Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mein Kese Kahun (Episode 11)

Mein Kese Kahun by Umme Emman Fatima

فاریہ تیار ہوکر ناٸلہ آفندی کا انتظار کرنے لگی۔۔

کچھ دیر بعد بیل ہوٸی تو محمود صابری صاحب دروازہ کھولنے چلے گٸے۔۔

کچھ دیر بعد وہ اندر آۓ تو انکا چہرہ اترا ہوا تھا اور ناٸلہ آفندی بھی اندر داخل ہوٸی اور وہ بھی کچھ خاموش خاموش لگی۔۔

فاریہ نے انہیں سلام کیا۔تو انہوں نے بنا جواب کے طنزیہ اندازمیں ہنکارا بھرا۔۔

میں چاۓ بنا کر لاتی ہوں۔۔فاریہ نے کہا۔۔

رکو۔۔۔ناٸلہ آفندی نے تحکمانہ انداز میں کہا۔۔

فاریہ نے مڑ کر انہیں سوالیہ نظروں سے دیکھا۔۔

تم نے میرے بیٹے کی دولت کیلٸے اسکو پھسایا ہے نہ۔۔ناٸلہ آفندی نے کہا۔۔

ایسا نہیں ہے آنٹی۔فاریہ نے گھبرا کر محمود صابری صاحب کو دیکھتے ہوۓ کہا۔۔۔

اچھا تو پھر تم نے میرے بیٹے کو کیوں پھسایا ہے۔؟ ناٸلہ آفندی نے سینے پہ ہاتھ باندھتے ہوۓ پوچھا۔۔

زین اور میں ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں۔فاریہ نے جلدی سےکہا۔۔

واہ پروفیسر صاحب“آپ نے بڑی اچھی تربیت کی ہے اپنی بیٹی کی۔۔۔کیا آپ نے اپنی بیٹی کو امیر بننے کی سیڑھی بنا لیا ہے۔کہ جاٶ بیٹا کالج اور جاکر کسی امیر لڑکے کو پھانسو اور عیاشی کرو۔۔

بس“بہت بول لیا آپ نے۔۔۔فاریہ چلاٸی۔۔۔

پھر اس نے محمود صابری کے جھکے سر کو دیکھا تو تڑپ اٹھی۔۔جلدی سے انکی طرف بڑھی۔۔

۔جاٸیں جاکر اپنے بیٹے کو کہیں کہ مجھے بھول جاٸیں۔مجھے مت سناٸیں۔فاریہ نے غصے سے کہا۔۔

بہت ہی بدتمیز لڑکی ہو“خیر اگر اپنے باپ سے اتنا ہی پیار ہے تو زین کو اپنی زندگی سے اس طرح نکالو کہ وہ تم سے نفرت کرے تو مانو گی کہ تمہیں اپنے باپ کی عزت کا بہت خیال ہے۔۔ناٸلہ آفندی نے کہا۔۔

ایسا ہی کرونگی میں۔۔اب آپ یہاں سے جا سکتی ہیں۔۔فاریہ نے کانپتے ہوۓ لہجے سے کہا۔۔

اور پھر محمود صابری صاحب کے سینے کےساتھ لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رودی۔

پھر محمود صابری صاحب تھکے تھکے قدموں کیساتھ اٹھ کر کمرے میں چلے گٸے۔۔اور فاریہ ادھر ہی بیٹھ کر پھوٹ پھوٹ کر رودی۔۔

کچھ دیر بعد دروازے پہ بیل ہوٸی تو وہ آنسو صاف کرتی باہر نکلی اور باہر کھڑے زین کو دیکھ کر اسکے اندر طوفان مچ گیا۔۔

اسکا دل کیا کہ ایک بار اسے سب بتا دے مگر پھر اپنے بابا کے جھکے کندھے اور عزت کا خیال آیا تو اس نے اپنے لڑکھڑاتے قدم روکے۔۔

اور پھر زین کی منت سماجت کے باوجود وہ زہر اگلتی چلی گٸی۔اور پھر اسکے منہ پہ دروازہ بند کرکے وہ دروازےکیساتھ ٹیک لگا کر بیٹھ گٸی۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

فاریہ کب سے محمود صابری صاحب کی راہ تک رہی تھی۔۔

پھر اچانک اسکا موباٸل بجا تو محمود صابری صاحب کا ہی فون تھا۔۔۔

ہیلو بابا “کدھر ہیں آپ ۔۔۔؟ اس نے فون کان کو لگاتے ہوۓ پوچھا۔۔۔۔۔

میں احمر بات کر رہا ہوں فاریہ۔۔انکل اس وقت ہاسپیٹل ہیں ۔۔انکا بی پی کافی ہاٸی تھا۔مگر اب ٹھیک ہیں وہ۔۔دوسری طرف سے احمر بولا۔۔

فاریہ کی تو جیسے جان ہی نکل گٸی تھی۔۔

پھر وہ وہی بیٹھ کر انکا انتظار کرنے لگی۔۔

کچھ دیر بعد دروازہ کھٹکا تو وہ بھاگتی ہوٸی آٸی اور جلدی سے دروازہ کھول دیا۔۔

اور احمر محمود صابری صاحب کو سہارا دیکر اندر داخل ہوا۔۔

پھر کچھ دیر بیٹھا اور فاریہ کو میڈیسن کیسے دینی بتانے لگا۔۔۔

انکل اب میں چلتا ہوں“احمر نےکہا۔۔

فاریہ بیٹی،احمر میاں کو باہر دروازے تک چھوڑ کر آٸیں“محمود صاحب نےکہا۔۔تو فاریہ نےاثبات میں سر ہلادیا۔اور احمر کے پیچھے نکل آٸی۔۔

ڈونٹ وری فاریہ“وہ ٹھیک ہو جاٸیں گے مگر تم رونا مت،احمر نے کہا۔۔

تھینک یو احمر“فاریہ نے نم لہجے میں کہا۔۔

اب تم مجھے پرایا کر رہی ہو،احمرنے کہا۔۔

ایسی بات نہیں ہے احمر“وہ سر جھکا کر بولی۔۔

اچھا ٹھیک ہے،اور تم ہنستی ہوٸی اچھی لگتی ہو ماٸی فرینڈ،احمر نے کہا۔۔

احمر میرا اور بھولے کا بریک اپ ہو گیا ہے۔آپ نے مجھے ایک بار پرپوز کیا تھا۔تو کیا آپ مجھے اب بھی پانے کی خواہش رکھتے ہیں۔فاریہ نے نم لہجے سے پوچھا۔۔۔

احمر اسکی بات پہ چونکی۔۔۔

بریک اپ کیوں ہوا“احمر نےپوچھا۔۔

بس اس نے مجھے چھوڑ دیا ہے۔اور میں بہت ٹوٹ گٸی ہوں اور بابا بھی۔۔اگر آپ مجھے اپنا لیں تو مہربانی ہوگی۔۔وہ ہاتھ جوڑتے ہوۓ بولی۔

اسے ہاتھ مت جوڑو۔۔میں کل ہی بابا اور بھیا سے بات کرتا ہوں۔۔احمر نے کہا اور خدا حافظ کہہ کر چلا گیا۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

فاریہ اور احمر کی منگنی ہو چکی تھی۔۔پھر کچھ عرصے بعد ہی محمود صابری صاحب کی وفات ہو گٸی تو فاریہ کے اندر مزید کچھ ٹوٹ گیا۔۔

پہلے زین کو دیا درد اس کو تڑپاتا تھا پھر محمود صابری کا بنا اسکو شکوے کٸے اس دنیا سے چلے جانا اسکو مار ہی گیا تھا۔۔

پھر احمر کیساتھ وہ لندن چلی گٸی۔احمر ہوٹل مینیجمنٹ کی ڈگری لے رہا تھا۔۔اور اس نے وہاں ایم بی اے کمپلیٹ کیا اور جاب کرنےلگ گٸی۔مگر اسکی سنجیدگی بڑھتی ہی چلی گٸی۔مگر احمر اسکی بےرخی کے باوجود اسکی آنکھ میں ایک آنسو نہیں آنے دیتا تھا۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حال۔۔۔۔

فاریہ کا چہرہ آنسوٶں سے تر تھا۔۔اس نےاپنے چہرے پہ ہاتھ پھیرا اور اٹھ کر کھڑی ہو گٸی۔۔

زین آفندی تمہیں دکھ میں نے دیا تھا تو بدلہ تم معصوم سی پری سے لینا چاہتے ہو“مگر میں ایسا ہونے نہیں دونگی۔میں تمہیں یہ ضرور باور کروا دونگی کہ تم میری زندگی میں کہیں نہیں ہو،وہ چلتے ہوۓ سوچتی جا رہی تھی۔۔۔

پھر وہ رکشہ کروا کر گھر پہنچی اور جب روم میں پہنچی تو احمر پری زیب کے پاس بیٹھا تھا۔۔

فاریہ نے گہرا سانس بھرا اور اندر آکر سلام کیا۔۔

احمر نے محبت بھری نظروں سے اسے دیکھا۔۔۔

کیسی ہو اب تم پری زیب؟ فاریہ نے پوچھا۔۔

میں ٹھیک ہوں آپی۔۔آپ کدھر تھی۔۔؟ پری زیب نے اس سے پوچھا۔۔۔۔

میں بس واک کرنے نکلی تھی،فاریہ نے جواب دیا اور پھر کپڑے لیکر شاور لینے گھس گٸی۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

زین اٹھو۔۔۔وہ گہری نیند میں تھا جب ناٸلہ آفندی کی جھلاہٹ بھری آواز سناٸی دی۔۔

کیا ہوا مام ؟۔۔وہ جلدی سے اٹھ کر بیٹھتے ہوۓ بولا۔۔

فاریہ آٸی تھی باہر،وہ سنجیدگی سے بولی۔۔

واٹ ؟آپ نے مجھے بتایا کیوں نہیں۔۔؟ وہ بےچین ہوکر بولا۔۔

ناٸلہ آفندی نے آنکھیں میچ کر اپنا غصہ کنٹرول کیا۔۔۔

تم کیا چاہتے ہو زین ؟ وہ تپ کر بولی۔۔

کیا مطلب ؟ وہ نظریں چرا کر بولا۔۔

اس نے مجھے بتایا کہ تم پری زیب سے شادی صرف اس سے بدلہ لینے کیلٸے کرنا چاہتے ہو“۔۔۔۔۔ اگر یہ سچ ہے تو پھر یاد رکھنا میں ہمیشہ پری زیب کا ساتھ دونگی۔۔۔۔ ناٸلہ آفندی نے غصے سے کہا۔۔۔۔۔۔

زین لب بھینچ کر رہ گیا۔۔۔

ابھی اور اسی وقت تم پری زیب کےپاس جا رہے ہو اور اسکو لیکر اسکی مرضی کی شاپنگ کرواٶ گے۔۔ناٸلہ آفندی نے کہا تو وہ سر ہلا کراٹھ کر تیار ہونے لگ گیا۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

السلام علیکم۔زین نے پری زیب کےروم میں داخل ہوکر سلام کیا۔۔

اور پری زیب کیساتھ احمر اور فاریہ بھی بیٹھے تھے۔۔

ان تینوں نے اسکے سلام کا جواب دیا۔۔

احمر باہر چلتے ہیں کیونکہ ہمیں پری زیب اور زین کو پراٸیویسی دینی چاہیے۔فاریہ نے احمر کا ہاتھ پکڑ کر اٹھاتے ہوۓ کہا۔۔

ارے نہیں فاریہ جی۔ہمیں جو کرنا ہوگا سب کے سامنے ہی کر لیں گے۔۔میاں بیوی ہیں ہم۔۔۔زین نے کہا اور پھر پری زیب کے پاس بیٹھ کر اسکا ماتھا چوم لیا۔۔۔۔

اہممممم،اہممممممم“زین صاحب آپ کو شاید ان چیزوں سے فرق نہیں پڑتا مگرہم مڈل کلاس لوگ ہیں۔ایسی چیزوں سے ہمیں زرا فرق پڑتا ہے۔۔آپ دونوں باتیں کریں ہم باہر جاتے ہیں ۔۔احمر نے کہا اور باہر نکل گیا۔۔

اور زین پھر پری زیب کو لیکر شاپنگ کرنے چلا گیا۔۔اور شام تک وہ دونوں باہر ہی رہے۔۔اور پھر شام کو پری زیب گھر واپس آٸی تو کافی خوش تھی۔۔۔۔

اور پھر اس نے سب کو شاپنگ دیکھاٸی۔۔۔

فاریہ دل ہی دل میں اسکی داٸمی خوشیوں کی دعا کرنے لگی۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

🌻🌻🌻مہندی🌻🌻🌻

آج مہندی کی رات تھی۔اور احمد نے گھر کے پاس ہی میرج ہال میں انتظامات کرواۓ تھے۔۔

زین وغیرہ کیطرف سے زیادہ لوگ نہیں تھے۔مگر ان کا سارا خاندان کل سے ہی شادی کیلٸے آ چکا تھا۔۔۔تو گھر میں انتظامات کم پڑ جانے تھے۔۔۔

فاریہ نے تیار ہوکر خود کو آٸینے میں دیکھا۔۔ییلو اور اورنج کلیوں والی فارک پہنے اور بال کھلے چھوڑے “لاٸٹ سے میک اپ میں بہت پیاری لگ رہی تھی۔۔

فری یار تم تیار ہو تو چلو ہمیں پری زیب کو پارلر سے پک کرنا ہے۔۔احمر بولتا ہوا اندر داخل ہوا۔مگر سامنے فاریہ کا سہانا روپ اسکے دل کو دھڑکا گیا۔۔

وہ دھیرے سے چلتا ہوا اسکے پاس آیا۔اور ہولے سےاسکے رخسار کو چھوا۔۔

بہت پیاری لگ رہی ہو،وہ ہولے سے بولا۔۔

فاریہ نے گھبرا کر اسے دیکھا۔۔پھر وہ اسکی ساٸیڈ سے نکل کر بیڈ سے سب بکھرا ہوا سامان اکھٹا کرنے لگی۔۔

احمر کے چہرے پہ مسکراہٹ پھیل گٸی۔۔

پھر وہ دونوں پری زیب کو لینے پارلر چلے گٸے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

زین تیار ہوکر باہر نکل ناٸلہ آفندی کے روم میں چلا آیا۔۔

مام آپ ریڈی ہیں تو چلیں۔۔اس نے اندر آ کر پوچھا۔۔

بس بچے دومنٹ۔۔وہ کانوں میں ڈاٹمنڈ ٹاپس پہنتے ہوۓ بولیں۔۔

ٹھیک ہے آپ تیار ہوکر باہر ہی آ جاٸیے گا۔۔میں ویٹ کر رہا ہوں آپ دونوں کا۔۔زین کہہ کر باہر نکل گیا۔۔

پھر کچھ دیر بعد وہ تینوں اور ملازم وغیرہ سب ہوٹل کیلٸے روانہ ہوۓ۔۔

وہ ہوٹل پہنچے تو انکا پرتپاک استقبال کرنے کیلٸے احمد ،ساٸرہ اور جمال قریشی صاحب کھڑے تھے۔۔

پھر انکو ایک ٹیبل پہ بیٹھایا گیا۔۔

لگتا انکا کافی لمبا چوڑا خاندان ہے۔زین نے اتنے مہمان دیکھ کر کہا۔۔۔

ناٸلہ آفندی نے اسے ایک گھوری سے نوازہ تو وہ جلدی سے اِدھر اُدھر دیکھنے لگا۔۔

پھر کچھ دیر بعد فاریہ اور احمر پری زیب کو لیکر اندر داخل ہوۓ۔۔۔

اور انہوں نے پری زیب کو سٹیج پہ بیٹھایا۔اور ناٸلہ آفندی بھی زین کولیکر سٹیج پہ آٸی اور پری زیب کیساتھ بیٹھا دیا۔

پری زیب ییلو اور گرین شرارے میں بہت پیاری لگ رہی تھی۔۔

زین نے پری زیب کے کان میں کچھ کہا۔تو وہ شرما گٸی۔

زین نے پھر پری زیب کا ہاتھ تھام لیا مگر ساتھ ہی فاریہ کو گہری نظروں سے دیکھا تو فاریہ کے ماتھے پہ بل پڑ گٸے۔۔

احمر۔۔چلیں آپ کی پھوپھو اور مامیوں سے مل لیں ورنہ وہ لوگ سوچیں گی کہ احمد کی بیوی تو اتنی اخلاق والی ہے۔اور احمرکی ہونے والی بیوی بڑی مغرور ہے۔فاریہ نے احمر کا بازو تھام کر زین کو جتاتی ہوٸی نظروں سے دیکھتے ہوۓ کہا۔۔

زین کے اندر تک جلن کی آگ لگ گٸی۔۔

زین یہ کانچ کی سات رنگی چوڑیاں پری زیب کو پہناٶ“یہ ہمارے خاندان کی رسم ہے۔وہ کہتی تھیں کہ مہندی کی رات دولہن کو سات رنگی چوڑیاں پہناٶ تواسکی زندگی میں رنگ ہی رنگ بھر جاتے ہیں۔۔ناٸلہ آفندی نے کانچ کی چوڑیاں زین کیطرف بڑھاتے ہوۓ کہا۔۔

زین چوڑیاں پکڑ لی۔اور پھر وہ غصہ ضبط کرتے ہوۓ پری زیب کو بےدردی سے چوڑیاں پہنانے لگا۔

پنہاتے پہناتے اسکا اور پری زیب کا ہاتھ زخمی ہوگیا۔۔

پری زیب کی سسکاری نکلی۔تو ناٸلہ آفندی نے چونک کر دیکھا۔۔

زین۔۔وہ چلاٸی تو زین سمیت سب انہیں دیکھنے لگے۔۔

یہ کیا کر رہے ہو تم۔بچی کے ہاتھ زخمی کر دٸیے۔وہ تلخ لہجے میں بولی۔تو زین نے چونک کر دیکھا۔تو پری زیب کے ایک دو جگہ چوڑی ٹوٹ کر اسکے ہاتھ کی پشت کو زخمی کر گٸی تھی۔۔اور زین کی انگلیاں زخمی ہوٸی تھی۔

پری زیب نے اپنا زخم بھول کر جلدی سے زین کا ہاتھ تھام لیا۔۔

مام زین کا ہاتھ زیادہ زخمی ہوا ہے۔وہ نم لہجے میں بولی۔۔

تو ناٸلہ آفندی نے چونک کر دیکھا۔۔

زیادہ درد ہو رہا ہے۔پری زیب نے اس کیطرف دیکھتے ہوۓ پوچھا۔۔

زین اسکی آنکھوں میں اپنے زخم کا درد دیکھ کر سن ہو گیا تھا۔۔۔۔۔۔

میں ٹھیک ہوں پری زیب،تم بینڈیج کروا لو میں ہاتھ دھو کر آتا ہوں۔۔وہ کہہ کر تیزی سے واشروم کیطرف بڑھ گیا۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

فاریہ نے اپنے بیگ سے فرسٹ ایڈ باکس نکال کر پری زیب کے بینڈیج کی۔۔

فری آپی ،پلیز زین کے بھی بینڈیج کر دیں۔۔پری زیب نے کہا تو فاریہ اثبات میں سر ہلا کر سٹیج سے اتر کر سامنے سے آتے زین کے پاس چلی آٸی۔۔۔

بیٹھیے۔۔بینڈیج کردوں۔۔فاریہ نےکہا تو وہ وہاں چیٸر پہ بیٹھ گیا۔۔۔

فاریہ چپ چاپ اسکی بینڈیج کرنے لگی۔۔

زین کچھ پل اسے دیکھتا رہا۔۔۔۔

پری زیب کو آپ کے کٸے کی سزا ملتی رہے گی سوہنی۔آپ نے دیکھا نہ میں نے اسے کیسا زخم لگایا۔۔زین نے أسے دیکھتے ہوۓ چبا چبا کر کہا۔۔

فاریہ نے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا۔۔۔

میں نے جانتے آج کیا دیکھا؟

زین اسکی بات پہ سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگا۔۔

۔میں نے دیکھا کہ جب جب تم پری زیب کو زخم دو گے تم خود کو بھی زخمی کرو گے۔ پری زیب کا زخم دیکھ کر تمہارے چہرے پہ کرب اترآیا تھے زین آفندی۔۔آج کتنے دنوں کے بعد میں نے محسوس کیا کہ تمہارے اندر ابھی بھی بھولا زندہ ہے۔۔

اپنے بھولے کو مکمل زندہ کرو زین آفندی۔

میں احمر کیساتھ بہت خوش ہوں“اور تم بھی سب کچھ بھلا کر پری زیب کساتھ خوش رہو۔۔ فاریہ کہہ کر اٹھ کر واپس مڑ گٸی۔۔۔

زین لب بھینچے اسے گھورتا رہ گیا۔۔۔

اور سٹیج پہ بیٹھی ناٸلہ آفندی مضطرب یہ سوچ رہی تھی کہ انکے درمیان کیا گفتگو ہوٸی ہوگی۔۔

پھر مہندی کی رسومات ختم کرکے ناٸلہ آفندی نے گھر جانے کی اجازت لی۔

اور پھر باقی سب بھی واپسی کیلٸے نکل گٸے۔۔اور احمد اور احمر کل کے فنکشن کی تیاریاں مینیجر کو بتانے لگے۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *