Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mein Kese Kahun (Episode 29)

Mein Kese Kahun by Umme Emman Fatima

چلو ٹھیک ہے ثانیہ تمہیں جو کرنا جیسے کرنا کرو۔۔۔ناٸلہ آفندی نے اٹھتے ہوۓ کہا۔۔

ثانیہ نے اثبات میں سر ہلا دیا۔۔۔

اور پھر صوفی پہلوان کو کال کرنے لگی…..۔۔۔۔

❤
❤
❤
❤
❤

زین کی آنکھ کھلی تو اس نے حیرت سے اجنبی چھت کو دیکھا۔

پھر اس نے باٸیں طرف دیکھا تو پری زیب لیٹی تھی۔۔وہ ہڑبڑا کر سیدھا ہوا۔

اووووووہ گاڈ“یہ کہاں ہیں ہم۔۔اور میں تو اپنی گاڑی میں تھا جب مجھے کسی چیزکی بو محسوس ہوٸی اور کچھ پل بعد کیا ہوا مجھے کچھ یاد نہیں لیکن پری زیب تو لاٸبریری گٸی تھی۔یہ بھی یہاں ہیں۔۔۔زین بڑبڑایا۔۔

پھر زین پری زیب کو ہلانے لگا۔۔

کچھ توقف کے بعد پری زیب نے دھیرے سے آنکھیں کھولی اور اپنے اوپر جھکے زین کو دیکھ کر گھبرا کر اٹھ کر بیٹھی۔اور پھر ارد گرد دیکھنے لگی۔

تم۔تم نے مجھے کڈنیپ کیا۔۔؟وہ چلاٸی۔

واٹ۔؟۔آر یو کریزی میں تمہیں کیوں کڈنیپ کرونگا۔۔؟

تاکہ تم مجھے ہمیشہ کیلٸے اپنے ساتھ رکھ سکو اور اپنی قید میں رکھ سکو۔۔وہ جلدی سے بولی۔۔۔

تمہیں اتنی خوش فہمی کیوں ہیں کہ میں تمہارے عشق میں یہ کر گزروں گا۔۔میرا دماغ خراب ہے جو تم جیسی مصیبت کو جھیلوں گا۔۔۔۔

اچھا میں مصیبت ہوں۔تو پھر میرا پیچھا کیوں نہیں چھوڑ دیتے۔۔وہ تپی۔۔۔

کیونکہ ابھی موڈ نہیں۔۔وہ اطمینان سے بولا۔۔۔

میں تمہارا منہ توڑ دوں گی۔

ہاں تو مجھے کونسا نہیں توڑنا آتا منہ۔۔اور شکل گم کرو اور دفع ہو یہاں سے۔۔۔زین نے تپ کر کہا..

تمہارے ڈیڈکا گھر نہیں ہے یہ۔۔کڈنیپر کا گھر ہے۔۔اور اگر زیادہ ہی اکتاۓ ہو تو تم دفع ہو جاٶ۔۔وہ بھی تپ کر بولی۔۔

شوہر ہوں تمہارا تمیز سے بات کیا کرو۔۔

میں بھی بیوی ہوں تمہاری تم بھی زرا تمیز سے بات کر لیا کرو“۔عزت کرو اور کرواٶ۔۔پری زیب نے تنک کر جواب دیا۔

زین نے اسکے دونوں بازوٶں کو مڑورکر کمر کیساتھ لگا دٸیے۔۔۔وہ درد سے کراہی۔۔

جنگلی انسان۔چھوڑو مجھے۔۔۔وہ چیخ کر بولی۔

پہلے ریکویسٹ کرکے کہوں۔

ریکویسٹ کرتی میری جوتی۔۔وہ تپ کر بولی۔اور دوسرے پل زین کےکندھے پہ زور سے اس نے دانت گاڑھ دٸیے۔۔۔

زین نے اپنی گرفت اور مضبوط کر دی۔

۔

وہ جھلا کر رہ گٸی۔پھر اس نے زور سے زین کے چہرے پہ ٹکر ماری زین کراہ کر پیچھے ہٹا تو پری زیب ایک جھٹکے سے بیڈ سے اتر کر باہر کو بھاگی۔۔۔

زین غصے سے اسکے پیچھے لپکا۔۔

پری زیب میں تمہارا حشر کردونگا۔۔زین نے صوفے کے پار کھڑی پری زیب کو کہا۔۔

پہلے پکڑ تو لو۔۔وہ طنزیہ انداز میں بولی۔۔

زین نے صوفے کے اوپر سے چھلانگ لگا کر اسے بانہوں میں لے چکا تھا۔۔

پری زیب نے زور زور سے چلانا شروع کردیا۔۔۔

زین نے اسے چھوڑ دیا۔۔۔

اوکے چلو صلح کر لیتے ہیں اور باہر نکلتے ہیں یہاں سے۔۔۔زین نے کہا۔۔

میری تم سے لڑاٸی کب ہوٸی۔پری زیب نے حیرت بھرے لہجے میں پوچھا۔۔

اچھا ٹھیک ہے۔۔پھر دوست بن جاتے ہیں کچھ عرصے کیلٸے۔۔

کیوں بنو میں تمہاری دوست۔۔وہ ناک سکوڑ کر بولی۔

کیونکہ پھر ہم مل کراپنے دشمن کا مقابلہ کرینگے۔۔۔زین نے جھلا کر کہا۔۔

میں نہیں کوٸی دوستی کر رہی تم سے۔۔وہ تپ کر بول کر باہر نکلی۔

پھر وہ دونوں پورا فارم ہاٶس گھوم آۓ مگر انہیں کہیں بھی ایک دروازہ نہیں ملا۔۔

ایسا کیسے ہو سکتا کہ اتنے خوبصورت فارم ہاٶس کا کوٸی دروازہ ہی نہیں ہے، زین نے دھپ سے صوفے پہ بیٹھتے ہوۓ کہا۔

میں کیسے بتا سکتی ہوں۔وہ منہ بنا کر بولی۔۔

اب اٹھو۔اور کچھ کھانا وانا بنا لو۔زین نے کہا۔۔

تمہیں ایسا کیوں لگتا ہے کہ میں تمہارے لٸے کھانا بناٶں گی۔۔۔

کیونکہ بیوی کا فرض بنتا ہے۔۔

کونسی بیوی۔؟تم شاید بھول رہے ہو کہ ہم الگ ہونے والے ہیں۔۔وہ ناگواری سے بولی۔

اور تم بھی بھول رہی ہو کہ میں نے کہا تھا کہ میں تمہیں کبھی نہیں چھوڑوں گا۔زین نے طنزیہ انداز میں کہا۔۔

پری زیب نے غصے سے اسے گھورا اور کچن کیطرف آ گٸی۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ زین سر کدھر چلیں گے ہیں۔صفدر بڑبڑایا۔۔

پھر اسکی نظر گاڑی سے اترتی ثانیہ پہ پڑی۔وہ جلدی سے اسکی طرف بڑھا۔۔

وہ ابھی اسے آواز دینے والا ہی تھا کہ ثانیہ کا موباٸل بجا۔

ہاۓ میم۔ثانیہ نے کان موباٸل کو لگاتے ہوۓ کہا۔۔

دوسری طرف سے کچھ کہا گیا تو ثانیہ مسکرا دی۔۔

یس میم۔پری زیب ،زین میرے فارم ہاٶس میں آزادانہ گھوم پھر رہے ہیں اور کچن میں ہر طرح کا راشن ڈالوا دیا ہے۔۔ اور وہ چاہ کر بھی میری آزادانہ قید سے نہیں نکلیں گے۔۔ثانیہ نے مسکرا کر کہا۔۔

صفدر کے پیروں تلے سے زمین ہی نکل گٸی۔۔

تو میم ،سر کڈنیپ ہوۓ ہیں اور ثانیہ نے انہیں قید کیا ہے کیا۔؟مگر کیوں؟

پھر ثانیہ مڑی تو صفدر تیزی سے اوٹ میں ہو گیا۔۔

پھر ثانیہ گاڑی میں بیٹھ کر وہاں سے نکل گٸی۔۔

تم کون ہو ثانیہ۔۔؟ اگر پری زیب“زین کو اغوا کرنا ہی تھا تو انہیں بچایا کیوں تھا۔۔میں تمہارا اصلی چہرہ جان کر رہوں گا۔صفدر بڑبڑایا۔۔

پھر وہ اپنی باٸیک سٹارٹ کرکے ثانیہ کا پیچھا کرنے لگا۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پری زیب نے کچن میں آکر دیکھا تو ہر طرح کا سامان پڑا تھا۔۔

واہ۔۔بڑا اچھا کڈنیپر ہے۔وہ بڑبڑاٸی۔۔

پھر اس نے جلدی سے نوڈلز بناۓ ۔اطمینان سے کھاۓ اور برتن سمیٹ کر باہر نکل آٸی۔۔

تم تو کھانا بنانے گٸی تھی۔زین نے حیرت سے کہا۔۔

ہاں گٸی تھی۔اور بنایا بھی مگر صرف اپنے لٸے۔۔۔اطمینان بھرا جواب آیا۔۔

زین نے دانت پیس کر دیکھا۔اور ریمورٹ پکڑ کر چینل بدلنے لگا۔۔

پری زیب نے ناگواری سے اسے دیکھا اور پھرپیر پٹخ کر روم کیطرف بڑھ گٸی۔۔

کچھ دیر بعد زین اندر آیا تو وہ اسے حیرت سے دیکھنےلگی۔

تم کسی اور کمرے میں جاکر بھی تو سو سکتے ہو۔وہ جھلا کر بولی۔

محترمہ سب کمرے لاکڈ ہیں۔

تو باہر لاٶنج میں سو جاٶ۔وہ ناگواری سے بولی۔

کیوں سوٶوں باہر لاٶنج میں؟۔ہم کمرا پہلے بھی شیٸر کرتے تھے۔وہ تپا۔۔

مسٹر زین اب ہم بہت جلد الگ ہونے والے ہیں تو اس لٸے آج سے ہی الگ ہو جاٸیں یہی بہتر ہے۔۔۔

زین لب بھینچ کر اسے گھورے گیا۔پھر ایک جھٹکے سے مڑ کر کمرے سے باہر نکل گیا۔۔

پری زیب نے اسکے جانے کے بعد کمرا لاکڈ کیا اور اطمینان سے بیڈ پہ لیٹ گٸی۔۔ابھی اسے لیٹے کچھ دیر ہی ہوٸی تھی کہ اسے لگا کمرے کی کھڑکی کو کسی نے کھٹکھٹایا ہے۔وہ ہڑبڑا کر سیدھی ہوٸی اور جلدی سے ساٸیڈ دیوار پہ لگے سوٸچ بارڈ کے بٹن دبا کر لاٸیٹس آن کی۔۔

کک،کون ہے؟ وہ خوفزدہ لہجے میں بولی۔۔

اچانک زوردار غراہٹ سناٸی دی اور کھڑکی کے شیشے پہ پنجے دیکھاٸی دٸیے۔۔پری زیب کی چیخ نکل گٸی۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

زین پری زیب کی باتوں سے جھلا کر باہر لاٶنج میں تو آکر لیٹ گیا مگر ذہن اس دشمن جان میں ہی اٹکا تھا۔اس سے جداٸی کا سوچ کر وہ ایسے ہی مضطرب ہو جاتا تھا۔۔

پھر اس نے اپنا موباٸل کھولا اور پری زیب کی پکس نکال کر دیکھنے لگا۔۔

تم سمجھتی کیوں نہی ہو میری جان کہ کس قدر چاہتا ہوں تمہیں۔وہ سنگنگ شو میں ہم نے جو پل گزارے وہ آزاد کشمیر میں ہمارا ہنی مون اور وہ تمہارا اور میرا قرب میرے لٸے کتنی خوشیوں کا باعث ہے۔مگر تم نے اپنی فری آپی کیلٸے اپنی محبت کی قربانی دے دی۔مگر میں فری کیساتھ خوش نہیں رہ سکتا۔زین دل ہی دل میں شکوہ کناں ہوا۔۔۔

پھر وہ آنکھیں موند کر سونے کی کوشش کرنے لگا ہی تھا کہ ایک زوردار دار غراہٹ سناٸی دی اور ساتھ ہی پری زیب کی دلخراش سناٸی دی۔

زین گھبرا کر اٹھ کر کمرے کیطرف بھاگا۔۔

اور وہ دروازے پہ پہنچا ہی تھا کہ ساتھ ہی دروازہ کھلا اور پری زیب باہر نکلی۔اور اسکے چہرے کا رنگ زرد پڑا تھا۔وہ زین کو دیکھ کر تیزی سے اسکے گلے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رودی۔

زز۔زین،بب،باہر کوٸی ہے۔وہ روتے ہوۓ بولی۔

ششششش۔ٹاٸیگر ہے اور جنگل میں ٹاٸیگر تو ہوگا ہی نہ۔۔

زین کی بات پہ وہ متوحش نظروں سے اسے دیکھنے لگی۔۔۔

گھبراٶ نہیں۔۔وہ اندر نہیں آ پاۓ گا۔کیونکہ کھڑکیاں بہت ہی مضبوط لگی ہیں۔نہ باہر سے توڑی جا سکتی ہیں اور نہ اندر سے۔زین نے اسکا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لیکر کہا۔۔

تت۔تم۔تم سچ کہہ رہے ہو نہ۔وہ لب کاٹتے ہوۓ بولی۔۔۔

زین نے اثبات میں سر ہلادیا۔۔

چلو جاٶ جاکر آرام کرو۔زین نے کہا اور واپس مڑا۔۔

زین تم میرے پاس ہی کمرے میں سو جاٶ۔وہ جلدی سے بولی۔۔

زین کے چہرے پہ مسکراہٹ آگٸی جس کو ضبط کرکے وہ مڑ کر سنجیدگی سے اسے دیکھنے لگا۔جو کہ اپنی انگلیاں مڑور رہی تھی۔۔

لیکن ہمیں تو الگ رہنے کی عادت ڈالنی چاہیے نہ۔وہ سینے پہ ہاتھ باندھ کر بولا۔۔

پری زیب کی آنکھیں چھلک اٹھی۔

ٹھیک ہے مت سوٶ۔میں مینیج کرلوں گی۔وہ بےدردی سے آنکھیں صاف کرتے ہوۓ بولی۔۔

جھانسی کی رانی ہے پوری کی پوری۔ہو ہی نہیں سکتا کہ منت سماجت کر لے۔زین بڑبڑایا اور پھر اسکے پیچھے کمرے میں داخل ہو گیا۔۔

اور پری زیب نے لیٹ کر زور سے تکیہ بازوٶں میں دبوچ کر آنکھیں موند لی۔۔

زین کچھ دیر اسے دیکھتا رہا اور پھر ہولے سے اسکے قریب ہو کر اسے کندھے سے تھام کر اپنی طرف رخ کیا۔۔اور اسکے بالوں میں انگلیاں چلانے لگا۔۔کچھ دیر میں ہی وہ سو گٸی تھی اور زین اسے نظروں میں سموتے ہوۓ آنکھیں موند کر آٸندہ حالات کا سوچنے لگا۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

زین کی آنکھ کھلی تو پری زیب کمرے میں نہیں تھی۔۔وہ جلدی سے اٹھ کر بیٹھ گیا اور پھر کچھ دیر بعد پری زیب اندر داخل ہوٸی۔۔

کدھر تھی تم؟ زین نے پوچھا۔۔

بریک فاسٹ بنا رہی تھی۔جلدی سے منہ ہاتھ دھو کر باہر آ جاٶ۔وہ کہہ کر واپس مڑ گٸی۔۔

زین کے چہرے پہ مسکراہٹ آ گٸی۔۔

پھر وہ منہ ہاتھ دھو کر باہر نکلا تو پری زیب لاٶنج میں میز پہ ناشتے کی ٹرے رکھ کر بیٹھی تھی۔۔

زین بھی اسکے ساتھ جا کر بیٹھ گیا۔۔

ویسے آج یہ سورج کہاں سے نکلا کہ تم نے میرے لٸے بھی ناشتہ بنا لیا۔۔زین نے مسکرا کر پوچھا۔۔

فکر مت کرو اگر ناشتہ میں نے بنایا ہے تو کچن تم ہی صاف کرو گے۔۔

لڑکی شرم کرو۔۔شوہر سے برتن دھلواٶ گی۔۔زین نے شرارت بھرے انداز میں کہا۔۔

کیوں شوہر کو سرخاب کے پر لگے ہوتے ہیں کہ وہ برتن نہیں دھو سکتا اور ہاں برتن دھو کر صفاٸی بھی کرنی ہے مجھ سے ڈسٹ برداشت نہیں ہوتی۔وہ تنک کر بولی۔۔

جو حکم ملکہ عالیہ۔۔۔۔زین نے سینے پہ ہاتھ رکھ کر کہا۔۔

پری زیب نے ہونہہ کرکے رخ پھیر لیا۔

پھر ناشتے سے فارغ ہوکر زین نے ناشتے کے برتن اٹھاۓ اور کچن میں گیا تو صاف ستھرا کچن دیکھ کر اسکے چہرے پہ مسکراہٹ آ گٸی۔۔

جھانسی کی رانی کا پتا تھا مجھے کہ ناشتہ بنانے سے پہلے رگڑ رگڑ کر کچن صاف کیا ہوگا۔اور وہی ہوا صاف ستھرا کچن اور بس چند برتن ہیں جو اب مجھے دھونے ہیں۔زین بڑبڑایا۔۔

پھر کچن صاف کرکے زین نے پری کیساتھ ملکر سب صاف ستھراٸی کی اور پھر لاٶنج میں آکر بیٹھ گٸے۔۔

زین ہمیں کوٸی نہ کوٸی باہر جانے کا راستہ ڈھونڈنا ہوگا ہم کب تک یہیں رہیں گے۔پری زیب نے لب کاٹتے ہوۓ کہا۔۔

میرا تو دل کرتا کہ کبھی راستہ نہ ملے اور ہم یونہی زندگی گزارے ایک ساتھ۔زین نے اسے آنکھوں کے حصار میں لیتے ہوۓ کہا۔۔

اوووووہ رٸیلی۔۔اور اگر ہم بیمار ہوۓ تو دواٸی کہاں سے لیں گے اور یہ جو راشن پانی ہے اور کتنے دن چلے گا۔۔وہ تپی۔۔

یار مزاق کر رہا ہوں۔۔

مجھے زہر لگتے ہیں ایسے مزاق۔۔وہ تپ کر بولی۔۔

مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ آخر ہمیں کڈنیپ کس نے کیا اور پھر ابھی تک کوٸی ملنے بھی نہیں آیا اور یہاں تک کہ ہمیں اس گھر سے نکلنے کا کوٸی دروازہ بھی نہیں مل رہا۔لیکن ہمیں کہیں نہ کہیں سے تو اندر داخل کیا ہے اور وہی ہمیں ڈھونڈنا ہے۔۔زین نے سنجیدگی سےکہا۔۔

پری زیب اسکی بات پہ چونکی۔

زین کہیں یہ انڈر گراٶنڈ بلڈنگ تو نہیں ہے۔۔

پاگل ہوکیا۔۔انڈرگراٶنڈ ہو تو جنگل اور چاند تارے کیسے نظر آۓ۔مگر ہاں راستہ انڈرگراٶنڈ ضرور ہو سکتا ہے۔۔۔اوووہ ماٸی گاڈ یہ میرے ذہن میں پہلے کیوں نہیں آیا کہ راستہ انڈرگراٶنڈ ہو سکتا ہے۔۔زین بولتے بولتے پرجوش انداز میں بولا۔۔

مطلب زمین کے نیچے سے کوٸی سرنگ باہر نکلتی ہو گی۔پری زیب نے آنکھیں پھیلا کر کہا۔۔۔

یس ماٸی لو۔۔زین نے اثبات میں سر ہلا دیا۔۔

تو ہم اس سرنگ کو کیسے ڈھونڈے گٸے۔۔؟

ہم ان کمروں میں ڈھونڈے گٸے سرنگ۔کیونکہ یہ بند کمروں کے پیچھے یا تو دروازہ ہوگا یا کوٸی سرنگ۔زین نے کہا۔۔

پری زیب کے چہرے پہ جیسے خوشی کی لہر دوڑ گٸی تھی۔۔

زین پھر چلیں ہم ان کمروں کے دروازے توڑتے ہیں۔۔

زین نے اثبات میں سر ہلا دیا۔۔

بس ہمیں کوٸی ہتھوڑا مل جاۓ تو ہم ان دیوہیکل ساٸز کے تالوں کو توڑ سکتے ہیں۔زین نے کہا۔

ہتھوڑا تو نہیں مگر کچن میں ہتھوڑی دیکھی میں نے۔پری زیب نے کہا اور پھر جلدی سے اٹھ کر کچن سے ہتھوڑی لے آٸی۔۔

زین نے جلدی سے ہتھوڑی لی اور ایک دروازے کیطرف بڑھا کافی ضربوں کے بعد وہ تالا ٹوٹا تو پری زیب نے پسینے میں شرابور زین کو دیکھا۔۔

نیکسٹ تالا میں توڑوں گی۔پری زیب نے کہا۔۔

زین نے چونک کر اسے دیکھا۔۔

پری میری جان ایسا نہیں ہو سکتا کیونکہ اسکے لٸے بہت جان لگانی پڑے گی۔۔زین نے سر جھٹک کرکہا۔۔

اور آپکو کیا لگتا ہے میری اندر جان نہیں ہے؟ وہ کمر پہ ہاتھ رکھ کر پوچھنے لگی۔۔

زین نے اسکی کمر میں ہاتھ ڈال کر خود کے قریب کیا۔۔

شوہر جانتی ہوں ایک ڈھال ہوتا ہے۔تمہاری اندر بہت جان ہے جانتا ہوں۔تم میری بہادر پری ہو مگر تمہیں زرا سی رگڑ بھی لگے گی تو میرے دل پہ ضرب لگے گی۔۔زین نے اسکے رخسار پہ اپنا ہاتھ پھیرتے ہوۓ کہا۔۔

پری زیب کو اپنا وجود اسکے مسحورکن انداز پہ پگھلتا محسوس ہوا۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اور جو مجھے آپ کے وجود سے اس نکلتے پسینے سے ضربیں لگ رہیں۔۔پری زیب مدہوش ہوکر بولی۔۔۔

زین نے اپنے لب اسکے ماتھےپہ رکھ دٸیے۔۔۔

میری جان شوہر کا پسینہ اگر اپنی بیوی کے تحفظ کیلٸے نکلے تو یہ خوش قسمتی ہے شوہر کی کہ اللہ نے اسے اعزاز بخشا کہ وہ اپنی بیوی کی خوشی کیلٸے یہ پسینہ بہا رہا۔۔اور تم پری زیب میرے اندر خون کیطرح دوڑتی ہو اور یہ پسینہ جو نکلا یہ ایک بدگمانی تھی جو کہ نکل گٸی۔میں تم سے بہتت پیار کرتا ہوں۔میں نے مام کا غصہ تم پہ نکالا کیونکہ میں اس وقت ٹوٹ گیا تھا اسکے لٸے تم مجھے جو سزا دو گی مجھے قبول ہو گی۔مگر حقیقت یہی ہے کہ میں تم سے بہت محبت کرتا ہوں۔۔زین نے اسکا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لیکر کہا۔۔

پری زیب کے آنکھوں سے آنسو پھسل کر اسکے رخسار پہ بہہ گٸے۔۔

کیوں کرتے ہو پیار۔۔؟ اور تم نے سوچا کہ فری آپی کا کیا ہوگا؟پھر سے ٹوٹ جاٸیں گی۔۔پری زیب نے کہا

میری جان وہ پہلے ہی ٹوٹ چکی ہے وہ احمر سے جداٸی کا سوچ کر ہی مر گٸی ہے مگر وہ کہہ نہیں پارہی اور مجھے اور اسے تم دونوں پہ بہت غصہ تھا کہ کیسے سوچ لیا کہ تم دونوں ہم سے الگ ہو جاٶ گے تو ہم خوش رہیں گے۔ہم دونوں نے حقیقی خوشی تم دونوں سے پاٸی ہے۔زین نے کہا۔۔

پری زیب بےیقینی سے اسے دیکھنے لگی۔۔

زین مطلب فری آپی میرے بھیا سے محبت کرتی ہیں۔۔وہ کانپتے لبوں سے بولی۔۔

زین نے اثبات میں سر ہلا دیا۔۔

پری زیب خوشی سے رودی۔۔

زین تم نے یہ سب پہلے کیوں نہیں بتایا۔۔

غصہ اور انا میں آکر بس آپہ کھو بیٹھا تھا۔۔زین نے کہا۔۔۔

تم بہت برے ہو۔۔پری زیب نے اسکے سینے پہ مکے مارتے ہوۓ کہا۔اور پھر اسکے سینے پہ سر ٹکا دیا۔۔

زین نے سرشار ہوکر اسے خود میں بھینچ لیا ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ناٸلہ آفندی نے گاڑی ایک ریسٹورنٹ کے سامنے روکی اور پھر گاڑی سے نکل کر تیزی سے اندر کیطرف بڑھی۔۔

ہاۓ ثانیہ۔۔ناٸلہ آفندی نے ایک میز کےپاس جاکر کہا جہاں ثانیہ پہلے سے موجود تھی۔

آپ نے اتنا ارجنٹ کیوں بلوایا میم۔۔۔؟

ثانیہ پری زیب اور زین کے بارے میں سب کو کچھ پتا چلے مجھے فاریہ اور احمر کی شادی کروانی ہوگی تو میں آج پروفیسر جمال قریشی صاحب سے ملنے جا رہی ہوں اور انہیں سب کچھ بتانا پڑے گا کہ پری زیب اور احمر فاریہ اور زین کی شادی کروانا چاہتے ہیں تو اپنی بیٹی کا گھر ٹوٹنے سے بچانے کیلٸے وہ فاریہ اور احمر کی شادی فورا کروادیں گے۔۔ناٸلہ آفندی نے کہا۔۔

بالکل ٹھیک فیصلہ کیا آپ نے میم۔۔۔؟

ٹھیک ہے میں جمال قریشی صاحب سے بات کرکے پھر تمہیں بتاتی ہوں کہ آگے کیا کرنا ہے۔۔ناٸلہ آفندی نے کہا اور پھر واپسی کیلٸے باہر کیطرف چل پڑی۔اور کچھ دیر بعد ثانیہ بھی باہر نکل کر اپنی گاڑی کیطرف بڑھ گٸی۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفدر دو دن سے ثانیہ کے پیچھے لگا تھا کہ اسکے ذریعے وہ پری زیب اور زین تک پہنچ سکے مگر ثانیہ تو نجانے گھر سے کون کون سے ہوٹل میں جاتی رہتی تھی۔اب بھی صفدر اسکا پیچھا کرتا ایک ہوٹل میں پہنچا تھا۔اور باہر کھڑے ہوکر وہ اسکے باہر نکلنے کا انتظار کرنے لگا۔۔۔

مگر کچھ دیر بعد ناٸلہ آفندی بھی اس ہوٹل میں آٸی اور پھر کچھ دیر بعد وہ واپس نکلی اور انکے پیچھے ہی ثانیہ بھی باہر نکلی تو صفدر چونک گیا۔۔۔

اوووووہ گاڈ،یہ لڑکی کہیں میم سے پیسوں کو مطالبہ تو نہیں کر رہی۔۔صفدر بڑبڑایا۔۔

پھر صفدر نے گاڑی ثانیہ کے پیچھے لگادی۔۔

تم نے اگر میم اور سر کو کڈنیپ کرنے کی غلطی کی ہے تو اسکی سزا میں تمہیں بہت بری دونگا۔صفدر نے غرا کر کہا اور پھر ثانیہ نے گاڑی اپنے اپارٹمنٹ کے سامنے روکی اور اندر کیطرف بڑھ گٸی۔۔۔

صفدر نے بھی گاڑی پارک کی اور تیزی سے اسکے پیچھے آیا۔اور بیل دی اور کچھ دیر بعد ثانیہ نے دروازہ کھولا تو صفدر کو دیکھ کر چونکی۔۔

ہاۓ ثانیہ۔۔صفدر نے مسکرا کر کہا۔۔

تم۔۔۔خیریت تھی۔۔ثانیہ نے لب کاٹتے ہوۓ پوچھا۔۔

صفدر ایک جھٹکے سے اسکی طرف مڑا اور گردن سے پکڑ کر اسے دیوار کیساتھ لگایا۔

زین سر اور پری میم کو کدھر رکھاہے تم نے؟ صفدر نے غرا کر پوچھا۔۔۔

ثانیہ نے اپنی ٹانگ اٹھا کر زور سے اسے کک لگاٸی صفدر کراہ کر پیچھے ہٹا۔

تیری ہمت کیسے ہوٸی مجھے ہاتھ لگانے کی۔۔ثانیہ تیزی سے اس پہ جھپٹی دوسرے پل صفدر کے پیٹ میں اسکا مکا لگا۔صفدر درد سے دوہرا ہوگیا۔۔۔

پھر صفدر نے اسکی کمر میں ہاتھ ڈال کر اٹھا کر اسے زور سے پٹخا تو وہ جاکر میز کے اوپر گری اور اسکے سر سے تیزی سے خون بہنے لگا۔

خون دیکھ کر صفدر کے دل کو کچھ ہوا مگر پھر وہ تیزی سے اس پہ جھپٹا اور اٹھا کر تیزی سے اسے صوفے پہ پٹخا اور پیچھے سے اسکے بال مٹھی میں جکڑ کر اسکا چہرہ اوپر کیا۔

بتاٶ مجھے سر اور میم کو کڈنیپ کرکے تم نے کہاں رکھا ہے؟

تم۔تم تو محبت کے دعوے دار تھے نہ تو آج مجھے تم درد دے رہے ہو۔۔کہیں بدلہ تو نہیں لے رہے اپنے ٹھکرانے کا۔وہ طنزیہ انداز میں بولی۔۔۔

محبت پہ ہمیشہ فرض کو فوقیت دی ہے میں نے۔اور اگر فرض کیلٸے مجھے تمہاری جان بھی لینی پڑی تو لے لونگا۔۔۔صفدر غرا کر بولا۔۔

تم جو مرضی کر لو صفدر شاہ مگر تم مجھ سے اگلوا نہیں پاٶ گے کہ زین اور پری زیب کدھر ہیں۔۔ثانیہ نفرت سے بولی۔۔

صفدر نے ایک زوردار تھپڑ مارا وہ لڑکھڑا کر پیچھے الٹ گٸی اور سر زور سے زمین پہ لگا اور وہ ہوش و حواس سے بیگانہ ہو گٸی۔۔

صفدر نے لب کاٹتے ہوۓ اسے دیکھا اور پھر تیزی سے اسے اٹھا کر کرسی پہ بیٹھا کر اندر کمرے سے رسی اور فرسٹ ایڈ باکس نکال کر لے آیا۔۔

پٹی کرکے وہ فارغ ہی ہوا تھا کہ پاس رکھا ثانیہ کا موباٸل بجنے لگا۔۔

صفدر نے جلدی سے فون اٹھا کر کان کو لگایا۔۔

ہاۓ آپی۔۔ہانیہ بات کر رہی ہوں اور میں صبح کی فلاٸٹ سے پاکستان پہنچ رہی ہوں۔دوسری طرف سے ایک لڑکی پرجوش انداز میں بولی۔۔

صفدر نے چونک کر ثانیہ کو دیکھا اور پھر اسکی نظر سامنے ٹیبل پہ رکھی ایک تصویر پہ پڑی جس میں ثانیہ کیساتھ ایک لڑکی تھی۔۔

اووووہ۔۔۔تو یہ ہے ہانیہ۔۔تم سے اب کیسےاگلوانا ہے ثانیہ یہ اب میں جانتا ہوں۔صفدر ثانیہ کو دیکھ کر بڑبڑایا۔۔اور پھر اسکا ناک اور منہ بند کرکے اسے ہوش میں لانے لگا۔۔

ثانیہ نے کراہ کر آنکھ کھولی اور پھر خود کو بندھا دیکھ کر وہ صفدر کو گھورنے لگی۔۔

تمہیں کیا لگتا ہے کہ تم مجھ پہ تشدد کرو گے تو میں تمہیں سب بتا دونگی،میرا نام ثانیہ ہے ثانیہ۔۔جب تک میں نہ چاہوں تب تک کوٸی مجھ سے کچھ بھی نہیں اگلوا سکتا۔۔وہ غرا کر بولی۔

میری جان من۔۔تم خود مرضی سے ہی بولوں گی بلکہ فرفر بولوں گی۔۔صفدر نے مسکرا کر کہا۔۔

بہت خوش فہمی ہیں تمہیں۔۔وہ تڑخ کر بولی۔۔

وہ طنزیہ انداز میں سرہلا کر مسکرایا۔۔۔

میری جان کل تمہاری جان ابراڈ سے واپس آ رہی ہے اور تم یہاں بندھی ہو تو لگتا مجھے ہی اسے پک کرنا پڑے گا۔۔

ثانیہ کا رنگ زرد پڑ گیا۔۔

تت۔تم میری ہانیہ کو کوٸی نقصان نہیں پہنچاٶ گے۔وہ چیخ کر بولی۔

میں نے کب کہا کہ نقصان پہنچاٶں گا۔بس کڈنیپ کرونگا اور سر اور میم کے بدلے میں پھر اسے تمہارے حوالے کرونگا۔۔۔وہ اطمینان سے بولا۔۔

صفدر وہ دونوں محفوظ ہیں اور پلیز یہ بات میم ناٸلہ بھی جانتی ہیں۔مگر میرے دشمن میرے غیر موجودگی کا فاٸدہ اٹھا کر میری بہن کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔۔وہ تڑپ کر بولی۔

تم ابھی اور اسی وقت مجھے انکے پاس لیکر جا رہی ہو ورنہ میرے آدمی تمہارے بہن کو اٹھا کر لے جاٸیں گے۔۔صفدر نے دھمکایا۔۔

ٹھیک ہے تم جیسا کہو گے ویسے ہی کرونگی۔۔وہ جلدی سے بولی۔۔

صفدر نے جلدی سے اسکے ہاتھ باندھ کر اس پہ چادر اڑاٸی اور اسکی پیٹھ پہ پستول رکھ کر اسے باہر لے آیا۔۔۔

پھر گاڑی میں بیٹھا کر وہ خود ڈراٸیونگ کرنے لگا۔۔کچھ ایک گھنٹے بعد وہ اس جنگل کے بیچوں بیچ شیشش محل جیسی بنی حویلی کے سامنے تھے۔۔

پھر ثانیہ نے ایک جگہ سے ڈھکن اٹھایا اور سرنگ میں داخل ہونے کو کہا۔اور پھر وہ سرنگ کے بیچ میں ہی تھے جب انہیں زوردار کھٹکے کی آواز آٸی اور ساتھ ہی سامنے دروازہ توڑنے کی آواز آنے لگی۔۔

یہ۔یہ کیا ہو رہا ہے۔وہ گھبرا کر بولی۔

صفدر بھی حیرت سے دیکھنے لگا اور پھر تیزی سے دروازے کیطرف بڑھا۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

زین وہ سامنے دیکھو۔۔۔زین جو کہ ایک اور تالا توڑ رہا تھا اسکی بات پہ چونک کر سامنے دیکھنے لگا۔۔

زین دیکھو،یہ دروازہ اس پہ لاک باہر سے نہیں بلکہ اندر سے ہے۔مطلب راستہ ادھر سے ہی ہوگا۔۔وہ پرجوش لہجے میں بولی۔۔

ارے ہاں۔۔میں بھی کتنا بیوقوف ہوں۔یہ نہیں سمجھ سکا کہ جو کوٸی ہمیں چھوڑ کر گیا یہاں وہ واپس جاتا تو ادھر سے تالا لگاتا۔زین نے سر پہ ہاتھ مار کر کہا۔۔اور پھر وہ تیزی دروازے کو اپنے کندھے مار مار کر توڑنے کی کوشش کرنے لگا۔

پھر کچھ دیر وہ سستانے کیلٸے بیٹھا گیا اور پھر اٹھ کر ہتھوڑی سے زور زور سے ضربیں لگانے لگا۔

زین سر۔۔۔۔ابھی وہ ضربیں لگا ہی رہا تھا کہ اسے آواز سناٸی دی۔زین نے چونک کر ہاتھ روکا۔۔

مجھے لگتا ادھر کوٸی ہے۔زین نے پری سے کہا۔۔

زین سر کیا آپ ادھر موجود ہیں۔۔صفدر کی آواز سناٸی دی۔

ارے یہ تو صفدر بھاٸی کی آواز ہے۔پری زیب نے پرجوش لہجے میں کہا۔

صفدر۔۔میں اور پری ادھر ہی ہیں۔زین نے چلا کر کہا۔

بس سر ویٹ کریں میں دروازہ کھولتا ہوں۔صفدر نے کہا۔۔

زین اور پری تھوڑے فاصلے پہ کھڑے ہو گٸے اور کچھ پل بعد ٹک کی آواز آٸی اور دروازہ کھلتا چلا گیا۔اور دروازہ کھلتے ہی صفدر اور ثانیہ دیکھاٸی دٸیے۔۔

وااااٶ ماشاءاللہ،،،کیا بونڈنگ ہیں۔ہمیشہ تم دونوں ہمیں بچانے کیلٸے آ ہی جاتے ہو۔۔زین نےکہا اور صفدر کے گلے لگ گیا۔۔

پری زیب بھی جلدی سے آگے بڑھ کر ثانیہ کے گلے لگنے لگی تو صفدر نے اسکے سامنے کھڑا ہوگیا۔۔

کیا ہوا صفدر بھاٸی؟

پری میم۔آپ کو کڈنیپ کرنے والی ثانیہ ہی تھی۔صفدر نے کہا۔

زین اور پری زیب بےیقینی سے اسے دیکھنے لگے۔۔

ثانیہ نے کرب سے آنکھیں بند کر لی۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *