Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mein Kese Kahun (Episode 09)

Mein Kese Kahun by Umme Emman Fatima

آہا۔۔۔آپ کو شرمانا بھی آتا ہے۔۔زین نے مسکرا کر پوچھا۔۔۔

بہت برے ہو آپ؟ وہ اسکے سینے پہ مکا مارتے ہوۓ بولی۔۔

تھینک یو ماٸی لو۔وہ اسکی ناک کو دباتے ہوۓ بولا۔۔

پری زیب مسکرا دی۔۔

چلو آج سی ساٸیڈ چلتے ہیں کیونکہ آج موسم دیکھو کتنا پیارا ہے۔۔زین نے اسکا ہاتھ تھام کر کہا۔۔

نہیں مجھے آج مام نے پارلر لیکر جانا ہے۔تو وہ بس مجھے لینے آتی ہی ہونگی۔۔وہ جلدی سے بولی۔۔

تمہیں پارلر جانے کی کیا ضرورت ہے۔ایسےہی اتنی پیاری ہو۔۔زین نے کہا۔۔

وہ مام زیادہ بہتر جانتی۔۔میں تو ویسے گھر میں ہی ابٹن وغیرہ لگالیتی ہوں اسے سے ہی سکن گلو کرنے لگ جاتی ہے۔وہ ہولے سے بولی۔۔

ارے میں تو سمجھتا ہوں جو ابٹن تم لگاتی ہو وہ تمہارے سکن سے گلو چراتا ہو گا۔زین نے مسکرا کر کہا۔۔

آپ کو تعریف کرنی خوب آتی ہے۔وہ مسکرا کر بولی۔۔

تعریف کے قابل ہو تعریف تو کرونگا نہ،وہ مسکرا کر بولا۔۔۔۔

شادی تک بچا کر رکھیں تعریفیں۔اس نے ترنت جواب دیا۔۔

تب تعریف کر ہی نہیں پاٶں گا۔وہ بولا۔۔

کیامطلب۔۔۔۔؟

میرا مطلب تم حسین اتنی لگو گی کہ تعریف کرنا ہی بھول جاٶں گا۔وہ مسکرا کر بولا۔۔

افففففف۔آپ بھی نہ۔وہ سرخ چہرے کیساتھ بولی۔۔۔

اوففففففف یہ اداٸیں

یہ جلوہ تیرا

اور یہ تیرا سرور۔۔

میں کیسے کہوں جاناں۔۔

کہ مجھے کردیتا ہے

مدہوش اور مسرور۔۔۔

وہ اسکے کان کے پاس گنگنایا۔۔

پری زیب کے چہرے پہ حیا کے رنگ چھا گٸے۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آج جمعے کا دن تھا تو جمال قریشی صاحب تو ویسے بھی یہ دن میں بہت اہتمام کرتے تھے۔۔مگر آج تو انکی اکلوتی بیٹی کا نکاح تھا تو انہوں نے آج کھانے کا انتظام باہر سے کروایا تھا۔۔اور پری زیب کے نام پہ بکرا بھی مدرسے میں بھیج دیا تھا۔ان کا دل آج بھر بھر جا رہا تھا۔وہ اور احمد جمعہ کی نماز ادا کرنے گٸے تھے۔

اور ساٸرہ پری زیب کے کمرے میں اسے تیار ہونے میں مدد کر رہی تھی۔کیونکہ جمعے کے بعد زین کی فیملی نے آ جانا تھا اور پھر نکاح تھا۔۔

پری زیب واٸٹ کلر کے فراک میں پرستان سے آٸی کوٸی شہزادی لگ رہی تھی۔۔

ساٸرہ کی بار بار آنکھیں بھیگ رہی تھی۔

بھابھی اب آپ بھی جاکر تیار ہو جاٸیں۔پری زیب نے ساٸرہ سے کہا۔۔۔

ہاں بس ہونے لگی ہوں۔۔ساٸرہ نے کہا۔۔اورپھر وہ باہر نکل گٸی۔۔۔

پری زیب نے نے گلے میں ڈاٸمنڈ کا نیکلس پہنا تو وہ مزید جگمگا اٹھا تھا۔۔

پھر وہ اپنی سلفیاں لینے لگی۔اور کچھ دیر بعد ساٸرہ اندر آٸی۔۔۔

آگٸے تمہارے سسرال والے۔۔ساٸرہ کی بات پہ پری زیب کے چہرے پہ حیا کی سرخی آ گٸی۔۔

پھر کچھ دیر میں وہ پری زیب جمال قریشی سے پری زیب زین آفندی بن چکی تھی۔

پھر ساٸرہ اسکو تھام کر باہر لاٶنج میں لے آٸی اور زین کیساتھ بیٹھا دیا۔۔

پھر کچھ فوٹو شوٹ کے بعد ساٸرہ اسکو اندر لے گٸی۔۔اور ناٸلہ نے بھی انکے پیچھے جاتے ہوۓ زین کو اشارہ کیا انکے پیچھے آنے کا۔

۔تو زین ایکسیوزڈ کرتا اٹھ کر ناٸلہ آفندی کیساتھ پری زیب کے روم کیطرف بڑھ گیا۔۔

جاٶ اندر“ناٸلہ آفندی نے زین سے کہا۔۔

تو زین دروازہ دھکیلتا اندر داخل ہوا تو ساٸرہ نے چونک کردیکھا اوروہ مسکرا کر باہر نکل گٸی۔۔اور پھر ساٸرہ ناٸلہ آفندی کو لیکر اپنے روم کیطرف آ گٸی۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

زین نے اندر قدم رکھا تو پری زیب ڈریسنگ کے سامنے کھڑی اپنا نیکلس کھول رہی تھی۔

وہ دبے پاٶں چلتا ہوا اسکے پیچھے آیا اور پیچھے سے اسکے گرد بازو لپیٹ دٸیے۔

زین“یہ آپ کیا کر رہے ہیں۔بھابھی آ جاٸیں گی۔وہ گھبرا کر بولی۔

نہیں آٸیں گی میری جان“وہ ہولےسے اسکے رخسار سے اپنا رخسار مس کرتےہوۓ بولا۔۔

پھر وہ اسکی طرف گھومی تو زین نے اپنے لب اسکے ماتھے پہ رکھ دٸیے۔

پری زیب نے شرما کر اسکے سینے میں منہ چھپا لیا۔۔

ارے مجھے دیکھنے تو دو۔زین نے اسکا چہرہ اوپر کرتے ہوۓ کہا۔۔۔

بس چھ دن اور پھر تم میرے بیڈروم میں ہوگی۔۔زین نے مسکرا کر کہا۔۔

پری زیب کے دل کی دھڑکن تیز ہو گٸی۔۔

پھر زین نے اسے اپنے ساتھ بھینچ لیا۔پری زیب کو اسکو گرفت میں زیادہ ہی سختی محسوس ہوٸی۔۔اسکواپنا سانس بند ہوتا محسوس ہوا۔۔

زز“زین میرا سانس بند ہو رہا ہے۔۔وہ بمشکل بول پاٸی۔

ایم سو سوری۔زین نے اسے خود سے الگ کرتے ہوۓ کہا۔۔

اٹس اوکے۔۔وہ ہولے سے بولی۔۔

پھر زین جلدی سے باہر نکل گیا۔۔اور پری زیب اپنا میک اپ اتارنے لگ گٸی۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

فاریہ اپنا اٹیچی گھسیٹتی ایٸرپورٹ سے باہر نکل کر ارد گرد ٹیکسی کی تلاش میں نظریں گھمانے لگی۔پھر ایک ٹیکسی رکی تو وہ اس میں سوار ہوکرایڈریس سمجھانے لگی۔۔پھر آدھے گھنٹے میں وہ گھرپہنچ چکی تھی۔

السلام علیکم“اس نےاندر آکر سلام کیا۔۔۔

فری آپی۔۔پری زیب نے چلا کرکہا پھر وہ اسکے گلے لگ گٸی۔سب سے باری باری مل کر وہ کپڑے چینج کرنے کیلٸے روم میں چلی گٸی۔۔۔

اور پری زیب نے کافی بناٸی اور روم میں ہی لیکر آ گٸی۔۔

پھر دونوں نےہلکی پھلکی باتوں کیساتھ کافی پی۔

شام کو تیار رہنا،آج آپ کو اپنے لو سے ملوانا ہے۔پری زیب نے اسے لیٹتے دیکھ کر کہا۔۔

فاریہ نے اثبات میں سر ہلا دیا۔۔اور پری زیب نے باہر آکر زین کو فون ملا کر شام کی دعوت کنفرم کرنے کا کہہ دیا اور پھر وہ پری وش کیساتھ کھیلنے لگ گٸی۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پری زیب کے فون پہ دعوت کنفرم کرنے پہ زین کی آنکھوں میں چمک آ گٸی۔

پھر وہ ریسٹورنٹ میں فون کرکے ڈیکوریشن کا سمجھانے لگا۔۔

اور اس نے بہت عرصے بعد اپنے لٸے پرپل تھری پیس منگوایا تھا۔۔۔۔

پھر وہ شام میں تیار ہوکر باہر نکلا تو ناٸلہ آفندی نے حیرت سے دیکھا۔۔

واٶ،یو آر لوکنگ سو ہینڈسم۔ناٸلہ آفندی نے کہا۔۔

تھینکس مام”زین نے کہا اور تیزی سے باہر نکل گیا۔

زین فل سپیڈ پہ گاڑی چلاتا ریسٹورنٹ پہنچا اور پھر ڈیکوریشن دیکھنے لگا۔۔

پرپل اور واٸٹ روزز کیساتھ پورا ہال سجایا گیا تھا۔

پھر وہ سگریٹ سلگا کر وہاں بنے ہوۓ ٹیرس پہ آ گیا۔۔پھر کچھ دیر بعد ایک کیب نکلی اور فاریہ اور پری زیب باہر نکلی۔اور پھر وہ زینے چڑھتی

وہ ایک اوٹ میں ہوکر اسے دیکھنے لگا۔۔

پری زیب نے نیوی بلیو فراک پہنی تھی اور بالوں کا جوڑا بناۓ ہوۓ تھی اور فاریہ نے بلیک لانگ شرٹ اور ٹاٸٹس پہنا تھا۔اور اسکے سلکی بال جنکی سٹیپ کٹنگ کرواٸی تھی کمر کو چھو رہے تھے۔

رکٸے۔۔۔۔۔پھر وہ دونوں چٸیر پہ بیٹھنے ہی لگی تھی کہ زین آواز پہ رک گٸی۔۔

وہ دونوں مڑی تو پیچھے زین تھا۔۔اس نے بکے کے پیچھے منہ چھپایا تھا۔۔

پھر اس نے بکے فاریہ کیطرف بڑھاۓ۔۔فاریہ اسکو دیکھ کر ساکت رہ گٸی۔۔

اور پری زیب حیرت سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔

یہ آج سب کچھ پرپل کیوں نظر آ رہا۔آپ تو بلیک اینڈ واٸٹ ہی یوز کرتے ہو زیادہ۔اور مجھے ریڈ اینڈ واٸٹ فلاوز پسند ہے تو ڈیکوریٹ میں بھی پرپل یوز ہوا۔۔خیریت تو ہے نہ۔ پری زیب نے پوچھا۔۔

یہ سب تمہارے لٸے نہیں آج۔یہ سب تو آج خود کیلٸے ہے۔میں نے خود کو ہی ٹریٹ دی ہے۔زین نے فاریہ کو نظروں میں لیتے ہوۓ کہا۔۔

فاریہ اسکی چھبتی نظروں کو اپنے جسم کے آر پار محسوس کر رہی تھی۔۔

اور پرپل کلر فاریہ کا فیورٹ ہوا کرتا تھا۔۔۔

پری زیب میری طبیعت کچھ ٹھیک نہیں ہے۔پلیز گھر چلیں۔فاریہ نے کانپتی آواز میں کہا۔۔

پری زیب نے چونک کر اسکا پیلا پڑتا رنگ دیکھا۔۔

فری آپی کیا ہوا۔؟ اتنا رنگ کیوں زرد پڑ رہا ہےآپکا؟۔پری زیب نے گھبرا کر کہا۔۔

آٸی تھنک میرا بی پی ہاٸی ہو گیا۔وہ بمشکل بولی۔۔

اوووووہ“چلیں میں جوس منگوا دیتا ہوں وہ پی لیں پھر گھر چھوڑ دیتا ہوں آپکو“زین نے کہا اور پھر ویٹر کو اشارہ کرکے پاس بلا کر جوس منگوایا۔۔

اور فاریہ جی شادی کیسی گزری آپکی کزن کی۔؟ زین نے پوچھا۔۔۔۔

جی ٹھیک تھی۔۔۔وہ ہولے سے بولی۔۔

پھر زین نے پری زیب کا ہاتھ تھام کر لبوں کو لگایا۔۔

پری زیب کا چہرہ اس کی اس حرکت پہ شرم سے گلابی ہو گیا۔۔۔

تم بہت خوبصورت لگ رہی ہو بلیک ڈریس میں ہمیشہ کیطرح۔وہ پری زیب سے بولا جبکہ نظریں فاریہ پہ گڑی تھی۔۔

اور فاریہ اسکی بات پہ لب کاٹ کر رہ گٸی۔۔۔

ارے کالا ڈریس نہیں ہے۔۔نیوی بلیو ہے۔پری زیب نے ہنستے ہوۓ کہا۔۔۔۔

اوووہ۔وہ مجھے بلیک ہی لگا“وہ جلدی سے بولا۔

پری زیب کھلکھلا کر ہنس دی۔۔

میرے بھولے بھالے سے ہیسبنڈ جی۔رنگوں کی بھی پہچان نہیں ہے۔۔۔۔۔

فاریہ نے لب بھینچ کر زین کو دیکھا۔۔دونوں کی جب نظریں ٹکراٸی تو زین نے کاٹ دار نظروں سے فاریہ کو دیکھا۔۔

فاریہ اسکی نظروں سے کٹ ہی گٸی تھی۔۔۔

پری زیب جلدی جوس فنش کریں۔میرا دل خراب ہو رہا۔

طس پانچ منٹ آپی۔وہ اپنے موباٸل پہ مصروف بولی۔۔

فاریہ جھلا کر رہ گٸی۔۔

پھر کچھ منٹ بعد فاریہ کی آنکھوں پہ کسی نے ہاتھ رکھے تو فاریہ ہل ہی گٸی۔۔

کک“کون ہے؟ وہ گھبرا کر بولی۔۔زین نے بھی جلدی سے مڑ کر دیکھا تو احمر کو کھڑے دیکھ کر اسکے اندر دھواں سا بھر گیا۔۔۔۔۔

اتنے حق سے کون تمہارے ہاتھ رکھ سکتا آنکھوں پہ تمہارے دوست کے علاوہ “احمر اسکے کان میں بولا۔۔

وہ جلدی سے ہاتھ ہٹاتے اٹھ کر کھڑی ہو گٸی۔اور دوسرے پل وہ احمر کے گلے کر احمر کو بھی حیران کر گٸی۔۔

پھر اسکی سسکیوں پہ وہ سب چونکے۔۔۔

فری کیا ہوا؟ رو کیوں رہی ہو؟احمر گھبرا کر بولا۔۔

پپ،پلیز احمر مجھے گھر جانا ہے۔وہ روتے ہوۓ بولی۔۔۔

بھیا ہمیں گھر چلنا چاہیے۔۔کیونکہ فری آپی کی طبیعت بہت خراب ہے۔۔پری زیب نے کہا۔۔

اور پھر پری زیب زین کو خدا حافظ بول کر وہاں سے نکل گٸی۔

انکے جانے کے کچھ دیر بعد ہی زین نے وہاں موجود ایک ایک چیز کو تہس نہس کر دیا تھا۔۔پھر وہ آندھی طوفان کیطرح گاڑی دوڑاتا گھر پہنچا۔۔اور ہھر لان کیساتھ بنی انیکسی کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا۔۔جہاں ایک وہیل چیٸر پڑی تھی۔اور سامنے پوری دیوار پہ فاریہ محمود صابری کی تصویریں لگی تھی۔۔

زین کی آنکھیں سرخ انگارہ ہو گٸی۔۔

سوہنی۔۔وہ ہولے سے بڑبڑایا۔۔پھر وہ زمین پہ بیٹھ کر وہیل چیٸر پہ سر رکھ کر رو دیا۔۔اور اسکے فاریہ کیساتھ گزارے پل فلم کیطرح چلنے لگے۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ماضی۔۔۔۔

زین آفندی نے تیار ہو کر خود کو آٸینے میں دیکھا۔۔لمبا قد “سوکھا جسم اور پچکے گال اور سانولی رنگت۔۔مگر اسکے نین نقش پیارے تھی۔مگر کمزور بدن اور آنکھوں پہ لگی عینک اسکو اور بھی عام بنا دیتی تھی۔۔اور لوگوں کا مزاق اڑانا اسے تڑپا دیتا تھا۔۔

آج اسکا کالج میں پہلا دن تھا وہ بہت ڈرا تھا۔۔پھر ڈراٸیور نے اسے کالج کے سامنے چھوڑا تووہ ڈرتا ہوا اندر داخل ہوا تو سامنے ہی اسکے سینیٸر کھڑے تھے۔۔انہوں نے اشارے سے اسے بلایا۔۔۔

تو وہ ڈرتا ڈرتا انکے پاس پہنچا۔۔

ایک لڑکے نے اسکی عینک اتار کر اپنی آنکھوں پہ لگا لی۔اور ایک نے اسکا بیگ چھین لیا۔۔

پپ“پلیز میری چیزیں دے دیں،وہ گھبرا کر بولا۔۔

ابے یار چیک کر اسکے بیگ میں کیا ہے؟ ایک لڑکے نے پوچھا۔۔

تو دوسرا جلدی سے بیگ کی تلاشی لینے لگا اور پھر اسکے ہاتھ زین کا میٹرک کا رزلٹ کارڈ لگا۔۔

ابے یار“یہ تو ٹاپر ہے۔میٹرک میں پورے بورڈ میں فرسٹ پوزیشن لی ہے۔۔وہ چیخ کر بولا۔۔۔

ابے یار اس ممی (برسوں پرانی لاش) کو تو دیکھ اور اسکی صحت بھی دیکھ۔اوررزلٹ توواہ واہ ہے۔۔وہ لڑکا مزاق اڑاتے ہوۓ بولا۔۔

ہاں یار “لگتا بیچارہ پڑھ پڑھ کر گھس گیا ہے۔۔دوسرا لڑکا ہنستا ہوا بولا۔۔

پپ“پلیز مجھے کلاس لینی ہے۔زین نے کہا۔۔

اےےےے“کیا ہو رہا یہ۔پیچھے سے ایک لڑکی کی آواز آٸی تو سارے سیدھےہوکر کھڑے ہو گٸے۔۔

لو آ گٸی ڈان۔۔۔۔“وہ لڑکا بڑبڑایا۔۔

کیا بکواس کی تو نے۔؟ وہ لڑکی بولی۔۔

کچھ نہیں جی۔۔وہ لڑکا بولا۔

چل چیزیں واپس کر ورنہ پرنسپل سے کہہ کر کالج سے نکلوا دونگی۔۔۔اس لڑکی نے رعبدار انداز میں کہا۔۔

پرنسپل کی چمچی۔۔وہ لڑکا بڑبڑایا۔۔

پھر سے بکواس کی تو نے۔۔وہ دھاڑی۔۔تو ان لڑکوں نے جلدی سے اسکی چیزیں واپس کردی

۔۔

چلو “میرے پیچھے پیچھے آ جاٶ“وہ لڑکی بولی۔۔

زین جلدی سے اسکے پیچھے چل پڑا۔پھر وہ اسے لیکر کلاس روم میں آ گٸی۔اور پھر اسکو بیٹھا کر خود بھی اسکے ساتھ بیٹھ گٸی۔۔۔

زین حیرانگی سے اسےدیکھنے لگا۔۔

ایسے کیا دیکھ رہے ہو“اس لڑکی نے حیرت سے پوچھا۔۔

وہ جی آپ ادھر میری کلاس میں ہی بیٹھیں گی کیا؟زین نے جھجھکتے ہوۓ پوچھا۔۔

ہاں تو اور کیا۔۔۔کیونکہ یہ میرابھی کلاس روم ہے۔اس لڑکی نے کہا۔۔

آپ اگر میری کلاس میں ہے تو پھر آپ سے سینیٸر کیوں ڈرتے ہیں۔زین نے حیرت سے پوچھا۔۔

وہ لڑکی اسکی بات پہ کھلکھلا کر ہنس دی۔۔

پگلے کہیں کے“وہ مجھ سے ڈرتے ہیں کیونکہ انہوں نے میری ریگنگ کرنے کی کوششش کی تھی تو میں نے پرنسپل سر سے انکی حالت خراب کروادی۔۔کیونکہ میرے بابا محمود صابری پروفیسر ہیں اور پرنسپل سر کے دوست بھی۔وہ لڑکی مزے سے بولی۔۔

ویسے میرا نام فاریہ محمود صابری ہے اور تمہارا نام کیا ہے؟اس لڑکی نے اپنا تعارف کروا کر اسکا نام پوچھا۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *