Mein Kese Kahun by Umme Emman Fatima NovelR50540 Mein Kese Kahun (Episode 04)
Rate this Novel
Mein Kese Kahun (Episode 04)
Mein Kese Kahun by Umme Emman Fatima
پری زیب نے کمرے میں آکر انویٹیشن کارڈ ساٸیڈ ٹیبل پہ رکھا اور بیٹھ کر زین آفندی کے بارے میں سوچنے لگے۔۔۔۔
اس طرح کا کیوں ہے یہ زین آفندی،اس کی مام اس قدر ڈیسنٹ اور سوبر ہیں۔۔جب بولتی ہے تو لگتا ہے کہ منہ سے پھول جھڑ رہے ہیں۔جبکہ یہ جب بولتا تو زہر ہی اگلتا ہے۔۔۔پری زیب دل ہی دل میں خود سے الجھنے لگی۔
پھر سر جھٹک کر وہ اپنے موباٸل پہ گیم کھیلنے لگ گٸی۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہاۓ مام،زین نے ناٸلہ آفندی کے پاس بیٹھتے ہوۓ کہا۔۔
ہاۓ میری جان۔۔کیسا رہا دن میری جان کا۔۔۔۔ناٸلہ آفندی نے پوچھا۔۔۔
جیسا ہوتا پے۔لیکن آپ مجھے پہلے یہ بتاٸیں کہ آپ نے اس بدتمیز پری زیب کو کیوں بلوایا ہے، وہ چڑ کر پوچھنے لگا۔۔
زین۔۔۔کتنی بری بات ہے۔۔وہ تنبیہی انداز میں بولی۔۔
مجھے زہر لگتی ہے یہ لڑکیاں،وہ تپ کر بولا۔۔
سب لڑکیاں اس جیسی نہیں ہے اور پری زیب تو اتنی پیاری بچی ہے اس قدر احترام سے بولتی ہے۔۔
ناٸلہ آفندی کے لہجے میں پری کیلٸے اتنا پیار دیکھ کر زین چونک گیا۔۔
مام آپ اس لڑکی کی خوبصورتی سے متاٹر ہو رہی ہیں کیا؟ زین نے حیرت سے پوچھا۔۔
جی نہیں۔وہ خوبصورت تو ہے ہی مگر وہ بہت اچھے اخلاق والی ہے۔۔۔
مام۔۔۔زین انکی بات پہ جھلا کر بولا۔۔
کیا مام؟ اب تم بچے نہیں ہو۔وہ کل آۓ گی تو پارٹی شروع ہوگی، اور ہاں کل تم اول جھلول حلیے میں مت آنا ۔۔تمہارا فارمل پینٹ کورٹ رکھا ہے وہ پہننا ہے تم نے۔۔اور کل سلون بھی چلے جانا۔حلیہ ٹھیک کر لینا۔۔وہ جلدی سے بولیں۔۔
مام “میرے حلیے کو کیا ہوا ہے زرا بتاٸیں مجھے۔۔روز یونیورسٹی کی لڑکیاں مجھے رک رک کر آہیں بھر کر دیکھتی ہیں،۔وہ بےدھیانی میں بولا۔۔۔
اہمممممم“اہممممم۔۔۔ناٸلہ آفندی شرارت بھرے انداز میں کھنکھاری۔۔۔
مام۔۔۔۔۔زین جھنجھلا کر رہ گیا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سب صحن میں بیٹھے چاۓ پی رہے تھے۔۔۔اور ساٸرہ پاس بیٹھی سبزی بھی بنا رہی تھی۔۔۔
ساٸرہ کل پارٹی کیلٸے تیار رہنا“احمد نے کہا۔۔۔
بھیا آپ کو بھی انویٹیشن ملا کیا؟ پری زیب نے پوچھا۔۔
ہاں،آج مسز ناٸلہ آفندی خود میرے پاس آٸیں اور مجھے دعوت دیکر گٸی۔۔اور سب حیران تھے آفس میں کہ مجھے کیوں بلایا گیا۔۔اب میں انہیں کیا بولتا کہ یہ میری بہن کی بہادری ہے کہ جس کی وجہ سے آج آفندی ولا اندر سے دیکھ پاٶں گا“احمد نے کہا۔۔
واٶ،پھر تو بہت مزا آۓ گا۔اور بھابھی آپ نہ کل وہ ساڑھی پہننا جو آپ نے شادی کی سالگرہ پہ پہنی تھی۔اور پری وش کو بالکل میرے جیسا ڈریس پہناٸیے گا۔پری پرجوش انداز میں بولی۔۔۔
سب اسکی ایکساٸٹمنٹ پہ مسکرا دٸیے۔۔۔
بچے “پری وش کو خدیجہ خالہ کیطرف چھوڑ کر جانا ہے۔کیونکہ پری وش کے سونے کا ٹاٸم ہوگا۔۔
اوکے بھیا۔۔پری زیب نے احمد کی بات پہ مسکرا کر جواب دیا۔۔۔
پھر اگلے دن وہ صبح اٹھی اور چہرے پہ ساٸرہ کا بنایا ہوا ابٹن لگایا اور الٹے ہاتھ پہ تھوڑی سی مہندی لگاٸی۔۔
اور پھر عصر کے بعد ساٸرہ کو اس نے تیار کیا۔اور تب تک احمد بھی آ گیا تھا۔وہ روم میں آیا تو ساٸرہ کو دیکھ کر مبہوت سا رہ گیا۔۔۔
اہمممممم“اہممممم“بھیا آپ کی اپنی ہی بیوی ہے اندر آکر دیکھ لیں۔۔۔۔
پری زیب کی بات پہ چونک کراحمد نے اپنی نظریں ہٹاٸیں۔۔اور پھر واشروم میں گھس گیا۔
اورساٸرہ پروفیسر صاحب کو کھانا دینے چلی گٸ۔اور پری زیب بھی جلدی سے تیار ہونے لگی۔۔
کچھ دیر بعد ساٸرہ اندر آٸی تو وہ پری زیب کو دیکھ کر چونکی۔۔
پری زیب بلیک فراک پہنے اور لاٸٹ سے میک اپ میں بال پشت پہ ڈالے ہاتھوں میں بریسلٹ پہن رہی تھی۔۔
ماشاءاللہ“میری مانو بلی تو بہت پیاری لگ رہی ہے۔۔ساٸرہ نے مسکرا کر کہا۔۔
تھینک یو بھابھی جان،وہ مسکرا کر بولی۔۔
اور پھر احمد کے تیار ہونے کے بعد وہ لوگ آفندی ولاکیلٸے نکل گٸے۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آفندی ولا کے لان میں دن سا سماں تھا۔۔اور مسٹر اینڈ مسز آفندی کی آج تیسویں شادی کی سالگرہ کا جشن تھا۔۔اور وہ دونوں آج بھی بہت ینگ دکھتے تھے۔۔
اور کچھ دیر میں زین نیچے آیا تو ساری لڑکیاں اسی کیطرف دیکھ رہی تھیں۔۔وہ سب کو اگنور کرتا ہوا ناٸلہ آفندی اور زبیر آفندی کے پاس آکر کھڑا ہوگیا۔۔۔
دیکھا زبیر صاحب “کیسے یہ پرکٹی بندریاں میرے بیٹے کو دیکھ رہی ہیں“ورنہ یہی ہوتی تھیں جب رشتہ لیکر جانا تو اتنے مغرورانہ اندازمیں انکار کرتی تھیں“ناٸلہ آفندی نے کہا۔۔
اٹس اوکے مام“میں اب ایسی لڑکیوں کو جوتی کی نوک پہ رکھتا ہوں“زین نے کہا۔۔
یہ ہوٸی نہ بات۔۔۔ناٸلہ آفندی نے کہا۔۔
پھر ناٸلہ آفندی گیٹ کیطرف دیکھنے لگی۔۔
کس کا انتظار کر رہی ہیں آپ مسز“میرے خیال میں شو شروع ہوناچاہیے۔زبیر آفندی نے کہا۔۔
بس کچھ دیر اورانتظار کرنا ہوگا وہ پری زیب آتی ہی ہوگی۔۔ناٸلہ آفندی نے کہا۔۔
وہ نہیں آۓ گی مام۔۔زین نے اطمینان سے کہا۔۔
واٹ، تمہیں کس نے کہا،ناٸلہ آفندی نے حیرت سے پوچھا۔۔
کیونکہ میں نے اسے کہا تھا کہ کوٸی ضرورت نہیں آنے کی۔اسکی اوقات نہیں ہے آفندی ولا کی پارٹی میں آنے کی۔زین نے اطمینان سے کہا۔۔
تم،تم زین انتہاٸی بدتمیز ہو،ناٸلہ آفندی نے چڑ کر کہا۔۔۔
ارے بیگم لڑنا بند کرو اور وہ دیکھو گیٹ کے پاس احمد دو لڑکیوں کیساتھ کھڑاہے ۔زبیر آفندی نے کہا۔
ناٸلہ آفندی جلدی سے مڑی اور پھر پری زیب کو دیکھ کر انکے چہرے پہ رونق آ گٸی۔۔
اور زین کے ماتھے پہ ناگواری سے بل پڑ گٸے۔۔
پھر ان تینوں نے پاس آکر سلام کیا۔۔تو ناٸلہ آفندی نے خوشدلی سے استقبال کیا۔۔
تھینک گاڈ تم آ گٸی،مجھے تو لگا شاید نہیں آنا،ناٸلہ آفندی نٕے پری زیب سے کہا۔۔
آپ سے وعدہ کیا تھا تو توڑتی کیسے“کوٸی کتنا بھی روک لیتا میں تو ضرور آتی۔۔پری زیب نے زین کو دیکھ کر کہا۔۔
زین دانت پیس کر رہ گیا۔۔اور ناٸلہ آفندی نے بمشکل اپنی مسکراہٹ روکی۔۔۔
ماشاءاللہ“ پری زیب آپ بہت ہی پیاری لگ رہی ہیں اور آپ بھی مسز احمد بہت ہی پیاری ہیں“ناٸلہ آفندی نے کہا۔۔
ساٸرہ نے اس پرکشش “پروقار عورت کو دیکھا جو اتنی ہی خوبصورت اور پرفیکٹ تھی۔اب اسے پتا لگا کہ پری زیب اتنی متاثر کیوں ہیں۔۔
پری زیب جب سے آپ سے ملی آپکی تعریف کرتے نہیں تھکتی،ساٸرہ نے کہا۔۔
کچھ یہی حال ہماری بیگم کا ہے مسز احمد،پچھلے سات دن سے پری زیب پری زیب ہو رہا ہے۔اور میں تو خود ملنے کیلٸے ایکساٸٹڈ تھا۔۔اور آج پری زیب کو دیکھ کر تو میں حیران ہوں کہ میرا بیٹا متاثر کیوں نہیں ہوا پری زیب سے،جبکہ پری زیب صرف نام کی نہیں حقیقت کی پری زیب ہے۔۔زبیر آفندی نے مسکرا کر کہا۔۔
ڈیڈ آپ کو پتا ہے نہ کہ میں مام کے علاوہ کسی سے متاثر نہیں“میری مام میری پہلی اور آخری محبت ہیں۔اور رہی یہ خوبصورت لڑکیاں،یہ میرے ٹاٸپ کی نہیں ہے۔۔ زین نے مغرورانہ انداز میں کہا۔۔
اچھی بات ہے۔۔۔پری زیب نے جل کر کہا۔۔۔
اچھا تم دونوں لڑو مت اور شو شروع ہونے والا ہے۔۔تو چلو چل کر بیٹھتے ہیں۔۔ناٸلہ آفندی نے کہا۔۔
اور پھر پری زیب کا ہاتھ پکڑ کروہ مخملی کاٶچ پہ آکر بیٹھ گٸی۔اور پری زیب کو بھی ساتھ بیٹھا لیا اور پری زیب کے ساتھ زین بیٹھا گیا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پری زیب کب سے میوزک شو کے نام پہ انگلش سونگز سن سن کر اکتا گٸی تھی۔۔
اففف ،کتنا بے سرا ہے۔۔پری زیب جھنجھلا کر بولی۔۔
تو تم خود گا لو،زین نے تڑخ کرکہا۔۔
میں بہت اچھا گاتی ہوں مسٹر زین،آپکی طرح نہیں ہوں انگارے ہی برستے ہوں جس کے منہ سے۔۔پری زیب نے بھی تڑاخ سے جواب دیا۔۔
اووووہ رٸیلی،تمہیں شاید معلوم نہیں ہے کہ میں بہت اچھا سنگر ہوں،زین نے تپ کر کہا۔۔
اچھا تو پھر آپ ہی گا لو،پری زیب نے کہا۔۔
تم کیوں نہیں گا لیتی“یا ڈرلگتا ہے۔۔زین نےکہا۔
ڈرتی ورتی میں کسی سے بھی نہیں۔۔وہ اٹھ کر کھڑی ہوکر بولی۔۔اور پھر سٹیج پہ چڑھ کر اس نے ماٸیک ہاتھ میں پکڑ لیا۔۔
اور اسکی سریلی آواز لان میں گونجنے لگی۔۔اس کا گانا ختم ہوا تو لان میں تالیاں گونجنے لگی۔
۔
اب آپ کی باری۔۔۔وہ زین کو پکارتے ہوۓ بولی۔
زین غصے سے اسے دیکھتا سٹیج پہ چڑھ گیا اور گٹار تھام کر وہ بڑی مہارت سے گٹار بجاتے ہوۓ گانا گانے لگا۔۔
یاد تو آتی ہو گی دل دُکھاتی ہوگی
میری تصویر تمہیں
روز رلاتی ہوگی
یاد تو آتی ہو گی
دل دُکھاتی ہوگی
بے وفائی کی تمہیں ٹھیس تو اٹھتی ہوگی
دن میں ہنستے ہو تو کیا
رات میں روتے ہو گے
نیند بھی روز تمہیں
دیر سے آتی ہو گی.
یاد تو آتی ہو گی
دل دُکھاتی ہوگی
تو نے سمجھا ہی نہیں
اک دیوانے کو
خون سے میں نے لکھا
اپنے افسانے کو
تیرے دامن پے کوئی
چھینٹ تو آتی ہو گی
یاد تو آتی ہو گی
دل دُکھاتی ہوگی
زندگی ایک نیا زخم بنا دی تم نے
اپنے ہاتھوں سے مُجھے
آگ لگا دی تم نے
جانِ جاں موت نہیں
شرم تو آتی ہو گی
یاد تو آتی ہو گی
دل دُکھاتی ہوگی
میری تصویر تمہیں
روز رلاتی ہو گی
یاد تو آتی ہو گی
دل دُکھاتی ہوگی۔۔
اس کے پرسوز انداز پہ پورے لان میں سناٹا تھا۔۔اورپری زیب تو اسکے چہرے کا کرب دیکھ کر سن بیٹھی تھی۔پھر وہ ناٸلہ آفندی کی نم آنکھیں دیکھ کر چونکی۔۔
آنٹی آپ ٹھیک ہیں نہ ،پری نے پوچھا تو انہوں نے اثبات میں سر ہلا دیا۔۔
پھر زین سٹیج سے اتر کر ناٸلہ آفندی کے پاس آ کر کھڑا ہوگیا۔۔۔
بہت اچھا گاتے ہو آپ۔۔پری زیب نے کہا۔۔
زین نے ناگواری سے اسے دیکھا۔۔
پھر کپل ڈانس میں ناٸلہ آفندی نے ان دونوں کو سٹیج پہ چیلنج کیا۔۔اور وہ دونوں سالسہ ڈانس کرنے لگے۔۔
پری زیب کو زین کی سرد مہر براٶن آنکھیں مبہوت کر رہی تھی۔۔
پھر ڈانس ختم ہوا اور کیک کاٹنے کے بعد سب لوگ کھانا کھانے لگے۔۔اور پری زیب کی نظریں زین کو ہی ڈھونڈ رہی تھی۔۔
پھر وہ وہاں سے چلتی ہوٸی اندر آ گٸی اور اس محل جیسے گھر کو گھوم پھر کردیکھنے لگی۔۔اور چلتی چلتی وہ ایک روم کے سامنے کھڑی ہو گٸی۔اور پھر وہ دروازہ کھول کر اندر داخل ہوٸی تو اس عالیشان کمرے کو دیکھ کر حیرت زدہ رہ گٸی کیونکہ اس میں ہر چیز ڈارک تھی۔۔
اوففففف“یہ لگتا اسی کھڑوس کا کمرا ہے۔وہ بڑبڑاٸی۔۔۔
پھر بیڈ کے ساٹیڈ ٹیبل پہ رکھی زین کی تصویر کیطرف بڑھی۔۔
دیکھاپری زیب۔،سہی سوچا کہ اسی کھڑوس کا کمرا ہے“وہ بڑبڑاٸی۔۔۔
پھر کھٹک سےواشروم کا دروازہ کھلا اور زین شرٹ لیس باہر آیا۔۔
تو پری زیب ہڑبڑا کر رخ پھیر گٸی۔۔
تمہاری ہمت کیسے ہوٸی میرے روم میں آنے کی،زین چیخا۔۔
وہ تو میں بس گھوم پھررہی تھی تو یہاں پہنچ گٸی۔۔پری زیب نے کہا۔۔اور پھر واپس پلٹی تو ڈریسنگ پہ رکھی تصویر دیکھ کر رکی اور پھر تصویر اٹھا کر دیکھنے لگی۔۔۔
اووووہ گاڈ“یہ آپ ہو کیا اسطرح کے ہوتے تھے کیا؟ وہ اپنی ہنسی چھپاتے ہوۓ بولی۔۔
زین کی آنکھیں سرخ ہو گٸی۔۔
وہ تیزی سے اسکے سامنے آیا اور اسکے گلے سے پکڑ کر اسے دیوارکیساتھ لگا لیا۔
کیڑے پڑے تھے مجھ میں۔بد صورت ہوں تو مزاق بناٶ گی،وہ چیخا۔
پری زیب اسکے اس روپ سے خوفزادہ ہو کر اسے دیکھنے لگی۔اور وہ اسکی بات کو غلط سمجھ بیٹھا تھا جبکہ اسکا مطلب تھا کہ بھولے بھالے تھے۔۔مگر اسکے زور سے گلا پکڑنے کیوجہ سے پری زیب کو اپنا سانس اٹکتا محسوس ہوا۔
پپ،پلیز۔۔لیو می“وہ بمشکل بول پاٸی۔۔
میں تمہاری جان لیکر ہی چھوڑوں گا۔وہ چلایا۔۔۔
زین،ناٸلہ آفندی زور سے چیخ کر بولی۔اور پھر جلدی سے پری زیب کو اس سے چھڑوایا۔۔
پری زیب کھانستی ہوٸی زمین پہ بیٹھ گٸی۔۔۔اور زین غصے سے وہاں سے نکل کر چلا گیا۔۔
ناٸلہ آفندی نے جلدی سے اسے تھام کر بیڈ پہ بیٹھایا۔اور پانی پلانے لگی۔
ایم سوری بچے،زین نے جو کچھ کیا میں بہت شرمندہ ہوں۔۔ناٸلہ آفندی شرمندگی بھرے لہجے میں بولیں۔۔
نہیں آنٹی ،مجھے انکے کمرے میں آنا ہی نہیں چاہیے تھا۔۔پری زیب بمشکل بولی۔۔۔
میرے بیٹے سے بدگمان مت ہونا وہ ایسا بالکل نہیں تھا،وہ تو بڑا بھولا بھالا اور معصوم سا تھا۔میری ساتویں منتھ میں ڈلیوری کیساتھ پیدا ہوا تھا۔اور بہت کمزور تھا۔جو دیکھتا وہی کہتا کہ یہ میرا اور زبیر کا بچہ نہیں لگتا۔۔سانولی رنگت اور پھر اس قدر کمزور تھا کہ پکڑتے بھی ڈر لگتا تھا۔اور میرا بیٹا جیسے جیسے بڑا ہوتا گیا اسکے پچکے گال اور اسکا سوکھا بدن تھا مگر قد بڑھتا گیا تو وہ اور بھی عجیب لگنے لگا۔۔کالج میں اسکا مزاق بناتے تھے وہ بہت روتا تھا۔پھر کالج کے پہلے دن اسکے سینیٸر نے اسکی ریگنگ کی تو ایک لڑکی نے اسے ان سے بچایا۔۔دونوں اتنے کلوز آ گٸے کہ میرا بیٹا شادی کیلٸے ضد کرنے لگا۔۔میں رشتہ لیکر گٸی تو اس لڑکی نے انکار کردیا کیونکہ اسکو میرے بیٹے جیسا امیر تو نہیں مگر شاید زیادہ خوبصورت مل گیا کیونکہ وہ خود بہت خوبصورت تھی ،اس نے میرے بیٹے کو ریجیکٹ کردیا اور پھر زین نے سوساٸیڈ کی بلڈنگ سے کود کر اور پھر اللہ نے سمجھو دوسری زندگی دی تو پھر زین پیرالاٸزد ہو گیا۔اور دو سال میں میڈیسن لے لے کر اسکا جسم بھی پھول گیا۔۔پھر دو سال بعد وہ جب چلنے کے قابل ہوا تو اس نے خود پہ بہت دھیان دیا۔اور اسکی تو شخصیت ہی سنور گٸی۔مگر وہ بہت سخت دل بن گیا۔۔
پھر پچھلے دنوں جس انسان پہ کسی چیز کا اثر نہیں ہوتا تھا وہ تم سے چڑنے لگا۔۔کسی لڑکی کا ہونا نہ ہونا اسکے لٸے کوٸی معنی نہیں رکھتا تھا وہی تمہارا ہونا اسے غصہ دلانے لگا۔۔اور میں نے نوٹس کیا کہ میرا بیٹے دھیان دینے لگا کسی چیز میں،اور یہ کہ کوٸی لڑکی ہے جو اسکے لٸے جان پہ بھی کھیل سکتی ہے۔تو وہ ہی میرے بیٹے کو اس حادثے سے ابھارے گی۔ناٸلہ آفندی بولتی چلی گٸی۔۔
اور پری زیب کی آنکھیں نم ہو گٸی۔۔۔
۔۔۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔
