Mein Kese Kahun by Umme Emman Fatima NovelR50540 Mein Kese Kahun (Episode 08)
Rate this Novel
Mein Kese Kahun (Episode 08)
Mein Kese Kahun by Umme Emman Fatima
زین پلیز نہ مجھے کام کرنا ہیں۔۔بھابھی مجھے بلانے آتی ہی ہونگی۔۔۔
تو پھر کیا ہوا؟ بھابھی سمجھدار ہیں سمجھ جاٸیں گی۔زین نے کہا اور پھر اسکے کمرے کا جاٸزہ لینے لگا۔پھر اسکی نظریں سامنے ڈریسنگ پہ پڑے فریم پہ پڑی۔وہ چلتا ہوا ڈریسنگ کے پاس آیا اور فوٹو فریم اٹھا کر دیکھنے لگا۔۔
یہ تمہارا بھاٸی ہے کیا تمہاری فاریہ آپی کیساتھ۔زین نے پوچھا۔۔
تو اور کون ہو سکتا ہے اس طرح ساتھ جڑ کر بھیا کے ساتھ صرف انکی جانم ہی بیٹھ سکتی ہے۔۔وہ مسکرا کر بولی۔۔۔
جانم کہتے ہیں کیا انکو تمہارے بھیا؟ زین نے پوچھا۔۔
پری زیب نے اثبات میں سر ہلا دیا۔۔
پتا ہے میں جس لڑکی سے پہلے محبت کرتا تھا اسکا نام سوہنی رکھا تھا۔۔زین نے پھیکی سے مسکراہٹ سے کہا۔۔
زین ایک بات کہنی تھی،کیا آپ مجھے اپنے اور سوہنی کے بارے میں بتاٸیں گے۔۔پری زیب نے پوچھا۔۔
زین کے چہرے پہ ایک سایہ سا لہرا گیا۔۔۔
کیا بتاٶں اسکے بارے میں؟ زین نے پھیکی سی مسکراہٹ سے پوچھا۔۔۔
یہی کہ آپکی ملاقات کیسےہوٸی اور اس نے آپ کو کیوں چھوڑا؟ پری زیب نے جھجھکتے ہوۓ پوچھا۔۔۔
ہماری ملاقات بھی بہت عجیب تھی۔مجھے یاد ہے کالج میں پہلا دن تھا۔میں کالج نہیں جانا چاہتا تھا۔مگر مام نے مجھے زبردستی بھیجا۔۔عجیب سا ہوتا تھا شکل و صورت کا تو لڑکوں نے میری راگنگ کی۔۔اس نے مجھے بچایا۔۔پھر ہم ایک دوسرے کے دوست بن گٸے میں نے اسکا نام سوہنی رکھا۔۔کالج ختم ہوا تو یونیورسٹی میں اسکے ساتھ ہی ایڈمیشن لیا۔اور میں نے پھر ماما کو بمشکل منا کر رشتے کیلٸے بھیجا۔۔مگر اس نے مام کو انکار کر دیا پھر میں نے اس سے منتیں کی کہ مجھے وجہ بتا دے تو اس نے کہا کہ وہ میرے منہ نہیں لگنا چاہتی۔۔
میں اسکے آگے گڑگڑایا مگر وہ میری شکل کو بدصورت بول کر میرے دل کو روند کر چلی گٸی۔۔زین کا بولتے بولتے گلا رندھ گیا۔۔۔
اور کچھ پوچھنا ہے تمہیں“؟ زین نے اسکی طرف دیکھتے ہوۓ پوچھا۔۔
ایم سوری“میں نے آپکے زخموں کو تازہ کر دیا۔پری زیب نے نم لہجے سے کہا۔۔۔
اثس اوکے“یہ تمہارا حق تھا اور مجھے تمہارے ساتھ اپنی ماضی کی ہر یاد کوکھرچ کر چلنا ہے۔تو کیا تم میرا ساتھ دو گی۔میرے زخموں کا مرہم بنو گی“؟زین نے اسکا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوۓ پوچھا۔۔
پری زیب نے اثبات میں سر ہلا دیا۔۔۔زین نے ہولے سے اسکا ہاتھ دبا کر چھوڑ دیا۔۔اور کمرے سے باہر نکل کر نیچے چلا گیا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پری زیب نے لاٶنج میں آکر سب کو سلام کیا۔تو مسز ناٸلہ آفندی نے ہاتھ پکڑ کر اپنے ساتھ بیٹھا لیا۔۔
ماشاءاللہ۔۔بہت ہی خوبصورت لگ رہیں ہو آپ؟ ناٸلہ آفندی نے کہا۔۔۔۔
تھینک یو آنٹی“پری زیب بولی۔۔
پھر ناٸلہ آفندی اس سے مزید چھوٹے چھوٹے سوال کرنے لگی۔۔وہ سر جھکا کر جواب دینے لگی۔۔
بابا کھانا لگ چکا ہے“کچھ دیر بعد ساٸرہ نے اندر آ کر کہا۔۔
پھروہ سب لوگ ڈاٸننگ ٹیبل پہ آ گٸے۔۔اور کھانا وغیرہ کھانے کے بعد وہ لوگ پھر واپس لاٶنج میں آ گٸے۔۔
ساٸرہ بھی انکے ساتھ بیٹھ گٸی تھی۔
پھر ناٸلہ آفندی نے زبیرآفندی کو بات کرنے کا اشارہ کیا۔۔تو انہوں نے اثبات میں سر ہلادیا۔۔
اہمممم۔پروفیسر صاحب میں تہمید نہیں باندھوں گا۔بزنس مین ہوں سیدھی بات کرتاہوں“مجھے اکچوٸلی آپ کی بیٹی پری زیب کا رشتہ اپنے بیٹے زین کیلٸے چاہیے۔۔کیا آپ زین کو اپنی فرزندگی میں لینا پسند کرینگے۔۔زبیر آفندی نے کھنکارتے ہوۓ کہا۔۔۔
زبیر آفندی صاحب آپ کے بیٹے کو اپنا داماد بنانا میرے لٸے باعث فخر ہے۔۔جمال قریشی صاحب نے کچھ توقف کے بعد کہا۔۔
تو مطلب ہم ہاں سمجھیں۔۔ناٸلہ آفندی نے خوش ہوکر کہا۔۔۔
جی بالکل۔۔۔ لیکن ہم اپنی بیٹی پری زیب سے پوچھ کر ہی ہاں بولیں گے۔۔جمال قریشی صاحب نے کہا۔۔
تو پری زیب سے ابھی پوچھ لیتے ہیں۔۔ناٸلہ آفندی نے اندر آتی پری زیب کو دیکھ کر کہا۔۔
پری میرے بچے ادھر میرے پاس آٸیں ۔۔جمال قریشی صاحب نے کہا۔۔
پری جمال قریشی کے ساتھ آ کر بیٹھ گٸی۔۔
پری بچی اگر ہم آپکا رشتہ زین بیٹے کیساتھ طے کردیں آپ کو کوٸی اعتراض تو نہیں ہوگا؟ جمال قریشی صاحب نے اسکے سرپہ ہاتھ رکھ کر پوچھا۔۔۔
جیسا آپ چاہیں بابا،وہ سر جھکاۓ ہوۓ بولی۔۔
جیتی رہو“جمال قریشی نے ماتھا چومتے ہوۓ کہا۔۔۔
لیجٸے منہ میٹھا کرواٸیں ساٸرہ بیٹی سب کا۔۔پھر انہوں نے ساٸرہ سے کہا۔۔
بچے ان میں سے ایک ڈریس پہن کر آٸیں۔۔پھر ناٸلہ آفندی نے پری زیب کے ڈیسسز اسے پکڑاتے ہوۓ کہا۔۔
پری زیب ذریس لیکر اندر چلی گٸی۔۔اور پھر کچھ دیر بعد وہ واپس آٸی تو اس نے نیوی بلیو فراک پہنی تھی۔۔
ماشاءاللہ۔۔۔ساٸرہ بیٹے یہ کل کسی غریب کو دے دینا۔۔۔ناٸلہ آفندی نے اسکے سر سے پیسے وار کر ساٸرہ کو پکڑاتے ہوۓ کہا۔۔
پھر پری زیب اور زین کو ایک ساتھ بیٹھایا گیا۔۔اور زین نے ڈاٸمنڈ رنگ پہناٸی۔۔اور ناٸلہ آفندی نے ڈاٸمنڈ نیکلس پہنایا۔۔
یہ آپ نے بہن جی بہت تکلف کیا ہے۔جمال قریشی صاحب نے کہا۔۔
بھاٸی صاحب اپنی بیٹی کیلٸے کیا ہے اور یہ بھی بہت ہی کم ہے۔۔ناٸلہ آفندی نے کہا۔۔
خیر پروفیسر صاحب ہم آج ہی شادی کی ڈیٹ رکھنا چاہتے ہیں۔زبیر آفندی نے کہا۔۔۔
اتنی جلدی۔۔بچے تو ابھی پڑھ رہے ہیں۔تو اتنی جلدی شادی۔۔جمال قریشی صاحب نے کہا۔۔۔
بھاٸی صاحب دونوں ایک ہی انسیٹیوٹ میں ہیں تو شادی کے بعد اکھٹے یونیورسٹی جاٸیں گے۔ناٸلہ آفندی نے کہا۔۔
چلیں جیسا آپ آپ کہیں۔۔جمال قریشی نے کہا۔۔
پھر پندرہ دن کے بعد شادی کی تاریخ طے ہو گٸی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پری زیب یونیورسٹی پہنچی تو کافی لیٹ ہو چکی تھی۔اس نے آج اساٸمنٹ بھی جمع کروانی تھی۔۔وہ جلدی سے بھاگتی ہوٸی اپنے پروفیسر کے روم میں چلے آٸی اور پھر اساٸمنٹ جمع کروا کر وہ اپنی کلاس روم کیطرف بڑھ رہی تھی کہ زین نے اسکا راستہ روکا۔۔۔
ہاۓ زین؟ وہ جلدی سے بولی۔۔
کدھر تھی تم یار“کب سے تمہیں ڈھونڈ رہا تھا۔۔
وہ میں اساٸمنٹ جمع کروا کر آٸی اور اب کلاس لینی ہے۔وہ جلدی سے بولی۔۔
تو اکھٹے چلتے ہیں کلاس روم میں۔۔زین نے کہا۔
کیا آپ کلاس روم میں جاٸیں گے وہ بھی میرے ساتھ جبکہ آپ تو علیحدہ کلاس لیتے ہیں۔۔۔اس نے حیرت سے پوچھا۔
زین اسکے قریب ہوا اور اسکی ٹھوڑی کو پکڑ مسکرا کر اثبات میں سر ہلا دیا۔۔۔
پری زیب حیرت سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔
چلو نہ“زین نے اسے ہلا کر کہا۔۔۔
آں“ہاں نہ ۔۔۔چلیں پلیز۔۔۔وہ گڑبڑا کر بولی۔۔
زین نے اسکا ہاتھ تھام لیا۔۔پھر وہ جب کلاس روم میں داخل ہوۓ تو سب ان کو حیرانگی سے دیکھنے لگے۔مگر وہ سب کی نظروں سے بےنیاز چیٸرز پہ آکر بیٹھ گٸے۔۔
پھر وہ پیریڈز لیکر جب باہر نکلے تو پری زیب کے گروپ والیاں پری زیب کا ہاتھ پکڑ کر ساٸیڈ پہ لے گٸی۔۔
اب بتا یہ سب کیا ہے“یہ اتنا کھڑوس آدمی آج کل تیرے ساتھ کیوں ہیں؟۔۔اسکی گروپ کی ماریہ نے پوچھا۔۔
ہاں یار جو انسان کسی کو بلوا کر راضی نہیں تھا علیحدہ کلاس لیتا تھاوہ آج تمہارے ساتھ اتنا خوش اور مطمٸن کلاس روم میں کلاس لے رہا تھا۔۔سین کیا ہے۔۔؟ فوزیہ نے پوچھا۔۔
باقی سب بھی اسکی طرف دیکھنے لگی۔۔
ارے یار“ کوٸی سین وین نہیں پوری فلم ہے۔۔پری زیب نے مسکرا کر کہا۔۔
کیا مطلب؟ سب نے حیرت سے پوچھا۔۔
مطلب یہ رنگ“وہ اپنی رنگ دیکھاتے ہوۓ بولی۔۔
اوووہ ماٸی گاڈ“تیری منگنی ہوگٸی۔۔۔ماریہ چلاٸی۔۔
پری زیب نے سر اثبات میں ہلا کر انہیں سب بتایا۔۔
وہ حیرت سے منہ کھولے سن رہی تھی۔۔
پری زیب چلیں اب۔۔شادی کی شاپنگ کرنی ہے ہمیں۔وہ مزید انکو کچھ بتاتی کہ زین نےپاس آ کر کہا۔۔
پری زیب سر ہلا کر اسکے ساتھ چل دی۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ناٸلہ آفندی نے اسکے لٸے ایک سے بڑھ کر ایک چیز لی تھی۔۔شاپنگ کمپلیٹ کرنے کے بعد زین اسے گھر چھوڑنے کے لٸے چل پڑا۔۔
کچھ کھاٶ گی؟ زین نے پوچھا۔۔
یس سموسیاں۔وہ بھی رب نواز کی ریڑھی کی۔۔وہ جلدی سے بولی۔۔۔
یار تم کبھی تو کہا کرو تمہیں چاٸینیز کھانا۔اٹالین کھانا۔۔مگر نہیں آ جا کر ماجے کے سموسے اور رب نواز کی سموسیاں رہ گٸی ہے۔۔
پری زیب اسکی بات پہ محض مسکرا دی۔۔پھر زین نے گاڑی ساٸیڈ میں روکی اور سموسیوں کا آرڈر دینے لگا۔۔
پھر اچانک پری زیب کا فون بجا تو اس نے نمبر دیکھا تو فاریہ کا تھا۔اس نے سپیکر آن کرکے کان رسیو کی۔
یس فری آپی۔۔پری زیب بولی۔۔
پری میری جان“تم نے اپنی اور جان جی کی پکس نہیں بھیجی۔۔فاریہ نے کہا۔۔
وہ فری آپی انہوں نے کہا تھا کہ میں آپکو اور بھیا کو پکس نہیں بھیجوں گی۔بلکہ آپ دونوں جلدی پہنچیں اور آکر ڈاٸریکٹ ملیں۔۔فاریہ نے کہا۔۔
ٕیہ تمہارا جان جی زیادہ ہی شرطیں نہیں رکھ رہا،خیر نام کیا ہے اسکا۔۔فاریہ نے کہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بالکل بھی نہیں فاریہ جی،شراٸط تو کوٸی نہیں ہے بس آپ سے ملنے کے شوقین ہیں ہم۔اور ہمارا نام آپ ہم سے آکر پوچھیۓ گا۔۔کیونکہ میں تو چاہتا آپ سے مل کر ڈاٸریکٹ میں آپکو اپنا نام بتاٶں اپنے منہ سے۔۔آپ کزن کی شادی اٹنڈ کریں اور جلدی آٸیں۔۔زین جلدی سے موباٸل پکڑ کر جواب دیا۔۔
اوکے جناب۔تو پھر استقبال کی تیاریاں کریں۔۔میں برات سے پانچ دن بعد آنے والی تھی۔۔مگر اب میں برات اٹنڈ کرکے اسی رات کی فلاٸٹ سے واپس آ رہی ہوں۔۔فاریہ نے مسکرا کر کہا۔۔
اووووہ یہ تو بہت بڑی خوشخبری ہے۔۔زین نے جلدی سے کہا۔اور پھر موباٸل فاریہ کیطرف بڑھایا۔۔
ہاں فری آپی بہت بڑی خوشخبری ہے یہ تو۔۔میں تو پہلے ہی آپ کو اور احمر بھاٸی کو بہت مس کر رہی ہوں۔۔وہ افسردہ انداز میں بولی۔۔
میری جان“میں بس آتی ہوں فکر مت کرو۔۔فاریہ نے کہا اور فون بند کر دیا۔۔
پھر زین نے اسے گھر ڈراپ کیا۔۔اور پھر خود گاڑی دوڑاتا گھرپہنچ کر وہ سیدھا ناٸلہ آفندی کے روم میں آگیا۔۔
ناٸلہ آفندی زبیر آفندی کو سب سامان دیکھا رہی تھی۔۔انہوں نے زین کو اندر آتے دیکھا تو وہ چونک گٸی۔
کیا ہوا زین؟ وہ اسکے مضطرب انداز پہ چونک گٸی۔۔
مام “میں اس فراٸیڈے نکاح کرنا چاہتا ہوں،زین نے گویا انکے سر پہ دھماکا کیا ہے۔۔
کیا کہہ رہے ہو زین۔دس دن تو باقی ہیں تو نکاح کی شرط رکھنی ضروری ہے کیا؟زبیر آفندی نے کہا۔۔
ڈیڈ “وہ لوگ پرانے خیالات کے ہیں تو مجھے نہیں لگتا کہ وہ لوگ ہماری مہندی وغیرہ اکٹھے بیٹھا کر ہونے دینگے۔زین نے جلدی سے کہا۔۔۔
تو نہ ہونے دیں۔کیا فرق پڑتا ہے۔۔ناٸلہ آفندی نے جھلا کر جواب دیا۔۔۔۔
مام پلیز۔۔وہ التجاٸیہ انداز میں بولا۔۔
ناٸلہ آفندی نے بےبسی سے زبیر آفندی کیطرف دیکھا تو انہوں نے محض کندھے اچکا دٸیے۔۔گویا وہ بھی راضی ہیں۔۔
ٹھیک ہے پھر آپ احمد سے بات کریں۔۔ناٸلہ آفندی نے کہاتو انہوں نے اثبات میں سر ہلا دیا۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بابا جان آپ سے بہت ضروری بات کرنی ہیں۔احمد نے جمال قریشی صاحب کے پاس بیٹھتے ہوۓ کہا۔۔۔
جی بیٹے ہم سن رہے ہیں۔۔جمال قریشی نے کتاب ساٸیڈپہ رکھتے ہوۓ جواب دیا۔۔۔
بابا وہ اکچوٸلی زین کے فادر کا فون آیا تھا۔۔وہ لوگ فراٸیڈے کو نکاح کرنا چاہتے ہیں۔۔احمد نے کہا۔۔
ارے اب یہ کیا بات ہوٸی“جمال قریشی صاحب نے حیرت سے کہا۔۔۔۔
بابا وہ لڑکے والے ہیں تو پھر نہ تو نہیں بول سکتے۔۔اس لٸے اب آپ بتاٸیں پھر کیا جواب دو انکو؟ احمد نے پوچھا۔۔
کیا جواب دینا ہے۔اب ہاں تو بولنا ہی پڑے گا۔۔جمال قریشی صاحب نے کہا۔۔
احمد نے انکی بات پہ اثبات میں سر ہلا دیااورپھر ساٸرہ کو بتانے کیلٸے چلا گیا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پری زیب رکو نہ یار“بات تو سن لو۔زین نے اسکے پیچھے آتے ہوۓ کہا۔۔۔
سناۓ۔۔۔۔وہ سینے پہ بازو لپیٹتے ہوۓ بولی۔۔
یار صبح سے بات نہیں کی تم نے مجھ سے۔وہ جھلا کر بولا۔۔۔
کیوں کروں میں آپ سے بات۔اس نے تپ کر پوچھا۔۔۔
کیوں نہیں کرو گی مجھ سے بات۔۔اس نےالٹا اسی سے پوچھا۔۔
آپ صرف اپنی منوا رہے ہیں۔شادی جلدی کروانی۔اب نکاح پہلے کروانا۔۔کیا میری کوٸی مرضی نہیں ہے۔وہ نم لہجے میں بولی۔۔
میری جان تم اگر چاہتی ہو کہ نکاح پہلے نہ ہو اور شادی بھی سٹڈی کے بعد ہو تو کوٸی مسٸلہ نہیں میں مام کو آج ہی بول دونگا۔۔مگر اس طرح افسردہ مت رہو مجھ سے دور مت رہو۔۔وہ اسکا چہرہ ہاتھوں میں لیکر بولا۔۔
پری زیب پھر سے اسکی سحر انگیز آنکھوں کے آگے خود کو بےبس محسوس کرنے لگی۔۔۔
میں نے ایسا تو نہیں کہا“بس بھیا اور فری آپی کے بغیر کیسے کروں۔۔یہ سمجھ نہیں آ رہا۔۔بھیا مہندی کی رات آٸیں گے۔۔اور فری آپی منڈے کو۔۔توبس اس لٸے اتنا غصہ کر گٸی۔۔وہ شرمندگی سے بولی۔۔۔
اٹس اوکے۔۔ویسے ہم فراٸیڈے کو جب ایک ہونگے توسب سے پہلے تمہارے ماتھے کو چوموں گا۔۔زین نے بیباکی سے کہا۔۔
پری زیب کا چہرہ شرم سے سرخ ہو گیا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے
