Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mein Kese Kahun (Episode 23)

Mein Kese Kahun by Umme Emman Fatima

آج کے شو کی ایپیسوڈ میں زین سب سے آگے تھا۔۔

اور کل آپس میں جوڑیاں بنا کر انکا پرفارمنس کروانا تھا اور ہر ہفتے جوڑیاں بدلنی تھی۔۔

اور کل کی ایپیسوڈ میں پری زیب اور زین کی جوڑی تھی۔۔

پری زیب تب سے غصے میں تھی۔۔۔

کیا ہوا،چہرہ شریف کیوں اترا ہے؟ زین نے دھپ سے پاس بیٹھتے ہوۓ کہا۔۔

کیوں بتاٶں،تم افسر لگےہو مجھ پہ۔۔وہ حسب توقع تپی۔۔

نہیں میں تمہارا شوہر لگا ہوں۔۔۔وہ اسکے سر سے سر ٹکا کر بولا۔۔

شششششش۔پری زیب نے اسکے ہونٹوں پہ ہاتھ رکھا۔

زین ساکت کھڑا دیکھ رہا تھا۔۔

پاگل ہو گٸے ہو۔فیضی نے مجھے ان میریڈ شو کیا ہے سب کے سامنے۔۔اور اسکی عزت کا سوال ہے۔پری زیب نے ناگواری سے کہا۔۔۔۔۔

زین کی آنکھوں میں غصہ اتر آیا۔۔

اس نے پری زیب کو کھینچ کر دیوار کیساتھ لگا دیا۔۔

تم خود کو کیا سمجھتی ہو پری زیب۔۔وہ بھینچے ہوۓ لہجے میں بولا۔۔۔

پری زیب اسکے غضب ناک انداز پہ گھبرا گٸی۔۔۔

تمہیں فیضان کی عزت کی فکرہے۔۔میرے مان اور عزت کا کیا۔۔؟زین نے اسکے ماتھے سے ماتھا ثکا کر پوچھا۔

پری زیب نے زخمی نگاہوں سے اسےدیکھا۔پھر اسکے گریبان سے پکڑ لیا۔۔

میرے مان اور ٹرسٹ کا کیا زین۔۔؟ایک لڑکی جب اپنا گھر چھوڑ کر آتی ہے تو وہ اپنی سب کشتیاں جلا کر آتی ہے۔اور بدلے میں اسے مرد کا مان ،عزت اور محبت ہی چاہیے ہوتا ہے۔۔مگر آپ نے میرے مان،عزت کو اسطرح مجروح کرکے میری محبت کامزاق بنایا کہ میرے آنسو میرے اندر جم گٸے ہیں۔۔میرادل سخت ہو گیا ہے۔مجھے اب نہ رونا آتا نہ درد محسوس ہوتا۔۔مگرمیرے اندر جیسے نفرت کی آگ دہک رہی ہے اور یہ میرے سمیت سب کو جلا کرٹھنڈی ہوگی۔۔وہ سرخ آنکھوں سے بولی۔۔

پھر وہ زین کو پیچھے دھکادیکر تیزی سے وہاں سے نکل گٸی۔۔

زین کو لگا کہ وہ ہوا میں معلق ہو گیا ہے۔۔۔

پری زیب میں تمہیں تمہارامان ضرور لٹاٶں گا۔۔پھر سے پہلے والی پری بناٶں گا۔۔وہ دل ہی دل میں مخاطب ہوا۔اور پھر سر جھٹک کر وہاں سے مڑ گیا۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دروازہ دھاڑ سے کھلا تو شو کے ڈاٸریکٹر امین صاحب نے چونک کردیکھا۔

یہ کیا بدتمیزی ہے ؟وہ اندر داخل ہوتے فیضان پہ دھاڑے۔۔

آپ نے زین کو اس شو کیلٸے کاسٹ کیوں کیا۔۔؟ اس نے تڑخ کر پوچھا۔۔

تمیز سے بات کرو مجھ سے۔۔آج تم جو ہو میری وجہ سے ہو۔اور زین اس قدر ٹیلنٹڈ ہے کہ اسے کاسٹ کرنا شو کی شان ہوگا۔۔۔امین صاحب نے کہا۔۔۔

اسکے ٹیلنٹ یا اسکے باپ کی دولت کیوجہ سے۔۔فیضان نے ناگواری سے پوچھا۔۔

بکواس بند کرو اپنی۔۔تم آج اس مقام پہ ہو تو جانتے ہو کیوں۔۔کیونکہ زین نے اگر سوساٸیڈ نہ کی ہوتی تو وہ یہاں ہوتا۔۔امین صاحب نے دھاڑکر کہا۔۔

آپ کو اسے نکالنا ہوگا۔۔فیضان نے ضدی انداز میں کہا۔۔

اسی دوان واسق اندر داخل ہوا۔۔

واسق لے جاٶ اپنے باس کو ورنہ میں اسے اس شو سے نکال دونگا۔۔امین صاحب نے غصے سے کہا۔۔۔

سر چلیں،باہر چلیں ۔۔واسق نے اسے کہا اور پھر اسے باہر لے آیا۔۔۔

چھوڑو مجھے واسق۔۔اس نے غصے سے بازو چھڑوایا۔۔

سر پلیز ریلیکس ہو جاٸیں“اوراگر آپ کو یہاں سے نکال دیا تو جانتے بھی ہیں کہ بھابھی جی کو دیکھنے سے محروم ہو جاٸیں اور یہاں رہ کر ہم زین اور بھابھی جی کو الگ کرنے کی سازش کھیل سکتےہیں۔وہ جلدی سے بولا۔۔

فیضان اسکی بات پہ ٹھنڈا پڑ گیا۔۔۔

مگر پیچھے کھڑے زین کا دماغ گرم ہو گیا تھا۔۔وہ تیزی سے آگے بڑھا اور فیضان کو کالر سے پکڑ کر کھینچا اور رکھ رکھ کر تھپڑ مارے۔۔

پھر وہ دونوں گتھم گتھا ہو چکے تھے۔۔واسق نے بمشکل انکو الگ کیا۔۔

تم نے یہ بالکل اچھا نہیں کیا زین۔۔وہ تپ کر بولا۔۔

تمہاری جان لے لوں گا اگر تم اپنے گندے ارادوں میں باز نہ آۓ۔۔زین نے غصے سے کہا۔

ہایاہاہاہا۔۔چل لے جان۔۔میں بھی دیکھتا ہوں کتنے پانی میں ہے توں۔۔چل ایک چیلنج کرتا ہوں میں تجھے اور پری زیب کو الگ کرنے کی سازش رچوں گا۔۔تم اس سازش سے بچ کر دیکھانا۔۔فیضان نے طنزیہ انداز میں کہا۔۔

میں پری زیب کو اپنے پیار کے رنگ میں رنگ اسکے سارے شکوے دور کرونگا تم مجھے روک سکتے ہو توروکو۔۔یہ میرا چیلنج ہے۔۔زین نے تلخ لہجے میں کہا اور واپس مڑ گیا۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پری زیب کی آنکھ کھلی تو زین روم میں نہیں تھا۔وہ اٹھ کر نیچے آٸی تو زین باہر لان میں ایکسرساٸز کر رہا تھا۔

یہ اسکو کیا ہوا آج صبح کے وقت ایکسرساٸز ہو رہی ہے۔پہلے تو کبھی نہیں اٹھا “پری زیب بڑبڑاٸی اور پھر چلتی ہوٸی پاس آٸی۔۔

ہمیں سٹوڈیو جانا تھا نا اور تم یہاں ایکسرساٸز کر رہے ہو۔۔پتا ہے نہ کہ آج اکھٹے پرفارمنس ہے۔۔وہ جھلا کر بولی۔۔

زین نے گلاب کے پودے کے پاس رک کر پھول توڑا اور ایک ادا سے مڑ کر پری زیب کیطرف پھول بڑھایا۔۔۔

گڈ مارننگ بیوٹی کوٸین۔۔وہ مسکرا کر بولا۔۔

پری زیب کی دھڑکن تیز ہو گٸی۔۔مگر پھر وہ خود کو سنبھالتی ایک ادا سے مڑی اور پھر تھوڑا آگے جاکر پلٹی اور اسکے ہاتھ سے پھول لے لیا۔۔۔

یہ مت سمجھنا کہ تم نے دیا تو لیا۔مجھ ریڈ روز پسند ہے اس لٸے لیا۔۔وہ ناک سکوڑ کر بولی۔۔

زین کے چہرے پہ مسکراہٹ تیرنے لگی۔۔۔

ہنسو مت،جلدی سے آکر کپڑے چینج کرو پھر ہمیں ریہرسل کیلٸے جانا ہے۔۔وہ کہہ کر واپس مڑ آٸی۔۔

کمرے میں آکر اس نے اس گلاب کو محبت سے چوما اور پھر اسے اپنے ساٸیڈ ٹیبل پہ رکھ کر کپڑے چینج کرنے ڈریسنگ روم میں چلی گٸی۔۔

کچھ دیر بعد زین بھی روم میں آ گیا تھا۔۔اور اس نے بھی کپڑے چینج کٸے اور پھر دونوں ریہرسل کیلٸے نکل گٸے۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شو سٹارٹ ہو چکا تھا۔۔زین اور پری زیب اکھٹے ہی بیٹھے تھے۔۔انکا ڈریس تھیم بھی میچ ہی تھا۔۔پری زیب نے بلیک فراک پہن رکھی تھی اور زین نے بلیک کرتا اور واٸٹ شلوار۔۔۔

پری زیب نے کوک پی لی تھی اور بہت ٹھنڈی تھی تو اسکا گلہ دکھ رہا تھا

میں پرفارم نہیں کر پاٶں گی۔۔

جوشاندہ کہا ہے صفدر سے میں نے۔۔وہ پی لینا افاقہ ہوگا۔۔زین نے اسکے ہاتھ پہ ہاتھ رکھ کر کہا۔تو اس نے اثبات میں سر ہلایا۔

پھر صفدر کچھ دیر بعد جوشاندہ دیکر گیا اور شہد میں کالی مرچ مکس کرکے دیکر گیا۔۔زین بار بار اسکو وہ دے رہا تھا۔۔

پھر کچھ دیر بعد پرفاررمنس کیلٸے انکا نام پکارا گیا تو وہ دونوں سٹیج پہ آۓ۔۔

آپ کی جوڑی بہت خوبصورت لگ رہی ہے۔۔زین کا جج تنویر بولا۔۔

بالکل تنویر۔۔میں تو کب سے ان کو دیکھ رہی ہوں یہ زین اتنی محبت سے پری زیب کو کچھ دے رہا تھا۔۔کیا سین تھا بھٸی۔۔ٹیم سی کی جج ملاٸکہ نے پوچھا۔۔۔

کوٸی سین نہیں میم۔بس پری زیب کا گلہ دکھ رہا تھا۔۔زین نے جھینپ کر کہا۔۔

اہمممم اہمممم۔۔۔ملاٸکہ کھنکاری۔۔۔

میم یہ تو کچھ نہیں آٸیے آپکو کچھ دیکھاتے ہیں ریہرسل ٹاٸم کی سٹوری۔۔ہوسٹ نے مسکرا کرکہا۔۔

اور ایک ویڈیو آن کی۔۔

(زین کے بچے تم کتنے بدتمیز ہو ریہرسل ہی کرواۓ جا رہے ہو تھک گٸی ہوں میں۔۔۔پری زیب بولی۔۔

اووووہ میڈم۔ریہرسل ضروری ہے بس ریہرسل پہ توجہ دو۔۔

تم اپنے آپ کو کیا سمجھتے ہو۔۔۔

انسان۔۔۔زین نے اطمینان سے جواب دیا۔۔۔

پری زیب کا منہ حیرت سے کھلا۔۔۔

تم “تم نہ کاپی کیٹ ہو۔۔وہ تپی۔۔

سوری میں تو مذکر ہوں۔کیٹ مٶنث ہوتی ہے۔۔جیسے تم ہو کن کٹی بلی۔۔زین نے چھیڑا۔۔

تمہیں اتنی حسین لڑکی کیٹ دکھتی ہے۔وہ تپی۔۔

اوووووہ گاڈ کیا بول دیا۔۔بیچاری کیٹ کی توہین تم سے ملا کر۔زین نے شرارتی انداز میں کہا۔

مرو دفع ہو جاٶ۔۔۔پری زیب تپ کر بولی)

ویڈیو ختم ہوٸی تو سب کھلکھلا کر ہنس پڑے۔۔۔

وااااٶ۔۔مزا آنے والا ہے۔ملاٸکہ بولی۔۔

بالکل۔۔وہ بھی بہت۔۔تنویر بولا۔۔۔

اور ہھر نیکسٹ جوڑیاں منتخب کی گٸی۔۔اور اس ہفتے کی ہٹ سپر سنگر جوڑی زین اور پری زیب کہلاۓ گٸے۔۔۔

پھر ہر ہفتے جوڑیاں تبدیل ہوتی رہی مگر جب جب زین پری زیب کی جوڑی آتی تو لوگ انکو زیادہ پسند کرتے تھے۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سپر سنگر شو کا گرینڈ فناٸلے کچھ دن بعد تھا جو کہ مری کے ایک بڑے ریسٹورنٹ میں رکھا گیا تھا۔۔

زین اور پری زیب اپنے اپنے ججز کیساتھ ایٸر پورٹ پہ بیٹھے تھے۔۔اور زین کی ملاٸکہ کی ٹیم کی ایک لڑکی مہوش کیساتھ کافی دوستی ہو گٸی تھی وہ دونوں اکھٹے بیٹھے کوٸی بات کر رہے تھے۔۔

فاٸنل میں چاروں ججز کا ایک ایک سنگر سلیکٹ ہوا تھا۔۔تنویر کی ٹیم کا حماد اور ملاٸکہ کی ٹیم کی مہوش۔زین کے جج کی ٹیم کا زین اور فیضان کی ٹیم کی پری زیب۔

چاروں نے باری باری ایک دوسرے کیساتھ گانا گانا تھا اور پھر جوڑی بن کر لاسٹ پرفارمنس کرنی تھی۔۔اور دو جوڑیوں میں سے ایک وینر۔۔مگر ابھی تک ججز نے بتایا نہیں تھا کہ جوڑی دار انکا کون تھا۔۔

مگر پری زیب کو زین اور مہوش کا ایک ساتھ بیٹھنا آگ لگا رہا تھا۔۔

پتا نہیں کیا سمجھتا اپنے آپ کو۔کیسےاس بندریا مہوش سے ہنس ہنس کر بات کر رہا ہے۔وہ جھلا کر سوچنے لگی۔۔

پھر وہ لوگ اسلام آباد پہنچ کر وین کروا مری کے ہوٹل میں پہنچے تو پری زیب سب کے اترنے کے بعد بھی منہ پھلا کر وین میں بیٹھی رہی۔۔

پری زیب تم نکل نہیں رہی ہو،؟ زین نے پلٹ کر پوچھا۔۔

میری مرضی۔تڑاخ سے جواب آیا۔۔

اوکے بیٹھی رہو اپنی مرضی سے۔۔میری تم نے ماننی کب ہوتی ہے۔ایک مہوش ہے جو کہ میرے بات کو حکم کا درجہ دیتی ہے۔۔زین نے تپ کر کہا۔۔۔

ہاں تو جاٶ نہ اپنی ہوتی سوتی اسی چول مہوش کے پاس۔۔وہ غصے سے بولی۔۔

زین نے چونک کر دیکھا۔پھر اسکے چہرے پہ مسکراہٹ آگٸی۔۔

تمہیں مہوش سے جلن ہو رہی کیا۔؟ زین نے جھک کر پوچھا۔۔

مجھے کیوں جلن ہو گی۔میں اس بندریا سے جلوں گی۔۔اور تم اسی کیساتھ رہو۔تم دونوں ایک دوسرے کیلٸے ٹھیک ہو۔

ہاں یہ بھی ہے۔۔کیونکہ مجھ جیسا کالا کلوٹا سا مہوش کیساتھ ہی جچتا تمہارے لٸے تو فیضان جیسا گورا چٹا انسان ہوناچاہیے۔۔وہ اسکی بات پہ مسکراہٹ ضبط کرتے ہوۓ سنجیدگی سے بولا۔۔

پری زیب کا حیرت سے منہ کھل گیا۔اس نے اٹھ کر اسکے سینے پہ مکے مارنے شروع کر دٸیے۔۔

انتہاٸی چیپ انسان ہو تم۔۔تمہاری ہمت کیسے ہوٸی مجھے فیضان کیساتھ ملانے کی۔میرے لٸے وہ جسٹ میرا دوست ہے۔۔وہ لال بھوں چہرے کیساتھ بولی۔۔۔

اچھا تو پھر میرے ساتھ دوستی کر لو۔۔میں مہوش سے دور ہو جاٶں گا….

پری زیب نے اسے غصے سے دیکھا۔

اور پھر تن فن کرتی باہر نکل گٸی۔۔زین بھی مسکراتا ہوا باہر نکل آیا۔

ارے پری زیب رکے یار۔۔زین آگے جاتی ہوٸی پری زیب کے پیچھے آتے ہوۓ بولا۔۔

پری زیب ہوٹل کی بجاۓ دوسرے راستے پہ چل دی۔زین اسکے پیچھے۔۔

یار پری کدھر جا رہی ہو دیکھو نہ موسم تھوڑا خراب ہے چلو ہوٹل۔۔زین اسکا ہاتھ تھام کر کہا۔۔

پری زیب نے اسے زور سے دھکا دیا زین اور وہ دونوں نیچے گرے اور ساتھ ہی آٸس سلاٸیڈنگ سٹارٹ ہوگٸی۔۔وہ دونوں لڑھکتے ہوۓ نیچے سے نیچے جاتے گٸے۔۔ساتھ ہی دونوں کے ذہن تاریکی میں ڈوبتے چلے گٸے۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

فیضان پاگلوں کیطرح پری زیب کو ڈھونڈ رہا تھا۔

واسق ملی کیا؟ وہ دوسری طرف آتے واسق کیطرف بڑھتے ہوۓ پوچھنے لگا۔۔

نہیں سر مگر لاسٹ بار انہیں اور زین کو اکھٹا دیکھا گیا ہے۔۔واسق نے کہا۔

فیضان کاچہرہ غصے سے سرخ ہو گیا۔۔

ڈھونڈو ان دونوں کو کہیں بھی۔۔وہ واسق پہ چلایا۔۔

اور پھر غصے سے ادھر ادھر چکر کاٹنے لگا۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

زین کو ہوش آیا تو وہ سراٹھا کر خالی ذہن کیساتھ ادھر ادھر دیکھنے لگا۔پھر اسکی نظر زرا فاصلے پہ بیہوش پری زیب پہ پڑی۔۔۔۔

وہ جلدی سے اٹھ کر اسکی طر ف بڑھا۔۔

پری زیب۔۔وہ اسے اپنے بازوٶں میں بھرتا ہوا بولا۔۔

پھر اسکا چہرہ تھپتھپانے لگا۔

پری زیب نے کراہ کر آنکھیں کھولیں۔۔اور ناسمجھی سے زین کو دیکھنے لگی۔۔

پھر ہوش ٹھکانے پہ آۓ تو وہ جلدی سے زین سے دور ہوٸی۔۔

تم “تم نے مجھے چھوا کیسے۔وہ تپ کر بولی۔۔

ایسے۔۔۔وہ اسکے بازو پہ انگلی پھیرتا ہوا شرارتی لہجے میں بولا۔۔۔۔۔۔

تم زیادہ فری نہ ہو مجھ سے۔۔۔

تو پھر کس سے فری ہونا چاہیے یہ بتا دو۔۔زین نے مسکرا کر پوچھا۔۔۔

اسی اپنی مہوش جی سے ہونا فری۔۔وہ چڑ کر بولی۔۔

اچھا تو تم مہوش سے جلتی ہو۔۔زین نے ہونٹوں پہ انگلی رکھ کر پوچھا۔۔

میں کیوں جلوں گی۔۔پری زیب نے اسے گھورتےہوۓ کہا۔اور پھر اٹھ کر چل دی۔۔اچانک چلتی چلتی رکی۔۔

تمہیں راستے کا پتا ہے۔۔۔پری زیب نےپوچھا۔۔۔

نہیں جناب۔۔میں بھی آپکے ساتھ ہی لڑھکتا یہاں پہنچا ہوں۔زین نے کہا۔۔

پری زیب نے متوحش انداز میں اسے دیکھا۔۔

اب ہم کیسے جاٸیں گے۔۔ہم گم گٸے ہیں۔وہ روہانسی ہوکر بولی۔۔

پریشان مت ہو۔۔ہم پوچھتے ہوۓ پہنچ جاٸیں۔زین نے کہا۔۔

اور پھر وہ چلتی ہوۓ ایک چاۓ والی شاپ پہ پہنچے۔۔

زین جلدی سے اس آدمی کیطرف بڑھا اور ان سے راستہ پوچھنے لگا۔۔

صاحب گاڑی صبح روز جاتا ہے وہاں تو اب تو کل صبح ہی جا سکتے ہیں آپ۔۔وہ آدمی بولا۔۔

تو پھر یہاں سے بس اسٹینڈ کدھر ہے۔۔زین نے پوچھا۔تو وہ آدمی جلدی سے سب سمجھانے لگا۔۔۔

تھینک یو۔۔زین نے کہا۔اور پھروہ اور پری چاۓ پی کر بس اسٹینڈ کیطرف چل پڑے۔۔

مگر وہ پھر راستہ بھٹک کر کہیں کے کہیں پہنچ گٸے تھے۔اور اوپر سے اندھیرا بھی چھا گیا تھا۔

اچانک انہیں محسوس ہوا انکے پیچھے کوٸی ہے۔۔وہ دونوں مڑے تو پیچھے کھڑے دو آدمی ان پہ پسٹل تانے کھڑے تھے۔۔ان کو اپنی سانسیں رکتی محسوس ہوٸی۔۔

مگر پھر زین ان کے ساتھ بھڑ گیا۔اور ایک آدمی کو پکڑ کر وہ گتھم گتھا ہوا تھا کہ دوسرے آدمی نے زین پہ گولی چلا دی۔۔

پری زیب متوحش ہو گٸی۔۔۔

گولی زین کے بازو کو چھوتی ہوٸی گزری تھی۔

زین۔۔پری زیب چیخی۔۔

وہ دونوں آدمی زین کے گولی لگنے کے بعد گھبرا کر بھاگ گٸے تھے۔۔۔۔

پری زیب تیزی سے زین کیطرف بڑھی۔۔جو بازو کو دوسرے ہاتھ سے دباۓ خون روکنے کی کوشش کر رہا تھا۔۔

پری زیب نے جلدی سے اپنے گلے کا اسکارف نکال کر زین کے بازو پہ باندھا۔۔مگر آنسو اسکا چہرہ بھگو رہے تھے۔۔

زین نے اسکا ٹھوڑی سے پکڑ کر چہرہ اونچا کیا۔۔کالی آنکھوں میں آنسوٶں کا طوفان تھا۔۔۔

اے پاگل۔۔میں ٹھیک ہوں۔۔۔

پری زیب اسکی بات پہ اسکے گلے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رودی تھی۔۔

ارے ارے۔۔کیا کر رہی ہو یار۔ٹھیک ہونے کا سن کر رویا جاتا کہ خوش ہوا جاتا ہے۔زین نے جلدی سے کہا۔۔

ایم سو سوری۔میں بہت بری ہوں نہ۔آپ کے درد کیوجہ بنی ہوں اتنے دن سے۔اس دن آپ کے ماتھے پہ میری وجہ سے زخم آیا اور اب میری وجہ سے آپکو گولی لگ گٸی۔اگر بازو کی بجاۓ کہیں اور لگ جاتی تو۔۔۔

تو پھر میں اللہ کو پیارا ہو چکا ہوتا۔اور تم۔۔۔۔۔

اس سے پہلے زین بات کیمپلیٹ کرتا پری زیب کے ہاتھ پہ اسکے بال تھے۔

ارے یار گنجا کرو گی کیا مجھے۔۔۔؟

دفع ہو جاٶ۔خود ہی اپنا زخم ٹھیک کرو۔وہ تڑخ کر بول کر دھپ دھپ کرتی آگے بڑھی۔۔

زین اسکے پیچھے پیچھے تھا۔۔۔

پری میری بات تو سنو۔۔زین نے اسے پکارا۔۔

کچھ نہیں سننا۔۔وہ ہاتھ ہلا کر بولی۔۔

پھر اچانک چلتے چلتے رک گٸی۔۔

زین وہ دیکھو سامنے گھر۔۔وہ ایکساٸٹڈ ہوکر بولی۔۔۔

ہاں اور اگر اس میں وہی لٹیرے ہوۓ تو۔۔۔؟

بندے کی بوتھی چنگی نہ ہو گل چنگی کر لینی چاہی دی….

واٹ۔۔۔۔تم نے یہ پنجابی کہاں سے سیکھی۔۔۔زین نے ہڑبڑا کر پوچھا۔۔

بھول گٸے ڈمبو۔میں پنجابن ہوں لاہور کی ہوں۔۔اور تمہاری سوہنی بھی لاہور کی تھی۔۔وہ تڑخ کر بولی۔۔

اسکی لاسٹ بات پہ زین کا رنگ پھیکا پڑگیا۔۔پری زیب نے آنکھیں میچ کر خود کو لعنت ملامت کی۔۔

سوری زین۔۔وہ کان پکڑ کر بولی۔

زین کچھ بولے بغیر اس گھر کیطرف بڑھ گیا۔۔۔

اس نےجاکر بیل بجاٸی تو کچھ دیر بعد ایک آدمی باہر نکلا۔۔۔

جی فرماٸیے۔۔اس آدمی نے پوچھا۔۔۔

ہم راستہ بھٹک گٸے ہیں تو صبح ہمیں بس اسٹینڈ پہنچنا تو رات گزارنےکیلٸے جگہ چاہیے۔۔زین نے کہا۔۔۔

آٸیے اندر۔۔وہ آدمی بولا۔۔

پری زیب اور زین اندر داخل ہوۓ تو ایک سفید باریش والا ایک آدمی بیٹھا تھا۔۔۔

ان دونوں نے سلام کیا تو وہ بزرگ نے پرجوش انداز میں سلام کر کا جواب دیکر بیٹھنے کا اشارہ کیا۔۔۔۔

وہ دونوں سامنے بیٹھ گٸے تو وہ بزرگ ان دونوں کو غور سے دیکھنے لگا۔۔

پری زیب نے بےچینی سے پہلو بدلا۔۔

یہ بابا جی مجھے کیوں غور رہے ہیں وہ زین کےکان میں منمناٸی۔۔۔۔۔

بیٹا پریشان مت ہو۔تمہاری ماتھے کی لکیریں پڑھ رہا ہوں۔۔وہ بزرگ بولے۔۔

اچھا جی۔۔میرے ماتھے کی لکیریں کیا بتارہی آپکو۔۔پری زیب طنزیہ انداز میں پوچھنے لگی۔۔

زین نے لبوں پہ ہاتھ رکھ کر چپ ہونے کو کہا۔۔

تم دونوں کے ماتھے کی لکیریں بتا رہی ہے کہ تم دونوں ایک ساتھ ہوکر بھی بہت دور ہو۔اور یہ دوری تمہاری آنکھوں میں ایک بےچینی بن کر دوڑ رہی ہے۔۔یاد رکھو اللہ نے جوڑی بناٸی ہے تو ایک دوسرے کے حقوق کا خیال رکھو۔۔بیوی پہ شوہر کے بہت حقوق ہے اور شوہر پہ بیوی کے بہت حقوق ہے۔جیسےکہ محبت،پیار ،بھروسہ مان اور عزت کی حفاظت۔۔جب یہ کوتاہیاں ہوتی ہیں تو اسکی سزا بھی ملتی ہے۔۔اور خود کے قدم روکو شاید کے تمہارے راستے آسان ہو جاٸیں۔۔

زین اور پری انکے پرفسوں انداز میں کھو سے گٸے تھے۔۔

تھوڑے دیر بعد جس شخص نے دروازہ کھولا تھا وہ اندر داخل ہوا۔۔۔

کھانا لگ چکا ہے بابا صاحب۔۔وہ مٶدب انداز میں بولا۔۔

بچوں کو لے جاٸیں اور کھانا کھلا کرانکا کمرا دیکھا دیں۔۔بزرگ نے کہا۔۔

بابا جی آپ کا نام کیا ہے۔؟ پری زیب نےپوچھا۔

ابو بکر پٹھان۔وہ مسکرا کر بولے۔۔

تو پری زیب سر ہلا کر اٹھ کر کھڑی ہو گٸی اور دونوں اس آدمی کیساتھ کھانے کی ٹیبل کیطرف چل پڑے۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

زین اور پری زیب اس آدمی کے ساتھ ایک کمرے میں آۓ۔۔

اندر داخل ہوکر دونوں نے کمرے کو غور سے دیکھا۔۔

پھر دروازہ کھٹکھا کر وہی آدمی اندر آیا اسکے ہاتھ میں فرسٹ ایڈ باکس تھا۔۔

تھینک یو۔۔پری زیب نے کہا۔۔

اور پھر زین کو بیڈ پہ بیٹھا کر اسکی پٹی کرنے لگی۔۔

ایم سوری زین۔۔وہ ہولے سے بولی۔۔۔

فار واٹ؟ زین نے پوچھا۔۔

میں نے آپ کو جو درد دٸیے اس کے لٸے۔۔وہ اسکی طرف دیکھ کر بولی۔۔

اٹس اوکے۔۔۔۔

سچ میں معاف کر دیا۔۔پری زیب نے چہک کر پوچھا۔۔

نہیں میں تو مزاق کر رہا تھا۔۔زین نے اسکی ناک دبا کر کہا۔۔

پری زیب نے اسکے سینے پہ مکا مارا۔زین سینہ پکڑ کر دہرا ہوگیا۔۔

زین زین آپ ٹھیک ہے نہ۔وہ تڑپ کر بولی۔۔

زین ہنستے ہوۓ سیدھا ہو کر لیٹ گیا۔

نوٹنکی میں تمہیں مار ڈالوں گی۔۔وہ زین کے بازو پہ چٹکی کاٹ کر بولی۔۔

زین نے اسے اپنی طرف کھینچا تو وہ اسکے پہلو میں آکر گر گٸی۔زین نے اس پہ جھک کر اپنے لب اسکے ماتھے پہ رکھ دٸیے۔۔

پری زیب کی سانسیں تھم گٸی تھی۔۔وہ یک ٹک زین کو دیکھے جا رہی تھی۔۔زین نے ہولے سے اسے اپنی بانہوں میں بھر لیا۔۔وہ بھی اپنا آپ زین کے سپرد کر چکی تھی۔۔

آج وہ دونوں اپنے حقوق سمجھ چکے تھے۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

زین کی آنکھ الارم کی آواز سے کھلی تو اس نے الارم بند کیا اور پھر اپنےسینے پہ سر ٹکا کر لیٹی پری زیب کو دیکھا۔۔

پری یار اٹھو نہ ہمیں نکلنا ہے۔زین نے اسکے چہرے کو تھپتھپا کر کہا۔۔

پری ہماری ریہرسل ہے۔۔زین نے اسکے کان میں کہا۔۔

وہ ہڑبڑا کر زین کو دیکھنے لگی۔۔پھر ہولے سے اس سے تھوڑا دور ہوٸی۔۔

فریش ہونے کے بعد ابو بکر پٹھان کے اس آدمی کیساتھ وہ بس اسٹینڈ پہنچے اور پھر وہ دو گھنٹوں تک اپنے ریسٹورنٹ پہنچے تو سب انکی طرف لپکے۔۔

کدھر تھے؟ کہاں تھے۔۔ہر طرف سے یہی سوال تھے۔۔

ارے یار بتاتا ہوں صبر کر لو۔۔زین نے جھلا کر کہا۔۔

پھر وہ سب بتاتا چلا گیا۔۔۔

اوووووہ گاڈ“تمہیں گولی لگی تھی۔تم ٹھیک تو ہو نا۔مہوش نے پاس آکر اسکا ہاتھ تھام کر پوچھا۔۔

زین نے گڑبڑا کر پری زیب کو دیکھا جو مہوش کو کھا جانے والی نظروں سے دیکھ رہی تھی۔۔۔

پھر وہ وہاں سے تیزی سے نکل کر اپنے روم کیطرف بڑھی۔۔

اور کمرے میں آکر جوتے اور کورٹ اتار کر دور پھینکا اور بیڈ پہ لیٹ گٸی۔۔غصے سے اسکا دماغ کھول رہا تھا۔۔

پھر وہ فریش ہو کر ریہرسل روم میں پہنچی تو زین مہوش کو گٹار بجانا سیکھا رہا تھا۔۔

پری زیب کو دیکھ کر وہ جلدی سے سیدھا ہوا۔۔

پھر سب کی ریہرسل سٹارٹ ہو چکی تھی۔ایک ان سب کی اکیلے اکیلے پرفارمنس تھی۔پھر آگے عوام کے ووٹس کے مطابق اور خواہش کے مطابق جوڑیوں نے پرفارم کرنا تھا۔۔

اس لٸے وہ ایک دوسرے کے سونگز کی بھی ریہرسل کر رہے تھے۔۔۔

کافی دیر وہ ریہرسل کرتے رہے پھر پری زیب اکتا کر سیدھی ہوکر بیٹھ گٸی۔۔

میں جا رہی ہوں اپنے روم میں۔۔وہ اٹھتے ہوٸے بولی۔۔

اور پھر تیزی سے وہاں سے نکل گٸی۔

میں ابھی آتا ہوں۔۔زین نے کہا۔اور باہر نکل کر تیزی سے پری زیب کے پیچھے آیا۔۔

پری لیسن ٹو می۔۔زین نے اسکے ساتھ چلتے ہوۓ کہا۔۔

اپنا منہ بند رکھو۔۔اور جاٶ اپنی اسی مہوش کے پاس۔وہ تنک کر بولی۔۔

زین کے چہرے پہ مسکراہٹ آ گٸی۔۔

اچھا تو جلن ہو رہی میڈم کو۔۔زین نے مسکرا کر پوچھا۔

جلن اور مجھے کبھی بھی نہیں وہ چڑ کر بولی۔۔۔

زین نے اسے کھینچ کر دیوار کے ساتھ لگالیا اور دونوں ساٸیڈوں پہ ہاتھ رکھ کر اسکا راستہ مسدود کر دیا۔۔

زین۔یہ کیا کر رہے ہو تم۔۔وہ گڑبڑا کر بولی۔۔

کچھ نہیں بس تمہارا غصہ ٹھنڈا کرنا چاہتا ہوں۔۔زین نے معنی خیر انداز میں کہا۔۔

پری زیب نے گھبرا کر اسے دیکھا۔۔

زین نے اپنے لب اسکے ماتھے پہ رکھ دٸیے۔

پری زیب کا چہرہ شرم سے سرخ ہو گیا۔۔

پپ۔پلیز۔۔وہ کانپتے لبوں سے بولی۔

کس دو گی تو جانے دونگا۔۔زین نے اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا۔۔

پری زیب لب کاٹ کر رہ گٸی۔۔

مام“ڈیڈ۔۔پری زیب نے پیچھے دیکھتےہوۓ کہا۔۔

زین گھبرا کر مڑا۔

پری زیب اسے دھکا دیکر وہاں سے کھلکھلا کر ہنستی ہوٸی بھاگی۔۔

زین پیچھے کسی کو نہ پاکر سر پہ ہاتھ پھیر کے رہ گیا۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سپر سنگر جوڑی کا شو ایک عالیشان ہوٹل میں تھا۔۔

ناٸلہ آفندی اور زبیر آفندی بھی آۓ تھے۔۔وہ سب سے آگے اوڈیٸنز میں بیٹھے تھے۔۔

اور اس شو کے بیسٹ چار سنگر علیحدہ علیحدہ پرفارمنس کر چکے تھے۔۔

اور اب جوڑیوں کی اناٶنسمنٹ باقی تھی۔سب کی نظریں سٹیج پہ تھی۔۔۔

کچھ دیر بعد ہوسٹ سٹیج پہ آگیا۔۔

لیجٸے لیڈیز اینڈ جنٹلمین آپ لوگوں کے ووٹس سے جوڑی سلیکشن ہو چکی ہیں۔سو دل تھام کر استقبال کیجٸے۔۔ہوسٹ نے چلا کر کہا۔۔۔۔

پھر سونگ سٹارٹ ہوا

ہمسفر میرا تو ہی میری منزل۔۔

اور پیچھے سے دونوں جوڑیاں نکلی۔۔پری زیب اور زین اور حماد “مہوش تھے۔

پھر ہوسٹ نے حماد اور مہوش کا تعارف کروایا۔۔

پھر وہ زین اور پری زیب کیطرف مسکرا کر دیکھنے لگا۔۔۔

آپ کے سب سے بڑے فین آپ سے ملنے آۓ ہیں۔تو سٹیج پہ انکو بلایا جاۓ۔۔ہوسٹ نے پوچھا۔۔۔

بالکل۔۔۔۔زین نے کہا۔۔

پھر چار لڑکیاں اور تین لڑکے سٹیج پہ آۓ۔۔سب سے تعارف ہوا۔۔

سر ہم آپ کے اور پری میم کے بہت بڑے فین ہیں۔آپ کی اور میم کے نام کو ملا کر پریزے رکھا ہم نے۔۔ایک لڑکی مسکرا کر بولی۔۔

تھینک یو ڈیٸر۔۔۔زین نے کہا۔۔۔

پری میم۔۔ہمیں لگتا تھا کہ شاید آپ سکرین پہ خوبصورت دکھتی ہیں مگر آپ حقیقت میں بھی بہت پیاری ہے۔۔دوسری لڑکی بولی۔

تھینک یو۔۔پری زیب نےمسکرا کر کہا۔۔۔

لیجٸے فینز آپ نے پریزے جوڑی بناٸی مگر آپ سب کیلٸے سرپراٸز ہے۔۔زرا پیچھے سکرین پہ دیکھیں۔۔

وہ سب سکرین پہ دیکھنے لگے۔۔جہاں پری زیب اور زین کی شادی کی پکس دیکھاٸی دے رہی تھی۔۔۔

وہ سب حیرانگی سے دیکھ رہے تھے۔۔۔

اوووووہ ماٸی گاڈ۔۔پریزے سچ میں جوڑی ہے۔وہ چلاٸی۔۔۔

زین اور پری مسکرا دٸیے۔۔

زین تو پری زیب کے چہرے پہ خوشی کی چمک دکھ کر سرشارہو گیا تھا۔۔۔

پھر حماد اور مہوش نے گانا گایا۔

اور جب پریزے سٹیج آۓ تو ہر طرف سے سیٹیوں اور تالیوں کی گونج تھی۔۔

وہ دونوں گانے لگے۔۔

انکے سُروں نے سب کو جوش دلا دیا تھا۔۔

پھر حماد مہوش کو بھی سٹیج پہ بلایا گیا۔۔اور دونوں جوڑیاں ساتھ کھڑی وینر جوڑی کی اناٶنسمنٹ کی منتظر تھی۔۔

ججز بھی سٹیج پہ آ چکے تھے۔۔

اور پھر ڈاٸریکٹر امین بھی سٹیج پہ آ گٸے اور ہوسٹ نے وینر کا کارڈ نکال کر انکی طرف بڑھایا۔۔۔

امین صاحب مسکرا دٸیے۔۔۔

جی تو سپر سنگر کی ونر جوڑی ہے۔۔۔۔۔۔امین صاحب بولتے بولتے رکے۔۔

وہ جوڑی ہے۔۔۔۔۔۔۔آپ سب کی فیورٹ جوڑی مسٹر اینڈ مسز زین آفندی۔عرف پریزے۔۔۔امین صاحب کے اعلان پہ پری زیب ایکساٸٹمنٹ پہ چیخ مارکر زین کے گلے لگ گٸی۔۔

زین نے اسکے گرد بازوٶں کا حصار بنا لیا۔۔

دور کھڑی ناٸلہ آفندی اور زبیر آفندی کی آنکھیں نم ہو گٸی۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *