Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mein Kese Kahun (Episode 27)

Mein Kese Kahun by Umme Emman Fatima

پری کی آنکھوں سے آنسو نکل کر اسکے رخسار کو بھگو گٸے۔۔زین نے سرخ آنکھوں سے دیکھا اور سر جھٹک کر مڑ گیا۔۔

پری زیب گھٹنوں میں سر رکھ کر پھوٹ پھوٹ کر رودی۔۔۔

ناٸلہ آفندی بےبسی سے لب کاٹنے لگی۔۔

پری زیب اٹھو اور خود کو بہادر بناٶ۔۔ناٸلہ آفندی نے کہا۔۔

کیسے بناٶ بہادر۔میری شوہر نے پھر میرے اعتبار کو توڑا ہے،آپ میرے دکھ ،درد کا اندازہ نہیں لگاسکتی۔۔آپ کے شوہر توآپ کے اشاروں پہ ناچتے ہیں۔پری زیب چیخ کر بولی۔۔

آواز نیچی رکھو پری زیب۔۔وہ دھاڑی۔

کیوں رکھو آواز نیچی۔۔آج میں آپ کوآٸینہ دیکھاٶں گی کہ آپ کیسی عورت ہیں۔۔ایک خودغرض،سفاک اور مطلب پرست عورت ہے۔ہر ایک کو اپنے مطلب کیلٸے استعمال کرتی ہیں۔چاہے وہ آپ کی اولاد ہو یا شوہر۔۔پری زیب ہو یا ثانیہ۔سب سے آپکو مفاد ہوتا ہوتا ہے۔۔آپ لوگوں کی نظروں میں بہت عظیم عورت ہیں۔سوشل ورکر،غریبوں کی ہمدرد۔مگر حقیقت میں شہرت کی بھوکی اور منافق عورت ہیں۔پری زیب چلاٸی۔۔

پری زیب جاٶ یہاں سے،ناٸلہ آفندی نے کہا۔۔

فکر مت کریں اب میں آپکے بیٹے کی زندگی سے جانے ہی لگی ہو۔پہلے صرف آپ کے مان اور اعتماد کے بھروسے رکی تھی۔مگر میں لاوارث نہیں ہوں۔اور نہ چپ چاپ ظلم سہنے والی ہوں،پری زیب نے کہا۔۔اور پھر دوڑتی ہوٸی لان کیطرف نکل آٸی۔۔

ناٸلہ آفندی فق چہرے کیساتھ کھڑی تھی۔پھر وہ سر پکڑ کر بیٹھ گٸی۔۔ثانیہ نپے تلے قدموں سے چلتی ہوٸی ناٸلہ آفندی کے سامنے بیٹھ گٸی۔

مجھے نجانے کیوں لگ رہا کہ حقیقت کچھ اور ہی ہے۔مجھے یاد ہے آپ نے جب فاریہ کو اغوا کروایا تھا تو کہا تھا سمجھ لو یہ میری بیٹی ہے۔اسکو آنچ بھی نہ آۓ۔۔جس لڑکی کیلٸے آپ کے دل میں اتنی محبت ہے تو پھر اس سے نفرت کا اظہار کیوں؟ ثانیہ نے پوچھا۔۔۔

ناٸلہ آفندی نے سرخ آنکھوں سے دیکھا۔اور پھر اٹھ کر اپنے روم کیطرف بڑھی۔۔ثانیہ انکے پیچھے چلی آٸی۔

وہ کمرے میں آکر راکنگ چیٸر پہ بیٹھ گٸی۔۔ثانیہ انکے قدموں میں بیٹھ گٸی۔۔

ناٸلہ آفندی کے ہونٹ پھڑپھڑاۓ۔اور آنسو تیزی سے نکل کر انکے رخسار پہ پھسل گٸے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔ ناٸلہ آفندی کا ماضی۔۔۔۔۔۔

ناٸلہ آفندی ٹیرس پہ کھڑی تھی اور آنسو انکے چہرے کو بھگو رہے تھے۔۔

جان کدھر ہو؟ انہیں زبیر آفندی کی آواز سناٸی دی۔۔

وہ تیزی سے چہرہ صاف کرتی اندر داخل ہوٸی۔۔

کدھر تھی آپ۔؟ زبیر آفندی پوچھا۔

ٹیرس پہ تھی۔۔وہ بھاری آواز میں بولی۔۔

آپ روٸی ہیں پھر سے۔؟ زبیر نے انکا چہرہ اوپر کرتے ہوۓ پوچھا۔۔۔

ناٸلہ آفندی انکے سینے پہ سر رکھ کر پھوٹ پھوٹ کر رودی۔

ناٸلہ میری جان کیا ہو گیا ہے؟

زبیر صاحب مجھے لگتا ہے میرا دم گھٹ جاۓ گا۔چھ سال ہو گٸے ہیں ہماری شادی کو مگر میں اولاد سے محروم ہوں۔۔میرا دل کرتاہماری اپنی اولاد ہو میں اسے گود میں اٹھاٶں۔۔وہ روتے ہوۓ بولی۔۔

میری جان ہم بچہ کسی یتیم خانے سے بھی تو لے سکتے ہیں۔زبیر آفندی نے کہا۔۔

نہیں زبیر وہ آپ کا خون نہیں ہوگا۔۔وہ کرب سے بولی۔۔

زبیر آفندی پرسوچ نظروں سے انہیں دیکھنےلگے۔۔پھر سر جھٹک کر وہ ناٸلہ کا دھیان بٹانے لگے۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ناٸلہ آفندی اپنی این جی او سے آج جلدی واپس آ گٸی تھی۔

انکا صبح سے سر دکھ رہا تھا اور جی بھی متلا رہا تھا۔۔

۔

پھر وہ ملازمہ کو چاۓ کا کہہ کر خود لاٶنج میں بیٹھ گٸی۔۔

ملازمہ چاۓ رکھ کر گٸ تو انہوں نے اٹھا کر دیکھی توانکا نجانے دل کیوں خراب ہوا۔۔

پھر وہ چاۓ کا کپ ساٸیڈ پہ رکھ کر اٹھی تو انکا سر گھوم گیا۔وہ زمین پہ گرتی چلی گٸی۔۔

سب ملازم گھبرا گٸے۔اور انہوں نے زبیرآفندی کو فون کیا تو کچھ دیر میں ہی وہ گھر پہنچ گٸے۔۔

وہ تیزی سے ناٸلہ کے پاس آکر بیٹھ گٸے۔۔ناٸلہ کا رنگ زرد لگ رہاتھا۔۔۔

آپ اپنا بالکل دھیان نہیں رکھ رہی۔زبیر آفندی نے ناراضگی بھرے لہجے میں کہا۔۔

ایم سوری زبیر صاحب بس تھکاوٹ شاید زیادہ ہوگٸی ہے۔۔

زیادہ نہیں بہتتتتت زیادہ ہو گٸ آپ کو تھکاوٹ۔۔زبیرآفندی ناراضگی سے دیکھنے لگے۔۔

پھر سہارا دیکر وہ ناٸلہ کو لیکر باہر آ گٸے۔۔اور گاڑی میں بیٹھا کر ہاسپیٹل لے آۓ جہاں ناٸلہ کی دوست فضیلہ بیٹھتی تھی۔۔

وہ اسکے روم میں داخل ہوۓ تو وہ چونک گٸی۔۔

اوووہ ماٸی گاڈ،ناٸلہ تم۔۔۔وہ خوشی سے چلاٸی۔۔

فضیلہ یار دس بارہ اسکو طاقت کی ڈرپ لگا دے۔پتا ہے صبح سے چکر آ رہے اور کچھ دیر پہلے بیہوش ہوکر گر چکی ہے میری جان۔۔زبیر نے کہا۔۔

فضیلہ نے چونک کر دیکھا اور پھر اسکی حالت پوچھنے لگی۔۔

اور پھر اپنے ساتھ لیکر اسے دوسرے روم میں چلی گٸی۔۔

کچھ دیر بعد وہ مسکراتی ہوٸی ناٸلہ کے ساتھ باہر آٸی۔

اب بتا بھی دو اپنے مسکرانے کیوجہ ناٸلہ نے جھلا کر کہا۔۔

بتاتی ہوں بتاتی ہوں۔پلیز زرا تم چیٸر پہ بیٹھ جاٶ۔۔

اوففففففف فضیلہ۔۔۔۔وہ جھلاٸی۔

فضیلہ مسکراٸی اور پھر اپنی چیٸر پہ بیٹھ کر انہیں دیکھنے لگی۔۔

زبیر اینڈ مسز زبیر آپ دونوں پیرنٹس بننے والے ہیں۔۔وہ مسکراتے ہوۓ بولی۔۔

ناٸلہ آفندی اور زبیر آفندی حیرت“ بے یقینی کی کیفیت میں تھے۔۔۔۔

پھر ناٸلہ آفندی منہ ہاتھوں میں چھپا کر پھوٹ پھوٹ کر رودی۔۔

زبیر اور فضیلہ گھبرا کر اسکی طرف متوجہ ہوۓ۔۔

ارے یار تم رو کیوں رہی ہو۔۔۔؟ فضیلہ جھنجھلاٸی۔

زبیر نے اسے جلدی سےاپنی بانہوں میں لے لیا۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ناٸلہ کو چھٹا مہینہ تھا اور آج اسکا چیک اپ تھا۔اور اب وہ فضیلہ کے ہاں آکر زبیر کا انتظار کر رہی تھی۔۔

کچھ فاصلے پہ اسے ایک لڑکی کھڑی نظر آٸی جو مسلسل اسے ہی دیکھ رہی۔اسکی آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے اسکی سرد مہر آنکھوں کو عجیب بنا رہے تھے۔۔

ناٸلہ کو اسکی نظروں سے خوف آیا۔۔

پھر کچھ دیر بعد زبیر اندر آیا اور اسے محبت سے جوس پلانے لگا۔۔۔۔

اس لڑکی کی آنکھوں میں غصے سے شعلے نکلنے لگے۔۔

زبیر میرے پیٹ میں درد سا اٹھ رہا ہے میں واشروم جانا چاہتی ہوں۔وہ بولی تو زبیر نے اثبات میں سر ہلادیا۔۔پھر ناٸلہ واشروم سے ہوکر واپس آٸی تو زبیر وہاں نہیں تھا۔وہ واپس مڑی تو ایک کونے میں اسے وہی لڑکی زبیر کا گریبان تھام کر کھڑی نظر آٸی۔۔

ناٸلہ جلدی سے اوٹ میں ہوکر انکی گفتگو سننے لگی۔

تو یہ وجہ تھی مجھے طلاق دینے کی کیونکہ مسٹر زبیر تمہاری بیوی خود ماں بننے والی ہو گٸی۔

دس مہینے پہلے تم نے مجھے آفس بلوا کر کہا تھا۔ثمن میری بیوی کو میری اپنی اولاد چاہیے۔۔تم مجھے چاہتی ہو تو کیا ہم دونوں شادی کرکے جو پہلی اولاد ہوگی وہ ناٸلہ کی گود میں ڈال دینگے۔۔اور ناٸلہ بہت رحم دل ہے وہ اپنا لے گی ہمارے رشتے کو۔۔اور میں پگلی دیوانی تمہاری باتوں میں آ گٸی۔۔پھر چار مہینے بعد تم نے مجھے طلاق بھیج دی۔اور میں تم سے رو رو کر اپنا قصور پوچھتی رہی۔۔مگر آج مجھے پتا چلا کہ تمہاری اولاد ناٸلہ سے ہونے والی ہو گٸی تھی اس لٸے مجھے کنارے لگا دیا۔۔مگر اب بتاٶ تمہاری اس اپنے پیٹ میں پلتی اولاد کا کیا کروں۔وہ چلا کر بولی۔۔

بکواس بند کرو اپنی۔اور مروا دو اپنے بچے کو ورنہ مجھے تمہیں بدچلن ثابت کرنے میں ایک پل نہیں لگے گا۔۔زبیر نے اسے پیچھے دھکا دیتے ہوۓ کہا۔اور پھر مڑنے لگا تواس عورت نے اس کا بازو پکڑ کر روکا۔۔

خدا کرے تمہیں تمہاری اولاد جو ناٸلہ سے ہو وہ تمہارے نصیب میں نہ ہو۔۔مر جاۓ وہ۔۔وہ نفرت سے بولی۔زبیر نے ایک زور دار تھپڑ مارا اور پھر اسے دھکیلتا ہوا واپس مڑ گیا۔۔

اوٹ میں کھڑی ناٸلہ آفندی کو اپنا وجود ہزاروں ٹکڑوں میں بکھرتا محسوس ہوا۔۔پھر وہ اپنے بھاری قدم اٹھاتی وہاں سے آکر بنچ پہ بیٹھ گٸی۔۔۔

اور چیک اپ کروا کر وہ واپس گھر بھی آ گٸی۔مگر اسے اس عورت کی بددعا نے متوحش کیا تھا اور زبیر کی بیوفاٸی نے نڈھال۔۔

پھر وہ رات پوری ٹہل ٹہل کر تھک گٸی۔پھر وہ اس عورت سے ملنے کا فیصلہ کرکے لیٹ گٸی۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

فضیلہ اور وہ آج پروفیسر محمود کے دروازے پہ کھڑی تھی۔۔

ناٸلہ تم اس ثمن نامی عورت سے کیوں ملنا چاہتی ہیں۔فضیلہ نے پوچھا۔

صبر کرو لگ جاۓ گاپتا۔وہ دھیمے لہجے میں بولی۔۔

پھر دروازہ کھلا تو ایک مرد باہر نکلا۔۔

جی میڈم۔۔۔؟

ہمیں ثمن صابری سے ملنا ہے۔۔ناٸلہ نے کہا۔

اس آدمی نےپیچھے ہٹ کر انہیں راستہ دیا۔

وہ دونوں اندر داخل ہوٸی تو سامنے صحن میں ایک چارپاٸی پہ ایک بچی اور عورت بیٹھی تھی اور ساٸیڈ پہ لگے واش بیسن پہ ثمن جھکی وومیٹنگ کر رہی تھی۔۔

وہ فارغ ہوکر مڑی تو ناٸلہ کو دیکھ کر حیران رہ گٸی۔

کیا کرنے آٸی ہو تم ناٸلہ آفندی۔۔اسکے چلانے پہ اسکے بھاٸی اور بھابھی نے چونک کر دیکھا۔۔

معافی مانگنے آٸی ہوں اپنے شوہر کے گناہ کی۔ناٸلہ آفندی نے ہاتھ جوڑ کر کانپتے ہوۓ لبوں سے کہا۔۔

تو تمہارے شوہر نے تمہیں بتا دیا۔۔۔وہ تلخ لہجے میں بولی۔۔

نہیں کل ہاسپیٹل میں تم دونوں کی گفتگو سنی۔۔۔ناٸلہ کی بات پہ وہ غضب ناک نظروں سے اسکی طرف دیکھنے لگی۔۔

پلیز میرے بچے کو دی ہوٸی بددعا واپس لے لو“ناٸلہ آفندی سسکی۔۔۔

کبھی نہیں۔۔۔۔۔

پلیزز۔ناٸلہ دوزانوں ہو کر بیٹھ کر رو گٸی۔۔

فضیلہ حیران پریشان اسے دیکھ رہی تھی۔۔

تم جو چاہو مجھ سے مانگ لو۔مگر مجھے اپنی آہ سے بچا لو۔۔ناٸلہ آفندی روتے ہوۓ بولی۔۔

ثمن کی آنکھیں چھلک اٹھی۔

تمہارے انصاف اور ہمدردی کی داستانیں بکھری ہیں تو آج میں جو چاہوں گی وہ اگر تم کرنے کو تیار ہو تو میں مان لونگی کہ تم سچ میں انصاف کرنے والی ہو۔ثمن نے نم لہجے میں کہا۔۔

ہاں تم جو چاہو مگر مجھے میرے شوہر اورمیرےبچےکوکبھی بددعا مت دینا۔۔ناٸلہ آفندی بولی۔۔

ثمن نے گہرا سانس بھرا۔۔۔

تمہارے شوہر نے کہا تھا کہ میرا بچہ تمہاری گود پہ پلے گا تو اب اس وعدے کو تم۔پورا کروگی۔۔میرا بچہ آفندیوں کے ہاں پلے گا اپنے باپ کے ساۓ میں۔۔اور تمہارا بچہ صابریوں میں پلے گا بنا ماں باپ کے ساۓ کے۔۔

ناٸلہ آفندی اسکی شرط پہ لڑکھڑاٸی۔۔

بس ہار گٸی ناٸلہ آفندی۔۔وہ طنزیہ انداز میں بولی۔۔

میں اپنے بچے کیلٸے برسوں روٸی ہوں۔۔پلیز یہ شرط مت رکھو۔۔۔ناٸلہ آفندی تڑپ اٹھی۔۔

اور اگر میری دل سے نکلی بددعاٶں سے تمہارا بچہ مر گیا تو۔۔؟

ناٸلہ آفندی دہل گٸی۔۔

ٹھیک ہے مجھے منظور ہے۔ناٸلہ آفندی لڑکھڑاتے لہجے میں بولی۔۔

یہ تم کیا کہہ رہی ہو ناٸلہ۔۔فضیلہ ناگواری سے بولی۔۔

فضیلہ ٹھیک کیا میں نے۔۔میرے اندر مرا ہوا بچہ اٹھانے کی ہمت نہیں ہے۔۔۔

ناٸلہ یہ کوٸی ولی اللہ نہیں جسکی بددعا لگ جاۓ گی۔۔فضیلہ سر جھٹک کر بولی۔۔

فضیلہ وہ ولی اللہ نہیں مگر مظلوم ضرور ہے۔اور مظلوم کی بددعا عرش الہی ہلا دیتی ہے۔۔ناٸلہ آفندی ٹوٹے ہوۓ لہجے سے بولی۔۔

پھر فضیلہ سے زبیر کو کچھ نہ بتانے کا وعدہ لیا۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ناٸلہ ہاسپیٹل بھاگتی ہوٸی پہنچی تھی۔۔فضیلہ کا فون آیا تھا کہ ثمن کی حالت بہت خراب ہے۔۔ناٸلہ افراتفری میں ہاسپیٹل پہنچی تھی۔۔دونوں کو تین دن بعد ڈلیوری کی ڈیٹ دی تھی۔مگر ثمن کے بےبی کا پانی خشک ہونے سے کیس پچیدہ ہو گیا تھا۔۔

کیسی ہے وہ فضیلہ۔۔ناٸلہ آفندی نے پوچھا۔۔

بس ٹھیک ہے وہ۔۔ڈرپ لگی ہے۔۔فضیلہ بولی۔۔

پھر ناٸلہ دو دن تک اسکے ساتھ رہی۔مگر تیسرے دن فضیلہ کا آپریٹ تھا ناٸلہ باہر بیٹھی تھی۔۔ ناٸلہ کی طبیعت بھی خراب ہو گٸی تھی۔مگر وہ خود کو سنبھالتی بیٹھی تھی۔۔

پھر کچھ دیر بعد وہ درد سے چلا اٹھی۔فضیلہ نے ڈاکٹر سے کہہ کر اسے روم میں لے جانے کو کہا۔۔۔

کچھ دیر بعد ثمن کے بیٹا پیدا ہوا اور فضیلہ اندر آٸی۔۔۔

ناٸلہ ثمن کے بیٹا ہوا ہے۔۔بچہ بہت ویک ہے اور ثمن کی حالت بہت خراب ہے۔فضیلہ دھیمے سے لہجے میں بولی۔۔۔

ناٸلہ لب کاٹ کر رہ گٸی۔۔

پھر شام میں نارمل ڈلیوری سے ناٸلہ کے بیٹی ہوٸی تھی لال گلابی سی۔۔ناٸلہ آفندی اسے گلے لگا کر پھوٹ پھوٹ کر رودی۔۔

پھر وہ اٹھ کر ثمن کے روم میں چلی آٸی۔اور ثمن نے بمشکل آنکھیں کھول کر ناٸلہ آفندی کو دیکھا۔۔۔

ثمن تمہارے بیٹے کو میں اپنی جان سے بڑھ کر پیار دونگی۔۔اور میں کل ہی یہ شہر چھوڑ کر کراچی شفٹ ہو رہی ہوں۔۔زبیر سے کہہ کر میں اپنا سب کچھ وہاں شفٹ کروا چکی ہوں۔ناٸلہ آفندی نے کہا۔۔

ثمن کی آنکھ سے ایک آنسو نکل کر تکیے میں جذب ہوگیا۔۔

پھر ناٸلہ آفندی اپنی سوتن کے بیٹے کو گود میں اٹھا کر ہاسپیٹل سے نکلتی چلی گٸی۔

اگلے دن ناٸلہ آفندی کی فلاٸٹ نے پرواز کیا تو اسی ٹاٸم فضیلہ میڈی کیٸر میں ثمن صابری نے اپنی آخری سانس لی۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ناٸلہ آفندی اپنے ماضی سے باہر آٸی تو انکاچہرہ آنسوٶں سے تر تھا۔

ثانیہ بھی رو رہی تھی۔۔۔

تو زین اور فاریہ بہن بھاٸی ہیں۔۔۔

ناٸلہ آفندی نے اثبات میں سر ہلا دیا۔۔۔

مجھے جب زین نے بتایا وہ کسی لڑکی سے بہت محبت کرتا ہے۔ تو میں بہت خوش ہوٸی۔مگر جب میں زین کا رشتہ لیکر وہاں گٸی تو میرے سر پہ جیسے ہتھوڑا لگا تھا کیونکہ جب محمود صابری نے دروازہ کھولا تو حیران رہ گٸے مجھے دیکھ کر۔۔۔

پھر جب انہوں نے بتایا کہ میری بیٹی کا نام فاریہ ہے تو مجھے لگا کہ میرا سانس رک جاۓ گا۔۔

جب محمود صابری صاحب کو حقیقت بتاٸی تو وہ تو نڈھال ہوگٸے۔۔

برسوں بعد اپنی بیٹی کو سامنے دیکھ کر دل کیا اسے گلے لگالوں۔مگرمجھے اسے اور زین کو الگ کرنا تھا تو اس لٸے میں نے فاریہ کے کردار کی دھجیاں اڑا دی۔یہ صرف میں ہی جانتی ہوں کہ میں نے اپنی بکھرتی ہوٸی بیٹی کو کیسے دیکھا۔اسکی آنکھوں کا درد مجھے تڑپاتا ہے۔مگر زین کی ماں سے کیا ہوا وعدہ اور زبیر صاحب سے محبت میرے قدم روک لیتی۔کہ میں سب حقیقت بولوں۔۔۔

ناٸلہ آفندی اتنا کہہ کر پھوٹ پھوٹ کر رودی۔۔۔

سب ٹھیک ہو جاۓ گا۔۔۔

نہیں ثانیہ اگر زین نے پری زیب کو جانے دیا سب بکھر جاۓ گا۔۔ناٸلہ آفندی جلدی سے بولی۔۔

ہم مل کر اس سب سچویشن کو ہینڈل کر لیں گے۔۔ثانیہ نے کہا۔

ناٸلہ آفندی نے اثبات میں سر ہلا دیا۔

ناٸلہ۔۔۔۔باہر سے زبیر آفندی دھاڑنے کی آواز پہ وہ دونوں چونکی۔۔۔اور پھر تیزی سے باہر لپکی۔۔۔

جاری ہے۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *