Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mein Kese Kahun by Umme Emman Fatima

آج بھی زین آفندی معمول کے مطابق یونیورسٹی آیاتھا اور کلاسسز لینے کے بعد وہ اپنے معمول کے مطابق گھر جانے کیلٸےنکل ہی رہا تھا کہ گیٹ کے پاس اسکا کسی کیساتھ تصادم ہوا۔۔
وہ اگنور کرکے آگے بڑھنے ہی والا تھا کہ پیچھے سے ایک لڑکی نے انتہاٸی بدتمیزی سے مخاطب کیا۔۔اسکی براٶن آنکھوں میں ناگواری اور غصے کی سرخی دوڑ گٸی۔وہ ایک جھٹکے سے مڑا اور اسے لہو رنگ آنکھوں سے گھورنے لگا اور پھر مضبوط قدموں کیساتھ چلتا ہوا اسکے سامنے آکر کھڑا ہوگیا۔۔
"تم جیسی یہاں نیچ لڑکیاں روز مجھے متوجہ کرنے کیلٸے مجھ سے جان بوجھ کر ٹکراتی ہیں۔۔مگر تم تو بڑی ہی تیز نکلی جب ٹکراٶ سے میری طرف سے رسپانس نہیں آیا تو مجھے پیچھے سے آواز دے دی“زین نے پاس جا کر طنزیہ انداز میں کہا۔۔
وہ لڑکی طنزیہ انداز میں مسکراٸی۔۔
"واہ واہ “کیا خوش فہمی ہے تمہیں“سیریٸسلی تمہیں لگتا کہ میں تمہاری توجہ حاصل کرنا چاہتی ہوں“تم میں ایسا کیا ہےکہ میں تمہاری توجہ حاصل کرنا چاہوں گی ۔"تم کوٸی سلمان خان،یا شاہ رخ ہو کیا،اور تم جیسوں کی پروا میری جوتی بھی نہیں کرتی۔وہ اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولی۔
زین غصے سے کھول کر رہا گیا۔۔۔
تمہأری۔۔۔ تمہاری ہمت کیسے ہوٸی مجھ سےاس طرح بات کرنے کی۔زین دھاڑا۔۔۔
"اگر بولنے کی ہمت رکھتے تو سننے کی بھی ہمت رکھا کریں مسٹر؟“وہ طنزیہ انداز میں بولی۔۔۔
تمہارا نام کیا ہے؟ زین نے خشک لہجے میٍں پوچھا۔۔
کیوں ؟ یونیورسٹی سے نکالنا کیا؟یا پھر اپنی ماما کو لیکر آنا ہے میری شکایت کرنے۔۔۔وہ استھہزاٸیہ لہجے میں بولی۔
"کسی بھول میں مت رہنا“میرے صرف ایک اشارے کی دیر ہے تم اس یونیورسٹی سے باہر ہونگی“زین نے چبھتے ہوۓ لہجے میں کہا۔۔۔۔
"اللہ اللہ“کتنے عجیب ہو تم اور تھوڑے بیوقوف بھی“چلو خیر بتا دیتی ہوں تمہیں نام۔۔میرا نام پری زیب قریشی ہے۔۔۔جاٶ جو کرنا کر لو۔۔“وہ دل جلانے والے انداز میں کہہ کر وہاں سے آگے بڑھ گٸ۔۔
زین کا دماغ غصے سے پھٹنے والا ہو گیا تھا۔۔وہ اپنی کار کیطرف بڑھا اور آندھی طوفان کیطرح کار اوڑاتا گھر پہنچا۔اور اپنے کمرے کیطرف بڑھ گیا۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *