکسی میں فاریہ کی لگی تصویروں کوپھٹی پھٹی نگاہوں سے دیکھ رہی تھی۔۔

یہ ہے تمہاری سزا کیوجہ۔“فاریہ محمود صابری ہی میری سوہنی تھی۔۔تمہارے بھاٸی کی خوبصورتی کیوجہ سے ہی سوہنی نے مجھے چھوڑا تھا

۔اب دیکھنا تمہارے بھاٸی اور تمہاری فاریہ آپی کے کٸے کی سزا تمہیں کیسے دیتا ہوں۔۔زین نے دھاڑ کر کہا۔۔

پری زیب زمین پہ بیٹھتی چلی گٸی۔آنسو اسکے سرخ قندھاری رخسار کو بھگو رہے تھے۔۔

ایک پل کے لٸے زین کے دل کو کچھ ہوا۔مگر پھر وہ اسکو روتا چھوڑ کر باہر نکل گیا۔۔۔۔

پری زیب کتنے دیر سے گھٹنوں میں سر دٸیے بیٹھی تھی۔۔پھر دور سے تہجد کی اذان کی آواز پہ وہ چونکی۔۔

پھر زمین پہ سجدے میں سر رکھ کر پھوٹ پھوٹ کر رودی۔نجانے کب روتے روتے وہ سو گٸی۔

پھر اسکی گردن میں اکڑاٶ ہوا تو وہ اٹھ کر بیٹھ گٸی۔۔کچھ دیر تک وہ یونہی بیٹھی رہی“وہ کہیں سے بھی چند گھنٹوں کی دولہن نہیں لگ رہی تھی۔ اسکی کلاٸیاں چوڑیوں کے ٹوٹنے سے زخمی ہوٸی تھی۔چہرے پہ آنسوٶوں کے نشان اور کالی گھپ اندھیرے جیسی حسین آنکھیں سرخ ہوٸی تھی۔۔

اور پھر اپنے ٹوٹے بکھرے وجود کو سمیٹتے وہ باہر نکل کر اندر لاٶنج کیطرف بڑھ گٸی۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *