Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mein Kese Kahun (Episode 32)

Mein Kese Kahun by Umme Emman Fatima

فاریہ۔۔۔۔۔دوسرے پل وہ چیختی ہوٸی اسکی طرف لپکی۔۔

فاریہ میری جان۔۔وہ اسکا چہرہ تھپتھپانے لگی۔۔

جلدی کریں ڈالیں گاڑی میں اسے۔وہ چیخ کر بولی۔۔۔

پھر وہ فاریہ کو لیکر آندھی طوفان سے گاڑی چلاتی پاس والے جنرل ہاسپیٹل پہنچی۔۔۔

ارے مسز آفندی۔۔ایک ڈاکٹر پاس آکر بولا۔۔

پپ۔پلیزکنول بیٹے جلدی سے ٹریٹمنٹ کریں اس بچی کو کچھ نہیں ہونا چاہیے۔وہ رندھے ہوۓ لہجے میں بولی۔۔

یہ ہے کون۔۔۔؟

بیٹی ہی سمجھ لیں““وہ نم لہجے میں بولی۔۔

ڈاکٹر سر ہلا کر جلدی سے آپریشن تھیٹر کیطرف چل پڑا۔۔

کچھ دیر بعد وہ باہر نکلا تو ناٸلہ آفندی تیزی سے اسکی طرف لپکی۔۔۔

کیسی ہے وہ اب۔۔۔انہوں نے بےچینی سے پوچھا۔

مسز آفندی بہت زیادہ انکا خون بہن چکا اور ان کا گروپ بھی او نیگیٹو ہے اور جو ہمارے ہاسپیٹل میں میسر نہیں ہے۔تو اگر فوری خون کا انتظام نہ ہوا تو انکی جان بھی جا سکتی ہے۔۔

خون او نیگٹو۔۔۔۔ممم۔۔میرے شوہر اور میرے بیٹے کا یہی گروپ ہے۔مگر زبیر تو نہیں ہے یہاں تو زین کو ہی فون کرتی ہوں۔۔ناٸلہ آفندی نے کہا اور پھر زین کا نمبر ملانے لگی۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

زین اوندھے منہ تکیے میں چہرہ چھپا کر لیٹا تھا تبھی اسکا موباٸل بجا۔۔

وہ تیزی سے سیدھا ہوا اور بنا نمبر دیکھے موباٸل کان کو لگایا۔

ہیلو۔ہیلو زین مجھے آپکی ہیلپ کی ضرورت ہے بیٹے۔دوسری طرف سے ناٸلہ آفندی متوحش آواز سناٸی دی۔۔

کیا ہوا مام آپ کو“آپ ٹھیک ہیں ؟زین نے بےچین ہوکر پوچھا۔۔

زین ککک۔کچھ ٹھیک نن۔نہیں ہیں۔مم۔میں ہاسپیٹل ہوں۔وہ ایکسیڈنٹ ہو گیا ہے۔۔ناٸلہ آفندی ہچکیوں کے درمیان جو ٹوٹا پھوٹا بولی اس نے زین کے ہوش اڑا دٸیے۔۔

وہ دوڑتا ہوا پورچ کیطرف بڑھا اور گاڑی دوڑاتا ہاسپیٹل پہنچا اور پوچھتا ہوا وہ ایک کاریڈور میں آیا جہاں ناٸلہ آفندی کرسی پہ بیٹھی تھی۔۔

وہ تیزی سے انکی طرف بڑھا اور انکے پاس زمین پہ بیٹھ گیا۔۔

مام۔۔مام آپ ٹھیک ہیں نہ۔۔زین نے انہیں چھوتے ہوۓ پوچھا۔۔

وہ چونک کر زین کو دیکھنے لگی۔۔پھر وہ زین کے سینے کیساتھ لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رودی۔۔

زز۔زین وہ وہ ڈاکٹر بول رہے کہ وہ مر جاۓ گی۔ناٸلہ آفندی نے روتے ہوۓ کہا۔۔

کون مر جاۓ گی مام۔۔۔؟

فف۔فاریہ۔۔فاریہ مر جاۓ گی۔اسکا خون اتنا زیادہ نکلا ہے اور اسکا چہرہ خون سے لتھڑا ہوا تھا۔۔

زین انکی بات پہ ساکت ہوگیا۔۔

تم اسے خون دو گٸے نہ۔وہ امید بھرے لہجے میں پوچھنے لگی۔۔

زین نے اثبات میں سر ہلا دیا۔۔

پھر زین نے فاریہ کو اپنا خون دیا اور ناٸلہ آفندی کے پاس آکر بیٹھ گیا۔۔

وہ انکے رویے پہ حیران تھا جہاں سے فاریہ کیلٸے محبت ٹپک رہی تھی۔۔۔

آپ تو فاریہ سے نفرت کرتی تھی نہ“تو پھر آج اسکے مرنے نہ مرنے سے آپ کو اتنا فرق کیوں پڑ رہا ہے۔۔زین نے آخرکار پوچھ ہی لیا۔۔

ناٸلہ آفندی خالی خالی نظروں سے اسے دیکھنے لگی۔۔۔

وہ اکچوٸلی مجھے اپنے رویے پہ بہت شرمندگی ہے اور میں اسی وجہ سے پریشان ہوں کہ میں نے اسکے ساتھ بہت زیادتی کی ہے۔۔ناٸلہ آفندی نے کہا۔۔

زین سر جھٹک کر رہ گیا۔۔

زین۔۔احمر کو فون کرکے اطلاع دے دو۔ناٸلہ آفندی نے کہا۔۔

زین نے اثبات میں سر ہلایا اور انکے لینڈ لاٸن کا نمبر ملانے لگا۔۔

ہیلو۔۔۔دوسری طرف سے فون اٹھاتے ہی احمد کی آواز سناٸی دی۔

احمد بھاٸی میں زین بات کر رہا ہوں۔وہ فاریہ۔۔۔

آٸندہ یہاں فون مت کرنا اور ہاں رہی فاریہ اسکا بھی ہم سے یا ہمارے گھرسے کوٸی تعلق نہیں ہے اب۔اس سے اگر بات کرنی تو اسے خود ہی ڈھونڈ لو۔۔احمد نے نفرت سے کہا اور فون کاٹ دیا۔۔۔

زین سن سا ہو گیا تھا۔۔۔

کیا ہوا زین۔ناٸلہ آفندی نے پاس آکر پوچھا۔۔۔

مام انہوں نے فاریہ کو گھر سے نکال دیا ہے۔ناٸلہ آفندی کو زین کی آواز گہری کھاٸی سے آتی محسوس ہوٸی۔

وہ بےیقینی سے دیکھے گٸی۔اور پھر سر تھام کر کرسی پہ بیٹھ گٸی۔۔

سب برباد ہو گٸے مام۔کاش میں نفرت میں اندھا نہ ہوا ہوتا اور پری زیب سے محبت میں انتقام نہ لیتا تو سب ٹھیک ہوتا۔کتنے دل ٹوٹے ہیں اور کتنے رشتے بکھرے ہیں۔وہ نم لہجے سے بولا۔۔

نہیں سب میری غلطی ہے۔میرے جھوٹ پہ جھوٹ نے سب کچھ برباد کیا ہے۔ناٸلہ اتنا کہہ کر پھوٹ پھوٹ کر رودی۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفدر نے ثانیہ کے اپارٹمنٹ کی بیل بجاٸی۔۔

کون ہے۔۔کچھ دیر بعد اندر سے مترنم سی آواز آٸی جو بلاشبہ ہانیہ کی تھی۔۔

میں صفدر شاہ۔۔۔

ہانیہ نے دروازہ کھول دیا۔۔

ہاۓ۔۔۔۔۔صفدر نے ہاتھ ہلا کر کہا۔۔

ہاۓ سر۔۔ہانیہ نے مسکرا کر کہا۔

ثانیہ ہے۔۔۔؟صفدر نے پوچھا۔۔

جی۔۔ہانیہ نے کہہ کر اندر آنے کا راستہ دیا۔۔

صفدر لاٶنج میں آکر بیٹھ گیا۔۔

آپی نہا رہی ہیں آپ تب تک بتاٸیے کیا لیں گے۔۔ہانیہ نے پوچھا۔۔

ہانیہ گڑیا آپ سے کچھ کہنا تھا۔صفدر نے جھجھکتے ہوۓ کہا۔۔

جی کہیے۔۔ہانیہ نے چونک کر کہا۔۔

وہ اکچوٸلی میں ثانی سے شادی کرنا چاہتا ہوں“تو آپ میری مدد کریں گے۔صفدر کی بات پہ ہانیہ کا منہ کھل گیا۔۔

آپ پلیز یہ بات آپی سے مت کہہ دینا“جان سے مار دینگی۔۔ہانیہ نےکہا۔۔

کہا تھا اور سچ میں جان لینے پہ تل گٸی تھی مگر ہاۓ میں دل کے ہاتھوں مجبور ہوکر پھر آ جاتا ہوں اسکے در پہ۔صفدر نے آہ بھرتے ہوۓ کہا۔

نہ کریں یار““ہانیہ نے مسکراکر کہا۔۔

ویسے آپ مجھے کافی کول لگے مگر آپی تو ہمیشہ آپ کے ذکر پہ انگارے چباتی ہیں“ہانیہ نے کہا۔

مطلب تمہاری بہن میرا تذکرہ کرتی رہتی ہے۔صفدر پرجوش انداز میں بولا۔۔

زیادہ خوش مت ہوٸیے، کیونکہ زیادہ اچھے الفاظ میں یاد نہیں فرماتی۔۔۔

ارے اچھے ہو یا برے الفاظ میں تذکرہ ،لیکن تذکرہ تو ہے نہ۔صفدر نے جھوم کر کہا۔۔

ہانیہ نے حیرت سے اس سرپھرے کو دیکھا۔۔

یہ کیا ہو رہا ہے۔۔؟اس سے پہلے ہانیہ کچھ بولتی پیچھے سے ثانیہ کی آواز آٸی۔۔

اووووہ ہاۓ ثانی۔۔صفدر نے مسکرا کر کہا۔

شٹ اپ۔اور تمہاری ہمت کیسے ہوۓ پھر سے میرے سامنے آنے کی۔وہ تپ کر بولی۔۔۔

آپی ڈانٹے تو مت مہمان ہے ہمارے ۔۔۔

تم۔۔تم کچھ نہیں جانتی ہنی۔۔یہ پاکستان ہے یہاں لوگ کسی کے گھر میں داخل ہو کر کبھی بھی مارپیٹ اور قتل عام کر سکتے ہیں“ثانیہ نے کرب سے کہا۔

ہانیہ کا رنگ فق ہو گیا۔وہ تیزی سے وہاں سے نکلتی چلی گٸی۔۔

یار ڈرا دیا تم نے اسکو“میں جانتا ہوں میں نے تمہارے ساتھ غلط کیا مگر یار فرض تھا وہ میرا“وہ کرلا کر بولا۔۔

فرض ماٸی فٹ۔بنا تحقیق کے تم کسی پہ بھی دھاوا بول دو گے اور نام فرض کا لیتے رہو گے تو تمہارا خیال ہے کہ لوگ تمہیں ایوارڈز دیں۔ثانیہ چلاٸی۔۔۔

میرا ایوارڈز تو تم ہو ثانی۔بہت محبت کرتا ہوں تم سے۔ٹوٹ گیا تھا جب مجھے پتا لگا کہ تم نےسر میم کو کڈنیپ کیا تھا۔مگر میری غلطی ہے کہ میں تمہیں غلط سمجھ بیٹھا۔صرف ایک لاسٹ چانس دے دو۔۔صفدر نے اسکا ہاتھ تھام کر جذب سے کہا۔۔۔۔

ثانیہ ایک پل کیلٸے مسحور ہوٸی اور دوسرے پل وہ ہاتھ چھڑوا کر رخ پھیر گٸی۔

جاٶ یہاں سے صفدر ورنہ میں تمہاری سچ میں جان لے لوں گی۔وہ نفرت سےبولی۔

صفدر تھکے تھکے قدموں سے وہاں سے نکل گیا۔۔

صفدر کے جانے کے بعد وہ دروازہ بند کرکے ہانیہ کے پاس چلی آٸی جو کہ بیڈ پہ بیٹھی رو رہی تھی۔۔۔

ایم سوری میری جان۔ماضی کی تلخ یاد پھر سے تازہ کردی۔مگر میری شونا تم کبھی مرد سے ڈرنا مت اور تم ڈٹ کر مقابلہ کرنا اور کسی مرد کے یہ عشق کے مکروفریب میں مت آنا۔تمہیں میں نے بلیک بیلٹ بنایا ہے اور تم کبھی مرد کے آگے مت جھکنا“کیونکہ جھک گٸی تو جو واحد چیز ہمارے پاس ہے ہماری عزت وہ بھی نہیں رہے گی۔ثانیہ نے کہا۔۔

ہانیہ سر جھکا کر رہ گٸی۔۔

چلو اٹھو۔۔شاپنگ کرنے چلتے ہیں۔ثانیہ نے کہا۔۔

ہانیہ اثبات میں سر ہلاتے ہوۓ اٹھ گٸی۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پری زیب گم صم سی کھڑکی میں کھڑی باہر دیکھ رہی تھی۔۔آنسو اسکے رخسار کو بھگو رہے تھے۔۔

زین کہاں ہو تم۔؟پلیز آ جاٶ مجھے تمہیں دیکھنا ہے۔وہ کرلا کر دل ہی دل میں مخاطب ہوٸی۔

پری جان۔۔۔۔ساٸرہ پکارتی ہوٸی اندر داخل ہوٸی۔۔

پری زیب جلدی سے آنسو صاف کرتی ہوٸی اسکی طرف مڑی۔۔

ارے تم پھر رو رہی تھی“ساٸرہ چونک کر بولی۔۔

بھابھی مجھے سکون نہیں مل رہا“وہ تڑپ کر بولی۔

میری جان خود کو ہلکان مت کرو،تم دیکھنا زین بھاٸی ضرور آٸیں گے۔

بھابھی اسکو آنا ہوتا تو کب کے آ جاتا مگر نہیں آیا کیونکہ اس نے بھیا کی باتوں کا غصہ کیا ہوگا۔۔۔وہ سسک اٹھی٠

میری جان اللہ پہ بھروسہ رکھو سب ٹھیک ہو جاۓ گا“ساٸرہ نے اسکا ماتھا چومتے ہوۓ کہا۔۔

پری زیب سر جھکا کر ناخن کترنے لگی۔۔

اچھا چلو باہر پری وش کب سے تمہیں یاد کر رہی ہے۔ساٸرہ نے کہا اور پھر ہاتھ پکڑ کر اسے باہر لے آٸی۔۔

وہ کچھ دیر تک پری وش سے کھیلتی رہی۔

پھر پاس رکھے لینڈ لاٸن کی بیل بجی وہ چونک کر پلٹی تو احمد فون اٹھا چکا تھا۔۔

دوسری طرف زین کے آواز سنتے ہی وہ چلا کر بولنے لگ گٸے۔۔

آٸندہ یہاں فون مت کرنا اور ہاں رہی فاریہ اسکا بھی ہم سے یا ہمارے گھرسے کوٸی تعلق نہیں ہے اب۔اس سے اگر بات کرنی تو اسے خود ہی ڈھونڈ لو۔۔احمد نے نفرت سے کہا اور فون کاٹ کر وہ خشمگیں نگاہوں سے پری زیب کو دیکھنے لگا۔۔

دیکھو تمہارے شوہر کے کارنامے“فاریہ کے متعلق بات کرنا چاہ رہا تھا،اس نےایک بار بھی تمہارا نہیں پوچھا۔۔

آپ نے اسے بولنے کا موقعہ کب دیا بھیا۔؟وہ کھوۓ کھوۓ انداز میں بولی۔۔

ہاں ہاں۔غلط تو ہم لوگ ہیں مگر وہ دھوکے باز انسان ٹھیک ہے۔اور یہ فون کی تار کاٹ رہا ہوں۔تاکہ دوبارہ وہ فون نہ کرے اور تم نے بھی اگر فون کیا تو جان سے مار دونگا زین کو۔احمد نے غصے سے کہا اور فون کی تار کاٹ دی۔۔

پری زیب خالی خالی نگاہوں سے اسے دیکھے گٸی۔اور ہھر وہ بھاگتی ہوٸی اپنے روم کیطرف بڑھ گٸی۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

فاریہ کو ہوش آیا تو ماٶف دماغ کیساتھ وہ چھت کو دیکھے گٸی۔

پھر ایک ایک بات فلم کیطرح اسکے ذہن میں چلنے لگی۔کہ جب وہ گم صم سی روڈ کراس کر رہی تھی تو ایک گاڑی کی ٹکر سے وہ اچھل کر گری تھی۔اور اس نے بیہوش ہونے سے پہلے احمر کو پکارا تھا۔۔

میں ہاسپیٹل ہوں مطلب احمر مجھے لاٸیں ہونگے۔وہ دل ہی دل میں بولی۔۔

پھر دروازہ کھلنے کی آواز پہ چونک کر اس نے دیکھا تو زین اور ناٸلہ آفندی اندر داخل ہوۓ تھے۔۔۔۔

احمر کہاں ہے۔۔؟ وہ تڑپ کر بولی۔

ان دونوں نے اسکی بات پہ سر جھکا لیا۔۔

اسے شاید تمہارے ایکسیڈنٹ کا نہیں پتا کیونکہ ہم نے فون کیا تھا مگر فون نہیں اٹھایا کسی نے۔۔ناٸلہ آفندی نے کہا۔۔

مجھے ہاسپیٹل کون لایا۔۔؟ اس نے نم لہجے سے پوچھا۔۔

میں لاٸی تھی“ناٸلہ آفندی نے کہا۔

نہیں لانا چاہیے تھا“آپ نے میری زندگی بچا کر بہت غلط کیا۔۔وہ کرلاٸی۔۔

پاگل ہو گٸے ہو تم دونوں“ایسے اتنی جلدی ہار مان لی۔محبت کی ہے تم دونوں نے تو بنا لڑے کیسے ہار مان سکتے ہو۔“اللہ ہے نہ تو پھر مایوس کیوں ہو رہے ہو۔اگر تم لوگوں کا ساتھ لکھا ہے تو اللہ ضرور ملاۓ گا۔ناٸلہ آفندی نے کہا۔۔

باتیں اچھی کر لیتی ہیں آپ“نجانے کبھی کبھی کیوں لگتا ہے کہ جتنی آپ اچھی دکھتی ہیں اس سے بھی زیادہ اچھی ہیں آپ۔؟بس کچھ چیزوں میں آپ نے مجھے بہت ہرٹ کیا ہے“فاریہ کرب سے بولی۔۔

مام اس بات کیلٸے بہت شرمندہ ہٕیں۔وہ تمہاری حالت دیکھ کر بہت روٸی جیسے تم انکی اپنی بیٹی ہو“زین کی بات پہ ناٸلہ آفندی کے چہرے پہ سایہ سا لہرا گیا۔۔

کاش کہ زین تمہاری مام سچ میں میری مام ہوتی تو جانتے کیا ہوتا۔۔؟ وہ ہولے سے بولی۔

ہونا کیا تھا ہم دونوں نے بہن بھاٸی ہو جانا تھا،زین نے ہلکے پھلکے انداز میں کہا۔۔

اسکی بات پہ فاریہ مسکرا دی۔

نہیں پاگل۔پھر تمہاری مام نے سب سے لڑ کر میرا پیار احمر مجھے دلوا دینا تھا۔وہ کرب سے بولی۔۔

ناٸلہ آفندی نے کرب سے آنکھیں بند کر لیں۔۔

ان شاء اللہ،،،،میں اپنے دونوں بچوں کو انکا پیار انکا ہمسفر دلوا کر رہونگی۔۔ناٸلہ آفندی نے دل ہی دل میں مضبوط ارادہ کیا۔

اور پھر ان دونوں کو باتیں کرتے دیکھنے لگی۔۔

فاریہ بیٹے۔آپ کو ڈسچارج کروا کر گھرہی لے جاتی ہوں کیونکہ پھر آپ جلد از جلد ریکور کر لیں گی“ ناٸلہ آفندی کی بات پہ وہ دونوں چونکے۔۔

لیکن میم۔۔۔

لیکن ویکن کچھ نہیں“تم اگر مام سے ابھی بھی ناراض ہو تو کوٸی بات نہیں۔لیکن تم اپنے دوست کا گھر سمجھ کر چل سکتی ہو۔زین نے مان بھرے لہجے میں کہا۔۔

فاریہ نے اثبات میں سر ہلا دیا۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وقاص کب سے فرح کیساتھ شاپنگ مال میں خجل خراب ہو رہا تھا۔۔

بس کر دیں یار اب۔۔وہ آخر کار بول اٹھا۔۔

چپ کر توں“ابھی تو میری بہت شاپنگ باقی ہے۔فرح نے ڈپٹ کر کہا۔۔

وقاص دل مسوس کر رہ گیا۔

ماموں جان وہ دیکھیں ممانی۔۔فرح کے بیٹے کی آواز پہ وہ چونک کر دیکھنے لگا تو سامنے سے ہی ہانیہ آ رہی تھی۔۔

چل ملتے ہیں۔فرح نے پرجوش انداز میں کہا۔اور پھر تیزی سے ہانیہ کیطرف بڑھی۔وقاص بھی اسکے پیچھے پیچھے چلا آیا۔

ہاۓ ہانیہ۔۔فرح نے پاس جاکر کہا تو وہ چونک کر مڑی۔۔

ہاۓ۔۔ہانیہ نے بے دلی سے کہا۔۔

فرح پرجوش انداز میں بول رہی تھی مگر ہانیہ کے چہرے پہ بیزاری صاف صاف وقاص کو دکھ رہی تھی۔۔

اپیا چلیں مجھے لیٹ ہو رہا ہے“وقاص نے ہار کر کہا۔۔

رک تو سہی“مجھے اصل میں ہانیہ سے پوچھنا تھا کہ وہ نمبر جو اس نے دیا وہ چل نہیں رہا تو دوسرا نمبر دے دے۔فرح نے کہا۔۔

اکچوٸلی آپی وہ میرا موباٸل چوری ہوگیا تھا۔تو اس لٸے اب کوٸی نمبر نہیں ہے میرے پاس“ہانیہ بولی۔۔

اووووووہ اچھا۔اپنے گھر کا پتا دے دو“فرح کی بات پہ ہانیہ کا رنگ فق ہو گیا۔۔

ارے نہیں وہ اپنی آپی سے پوچھے بغیر نہیں دے سکتی۔ہانیہ بولی۔

وقاص نے ایک گہری نظر اس پہ ڈالی۔۔

چلیں اپیا مجھے ہیڈکوارٹر پہنچنا ہے“وقاص نے جھلا کر کہا۔

اووووہ اچھا۔۔پھر وہ ہانیہ کو خدا حافظ بول کر آگے بڑھ گٸی۔اور وقاص بھی انکے پیچھے ہو لیا۔۔

وقاص تو بہت جلدی مچاتا ہے۔اور اب دیکھ جلدی میں میرا کریڈٹ کارڈ وہی رہ گیا ہے۔جا اب جا کر پکڑ کر لا۔وہ تپ کر بولی۔

وقاص جھلا کر واپس مڑگیا۔

پھر وہ کارڈ لیکر واپس مڑ ہی رہا تھا کہ اسے ہانیہ فون پہ بات کرتی دیکھاٸی دی۔۔

وہ فون کاٹ کر مڑی تو وقاص کو دیکھ کر ٹھٹھکی اور پھر اسے اگنور کرتی ہوٸی گزرنے ہی لگی تھی کہ وقاص نے اسے بازو سے پکڑ کر کھینچ کر دیوار کیساتھ لگایا۔۔

یہ کیا بدتمیزی ہے؟ ہانیہ تپی۔

بدتمیز تم ہو محترمہ اور جھوٹی بھی“کسی کے پیار کے جواب میں بیزاری کا اظہار کرتے شرم نہیں آتی۔،وہ دھاڑا۔۔۔

میں نے کوٸی بدتمیزی نہیں کی آپکی بہن کیساتھ۔۔۔

اس سے بڑھ کر بدتمیزی کیا ہوگی کہ تم ایک بند نمبر انہیں دو اور پھر جھوٹ بھی بولو کہ موباٸل چوری ہو گیا تھا۔وقاص چبا چبا کر بولا۔۔

تو کیا کرتی میں“صاف انکار کرتی کیا؟ جان چھڑوانی تھی آپ کی فضول گو بہن سے۔وہ تپی۔۔۔

وقاص نے زور سے دیوار پہ مکا مارا۔۔

انکار کردیتی تو وہ ایک امید نہ لگاۓ بیٹھی ہوتی کہ تمہیں اپنے بھاٸی کی دولہن بنانا ہے۔

یہ میرا مسٸلہ نہیں ہے کہ آپ کی بہن کی امیدوں کو پورا کروں“مجھے آپ کی بہن جیسے چپڑ چپڑ بولنے والے لوگ بالکل پسند نہیں۔اور آپ اپنی بہن کو خود سمجھا لیجٸے گا کیونکہ اگر میں کچھ بولوں گی تو بہت بری طرح ہرٹ ہونگی۔وہ تلخ لہجے میں بولی۔۔۔

یو نو واٹ۔تم ایک میٹھا اور شفاف پانی دکھتی ہو مجھے بھی تم جھیل جیسی صاف ستھری اور میٹھی لگی تھی مگر تم تو سمندر کا وہ کھارا اور زہریلہ پانی ہو جو صرف دیکھنے میں خوبصورت دکھتا ہے مگر کوٸی بھی اسے چکھنا نہیں چاہتا۔۔وقاص نے اسکا منہ دبوچ کر کہا اور پھر اسے پیچھے دکھیلتا ہوا وہاں سے نکلتا چلا گیا۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دو دن ہو گٸے تھے پری زیب کو گٸے۔زین ایک بار بھی اسے ملنے نہیں گیا تھا

پرسوں وہ ہاسپیٹل بزی رہا۔پھر کل فاریہ کو گھر لاکر اسے کیساتھ بزی رہا کیونکہ وہ بات بے بات روۓ جا رہی تھی۔آج وہ فری تھا تو گاڑی نکال کر وہ سڑکوں پہ پہلے تو بےمقصد گھماتا رہا پھر اس نے گاڑی پری زیب کے گھر کیطرف موڑ لی۔۔

گاڑی اسکے گھر کے سامنے کھڑی کرکے وہ دھڑکتے دل سے دروازے تک آیا اور بیل بجاٸی۔۔

کچھ دیر بعد دروازہ کھلا تو ساٸرہ بھابھی دیکھاٸی دیں۔۔

اسلام علیکم بھابھی۔زین نے جھجھکتے ہوۓ سلام کیا۔۔

آٸیے نا زین بھاٸی۔۔ساٸرہ نے پیچھے ہٹتے ہوۓ راستہ دیا۔۔

زین اندر آیا اور اسکی نگاہ پری زیب کے کمرے کی کھڑکی پہ گٸی تو وہ دشمن جان بےیقینی سے اسے ہی دیکھ رہی تھی۔۔پھر وہ موڑی اور کچھ دیر بعد وہ بھاگتی ہوٸی ننگے پاٶں باہر نکل آٸی۔

اور بھاگتی ہوٸی اسکے سینے کیساتھ لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رودی۔۔

بس کرو جاناں،تمہارے آنسو میرے دل پہ گر رہے ہیں۔وہ گھمبیر لہجے میں بولا۔۔

یو ڈفر،یو فول۔۔۔۔دو دن سے تمہارا انتظار کر رہی تھی۔وہ اسکے سینے پہ مکے مارتے ہوۓ بولی۔

ایم سوری میری جان“میں آنا چاہتا تھا مگر۔۔۔۔

پری زیب۔۔اس سے پہلے وہ مزید بولتا احمد نے پری زیب کو دھاڑ کر پکارا۔۔

اور کچھ پل بعد پروفیسر صاحب اور احمر بھی باہر آ گٸے۔

تمہاری“تمہاری ہمت کیسے ہوۓ میرے گھر آنے کی۔پروفیسر صاحب سینہ مسلتے ہوۓ بولے۔۔۔

بابا۔۔۔پری زیب انکو سینہ مسلتے دیکھ کر تیزی سے انکی طرف لپکی۔۔

بابا جانی پلیز مجھے معاف کر دیں۔زین تڑپ کر بولا۔۔

احمد“احمر نکالو اسکو یہاں سے۔پروفیسر صاحب نے کہا۔۔

نکلو یہاں سے۔۔احمد نے اسے دھکا دیکر کہا۔۔۔

احمد بھاٸی پلیز بیچ میں مت آٸیں“زین نے غصے سے کہا۔۔

احمد نے ایک زوردار تھپڑ زین کے منہ پہ مارا۔۔

پری زیب کی چیخ نکل گٸی۔وہ تڑپ کر آگے بڑھی۔۔۔

پروفیسر صاحب نے بے یقینی سے اسے دیکھا۔۔

بھیا،آپ کی ہمت کیسے ہوٸی زین پہ ہاتھ اٹھانے کی۔وہ چیخ کر بولی۔۔

چلیں زین ہم ابھی اپنے گھر چلتے ہیں“ وہ زین کا ہاتھ تھام کر مڑی۔۔

پری زیب،اگر تم زین کیساتھ اس گھر سے گٸی یا تم نے زین سے کوٸی رشتہ یا رابطہ رکھنا تو یاد رکھنا تمہارا میرا رشتہ ختم ہو جاۓ گا“یا تو زین کو چنو گی تم یا اپنے بابا جانی کو۔۔پروفیسر جمال کی بات پہ زین اور پری زیب ساکت ہو گٸے۔۔۔

پھر ایک آنسو نکل کر پری زیب کے رخسار پہ بہہ گیا۔۔اس نے آہستگی سے زین کا ہاتھ چھوڑ دیا۔۔

زین نے کرب سے اپنے خالی ہاتھ کو دیکھا اور پھر بوجھل قدموں سے وہ پیچھے دیکھے بنا باہر نکل گیا۔۔اسے لگا کہ وہ پیچھے مڑا تو پتھر کا ہو جاۓ گا۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *