Mein Kese Kahun by Umme Emman Fatima NovelR50540 Mein Kese Kahun (Episode 16,17)
Rate this Novel
Mein Kese Kahun (Episode 16,17)
Mein Kese Kahun by Umme Emman Fatima
پری زیب بے یقینی سے رخسار پہ ہاتھ رکھے دیکھ رہی تھی۔۔
ایک عورت کو جھکےہوٸی پھلدار درخت کیطرح ہونا چاہیے۔۔جس طرح وہ اتنے پھل دینے کے باوجود جھکا ہوتا ہے۔۔مگر تم نے پھل کیا دینا تمہاری تو آنکھوں کی حیا ہی ختم ہے۔شوہر تو انگاروں کے بستر پہ بھی لٹاۓ تو بھی عورت کو افففف نہیں کرنا چاہیے۔۔مگر ناٸلہ نے بہو بالکل اپنے جیسی ڈھونڈی۔بےشرم اور بےحیا۔۔ماسی نے ناگواری سے کہا۔۔
پری زیب رخسارپہ ہاتھ رکھے تیزی سے مڑی۔اور پھر زین کے پاس رک کر اسے شکوہ کناں آنکھوں سے دیکھا زین کے دل کی دھڑکن تھم سی گٸی تھی۔۔
اور پھر بھاگتی ہوٸی وہاں سے چلی گٸی۔۔
اور کمرے میں آکر وہ واشروم میں گھس گٸی۔اور شاور کھول کر اسکے نیچے بیٹھ گٸی۔۔
ٹھنڈے یخ پانی سے اسے اپنا جسم سن ہوتا محسوس ہوا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ناٸلہ آفندی جلدی سے پری زیب کے پیچھے جانے لگی تو ماسی جی نے ہاتھ پکژ کر روکا۔۔
بیٹھ جاٶ یہاں“کیونکہ اب تم میرے سوالوں کے جواب دوگی۔۔ماسی نے کہا۔۔
مجھے آپ کے کسی سوال کا جواب نہیں دینا۔یہ میرے گھر کا معاملہ ہے۔اور پری زیب کے ہر دکھ پہ میں آواز اٹھاٶں گی۔اور اپنے بیٹے کے خلاف جاکر اسکا ساتھ دونگی۔۔کیونکہ برباد میرا بیٹا نہیں وہ بچی ہوٸی ہے۔کیونکہ زین نے اس بچی سے اپنے جھوٹے پیار کا جھانسا دیکر شادی کی۔کیونکہ زین جس لڑکی سے پہلے پیار کرتا تھا۔یہ اسکی منہ بولی بہن ہے۔۔اور غلطی میرا بیٹا کرے اور سزا میں بہو کو دوں۔ایم سوری ماسی جی میں کبھی بےانصافی نہیں کرتی۔۔اور سچ کہا آپ نے کہ میری بہو میرے جیسی ہے۔
کبھی جھوٹ کے آگے نہ جھکنے والی نہ ٹوٹنے والی۔
میں ہمیشہ آپکی کڑوی باتیں برداشت کرتی ہوں۔مگر زبیر صاحب کی محبت میں مجھے آپکی یہ باتیں کوٸی دکھ نہیں دیتی۔مگرپری زیب کا تو شوہر بھی اسکا نہیں تو وہ کیوں آپکی کڑوی کسیلی سنے۔۔ناٸلہ آفندی بولتی چلی گٸی۔
دیکھ رہے ہو تمہاری بیوی کیسے بات کر رہی اماں سے“سندس نے زبیر کو مخاطب کیا۔۔
سندس تم میرے شوہر کو بھڑکانے کی ناکام کوشش مت کرو۔اور جو ویڈیو تم نے سوشل میڈیا پہ پھینکی اسکو ختم کرو۔۔کیونکہ میرے اثرورسوخ سے میں ختم تو کروا لونگی۔مگر تم جیل میں پہنچ جاٶ گی۔۔ماسی جی جتنا دوسروں کی بیٹیوں کو سدھارنے کی کوشش کرتی اسکا دس پرسنٹ تم پہ صرف کیا ہوتا تو تم ایک عورت ہو کر کسی عورت کا تماشا نہ بناتی۔۔ناٸلہ آفندی نے نفرت سے کہا۔۔اور پھر دھپ دھپ کرتی وہ تیزی سے پری زیب کے روم کیطرف بڑھی۔اور زبیر آفندی اور زین بھی انکے پیچھےچلے آۓ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پری زیب بچے ،کدھر ہو آپ؟ناٸلہ آفندی نے کمرے میں آکر کہا۔۔
پھرانکو واشروم سے پانی گرنے کی آواز آٸی تو وہ جلدی سے دروزہ دھکیل کر اندر گٸ تو پری زیب کو شاور کے نیچے دیکھ کر چلاٸی۔۔
زین بھی جلدی سے اندر داخل ہوا۔۔پھر ناٸلہ آفندی اسے بمشکل وہاں سے لیکر آٸی۔اور اسکا سارا زیور اتارنے لگی۔۔
جاٶ جا کر کپڑے چینج کرو۔اور زین تم یہ جلدی سے ہیٹر آن کرو۔۔وہ جلدی سے بولی۔۔
پھر پری زیب نے اٹھ کر کپڑے بدلے اور دوبارہ سے بیذ پہ آ کر بیٹھ گٸی۔۔
ناٸلہ آفندی جلدی سے اسکے بال ہیٸر ڈراٸیر سے سکھانے لگی۔۔
پھر انہوں نے محبت سے اسکی کنگھی کرکے زبردستی اسے بستر میں لٹایا۔۔
زین تم نے ہیٹر نہیں چلایا۔ناٸلہ آفندی نے کہا۔۔
مام گیس نہیں ہے۔۔زین نے کہا۔۔
پھر جب تک وہ سوٸی نہیں ناٸلہ آفندی اسکے پاس سے ہلی نہیں تھی۔۔
دھیان رکھنا اسکا“ناٸلہ آفندی زین کو کہہ کر کمرے سے باہر نکل گٸی۔۔
زین اٹھ کر اسکےپاس آگیا۔اسکا رنگ پیلا زرد لگ رہا تھا۔ایسالگ رہا تھا کہ وہ صدیوں کی بیمار ہے۔۔
پھر زین بھی لیٹ گیا۔۔آدھی رات کو پری زیب کے کراہنے پہ اسکی آنکھ کھلی۔۔
پری زیب ۔۔اس نے پری زیب پہ جھکتے ہوۓ پکارا۔۔
پھر اس نے ماتھے پہ ہاتھ رکھا تو وہ آگ کی طرح تپ رہا تھا۔۔ زین جلدی سے اٹھ کر بیٹھ گیا۔۔اور پھر میڈیسن باکس سے میڈیسن نکال کر زبردستی کھلاٸی۔
اور اسکا بیٹھ کر سر دبانے لگا۔۔
اور بیٹھے بیٹھے ہی وہ نیم دراز ہوکر پری زیب کے قریب ہوکر لیٹ گیا۔۔اور پری زیب نے اسکے سینے پہ سر رکھ لیا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پری زیب کی آنکھ کھلی تو وہ زین کی بانہوں میں مقید تھی۔۔
وہ اسے یک ٹک دیکھے گٸی۔
یہ کیا کر دیا آپ نے زین“میرا تماشا بن گیا آپکی وجہ سے۔فری آپی کے کٸے کے سزا مجھے کیسے دے سکتے ہیں آپ۔۔وہ دل ہی دل میں اس سے شکوے کٸے جا رہی تھی۔۔اور ایک آنسو نکل کرزین کے لبوں پہ گرا تو زین نے چونک کر آنکھ کھولی۔۔
پری زیب جلدی سے اٹھ کر سیدھی ہو کر بیٹھ گٸی۔۔
کیسے طبیعت ہے تمہاری۔۔زین نے اسکا ماتھا چھوتے ہوۓ پوچھا۔۔
پری زیب اسکے چھونے پہ جلدی سے پٕیچھے ہٹ گٸی۔۔
پھر وہ بیڈ سے اترنے لگی تو اسکا سر گھوم گیا۔وہ سر تھام کر جلدی سے بیٹھ گٸی۔۔
زین جلدی سے بیڈ سے اٹھ کر اسکی طرف بڑھا۔۔
جو چاہیے مجھے بتا دو۔زین اسکے پاس بیٹھتے ہوۓ بولا۔۔
ہاں چاہیے۔۔۔،میں تمہاری شکل دیکھنا نہیں چاہتی۔۔پلیز یہ احسان کر دو کہ میری نظروں سے دور ہوجاٶ۔۔وہ چبا چبا کر بولی۔۔
دماغ خراب ہے تمہارا کیا؟ ایک تو تمہاری ہیلپ کرنے کی کوشش کر رہا ہوں اور تم مجھے ہی سناۓ جا رہی ہو۔۔زین نے تپ کر جواب دیا۔۔
میں نے ہیلپ مانگی تم سے۔۔؟ اس نے تپ کر پوچھا۔
مرو یا جٸیو۔۔آٸی ڈونٹ کیٸر۔۔بھاڑ میں جاٶ۔۔زین نے بھی تپ کرکہا۔۔۔
ہاں سچ ہی توکہا۔میں مروں یا جٸیوں تمہیں کیا فرق پڑتا ہے۔۔تم نے تو مجھے خود دہکتی ہوٸی آگ میں دھکیل دیا ہے زین آفندی۔۔اور فکر مت کرو اس آگ میں میں ہی نہیں تم بھی جھلسو گے۔۔ایک ٹاٸم آۓ گا۔جب تم میرے لٸے تڑپوں گے۔…
ہاہاہاہا۔۔پری زیب تمہیں اپنے بارے میں کتنی خوش فہمی ہے۔تمہارے اندر خوبصورتی کے علاوہ ہے کیا۔۔۔وہ استہزاٸیہ انداز میں بولا۔۔
پری زیب نے اپنے دکھتے سر کو دبایا اور پھر اسکے چہرے پہ پھیکی سی مسکراہٹ آ گٸی۔۔
صحیح کہا تم نے۔کاش اللہ نے مجھے اچھے برے انسان کو پرکھنے کی صلاحیت بھی دی ہوتی تو شاید میں آج اتنے درد میں نہ ہوتی۔دنیا میں سب سے زیادہ ٹرسٹ آپ سے اور فاریہ آپی پہ کیا مگر آپ دونوں میرے درد کی سب سے بڑی وجہ بن گٸے۔۔وہ نم لہجے میں بولی۔۔اور ایک آنسو پھسل کر اسکے رخسار پہ پھسل گیا۔۔
زین کا دل اسکے آنسو پہ ڈگمگا سا گیا تھا۔۔وہ بےچین ہو گیا۔۔
پھر وہ آہستگی سے اٹھ کر منہ ہاتھ دھونے چلی گٸی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ناٸلہ آفندی زین اور پری کو بلانے انکے روم میں آٸی تو زین کو گم صم سا دیکھ کر چونک گٸ۔۔
کیا ہوا زین ؟ انہوں نے پاس آکر پوچھا۔۔
آں“ہاں مام۔۔کچھ کہا آپ نے؟ زین نے چونک کر پوچھا۔۔
کدھر ہے دھیان تمہارا؟ ناٸلہ آفندی نے حیرت سے پوچھا۔۔
وہ بس مام،ایسے ہی کچھ سوچ رہا تھا۔۔وہ ٹالتے ہوۓ بولا۔۔
چلو اٹھو ۔۔۔اور کپڑے چینج کرو ہمارا بارہ بجے کی فلاٸٹ ہے۔۔انہوں نے جلدی سے کہا۔۔
ہاں بس پری زیب نکلتی ہے تو واشروم میں ہی جا رہا ہوں۔۔وہ جلدی سے بولا۔۔
ناٸلہ آفندی واپس پلٹنے لگی توزین نے انکا ہاتھ تھام لیا۔۔
مام آپ مجھ سے ناراض ہے؟ زین نے لب کاٹتے ہوۓ پوچھا۔۔۔
بالکل ناراض ہوں،اور کیوں نہ ناراض رہوں تم سے۔۔تم نے میرا مان توڑا ہے۔۔میری دی گٸی تربیت کو بدنام کیا ہے۔آج سے ساڑھے چار سال پہلے سوساٸیڈ کرکے مجھے توڑا تھا۔اب پھر سے توڑا ہے۔وہ افسردگی سے بولی۔
مام آپ کو شرمندہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔میں اپنےکٸے کا خود ذمہ دار ہوں۔زین نے کہا۔۔
نہیں میں تمہیں ہنستے مسکرإتے دیکھنا چاہتی تھی تو میں نے خودغرض بن کر پری زیب کو تمہارے قریب ہونے دیا۔۔کاش کہ میں ایسا نہ کرتی۔۔تو آج وہ ہنستی مسکراتی پری زیب زندہ ہوتی۔۔تم نے زین ایک ہنستی مسکراتی لڑکی کو مار دیا ہے۔۔تم نے غور کیا کہ اسکی آنکھیں خوشی اور معصومیت سے چمکتی تھی۔اب کرب اور آنسو بسیرا کٸے ہوۓ ہیں ان میں۔۔
پچھلے تین دنوں سے میں نے اسے ہنستے نہیں دیکھا جوبات بات پہ ہنستی تھی۔دیکھو اسے زین اور محسوس کرو اسکا درد۔۔ناٸلہ آفندی نے کہا۔تو زین نے اثبات میں سر ہلا دیا۔۔
تو وہ محبت سے ماتھا چوم کر باہر نکل گٸی۔۔
پھر کچھ دیر بعد وہ تیار ہوکر نیچے آۓ تو سب سے ملنے کے بعد وہ ایٸرپورٹ کیلٸے نکل گٸے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پری زیب آفندی ولا واپس آکر ناٸلہ آفندی کیساتھ رات دیر تک بیٹھی رہی۔۔پھر وہ جب روم میں آٸی تو زین آنکھوں پہ بازو رکھے سو رہا تھا۔۔
پری زیب نے اندر آکر اطمینان سے ٹی وی آن کیا اور ڈرامہ دیکھنے لگی۔
پری زیب “پلیز بند کرو اسے۔۔مجھے نیند آٸی ہے۔۔۔زین نے اسے آواز دی۔۔
پری زیب نے والیوم تیز کر لیا۔تو زین اٹھ کر اسے گھورنے لگا۔
پری زیب تمہارے اندر مینرز نہیں ہے۔۔زین نے تپ کر کہا۔
مگر وہ اطمینان سے ٹی وی ایسے دیکھ رہی تھی جیسے بہت امپورٹنٹ کام ہو۔۔
زین نے غصہ سے اسے دیکھا اور پھر اٹھ کرپیچھےسےسوٸچ آف کردیا۔
پری زیب نے تپ کر اسے دیکھا۔اور پھر موباٸل پہ اونچی آواز میں سونگ لگا لیا۔۔
زین محض دانت پیس کر رہ گیا۔۔
تم نے صبح یونیورسٹی نہیں جانا کیا؟ زین نے تپ کر پوچھا۔
نہیں۔۔۔اور تم اپنے کام سے کام رکھا کرو۔وہ تڑخ کر بولی۔
قسم سے یار تم بہت بدتمیز ہو،تمہارا شوہر ہوں اور شوہر سے ایسے کون پیش آتا ہے۔زین نے جھلا کر کہا۔
ہاہاہاہا۔شوہر تم جیسے ہوں تو عزت کےلااٸق نہیں ہوتے۔۔وہ استہزاٸیہ انداز میں ہنستے ہوۓ بولی۔
اتنی ہی اکتاٸی ہو تو میرے کمرے سے دفع کیوں نہیں ہو جاتی۔؟زین نے تنک کر پوچھا۔۔
تمہارا نہیں ہمارا کہو۔۔یہی ڈیڈ نے کہا تھا۔۔خیر اگر زیادہ ہی میرے ہونے سے درد ہو رہا تو جاٶ کسی اور جگہ۔۔کیونکہ میں تو اطمینان سے بیڈ پہ سونے والی ہوں۔وہ مزے سےکہہ کر بیڈ کیطرف بڑھ گٸی۔۔۔
زین کھول کر رہ گیا۔۔
کچھ دیر میں ہی پری زیب سو چکی تھی مگر زین کی آنکھوں سے نیند کوسوں دور تھی۔اسکی نیند ایک بار ٹوٹ جاۓ تو اسے جلدی دوبارہ نیند نہںں آتی تھی۔۔ وہ کچھ دیر لیٹا رہا اور پھر پری زیب کیطرف کروٹ لی تو پری زیب کی ادھر پیٹھ تھی۔
تمہیں توآج چھوڑوں گا نہیں پری زیب۔وہ دل ہی دل میں اس سے مخاطب ہوا اور پھر اٹھ کر دوسری ساٸیڈ پہ آیا اور جگ پکڑ کر وہ اس پہ پانی انڈیلنے ہی والا تھا کہ پری زیب نے کروٹ لی اور سیدھی ہوکر لیٹ گٸی۔زین کے دل کی دھڑکن پری زیب کے چہرے پہ پھیلی معصومیت سے تھم سی گٸی تھی۔۔
ارے یار کیا کررہا ہے زین تو۔؟بخار تھا کل بھی اسکو آج پھر پانی ڈال کر اسے بیمار کرے گا۔اسکے دل نے ملامت کی پھر اس نے جگ ساٸیڈ پہ رکھ دیا۔۔اور اسکے پاس بیٹھ کر اسکا ماتھا چھو کر دیکھنے لگا۔توپری زیب نیند میں کسمساٸی تو زین جلدی سے اٹھ کر اپنی ساٸیڈ پہ آکر لیٹ گیا۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پری زیب کی آنکھ کھولی تو کافی دیر تک وہ ساکت لیٹی رہی پھر اسے اپنے پیٹ پہ وزن محسوس ہوا تو اس نے سیدھے ہوکردیکھا تو اس پیٹ پہ زین کا بازو تھا۔وہ اوندھے منہ لیٹا تھا۔اور بازو اسکے اوپر رکھا تھا۔۔
پری زیب نے غصے سے اسکا بازو پکڑ کر اسے پیچھےدھکیلا۔۔تو زین نے سر اٹھا کر اسے دیکھا۔
کیا تکلیف ہے تمہیں؟ وہ اس پہ ہی الٹ پڑا۔۔
تکلیف مجھے ہوگی نہ۔میرے اوپر بازو رکھ کر استراحت فرما رہے ہیں آپ۔وہ تڑخ کر بولی۔۔
اووووہ سوری “ میں ایسے ہی سوتا ہوں اور شاید تکیہ سمجھ کے تم پہ بازو رکھ لٸے ہوگا۔۔وہ جلدی سے وضاحت دیتے ہوۓ بولا۔۔
تمہیں تکیہ دکھتی ہوں میں“وہ تپ کر بولی۔
ہاں تو نرم نرم سی ہو تو تکیہ ہی لگی۔وہ اطمینان سے بولا۔۔
تمہیں میں موٹی دکھتی ہوں۔وہ غصے سے بولی۔۔
میں نے کب تمہیں موٹی کہا۔۔زین نے حیرت سے پوچھا۔
ابھی کہا کچھ پل پہلے کہا کہ میں نرم نرم لگتی ہوں تمہیں۔
توپھر۔۔۔۔۔؟زین نے اسکی بات پہ حیرت سے پوچھا
تو پھر یہ کہ موسٹلی موٹے لوگ ہی نرم نرم ہوتے ہیں۔۔وہ تپ کر بولی۔۔
زین کا دل کیا اسکی اس لاجک پہ سر پھوڑ دے۔۔
تم نہ پری زیب انتہاٸی ڈفر ہو،وہ تپ کر بولا۔۔
تمہاری عقل تو جیسے بہہ بہہ جا رہی ہے۔۔وہ تپ کر بولی۔۔
بس کر دو جان چھوڑو میری۔۔زین نے ہاتھ جوڑ کر کہا۔
جاٶ چھوڑ دی جان۔وہ گردن اکڑا کر بولی۔۔
بہت شکریہ آپ کا مادام۔وہ جلدی سے بولا اورپھر اٹھ کر شاور لینے کیلٸے کپڑے نکالنے لگا۔۔
پری زیب نے سراٹھا کر دیکھا اور پھر جلدی سے موباٸل اٹھا کر واشروم کی طرف بھاگی۔۔اور جب تک زین کو کچھ سمجھ آتی تو واشروم میں گھس کر کنڈی لگا چکی تھی
زین ہکا بکا سا بند دروازے کو دیکھ رہا تھا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے
زین کو جب سمجھ آیا تو وہ تیزی سے واشروم کے دروازے کے پاس آکر زور سے دروازہ پیٹنے لگا۔۔
پری زیب باہر نکلو۔زین نے چلا کر کہا۔۔
نہیں نکلوں گی۔اورپورا ایک گھنٹہ ویٹ کرو۔۔اندر سے اطمینان بھرا جواب آیا۔۔
پری زیب مجھے یونیورسٹی جانا ہے۔۔وہ عاجز ہوکر بولا۔۔۔
تو میں کیا کروں،زیادہ ہی جلدی ہے تو تم کہیں اور چلے جاٶ۔۔۔
زین اسکی بات پہ جھلا کر رہ گیا۔۔
تم اگلے دس منٹ میں باہر نکلو ورنہ۔۔۔۔
ورنہ کیا مسٹر ڈمبو۔۔وہ طنزیہ انداز میں پوچھنے لگی۔۔
تمہارا سر۔۔زین تپا۔۔
اسکے تپنے پہ پری زیب کھلکھلا کر ہنسنے لگی۔۔
اور پھر موباٸل پہ اونچی آواز سے گانا لگا کر ساتھ خود بھی گانے لگی۔۔۔
میں تیری دشمن
دشمن تو میرا۔۔
میں ناگن تو سپیرا
لاحول ولا قوة الا بااللہ۔۔ایسے گانے کون سنتا اور گاتا ہے واشروم میں۔زین نے تپ کر پوچھا۔
میں پری زیب جمال قریشی گاتی بھی ہوں اور سنتی بھی۔۔اطمینان سے جواب آیا۔۔
مرو تم پری زیب جاکر کہیں۔۔زین نے تپ کر کہا۔
سیم ٹو یو۔۔۔۔
زین نے تپ کر دروازے کو دیکھا اور پھر تن فن کرتا باہر نکل آیا۔۔
اور باہر آکر وہ دھپ سے ناٸلہ آفندی کیساتھ بیٹھ گیا۔۔۔
ناٸلہ آفندی نے حیرت سے اسے دیکھا۔
کیا ہوا؟ انہوں نے پوچھا۔۔
آپکی بہو نے مجھے ناکوں چنے چبواۓ ہیں۔۔
اب کیا کیا میری معصوم سی بہو نے۔۔؟ناٸلہ آفندی حیرت سے پوچھا۔۔۔
حد کردی آپ کی معصوم بہو نے۔میرے واشروم میں گھس گٸی۔اور پتا ہے گانے سن رہی اور ساتھ گا رہی ہے۔۔وہ غصے سے بولا۔۔۔
ناٸلہ آفندی اسکی بات پہ بےاختیار ہنس پڑی۔۔
مام۔۔۔۔۔وہ جھلا کر بولا۔۔
کیا مام؟میں نے تو کچھ نہیں کیا۔بس ہنسی نکل گٸی۔۔
میں نہ چھوڑوں گا نہیں اسے۔۔وہ انکی بات پہ تپ کر بولا۔۔
میں بھی چاہتی تم اسے کبھی مت چھوڑو۔۔تم ہر پل اسکے ساتھ رہو۔اسکے اور تمہارے بچے آفندی ولا کے لان میں کھیلتے ہوں“خوشیاں ہی خوشیاں ہوں بس۔۔ناٸلہ آفندی نے جلدی سے جواب دیا۔۔
مام لگتا طبیعت خراب ہے آپکی۔۔وہ جھلا کر بول کر روم میں چلا گیا۔۔۔ناٸلہ آفندی بےاختیار مسکرا دی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زین کمرے میں آیا تو پری زیب ابھی تک واشروم سے نہیں نکلی تھی۔وہ بیڈ پہ بیٹھ کر نیوز چینل پہ نیوز دیکھنے لگا۔۔
کچھ دیر بعد پری زیب واشروم سے باہر نکل کر آٸی تو زین نے سکھ کا سانس لیا۔اور کپڑے لیکر واشروم کیطرف بڑھا تو واشروم کا گیلا فرش دیکھ کر اسکا پارہ مزید ہاٸی ہوگیا۔۔۔
تمہارے اندر عقل نہیں ہے کیا؟واشروم کا فرش گیلا کیوں ہے۔۔وہ پاس آکر تپ کر بولا۔۔۔
ہوووووو ہاۓ۔واشروم میں نہاۓ گے تو فرش گیلا ہو گا ہی نہ۔۔وہ بولی۔۔اور پھر اسکے قریب ہوکر آنکھیں سکوڑ کر دیکھنے لگی۔۔۔
واٹ۔۔۔۔؟ وہ حیرانگی سے بولا۔۔
زین چھیییییی تم کہیں شیمپو اور صابن لگا کر صرف تولیے سے صاف تو نہیں کرکے نکل آتے۔۔وہ ہونٹوں پہ انگلی رکھ کر پوچھنے لگی۔۔
تم انتہاٸی بدتمیز اور بےشرم ہو۔۔زین کا چہرہ سرخ ہوگیا۔۔۔
یہ میرے سوال کا جواب تو نہیں۔۔وہ اطمینان سے سینے پہ ہاتھ باندھ کر بولی۔۔۔
محترمہ واشروم میں واٸپر پڑا ہے۔۔نکلنے سے پہلے وہ پھیرا جاتا اسکو کہتے ہیں مینرز۔۔وہ تپ کر بولا۔۔۔
کسی سے بات کرنے کے بھی مینرز ہوتے ہیں۔انکابھی استعمال کر لیا کروزین آفندی۔۔۔۔
میں بندے کی شکل دیکھ کر تمیز سے بات کرتا ہوں۔۔وہ پھر سے تپ کر بولا۔۔
ہاہاہاہا۔۔اللہ معافی توبہ استغفراللہ۔۔وہ کھلکھلا کر ہنسی تو ایک پل کیلٸے زین کی نظریں اسکے ڈمپل پہ اٹکی۔مگر وہ جلدی سے نظریں پھیر گیا۔۔
نظریں کیوں چرا رہے ہو،زرا آٸینے میں دیکھو میرے سامنے تم سڑے ہوۓ بینگن جیسے لگتے ہو۔۔وہ مزاق اڑاتے ہوۓ بولی۔۔
زین نے آٸینے میں دیکھا تو ہاں وہ اسکے حسن کے سامنے ماند پڑ جاتا ہے مگر پری زیب اسکو بدصورت ترین بنا کر اسکو مزید غصہ دلا دیتی تھی۔
سڑا ہوا بینگن لگتا ہوں میں تو تم کدو جیسی لگتی ہو۔۔وہ اسکے ماتھے پہ انگلی رکھتے ہوۓ بولا۔۔
فٹے منہ تمہارا۔۔وہ اسکے منہ پہ ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوۓ مڑی۔۔۔
زین نے ایک جھٹکے سے اسکے بازو سے پکڑ کر کھینچ کر اسے اپنے قریب کیا۔۔اور پھر اسکی گردن میں ہاتھ ڈال کر اسکے ماتھے کیساتھ اپنا ماتھا لگا دیا۔۔
پری زیب کی تو جان ہی نکل گٸی اس کی قربت سے۔وہ بےخودی میں تھی۔۔جبھی زین اسکے کان میں بولا۔۔۔آٸی ہیٹ یو پری زیب۔
پری زیب نے ایک جھٹکے سے اپنا آپ چھڑوایا اور اس سے دور ہو گٸی۔
آٸندہ سے میرے سامنے بےلگام گھوڑی کی طرح منہ زور مت ہونا ورنہ مجھے لگامیں کھینچنے آتی ہیں۔زین نے غصے سے کہا۔۔
اچھا ،مگر جب میرے ہاتھوں سے کوٸی پٹتا ہے تو حلق تمہارا خشک کیوں ہو جاتا۔۔یہ یاد رکھو اگر میں چپ ہو تو مجھے چپ رہنے دو کیونکہ مجھے بھی سرکش گھوڑوں کو لگامیں ڈالنی آتی ہے۔۔وہ خود کو سنبھالتے ہوۓ تڑخ کر بولی۔
زین جھلا کر واشروم کیطرف بڑھ گیا۔۔وہ یہ سوچ رہا تھا کہ اس کے اتنے کڑوے الفاظ پہ بھی یہ لڑکی ڈگمگاتی نہیں تھی۔بلکہ جب سے شادی ہوٸی تھی وہ اسکو اذیت دینا چاہتا تھا مگر وہ تو الٹا اسے اذیت اور غصے میں مبتلا کر جاتی تھی۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زین یونیورسٹی سے گھر پہنچا تو فاریہ کو لاٶنج میں دیکھ کر چونک گیا اسکے ہاتھ میں کوٸی میگزین تھا۔۔زین کی آنکھیں چمک اٹھی۔۔
ہاۓ سوہنی۔۔وہ اسکے پاس جاکر بولا۔۔
فاریہ نے چونک کر اسے دیکھا۔۔
ہاۓ مسٹر زین۔۔۔وہ سنجیدگی سے بولی۔۔
اکیلی بیٹھی ہیں آپ؟ آپ کی پیاری جان من پری زیب کدھر ہے۔وہ طنزیہ انداز میں بولا۔۔
میں ابھی آٸی ہوں اور پری زیب کو پیغام بھیجا ہے وہ آتی ہی ہوگی۔وہ مسکرا کر بولی۔۔
مجھے نہیں لگتا وہ آپ سے ملنا چاہے گی۔۔زین نے کہا۔۔
کیوں نہیں ملے گی؟۔فاریہ نے ناگواری سے پوچھا۔۔
کیونکہ وہ جانتی ہے کہ آپ ہی سوہنی ہے میری۔۔زین نے مسکرا کر جواب دیا۔۔
تو پھر۔۔۔؟ اس نے مطمٸن انداز میں پوچھا۔۔
تو پھر یہ کہ وہ آپ سے نفرت کرتی ہے اب۔زین نے کندھے اچکا کر کہا۔۔
فاریہ ایک پل کیلٸے چپ ہو گٸی پھر طنزیہ انداز میں مسکرا دی۔۔
لیجٸے آ گٸی پری زیب۔۔فاریہ نے جتلاتے ہوۓ لہجے میں کہا۔۔
زین نے چونک کر سیڑھیوں کیطرف دیکھا جہاں سے پری زیب اترتی دیکھاٸی دےرہی تھی۔۔
ہاۓ فری آپی۔۔وہ پاس آکر بولی۔۔
کیسی ہو میرے جان۔۔فاریہ نے اسے گلے لگاتےہوۓ پوچھا۔۔
کیسا ہو سکتا ہے وہ انسان جس نے ان لوگوں سے دھوکہ کھایا ہو جنکو وہ سب سے زیادہ ٹرسٹ کرتی تھی۔وہ پھیکی سی مسکراہٹ کیساتھ بولی۔۔
ایم سوری پری زیب۔۔فاریہ نے شرمندگی بھرے لہجے میں کہا۔۔
کیا آپ کی معافی سے میرا کھویا ہوا مان واپس مل جاۓ گا۔وہ تلخ لہجے میں بولی۔۔
پری زیب مجھے تمہیں کچھ بتانا ہے توکل ولیمے کے بعد جب گھر آٶ گی تو میں تمہیں بتاٶں گی کہ میں نے تمہیں دھوکہ نہیں دیا۔۔وہ اسکے ہاتھ پہ ہاتھ رکھ کر ہولے سے بولی۔۔
پری زیب نے عجیب سی نظروں سے اسے دیکھا۔
ایک بات پوچھوں گی اسکا صرف ہاں یا ناں میں جواب دیجٸے گا۔۔زین اور فاریہ اسکےلہجے پہ چونک گٸے مگر دونوں اسکے سوال کے منتظر تھے۔۔
زین کو بدصورت کہہ کر اسے دھتکار کر اسکے منہ پہ دروازہ آپ نے بند کیا تھا کیا؟ وہ مضطرب لہجے میں بولی۔۔
ہاں۔۔مگر۔۔۔۔۔۔
صرف ہاں میں جواب دینےکو کہا ہے۔اس میں اگر مگر نہیں چلے گا۔۔۔
کیا زین آپ سے محبت کی بھیک مانگنے آیا تھا تو آپ نے اسے نفرت اور ذلت دی تھی۔۔؟ وہ اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر پوچھنے لگی۔۔
ہاں مگر۔۔۔
پھر سے مگر۔۔پری زیب چلاٸی۔
آنسو اسکی آنکھوں میں لڑیوں کیطرح بہہ رہے تھے۔۔
کیوں اتنی بڑی منافق ہیں آپ۔۔کیوں۔۔آپ نے زین کی زندگی کے چار سال ضاٸع کر دٸیے۔۔آپ کے دٸیے زخموں کو برداشت کرنے کی ہمت نہیں تھی زین میں پھر بھی آپ نے اسے درد دیا۔۔اگر چھوڑنا ہی تھا تو ہاتھ پکڑ کر اپنی راہ پہ چلایا کیوں تھا۔۔آپ اچھاٸی کا چولہ پہن کر پچھلے چار سالوں سے میرے بھاٸی کےجذبات سے بھی کھیل رہی ہیں۔
بتاٸیے آج زین کو کہ احمر بھاٸی کیوجہ سے آپ نے زین کونہیں چھوڑا تھا۔بلکہ زین کو چھوڑنے کے بعد احمر بھاٸی سے کہا تھاکہ زین نے آپ کو چھوڑدیاہے تواحمر اسے اپناۓ گے ۔بتاٸیے آج زین کو کہ آپ تو احمر قریشی کا بھی ابھی تک استعمال کر رہی ہیں۔وہ حلق کے بل چیخ کر بولی۔اور پھر ایک جھٹکے سے مڑ کر تیزی سے وہاں سے نکل گٸی
زین پھٹی پھٹی نگاہوں سے فاریہ کو دیکھ رہا تھا۔اور فاریہ منہ پہ ہاتھ رکھے رو رہی تھی۔زین نے نفرت سے اسے دیکھا اور پھر چلتا ہوا اسکے سامنے کھڑا ہو گیا۔
آپ تو منافق نکلی فاریہ جی۔سخت نفرت محسوس کر رہا ہوں میں آج خود سے کہ آپ جیسی لڑکی کیلٸے اپنی زندگی کے اتنے سال ضاٸع کٸے۔۔آپ زندہ کیوں ہیں مس فاریہ صابری آپ کو تو منوں مٹی تلے سو جانا چاہیے۔۔زین نفرت سے بول کر وہاں سے نکلتا چلا گیا۔۔وہ درد سے پھوٹ پھوٹ کر رودی۔۔
زرا فاصلے پہ کھڑی ناٸلہ آفندی نے فاریہ کے درد سے اپنا سینہ پھٹتا محسوس کیا۔۔
پھر وہ اس سےپہلے فاریہ کے پاس پہنچتی۔۔فاریہ بھاگتی ہوٸی وہاں سے نکلتی چلی گٸ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
![]()
![]()
ولیمہ ![]()
![]()
![]()
آج رات کو زین اور پری زیب کا ولیمہ تھا۔ کل جو پری زیب نے اسکے لٸے آواز اٹھاٸی اسکی وجہ سے زین کے دل میں پری زیب کیلٸے نرم گوشہ بن گیا تھا۔۔
وہ آج دل سے ولیمےکیلٸےتیار ہوا تھا۔بلیک تھری پیس میں وہ بہت ہی پیارا لگ رہا تھا۔۔
اور ولیمہ کا انتظام شہر کے سب سے بڑے میرج ہال میں کیا گیا تھا۔۔
زین بیٹے،ریڈی ہو آپ تو چلیں۔۔ناٸلہ آفندی اسےپکارتی ہوٸی اندر آٸی۔مگرزین کے چہرے کی چمک نے انہیں ٹھٹھکنے پہ مجبورکردیا۔۔۔۔
اہممممم اہممممم۔کیا بات ہے بڑے ہینڈسم اور خوش بھی لگ رہے ہو۔۔۔
مام آپ میری ٹانگ کھینچنا بند کریں اور چلیں ہمیں پری زیب کے میکے والوں کا استقبال بھی کرنا ہے۔وہ انکا ہاتھ پکڑ کر باہر لاتے ہوۓ بولا۔۔۔
پھر وہ دونوں ہوٹل پہنچے تو ناٸلہ آفندی اوپر براٸیڈل روم میں تیار ہوتی پری زیب کو دیکھنے چلی گٸی۔۔
اور زین اورزبیر آفندی مہمانوں کو اٹنڈ کرنے لگے۔۔۔
کچھ دیر بعد جمال قریشی اور باقی سب اندر داخل ہوۓ تو زین نے انکا پرتپاک استقبال کیا۔۔
سب کو بیٹھا کروہ فاریہ کیلٸے چیٸر لیکرآیا۔۔کیونکہ وہاں ایک چیٸر کم تھی۔۔
فری آپی“پلیز تشریف رکھیں۔۔۔۔
فاریہ نے زین کے فری آپی کہنے پہ چونک کر دیکھا۔۔
ایسے حیران کیوں ہو رہی ہیں آپ۔میں مانتا ہوں ہماری ایج میں فرق نہیں۔مگر میری پری کی فری آپی تو میری بھی فری آپی ہوٸی نہ آپ۔۔زین نے مسکرا کر کہا۔۔
بالکل زین صاحب۔۔ویسے اگر آپ فاریہ کو فاریہ بھابھی بھی کہہ لیں تو میرے دل کو بھی ٹھنڈک پہنچ جاۓ گی۔۔احمر نے محبت سے فاریہ کو دیکھتے ہوۓ کہا۔۔
بالکل احمر بھاٸی۔۔زین نے مسکرا کر کہا
میں آپ لوگوں کیلٸے کچھ کھانے پینے کو لیکر آتا ہوں۔زین نے کہا اور واپس مڑ گیا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ماشاءاللہ بہت ہی پیاری لگ رہی ہیں آپ۔۔بیوٹیشن نے اسے تیار کرنے کے بعد اسے دیکھتے ہوۓ کہا۔۔
وہ آف واٸٹ ٹیل میکسی پہنے تھی جس پہ گولڈن اور آف واٸٹ کام ہوا تھا۔۔
بالوں میں کرل ڈال کر کھلٕے چھوڑےتھے اور سرپہ ڈوپٹہ سیٹ کیا تھا اورلاٸٹ سا میک اپ تھا۔۔
وہ کوٸی باربی ڈول ہی لگ رہی تھی۔
ناٸلہ آفندی نے اسکے سر سےپیسےوار کر ویٹرز کو دٸیے۔۔
پھروہ کسی کو کال ملانے لگی۔۔
صفدر زین کو لیکر انٹرنس پہ پہنچوں۔دوسری طرف سے فون اٹھاتے ہی وہ بولی۔۔
پھر وہ پری زیب کو تھام کر پچھلی طرف سے لیکر باہر آٸی۔۔۔
زین انکےآنے سے پہلےہی صفدرکےساتھ کھڑا تھا۔۔
اس کی نظر جب پری زیب پہ پڑی تو پلٹنا ہی بھول گٸی۔۔
وہ دھیرے دھیرے اسکےقریب آ رہی تھی مگر زین کی دل کی دھڑکن تیزگام گھوڑے کی مانند تیز ہوتی جا رہی تھی۔
پھر ناٸلہ آفندی نے پری زیب کا ہاتھ زین کے ہاتھ میں پکڑا دیا۔۔
اور صفدر کیساتھ وہ کچھ ڈسکس کرنےلگی۔۔
زین آپ سے ریکویسٹ ہے کہ بابا کے سامنے ایسے رہنا کہ ہمارے درمیان انکو نظر آۓ کہ سب ٹھیک ہے ۔نفرت کیلٸے عمر باقی ہے۔مگر آج کے دن میں اپنے بابا کو اذیت میں نہیں دیکھ سکتی۔پلیز اسکے عوض جو مانگے گے وہ دونگی۔۔
زین اسکی آخری بات پہ چونک گیا۔۔اور اسکے چہرے پہ دلفریب مسکراہٹ آ گٸی
اوکے۔۔۔زین نے اسکا ہاتھ دبا کر چھوڑتے ہوۓ کہا۔۔
اور پھر نظروں کے حصار میں اسے لے لیا۔۔
میں کیسے کہوں پری زیب کے میں یہ سب اب دل کی رضامندی سے کرنا چاہتا ہوں۔وہ اس پہ نظریں گاڑتےہوۓ دل ہی دل میں مخاطب ہوا۔۔
پڑی زیب اسکی نگاہوں کی تپش سے اپنا چہرہ جلتا ہوا محسوس کر رہی تھی۔۔
میں جانتی ہوں زین آفندی تم مجھے رات کو نیچا دیکھانا چاہوں گے۔اپنا حق مانگو گے۔۔کیونکہ آج تمہارے نگاہوں کی تپش مجھے بتا رہی کہ تم میری قربت چاہتے ہو۔۔مگر یہ بھی کر ہی لونگی۔کیونکہ وعدہ کیا ہے تم سے۔اور میں وعدہ خلاف نہیں ہو۔وہ دل ہی دل میں اس سے مخاطب تھی۔اور ایک آنسو پھسل کر اسکے رخسار پہ بہہ گیا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے
