Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mein Kese Kahun (Episode 14)

Mein Kese Kahun by Umme Emman Fatima

چلاٶ مت مجھ پہ زین آفندی میں تمہاری غلام نہیں ہوں۔وہ تپ کر بولی۔۔

زین نےغصہ ضبط کرتے ایکسیلیٹر پہ دباٶ بڑھا دیا۔۔

اور نجانے کن کن راستوں سے گزارتا وہ جنگل کے راستے پڑ چکا تھا۔مگر جیپ سے پیچھا چھوٹ گیا تھا۔۔

یہ تم نےکیا کیا۔اس قدر خطرناک علاقے میں ڈال لی گاڑی۔جانتے بھی ہو چور ڈاکوٶں کے اڈے ہیں یہاں۔۔اور مغرب کی اذانیں بھی ہونے لگی۔زرا سا مزید اندھیرا ہو گیا تو ہم بھٹک جاٸیں گے۔وہ لڑکی بولی۔

ویسے تم بولتی بہت ہو لڑکی۔۔۔نام کیا ہے تمہارا۔۔زین نے پوچھا۔۔۔

ثانیہ نام ہے ہمارا۔ایک سکول میں بچوں کو جوڈو کراٹے سکھاتی ہوں۔۔وہ جلدی سے بولی۔۔

سرنے تم سے تمہارا نام پوچھا تھا صرف۔۔صفدر نے طنزیہ انداز میں کہا۔۔۔

ثانیہ دانت کچکچا کر رہ گٸی۔۔

اچھا ٹھیک ہے پھر مت شروع ہو جانا“زین نے جلدی سے ان دونوں کو ٹوکا۔۔

تمہاری بیوی اتنی چپ چپ کیوں رہتی ہے ؟ ثانیہ نے پوچھا۔۔

کیونکہ یہ چپ ہی اچھی ہے۔ورنہ اسکی زبان سے صرف انگارے برستے ہیں۔زین کے جواب پہ پری زیب نے غصے سے اسے دیکھا۔۔۔۔۔۔۔

کچھ دیر بعد گاڑی ہچکولے کھاتے کھاتے رک گٸی۔زین نے جب میٹر پہ دیکھا تو زیرو میٹر تھا۔۔

اوووہ شٹ۔۔پٹرول ختم ہو گیا۔زین نے کہا۔۔

کیا۔۔۔۔۔؟وہ تینوں چلاۓ۔۔

صفدر گاڑی میں کوٸی کین ہے کیا؟

نوسر ۔۔۔وہ جلدی سے بولا۔۔

صفدر کم از کم دیکھنا چاہیے تھا تمہیں۔۔زین نے اس پہ غصہ نکالا۔۔۔۔

اپنی غلطی کا ملبہ اس بیچارے پہ کیوں ڈال رہے ہو۔۔اس نے نہیں کہا تھا کہ تم جنگل میں نکل آٶ۔۔پری زیب نے صفدر کا دفاع کرتے ہوۓ کہا۔۔

ارے تو اس بیوقوف کو پتا ہونا چاہیے تھا کہ پٹرول کا کین پیچھے گاڑی میں رکھے۔کچھ بھی ایمرجنسی پڑ سکتی ہے۔زین نے تپ کر کہا۔۔

واہ واہ “کیا کہنے۔۔؟صفدر کین رکھے تاکہ تم راستے میں غصہ آۓ گاڑی روکو پٹرول نکال کر گاڑی پہ چھڑک کر گاڑی کو آگ لگا دو۔پری زیب نے طنزیہ انداز میں کہا۔۔

شٹ اپ ۔دفع ہو جاٶ میری گاڑی سے۔۔زین نے چلا کر کہا۔۔

پری زیب نے نفرت سے اسے دیکھا اور پھر دروازہ کھول کر وہ باہر نکل گٸی۔۔

ارے میم۔۔صفدر نے گڑبڑا کر اسے روکا۔۔

ارے روکو نہ اسے۔۔کہیں نقصان نہ اٹھانا پڑ جاۓ۔۔ثانیہ نے کہا۔۔

جانے دو اسے کہاں تک جاۓ گی۔اندھیرے سے ڈرتی ہے ابھی واپس آ جاۓ گی۔۔زین نے لاپرواہی سے جواب دیا۔اور اطمینان سے سیٹ کی پشت پہ سر ٹکا کر آنکھیں موند لیں۔۔

کچھ دیر بعد انہیں ٹاٸیگر کی دھاڑ سناٸی دی۔تو وہ تینوں گھبرا کر سیدھے ہوۓ۔پھر زین جلدی سے گاڑی کا دروازہ کھول کر باہر نکلنے لگا تو صفدر نے جلدی سے اسے روکا۔۔

صفدر جانے دو مجھے۔پری زیب اکیلی ہے باہر۔زین نے گھبرا کر کہا۔۔۔۔پھر ٹاٸیگر کی دھاڑ کے ساتھ پری زیب کی کرب ناک چیخ سناٸی دی۔۔

ان تینوں کی آنکھوں میں خوف کے ساۓ لہرا گٸے۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ناٸلہ آفندی اور زین آفندی گاٶں پہنچے تو انکا پرتپاک استقبال کیا گیا۔۔۔

پھر وہ لوگ اندر آکر ماسی جی کے کمرے کیطرف بڑھ گٸے۔۔

السلام علیکم ماسی جی۔۔ان دونوں نے اندر آکر کہا۔۔

تو ماسی جی نے تسبیح کرتے ہوۓ نظریں اٹھا کر سرہلا کر سلام کا جواب دیا۔

پھر تسبیح کرنے کے بعد ماسی جی نے تسبیح ساٸیڈ پہ رکھی اور انکا حال احوال پوچھنے لگی۔۔

اور زبیر میاں بیٹے کی بیوی بھی توکہیں اپنی بیوی جیسی تو نہیں لے آۓ۔ماسی جی نے تیکھے لہجے میں پوچھا۔۔

ماسی جی۔ناٸلہ جیسی ہی نرم دل اورپیارے دل کی ہے۔زبیر آفندی نے ناٸلہ آفندی کے پھیکےپڑتے رنگ کو دیکھ کر جلدی سے جواب دیا۔۔۔

ہونہہ۔۔بس میاں تمہیں تو اپنی بیوی بڑی پیاری لگتی۔مگر مجھے تو اسکی آنکھوں میں دھوکہ دکھاٸی دیتا۔۔

ماسی جی کی بات پہ ناٸلہ آفندی کا رنگ زرد پڑ گیا۔۔

ماسی جی۔بھاٸی جان کدھر ہیں۔زبیر آفندی نے جلدی سے موضوع بدلا۔۔

پھر کافی دیر تک وہ لوگ باتیں کرتے رہے۔۔

زبیر میاں۔یہ زین میاں اور چھوٹی دولہن ابھی تک پہنچے نہیں۔۔

ماسی جی کی بات پہ زبیر آفندی جلدی سے زین کو فون ملانے لگے۔۔مگر اسکا فون بند تھا۔۔پھر باری باری انہوں نے صفدر اور پری زیب کا بھی نمبر ملایا۔۔مگر سب کے نمبر بند تھے۔۔

زبیر آفندی کے چہرے پہ تشویش کے ساۓ لہرانٕے لگے۔۔

کک“کیا ہوا زبیر صاحب۔۔ناٸلہ نے گھبرا کر پوچھا۔۔

کسی کا بھی فون نہیں لگ رہا۔۔زبیر آفندی نے ماتھا مسلتے ہوۓ جواب دیا۔۔

ناٸلہ آفندی متوحش نظروں سے انہیں دیکھنے لگی۔۔

تم فکر مت کرو۔۔وہ آتے ہی ہونگے۔۔اور کہیں گاڑی واڑی خراب ہو گٸی ہوگی۔اور ہم خود بھی جاکر دیکھتے ہیں۔۔۔زبیرآفندی کہہ کر جلدی سے باہر نکل گٸے۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پری زیب کی چیخ پہ زین کو اپنی سانسیں رکتی محسوس ہوٸی۔۔۔

پھر وہ تینوں گاڑی سےنکل کر جدھر سے چیخ سناٸی دی اس طرف بھاگے۔۔

پری زیب۔۔زین نے چلا کر آواز دی۔۔مگر کہیں سے جواب نہیں آیا۔۔۔

جہاں ہو وہی کھڑے رہو۔۔اور کوٸی مزاحمت کی تو وہ دوسری لڑکی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے گی۔پیچھے سے ایک آدمی نے غرا کر کہا۔۔۔

وہ تینوں ساکت ہو گٸے۔۔پھر انکے پشت پہ گن رکھ کر تین آدمی انکو لیکر آگے بڑھنے لگے۔

پھر کچھ دیر میں وہ ایک خیمے کے سامنے تھے۔۔جہاں دو آدمی بیٹھے تھے۔اور پری زیب زمین پہ ساکت بیہوش پڑی تھی۔۔

پری زیب۔۔۔زین نے چلا کر اسکی طرف لپکنے لگا۔۔مگر اسکے پیچھے کھڑے آدمی نے اسے بازو سے پکڑ کر کھینچ کے پیچھے کیا۔۔

پھر کچھ دیر میں وہاں کافی اندھیرا ہوگیا۔۔اور ایک آدمی نے وہاں بلب آن کردٸیے۔۔پھر ایک آدمی خیمے سے باہر آیا اور پری زیب کے پاس بیٹھ کر اسکے رخسار پہ ہاتھ پھیرا۔۔

ہاتھ ہٹاٶ گھٹیا انسان۔زین نے چلا کر کہا۔۔

اس آدمی نے ناگواری سے اسے دیکھا۔۔اور پھر ہولےسے پری زیب کے رخسار تھپتھپا کر اسے اٹھانے لگا۔۔کچھ دیر بعد وہ کسمساٸی اور پھر دھیرے سے آنکھ کھول دی۔۔

پری زیب کچھ پل ناسمجھی سے دیکھتی رہی پھر اپنے اوپر کسی انجان آدمی کو جھکے دیکھ کر ہڑبڑا کر اٹھ کر پیچھے ہوٸی۔۔۔

مجھ سے دور مت جاٶ میری شہزادی۔وہ آدمی پاس ہو کر بولا۔۔۔

کک“کون ہو تم؟ پری زیب نے ہکلا کر پوچھا۔۔

پہلے تو کچھ اور تھا۔مگر اب تو تمہارا دیوانہ ہوں۔وہ آدمی بولا۔۔

بکواس بند کرو اپنی“منہ توڑ دونگی تمہارا۔۔پری زیب چیخ کر بولی۔۔

ارے یار“تم شہری لوگ اتنا چلاتے کیوں ہو۔۔وہ تین جو تیرے پیچھے بیٹھے ان میں سے ایک بہت زور سے پکار رہا تھا تمہیں۔اور یہاں تمہیں جب جب چھو رہا ہوں۔اسے تکلیف کیوں ہو رہی ہے اتنی۔۔۔؟اس آدمی کی بات پہ پری زیب نے چونک کر پیچھے مڑ کر دیکھا۔۔تو ان تینوں کو بندھا دیکھ کر اس نے اطمینان کا سانس لیا۔۔۔۔

واٹ دا ہیل پری زیب“تم ہمیں اس مصیبت میں دیکھ کر خوش ہو رہی ہو۔۔زین نے دانت پیس کر کہا۔۔

ہاں تو خوش ہونے والی بات ہی ہے کہ چلو ہم تو ڈوبے ہیں تو تم کونسا محفوظ ہو۔۔پری زیب نے تنک کر کہا۔۔

اچھا تو پھر دل لبھاٶ اس منحوس کا۔۔کیونکہ یہ تم پہ فریفتہ ہو چکا ہے۔۔زین نے دانت کچکچا کر کہا۔۔

ہاۓ اللہ سچی کیا،تم کو میرے سے محبت ہے کیا ڈاکو جی۔اس نے آنکھیں پٹپٹا کر پوچھا۔۔

بہت زیادہ۔وہ ڈاکو پاس ہوکر بولا۔۔

ہاۓ اللہ میں تو خوشی سے مر ہی جاٶں گی۔پتا ہے ڈاکو جی ایک مووی تھی۔اس میں ایسے ہی ڈاکو لڑکی پہ فدا ہوتا ہے۔پتا ہے تب میں نے پکا ارادہ کر لیا تھا کہ کچھ بھی ہو جاۓ۔میں ڈاکو سے شادی کرکے ڈاکونی بنو گی۔۔ ہم اکھٹے ڈاکے ماریں گے پھر رات کو پارٹی کرینگے۔میرا پیارا ڈاکو گروی بجاتا اور میں گاتی۔

اووووہ جب تک ہے جاں،

جان جہاں میں ناچوں گی۔

وہ جھوم جھوم کر بولنے لگی۔۔سب لوگ حیرت سے آنکھیں پھاڑے اسے دیکھ رہے تھے۔۔

لگتا پاگل ہو گٸی یہ لڑکی۔۔ثانیہ بڑبڑاٸی۔۔

پہلے سےہی پاگل ہے۔زین نے دانت کچکچا کر کہا۔۔

تیرے کو میں اچھا لگا کیا۔۔وہ ڈاکو جلدی سے پوچھنے لگا۔۔

نہیں تو ہم کو اچھا نہیں بہتتتتتتتت اچھا لگا۔۔وہ بہت پہ ہاتھ پھیلا کر بولی۔۔

ٹھیک ہے ہم تم سے آج ہی شادی کرواۓ گا۔وہ ڈاکو جلدی سے بولا۔۔۔۔

آج نہیں ہم کل شادی کرواٸیں گے۔۔آج ہم ناچے گاۓ گے۔۔اور وہ جو لڑکی ہے نہ ان تینوں میں سے اسے بھی کھول دو۔۔ہم سہیلیاں ہیں اور اسے بھی ڈاکو بہت پسند ہے۔پری زیب نے ثانیہ کو دیکھتے ہوۓ کہا۔۔

ڈاکو نے اسکی بات پہ اثبات میں سر ہلا دیا۔۔اور پھر جلدی سے ثانیہ کو کھولنے کو کہا۔۔

ثانیہ رسیوں سے آزاد ہونے کے بعد پری زیب کیساتھ خیمے میں چلی گٸی۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ثانیہ نے خیمے میں داخل ہو کر چاروں طرف دیکھا اورپھر جلدی سے پری زیب کیطرف بڑھی۔۔

مجھے لگا ہی تھا کہ تو اس ڈاکو کو الو بنا رہی ہے۔ثانیہ نے اسکے پاس ہوکر کہا۔۔

ہاں۔۔مگر ثانیہ ہم ان مسلح آدمیوں سے لڑ لیں گی کیا؟پری زیب نے پوچھا۔

ہاں لڑ سکتے ہیں کیونکہ یہ لوگ چھ ہیں ہم مار کٹاٸی کرکے یہاں سے بھاگ تو جاٸیں گے۔۔مگر ہماری دشمنی بڑھ جاۓ گی۔اور ہو سکتا جنگل میں جگہ جگہ انکے اڈے اور آدمی ہوں۔۔اور پھر یہاں سے بھاگ کر ہم جنگلی جانوروں کی خوراک بھی بن سکتے ہیں۔۔تو ہمیں کچھ ایسا کرنا ہوگا کہ ہم رات سکون سے گزارے صبح ہم یہاں سے نکل جاٸیں۔۔ثانیہ نے کہا۔۔

پری زیب حیرت سے کچھ سوچنے لگی۔

ہمیں ان کو گہری نیند یا بیہوشی میں رکھناہوگا۔۔تو اب بیہوش کیسے کریں۔۔پری زیب نے کہا۔۔

میرے پاس نیند کی گولیوں کی شیشی ہے۔ہمیں کسی مشروب میں ڈال کر دینی ہوگی۔تو مشروب ڈھونڈو۔۔ثانیہ نے کہا۔۔

پھر اسکی نظر سامنے رکھی کوک کی بوتل پہ پڑی۔۔ثانیہ نے وہ جلدی سے پکڑی اور پھر انکو گلاسوں میں ڈال کر اس میں گولیاں ڈال دی۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

زین کا دماغ غصے سے کھول رہا تھا۔وہ دل ہی دل میں پری زیب کو کوس رہا تھا۔

سر پری زیب میم نے ایسا کیوں کیا ہے۔؟ صفدر نے پوچھا۔۔

وہ لڑکی مینٹل کیس ہے..زین نے منہ بنا کر جواب دیا۔۔

پھر کچھ دیر بعد وہ دونوں باہر نکلی تو پری زیب کے ہاتھ میں ٹرے تھی۔۔

اس ٹرے کو دیکھ کر ڈاکو بھی چونکے۔۔

کوک کے سب شوقین ہے نہ۔۔اوففف۔پری زیب نے اٹھلا کر پوچھا

زین نے بےچینی سے پہلو بدلا۔۔۔

تم اپنے ہاتھوں سے زہر بھی دوگی تو وہ بھی پی لونگا۔۔وہ ڈاکو پاس ہوکر بولا۔۔

کچھ پل بعد وہ پانچوں آدمی جہاں تھے وہی بیٹھے بیٹھے سو چکے تھے۔۔۔

ثانیہ جی “پلیز آپ ان دونوں کو کھول دیں۔تاکہ وہ آکر ان کو باندھے۔۔اور انکی رسیاں بھی لے آنا۔۔میں اندر سے مزید رسیاں ڈھونڈتی ہوں۔۔پری زیب نے کہأ۔۔تو ثانیہ جلدی سے سر ہلا کر زین اور صفدر کی طرف بڑھ گٸی۔۔اور پری زیب رسیاں ڈھونڈنے خیمے کیطرف چل پڑی۔کچھ پل میں وہ رسیاں لیکر باہر نکلی۔۔

پھر انہوں نے ان چھ کے چھ کو مضبوطی سے باندھ دیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ناٸلہ آفندی پریشانی سے ادھر ادھر ٹہلتے ہوۓ زبیر آفندی کا انتظار کر رہی تھی۔

بڑی دولہن بیٹھ جاٶ آرام سے۔آتے ہی ہونگے وہ۔۔

ماسی جی میرا دل بیٹھا جا رہا ہے۔نجانے بچے کہاں ہونگے۔ناٸلہ آفندی نے نم لہجےمیں کہا۔۔۔

اللہ کی امان میں دے دو بچوں کو ،اور دعا کرو۔۔ ان شاء اللہ وہ لوگ آ جاٸیں گے۔۔ماسی جی نے تسلی دیتے ہوۓ کہا۔۔

ناٸلہ آفندی صوفے میں بیٹھ گٸی۔۔

کچھ دیر بعد زبیر آفندی اندر داخل ہوۓ تو وہ جلدی سے اٹھ کر انکی طرف لپکی۔۔

زبیر صاحب،بچے کدھر ہیں؟ وہ بےتابی سے بولی۔۔

نہیں ملے۔۔وہ تھکے تھکے انداز میں بولے۔۔

ناٸلہ آفندی منہ پہ ہاتھ رکھ کر زمین پہ بیٹھتی چلی گٸی۔۔

زبیر میرے بچوں کو ڈھونڈ کر لاٸیں جہاں مرضی سے۔۔وہ تڑپ کر بولی۔۔

ٹینشن مت لو۔ہم صبح تک انتظار کر لیتے ہیں۔زبیر آفندی نے ناٸلہ آفندی کو سینےسے لگاتے ہوۓ کہا۔

صبح تک کیسے انتظار کروں میں“بتاٸیے مجھے؟ وہ چیخ کر بولی۔۔۔۔

ہمارے پاس اور کوٸی آپشن ہےکیا؟ زبیر آفندی نے کہا۔۔

اور پھر ناٸلہ آفندی کو منا کر روم میں آرام کرنے کیلٸے لے گٸے۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رات جیسے جیسے بھیگتی جارہی تھی ویسے ویسے خنکی بھی بڑھتی جا رہی تھی۔۔

زین اور صفدر گاڑی سے چپس کوکیز اور اپنی جیکٹس لے آۓ تھے۔

اوففف یار سردی بہت ہے۔اور پری زیب تو ٹھٹھر گٸی ہے۔۔ثانیہ نے چپس کا پیکٹ اٹھاتے ہوۓ کہا۔۔

زین نے چونک کر دیکھا۔وہ شیفون کے بریک سے ڈریس میں سردی سے کانپ رہی تھی۔۔

زین جلدی سے اٹھا اور لکڑیاں لاکر آگ جلانے لگا۔۔۔

کتنی دیر تک وہ ماچس کی تیلیاں پھونکتا رہا مگر لکڑیاں آگ پکڑ ہی نہیں رہی تھی۔۔

پری زیب کچھ دیر تک دکھتی رہی۔پھر اس نے پاس پڑا گلاس اٹھایا اور ان غنڈوں کی موٹر باٸیک کیطرف بڑھی۔۔اور پھر باٸیک سے پٹرول لیکر وہ واپس پلٹی۔۔اور پٹرول لکڑیوں پہ چھڑکا۔۔اور ماچس کی تیلی جلا کر پھینکی اور لکڑیوں میں آگ بھڑک اٹھی۔

زین نے اپنا سر کھجایا۔۔

واہ میم آپ تو ذہین بہت ہے۔۔فورا آٸیڈیا آگیا اور ہمارے تو ذہن میں آیا ہی نہیں۔۔صفدر جلدی سے بولا۔۔

ہاں کچھ لوگوں کو اتنا پتا ہے کہ پٹرول والی گاڑی پٹرول سے جھلاٸی جا سکتی ہے۔۔مگر اتنا نہیں پتا کہ گیلی لکڑی کو آگ ایسے ہی نہیں لگ جاتی۔۔پری زیب نے طنزیہ انداز میں کہا۔۔۔

زین اسکی بات پہ کھول کر رہ گیا۔۔

تم تو بہت عقل مند ہو۔اگر یہاں پٹرول ہوتا ہی نہ تو کیا کرتی۔زین نے تڑخ کر پوچھا۔۔

عقل مند ہوں تو عقل کا استعمال کرکے اپنے ڈوپٹے کو پھاڑ کر اسکو آگ لگا کر لکڑیوں میں رکھتی۔اور ظاہری بات ہے زیادہ آگ تو لکڑی پکڑ ہی لیتی ہے۔۔پری زیب نے طنزیہ انداز میں کہا۔۔

زین غصے سے بل کھا کر رہ گیا

صفدر اور ثانیہ نے زین کی حالت پہ بمشکل اپنی ہنسی روکی۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *