Mein Kese Kahun by Umme Emman Fatima NovelR50540 Mein Kese Kahun (Episode 19)
Rate this Novel
Mein Kese Kahun (Episode 19)
Mein Kese Kahun by Umme Emman Fatima
فیضی مبہوت سا اس حسین مورت کو دیکھ رہا تھا۔
آپ جتنی حسین ہے اتنی ہی آپکی آواز بھی حسین ہے۔میں سچ بتاٶں گا میں نے اس قدر مکمل حسن آج تک نہیں دیکھا۔۔فیضی اسکے ہاتھ سے ماٸیک تھام کر بولا۔۔
بہت شکریہ مسٹر فیضان۔۔پری زیب نے کہا۔۔
آپ مجھے فیضی کہہ سکتی ہیں۔میرے جاننے والے مجھے اسی نام سے پکارتے ہیں۔
جی اوکے مسٹر فیضی۔پری زیب نے جلدی سے کہا۔۔
آپکا فون نمبر مل سکتا ہے۔کیونکہ ہو سکتا میں آپکو اپنے نیکسٹ البم کیلٸے چوز کرنا چاہوں۔۔۔فیضان نے کہا۔۔
آپ مام کے نمبر پہ بات کر لیجٸے گا۔۔وہ روکھے انداز میں بول کر پلٹ گٸی۔۔
فیضان کی نظروں نے دور تک اسکا تعاقب کیا۔۔
فیضی سر۔۔آپ اس لڑکی میں زیادہ انٹرسٹ نہیں لے رہے۔۔فیضان کے سیکریٹری نے حیرت بھرے انداز میں پوچھا۔۔
واسق یار اس لڑکی میں وہ سب کچھ ہے جو مجھے چاہیے۔مجھے یہ ہر حال میں چاہیے۔۔کیونکہ فیضان علی کے دل کے تاروں کو پہلی بار کسی نے چھیڑا ہے۔۔فیضان بولتا جا رہا تھا اوراسکی آنکھوں کی چمک بڑھتی جا رہی تھی۔۔
واسق نے حیرانگی سے سب دیکھا۔۔۔
سر وہ زین آفندی کی بیوی ہے۔۔زبیر آفندی کی بہو۔اور آفندی اپنی عزت کے معاملے میں جان تک دے دیتے ہیں۔اور آفندیوں سے پنگا تباہی ہے۔۔واسق بولا۔۔
میں زین آفندی کی جان اس طرح لونگا کہ زبیر آفندی اور ناٸلہ آفندی ٹوٹ جاٸیں گے اور زین آفندی کی بیوہ پری زیب میری بیوی بنے گی۔۔بیوی اور بیوہ میں صرف ایک لفظ کا فرق ہے۔۔بیوی سے بیوہ بن کر وہ پھر بیوی بن جاۓ گی۔فیضان علی نے سفاک لہجےمیں کہا۔۔
واسق اسے دیکھتا رہ گیا۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پری زیب آج یونیورسٹی آٸی تھی وہ فری پیڑیڈ میں باہر نکل کر آکر ایک درخت کے نیچے بیٹھ گٸی۔۔اچانک اسے محسوس ہوا وہ کسی کی نظروں کے حصار میں ہے۔اس نے چونک کر ادھر ادھر دیکھا۔۔۔
مجھے تلاش کر رہی ہیں آپ۔۔۔؟ پیچھے سے آٸی آواز پہ چونک کر مڑی تو پیچھے فیضان علی کھڑا تھا۔۔۔
آپ۔۔؟ پری زیب نے حیرت سے کہا۔۔۔
جی میں جناب۔۔فیضان علی نے سینے پہ ہاتھ باندھ کر کہا۔۔
آپ ادھر کیا کر رہے ہیں۔؟پری زیب نے اٹھتے ہوۓ پوچھا۔۔
میں نے اپنی سٹڈی بہت سال پہلے ادھوری چھوڑ دی تھی تو وہی کیمپلیٹ کرنے یہاں آیا ہوں۔اس نے مسکرا کر جواب دیا۔۔
اووووہ اچھا۔پری زیب نے مسکرا کر کہا۔۔
آپ سے کچھ کام تھا۔اکچوٸلی مجھے فرسٹ سمسٹر میں آپکی ہیلپ چاہیے۔کیا آپ میری ہیلپ کر دیں گی۔۔فیضان نے پوچھا۔۔
جی جی بالکل۔۔۔پری زیب نے کہا اور پھر وہ دونوں لاٸبریری چلے گٸے۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زین کو بزنس ٹور پہ گٸے دو مہینے ہو گٸے تھے۔۔اور ایک بار بھی فون پہ دونوں نے بات نہیں کی تھی۔۔اور فیضان اور پری زیب کی کافی دوستی ہو گٸی تھی۔۔
سٹارٹ سے ہی روز پری زیب اسکی اساٸمنٹ میں مدد کرنے لگ گٸ تھی ۔۔اور فیضان موباٸل پہ بھی اسے گڈمارننگ ،گڈ ایوننگ کے میسیج کرنا نہیں بھولتا تھا۔۔۔
ہاۓ پری زیب۔۔فیضان نے پری زیب کی کلاس میں آکر اسکے پاس بیٹھتے ہوۓ کہا۔
ہاۓ فیضی۔۔اس نے لیپ ٹاپ سے نظریں اٹھاۓ بغیر جواب دیا۔۔
آج برتھ ڈے ہے میرا۔۔فیضان نے کہا۔۔
اووووہ رٸیلی۔۔ایم سو سوری۔۔ہیپی برتھ ڈے ٹو یو۔۔پری زیب نے جلدی سے اسکی طرف مڑتے ہوۓ کہا۔۔
اب تو میں آپکی وششز کو ایکسپٹ نہیں کرونگا۔۔فیضان نے کہا۔
کیوں۔۔۔۔۔؟
بس نہیں کرونگا۔۔لیٹ وش کیا آپ نے۔وہ منہ بنا کر بولا۔۔
اچھا پھر مانے گے کیسے آپ؟ پری زیب نے پوچھا۔۔
آج اپنے ہاتھوں سےڈنر بنا کر کھلاٸیں گی تو مانو گا۔۔فیضان نے کہا۔۔۔
اوکے ٹھیک ہے۔آ جاٸیے گا مام بھی بہت خوش ہونگی۔وہ جلدی سے بولی۔۔
اوکے ماٸی ڈیٸر۔۔فیضان نے کہا۔۔
اور پھرپری زیب جلدی سے اپنی اساٸمنٹ کیطرف متوجہ ہوٸی۔۔پھر جب وہ یونیورسٹی سے آف کے بعد گھر پہنچٕی تو ناٸلہ آفندی اپنی کسی میٹنگ میں گٸی تھی۔۔۔
پری زیب جلدی سے منہ ہاتھ دھو کررات کے ڈنر کی تیاری میں مصروف ہو گٸی۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ناٸلہ آفندی لاٶنج میں بیٹھی تھی جب زبیر آفندی اندر داخل ہوۓ اور انکے پیچھے زین تھا۔۔۔
اوووووہ ماٸی گاڈ۔۔ناٸلہ آفندی کا منہ حیرت سے کھل گیا۔۔۔
تو میری بہو تمہارے لٸے آج دوپہر سےکچن میں گھسی کھانا پکا رہی ہے۔۔۔
کیا۔؟ زین انکی بات پہ حیرت سے بولا۔۔۔
جی جناب۔۔ناٸلہ آفندی نےخوش ہوکر کہا۔۔
رٸیلی مام،مجھے تو یقین ہی نہیں ہو رہا۔۔۔وہ جھینپ کر بولا۔۔
ناٸلہ آفندی اسکے چہرے کی چمک پہ کھلکھلا کر ہنس دی۔۔۔۔
پھر ساتھ ہی وہ بتول کو آواز دینے لگی۔۔
بتول بی بی۔۔جاٸیے جاکر میم کو بتاٸیے زین صاحب آ گٸے ہیں۔۔ناٸلہ آفندی نے کہا۔۔
پھر وہ اسکے ٹور کی تفصیلات پوچھنے لگی۔۔زین ساتھ جواب بھی دے رہا تھا۔۔مگر اس کی بیتاب نظریں پری زیب کی راہ ہی تک رہی تھی۔اس نے لندن میں ہرپل اسے مس کیا تھا۔مگر وہ جب بھی فون کرتا ناٸلہ آفندی کو تو پری زیب پاس ہی بیٹھی ہوتی تھی۔ناٸلہ آفندی جب فون اسکی طرف بڑھاتی تھی تو وہ بہانے بنا دیتی تھی۔مگر آج وہ اسکے لٸے تیاریاں کر رہی تھی۔اس چیز نے زین کی ساری تھکاوٹ دور کردی تھی۔۔
پھر ابھی وہ بیٹھے باتیں ہی کر رہےتھے کہ انٹرکام میں کال آنے لگی۔۔
یس۔۔ناٸلہ آفندی نے رسیور اٹھا کر پوچھا۔۔
میم۔باہر فیضان صاحب آۓ ہیں۔۔۔۔گارڈ نے بتایا۔۔
فیضی اور ہمارے گھر۔۔ناٸلہ آفندی نے کہا تو زین چونک کر سیدھا ہوا۔۔
خیر بھیج دو انہیں۔۔ناٸلہ آفندی نے کہا۔۔
کچھ دیر بعد فیضان اندر داخل ہوا۔
ہاۓ ایوری ون۔اس نے اندر آکر کہا۔۔
زین کے ماتھےپہ بل پڑ گٸے۔۔مگر پھر اس نے اسے غورسے دیکھا۔وہ پہلے سے بھی زیادہ ہینڈسم اور پیارا ہو گیا تھا۔۔۔
ہاۓ زین کیسے ہو؟ وہ اسکی طرف ہاتھ بڑھاتے ہوۓ بولا۔۔۔
ایم فاٸن۔زین نے اپنی ناگواری چھپا کر جواب دیا۔۔
پھر وہ ایک صوفے پہ بیٹھ گیا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پری زیب سکن اور بلیک پرنٹ شرٹ اور ٹاٸثس پہنے ہوۓ تھے۔۔اس نے بالوں کی پونی ٹیل بنا کر اسکارف گلے میں لیا تھا۔۔وہ ٹاپس پہن ہی رہی تھی کہ اسکا دروازہ ناک ہوا۔۔
یس۔۔پری زیب نے کہا۔۔
میم وہ زین صاحب آ گٸےہیں۔۔ملازمہ نے اندرداخل ہوکر کہا۔
پری زیب چونک کر مڑی۔۔
کون آگٸے۔۔اس نے جلدی سے پوچھا۔۔
زین صاحب۔۔ملازمہ نے جواب دے دیا۔۔
پری زیب کے دل کی دھڑکن تھم سی گٸی تھی۔اسکے اندر طوفان مچ گیا تھا۔۔آج دو مہینوں بعد وہ اس دشمن جان کو دیکھنے والی تھی جس نے اسکا چین و سکون چھین لیا تھا۔۔
وہ چلتی ہوٸی بیڈ پہ بیٹھ گٸی۔۔
کتنی دیر بیٹھی وہ خود کو مضبوط کرتی رہی۔۔پھر وہ خود کو سنبھالتی باہر نکل آٸی۔وہ چلتی ہوٸی لاٶنج کیطرف بڑھی اور پھر اس نے انکے پاس جاکر سلام کیا۔۔
زین مبہوت سا اسے یک ٹک دیکھ رہا تھا۔۔
ہاۓ زین۔۔اس نےکہا۔۔
ہاۓ۔۔زین نے نظریں چراٸی۔۔۔
پھروہ فیضان کیطرف بڑھی۔اس سے ہاتھ ملایا۔
تھینک یو ویری مچ فار ڈنر۔۔وہ مسکرا کر بولا۔۔
زین نےاسکی بات پہ لب بھینچ لٸے۔۔
نو نیڈ فیضی۔وہ مسکرا کر بولی۔۔
بہت بیوٹی فل لگ رہی ہیں آپ۔فیضی نے کہا۔۔
تھینک یو۔۔وہ ہولے سے بولی۔۔
پھر وہ تین گھنٹے بیٹھا رہا او نجانے کون سے راز نیاز چل رہے تھے دونوں میں۔انکا بے تکلف رویہ زین کے اندر طوفان مچا رہا تھا۔۔۔
پھر ہار کر زین ہی ایکسیوزڈ کرتا ہوا وہاں سے اٹھ کر چلا گیا۔
اور ناٸلہ آفندی تو زین کی امید ٹوٹنے پہ افسردہ ہو گٸی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زین پچھلے دو گھنٹوں سے کمرے میں ادھر سے ادھر کے چکر کاٹ کر اپنےاندر اٹھتے طوفان کو ختم کرنا چاہ رہا تھا۔۔
وہ ہار کر صوفے پہ بیٹھ گیا۔اور ہاتھوں کی انگلیاں ایک دوسرے پہ پھسا کر مضطرب سا بیٹھا تھا۔۔
پھر کافی دیر بعد دروازہ کھلنے پہ وہ مڑ کر دروازے کو دیکھنے لگا۔توپری زیب اندر داخل ہوٸی۔
زین نے اپنا اضطراب چھپا لیا اور ٹاک شو دیکھنے لگا مگر ساتھ کن اکھیوں سے پری زیب کو بھی دیکھ رہا تھا۔وہ ڈریسنگ روم میں کھڑی اپنے بال سمیٹ رہی تھی پھر وہ ناٸٹ ڈریس لیکر واشروم میں گھس گٸی۔۔
اور پھر کپڑے چینج کرکے وہ بیڈ پہ آ کر لیٹ گٸی۔۔
اس فیضان سے تو پٹر پثر باتیں کر رہی تھی۔۔اور مجھے دیکھ کر ہی سکتہ ہو گیا ہے۔وہ دل ہی دل میں جھلایا۔
پھر وہ اٹھ کر اسکے پاس آیا اور اسکی ساٸیڈ پہ بیڈ پہ لیٹ گیا۔۔۔
پری زیب نے ناگواری سے دیکھا۔۔اور پھر کمر پہ ہاتھ رکھ کر اسکے سامنے کھڑی ہوکر خشمگیں نگاہوں سے اسے گھورنے لگی۔۔
واٹ۔۔۔؟ زین نے کندھے اچکا کر پوچھا۔۔
اٹھو میری جگہ سے۔۔وہ غصہ ضبط کرکے رسانیت سے گویا ہوٸی تھی۔۔
نہیں اٹھنا۔اور اس کیلٸے تم اگر پانی کی بالٹی بھی گرا دو پھر بھی نہیں اٹھوں گا۔۔اور ہاں نیا طریقہ ڈھونڈو بیڈ سے اٹھانے کا۔۔زین نے اطمینان سے کہا۔۔
ٹھیک ہے لیٹے رہو۔۔میں کیوں تم پہ اپنا ٹاٸم ویسٹ کروں۔۔وہ اطمینان سے بولی اور پھر اپنی بکس اور موباٸل پکڑکر روم سے نکل گٸی۔۔
زین لب بھینچ کر رہ گیا۔پھر اس نے تکیے،کشن اٹھا اٹھا کر زمین پہ پھینکے اور آنکھوں پہ بازو رکھ کر لیٹ گیا۔مگر نیند تواسکی آنکھوں سے دور ہو گٸی تھی۔
کچھ دیر تک وہ لیٹا رہا پھراٹھ کر وہ باہرنکل آیا۔اس نے ساتھ والے کمرے کا دروازہ کھولا تو پری زیب اندر سوٸی تھی۔وہ دھیرے سے چلتأ ہوا اسکے پاس آیا اور اسے دیکھنےلگا۔۔
تم ایسے کیسے کرسکتی ہو پری زیب۔آج مجھ سے لڑے بغیر چپ چاپ اپنا کمرا چھوڑ کر ادھر آ گٸی۔۔وہ اسکے پاس بیٹھتے ہوۓ سوچنے لگا۔پھر دھیرے سے اس پہ جھک کر اسکے ماتھے چوما۔۔
وہ نیند میں کسمساٸی تو زین اٹھ کر باہر نکل آیا۔۔
اسکے اندر بےچینی بھرتی جا رہی تھی۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زین ناشتے کی ٹیبل پہ پہنچا تو سب پہلے سے ہی موجود تھے۔۔
وہ پری زیب کے ساتھ والی چیٸر گھسیٹ کر بیٹھ گیا۔۔۔
پری پلیز یہ سلاٸس کو جیم لگا دو۔میں بہت لیٹ ہو گیا ہوں۔وہ جوس کا گلاس لبوں پہ لگاتے ہوۓ بولی۔
پری زیب نے اسے گھور کر دیکھا۔مگر مام ڈیڈ کیوجہ سے کچھ بولی نہیں۔اور چپ چاپ سلاٸس کو جیم لگا اسکی طرف بڑھایا۔۔۔۔
پلیز ایک اور کو لگادو۔۔زین نے کہا۔۔
پری زیب نے اسے کھا جانے والی نظروں سے دیکھا اور پھر دوسرے کو جیم لگانے لگی۔۔زین نے بمشکل اپنی ہنسی کنٹرول کی۔۔
پھر ناشتے سے فارغ ہو کر پری زیب بیگ تھام کر باہر نکلی تو زین بھی اسکے پیچھے نکل آیا۔۔
اور دونوں اکھٹے ہی یونیورسٹی پہنچے۔۔
اور فری پیڑیڈ میں پری زیب اپنی مخصوص جگہ پہ آ کر بیٹھ گٸی۔اور زین بھی اسکے ساتھ بیٹھ گیا۔۔
تم یہ آج جو کچھ کر رہے ہو مجھے غصہ دلا رہے ہو۔۔پری زیب نے کہا۔۔
میں نے کیا کیا؟ زین کا اطمینان بھرا جواب آیا۔۔
تم اچھے سے جانتے ہو۔وہ تپی۔۔
میں تو بسسس۔۔۔
ہاۓ پری۔۔آج اتنے غصے میں ہو خیریت تو ہے۔اس سے پہلے زین کچھ کہتا کہ فیضان نے پاس آکرپوچھا۔۔۔
بالکل خیریت ہے فیضی۔۔پری زیب نے کہا۔
چلو پھر اٹھو کینٹین چلتے ہیں۔فیضان نے اسکی طرف ہاتھ بڑھاتے ہوۓ کہا۔۔
اوکے۔۔پری زیب نے اسکے ہاتھ میں ہاتھ دیکرکہا۔
زین کے اندر طوفان مچ گیا۔۔وہ ایک جھٹکے سے اٹھا اور پری زیب کا ہاتھ پکڑ کر اپنی طرف کھینچا۔۔
فیضان تو فیضان پری زیب کو بھی اس کی اس حرکت کی توقع نہیں تھی۔۔
یہ سب کیا بدتمیزی ہے زین۔فیضان نے ارد گرد دیکھتے ہوۓ کہا۔۔
بدتمیزی میں نہیں تم کر رہے ہو۔تم جانتے ہو کہ میں تمہیں پسند نہیں کرتا۔۔اور تم میری بیوی کیساتھ فری ہو رہے ہو۔زین نے تلخ لہجے سے کہا۔
دشمن میں نہیں ہوں تمہارا۔تم خود احساس کمتری کا شکار ہو مجھے دیکھ کر۔۔فیضان نے کہا۔
تم ہو کیا چیز فیضان علی جو میں تمہیں دیکھ کر احساس کمتری میں مبتلا ہو جاٶں۔۔زین نے تڑخ کر کہا۔۔
زین تماشا مت بناٶ۔۔فیضان نے دبے دبے لہجے میں کہا۔۔
تم پری زیب سے دور رہو۔زین نے اسکا گریبان پکڑ کر کہا۔
بس کریں آپ دونوں۔پری زیب نے زین کو پیچھے دھکیل کر کہا۔۔
تم اس گھٹیا انسان سے کوٸی تعلق نہیں رکھو گی۔۔زین نےپری زیب کا بازو دبوچ کر کہا۔۔
آپ ہوتے کون ہے مجھے منع کرنے والے۔میں اور فیضی فرینڈز ہیں اور ہمیں ملنے سے آپ نہیں روک سکتے۔پری زیب نے کہا۔۔
پری زیب حد میں رہو۔۔زین نے کہا۔۔
چلیں فیضان۔پری زیب نے تیکھی نظروں سے زین کو دیکھتے ہوۓ کہا۔۔اور دونوں وہاں سے نکل گٸے۔۔
زین نے زور سے مٹھیاں بھینچ لی۔۔اسکواپنا سر درد سے پھٹتا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔۔پھر وہ وہاں سے نکل کر اپنے پرسنل روم کیطرف آ گیا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے
