Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mein Kese Kahun (Episode 21)

Mein Kese Kahun by Umme Emman Fatima

ایسے کیا دیکھ رہی ہو؟ ناٸلہ آفندی نے حیرت سے پوچھا۔۔

دیکھ رہی ہوں کہ کتنی بڑی منافق ہیں آپ مسز آفندی۔۔۔

ناٸلہ نے ناگواری سے اسے دیکھا۔۔

بڑوں سے بات کرنے کےمینرز بھول گٸی ہیں آپ؟ناٸلہ آفندی نے پوچھا۔۔

میں منافقوں کی عزت نہیں کرتی۔۔

شٹ اپ۔۔ناٸلہ آفندی نے چلا کر کہا۔۔

ایک بات بتاٸیں،آج یہاں جو عورت کو کہہ رہی تھی۔خود کے بیٹے کی بار کیوں بھول گٸی تھی۔۔؟فاریہ نے تلخ لہجے سے پوچھا۔۔

اہنی حد میں رہو فاریہ۔۔ناٸلہ آفندی نے ناگواری سے کہا۔۔

پری زیب سے اتنے ملاٸم اور میٹھے انداز میں بات کرتی ہیں آپ“اس سے اتنی محبت کرتی ہیں جبکہ ہماری کلاس ایک ہے۔پھر بھی مجھے ٹھکرایا۔۔ کیوں؟ فاریہ نے کرب بھرے لہجے میں اک اور سوال پوچھا۔۔

زین میرا بیٹا ہے اور میری بیٹامیری مرضی کہ میں اسکے لٸے جو مرضی لڑکی چنو۔۔

نہیں مسز آفندی وجہ یہ نہیں تھی میں بتاتی ہوں آپکو کیا وجہ تھی۔۔۔آپکی کلاس میں میرے جیسی تو مل جاتی۔مگر

پری زیب جیسی حسن کی ملکہ کبھی نہیں ملتی۔۔آپ کو خوبصورت نہیں خوبصورت ترین لڑکی چاہیے تھی اپنے معمولی شکل کے بیٹے کیلٸے۔۔وہ تلخ لہجے میں بولی۔۔

تمہیں جوسمجھنا ہے سمجھو۔۔ناٸلہ آفندی نے سر جھٹک کر کہا۔۔

فاریہ ایک جھٹکے سے اٹھ کر وہاں سے نکل گٸی۔۔

ناٸلہ آفندی نے تھک کر اپنے سر چیٸر کی پشت پہ ٹکا کر آنکھیں موند لیں۔

میں کیسے کہوں کہ میرے اندر کتنا گہرا زخم ہے فاریہ۔اور تمہیں دکھ دیتی ہوں تو درد مجھے ہوتا ہے۔۔وہ دل ہی دل میں فاریہ سے مخاطب تھی۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پری زیب اور زین آج یونیورسٹی سے واپس علیحدہ علیحدہ ہی آۓ تھے۔اور زین آتے ہی آفس چلا گیا تھا۔۔اورپری زیب کچن میں کیک بیک کر رہی تھی کیونکہ آج ناٸلہ آفندی کی برتھ ڈے تھی۔۔۔

اور رات کا ڈنر بھی وہ خود بنا رہی تھی۔۔

عصر ٹاٸم تک ناٸلہ آفندی بھی آ چکی تھی اور وہ کافی تھکی تھکی سی لگ رہی تھی۔اور آتے ہی وہ آرام کرنے روم میں چلی گٸی تھی۔۔زین اور زبیر آفندی مغرب کے بعد آۓ تھے۔۔تو پری زیب انکے لٸے چاۓ لے آٸی اور کچھ دیر بعد ناٸلہ آفندی بھی آ گٸی۔۔۔

وہ سب چاۓ پی رہے تھے اور ساتھ بات چیت بھی کر رہے تھے۔۔چاۓ پی کر فارغ ہوۓ تو ملازمہ کیک لیکر آٸی تو سب چونک کر دیکھنے لگے۔۔

ہیپی برتھ ڈے مام۔پری زیب نے کہا۔

اوووووہ شٹ مام کی تو آج برتھ ڈے تھی اور ہم بھول گٸے ،زین نے سر پہ ہاتھ مار کرکہا۔۔

کوٸی بات نہیں بیٹے۔تم لوگوں کو پتا ہی ہے میں اپنی برتھ ڈے نہیں مناتی۔۔ناٸلہ آفندی نے کہا۔۔

مگر مجھے یاد تھی مام۔پری زیب نے کہا۔۔

تھینک یو میری جان۔ناٸلہ آفندی نے اسے ساتھ لگاتے ہوۓ کہا۔۔

پھر کیک کاٹنے کے بعد انہوں نے خوشگوار ماحول میں ڈنر کیا۔۔اور پھر کافی دیر تک لاٶنج میں بیٹھے رہے۔

مام کل ہم آٶٹنگ پہ چلتے ہیں۔چھٹی کا دن ہے اور انجواۓ کرتے ہیں اکھٹے۔۔

ارے یہ تو بہت ہی اچھا آٸیڈیا ہے زین۔۔زبیر آفندی نے مسکرا کر کہا۔۔

مگر مجھے تو کل ساٸرہ بھابھی سے ملنے جانا تھا۔۔پری زیب نے کہا۔۔

تم پھر کبھی چلے جانا بیٹا۔۔ناٸلہ آفندی نے کہا تو وہ اثبات میں سر ہلا کر رہ گٸی۔۔۔

پھر کچھ دیر بعد سب اپنے اپنے روم میں چلے آۓ۔۔اور پری زیب بھی کپڑے چینج کرکے بیڈ پہ آ کر لیٹ گٸی۔۔

پری۔تھینک یو۔۔۔۔زین نے اچانک اسکے ہاتھ پہ ہاتھ رکھ کرکہا۔۔

کس لٸے۔؟ وہ حیرت سےپوچھنے لگی۔۔

تم نے مام کی برتھ ڈے یاد رکھی۔مام کی اتنی کیٸر کرنے کیلٸے جتنا شکرکروں کم ہے۔۔زین نے کہا۔۔

وہ میری بھی مام ہے۔وہ ناگواری سے کہہ کر کروٹ لیکر لیٹ گٸی۔۔

زین دل مسوس کر رہ گیا۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پری زیب نے حیرت سے کھیتوں کے بیچ بنی اس خوبصورت عمارت کو دیکھا۔

یہ آفندیوں کا فارم ہاٶس تھا۔جسکے ارد گرد کھیت کھلیان تھے۔۔

اور باہر مضبوط دروازے تھے اور اندر لاٶنج تھا جو کہ شیشے کا کیبن لگ رہا تھا۔۔وہ اندر داخل ہوٸی تو فاریہ،ساٸرہ،احمر اور احمد بھی موجود تھے۔۔

وہ جلدی سے انکی طرف بڑھی۔۔۔

پتا ہے میں آپکو دیکھ کر بہت خوش ہوں۔وہ ایکساٸٹڈ بھرے انداز میں بولی۔۔

اور ہم آپ کو خوش ہی دیکھنا چاہتے تھے۔زبیر آفندی نے اسکے سر پہ ہاتھ رکھ کر کہا۔۔

پھر سب لوگ لاٶنج میں بیٹھ کر ہنسی مزاق کرنے لگے۔اور پری زیب کی ٹانگ کھیچاٸی ہو رہی تھی احمر سے۔وہ جھلا کر ساٸرہ کوآواز دیتی تھی۔اور زین اسے محبت پاش نظروں سے دیکھ رہا تھا۔۔

اور پری وش تو ہر چھوٹی سے چھوٹی چیز کو دیکھ کر خوش ہورہی تھی۔۔اور پری زیب کی تھوڑی تھوڑی دیر بعد لاڈ سے کس کٸے جاتی تھی۔۔

کرکٹ کھیلتے ہیں زین۔۔احمر نے کہا۔۔

ارے آٸیڈیا بہت اچھا ہے۔۔زین نے کہا۔۔

پھر وہ سب باہر لان میں آگٸے۔۔اور لڑکیوں اور لڑکوں کی ٹیم بن گٸی تھی۔پری زیب لڑکیوں کی کیپٹن تھی اور زین لڑکوں کا۔۔۔اور ناٸلہ آفندی اور زبیر آفندی ایمپاٸر بنے تھے۔۔۔

ہم لڑکے ہی جیتیں گے۔۔۔احمر نے کالر اوپر کرتے ہوۓ کہا۔۔

ہم لڑکیوں نے چوڑیاں ضرور پہنی ہے مگر ہم کسی سے کم نہیں۔۔پری زیب نے کہا۔۔

پری تمہیں بیٹ پکڑناآتا ہے۔۔زین نے ناک سکوڑ کر کہا۔۔

ارے یار بہت اچھا آتا ہے۔احمر نے کہا۔

رٸیلی۔۔۔زین نے حیرت سے کہا۔۔

جی ہاں۔۔اور جیتیں گی تو ہم ہی۔۔پری زیب نے اٹھلا کر کہا۔۔

دیکھتے ہیں۔زین نے سرہلا کر کہا۔۔

اور پھر لڑکوں کی بیٹنگ سٹارٹ ہو گٸی تھی۔۔پری زیب نے پہلا بال کروایا تو زین نے ایک زوردار شارٹ کھیلا۔۔۔اور چھکا لگ گیا

پری زیب کا حیرت سے منہ کھل گیا۔۔اسے لگا تھا کہ زین کو کھیلنا نہیں آتا ہوگا۔۔

محترمہ ایسے مت دیکھیں۔۔میں نے دو سال پہلے ہی بس شوق شوق میں کرکٹ سیکھی تھی۔زین نے سر کھجاکر کہا۔۔۔

ہاں میں بھی سوچوں کہ تم جیسا ڈمبو کیسے کھیلنے لگ گیا۔۔پری زیب نے کہا۔۔

زین نے غصے سے دیکھا۔۔

دیکھوں گا تم کیا کر لیتی ہو۔۔زین نے اپنی انگلی اسکے ماتھے پہ مارتے ہوۓ کہا۔پھر زین نے تیس سکور بنایا تو فاریہ نے اسکی وکٹ اڑا دی تھی۔۔

پری زیب نے طنزیہ انداز میں دیکھا اور پھر اسکے پاس آٸی۔۔

واہ واہ مسٹر زین،محترمہ فاریہ ہمیشہ آپکی وکٹ اڑا ہی دیتی ہے۔۔وہ معنی خیز انداز میں بولی تو زین نے زخمی نگاہوں سے اسے دیکھا۔۔مگر وہ استھزاٸیہ انداز میں سر جھٹک کر واپس مڑ گٸی تھی۔۔

تم بہت ظالم ہو پری زیب۔کاری ضرب لگاتی ہو کہ میرا وجود بکھرنے لگ جاتا ہے۔مگر نجانے تمہارے ہر درد کے باوجود میں تمہاری اور قریب آتا جارہا ہوں۔۔زین نے دل ہی دل میں اسے مخاطب کرکے کہا۔۔

پھر وہ سر جھٹک کر ساٸیڈ پہ ہو گیا۔۔اور پھر ستر سکور پہ لڑکوں کی ٹیم آٶٹ ہو چکی تھی۔۔

اور لڑکیوں کی باری آٸی تو ساٸرہ تو دو رنزبنا کر ہی آٶٹ ہو گٸی تھی۔۔اور فاریہ نے بیس رنزبنا کر آٶٹ ہو گٸی تھی۔۔اور پری زیب اب اکیلی کھڑی تھی۔اور باقی چھتیس رنز چاہیے تھے۔۔احمر نے اپنی اوور پوری کی تو تیس رنز باقی تھے اور اس نے اپنی اوور میں چھ رنز دٸیے تھے۔اور اب زین کی اوور تھی اور لاسٹ اووور تھی۔۔

بیسٹ آف لک۔۔احمر نے کہا۔۔

زین نے ایک نظر دیکھا۔پری زیب کا چہرہ تھکاوٹ سے سرخ ہوا تھا۔۔اوروہ بہت محنت کر رہی تھی۔اور ابھی بھی وہ پرعزم تھی جبکہ اسے پتا تھا اسکی جیت کے چانس بہت کم ہے۔۔

زین نے ہولے سے گیند کرواٸی اور حسب توقع پری زیب کی پسند کا شارٹ تھا اس نے چھکا لگ دیا۔۔اور زین نے ہر بال ویسا ہی کروایا اور پری زیب نے چھکا ہی مارا۔۔اور پھر ایک بال سے لڑکیوں کی ٹیم جیت گٸی تھی۔۔

ہم جیتتتتت گٸے۔وہ زور سے چلاٸی۔۔

زین کا چہرہ تو اسکی خوشی سے دمک رہا تھا۔۔۔

میں تجھےچھوڑوں گا نہیں زین کے بچے۔۔احمرنے اسکے کان میں کہا۔۔

مم۔میں نے کیا کیا۔۔؟ زین نے نظریں چراکرپوچھا۔۔۔

تجھے پتا ہے تو نے کیا کیا ہے۔۔اپنی بیوی کو جیتا ہی دیا۔احمر نے دانت پیس کرکہا۔۔

زین ہولے سے مسکرا دیا۔۔۔

ہاۓ لوزرز۔۔۔پری زیب نے پاس آکر کہا۔۔۔

احمر نے کھا جانے والی نظروں سے زین کو دیکھا تو وہ ادھر ادھر دیکھنے لگا۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رات کو واپس آکر پری زیب تو آتے ہی سونے کیلٸے چلی گٸی۔اور زین اپنی اساٸمنٹ بنانے لگ گیا۔اور پھر فارغ ہوکر وہ روم میں آیا تو پری زیب بیڈ کے درمیان میں سو رہی تھی۔۔زین کا دل کیا کہ اسے ہلا کر ساٸیڈ پہ ہونے کا کہہ دے مگر پھر وہ اسے ڈسٹرب نہ کرتے ہوۓ صوفے پہ ہی لیٹ گیا۔۔

صبح آنکھ کھلی تو پری زیب نماز پڑھ رہی تھی۔۔زین اٹھ کر بیٹھ گیا۔۔اور پھر آکر بیڈپہ لیٹ گیا۔۔

اگر آج قسمت سے اٹھ ہی گٸے ہو تو نماز بھی پڑھ لو۔۔پری زیب نے اسے بیڈ پہ لیٹتے دیکھ کر کہا۔

زین اسکی بات پہ شرمندہ ہو گیا اور پھر اٹھ کر وضو کرنے واشروم میں چلا گیا۔۔وہ جمعے اور عید کی نماز کے علاوہ کوٸی نماز نہیں پڑھتا تھا۔۔ہلانکہ ناٸلہ آفندی نے کبھی نماز نہیں چھوڑی تھی مگر وہ اپنے شوہر اور بیٹے پہ اس معاملے پہ کٸی بار بحث کر چکی تھی۔مگر ان دونوں پہ کوٸی اثر نہیں ہوتا تھا۔۔۔

پھر نماز پڑھ کر پری زیب نے بیٹھ کر قرآن پڑھا اور پھر اٹھ کر باہر جانے لگی۔۔تو زین نے اسے پکارا۔۔

پری زیب پلٹ کر اسے دیکھنے لگی۔

پلیز چاۓ بنادو۔زین نے کہا۔۔

ملازم اٹھے ہونگے۔ان میں سے کسی کو کہہ دو۔وہ ناگواری سے کہہ کر باہر نکل گٸی۔

زین اپنے دکھتے سر کو دباتا بیڈ پہ آکر لیٹ گیا۔۔

کچھ دیر بعد اسے دروازہ کھلنے کی آواز آٸی تو اس نےپلٹ کر دیکھا تو پری زیب تھی۔۔اسکے ہاتھ میں مگ تھا۔

وہ مگ لیکر صوفے پہ بیٹھ گٸی۔۔۔۔

کتنی بدتمیز ہوتم پری زیب۔۔اپنےلٸے بھی تو چاۓ بنانے گٸی تھی اگر میرے لٸے بھی بنا لاتی تو مر جاتی کیا۔زین نے تپ کر کہا۔۔

تمہارا کام کرتے مجھے موت ہی پڑتی ہے۔۔اس لٸے تم سمجھ سکتےہو کہ میں نے مرہی جانا تھا۔۔۔وہ دل جلانے والے انداز میں بولی۔

اور زین کا دل ہی نہیں،جگر معدہ ،پھیپھڑے سب جل گٸے تھے۔۔۔

مگر وہ محض صبر کا گھونٹ ہی پی سکتا تھا۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پری زیب تم نے اساٸمنٹ کیمپلیٹ کر لی تھی کیا ذیشان سر کی۔۔پری زیب کی فرینڈ ماہم نے پوچھا۔۔

ہاۓ اللہ کونسی اساٸمنٹ۔۔۔؟ پری زیب نے آنکھیں پھیلا کر کہا تو ماہم کیساتھ ساتھ زین بھی چونک گیا۔۔۔

تمہیں پتا نہیں تھا کہ اساٸمنٹ ملی ہے اور آج لاسٹ ڈیٹ ہے۔۔زین کی آنکھیں پھیل گٸی۔۔

کیا بولے جا رہے ہو۔۔بھانگ تو نہیں پی رکھی۔۔؟وہ تڑخ کر بولی۔۔

اےےے بھانگ وانگ ہم نے نہیں تم نے پی رکھی ہے۔۔اور پرسوں سر نے رپیٹ بھی کیا تھا کہ اساٸمنٹ تیار ہونی چاہیے۔۔ورنہ سزا ملے گی۔۔۔

ہاۓ ربا ماہم۔۔اب میں کیا کرونگی۔۔وہ لب کاٹتے ہوۓ بولی۔۔

یہ تو سر کی کلاس میں سر سے پوچھنا۔۔ماہم نے جل کر کہا۔۔۔

پری زیب کا رنگ اڑ چکا تھا۔۔کیونکہ کہ سر ذیشان بنا لگی لپٹی کے وہ انسلٹ کرتے تھے۔کہ انسان کو اگلے کٸ دن تک کیلٸے بدہضمی ہو جاتی تھی۔۔

پھر پری زیب نے باقی کے سارے پیریڈز غاٸب دماغی سے ہی لٸے۔۔

اور سر ذیشان کی کلاس سٹارٹ ہو چکی تھی۔۔

ہیلو ایوری ون۔سر نے اندر آکر کہا۔۔۔

ماہم مجھے چھپا لے کہیں۔۔پری زیب بڑبڑاٸی۔۔۔

جی تو سب کی اساٸمنٹ مل چکی ہیں۔مگر ایک انسان ایسا بھی ہے جسکو شاید صرف اپنی من مرضیاں ہی کرنی آتی ہیں۔سر ذیشان ہاتھ پیچھے باندھے بول رہے تھے۔۔۔

ہاۓ ربا ماہم۔سر کی میٹھی میٹھی بستی شروع ہو چکی ہے۔۔وہ لب کاٹتے ہوۓ بولی۔۔

ششششش۔۔چپ ہو جا ورنہ میری بھی ہو جاۓ گی۔۔

جی تو مس پری زیب زرا کھڑی ہو جاٸیں آپ۔۔سر ذیشان نے کہا۔۔۔۔

پری زیب آنکھیں میچ کر کھڑی ہو گٸی۔۔

مس پری زیب اتنی سمجھدار،ویل مینرزہیں آپ۔۔مگر آپ نے ایسا کیسے کر لیا کہ مسٹر زین آفندی جیسے امیچور اور مغرور انسان سے شادی کر لی۔۔پری زیب نے انکی بات پہ چونک کر دیکھا۔۔۔

جی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ وہ حیرت بھرے انداز میں بولی۔۔

جی مس پری زیب۔۔وہ سر ہلا کر بولے۔۔

پھر وہ زین کیطرف بڑھے۔۔

جی تو مسٹر زین آپ کو پتا ہے میں آپ سے کس قدر چڑتا ہوں۔کیونکہ آپ کو کسی کی قدر نہیں ہوتی۔۔آپ نے اپنا ایم بی اے سٹارٹ کیا تو آپ کے علیحدہ کلاس لینے کا مطالبہ مجھے زہر لگا۔۔میں نے جب آواز اٹھاٸی تو آپ کے امیر کبیر باپ نے مجھے کہا کہ یہ یونیورسٹی انکے فنڈ سے چلتی ہے۔اور انکا بیٹا جو چاہے کرے گا۔پھر میں چپ چاپ اپنا پیریڈ لیتا اور تمہیں بنا کچھ کہے چلا جاتا۔۔مگر اب یہ میری کلاس ہے اور تم اسکا حصہ خود بنے ہو تو سزا بھگتنے کیلٸے تیار ہو تم۔۔؟وہ طنزیہ انداز میں بولے۔۔

پوری کلاس ناسمجھی اور حیرت سے سر ذیشان کو دیکھ رہی تھی۔۔۔۔۔

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *