Mein Kese Kahun by Umme Emman Fatima NovelR50540 Mein Kese Kahun (Episode 06)
Rate this Novel
Mein Kese Kahun (Episode 06)
Mein Kese Kahun by Umme Emman Fatima
پری زیب اور زین کینٹین سے نکل کر باہر آ گٸے۔۔
آج موسم بہت پیارا ہے۔۔پری زیب نے کہا۔۔
ہوووں۔لگتا بارش ہو گی بہت زوروں سے۔زین نے کہا۔۔
کیوں نہ کلاس بنک کی جاۓ اور موسم انجواۓ کیا جاۓ۔پری زیب نے کہا۔۔
آٸیڈیا برا تو نہیں ہے۔چلو پھر نکلتے ہیں یونیورسٹی سے۔۔زین نے کہا۔۔
آپ بھی اپنی چیزیں لے لو تب تک میں بھی اپنی چیزیں کلاس روم سے لیکر آتی ہوں۔۔پری زیب نے کہا تو زین سر ہلا کر اپنی کلاس کیطرف بڑھ گیا۔۔اور پری زیب اپنی کلاس کیطرف بڑھ گٸی۔۔
کچھ ٹاٸم بعد پری زیب واپس آٸی تو زین کار سے ٹیک لگاۓ کھڑا تھا۔۔
توبہ تم لڑکیاں نجانے اتنی سست کیوں ہوتی ہو،اتنا ٹاٸم لگادیا۔۔زین اسکےپاس آتے ہی بھنا کر بولا۔۔
لڑکیوں کا ہر چیز میں لڑکوں کو انتظار کروانا بھی انکی ایک ادا ہوتی ہے۔وہ اٹھلا کر بولی۔۔
ادا،اللہ ہی بچاۓ آپکی ان اداٶں سے۔۔زین نے کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوۓ کہا۔۔
پھر وہ دونوں گاڑی میں بیٹھ کر ابھی کچھ دور ہی گٸے تھے کہ یک دم موسلادھار بارش شروع ہو گٸی۔۔
زین گاڑی روکیں۔۔پری زیب نے کہا۔۔
کیوں۔۔۔۔۔۔۔؟زین نے حیرت سے پوچھا۔۔
پلیز مجھے بارش میں نہانا ہے۔وہ جلدی سے بولی۔۔
ارے اتنی تیز بارش ہے اور تمہیں اس میں نہانا ہے۔۔زین نے حیرت سے کہا۔۔
کچھ نہیں پتا آپکو کہ یہ بارش کتنی رومینٹک ہوتی ہے۔کبھی سڑک کےبیچوں بیچ بازو پھیلا کر اور آنکھیں بند کرکے بارش کا استقبال کرو۔۔دیکھنا کتنا مزا آتا۔۔وہ آنکھیں میچ کر بولی۔۔۔
محترمہ لگتا تم مووی بہت دیکھتی ہو۔۔؟ زین نے مسکرا کر کہا۔۔۔۔۔
ہاں تو پھر کیا ہوا ،مووی دیکھنے کیلٸے ہی بنتی ہیں۔۔پتا ہے لاسٹ ایٸر جب فری آپی آٸی تھی تو میں اور وہ بازار گٸی تو بارش شروع ہو گٸی۔تو ہم نے سڑک کے بیچ کھڑے ہوکر بارش کا استقبال کیا۔وہ بولی
اچھا اچھا بس،جاٶ جا کر انجواۓ کرو۔۔کیونکہ سڑک پہ ابھی سناٹا ہے۔۔زین نے ہاتھ جوڑ کر کہا۔۔۔
پری زیب جلدی سے باہر نکل گٸی۔۔اور اپنے بالوں سے جوڑا پن نکالنے لگی۔۔ اور وہ ہمیشہ بالوں کو ہلکے سےجوڑے میں ہی باندھتی تھی۔۔
جوڑا کھلتے ہی اسکے سلکی بال اسکی پشت پہ بکھر گٸے۔پھر وہ آنکھیں بند کر کے بارش میں بازو پھیلا کر کھڑے ہو گٸی۔۔
زین مبہوت سا اس حسن کی ملکہ کو دیکھ رہا تھا۔بلاشبہ وہ سوہنی سے بھی بہت خوبصورت تھی۔۔
زین کے دل کی دھڑکنیں تھم سی گٸی تھی۔وہ بنا پلکیں جھپکے اسے دیکھ رہا تھا۔
۔۔
کھلتی ہوٸی کوٸی کلی ہو۔
کوٸی آسمان سے اتری حور ہو
یا پھر پرستان کی کوٸی پری ہو۔۔
میں کیسے کہوں اے جاناں۔۔
تم اتنی خوبصورت ہو۔
۔
کوٸی مہتاب کی پہلی کرن ہو۔۔
کوٸی چلتی ہوٸی پاون ہو۔
کوٸی برستا ہوا ساون ہو۔
میں کیسے کہوں اے جاناں
تم اتنی خوبصورت ہو۔۔۔۔
بادل کے زور سے کڑکنے پہ اسکا تسلسل ٹوٹا۔۔
وہ چونک کر پری زیب کو دیکھنے لگا جو دوڑتی ہوٸی واپس گاڑی میں آ گٸی۔۔
کیا ہوا ڈر گٸی تھی کیا۔؟زین نے پوچھا۔۔
اور کیا۔۔۔ اکیلے بارش میں بھیگنے کا کیا مزا،وہ منہ بنا کر بولی۔۔
زین کے چہرے پہ ہلکی سے مسکراہٹ آ گٸی۔۔
ویسے آپ مسکراتے ہوۓ کافی پیارے لگتے ہیں۔۔اس لٸے مسکراتے رہا کریں۔۔۔
پری زیب کی بات پہ زین کی مسکراہٹ غاٸب ہو گٸی۔۔
ارے آپ کی مسکراہٹ کی تعریف کی تھی اور آپ نے مسکراہٹ ہی غاٸب کردی۔۔پری زیب نے۔کہا۔۔
زین محض سر جھٹک کر رہ گیا۔۔پھر اس نے پری زیب کو گھر ڈراپ کرکے لاٸبریری کیطرف گاڑی موڑ لی۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات کے گیارہ بج رہے تھے۔زین کافی کا مگ تھامے گھپ اندھیرے میں نجانے کیا تلاش کر رہا تھا۔۔اسکی گہری براٶن آنکھیں ایک ہی جگہ ٹھہری تھی۔وہ مسلسل ایک جگہ ہی دیکھے جا رہا تھا کہ اچانک موباٸل کی بیپ پہ وہ چونک کر مڑا۔۔
اور ٹیبل پہ رکھا موباٸل اٹھا کر میسیج دیکھنے لگا جو کہ کسی انجان نمبر سے آیا تھا۔
ہاۓ زین ،کیا کر رہے ہو۔۔۔۔؟
کون ؟ زین نے پوچھا۔۔۔
ہو ہاۓ مجھے بھول بھی گٸے صبح ہی تو کینٹین میں سموسے کھاۓ پھر کلاس بنک کی۔دوسری طرف سے ریپلاٸی آیا۔۔
اووووہ پری زیب تم ہو۔۔اکچوٸلی تمہارا نمبر سیو نہیں تھا۔زین نے جواب دیا۔۔۔
شکر ہے پہچان لیا،پری زیب نے کہا۔۔۔
ہممممممم۔۔ورنہ تم نے میرا دماغ خراب کر دینا تھا۔۔زین نے جواب دیا۔۔
کیا کر رہے ہو۔۔۔؟
نتھنگ،کافی پی رہا ہوں۔۔اور تم کیا کر رہی ہو؟ زین نے پوچھا۔۔
واشروم میں بیٹھی ہوں۔۔مسکراہٹ والے ایموجی کیساتھ جواب آیا
زین کو کافی پیتے اچھو لگ گیا۔۔
کیا مزاق ہے پری زیب؟ زین نے کہا۔۔
ہو ہاۓ مزاق نہیں کر رہی میں،سچی میں واشروم میں ہوں۔۔
واٹ دا ہیل پری زیب،چھییییییی،تم واشروم میں موباٸل یوز کرتی ہو،زین نے جوابا کہا۔۔
ہاں تو پھر کیا ہوا،میں واشروم میں اتنی دیر بیٹھ کر بور ہو جاتی ہوں تواس لٸے پھر موباٸل ساتھ ہی لے جاتی ہوں،کوٸی مووی ،ڈرامہ دیکھ لیتی ہوں۔۔
اسکا میسیج پڑھ کر زین کے چہرے پہ مسکراہٹ آ گٸی۔۔
تم سچ میں بہت بڑی ڈرامہ ہو،زین نے جواب دیا۔۔۔
تھینک یو عزت ماآب زین آفندی صاحب۔۔آگے سے تپا ہوا اسکا بھی جواب آیا۔۔۔
تم واشروم کمپلیٹ کر لو“کیونکہ گندی لڑکی میں کافی پی رہا ہوں میرا دل خراب کر دیا تم نے۔۔زین نے کہا۔۔
واہ واہ ۔۔کیا کہنے آپ کے۔۔خود آپ امیروں کے تو چونچلے ہوتے بیڈ ٹی پینے کے۔جو کہ برش کٸے بغیر ہی پیتے ہو۔۔اور کموڈ پہ بیٹھ کراخبار پڑھتے ہو۔۔تو میں اگر واشروم میں بیٹھ کر موباٸل یوز کر لوں تو گندی۔۔۔یعنی امیر کرے تو ادا غریب کرے تو چونچلے۔۔
اور وہ محاورہ ہے ساڈا کتا کتا تے تہاڈا کتا ٹومی(ہمارا کتا کتا تمہارا کتا ٹومی)…پری زیب کا غصے والے ایموجی کیساتھ لمبا چوڑا ریپلاٸی آیا۔۔
زین کے حلق سے فلک شگاف قہقہ نکلا۔۔۔
تم ڈرامہ نہیں ہو تم پوری فلم ہو،۔۔اور واشروم کمپلیٹ کر لو۔خدا حافظ۔۔زین نے اسکو ریلپاٸی کرکے موباٸل ساٸیڈ پہ رکھ دیا۔۔۔
وہ مسکراتا ہوا اٹھا تو سامنے مرر میں خود کو دیکھ کر ٹھٹھکا۔اسے اپنی مسکراہٹ کچھ اجنبی سے لگی۔۔
وہ سالوں بعد آج قہقہ لگا کر ہنسا تھا۔۔
وہ تو صرف اپنی سوہنی کیلٸے ہنستا تھا۔۔
کیا ہوگیا ہے مجھے۔میں پری زیب کیساتھ اتنا ریلیکس فیل کر سکتا ہوں۔۔کیا مجھے پری زیب اچھی لگنے لگی ہے کیا۔۔وہ بڑبڑایا۔۔
اس نے آنکھیں بند کی تو چھم سے بارش میں بھیگتی پری زیب سامنے آ گٸی۔۔اس نے گھبرا کر جلدی سے آنکھیں کھولی۔اسکا دماغ جیسے ماٶف ہوگیا تھا ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہاۓ زین میں اندر آجاٶ۔۔وہ کمرے میں داخل ہوکر بولی۔۔
زین نے سر سے پاٶں تک دیکھا۔
تم اندر آ چکی ہو پری زیب۔زین نے گہرا سانس بھرتے ہوۓ اس سے کہا۔۔۔
اوووووہ اچھا۔۔آج کیا پلان ہے؟ پری زیب نے دھپ سے اسکے پاس بیٹھتے ہوۓ پوچھا۔۔۔
کوٸی پلان نہیں ہے۔وہ جھلا کر بولا۔۔
پلیز چلو نہ پھر سے کلاس بنک کرتے ہیں۔کیونکہ آج میری فری آپی آ رہی شام میں تو اس خوشی میں میرا ٹاٸم نہیں گزر رہا۔وہ جلدی سے بولی۔۔۔
یہ فری آپی کون ہے ویسے؟ زین نے گہرا سانس بھر کر کہا۔۔۔
میری سویٹ بھابھی کی چھوٹی بہن اور میرے چھوٹے بھیا کی ہونے والی بیگم۔۔پری زیب نے کہا۔۔۔
آہاں۔۔۔ویسے بھاٸیوں سے زیادہ تم بھابھیوں کے قریب ہو کیا؟ زین نے پوچھا۔۔
یس،بہت قریب۔۔۔۔وہ ساٸرہ بھابھی تو میری جان ہیں اور فری آپی کی میں جان ہوں۔وہ میری برتھ ڈے پہ پاکستان ضرور آتی ہیں چاہے ایک ہفتے کیلٸے ہی آٸیں۔وہ بہت پیار کرتی مجھ سے،وہ مسکرا کر بولی۔۔۔
واااہ۔کیا بات ہے۔۔پھر تو تمہاری بھابھیوں سے ملنا پڑے گا۔۔زین نے کہا۔۔
ہاں تو آپ ہمارے گھر آ جانا،کل میرا برتھ ڈے ہے۔وہ جلدی سے بولی۔۔
نہیں یار،پھر کبھی آٶں گا کل مجھے مام کیساتھ ایک ڈنر پہ جاناہے۔زین نے کہا۔۔
اوکے ،کوٸی بات نہیں میں پکس سینڈ کر دونگی۔۔پری زیب بولی۔
اب پلیز تم جاٶ۔کیونکہ مجھے بہت کام کرنا ہے۔۔زین نے کہا۔۔
اوکے۔۔وہ کہہ کر اٹھ کر باہر چلی آٸی۔۔
زین اطمینان کا سانس لیکر اپنی اساٸمنٹ کمپلیٹ کرنے میں مصروف ہو گیا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زین کار پارک کرکے یونیورسٹی میں داخل ہوا اور اپنے روم کیطرف بڑھ گیا۔
کمرے میں آکر وہ بوجھل دل کیساتھ اپنی جگہ پہ بیٹھ گیا۔۔
اتنے دنوں سے وہ جس سے چڑ رہا تھا کہ وہ صبح صبح پارکنگ میں ٹکرا جاتی ہے آج اسکو پارکنگ میں نہ پا کر وہ حیران بھی ہوا اور دس پندرہ منٹ ویٹ بھی کیا کہ وہ نظر آ جاۓ۔مگر وہ نہ آٸی تو اسکادل پہ جیسے بھاری بوجھ پڑ گیا۔۔
شاید اپنے مخصوص ٹاٸم پہ ادھر ہی آ جاۓ۔وہ بڑبڑایا۔۔
پھر سر جھٹک کر وہ کتاب کھول کر بیٹھ گیا۔۔
پھر سارے پیڑیڈز بھی کمپلیٹ ہو گٸے مگر پری زیب نہیں آٸی تو زین سر جھٹک کر گھر کیلٸے نکل گیا۔۔
گھر آکر وہ کمرے میں اکر تھکے تھکے انداز میں بیڈ پہ بیٹھ گیا۔۔
کہیں وہ مجھ سے ناراض تو نہیں ہو گٸی۔۔وہ لب کاٹتے ہوۓ سوچنے لگا۔۔
پھر باقی کا دن اسکا بےکیف سا ہی گزرا۔۔کٸی بار اس نے سوچا میسیج کر کے اسکا پوچھے مگر پھر انا بیچ میں آ گٸی۔۔
رات کو معمول کے مطابق وہ سونے کیلٸے لیٹ گیا۔۔کچھ دیر بعد موباٸل کی بیپ ہوٸی تو وہ جلدی سے اٹھ کر بیٹھ گیا۔۔
ہاۓ زین۔۔۔
ہاۓ پری زیب ،کدھر ہوتم آج؟ زین نے جلدی سے میسیج سینڈ کیا۔۔۔۔
بھلکڑ کہیں کے ،کل بتایا تو تھا کہ برتھ ڈے ہے آج میری۔۔دوسری طرف سے اس نے غصے والے ایموجی کیساتھ ریپلاٸی کیا۔۔۔
اووووہ ایم سو سوری پری زیب۔۔میرے ذہن سے ہی نکل گیا۔۔زین نے جواب دیا۔۔۔
اٹس اوکے۔اپنا واٹس ایپ چیک کرو پکس بھیجی ہیں میں نے اپنی بھابھیوں کیساتھ۔۔پری کا ریپلاٸی آیا۔۔
زین جلدی سے واٹس ایپ کھول کر دیکھنے لگا۔تصویر دیکھتے دیکھتے اسکے چہرے پہ گہرا سکوت تھا۔۔۔
کیسی لگی پکس۔؟ کچھ دیر بعد پری زیب کا میسیج آیا۔۔۔
ہوووں ،پیاری ہے۔۔۔زین نے جواب دیا۔۔
بس پیاری۔۔۔۔(۔
غصہ۔۔۔)….
بہت پیاری ہیں پری زیب۔۔۔اوکے اب مجھے صبح جلدی اٹھنا ہوتا شب خیر۔۔زین نے ریپلاٸی کیا۔اور موباٸل ساٸیڈ پہ رکھ کر چہرے پہ بازو رکھ کر لیٹ گیا۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا بات ہے ۔۔کس سے ہو رہی تھی بات؟فاریہ نے پری زیب سے پوچھا۔
ہے ایک ہینڈسم مغرور۔پری زیب نے کہا۔۔
آہاں۔۔اچھا لگتا کیا؟ فاریہ کی بات پہ پری زیب کے چہرے پہ قوس و قزاح کے رنگ بکھر گٸے تھے۔۔
فاریہ نے ماشاءاللہ کہہ کر اپنی نظریں ہٹا لیں۔۔۔
آپ کو ملواٶں گی نہ۔۔پری زیب نے کہا۔۔
فاریہ نےاثبات میں سرہلا دیا۔۔۔
آپ کتنے دنوں کیلٸے ہو یہاں۔؟ پری زیب نےپوچھا۔۔
میں کل ایبٹ آباد جا رہی ہوں چاچاکے ہاں شادی ہے سومیہ کی تو آپی تو جا نہیں پاٸیں گی مگر اب چاچا سے رشتےداری تو نبھانی ہوگی۔۔فاریہ نے جواب دیا۔
پری زیب نے اثبات میں سر ہلا دیا۔اور سونے کیلٸے لیٹ گٸی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پری زیب اپنی گروپ کی لڑکیوں کیساتھ کینٹین میں بیٹھی باتیں کر رہی تھی جبھی زین اسکے پاس کھڑا ہوگیا۔۔۔
ہاۓ زین“کھاٶ گے۔۔پری زیب نے پوچھا۔۔۔
میں گاڑی میں تمہارا ویٹ کر رہا ہوں“پلیز جلدی آ جانا۔۔وہ کہہ کر واپس مڑ گیا۔۔۔
ارے سنو تو۔۔۔پری زیب اسے آوازیں دیتی رہ گٸی۔پھر وہ جلدی سے کینٹین والے کو پیسے پکڑا کر بھاگتی ہوٸی یونیورسٹی سے باہر نکل آٸی۔۔
کیا ہوا زین؟ وہ گاڑی میں بیٹھتے ہانپتی ہوٸی بولی۔۔۔
کچھ نہیں کچھ ضروری بات کرنی تھی۔اس نے سنجیدہ لہجے میں کہہ کر گاڑی سٹارٹ کی۔۔
پورے راستے وہ سپاٹ چہرے کیساتھ ڈراٸیونگ کرتا رہا پھر گاڑی ایک عالیشان ریسٹورنٹ کے سامنے رکی۔۔۔
پری زیب نے چونک کر اسے دیکھا۔۔
وہ اسکا ہاتھ تھامے اندر داخل ہوا تو مینیجر جلدی سے اسکے پاس آیا۔۔
سر آپ کا ٹیبل سیکنڈ فلور پہ ہے۔۔۔منیجر نے کہا۔۔
زین اثبات میں سر ہلا کر پری زیب کا ہاتھ پکڑےسیکنڈ فلور پہ پہنچا۔۔
یہاں اتنا اندھیرا کیوں ہے؟ پری زیب نے حیرت سے پوچھا۔۔۔
لاٸٹس۔۔۔زین نے اونچی آواز میں کہا ہی تھا ساتھ ہی پورا ہال روشنیوں سے جگ مگ کرنے لگ گیا کہ پری زیب کی آنکھیں چندھیا گٸی۔۔
پھر پری زیب آنکھیں پھاڑے واٸٹ اور پنک غباروں۔۔پنک اور ریڈ گلابوں سےسجے اس مسحورکن ہال کو دیکھنے لگی۔۔
پھر اچانک اسکے اوپر پھولوں کی پتیوں کی برسات ہونے لگی۔۔
پری زیب کی آنکھوں میں خوشی کی لہر دوڑ گٸی۔۔
ہیپی برتھ ڈے ٹو یو“مینی مینی ہیپی ریٹرنز آف دا ڈے۔زین نے مسکرا کر کہا۔۔اور اسے لیکر ٹیبل پہ آ گیا۔
پھر پری زیب نے کیک کاٹا تو میوزک بجنے لگا تو زین نے گٹار تھام لیا اور وہ نصرت کی غزل گنگنانے لگا۔۔
غم ہے یا خوشی ہے تو
میری زندگی ہے تو
آفتوں کے دور میں
چین کی گھڑی ہے تو
میری رات کا چراغ
میری نیند بھی ہے تو
میں خزاں کی شام ہوں
رت بہار کی ہے تو
دوستوں کے درمیاں
و جئہ دوستی ہے تو
میری ساری عمر میں
ایک ہی کمی ہے تو
میں تو وہ نہیں رہا
ہاں مگر وہی ہے تو
ناصر اس دیار میں
کتنا اجنبی ہے تو۔۔۔
غم ہے یا خوشی ہے تو
میری زندگی ہے تو۔۔
غزل ختم ہو گٸی تھی مگر پری زیب ابھی تک اس سحرانگیز پل سے نہیں ابھری تھی۔۔
پھر زین اسکے پاس آکر گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا۔۔۔
ول یو میری می پری زیب۔۔۔وہ ڈاٸمنڈ رنگ اسکی طرف بڑھاتے ہوۓ بولا۔۔۔
پری زیب کا منہ حیرت سے کھل گیا۔۔۔
