Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mein Kese Kahun (Episode 15)

Mein Kese Kahun by Umme Emman Fatima

ویسے یہ تمہارا صاحب کی بیوی بہت عقل مندہے۔ثانیہ نے صفدر سے کہا۔۔

ہمارے صاحب سکول ،کالج کے ٹاپر ہیں۔صفدر نے فخر سے جواب دیا۔۔

ٹاپر ہونے سے عقل مند کوٸی ہویہ ضروری نہیں ہوتا۔۔ثانیہ نے طنزیہ انداز میں کہا۔۔

تم لڑکیوں کی طنز کٸے بغیر بات مکمل نہیں ہوتی کیا؟صفدر نےکہا۔۔

اب سچی بات تمہیں طنز لگے تو کیا کر سکتی ہوں۔۔وہ مزے سے بولی۔۔۔

تم سے بحث کون کرے۔۔صفدر نے جھلا کر کہا تو وہ کندھے اچکا کر رہ گٸی۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پری زیب کی آنکھیں نیند سے بوجھل ہو رہی تھی۔۔اس نے گھٹنوں میں سر رکھا اور کچھ دیر میں وہ سو گٸی تھی۔۔

زین اسے کب سے دیکھ رہا تھا۔پھر وہ اسکے پاس آکر بیٹھ گیا۔۔اور ہولے سےاسکی کمر میں ہاتھ رکھ کر خود کے قریب کیا۔اور وہ اسکے سینے کیساتھ لگ گٸی ۔۔

توبہ یہ پری زیب تو گھوڑے گدھے بیچ کر سوتی ہے ورنہ مجھے اب تک ہاتھ لگانے پہ سو باتیں سنا چکی ہوتی۔زین نے دل ہی دل میں سوچا۔۔

پھر کچھ دیر زین نے اسے سیدھا کرکے لٹایا اور خود اپنا بازو اسکے سر کے نیچے رکھ کر ساتھ ہی لیٹ گیا۔۔اور کچھ دیر بعد وہ بھی سو چکا تھا۔۔

صبح ڈاکوٶں کے چلانے پہ وہ سب ہڑبڑا کر اٹھے۔

پری زیب نے حیرت سے دیکھا کہ وہ زین کے سینے پہ سر رکھے ہوۓ تھی۔۔

پاگل ،جاہل انسان ،تمہاری ہمت کیسے ہوٸی میرے پاس آنے کی۔۔وہ اٹھتے ہی چلاٸی۔۔

آٶچ۔۔زین اپنا سینہ مسلتا اٹھ کر بیٹھ گیا۔۔

توبہ پری زیب تمہارا سر اتنا بھاری ہے لگتا پتھر بھرے ہیں۔۔میرا سینہ دکھنے لگ گیا۔زین نے کہا۔۔

شٹ اپ ۔وہ چلا کر بولی۔۔

تم دونوں چپ رہو۔اور ہمیں کھولو“اور لڑکی تمہیں تو میں چھوڑوں گا نہیں۔اب دیکھنا کیسے اپنے بستر کی زینت بناتا ہوں۔۔

وہ ڈاکو غرایا۔۔

اسکی بیہودہ بات پہ چاروں کا غصے سے بڑا حال ہو گیا۔۔

پھر پری زیب نے ارد گرد دیکھا تو اسے درخت کی شاخ نظر آٸی۔۔

اس نے وہ پکڑی اور دوسرے پل وہ ڈاکو کو اس سے پیٹ رہی تھی۔۔

کمینے “ذلیل انسان۔عورت کی عزت نہیں کرنا جانتے تم مرد اور عورت تمہارے بدلے اور بستر کی زینت ہے کیا۔۔وہ بولتی جا رہی تھی ساتھ ہی ساتھ زین کو دیکھتے ہوۓ بولے جا رہی تھی۔۔

زین سمجھ گیا تھا کہ اسکا غصہ وہ اس ڈاکو پہ نکال رہی ہے۔۔

ثانیہ جاٶ اسکو روکو۔۔زین نے ثانیہ سے کہا۔۔

میں تو نہیں جاتی۔۔تمہاری بیوی تو بہت خطرناک ہے۔ثانیہ نے کہا۔۔

بس نکل گٸی ساری بہادری۔خود ایک بلیک بیلٹ ہو اور ایک عام سی لڑکی سے ڈر رہی ہو۔۔زین نے طنزیہ انداز میں کہا۔۔

بلیک بیلٹ تو تم بھی لگتے ہو۔۔کسرتی بدن ہے۔اور مرد بھی ہو تم ہی قابو کرلو۔۔ثانیہ نے تڑخ کر کہا۔۔

میں جاتا ہوں۔۔صفدر نے کہا اور تیزی سے اسکی طرف بڑھا۔۔

میم،پری میم ۔۔۔بس کریں۔۔مر جاۓ گا بیچارا۔۔صفدر نے پاس جاکر کہا۔۔

تو پری زیب نے شاخ اٹھا کر پھینکی اور دھپ دھپ کرتی زین کے ساتھ آ کر اسے کاٹ دار نظروں سے دیکھنے لگی۔جیسے کہہ رہی ہو کہ تم اب میرے ہاتھوں سے بچ جاٶ۔۔۔

زین نے ناگواری سے اسے دیکھا۔۔

واٹ۔۔۔پری زیب نے تپ کر پوچھا۔۔۔

صفدر چلو ہمیں نکلنا ہے۔انکی جیپ لے لو اور پٹرول کا کین بھی۔زین کہہ کر اپنی چیزیں سمیٹنے لگا۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفدر نے جیپ اپنی گاڑی کے سامنے روکی اور جلدی سے کین نکال کر گاڑی میں پٹرول بھرا۔۔

سر آ جاٸیں۔۔صفدر نے کہا۔تو وہ تینوں گاڑی کیطرف بڑھے۔۔

زین اور پری زیب گاڑی میں بیٹھ چکے تھے۔۔اور ثانیہ نے اپنا بیگ نکالا تو وہ تینوں اسے سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگے۔۔

کدھر۔۔؟ پری زیب نے پوچھ ہی لیا۔۔

وہ میں یہ جیپ ٹھکانے لگا دوں۔۔اور کسی اور راستے پہ چھوڑ دونگی۔۔تاکہ وہ لوگ تمہارے پیچھے نہ آ سکے۔۔ثانیہ نے کہا۔۔

مس ثانیہ آپ گاڑی میں بیٹھیں۔رہنے دیں جیپ کو۔۔ہم آپکی جان کو خطرے میں نہیں ڈال سکتے۔۔زین نے کہا۔۔

کچھ نہیں ہوگا مجھے۔وہ جلدی سے بول کر پلٹی۔۔

ثانیہ اپنا فون نمبر تو دے دو۔پری زیب نے کہا۔۔

اوووہ سوری۔وہ سر پہ ہاتھ مارتے ہوۓ بولی۔۔ایک کام کر تو اپنا نمبر دے میں تجھے مسڈ کال کرتی ہوں۔۔میں چھچھورے لڑکوں کے سامنے نمبر نہیں دیتی۔۔ثانیہ نے صفدر کی طرف دیکھتے ہوۓ کہا۔۔

صفدر لب بھینچ کر رخ پھیر گیا۔۔۔

لیکن سگنل نہیں ہے تو مسڈ کال کیسے دو گی۔پری زیب نے کہا۔۔

ارے پاگل ادھر سگنل نہیں ہے۔مگر یہاں سے آگے آ جاٸیں گے۔تو وہاں پہنچ کر فون کر لوں گی تجھے۔۔ثانیہ نے کہا۔۔

پری زیب نے اسے اپنا نمبر لکھوایا اور پھر زین نے گاڑی سٹارٹ کر لی۔۔

صفدر نے مرر سے ثانیہ کو دور ہوتے دیکھا تو اسکا دل جیسے ڈوب سا گیا تھا۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ثانیہ نے اپنے بیگ سے اپنا بلیک چست لباس نکالا اور آنکھوں میں لینز لگاۓ۔اور چہرے پہ نقاب لگا کر وہ جیپ میں بیٹھ گٸی۔

جیپ کو تھوڑا آگے جاکر کھڑا کرکے وہ پیدل ہی ڈاکوٶں کے اڈے پہ پہنچی۔۔

پھر وہ چلتی ہوٸی انکے سامنے پہنچی تو وہ خوشی سے چیخ اٹھے۔۔

باس ہمیں کھولٸے نہ۔ڈاکوٶں کا سرغنہ بولا۔۔

مجھے کٸی دنوں سے اطلاع مل رہی تھی کہ جنگل سے جو بھی گزرتا پہلے تو صرف وہ مال لوٹتے تھے۔مگر پھر لڑکیوں کو اغوا کرکے انکی عزتیں بھی لوٹنےلگ گٸے ہیں۔۔میں نے سوچا چلو معاٸنہ کر لیتے ہیں۔تو میں نے تمہیں فون کرکے زین آفندی کے پیچھے لگایا۔۔تم نے انکا پیچھا کیا مگر وہ تمہیں دغا دینے میں کامیاب ہو گیا۔۔مگر قسمت دیکھو“گاڑی جاکر تمہاری اڈے کے پاس رک گٸی۔

پھر تم اپنا مقصد بھول کر اس لڑکی پری زیب کیساتھ فلرٹ کرنے لگے۔مگر وہ لڑکی نے تمہیں الو بنایا۔۔اور تمہیں باندھ کرپوری رات تمہارے اڈے پہ گزار کر صبح تمہارا بینڈ بجا کر اطمینان سے تمہاری جیپ لیکر فرار ہو گٸی سب کیساتھ۔۔ثانیہ نے مزے سے ساری کہانی سناٸی۔

آپ کو کسی نے غلط اطلاع دی ہے۔۔وہ ڈاکو جلدی سے بولا۔۔

داور تمہیں کہا تھا کہ کبھی عورت کی عزت کرنا مت بھولنا۔مگرتم نے دھوکہ دیا مجھے۔۔اور دھوکے باز کی سزا موت ہوتی ہے۔۔وہ غرا کر بولی۔۔

پھر وہ پستول ہٹا کر اٹھ گٸی۔۔

نہیں نہیں ۔۔موت سے تو تم فوری مر جاٶ گے۔تم جیسے کو تو پل پل مرنا چاہیے۔۔وہ بولی۔۔

اور پھر واٸرلیس فون سے پولیس کو فون ملانے لگی۔۔

ہیلو انسپکٹر۔۔میری جان خطرے میں ہے۔پلیز ادھر آ جاٸیں۔وہ گھبراہٹ بھری آواز میں بولی۔۔اور پھر انہیں لوکیشن بتانے لگی۔

اور پھر سب کے سروں پہ پسٹل کے بٹ مار کر بیہوش کرکے وہ ایک درخت پہ چڑھ کر چھپ گٸی۔۔

کچھ دیر میں پولیس آٸی اور سب کو اٹھا کر بکتربند گاڑی لیکر چلی گٸی۔۔

ثانیہ درخت سے اتر کر منہ ہاتھ دھو کر واپسی کیلٸے مڑ گٸی۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

زین نے گاڑی لال حویلی کے سامنے کھڑی کی تو باہر کھڑے ملازم اور گارڈز تیزی سے اسکی طرف بڑھے۔۔

سر آپ ٹھیک ہیں۔۔؟

کدھر تھے آپ؟۔

ہم کل سے ڈھونڈ رہے آپ کو۔۔۔

سب باری باری اپنی الاگ رہے تھے۔۔۔

جسٹ شٹ اپپپپپپپ۔وہ چلا کر بولا۔۔

اور پھر تیزی سے اندر بڑھ گیا۔۔صفدر اور پری زیب بھی اسکے پیچھے پیچھے چل پڑے۔۔

مام “ڈیڈ۔کدھر ہے آپ؟۔زین نے اندر آکر کہا تو سب باری باری باہر نکل آۓ۔۔

اور ناٸلہ آفندی بھی تیزی سے باہر آٸی تو زین جلدی سےانکے گلے لگ گیا۔۔

آپ بہت پریشان ہوٸی ہونگی۔وہ ناٸلہ آفندی کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لیکر بولا۔۔۔

میری تو جان ہی نکل گٸی تھی۔۔ناٸلہ آفندی نے نم لہجے میں کہا۔۔۔

پری زیب دور کیوں کھڑی ہو ادھر آٶ میرے پاس۔وہ بازو پھیلا کر بولی۔۔

پری زیب جلدی سے انکے گلے لگ گٸی۔۔

چلو ماسی جی سے مل لو۔۔ناٸلہ آفندی نے کہا۔تو وہ دونوں ماسی جی کے کمرے کیطرف بڑھ گٸے۔

کچھ دیر ماسی جی کے پاس بیٹھ کر وہ دونوں اپنے کمرے میں آرام کرنے چلے گٸے۔۔۔

زین کپڑے چینج کرکےجلدی سے بیڈ پہ چوڑا ہوکر لیٹ گیا۔۔

اٹھو یہاں سے۔میں بیڈ پہ سوٶں گی۔وہ چڑ کر بولی۔

نہیں اٹھو گا۔۔زین نے آنکھیں موند کر کہا۔۔

میں پانی ڈال دونگی۔وہ غصے سے بولی۔۔

یہاں پانی کا کوٸی جگ نہیں ہے۔وہ اطمینان سے بولا۔۔۔

واشروم تو ہے۔۔اور اس میں لوٹا تو ضرور ہوگا۔۔۔

پری زیب کی بات پہ وہ ہڑبڑا کراٹھ کر بیٹھ گیا۔۔

دیکھو پری زیب۔اچھے بچوں کی طرح ہم بیڈ کی ایک ایک ساٸیڈ پہ سو سکتے ہیں۔کیونکہ رات زمین پہ سونے سے میرے کمر میں بہت درد ہے۔سو پلیز آرام کرتے ہیں ۔۔زین نے جلدی سے اسے مناتے ہوۓ کہا۔

ٹھیک ہے۔لیکن اگر تم میری ساٸیڈ پہ آۓ تو جان سے مار دونگی۔وہ اسے وارن کرتے ہوۓ بولی۔۔

اوکے فاٸن۔زین نے کہا اور پھر بیڈ کے درمیان میں کشن لگا دٸیے۔۔

اور دونوں اپنی اپنی ساٸیڈ پہ لیٹ گٸے۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

زین کی آنکھ کھلی تو اس نے وال کلاک پہ ٹاٸم دیکھا تو شام کے پانچ بج رہے تھے۔وہ جلدی سے اٹھ کر بیٹھ گیا۔۔۔

اوووہ گاڈ۔۔ماسی دادی تو مجھ سے سخت ناراض ہو جاٸیں گی۔وہ بڑبڑایا۔۔

پھر جلدی سے منہ ہاتھ دھو کر باہر نکلا تو حویلی کے صحن میں چارپاٸیاں بچھا کر سفید چادر اور لال گاٶ تکیے رکھے تھے۔۔

یہ سب کیا ہے ؟ اس نے حیرت سے پوچھا۔۔

چھوٹی دولہن کی منہ دیکھاٸی ہے۔۔اور گاٶں کے سب زمیندار کی بیویاں آ رہی سراج آفندی کے پوتے کی بیوی دیکھنے۔۔ماسی جی نے جواب دیا۔۔

اووووہ اچھا۔۔پھر وہ آکر ماسی کی گود میں سر رکھ کر لیٹ گیا۔۔

چھوثی دولہن تمہیں اتنی بار اٹھانے گٸی مگر تم تو لگتا کوٸی نشہ وشہ پی کر سوۓ تھے۔ماسی جی نے کہا۔۔

مجھے تو نہیں اٹھانے گٸی یہ پھپھی کٹنی۔۔زین نے دل ہی دل میں اسے کوسا۔۔۔

پھر وہ اٹھ کر پری زیب کو ڈھونڈنے لگا۔تو وہ اسے ناٸلہ آفندی کے کمرے میں مل گٸی۔۔

تم خود کو سمجھتی کیا ہو۔۔؟ وہ پاس آکر تپ کر بولا۔۔

انسان“اطمینان بھرا جواب آیا۔۔

زین اسکے جواب پہ تپ گیا اور ناٸلہ آفندی نے اہنے منہ پہ ہاتھ رکھ کر ہنسی روکی۔۔

مام “آپ اسکی حرکتوں پہ ہنس کر اسے شہہ دے رہی ہیں“اور میں اس بدتمیز لڑکی کو مزید برداشت نہیں کر سکتا۔۔زین نے چلا کر کہا۔۔

ماٸنڈ یور لینگویج زین۔ناٸلہ آفندی نے سرزنش بھرے لہجے میں کہا۔۔

مام میں لاسٹ بار اسکو وارننگ دے رہا ہوں۔اگر یہ آرام سے میرے حکم پہ نہ چلی تو طلاق دے دونگا اسے۔۔زین نے غصے سے کہا۔۔

تم اگر مجھے طلاق نہیں بھی دو گے تو میں خود خلع لے لوں گی۔مگر تم جیسے گھٹیا کیساتھ نہیں رہوں گی۔۔وہ بھی چلا کر بولی۔۔

بس کردو تم دونوں۔ناٸلہ آفندی نے انکے آگے ہاتھ جوڑتے ہوۓ کہا۔

تو وہ دونوں چپ ہو گٸے۔۔اور زین تیزی سے وہاں سے نکل گیا۔۔

اورناٸلہ آفندی سر پکڑ کر بیٹھ گٸی۔۔اور پری زیب لب بھینچ کر رہ گٸی۔۔

وہ دونوں اس بات سے انجان تھی کہ باہر کھڑی ماسی جی کی بیٹی سندس نے ایک ایک لفظ سنا۔۔اور طنزیہ انداز میں مسکراٸی۔۔

آج تمہاری بہت ذلت ہونے والی ہے ناٸلہ بیگم۔وہ نفرت سے بولی اور موباٸل میں ریکارڈ ویڈیو کو سوشل میڈیا پہ پھینکنے لگی۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پری زیب نے ماسی جی کا دی بھاری گولڈن بھاری ایمبراٸیڈری کی فراک پہنی تھی۔اور گلے میں گلوبند اور کانوں میں ٹاپس پہنے اور بال کھلے چھوڑے وہ بہت پیاری لگ رہی تھی۔

ناٸلہ آفندی اور ماسی جی بڑی بہو اسے تھام کر باہر لاٸی تو موباٸل میں مصروف زین نے نظریں اٹھا کر دیکھا تو نظریں پلٹنا ہی بھول گیا۔۔

پھر وہ چلتی ہوٸی ماسی کے ساتھ تخت پہ بیٹھ گٸی۔۔

کچھ دیر بعد سب زمینداروں کی بیویاں اسے پیار دیکر شگن دینے لگی۔۔۔

یہ سندس کدھر ہے ؟ ماسی جی نے ارد گرد دیکھ کر پوچھا۔۔

ہاۓ اماں “یہ دیکھو کیا ہے۔سندس نے جلدی سے ویڈیو دیکھاٸی۔۔

اور باقی سب تک آوازیں پہنچ رہی تھی۔۔اور سب چہ مگوٸیاں کرنے لگے۔۔

ناٸلہ آفندی اور پری زیب فق چہرے کیساتھ بیٹھی تھی۔۔

دیکھ رہی اماں“کتنی لمبی زبان اس لڑکی کی۔بیچارے زین کی زندگی خراب ہو گٸی۔سندس نے زہر اگلا۔۔

توبہ توبہ۔ایسے مجازی خدا سے کون بولتا ہے۔ایک عورت بولی۔۔

پری زیب کا دل کر رہا تھا کہ زمین پھٹے اور اس میں سما جاۓ۔۔

زین لب بھینچ کر سب دیکھ رہا تھا۔۔

ماسی جی،یہ تماشا بند کرواٸیے۔۔ناٸلہ آفندی نے التجاٸیہ انداز میں کہا۔۔

پری زیب نے خود کو سنبھالا اور زور سے چلاٸی۔۔بسسسس۔۔۔

بس کریں آپ لوگ۔کیا سمجھتی ہیں آپ خود کو۔مرد ذلیل کرتا رہے چپ چاپ سہتی رہے عورت۔۔کیوں سہے وہ چپ چاپ۔۔کوٸی بےجان مورت تو نہیں عورت۔اور۔۔۔۔

بس ،ماسی جی دھاڑی۔۔اور پھر انکا بھاری ہاتھ اٹھا اور پری زیب کے نازک رخسار کو لال کرتا چلا گیا۔۔۔

جاری ہے۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *