Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mein Kese Kahun (Episode 22)

Mein Kese Kahun by Umme Emman Fatima

سر ۔۔زین نے کچھ کیا ہے کیا؟پری زیب نے حیرت سے پوچھا۔۔۔

جی مسز پری زیب۔۔آپکے ہیسبنڈ نے اساٸمنٹ نہیں تیار کی۔۔اور حیرت ہے آپکو خبر ہی نہیں۔۔اگر آپ اساٸمنٹ تیار کر سکتی تھی تو یہ کیوں نہیں کر سکے۔شاید انکو اپنی عیاشیوں سے فرصت ہی نہیں ہے۔سر ذیشان نے نفرت بھرے لہجے میں کہا۔۔

اوفففففففف۔زین نے اپنے غصے کو بمشکل قابو کیا۔مگر سر ذیشان کا اتنے دنوں کا غصہ اس پہ نکل رہا تھا۔۔

پری زیب حیرانگی سے دیکھ رہی تھی۔کبھی زین کواور کھی سر ذیشان کو۔۔

اب تم کلاس سے جا سکتے ہو مسٹر زین۔۔اور اگلے ایک مہینے تک تم میراکوٸی لیکچر نہیں لو گٸے۔۔سر ذیشان نےکہا۔۔

زین اپنی چیزیں سمیٹ کر باہر نکل گیا۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

فیضان اپنے لان میں بیٹھا چاۓ پی رہا تھا اور واسق پاس ہی کھڑا تھا۔۔

سر آج یونیورسٹی نہیں گٸے۔آپ تو کہتے تھے کہ بھابھی جی کو اکیلا نہیں چھوڑنا زین صاحب کے ہوتے ہوۓ۔۔واسق نے جھجھک کر پوچھا۔۔

ہاں چھوڑنا تو نہیں تھا۔۔مگر چھوڑنا پڑا۔۔آج سپر سنگر شو کا کانٹریکٹ ساٸن ہونا تھا۔۔اور رہی تمہاری بھابھی جی کی بات وہ اور زین دونوں تو ویسے بھی الگ ہونے والے ہیں۔۔تو اب شک و شبہ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔فیضان نے کہا۔۔

واسق نے سمجھنے والے انداز میں سرہلا دیا۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پری زیب پیریڈ ختم ہونے کے بعد دندناتی ہوٸی زین کےپاس آٸی۔۔۔

تم خود کو بہت عظیم سمجھتے ہو۔۔؟اس نے تڑخ کر پوچھا۔۔۔

میں نے ایسا کب کہا تمہیں۔۔زین نے حیرت سے کہا۔۔۔

تم نےاپنی اساٸمنٹ میرے نام سے کیوں جمع کرواٸی۔۔

میری اساٸمنٹ میری مرضی۔۔زین نے اطمینان سے جواب دیا۔۔۔

یہ میرے سوال کا جواب نہیں ہے۔۔

ارے یار “تمہیں انسلٹ سے بچایا تم الٹا مجھے ہی برا بھلا کہنے لگ گٸی ہو۔۔

مسٹر زین آفندی مجھے تمہاری مدد کی ضرورت نہیں تھی۔۔وہ تپی۔۔۔

مگر مجھ پہ فرض تھا کہ میں تمہاری ان چیزوں سے حفاظت کروں۔۔میں اپنی انسلٹ پہ صبر کر سکتا ہوں۔۔تمہاری انسلٹ پہ نہیں۔۔۔۔

تمہیں کیا لگتا ہے تمہاری ان باتوں پہ میں بلیو کر لوں گی۔مجھے معلوم ہے اس میں بھی تمہاری کوٸی چال ہوگی..مجھ پہ یہ احسان کرکے تم صبح کی چاۓ بنوانا چاہتے ہو مجھ سے۔۔وہ اسکی طرف انگلی سے اشارہ کرتے ہوۓ بولی۔۔

زین اسکی بات پہ مسکرا دیا۔۔۔پری زیب کا حیرت سے منہ کھل گیا۔۔پھر وہ پیر پٹخ کر آ گٸی۔۔پیچھے سے زین کا فلک شگاف قہقہ سناٸی دیا۔۔

ہاۓ ربا،لگدا پگلا گٸے تیرے شوہر صاحب پری زیب میڈم۔۔وہ بڑبڑاٸی اور پھر سر جھٹک کر آگے بڑھ گٸی۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یونیورسٹی سے واپس آکر پری زیب تھوڑے دیر کیلٸے سو گٸی تھی اور زین ہمیشہ کیطرح آفس چلا گیا تھا۔۔

وہ سو کر اٹھی اور منہ ہاتھ دھو کر نماز پڑھ کر فارغ ہوٸی تو ملازمہ دروازہ کرکے اندر داخل ہوٸی۔۔

کیا بات ہےزینت؟ پری زیب نے پوچھا۔۔۔

وہ میم فیضان صاحب آۓ ہیں۔۔

اچھا آپ بیٹھاٸیں انہیں اور میں آتی ہوں ۔۔پری زیب نے سر ہلا کر کہا۔

زینت سر ہلا کر واپس مڑ گٸی۔۔۔

پھر پری زیب کنگھی کرکے نیچے لاٶنج کیطرف بڑھ گٸی۔۔

ہاۓ فیضی۔۔۔۔۔

اووووہ ہاۓ پری۔۔فیضی نے کھڑےہوتےہوۓکہا۔۔

بیٹھیے نہ۔پری زیب نے مسکرا کر کہا۔۔

فیضی اسکی مسکراہٹ میں کھو سا گیا تھا۔۔

(وہ فیضان علی عرف فیضی جس کی خوبصورتی کے چرچے ہر زبان پہ رہتے تھے۔جو اتنامغرور کہ کسی لڑکی کیطرف خود قدم نہیں بڑھاتا تھا۔۔مگر پری زیب سے پہلی نظر کی محبت نے اسے پری زیب کا دیوانہ بنا دیا تھا۔۔وہ اسے ایک دن نہیں دیکھتا تھا تو اپنا آپ ادھورا لگتا تھا۔۔)

کدھر کھو گٸے جناب۔۔۔۔

پری زیب کی آواز پہ وہ چونک کر سیدھا ہوا۔۔۔

خیریت تھی آپ آج گھر آۓ۔۔

جی اکچوٸلی پری۔۔سپر سنگر شو سٹارٹ ہو رہا ہے۔جس کا جج پلس گرو میں بھی ہوں۔۔تو میں نے جو اپنی ٹیم کیلٸے لوگ چننے ان میں تمہارا نام شامل کر دیا ہے۔۔وہ جلدی سے بولا۔۔۔

اووووہ گاڈ یہ کیا کیا آپ نے؟ میں مام سے پوچھے بغیر نہیں کر سکتی یہ سب۔۔وہ گھبرا کر بولی

میم سے پوچھ لونگا میں۔۔تم بس ہاں بولو۔۔فیضی نے اسکا ہاتھ تھام کر کہا۔۔

(دروازے پہ کھڑے زین کا چہرہ غصے سے سرخ ہوگیا۔۔آج اسکا سر درد تھا تو وہ جلدی گھر آ گیا تھا۔مگر آگے فیضان کو دیکھ کر اسکا سر درد مزید بڑھ گیا تھا۔۔۔)

اوکے ٹھیک ہے بابا۔۔وہ ہنستے ہوۓ بولی۔۔۔

اوووووہ تھینک گاڈ۔۔۔فیضی نے مسکرا کر کہا۔۔

چلیں بتاٸیں کیا کھاٸیں گے آپ۔۔۔؟ پری زیب نے پوچھا۔۔

جو آپ کھلاٸیں گی۔فیضی نے مسکرا کر جواب دیا۔۔

چلیں میں خود اپنے ہاتھوں کی کافی پلاتی ہوں۔پری زیب کہہ کر کچن کیطرف بڑھنے لگی۔۔مگر پیچھے خشمگیں نگاہوں زین کو دیکھ کر ٹھٹھک کر رک گٸی۔۔

ارے ماشاءاللہ،،تمہارا منہ بولا بھاٸی آیا ہے۔زین نے خود پہ قابو پاکر مسکرا کر کہا۔۔

فیضان بےچینی سے پہلو بدل کے رہ گیا۔۔۔

ارے پتا ہے سالے صاحب آپکی بہن کو مجھے کافی چاۓ بنا کر دیتے جان نکلتی۔۔مگر دیکھٸے نہ اپنے بھاٸی کیلٸے کتنی محبت سے کافی بنانے جا رہی ہے۔۔پلیزپری زیب میرے لٸے بھی بنالینا۔۔زین نے مسکرا کر کہا۔۔

نہیں پری زیب رہنے دو کافی۔میں زرا ضروری کام آ گیا تو واپس جا رہا ہوں۔۔فیضان نے اٹھتے ہوۓ کہا۔۔۔تو پری زیب نے اثبات میں سر ہلا دیا۔۔

اب مجھے تو کافی بنا دو۔۔زین نے فیضان کے جانے کے بعد مسکرا کر کہا۔۔۔

دیکھو میں تمہاری نوکر نہیں ہوں۔اپنے نوکروں سے بولو۔وہ اسکے سینے پہ انگی رکھتے ہوۓ بولی۔۔

اوفففففف۔انکا سینے پہ ہاتھ رکھنا

قسم سے جاناں

ہماری جان ہی لے گیا۔۔۔

زین مسکرا کر گھمبیر لہجے میں بولا۔۔

پری زیب کا حیرت سے منہ کھل گیا۔۔۔

ٹھرکی کہیں کا۔۔وہ مڑتے مڑتے بولی۔

زین کے چہرے پہ شرارت جھلکنے لگی۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مام میں اندر آ جاٶں۔۔زین نے ناٸلہ آفندی کے روم کے دروازے پہ کھڑے ہوکر پوچھا۔۔

آجاٶ میری جان۔۔۔۔۔

زین چلتاہوا انکے پاس آکر بیٹھ گیا۔۔

مام آپ سے ضروری بات کرنی تھی۔۔زین نے کہا۔۔۔

ہاں بولو بچے۔۔وہ اسکی طرف متوجہ ہوتے ہوۓ بولی۔۔

فیضان علی پری زیب کو اپنے شو میں لے رہا ہے۔۔وہ سنگر سے سپر سنگر بنانا چاہتا ہے۔۔۔

جانتی ہوں میں۔۔ناٸلہ آفندی نے اسکی بات پہ فورا کہا۔۔

مگر مام فیضان اچھا انسان نہیں ہے۔۔وہ لب کاٹتے ہوۓ بولا۔۔۔

تمہیں لگتا ہے وہ پری زیب کو امپریس کر لے گا۔۔اگر ایسا لگ رہا تو بہت غلط لگ رہا ہے۔کیونکہ پری زیب کبھی ایسا نہیں کریگی جس سے آفندی کی عزت نیلام ہو۔۔ناٸلہ آفندی نے ہراعتماد لہجے میں کہا۔۔

مام بات پری زیب پہ اعتبار کی نہیں،فیضان کے اعتبار کی ہے۔۔وہ تو بلاوجہ اپنا بخار بھی کسی کو نہیں دیتا۔۔زین نے لب کاٹتے ہوۓ کہا۔۔

فکر مت کرو وہ آفندیوں کے خلاف جاۓ گا تو اپنا سب کچھ تباہ کرواٸے گا۔۔ناٸلہ آفندی نے تسلی دی۔۔۔

مام مجھے بھی اس شو میں حصہ لینا ہے۔۔اوڈیشن ہو رہا ہے۔۔تو اب آپ کی سفارش ہی چلے گی۔۔۔۔

ضرور میری جان۔۔میری بھی پری زیب کیلٸے ٹینشن ختم ہو گی اگر تم اسکے آس پاس رہو گے۔۔ناٸلہ آفندی نے کہا اور زین اثبات میں سر ہلا کر وہاں سے واپس روم کیطرف آگیا۔۔۔

وہ روم میں داخل ہوا تو پری زیب کوٸی اساٸمنٹ بنا رہی تھی اور اسکی پلکیں نیند سے بوجھل ہو رہی تھی۔۔

زین واپس پلٹ گیا۔۔اور کچن میں آکر وہ کافی بنانے لگا۔۔۔

پھر کافی کے مگ لیکر وہ کمرے میں آیا اور کافی کا مگ اسکی طرف بڑھایا۔۔

پری زیب حیرت سے مگ دیکھ رہی تھی۔۔۔

میں نے کب تم سے کافی مانگی۔اس نے تڑخ کر پوچھا۔

پری زیب میں نے سوچا کہ تم تھک گٸی ہو گی تو اس۔۔۔۔

تو اس لٸے تم نے سوچا کہ مجھے ایک کافی کے مگ سے پٹا لینا چاہیے۔۔وہ اسکی بات کاٹ کر بولی۔۔

زین لب بھینچ کر رہ گیا۔۔پھر اس نے اسکامگ ٹیبل پہ رکھا اور اپنا مگ لیکر ساٸیڈپہ بیٹھ گیا۔۔۔

پری زیب نے جھلا کر اسے دیکھا اور پھر مگ اٹھا کر واشروم کیطرف بڑھی۔۔اور پوری کافی کموڈ پہ گرا کر واپس آکر مگ زورسے ٹیبل پہ پٹخا۔۔

آٸندہ سے مجھ سے دور رہنا۔اور یہ ہمدردیوں کا ناٹک میرے ساتھ مت کیا کرو۔۔نفرت کرتی ہوں میں تم سے۔۔وہ تڑخ کر بولی۔۔

زین کی آنکھوں میں درد سا اتر آیا۔۔اور پھروہ ایک جھٹکے سے مڑ کر باہر نکل گیا۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

زین رات تین بجے گھر آیا تھا۔اور گاڑی پورچ میں کھڑی کرکے وہ تھکے تھکےقدموں کیساتھ کمرے میں آیا۔۔کمرے میں اے سی فل سپیڈ پہ چل رہا تھا۔۔اور پری زیب سکڑکر لیٹی تھی۔۔زین نے اے سی کم کرنے کے لٸے ریموٹ ڈھونڈا مگر اسے کہیں نہیں ملا۔

ہھر اس نے اپنا کمفرٹ اسے اڑھا دیا۔۔اور خود دوسری ساٸیڈ پہ لیٹ گیا۔۔۔

صبح جب اسکی آنکھ کھلی تو کمفرٹ اسکے اوپر تھا۔۔

احساس توہے مسز مگر اظہار نہیں کرنا چاہتی۔۔وہ ہولے سے مسکرایا۔۔۔

اور پھر وہ اٹھ کر منہ ہاتھ دھو کر نیچے آیا تو پری زیب اور ناٸلہ آفندی لاٶنج میں بیٹھی تھی۔۔

مام پلیز کافی بنا دیں۔۔وہ ناٸلہ آفندی کی گود میں سر رکھ کر بولا۔۔۔

پری بچہ،جاٶ اچھی سے کافی بنا لاٶ۔۔ناٸلہ آفندی نے کہا تو وہ دل ہی دل میں زین کوکوستی کافی بنانے چلی گٸی۔

زین کے چہرے پہ مسکراہٹ تیرنے لگی۔۔۔

پھر کچھ دیر بعد وہ کافی بنا کر لاکر اسے تھماٸی۔۔اور اسکے چہرے پہ عجیب سی مسکراہٹ تھی جس سے زین ٹھٹھکا۔۔مگر پھر سر جھٹک کر اس نے کافی کا گھونٹ لیا تو کافی میں شہد کیطرح میٹھا تھا۔۔

پری زیب کو پتا تھا وہ میٹھے سے بھاگتا ہے۔تو اسی لٸے اس نے بےانتہا چینی ڈالی تھی۔۔

پری زیب نے طنزیہ انداز میں دیکھا۔اور آنکھوں ہی آنکھوں میں پوچھا آیا مزا۔۔۔

کافی جوہے کافی ڈفرنٹ اور اچھی ہے۔۔زین نے کہا۔۔۔

پری زیب دل ہی دل میں تلملا کر رہ گٸی۔۔

مام میرا اوڈیشن کا ٹاٸم ہو گیا ہے۔۔پری زیب نےکہا اوراٹھ کر باہر نکل گٸی۔۔

اور کچھ دیر بعد زین بھی اوڈیشن دینے چلا گیا۔۔۔

اور دونوں کے ججز الگ الگ تھے۔۔اور سب چنے ہوۓ لوگوں کی لسٹ تیار ہو چکی تھی۔چار ججز تھے اور چار ٹیمیں تھی۔۔اے ،بی ،سی ڈی نام تھا۔۔

پری زیب اے میں تھےاور زین ڈی میں تھا۔۔

زین کو تو پتا تھا پری زیب کا مگر پری زیب کو اسکےاوڈیش کا نہیں پتا تھا۔۔۔۔

اور نیکسٹ ویک وہ سب لاٸیو شو کا حصہ بننے والے تھے۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پری زیب اطمینان سے ٹی وی دیکھتی لیز کھا رہی تھی جب زین اندر داخل ہوا۔۔۔

وہ بھی اسکے پاس آکر بیٹھ گیا۔۔۔

سو فیضان شوبز کی دلفریب دنیا کی پہلی سیڑھی پہ چڑھا چکا تمہیں۔۔۔

پری زیب نے اسکی بات پہ اسے گھورا۔۔

تم کبھی سیدھی بات بھی کرلیا کرو۔اسطرح بھی تو کہہ سکتے تھے کہ سپر سنگر میں لے چکا ہے۔۔مگر نہیں دفریب آلا بلا نجانے کیاکیا بولتے ہو۔۔وہ تپ کر بولی۔۔

پری تمہیں کیا ہوتا جا رہا ہے۔تم ہمیشہ جب بولتی ہو تو جل بھن کر ہی بولتی ہو۔۔یار آرام سے بات کر رہا ہوں تو آرام سے بات کرو۔۔زین نے ناگواری سے کہا۔۔۔

تم ایک کام کیا کرو تم مجھ سے بات ہی نہ کیا کرو تو تمہیں اتنا فیل بھی نہیں ہوگا۔۔وہ جل کر بولی۔۔

اچھا چھوڑو۔۔یہ بتاٶ ریہرسل کرلی کل تمہارا لاٸیو شو کی فرسٹ پرفارمنس ہے۔۔زین نے پوچھا۔۔

تم سے مطلب۔۔اپنے کام سے کام رکھا کرو۔۔وہ تڑخ کر بولی۔۔

زین لب بھینچ کر رہ گیا۔۔پھر سر جھٹک کر وہ اٹھ کر کپڑے چینج کرنے چلا گیا۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سپر سنگر کا شو سٹارٹ ہو چکا تھا۔۔پری زیب اپنی ٹیم کیساتھ بیٹھی تھی۔۔اور سب کی پرفارمنس باری باری ہو گٸی تھی۔۔اب اسکے بعد پری زیب کی تھی۔۔اور پھر ٹیم ڈی کے اسے چھپے رستم کی تھی جسکے بارے میں سب تجسس کا شکار تھے۔۔کہ وہ کون ہے۔۔

پری زیب کا نام جب پکارا گیا تو وہ اٹھ کر سٹیج کی طرف بڑھی۔اور سب کی دھڑکنیں اس ماہ جبین کو دیکھ کر تھم چکی تھی۔۔

اس نے ماٸیک تھام کر گانا شروع کیا تو سب اسکی آواز میں کھو گٸے تھے۔۔

پھر وہ اپنا سونگ کیمپلٹ کرکے واپس بڑھی تو اسکے پواٸنٹ ناٸن تھے۔۔

لیجٸے دل تھام لیجٸے اب آرہے وہ شخص جو آپ سب کیلٸے بالکل بھی نٸے نہیں ہے۔وہ اس سے پہلے آپکی دلوں کی دھڑکن رہ چکے ہیں۔۔دی ویری ٹیلنٹڈ اینڈ ویری ہینڈسم زین آفندی۔۔۔

پری زیب اور فیضان ہکا بکا سے دیکھ رہے تھے۔۔۔

کسرتی بدن میں ہاف سلیوز کی ٹی شرٹ پہنے تھے جس سے اسکے مسلز ظاہر ہو رہے تھے۔۔۔

وہ سٹیج پہ آیا تو سب طرف سے سیٹیوں کی آوازیں سناٸی دینے لگی۔

وہ ماٸیک تھام کرگانے لگا

تیری اکھیاں دے وچ ڈب کے

مر جان نو جی کردا اے۔۔

اس نے سونگ اس قدر دل سے گایاکہ ججز نے پورے دس پواٸنٹ دٸیے۔۔۔۔۔

جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *