Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mein Kese Kahun (Episode 20)

Mein Kese Kahun by Umme Emman Fatima

زین نے روم میں آکر سب کچھ تہس نہس کر دیا تھا۔پھر وہ گرنے والے انداز میں زمین پہ بیٹھ گیا۔۔

تم سمجھ نہیں رہی ہو پری زیب۔۔فیضان بہت گھٹیا انسان ہے۔جتنا میٹھا ہے اتنا ہی زہریلہ ہے۔۔وہ دل ہی دل میں پری زیب سے مخاطب ہوا۔

پھر وہ خود کو سنبھالتا ہوا اٹھ کر بھاگتا ہوا کینٹین میں آیا۔۔

جہاں وہ دونوں سموسے کھا رہے تھے۔فیضان نے جھک کر اسکے کان میں کچھ کہا تھا تو وہ کھلکھلا کر ہنس پڑی تھی۔۔

زین کواپنا وجود دہکتی آگ میں محسوس ہوا۔۔

پری زیب اٹھو،ہمیں فورا گھر جانا ہے۔۔وہ جلدی سے اسکے پاس آکر بولا۔۔

کیوں کیا ہوا۔سب خیریت ہے۔۔؟ پری زیب نے پریشان کن لہجے میں پوچھا۔۔۔

تم چلو ہمیں فورا گھر پہنچنا ہے۔زین نے سنجیدگی سے کہا۔۔

پری زیب اثبات میں سر ہلا کر اپنی چیزیں سمیٹنے لگی۔۔

اوکے فیضی میں چلتی ہوں۔پری زیب نے کہا اور پھر زین کیساتھ باہر نکل گٸی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کار آفندی ولا کے سامنے پہنچی تو زین نے ہارن پہ ہارن دینا شروع کردیا۔۔

گارڈ نے دروازہ کھولا تو زین نے گاڑی اندر گیراج میں لگاٸی اور باہر نکل آیا۔۔

اب بتا بھی دو ہوا کیا ہے؟ پری زیب نے جھلا کر پوچھا۔۔

کچھ بھی نہیں ہوا۔۔زین نے اطمینان سے جواب دیا۔۔

مطلب۔۔۔۔۔۔؟

مطلب یہ کہ پری زیب محترمہ میرے سر میں درد تھاتو گھر آنا تھا۔تو اس لٸے یہ سب کیا۔وہ لاپرواہی سے بولا۔۔

تم انتہاٸی بدتمیز ہو۔وہ غصے سے پیر پٹخ کر وہاں سے چلی گٸی۔۔

زین مسکراتا ہوا اسکے پیچھے چلا آیا۔۔

کمرے میں پہنچ کر پری زیب دھپ سے صوفے پہ بیٹھ گٸی۔۔

سوری۔۔۔زین اسکے پاس بیٹھتے ہوۓ کہا۔

پری زیب نے حیرانگی سے دیکھا۔۔

تم اور سوری۔۔کچھ جچا نہیں۔۔۔وہ طنزیہ انداز میں اسے بولی۔۔۔

ارے یار تم لڑکیاں کتنی عجیب ہوتی ہو پہلے چاہتی ہو کہ ہم تمہارے مطابق چلیں۔جب ہم چلتے ہیں تو تم لڑکیاں یقین نہیں کرتی۔۔زین نے جھلا کر کہا۔۔

اوکے معاف کیا۔۔پلیز جان چھوڑ دو۔۔وہ ہاتھ جوڑ کر بولی۔۔

زین نے اسے گہری نظروں سے دیکھا۔۔

ایک ریکویسٹ ہے۔ زین نے کہا۔۔۔

پری زیب سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگی۔۔۔۔

فیضان علی سے دور رہو۔۔۔۔۔

کیوں وجہ۔۔؟وہ ماتھے پہ بل ڈال کر پوچھنے لگی

یار میں کہہ رہا ہوں نہ تو تمہیں ماننی چاہیے میری بات۔۔زین نے کہا۔۔۔

کیوں مانو تمہاری بات۔وہ کمر پہ ہاتھ رکھکر بولی۔۔

کیونکہ تمہارا شوہر ہوں میں۔۔زین نے ناگواری سے کہا۔۔

ہاہاہاہا۔وہ پیٹ پکڑ کر ہنسنے لگی۔۔

شوہر۔۔۔رٸیلی یار۔۔کب تمہیں لگا کہ تم میرے شوہر ہو۔۔کونسے حقوق ادا کٸے تم نے شوہر ہونے کے۔وہ ہنسی روک کر طنزیہ اندازمیں بولی۔۔

اوووہ تو تمہیں اپنا حق چاہیے۔۔زین نے معنی خیز انداز میں کہا۔۔شٹ اپ۔۔وہ تپ کر بولی۔۔

خود ہی تو حق کی بات کی ہے۔وہ دل جلانے والے انداز میں بولا۔۔

مرو جاکر۔وہ اسکےاوپر کشن پھیکتے ہوۓ بولی اور پھر تیزی سے اٹھ کر باہر نکل گٸی کہ کہیں وہ سچ میں کچھ کر نہ دے۔۔۔

پھر دوپہر میں وہ سوٸی تو شام میں اٹھی اس نے اٹھتے ہی ساٸیڈ ٹیبل سے موباٸل اٹھاکر دیکھا تو فیضان کی مسڈ کالز آٸی تھی۔۔

اووووووہ شٹ۔مجھے تو پارٹی میں جانا تھا۔۔وہ بڑبڑاٸی۔۔

اور پھر جلدی سے اٹھ کر تیار ہونے لگی۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

زین کمرے میں داخل ہوا تو پری زیب کو دیکھ کر ٹھٹھک کر رک گیا۔۔وہ بلیو ساڑھی میں آٸینے کے سامنے کھڑی لپ اسٹک لگارہی تھی۔۔۔

کدھر کی تیاری۔۔۔؟زین نے پوچھا۔

جدھر کی مرضی ہو تمہیں کیا۔۔۔۔۔حسب توقع تڑخ کر جواب آیا۔۔۔

تو تم بتا دو گی تو زبان گِھس جاۓ گی تمہاری۔۔زین نے جل کر کہا۔۔۔۔

جل بھن پہلے ہی رہے ہو تو جو کچھ بتاٶں گی تو جل بھن کر کباب بن جاٶ گے۔۔وہ طنزیہ انداز میں بولی۔۔

تم اس چیز کی فکر مت کرو۔۔میں ہی جلوں گا۔۔زین نے کہا۔۔

تو پھر سنو۔۔تمہارے رقیب یعنی فیضان کے گھر کوک ٹیل پارٹی میں جا رہی ہوں۔۔۔۔۔

واٹ۔۔۔وہ چلایا۔۔

پری زیب نے طنزیہ انداز میں دیکھا۔۔جیسے کہہ رہی ہو کہ دیکھا جل گٸے نہ۔۔

تم کہیں نہیں جاٶ گی۔۔وہ تڑخ کر بولا۔۔

تم مجھے روکنے کا حق نہیں رکھتے۔۔وہ ناگواری سے بولی۔۔

میں یہ حق رکھتا ہوں۔اور یہ تم جانتی ہو۔۔زین نے سنجیدگی سے کہا۔۔۔

تو پھر روک کے دیکھاٶ اگر ہمت ہے ۔۔وہ تلخ لہجے سے بول کر سیڈل پہننے لگی۔

زین ایک جھٹکے سے واپس مڑ گیا۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پری زیب چلتی ہوٸی گاڑی کے پاس آٸی اور دروازہ کھول کر اس میں بیٹھ گٸی۔۔

چلیں چاچا۔۔وہ موباٸل پہ میسیج ٹاٸپ کرتے ہوۓ بولی۔۔

اور گاڑی تیزی سے گیٹ سے باہر نکلی اور مین سڑک پہ آکر گاڑی نے دوسری طرف کا روٹ لیا تو پری زیب چونک کر سیدھی ہوٸی۔۔

چاچا ہمیں فیضان صاحب کے گھر جانا ہے۔اور وہ دوسری ساٸیڈ پہ ہے۔۔۔

گاڑی پہ چاچا نہیں میں ہوں۔زین نے اسکی بات پہ مڑتے ہوۓ جواب دیا۔۔

زین۔۔یہ کیا پاگل پن ہے میں تمہیں جان سے مار دونگی۔۔وہ چلاٸی۔۔

ٹراٸی کرکے دیکھ لو،وہ طنزیہ انداز میں بولا۔۔۔

سٹاپ دا کار۔ورنہ میں گاڑی سے چھلانگ دونگی۔۔

یہ بھی ٹراٸی کر کے دیکھ لو۔زین نے مسکرا کر کہا۔۔

وہ دروازے کو زور لگاکر کھولنے لگی۔۔

میری جان کوٸی فاٸدہ نہیں۔۔وہ پلٹ کر بولا۔۔

وہ غصے سے اسے دیکھنے لگی۔۔

پھر اس نے اسٹیرنگ کو گھما دیا۔اور گاڑی تیزی سےگھوم گٸی۔۔

زین نے بمشکل سنبھالی مگر اسکا سر اسٹیرنگ سے بہت زور سے ٹکرایا۔اسکے سر سے ٹیس اٹھی۔۔اس نے ہاتھ لگا کر دیکھا تو سر سے خون نکل رہا تھا۔

تم پاگل ہو گٸی ہو پری زیب۔۔وہ غصے سے بولا۔۔

اور ٹیشو پکڑ کر خون صاف کرنے لگا۔مگر خون تیزی سے نکل رہا تھا۔۔

پری زیب اسکا خون دیکھ کر لب کاٹ کر رہ گٸی۔۔

پھر زین نے گاڑی تیزی سے پلٹی اور پھر آندھی طوفان کیطرح گاڑی چلاتا وہ فیضان ہاٶس کے سامنے پہنچا۔۔

اور زور سے بریک لگاٸی کہ ٹاٸر چرچرا گٸے۔۔

جاٶ۔۔۔وہ سرد لہجے میں بولا۔۔

پری زیب تو اسکا خون دیکھ کر گم صم بیٹھی تھی۔مگر پھر جو کچھ اس نے اسکے ساتھ کیا وہ یاد کرکے اسکی انا اور خودداری اسے قریب نہیں جانے دے رہی تھی۔وہ تیزی سے نکلنے لگی۔۔تو زین نے اسے رکنے کو کہا۔

جب آنا ہو بتا دینا۔۔زین نے کہا۔۔

ضرورت نہیں ہے میں فیضی کیساتھ آ جاٶں گی۔وہ سرد لہجے میں کہہ کر باہر نکل گٸی۔۔

زین کو اپنے اندر کچھ ٹوٹتا محسوس ہوا۔۔

پری زیب آج میرے درد پہ تمہارے اس طرح کے رویے نے بتایا کہ تم مجھ سے کتنی نفرت کرتی ہو اب۔جو لڑکی میری زرا سی خراش پہ تڑپ جاتی تھی وہ میرے زخم پہ بھی مجھے تنہا چھوڑ کر پارٹی میں جا چکی ہے۔۔زین دل ہی دل میں اس سے مخاطب ہوا۔۔

پھر سر جھٹک کر وہ گاڑی موڑ کر واپس پلٹ گیا۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

زین یونیورسٹی کیلٸے تیار ہوکر اپنے ماتھے پہ بینڈیج کررہا تھا۔کہ پری زیب واشروم سے نکلی۔

پری یار پلیز ہیلپ کردو۔۔زین نے کہا۔۔

پری زیب نے اسکے ماتھے کیطرف دیکھاجہاں سٹیچز(ٹانکے) لگے تھے۔۔پری زیب کا دل ڈوبا۔۔

سوری میں پہلے ہی لیٹ ہو چکی ہوں۔تمہاری خدمت کرنے لگی تو مزید لیٹ ہو جاٶں گی۔۔وہ کہہ کر اپنے بال ڈراٸی کرنے لگی۔۔

زین کی آنکھوں میں درد سا اترا۔۔پھر وہ خود کو سنبھالتا ہوا اپنی مرہم پٹی کرنے لگا۔

پری زیب اطمینان سے تیار ہونےلگی۔مگر کن اکھیوں سے اسے ہی دیکھ رہی تھی۔

پھر زین مکمل تیار ہوکر باہر نکل گیا۔اور کچھ دیر بعد پری زیب بھی اسکےپیچھے آ گٸی۔

وہ ڈاٸننگ ٹیبل پہ آۓ تو ناٸلہ آفندی اور زبیر آفندی زین کے ماتھے پہ بینڈیج دیکھ کر چونکے۔

یہ“یہ کیا ہوا۔۔؟ ناٸلہ آفندی نے پریشان ہوکر پوچھا۔۔

ہاں بیٹے یہ چوٹ کیسے آٸی۔زبیر آفندی نے بھی جلدی سے پوچھا۔۔۔۔۔

کچھ نہیں ڈیڈ گاڑی زیادہ سپیڈ میں تھی۔سنبھالی نہیں گٸی۔وہ جلدی سے بولا۔۔

زین میری جان گاڑی دھیان سے چلایا کرو۔ناٸلہ آفندی نے کہا تو وہ اثبات میں سر ہلا کر رہ گیا۔۔

پھر وہ دونوں ناشتہ کرکے یونیورسٹی پہنچے تو فیضان سامنے ہی کھڑا تھا۔۔

پری زیب گاڑی سے نکلی تو وہ تیزی سے اسکی طرف بڑھا۔اور پھر دونوں تیزی سے اندر بڑھ گٸے۔۔زین نے زور سے لب بھینچ لٸے۔۔پھر سر جھٹک کر وہ گاڑی پارک کرنے لگا۔۔

پھر وہ اندر داخل ہوا۔تو سب اسے دیکھ کر ہی چہ مگوٸیاں کر رہے تھے۔۔وہ سب کو اگنور کرتا ہوا کلاس روم کیطرف بڑھ گیا۔۔

سب کلاسسز لینے کے بعد زین باہر آیا تو فیضان اور پری زیب ایک جگہ پہ اکھٹے ہی بیٹھے تھے۔

زین کی آنکھوں میں چبھن سی محسوس ہوٸی۔۔

ہاۓ زین کیا بات ہے۔اپنی بیوی کو ہی حسرت سے دیکھ رہے ہو۔ایک کلاس فیلو منیب نے استہزاٸیہ انداز میں کہا۔۔

لگتا ہےپری زیب میڈم کو امیر اور فیمس لوگ بہت پسند۔پہلے زین کو پھسایا اب فیضان پھسا رہی ہے۔۔نیلم نے طنزیہ انداز میں کہا۔۔

زین نے غصے سے مٹھیاں بھینچ لی۔

بکواس بند کرو اپنی نیلم۔وہ دھاڑا۔۔

پری زیب اور فیضان نے چونک کر دیکھا۔پھر وہ تیزی سے انکی طرف بڑھے۔۔

کیا ہوا۔۔؟ پری زیب نے پاس آکر پوچھا۔۔

میں نے منع کیاتھا نہ کہ فیضان سے مت ملو دیکھو لوگ تمہیں ڈسکس کر رہے ہیں۔زین نےاسکا بازو دبوچ کر کہا۔۔

پری زیب نے ناگواری سے اسے دیکھا۔۔

کیا کہہ رہے لوگ میرے بارے میں۔وہ تلخ لہجے میں بولی۔۔

نیلم نے اپنی بات دہراٸی توپری زیب کا ہاتھ اٹھا اور نیلم کے منہ پہ زوردار تھپڑ لگا

تمہاری ہمت۔۔۔۔

ہمت میری تم نے دیکھی نہیں۔پری زیب نے اسکی بات کاٹ کر کہا۔۔۔

میں جس کے ساتھ مرضی وقت گزاروں تم لوگ ہوتےکون ہو مجھ پہ نظر رکھنے والے۔اور رہی بات زین کی توزین اور میں بہت جلد الگ ہونے والے ہیں۔کیونکہ ہمیں لگتا ہے کہ ہم ایک دوسرے کیساتھ بالکل بھی نہیں جچتے۔۔

فیضان اور باقی سب اسکی بات پہ زور سے چونکے۔مگر زین بےیقینی سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔

تو شادی ہی کیوں کی تھی اگر الگ ہی ہونا تھا۔۔منیب نے طنزیہ انداز میں پوچھا۔۔

یہ میرا پرسنل میٹر ہے۔اپنے کام سے کام رکھا کرو اور اپنی نیلم اور دوسری طرف ثمن کو سنبھالو مسٹر منیب۔خود تم ایک وقت میں دو دو لڑکیوں کیساتھ ہو۔۔

اسکی بات پہ منیب کا رنگ فق ہو گیا اور نیلم غصے سے منیب کو گھور رہی تھی۔۔

پھر وہ ایک کاٹ دار نظر زین پہ ڈال کر واپس پلٹ گٸی۔۔

زین کا چہرہ اس قدر اہانت سے سرخ ہو گیا تھا۔۔وہ ایک جھٹکے سے مڑ کر تیزی سے واپس پلٹ گیا۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

فاریہ نے کیب ایک این جی او کے سامنے روکی۔اور اندر داخل ہو گٸ۔۔وہ کچھ ڈونیشن دینے کیلٸے آٸی تھی۔محمود صابری صاحب کی برسی تھی تو وہ ہمیشہ پورا سال اپنی تنخواہ میں سے الگ پیسے نکالتی تھی اور پھر کسی یتیم خانے یا این جی او میں ڈونیشن دیتی تھی۔۔

مجھے یہ چیک دینا تھا۔۔ وہ رسیپشن پہ موجود لڑکی سے جاکر بولی۔۔

جی آپ میم کو ہی جمع کرواٸیں اور وہ اس وقت میٹنگ میں ہیں۔تو آپ اس روم میں انتظار کر لیں۔وہ لڑکی نے مسکرا کر کہا۔۔

فاریہ سر ہلا کر روم کیطرف بڑھی۔وہ اس کمرے کا جاٸزہ لے ہی رہی تھی کہ اسے مسز آفندی کی آواز سناٸی دی۔وہ سخت غصے میں لگ رہی تھی۔۔

شرم آنی چاہیے۔محبت ہی کی تھی آپ کے بیٹے نے۔اور آپ اس لڑکی کے گھر والوں کے دشمن ہی بن گٸے۔ایسا کیسی کر سکتی مسز جواد آپ۔۔؟ ہم لوگوں کی این جی او ہمارے پیار ،محبت کیوجہ سے یہاں ہیں۔اب آپکی اس قدر گھٹیا حرکت سے میری این جی او بدنام ہو رہی ہے۔تو آج اور ابھی سے آپ اس این جی او کا حصہ نہیں رہی۔ناٸلہ آفندی نے ناگواری نے کہا۔

مگر۔۔۔۔

اگر مگر کچھ نہیں آپ جا سکتی ہیں۔وہ سرد اندازمیں بولی۔۔

تو مسز جواد تھکے تھکے قدموں سے واپس مڑ گٸی۔۔

فاریہ استہزاٸیہ انداز میں مسکراٸی۔۔

کیا ہوا میم۔۔؟پاس بیٹھی لڑکی نے پوچھا۔۔

کچھ نہیں آپ کی میم کافی نرم دل لگتی ہیں۔لگتا انہیں سچاٸی سے بہت پیار ہے۔وہ طنزیہ انداز میں بولی۔۔

بالکل ٹھیک کہا آپ نے۔۔ہماری میم کیوجہ سے یہ این جی او ہے۔اور میم کبھی کسی پہ ظلم برداشت نہیں کرتی۔وہ لڑکی فخریہ انداز میں بولی۔۔

فاریہ نے ناگواری سے سر جھٹکا۔۔

چلیں میم۔اب آپ میم سے مل لیں۔۔وہ لڑکی بولی۔اور پھر وہ درمیان کا دروازہ کھول کر اندر لے آٸی۔۔

فاریہ نے سلام کیا تو ناٸلہ آفندی نے چونک کر دیکھا۔۔

تم یہاں کیسے؟۔۔انکے منہ سے نکلا۔۔

کچھ نہیں بس بابا کی برسی پہ ڈونیشن دینے آٸی ہوں۔۔

ناٸلہ آفندی نے اثبات میں سر ہلا کر اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا۔۔

گل جاٶ۔۔کچھ کھانے پینے کا انتظام کرو۔۔وہ لڑکی سرہلا کر باہر نکل گٸی۔۔

فاریہ نے طنزیہ انداز میں دیکھا۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *