Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mein Kese Kahun (Episode 33)

Mein Kese Kahun by Umme Emman Fatima

زین کو بوجھل قدموں کیساتھ اندر داخل ہوتا دیکھ کر ناٸلہ آفندی اور فاریہ چونگ گٸیں۔۔۔

زین کیا ہوا بیٹے؟ ناٸلہ آفندی کے سوال پہ وہ زخمی نگاہوں سے انہیں دیکھنے لگا۔۔

کک۔کیا ہوا؟ وہ تڑپ ہی اٹھی۔۔

سب ختم ہو گیا مام۔۔اسکی آواز گہری کھاٸی سے آتی محسوس ہوٸی۔۔

کیا بول رہے مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہی۔۔

مام پری کے بابا نے مجھ میں اور خود میں سے کسی ایک کو چننے کا آپشن دیا تھا پری زیب کو۔تو ایک بیٹی کا فرض نبھا گٸی مگر اس فرض میں وہ میرے پیار کا قتل کر گٸی۔۔وہ زمین پہ بیٹھتے ہوۓ بولا۔۔پھر وہ اونچا لمبا مرد ایسا پھوٹ پھوٹ کر رویا اور باقی سب کو بھی رولایا۔۔

مام میں مر جاٶں گا اسکے بغیر“مجھے لگ رہا ہے کہ میرے جسم سے میرے دل کو کھینچ کر نکالا جا رہا ہے۔۔وہ ناٸلہ آفندی کے گلے لگ کر بولا۔۔

ایم سوری میری جان۔وہ گلوگیر لہجے میں بولی۔۔

پھر بمشکل فاریہ اور ناٸلہ آفندی نے اسے کمرے میں بھیجا۔۔۔۔

بس اب بہت ہو گیا،اب میں خود پروفیسر صاحب کے پاس جاٶں گی“ناٸلہ آفندی نے غصے سے کہا۔اور پھر اٹھ کر وہ باہر کیطرف لپکی۔۔

کچھ دیر میں وہ پروفیسر صاحب کے گھر کے سامنے تھی۔انہوں نے گاڑی سے نکل کر دروازہ کھٹکھایا تو کچھ دیر بعد احمر نے دروازہ کھولا۔۔۔

احمر انہیں دیکھ کر چونکا۔۔

وہ بنا کچھ بولے اسے پیچھے ہٹاتی اندر داخل ہوٸیں۔۔

پروفیسر صاحب کدھر ہیں آپ؟ ناٸلہ آفندی نے لاٶنج میں آکر پکارا۔۔کچھ دیر بعد سب لوگ لاٶنج میں تھے۔

کیا کرنے آٸی ہیں آپ یہاں۔؟احمد نےناگواری سے کہا۔

اپنے بدتمیز بیٹے سے کہیے کہ میرے منہ نہ لگے۔

آپ ہوتی کون ہے ہمارے گھر آکر ہم پہ رعب ڈالنے والی۔۔احمد تپا۔۔

میں وہ ہوں جسکے گھر آکر تم نے میرے سامنے میرے بیٹے کو بےعزت کیا اور میری بہو کو گھسیٹتے ہوۓ وہاں سے لے آٸے،مگر میں چپ رہی۔

اگر میں چاہتی تو تم سب آج سڑک پر ہوتے“میں چپ ہوں تو اسے میری کمزوری مت سمجھیں،کیونکہ میں چپ ہوں تو مطلب یہ ہے کہ آپ کی بہت عزت کرتی ہوں،میں اگر چاہوں تو تم سب کو اس گھر سے ہی نہیں اس شہر اور اس ملک سے بھی باہر نکالنے کی استطاعت رکھتی ہوں۔

میں اگر چاہوں تو پروفیسر صاحب آپ کے بیٹوں کو رشوت خور ثابت کرکے جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈلوا سکتی ہوں،میں وہ ہوں جو آپ پہ ہراس منٹ کا کیس ڈلوا کر اس بڑھاپے میں بےعزت کروا سکتی ہوں۔۔میں وہ ہوں جو ایک دن میں کڑوروں کماتی ہوں اور اسی کماۓ ہوۓ میں سے چند لاکھ خرچ کرکے آپ کی فیملی کو روڈ پہ لاسکتی ہوں۔ناٸلہ آفندی بولتی چلی گٸی۔۔

وہ سب دم سادھے سن رہے تھے۔

مگر میں یہ نہیں کر سکتی کیونکہ میں کبھی برا نہیں کرتی اپنوں کیساتھ مگر پروفیسر صاحب آپ کو صرف یہ سمجھانا چاہتی ہوں کہ آپ کے بیٹے کی بدتمیزی پہ بھی میں نٕے کچھ نہیں کیا تو صرف اس لٸے کیونکہ آپ پری زیب کے پیارے ہیں اور پری زیب میرے بیٹے کی جان ہے۔میں آپ کو دکھ دیکر پری زیب کا مان نہیں توڑنا چاہتی مگر پلیز آپ سے ریکویسٹ کرنے آٸی ہوں کہ رشتوں کو مت بکھیرے کیونکہ اگر یہ رشتے ٹوٹے تو زندگی کی ڈور ٹوٹے گی۔نہ مجھ میں استطاعت اس عمر میں اپنے بیٹے کی موت سہنے کی اور نہ آپ میں اپنی بیٹی کو چار کندھوں پہ دیکھنے کی ہمت ہے۔۔یہ ہاتھ جوڑ کر آپ سے التجا کر سکتی ہوں کہ پلیز مت دل تنگ کریں اپنے بچوں کے۔اگر آپ کہیں گے تو زین کی ساری جاٸیداد میں پری زیب کے نام سکیورٹی کے طور پہ کرنے کیلٸے تیار ہوں۔۔۔

ناٸلہ آفندی کے عاجزانہ رویے پہ پروفیسر صاحب اور احمد کے سر جھک گٸے تھے۔۔

میں اپنی بہو کو لے جاٶں۔۔ناٸلہ آفندی نے امید بھرے لہجے میں پوچھا۔۔

نہیں۔۔پروفیسر صاحب کے جواب پہ ناٸلہ آفندی کی امید ہی ٹوٹ گٸی۔

کدھر جا رہی ہیں آپ بہن ۔وہ ہاری ہوٸی جواری کیطرح واپس مڑی تو پیچھے سے پروفیسر صاحب کی آواز سناٸی دی۔

وہ چونک کر انہیں دیکھنے لگی۔

ہم نے صرف اسی وقت لیکر جانے کیلٸے منع کیا ہے مگر آپ دھوم دھام سے اپنے بیٹے کو پھر سے دولہا بنا کر لیکر آٸیں گی تو تجدید نکاح کیساتھ محبت کے سایے میں بیٹی کو آپ کے ساتھ رخصت کرونگا۔۔پروفیسر صاحب کی بات پہ سب کے چہرے کھل اٹھے۔۔

یہ فیصلہ میں نے بہت سوچ کر لیا ہے۔جب زین پہلے لینے آیا تھا میری بیٹی کو تو ایک دھوکے بھرے ارادے سے آیا تھا اس بار محبت کے ارادے سے آۓ گا تو نکاح میں برکت بھی ہوگی۔۔پروفیسر صاحب نے کہا تو ناٸلہ آفندی خوشی سے رودی۔۔

اور فاریہ احمر کا رشتہ۔۔؟ ناٸلہ آفندی نے پوچھا۔۔

احمر تم جاکر ہماری بیٹی کو ڈھونڈ کر لاٶ۔۔پروفیسر صاحب نے کہا۔۔

بابا جانی،میں نہیں جانتا کدھر ہیں وہ۔۔؟احمر نے سر جھکا کر کہا۔۔

ساٸرہ نے ساری بات بتاٸی

کیا مطلب آپ کا“آپکو اسے گھر سے کچھ عرصے کیلٸے دور کرنے کو کہا تھا تو آپ نے انہیں ایسے کیسے جانے دیا۔ناجانے کہاں بھٹک رہی ہونگی۔۔پروفیسر صاحب نے پریشان کن لہجے میں کہا۔۔

فکر مت کریں پروفیسر صاحب،فاریہ میرے گھر میری بیٹی کے طور پہ رہ رہی ہے۔ناٸلہ آفندی نے مسکرا کر کہا اور پھر سارا ماجرا سنایا تو وہ سب متوحش ہو گٸے تھے اور احمد تو شرمندہ ہو گیا تھا یہ جان کر کہ زین کی بات سنے بغیر کیا کیا بول دیا تھا۔۔

وہ ٹھیک تو ہے نہ۔۔احمر نے بےچین ہوکر پوچھا۔

جی بالکل ٹھیک ہے“اور میں شام کے کھانے کی دعوت دیتی ہوں آپکو،آج رات ڈنر ہمارے ہاں کیجٸے اور اپنے بیٹے کا رشتہ میری بیٹی فاریہ کیلٸے رسمی طور پہ لیکر آٸیں تاکہ فاریہ بھی اپنی خوشیاں دیکھ سکے۔۔ناٸلہ آفندی نے مسکرا کر کہا۔۔

تو سب انکی بات پہ متفق ہو گٸے۔۔

ناٸلہ آفندی آج پھر سے محبت جیت گٸی تھی اپنے بچوں کیلٸے۔وہ ہمیشہ سے فاتح دل تھی۔لوگوں کے دلوں پہ راج کرتی تھیں۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

فاریہ بیٹے یہ ڈریس پہن لیں،ناٸلہ آفندی نے ایک باکس فاریہ کیطرف بڑھاتے ہوۓ کہا۔۔

خیریت آنٹی۔۔۔۔؟

جی بچے،بس شام میں کچھ سپیشل گیسٹ آ رہے ہیں۔ناٸلہ آفندی نے کہا۔۔

فاریہ نے مزید کریدے بنا باکس تھام لیا۔شام میں وہ ڈریس چینج کرکے نیچے اتری تو ناٸلہ آفندی کچن میں شیف کیساتھ کوکنگ کر رہی تھی۔

انہوں نے بلیک کلر کے ڈریس میں دمکتی فاریہ کو ستاٸشی نظروں سے دیکھا۔۔

آپ بھی کپڑے چینج کرلیں آنٹی۔۔

ہاں بس جا رہی ہوں کپڑے چینج کرنے ہی“ناٸلہ آفندی نے جواب دیا۔۔

فاریہ سر ہلا کر شیلف کے پاس آکر سلاد بنانے لگی۔

کچھ دیر بعد ناٸلہ آفندی باہر نکل گٸی فاریہ پہ کام چھوڑ کر“

کچھ دیر بعد وہ مسکراتی ہوٸی اندر داخل ہوٸی۔۔

فاریہ بچے آ جاٶ۔مہمان آ گٸے ہیں۔

فاریہ سر ہلا کر انکے ساتھ ہولی۔

جب وہ دونوں لاٶنج میں پہنچے تو پروفیسر صاحب، احمد اور ساٸرہ بیٹھے تھے۔اسکا رنگ انہیں دیکھ کر فق ہوگیا۔۔

فری بیٹے۔۔وہ مڑنے لگی تھی کہ پیچھےسے پروفیسر صاحب نے پکار لیا۔۔

وہ لب کاٹتی ہوٸی مڑی تو پروفیسر صاحب چلتےہوۓ اسکےپاس آۓ“اور اسکے سامنے ہاتھ جوڑ دٸیے۔اس نے تڑپ کر انکے ہاتھ تھام لٸے۔۔

بابا جانی پلیز مجھے گناہگار مت کریں“وہ نم لہجے سے بولی۔۔۔

ایم سوری بیٹے میں نے بہت زیادتی کی آپ کے ساتھ۔۔۔

وہ انکے سینے کیساتھ لگ کر رودی۔۔

پھر ساٸرہ نے آگے بڑھ کر اسے گلے لگایا۔اور احمد نے سر پہ ہاتھ رکھا۔۔

پھر وہ ساٸرہ کیساتھ آکر بیٹھ گٸی۔

ناٸلہ آفندی نے ملازمہ کے ہاتھ زین کو نیچے آنے کا پیغام بھیجا۔۔

کچھ دیر بعد اوپر سے زین نیچے اتر رہا تھا تو اسی پل پری زیب اور احمر اندر داخل ہوۓ۔

زین نے پری زیب کو دیکھا اور پھر تیزی سے سیڑھیاں پھلانگتا وہ اسکے سامنے پہنچ چکا تھا کچھ پل وہ بےیقینی سے اسے دیکھے گیا پھرہولے سے اس نے اسے چھو کر محسوس کرنا چاہا۔۔

تت۔تم سچ میں ہو پری زیب؟ وہ سرسراتے لہجے میں بولا۔۔

پری زیب نے اسکے بازو پہ زور سے چٹکی کاٹی۔۔

آٶچ۔۔وہ ہڑبڑا گیا پھر دوسرے پل وہ پری زیب کو سب کے سامنے گلے لگا چکا تھا۔۔

اہممممم۔اہممممم۔برخوردار ادھر ہم سب موجود ہیں اور آپ جب تک دوبارہ سے بارات لیکر ہمارے دروازے پہ نہیں آتے تب تک پری زیب اور آپ کا پردہ ہے۔پروفیسر صاحب کی بات پہ زین کی آنکھیں پھیل گٸی۔۔

ہاہاہاہا،ویری ناٸس جوک۔وہ مسکرا کر بولا۔۔

نہیں بیٹا جی یہ جوک نہیں ہے،ناٸلہ آفندی نے مسکرا کر کہا۔۔

نہ کریں یار““وہ جھلایا۔۔

سب اسکی جھلاہٹ پہ ہنس دٸیے۔۔

پری زیب اور احمر آپ لوگ آکر بیٹھیں۔ناٸلہ آفندی نے کہا۔تو وہ دونوں فاریہ کے سامنے صوفے پہ بیٹھ گٸے۔۔

احمر نے سر جھکا کر بیٹھی اپنے دل کی رانی کو دیکھا۔۔

خیر کھانا پانی تو چلے گا پہلے میرے خیال میں اصل بات کر لی جاۓ۔

فاریہ ،احمر کی شادی زین اور پری زیب کے تجدید نکاح سے پہلے ہوگی۔اور پھر فاریہ ،احمر کے ولیمے پہ زین کی بارات آپ کے گھر جاۓ گی۔۔ناٸلہ آفندی نے کہا۔۔

جیسا آپ مناسب سمجھیں““پروفیسر صاحب نے کہا۔۔اور پھر سب لوگ کھانے کی ٹیبل پہ ڈنر کیلٸے چل دٸیے۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

احمر کی بےچین نگاہیں فاریہ کو ہی تلاش رہی تھیں۔۔

آریو اوکے“ناٸلہ آفندی نے پوچھا۔۔

آنٹی جی میں فاریہ سے مل لوں،وہ مضطرب لہجےمیں پوچھنے لگا۔۔

شیور بیٹے“وہ کچن میں ہیں فریدہ بی بی آپ احمر صاحب کو کچن تک چھوڑ آٸیں۔۔ناٸلہ آفندی نے کہا۔۔

احمر کچن میں آیا تو فاریہ گم صم سی چولہے کے سامنے کھڑی تھی۔۔

فری۔۔۔۔۔۔

احمر کے پکارنے پہ وہ چونک کر مڑی تو اسکی آنکھوں میں آنسو تیر رہے تھے۔۔

احمر تڑپ کر آگے بڑھا اور اسکے ہاتھ تھام لٸے۔۔

ایم سوری فری“

آپ کے سوری بولنے سے میرے دل کے گھاٶ بھر جاٸیں گے“جب گاڑی سے تصادم ہوا میرا تو میں نے صرف آپ کو پکارا تھا،مگر آپ نہیں آۓ تو زندہ بچ جانے پہ افسوس ہو رہا تھا،دل نے شدت سے چاہا کہ اچھا ہوتا اگر میں مر جاتی۔۔۔

شششششش۔احمر نے تڑپ کر اسکے لبوں پہ ہاتھ رکھا۔۔

خبردار جو مرنے کی بات کی“تمہیں نہیں پتا پچھلے کتنے دنوں سے نہیں سویا میں، سجدوں میں صرف تمہیں مانگا ہے اپنے رب سے،اگر تمہیں کچھ ہو جاتا تو میں تو خود کو ختم کر لیتا،احمر نے اسکا چہرہ ہاتھوں میں تھام کر ماتھے سے ماتھا مس کر کے جذب سے کہا۔

فاریہ سسکتی ہوٸی اسکے سینے کیساتھ لگ گٸی۔۔

ایم سوری احمر،اتنے برس آپکو ستایا میں نے مگر خدا کو گواہ بنا کر کہتی ہوں کہ میں نے صرف آپ سے عشق کیا ہے دیوانگی کی حد تک۔وہ سر اٹھا کر بولی۔۔۔

وہ آخر کار ہار کر اقرار کر ہی گٸی۔۔

احمر نے سرشار ہوکر اسے سینے سے بھینچ لیا۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سب لاٶنج میں بیٹھے کافی انجواۓ کر رہے تھے۔

یہ سب کیا ہو رہا ہے بھٸی؟ پیچھے سے زبیر آفندی کی آواز گونجی۔۔

سب نے مڑ کر انہیں دیکھا“زین اٹھ کر تیزی سے انکی طرف لپکا اور انکے گلے لگ گیا۔۔

آپ کے بیٹے کے تجدید نکاح کی ڈیٹ فکس ہوٸی ہے۔۔ناٸلہ آفندی نے مسکرا کر کہا۔۔

یہ بالکل ٹھیک بات نہیں ہے بیگم صاحبہ“ہمارے بغیر ہی سلیبریشن جاری ہے“زبیر آفندی نے مسکرا کر کہا۔۔

پھر اچانک انکی نظر سامنے کھڑی فاریہ پہ پڑی تو انکی مسکراہٹ سمٹ گٸی۔۔

پروفیسر صاحب اچھا ہوتا اگر آپ فاریہ کو ان خوشیوں میں شامل نہ کرتے“کیونکہ اس منحوس لڑکی کا سایہ جب جب زین اور پری زیب کی زندگی میں پڑتا ہے تب تب انکی خوشیوں کو نظر لگ جاتی ہے“زبیر آفندی نے ناگواری سے کہا تو ان کی بات پہ سب سن ہو گٸے۔۔

زبیر اکچوٸلی فاریہ دو دن سے یہیں پہ رہ رہی ہے اور وہ اب یہیں پہ رہے گی “اور آپ تو جانتے ہی ہیں کہ غلطی میری ہی تھی ہمیشہ سے“ناٸلہ آفندی نے کہا۔۔۔

مسز دماغ خراب ہو گیا ہے آپ کا“کیا سوچ کراس لڑکی کو یہاں پہ لاٸیں ہیں“کیونکہ یہ لڑکی چاہے غلط نہ بھی ہو مگر مجھے پھر بھی پسند نہیں کیونکہ اسکی وجہ سے میرے بیٹے نے اپنی جان لینے کی کوشش کی تھی“اور اچھا ہوگا کہ یہ اور زین کا آمنا سامنا نہ ہی ہوتا رہے“زبیر آفندی نے حتمی انداز میں کہا۔۔

ناٸلہ آفندی نے ایک نظر فاریہ پہ ڈالی جو کہ اپنے آنسو ضبط کر رہی تھی“انکا دل رک سا گیا۔انہوں نے کرب سے آنکھیں بند کرلی۔۔

ناٸلہ آفندی اگر آج بھی تو چپ رہی تو لعنت ہے تیری ممتا پہ،انکے ضمیر نے ملامت کی۔۔

پھر وہ آنکھیں کھولتی ہوٸی زبیر آفندی کے سامنے کھڑی ہو گٸی۔۔

یہ کہیں نہیں جاۓ گی“کیونکہ بیٹی ہے یہ میری تو اسے اپنے ہاتھوں سے رخصت کرونگی۔۔ناٸلہ آفندی نے زبیر آفندی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے ہوۓ کہا۔۔۔

دماغ خراب ہو گیا ہے تمہارا،ایک غیر لڑکی کیلٸے اپنے شوہر سے بحث کر رہی ہو“زبیر آفندی تپ کر بولے۔۔

آپ نے شاید سنا نہیں میں نے کہا میری بیٹی ہے۔مگر پھر سے دوہرا دیتی ہوں کہ یہ میری بیٹی ہے۔ناٸلہ آفندی نے سرخ آنکھوں کو مسلتے ہوۓ کہا۔۔

آپ کے کہنے سے کیا یہ آپکی بیٹی بن جاۓ گی ناٸلہ،وہ استھزاٸیہ انداز میں مسکراۓ۔

میرے کہنے سے پہلے کی وہ میری بیٹی ہے اور صرف میری ہی نہیں آپ کی بھی بیٹی ہے زبیر آفندی،“۔۔وہ زخمی لہجے سے بولے۔

انکے لہجے میں کچھ تھا جس نے سب کو چونکا دیا تھا۔۔

دماغ خراب ہو گیا ہے تمہارا۔۔۔ہوش میں آٶ ناٸلہ“وہ غصے سے بولے۔۔

نہیں میرا دماغ بالکل ٹھیک ہے اور میں پورے ہوش و حواس میں بول رہی ہوں فاریہ میری اور آپکی بیٹی ہے“زین میرا بیٹا نہیں ہے مگر ہاں آپ کا بیٹا ضرور ہے“انہوں نے سب کے سروں پہ بم پھوڑا۔۔۔

ناٸلہ کیا بکواس کٸے جا رہی ہو،؟ زبیر آفندی دھاڑے۔۔

آپ کی یادداشت بہت کمزور ہے زبیر مگر میرے دماغ میں اب بھی وہ فضیلہ کے کوریڈور میں آپکی اور ثمن صابری۔نہیں بلکہ ثمن آفندی کی گفتگو یاد ہے،مجھے اسکی بددعا کی گونج یاد ہے زبیر،میں نے اس بددعا کی گونج سے اپنا سکون کھو دیا تھا“یہ زین اسی بےبس اور بدنصیب ثمن آفندی کا بیٹا ہے“اس نے بددعا دی تھی کہ آپ کبھی اپنی اولاد کو گود میں نہ اٹھا پاٸیں“مگر وہ بددعا مجھے لگ گٸی،پھر وہ بولتی چلی گٸی۔۔۔

پورے لاٶنج میں سناٹا چھا گیا تھا اور وہ سب ایک دوسرے کی سانسوں کی آواز بھی سن پا رہے تھے۔۔زبیر آفندی دھواں دھواں چہرے کیساتھ کھڑے تھے۔اور فاریہ بےیقینی سے دیکھ رہی تھی۔۔مگر ایک شخص ایسا تھا جس کو لگا تھا کہ اسکا وجود کٸی ٹکڑوں میں بٹ گیا تھا۔اور وہ زین تھا،اسے لگ رہاتھا کہ وہ تہی دامن رہ گیا ہے۔۔

پھر وہ اپنے بوجھل قدموں کو گھسیٹتا ہوا ناٸلہ آفندی کیطرف آیا۔۔

ما۔مام۔آپ“آپ مزاق کر رہی ہے نہ میں آپ کا ہی بیٹا ہو ناں؟ اس نے ناٸلہ آفندی کے قدموں میں بیٹھتے ہوۓ پوچھا۔۔

ہاں تم بھی میرے ہی بیٹے ہو،جنم نہیں دیا تو کیا ہوا اپنا دودھ پلا کر بڑا کیا ہے“جان ہو تم میری۔وہ اسکا چہرہ ہاتھوں میں تھام کر بولی۔۔

وہ نفی میں سر ہلاتا ہوا اٹھا اورپھر دوڑتا ہوا وہ سیڑھیاں پھلانگتا چلا گیا۔۔

پری زیب گم صم سی کھڑی دیکھتی رہ گٸی۔۔

پری زیب بیٹے آپ زین کے پاس جاٶ انہیں آپ کی ضرورت ہے۔ناٸلہ آفندی نے کہا۔۔

پری زیب جلدی سے سیڑھیوں کیطرف بڑھ گٸی۔۔

اور ناٸلہ آفندی فاریہ کیطرف آٸی جو زمین پہ بیٹھی رو رہی تھی۔

فاریہ میری جان۔۔انہوں نے اسے سینے سے لگا لیا۔۔

کیوں۔۔؟ میں نے ہمیشہ دعا کی تھی کہ کاش میری ماں زندہ ہوتی مگر آپ نے تو زندہ ہوتے ہوۓ بھی خود کو مار دیا میری نظروں میں۔وہ تڑپ کر بولی۔۔

ایم سوری بچے، مجھے بددعا سے بہت ڈر لگتا تھا میں نے سوچا تھا کہ ثمن سے ہاتھ جوڑ کر تمہیں مانگ لونگی۔مگر وہ جب فوت ہو گٸی تو زین بہت لاغر تھا اسے ماں کی ضرورت تھی تو مجھے اپنی بیٹی کو خود سے دور کرنا پڑا“مگر خدا گواہ ہے میری دعاٶں میں تم ہمیشہ رہی ہو،جب تمہیں دیکھا تو دل کیا سینے سے لگا لوں مگر زین بہت معصوم اور ڈرپوک تھا تو اسے ٹوٹتا نہیں دیکھ سکتی تھی۔اس لٸے تمہیں توڑ دیا کیونکہ جانتی تھی میں کہ تم ناٸلہ آفندی کی بہادر بیٹی ہو۔وہ اسکا چہرہ ہاتھوں میں بھر کر بولتی چلی گٸی۔

میں کبھی آپ کو اپنی مام نہیں کہوں گی اور نہ آپ کے شوہر کو ڈیڈ“کیونکہ میرے بابا وہی ہیں جو ساٸرہ آپی کے بابا ہیں اور میری ماں ثمن ہی ہے۔فاریہ نے غصے سے کہا۔۔

پھر وہ احمر کا بازو تھام کر کھڑی ہو گٸی۔

پلیز احمر مجھے یہاں سے لے جاٶ۔وہ التجاٸیہ انداز میں بولی۔

نہیں فاریہ میری جان مجھ سے دور مت جاٶ پلیز۔وہ تڑپ اٹھی۔۔

فاریہ نے اپنا رخ پھیر لیا۔۔

ہم اجازت چاہتے ہیں اب زبیر صاحب۔پری زیب کو فی الحال یہی چھوڑ کر جا رہے ہیں۔پروفیسر صاحب نے سر جھکاۓ زبیر آفندی سے کہا۔۔

اور پھر وہ سب لوگ وہاں سے نکل آۓ۔

لاٶنج میں اکیلے ناٸلہ آفندی اور زبیر آفندی رہ گٸے تھے۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پری زیب کمرے میں آٸی تو زین نے کمرے کی ہر چیز تہس نہس کردی تھی۔اور خود بیڈ کیساتھ زمین پہ بیٹھا تھا۔۔

پری زیب اسکے پاس آکر بیٹھ گٸی۔۔

زین۔۔اس نے پکارا تو زین نے سر اٹھا کر دیکھا اسکی لال انگارا آنکھیں دیکھ کر وہ تڑپ ہی اٹھی۔۔

زین پلیز خود کو اذیت مت دو۔۔

کیا کروں میں پری زیب؟ تم ہی بتا دو مجھے۔۔۔میرا دل پھٹ جاۓ گا“ وہ کرب سے بولا۔۔

ششششش،ایسا مت بولو پلیز۔۔وہ اسکے ہونٹوں پہ ہاتھ رکھتے ہوۓ بولی۔۔

میرا دل گھاٸل ہو گیا ہے یہ سن کر ہی کہ میری مام میری جنم دینے والی مام نہیں ہے۔۔وہ اسکی گود میں چہرہ چھپا کر کرب سے بولا۔۔

زین بےبی،میرا شونا“انہوں نے جنم نہیں دیا تو کیا ہوا انہوں نے کتنی محبت سے پالا ہے تمہیں“وہ تم سے بہت محبت کرتی ہیں شاید فری آپی سے بھی زیادہ۔“دیکھو جب وہ رشتہ لیکر گٸی تو وہ امتحان میں فاریہ کو ڈال کر آٸیں کہ تمہیں اذیت نہ ہو، پلیز وہ ایک درد کے ساتھ پوری زندگی جی ہیں اگر آج تم انہیں درد سے نہیں نکالو گے تو انکے احسانات کو جھٹلاٶ گے،انہیں اس وقت تمہاری سپورٹ کی ضرورت ہے۔پری زیب نے محبت سے اسے سمجھایا۔۔

زین آنسو صاف کرتا ہوا سیدھا ہوا۔اور اس نے پری زیب کو گلے لگا کر اسکا ماتھا چوما۔۔

تھینک یو میری لاٸف میں آنے کیلٸے۔۔زین نے مسکرا کر کہا۔۔

چلیں مام کے پاس۔پری زیب نے پوچھا۔۔

زین نے اثبات میں سر ہلا دیا۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ثانیہ کی آج ڈیل تھی تو وہ بلیو مون کلب میں ماسک میک اپ میں آٸی تھی اور ہمیشہ کیطرح اسکارف سے چہرہ چھپا تھا۔وہ چلتی ہوٸی ایک صوفے پہ بیٹھ گٸی۔۔

کچھ دیر بعد ایک لمبے بالوں والا لڑکا آیا اور اس نے پاس آکر سلام کیا اور ڈیل کے متعلق بتانے لگا پھر اچانک اس نے کسی کو آنکھوں سے اشارہ کیا جو کہ ثانیہ کی نظروں سے مخفی نہ رہا اس نے عینک میں ایک کسرتی بدن کے لڑکے کو اپنی طرف آتے دیکھا۔۔وہ پھرتی سے اٹھی اور اس نے تیزی سے کرسی اٹھا کر اس لڑکے پہ اچھال دی۔اور پھر پھرتی سے بھاگتی ہوٸی باہر کو لپکی اور پیچھے سے گولی چلنے کی آواز آٸی اور گولی اسکے کندھے کو چھو کر گزرتے ہوۓ چلی گٸی۔اسکی سسکاری نکلی۔پھر بھی وہ رکی نہیں بلکہ ایک گاڑی میں آکر بیٹھکر اس میں بیٹھے آدمی کی گردن پہ پسثل کی نال لگاٸی۔۔

خبردار۔۔گاڑی چپ چاپ چلاٶ۔۔وہ غرا کر بولی۔

وہ آدمی مڑا تو وہ صفدر تھا۔وہ زور سے چونکی پھر اسے یاد آیا کہ وہ تو ماسک میک اپ میں ہے اور صفدر نے اسے نہیں پہچانا ہوگا۔تو اس نے خود کو سنبھالا اور گاڑی چلانے کو کہا۔۔

صفدر فل سپیڈ میں گاڑی چلاتا ہوا اسے نجانے کہاں کہاں سے لیکر آتا ہوا اسکے اپارٹمنٹ کے سامنے آکر رک گیا۔۔۔

ثانیہ تمہارا گھر آ گیا ہے۔۔صفدر کی بات پہ ثانیہ کی آنکھیں پھیل گٸی۔۔مگر پھر اس نے اپنا ماسک کھینچ کر اتار دیا۔پھر صفدر اسے تھام کر اسے دروازے تک لایا۔ثانیہ نے کیزنکال کر دروازہ کھولا۔

اور پھر وہ دونوں اندر داخل ہوۓ۔۔

صفدر نے اسکی مرہم پٹی کی اور سنجیدگی سے اسے دیکھنے لگا۔۔

تیرے کو کیسے پتا لگا کہ میں ثانیہ ہوں۔۔اس نے جھجھکتے ہوۓ پوچھا۔۔

یہاں“یہاں بستی ہے تو میرے،جب تو آس پاس ہوتی ہے نہ تو دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی ہے۔صفدر نے سینے پہ ہاتھ رکھتے ہوۓ کہا۔

کوٸی فلم نہیں چل رہی۔۔ثانیہ ناگواری سے بولی۔

جب تو جانتی ہے کہ حقیقی زندگی ہے فلم نہیں تو پھر تو کیوں یہ چور پولیس کاکھیل کھیل رہی ہے۔اور ہاں تجھے تیری ان کاٹ دار آنکھوں سے پہچانا تھا“صفدر نے کہا۔۔

وہ گہرا سانس لیکر ٹیک لگا کر بیٹھ گٸی۔۔

اب تو بتا کون ہے تو۔۔؟

کیوں بتاٶں تیرے کو“تو میرا لگتا کیا ہے۔۔؟باقی اگر تو پولیس کو بتاناچاہتا تو میرے کو گھنٹہ فرق نہیں پڑتا“وہ اطمینان سے بولی۔

صفدر نے گہرا سانس بھرا۔۔۔

جان ہو تم میری ثانیہ“تو تجھے درد دے ہی نہیں سکتا“تو غلط بھی ہوگی تو بھی تجھ سے پیار کرتا رہونگا“صفدر نے اسکے پاس ہوتے ہوۓ کہا۔۔

تو“تو میرے سے دور رہا کر“ثانیہ نے جھلا کر کہا۔صفدر اسکے چہرے پہ پھیلی سرخی سے محظوظ ہوا۔۔

کچھ کھانا ہے تو پکا دوں۔۔

نہیں تم جاٶ اب“ہانیہ آتی ہی ہوگی وہ بنا دے گی۔اس نے جلدی سے کہا۔۔

صفدر سر ہلا کر باہر نکل گیا۔۔

کچھ دیر بعد بیل بجی تو ثانیہ تیزی سے دروازے پہ آٸی اور ہول سے باہر دیکھا تو کلب والے لڑکے کو دیکھ کر چونکی۔پھر وہ تیزی سے مڑی اور فرسٹ ایڈ باکس اور ڈریس چھپا کر جھاڑ پونجھ کر کے اس نے پانی کے چھینٹے گردن اور پیچھے کمر پہ ڈالے اور سر پہ ڈوپٹہ باندھ کر وہ جھاڑو پکڑ کر دروازے کیطرف چل دی۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہانیہ نے گاڑی اپنے اپارٹمنٹ کے سامنے روکی اور سیڑھیاں چڑھتی اوپر آٸی تو دروازے کے پاس کھڑے وقاص کو دیکھ کر چونکی۔۔

آپ۔۔۔؟ ہانیہ نے پاس آکر کہا۔۔

وقاص نے چونک کر دیکھا۔۔

تم یہاں۔۔؟ وقاص نے حیرت سے پوچھا۔۔

یہ سوال میرا ہے“کیونکہ یہ گھر میرا ہے۔ہانیہ نے تنک کر کہا۔۔

مگر یہ تو ثانیہ جی کا گھر نہیں ہے؟ وقاص نے پوچھا۔۔

ہانیہ اسکی بات پہ چونکی۔۔

آپ میری آپی کو کیسے جانتے ہیں؟ہانیہ نے حیرت سے پوچھا۔

اس بار وقاص اسکی بات پہ چونکا۔۔

اوووووہ تو ثانیہ جی آپکی بہن ہے؟ وقاص نے مسکرا کر پوچھا۔۔

جی ہاں“ہانیہ نے کہا۔۔

اکچوٸلی ملنا تھا ان سے مجھے ۔وقاص نے کہا۔

پھر دروازہ کھلا اور بکھرے حلیے والی ثانیہ کی صورت دیکھ کر وہ چونکا،کیونکہ وہ کلب والی لڑکی سے بالکل مختلف تھی۔وقاص الجھ گیا۔۔

جی آپ کون؟ ثانیہ نے حیرت سے پوچھا۔۔

میرا نام انسپکٹر وقاص ہے“وقاص نے کہا۔

انسپکٹر کا میرے گھر کیا کام۔۔ثانیہ نے حیرت سے پوچھا۔۔

وقاص نے لب کاٹتے ہوۓ اسے دیکھا اور پھر اندر داخل ہوگیا۔۔

آج آپ اپنی جاب پہ کیوں نہیں گٸی۔۔وقاص نے ارد گرد کا معاٸنہ کرتے ہوۓ پوچھا۔۔

میری جاب میری مرضی“کام والی نہیں آٸی تھی تو اس لٸے آج خود صفاٸی کا فیصلہ کرتے ہوۓ چھٹی کی تھی“ثانیہ نے منہ بناتے ہوۓ کہا۔۔

وقاص نے اثبات میں سر ہلا دیا اور پھر صوفے پہ چوڑا ہوکر بیٹھ گیا۔۔

ثانیہ لب بھینچ کر رہ گٸی۔۔

مسثر وقاص کام کی بات کریں“ہم شریف لوگ ہیں تو اس طرح آپ ہمارے گھر بیٹھے گٸے تو لوگ مشکوک ہو سکتے ہیں۔۔ہانیہ نے ناگواری سے کہا۔۔

آپ کی بہن بہت بدتمیز ہے“لیکن میری بہن کو بہت پیاری لگتی ہے تو آپ سے اسی کا ہاتھ مانگنے آیا ہوں ثانیہ جی۔۔وقاص نے مسکرا کر کہا۔۔

ہانیہ اسے کھا جانے والی نظروں سے دیکھنے لگی۔

مجھے ابھی اپنی بہن کی شادی نہیں کرنی“اب آپ دفع ہو سکتے ہیں “ثانیہ نے غصے سے کہا۔۔

ہانیہ نے طنزیہ نگاہوں سے اسے دیکھا۔

چلٸے میں آپ کو باہر تک چھوڑ آٶں“ہانیہ نے کہا اور وقاص اسکے ساتھ چلتا ہوا باہر تک آیا۔

مس ہانیہ آج ایک ڈان لڑکی کے پیچھے تھا میں اور اسے گولی ماری تھی میں نے۔ثانی ڈان نام ہے اسکا“تو مجھے لگا وہ آپ کی بہن ہے تو بس شک دور کرنے آیا تھا“وقاص نے کہا۔۔

ہانیہ کا رنگ ایک پل کے لٸے بدلا اور دوسرے پل وہ خود کو سنبھال چکی تھی۔

پھر وقاص کے جانے کے بعد وہ تیزی سے اندر آٸی اور ثانیہ کو چھو کر دیکھنے لگی“

آپی۔۔۔

ششششششش“ثانی نے جلدی سے اسکے منہ پہ ہاتھ رکھا اور پھر کاغذ اور پنسل سے ورق پہ کچھ لکھنے لگی اور پھر اسکی طرف بڑھایا۔۔

کوٸی بات مت کرو ہو سکتا وہ شخص کوٸی آلہ چھپا کر گیا ہو جس سے وہ ہماری گفتگو سن سکتا ہے۔۔ہانیہ کا پڑھ کر رنگ متغیر ہو گیا۔۔

آپی اب کیا ہوگا۔۔اس نے لکھ کر پوچھا۔۔

صبر۔۔۔ثانیہ نے لکھا۔۔

ہانیہ تم ہنڈیا بنا لو میں باقی کی صفاٸی کرتی ہوں۔۔ثانیہ نے اونچی آواز میں کہا اور ہانیہ نے اثبات میں سر ہلا دیا۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وقاص نے ڈکٹا فون صوفے کی پشت پہ لگا دیا تھا پھر وہ گاڑی میں آکر انکی گفتگو سننے لگا۔کچھ دیر کی خاموشی کے بعد اسے انکی آوازیں سناٸی دینے لگی۔مگر وہ دونوں عام گفتگو ہی کر رہی تھی۔۔وقاص نے جھلا کر ہیڈ فون اٹھا کر ساٸیڈ پہ رکھے۔۔

لگتا اس بار میرا اندازہ غلط ہے“ایویں شک کر رہا ہوں اس ثانیہ پہ وہ جھلا کر سوچتا گیا۔۔پھر وہ گاڑی دوڑاتا وہاں سے نکل آیا۔۔

وہ گھر پہنچا تو فرح بچوں کیساتھ لان میں بیٹھی تھی وہ سلام کرتا ہوا پاس آکر بیٹھ گیا۔۔

وقاص پلیز یہ ہانیہ کے گھر والوں کو ڈھونڈو“ رشتہ لیکر جانا مجھے۔۔

وقاص نے گہرا سانس بھرا۔۔

اپیا وہ لڑکی مجھے پسند نہیں ہے“وقاص نے جھلا کر کہا۔۔

ہاۓ اللہ ایک تو تیرے نخرے ختم نہیں ہوتے“اب خود ہی ڈھونڈ لے لڑکی اور شادی کر لینا کیونکہ میں پندرہ دن کے بعد واپس جا رہی ہوں“وہ تپ کر بولی۔۔

اچھا ناراض تو نہ ہوں“اسکے علاوہ جس سے کہیں گی چپ چاپ کروا لونگا منگنی یا شادی جوبھی آپ کرواناچاہے۔وقاص نے کہا۔۔

ہاۓ اللہ کتنی پیاری لڑکی تھی ہانیہ۔۔وہ کڑھ کر بولی۔

وقاص لب کاٹ کر رہ گیا۔۔

اچھا میں کپڑے چینج کرلوں“وہ کہہ کر اپنے کمرے کیطرف بڑھ گیا۔۔

نہا کر وہ نکلا اور شیشے کے سامنے وہ شرٹ لیس کھڑا بال ٹاول سے صاف کر رہا تھا تبھی اسکی نظر اپنے کسرتی بدن پہ پڑی۔۔

یار وقاص لڑکیاں مرتی ہیں تیری ایک نظر کیلٸے مگر یہ لڑکی جس نے تیرے دل کو چھوا ایسے دیکھتی ہے جیسے کہ میں کوٸی اچھوت ہوں“بہت عجیب و غریب ہے دونوں بہنیں“وہ بڑبڑایا

پھر وہ زور سے چونکا۔۔

عجیب و غریب“اوووووہ گاڈ یہ کیوں نہیں سوچا میں نے کہ انکو اپنے چہرے کے تاثرات چھپانے آتے ہونگے“کیونکہ ثانی ڈان وہ زہین ترین لڑکی ہے کہ پولیس کے خلاف وہ ایک بھی ثبوت نہیں چھوڑتی۔مطلب کہ اسے پتا لگ گیا ہوگا کہ میں نے اسکے گھر ڈکٹا فون چھپایا ہے۔۔وہ بڑبڑایا۔پھر وہ تیزی سے باہر نکل کر فرح کے پاس آیا۔۔

اپیا اٹھیں“فورا تیار ہو جاٸیں ہمیں ہانیہ کے گھر رشتہ لیکر جانا ہے“وقاص نےکہا۔

ہیں۔۔یہ تجھے اچانک کیا ہو گیا اب“فرح کا حیرت سے منہ کھلا۔

چلیں نہ۔۔وقاص جھلا کر بولا تو وہ اٹھ کر تیار ہونے چلی گٸی۔

اگر تم لوگوں نے میرا رشتہ ایکسپٹ کر لیا تو مجھے سمجھ آ جاۓ گی کہ تم ہی ثانی ڈان ہو“کیونکہ ہانیہ تم اور تمہاری بہن میرے شک کے داٸرے سے نکلنے کیلٸے یہ رشتہ قبول کرو گی۔مگر اس سے میرا شک دور نہیں مضبوط ہوگا“کیونکہ کہ اووور سمارٹ بننے کے چکر میں تم غلطی کرو گی اور میں وقاص ہوں جس کا ذہن تم کبھی نہیں پڑھ پاٶ گی۔وقاص دل ہی دل میں مخاطب ہوا۔۔اور پھر اطمینان سے مسکرا دیا۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

زبیر آفندی نے زارو قطار روتی اپنی محبوب بیوی کو دیکھا اور پھر اٹھ کر اسکے قدموں میں آکر بیٹھ گٸے۔۔

ایم سوری جانم“میں نے وہ سب جو بھی کیا آپ کے لٸے کیا“وہ نم لہجے میں بولے۔

ناٸلہ آفندی نے زخمی نگاہوں سے انہیں دیکھا۔۔

زبیر صاحب میرے سے ایک بار بات توکر لیتے،مگر آپ نے کسی کو زندگی کو کھلونا ہی سمجھ لیا تھا۔مگر میں آپ سے نفرت نہیں کر پاٸی کیونکہ آپ کی محبت کی شدت نے مجھے نفرت کرنے نہیں دی۔مگر میں کیسے کہوں کی اذیت میں برسوں جلی ہوں“دل کہتا تھا کہ ایک بار سب کہہ دوں مگر پھر زبان سے کچھ بھی ادا نہیں ہو پاتا تھا۔۔۔میں کیسے کہوں کی کشمکش میں میں نے اپنا سکون کھو دیا۔آج جب سب کہہ دیا تو میں نے برسوں بعد جس بیٹی کو پایا اسے کھو دیا۔وہ تڑپ کر بولی۔۔

کچھ نہیں کھویا آپ نے مام“آپ کا بیٹا آپ کو آپکی بیٹی ضرور لوٹاۓ گا“پیچھے سے زین کی آواز گونجی۔تو وہ چونک کر مڑی۔۔

پھر انہوں نے اپنی بانہیں پھیلاٸی تو زین انکے سینے کیساتھ آکر لگ گیا۔۔

میں آپکا بیٹا ہوں“اور ہمیشہ رہونگا“زین نے کہا۔

ناٸلہ آفندی نے اسکا ماتھا چوم لیا۔۔

زین بیٹے ۔۔پھر وہ اٹھ کر جانے لگا تو زبیر آفندی نے اسے پیچھے سے آواز دی۔زین انکی طرف مڑا۔۔

مسٹر زبیر آفندی میں آپ کا بیٹا نہیں ہوں“میں آپ سے ہر رشتہ توڑتا ہوں“زین نے چبا چبا کر کہااور پھر پری زیب کا ہاتھ تھام کر باہر نکل گیا۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

فاریہ کو سب چپ کروا کروا تھک گٸے تھے مگر اسکے آنسو تھم ہی نہیں رہے تھے۔۔

السلام علیکم۔زین اور پری زیب نے اندر آکر سلام کیا تو سب چونک کر انہیں دیکھنے لگے۔۔

زین چلتا ہوا فاریہ کے پاس آیا اور اسکے قدموں میں بیٹھ کر اسکے ہاتھ تھام لٸے۔۔

فاریہ“آپ جانتی ہیں نہ ہماری پہلی ملاقات کیسے ہوٸی۔میں ہمیشہ لڑکیوں سے بھاگتا تھا۔مگر آپ سے جب ملاقات ہوٸی تو میرے دل میں آپ کیلٸے عقیدت پیدا ہوٸی جسکو میں کچھ اور ہی سمجھا”جبکہ وہ تو ہمارے خونی رشتے کی کشش تھی۔ہماری ماٸیں مختلف ہے تو کیا ہوا مگر جس ماں سے آپ نے جنم لیا اس ماں سے میرا دودھ کا رشتہ ہے۔میں ثمن ماں کے بارے میں نہیں جانتا اور نہ آپ جانتی ہیں مگر میں مام کے بارے میں جانتا ہوں کہ وہ نہ صرف بیسٹ مام ہےبلکہ وہ دنیا کی بیسٹ عورت ہیں،انہوں نٕے مجھے ہمدردی سے اپنا کر محبت کا رشتہ بنایا اور ایسی عورت کہیں نہیں ملے گی۔تم اور میں بہت خوش نصیب ہیں کہ ہماری مام ناٸلہ آفندی ہے۔۔۔

تم نے اس دن کہا تھا کہ کاش وہ تمہاری ماں ہوتی تو تمہیں تمہارا احمر دلوا دیتی تو وہ تمہارے لٸے احمر کو اور میرے لٸے پری زیب کو لے آٸی۔۔تو اب انکو اپنانے سے کیوں پیچھے ہٹ رہی ہو“۔۔پلیز وہ برسوں تڑپی ہیں انہیں اب خوش رہنے کا حق دے دو۔۔پلیز فاریہ۔۔۔وہ اسکا ہاتھ تھام کر بولتا چلا گیا۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *