Mein Kese Kahun by Umme Emman Fatima NovelR50540 Mein Kese Kahun (Episode 28)
Rate this Novel
Mein Kese Kahun (Episode 28)
Mein Kese Kahun by Umme Emman Fatima
ناٸلہ اور ثانیہ باہر نکلے تو زبیر آفندی غصےسے ناٸلہ آفندی کو دیکھنے لگے۔۔۔
کیا سن رہا ہوں میں۔مجھے یہ امید نہیں تھی کہ تم ایسا کچھ کروگی۔۔پری زیب میری بیٹی ہے اب تو اسکے درد کیوجہ تم ہو۔۔زبیر آفندی ناگواری سے بولے۔۔
ثانیہ نے ناگواری سے اس منافق انسان کو دیکھا۔۔اور پھر سر جھکاۓ کھڑی اس عظیم عورت کو دیکھا۔۔
وہ آگے بڑھ کرزبیر کو کچھ کہنے ہی والی تھی جب ناٸلہ آفندی نے اسکا ہاتھ پکڑ کر روکا۔۔
ایم سوری صاحب۔۔وہ دھیمے سے لہجے سے بولی۔۔
ثانیہ ایک جھٹکے سے مڑ کر باہر نکل گٸی۔۔
سوری مجھ سے نہیں پری زیب،فاریہ اور زین سے کریں۔۔اور زین سے بولٸے پری زیب سے معافی مانگے۔وہ تلخ لہجے میں بولے۔
وہ میری کوٸی بات نہیں سننا چاہتا۔۔۔۔
ناٸلہ تمہاری وجہ سے یہ سب ہوا اب تم ہی ٹھیک کرو سب۔زبیر آفندی نے غصے سے کہا۔۔
پری زیب بچی آج میں آپ سے ریکویسٹ کر رہا ہوں کہ پلیز آپ آپ یہاں سے کہیں نہیں جاٸیں گی۔زبیر آفندی نے محبت سے کہا۔۔پری زیب کی آنکھیں بھیگ گٸی۔
پھر وہ تھکے تھکے قدموں سے انیکسی کیطرف بڑھ گٸی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زین نجانے کتنے گھنٹے بیڈ پہ اوندھے منہ لیٹا رہا پھر وہ اٹھ کر بیٹھ گیا۔۔
اورسامنے لگی دیوار میں ناٸلہ آفندی اور زبیر آفندی کی تصویر دیکھنے لگا۔۔
مجھے اتنا درد فاریہ کے دور جانے پہ نہیں ہوا تھا جتنا آپ کے دھوکے سے ہوا ہے مام۔۔۔وہ دل ہی دل میں تڑپا۔۔
پھر اٹھ کر واش روم کیطرف بڑھ گیا۔منہ ہاتھ دھو کر باہر آیا تو ڈریسنگ کے سامنے کھڑا ہوکر کنگھی کرنے لگا تو ڈریسنگ پہ رکھی پری زیب اور اسکی شو کی تصویر رکھی تھی۔
اسے یاد آیا کہ وہ پری زیب کے ساتھ غصے میں کیا کیا کر چکا ہے۔۔یہ سوچ کر اسکا دل سکڑ گیا اس نے کرب سے آنکھیں بند کر کے کھولی۔پھر تیزی سے وہ ننگے پاٶں باہر نکل آیا۔
صغری بوا،پری زیب کدھر ہے۔زین نے پوچھا۔۔
پتا نہیں زین بابا۔۔مجھے لگتا وہ گھر چھوڑ کر جا چکی ہیں۔۔
زین کو اسکے جانے کا سن کر سانسیں رکتی سی محسوس ہوٸی۔۔۔
وہ گرنے والے انداز میں صوفے پہ بیٹھ گیا۔۔
اوووہ گاڈ ،میں نے پھر سے پری زیب کے اعتماد کو ٹھیس پہنچادی۔۔
پھر وہ اٹھ کر اپنے جم روم کیطرف بڑھ گیا۔۔اور پنچنگ گلوز پہن کر پنچنگ بیگ پہ اپنا غصہ نکالنے لگا۔وہ ہمیشہ جب بےبسی کی انتہا پہ ہوتا تھا یہی کرتا تھا۔۔
پھر وہ نڈھال سا ہوکر زمین پہ بیٹھ گیا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پری زیب کب سے گھٹنوں میں سردٸیے رو رہی تھی۔۔پھر کچھ دیر بعد اسکا موباٸل بجا تو احمر کا فون تھا۔۔اس نے فون اٹھا کر کان کو لگایا۔۔
پری گڑیا فاریہ تمہاری طرف آٸی تھی کیا وہاں سے نکل گٸی۔۔۔
پری زیب ایک جھٹکے سے اٹھ کر کھڑی ہو گٸی۔۔
فری آپی ابھی تک گھر نہیں پہنچی۔پری زیب نے گھبرا کر پوچھا۔۔۔۔۔۔
نہیں۔۔۔احمر بولا۔
بھیا میں آپ سے بات کرتی ہوں بس آپ فری آپی کے فیورٹ گارڈن میں پہنچی۔۔پری زیب نے کہا اورپھر وہ بھاگتی ہوٸی پورچ میں آٸی اور ڈراٸیور کیساتھ گارڈن پہنچی تو احمر بھی تب تک پہنچ چکاتھا۔۔
پری۔۔احمر جلدی سے اسکی طرف بڑھتے ہوۓ بولا۔۔
پری زیب اسکے سینے کیساتھ لگ کررودی۔۔
پری گڑیا کیا ہوا۔۔؟
پھرپری زیب اسے سب بتاتی چلی گٸی۔۔
احمر کے چہرے پہ اس قدر بے یقینی تھی۔۔
تم لوگوں نے اتنی بڑی بات چھپاٸی۔۔احمر نے کہا۔۔
ایم سوری بھیا۔۔۔وہ سر جھکا کر بولی۔
واٹ سوری پری۔۔اب بتاٶ کرنا کیا ہے۔؟
بھیا ہمیں اپنی اپنی محبت سے دستبردار ہوکر زین ،فاریہ کو ایک کرنا ہے۔۔
تمہارا دماغ خراب ہے پری زیب۔۔شادی شدہ ہو تم اور تم اپنا گھر خراب کرنا چاہتی ہو۔احمر ہتھے سے اکھڑ گیا۔۔
میرا گھر بسا ہی کب بھیا۔۔وہ دونوں اذیت میں رہے گے تو ہم بھی بےسکون رہے گٸے۔بس اب بہت ہوگیا۔۔میں اب اور نہیں سہہ سکتی وہ تڑپ کر بولی۔۔
احمر لب کاٹ کر رہ گیا۔۔
پھر وہ دونوں فاریہ کے پاس پہنچے اور اسےلیکر وہ گارڈن سے باہر آۓ۔۔
بھیا آپ فری کو لیکر جاٸیں۔۔میں ڈراٸیور کیساتھ آتی ہوں۔پری نے کہا۔۔
لیکن ہم جا کہاں رہے ہیں۔۔؟ فاریہ نےپوچھا۔
ٹرسٹ ہے تو کچھ مت پوچھیں۔۔پری زیب نے کہا۔۔
فاریہ نے لب بھینچ لٸے۔۔۔
پھر پری زیب کال ملاتی ہوٸی اپنی گاڑی کیطرف بڑھ گٸی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زین پسینے سے شرابور زمین پہ لیٹا تھا جب صفدر اسکے پاس آیا اور موباٸل اسکی طرف بڑھا۔۔
زین نے سوالیہ نظروں سے دیکھا۔۔۔
پری میم کا فون ہے۔۔احمر نے کہا۔۔
زین جلدی سے اٹھ کر بیٹھ گیا۔۔۔
پری کدھر ہو تم۔؟ وہ بیقراری سے بولا۔۔۔
زین میں بلیومون ریسٹورنٹ میں ہوں۔۔پلیز جلدی آ جاٸیں۔دوسری طرف سے پری زیب نےکہا۔۔
پھر وہ ہوٹل پہنچا تو سامنے میز پہ فاریہ بیٹھی تھی۔زین کا دل سکڑ گیا۔۔
ہاۓ۔وہ پاس آکر بولا۔۔
فاریہ نے چونک کر دیکھا۔
آپ۔۔۔؟
پپ۔۔پری کدھر ہے۔؟ زین نے گھبرا کر پوچھا۔
پتا نہیں احمر اور پری مجھے یہاں بیٹھا کر چلے گٸے کہہ رہے تھے آتے ہیں۔وہ بولی۔
زین لب کاٹتا ہوا چیٸر پہ بیٹھ گیا۔۔
پھر فاریہ کا موباٸل بجا تواحمر کا نمبر تھا۔۔
فاریہ نے کال پک کی تو دوسری طرف پری تھی جو کہ موباٸل لاٶڈ سپیکر پہ کرنے کا کہہ رہی تھی۔۔۔
ہیلو زین اینڈ فری آپی۔۔آپ دونوں نے زندگی میں بہت درد سہا ہے میں نے اور بھیا نے آپ دونوں کو آزاد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ہمارے اندر ابھی اتنا حوصلہ نہیں کہ یہ سب دیکھیں۔مگر آپ ایک ہونگے ہم ہر پل آپکا ساتھ دینگے۔۔پری زیب کی آواز رندھ گٸی۔
پری میری بات سنو۔۔۔فاریہ جلدی سے بولی۔۔
پلیز فری آپی آج آپ اور زین بات کریں۔پری زیب نے کہہ کر فون کاٹ دیا۔۔
زین نے کرب سے آنکھیں میچ لیں۔۔
ایم سوری فاریہ،میں نے آپ کے ساتھ بہت برا رویہ رکھا۔۔مگر میرے دل میں ہمیشہ آپ کیلٸے ایک لگاٶ اور عزت تھی۔میں آپکے ساتھ خود کو مضبوط سمجھتا تھا مگر میں قسم کھا کر کہتا ہوں میرے پری کیلٸے جو جذبات ہیں وہ آپ کیلٸے جو جذبات تھے اس سے بہت مختلف ہے۔۔آپ سے لگاٶ کو کچھ اور سمجھ بیٹھا تھا۔مگر پری زیب میرے اندر خون کیطرح دوڑتی ہے۔۔زین نے کہا۔۔
فاریہ نے چونک کر دیکھا۔۔اور پھر گہرا سانس لیکر رہ گٸی۔۔
زین میرے لٸے بھی آپ میرے دوست تھے بس۔مجھے آپ کی مام نے جب ریجیکٹ کرکےکہاکہ آپ کے ساتھ ایسا سلوک کروں کہ آپ مجھ سے نفرت کریں۔میں نے وہی کیا مگر میں بھی قسم کھا کرکہتی ہوں میرے جذبات وہ صرف ایک دوست کے جذبات جیسے تھے۔میں برسوں اپنی ریجیکشن اور آپ ریجیکٹ کرنےکے درد سے تڑپی ہوں۔مجھے یہ چیز رولاتی تھی کہ ایک جیتے جاگتے انسان کو میں نے اپنے الفاظ سے مار دیا۔میں آپ کو پسند کرتی تھی مگر ایسے جیسے ایک دوست پسند کرتا دوسرے دوست کو۔مگر احمر میرے جینے کیوجہ ہے۔میں آج تک اسی کشمکش میں گزار دی کہ کیسے کہوں احمر سے کہ وہ میرے لٸے میرا سب کچھ ہیں۔میرا رویہ ان سے ہمیشہ سرد رہا مگر وہ بنا کسی مفاد کے ہمیشہ میرا ساتھ دیتے رہے ہیں۔میں نے برسوں غصے اور درد میں انہیں دکھ دٸیے۔مگر آج دستبردار ہوگٸے۔۔ایساکیسے کر لیا انہوں نے۔فاریہ بولتے بولتے رو پڑی۔۔
زین چپ چاپ سپاٹ چہرے سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔
غلطی میری ہے۔میں نے مام کا غصہ پری زیب پہ نکال دیا۔۔زین نے لب کاٹتے ہوۓ کہا۔۔
مگر اسے یہ کس نے حق دیا کہ وہ مجھے کسی کو سونپ دی۔اسکی سزا اسے ملے گی۔۔
لیکن زین وہ بہت معصوم ہے۔۔۔
ہاہاہاہا۔۔معصووووم۔۔ہیں۔معصوم لگتی وہ آپ کو۔وہ ایک نمبر کی خودسر اور بدتمیز ہے۔۔وہ تڑخ کر بولا۔۔
فاریہ نے حیرانگی سے اسکا لال بھوں چہرہ دیکھا۔۔
چلیں میں آپکو گھر چھوڑ دوں۔۔زین نے اٹھتے ہوۓ کہا۔۔
نہیں میں ٹیکسی کروا کر چلی جاٶں گی۔۔
آریو شیور۔۔؟
یہہہ۔یہہ شیور۔۔فاریہ نے کہا۔۔
زین اٹھ کر باہر آگیا۔اور گاڑی چلاتے وقت اسکے چہرے پہ چٹان سی سختی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پری زیب پورا راستہ روتے ہوۓ آٸی تھی۔۔گاڑی آفندی ولا پہنچی تو وہ اتر کر تھکے تھکے قدموں سے اندر بڑھ گٸی۔۔
اور آکر لاٶنج میں بیٹھ گٸی۔اسکا سر درد سے پھٹ رہا تھا۔پھر کچھ دیر بعد اٹھ کر وہ کچن میں چلی آٸی۔اور چاۓ بنانے لگی۔مگراسکا ذہن باربار بھٹک رہا تھا۔۔
اچانک اسکے بازو سے کسی نے کھینچا اور دیوار کیساتھ لگا لیا۔اس نے ہڑبڑا کر دیکھا تو زین تھا۔جوکہ سرخ انگارہ آنکھوں سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔
ہاٶ ڈیٸر یو۔زین نے اپنے ہاتھ سےاسکا منہ بھینچ کرکہا۔۔
وہ گھبرا کراسے دیکھنے لگی۔۔
تم نے کیا سوچ کر وہ بکواس کی۔کہ میں اور فاریہ ایک ہوجاٸیں۔۔اور تم مجھ سے دورجا رہی ہو۔زین دھاڑا
پری زیب اسے دھکادیکر آگے بڑھنے لگی زین نے اسے اپنی طرف کھینچا اور گدی کے بالوں کو مٹھی میں لیکر اسکا چہرہ اپنے قریب کیا۔۔
پری زیب کو اپنا چہرہ اسکی گرم سانسوں سے جلتا محسوس ہوا۔۔۔۔
میرے دور بھاگو گی اور تمہیں لگتا ہے یہ میں ہونے دونگا۔۔زین نے کہا۔۔
پری زیب بےبسی سے رودی۔۔
زین نے اپنے لبوں سے اسکے آنسوٶں کو چنا۔وہ مزید رونے لگی۔۔
زین نے غصے سے اسے دیکھا اور پھر اسے اپنے گلے سے لگا لیا۔۔
پھر ایک جھٹکے سے وہ مڑا اور سامنے دیوار پہ اپنا ماتھا اتنی زور سے مارا کہ خون تیزی سے نکلنے لگا۔۔پری زیب کی چیخ نکل گٸی۔۔
وہ تڑپ کر اسکی طرف بڑھی۔
زین پاگل ہو گٸے ہو تم۔؟ وہ روتے ہوۓ بولی۔
ششششش۔بند کردو رونا۔۔تم جب جب میری وجہ سے روٶ گی تب تب میں خود کو اذیت دونگا۔
کیا چاہتے ہیں مجھ سے تم۔کبھی دھتکارتے ہو کبھی حق جتاتے ہو“میں آپ کے قریب تھی تو مام سے حقیقت جاننے کے بعد خود مجھے نکالا آپ نے۔۔وہ تڑپ کر بولی۔۔
ایم سوری۔۔زین نے کہا۔۔
سوری کہنے سے سب ٹھیک ہو جاتا ہے کیا؟میرے دل کو لگا تمہاری بےمروتی اور بیوفاٸی کا زخم بھر جاۓ گا کیا؟فری آپی کو بھول پاٶ گے تم۔۔۔؟
ہو گیا تمہارا۔۔تم مجھے یہ بتاٶ میں نے کب کہا تم سے کہ مجھے فاریہ چاہیے۔۔زین نے پوچھا۔۔
تم نے یہ بھی کب کہا کہ تمہیں میں چاہیے۔۔وہ بےبسی سے پوچھنے لگی۔۔
تمہارے ساتھ گزاری مری کی وہ رات۔اور تمہارے ساتھ گزارے وہ وہ جنت جیسی حسین وادی میں رات دن تمہیں بتا نہیں پاۓ کہ پری زیب تم میرے لٸے کیا ہو۔۔؟زین نے حیرت سے پوچھا۔۔
ہاں بتایا۔۔۔ مجھے یہ بتایا ان شب و زور نے کہ میں تمہاری ضرورت ہوں۔ایسی ضرورت جو مرد کبھی کسی فاحشہ سے پوری کرتا ہے اور کبھی کسی طواٸف۔۔۔۔
چٹاخ۔۔اسکی بات پوری ہوتی زین کا زوردار تھپڑ اسکے نازک رخسار پہ پڑا۔۔
تمہاری ہمت کیسے ہوٸی اپنے لٸے یہ الفاظ استعمال کرنے کی اور میرے پاکیزہ جذبات کی توہین کرنے کی۔۔زین دھاڑا۔۔
جیسے تمہاری ہمت ہوٸی ۔۔کبھی فاریہ سے بدلہ لینے کیلٸے میرے جذبات کا مزاق اڑایا اور کبھی مام کا غصہ مجھ پہ نکال کر میرے جذبات کی توہین کی۔اس چیز نے مجھے بتایا کہ میری کیا حیثیت ہے۔اب میں تمہارے ساتھ رہوں گی تو گھٹن ہوگی۔وہ چلاٸی۔۔
زین کی آنکھوں میں کرب اتر آیا۔۔۔
ٹھیک ہے میں اس سےکرونگا شادی جس سے بھی تم کرواٶ گی۔مگر میری ایک شرط ہے کہ اپنے ہاتھوں سے میری سیج سجاٶ گی۔۔میری دولہن کو اپنے ہاتھوں سے سجاٶ گی۔زین نے کہا۔۔
پری زیب نے کرب سے آنکھیں میچ لیں۔۔
سوچ کر ہی درد ہو رہا ہے تمہیں تو سوچو دیکھو گی کیسے۔۔زین نے طنزیہ انداز میں کہا۔۔
ٹھیک ہے مگر میری شادی میں بھی تم یہ سب کرو گے۔۔وہ بولی۔۔
ہاہاہاہا۔۔۔تمہیں کیوں لگتا ہے پری زیب کہ تمہیں میں آباد ہونے دونگا کسی مرد کیساتھ۔تمہیں کوٸی دیکھے تومجھے برداشت نہیں تو کسی کی ہونا کیسے برداشت کر سکتا ہوں۔۔یہاں بربادیوں کی ایک داستان رقم کرونگا میں۔نہ خود کو آباد کرونگا نہ تمہیں آباد ہونے دونگا۔۔وہ اسکے شانوں کو زور سے تھامے سفاک لہجے میں بولا۔۔
پری زیب اسکی بات پہ سن ہو گٸی۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ناٸلہ آفندی پری زیب اور زین کی لاٶنج میں ہوٸی گفتگو سن کر سر تھام کر بیٹھی تھی۔۔
پھر وہ گاڑی نکال کر ثانیہ سے ملنے نکل آٸی۔۔
وہ ثانیہ کے لاٶنج میں بیٹھی اسکا انتظار کر رہی تھی۔
کچھ دیر بعد ثانیہ تیزی سے اندر داخل ہوٸی۔۔
میم آپ نے مجھے بلا لیا ہوتا۔۔ثانیہ نے کہا۔۔
ناٸلہ آفندی تھکے تھکے انداز میں اسے دیکھنے لگی۔۔اور پھر زین اور پری زیب کی ساری آج کی حرکت بتاٸی۔ثانیہ حیرت سے دیکھنے لگی۔۔
یہ پاگل ہو گٸے ہیں دونوں۔۔ثانیہ نے ناگواری سے کہا۔۔
مجھے بتاٶ ثانی انکے پاگل پن کا کیا علاج کروں۔
آپ حقیقت بتادیں انکے رشتے کی۔۔ثانیہ نے کہا۔۔
نہیں بتا سکتی۔زبیر کا جھکا ہوا سر نہیں دیکھ سکتی۔۔اور زین اور فاریہ تو بری طرح ٹوٹ جاٸیں گے۔۔ہمیں پری زیب کو سمجھانا ہوگا۔۔ناٸلہ آفندی نے کہا۔۔
اورآپ کو لگتا ہے پری زیب سمجھے گی۔ثانیہ نے پوچھا۔۔
سمجھنا ہوگا۔زین اور وہ اب ایک دوسرے کی شکل دیکھنا نہیں چاہتے۔تو اب دونوں کو ایک ساتھ رکھنے کیلٸے کچھ کرنا ہوگا۔۔ناٸلہ آفندی نے کہا۔۔
میرے پاس ایک آٸیڈیا ہے۔۔۔
کیسا آٸیڈیا۔۔۔؟ناٸلہ آفندی نے سیدھے ہوتے ہوۓ پوچھا۔۔۔
اغوا۔۔۔۔۔۔۔ثانیہ بولی۔۔
کس کا اغوا۔۔۔؟ناٸلہ آفندی نے حیرت سے پوچھا۔
آپ کے بیٹے بہو کا اغوا۔۔اور پھر اسکے بعد میں انہیں اپنے جنگل والے فارم ہاٶس میں رکھوں گی۔اور اس فارم ہاٶس کا دروازہ انڈرگراٶنڈ ہے۔پاگلوں کیطرح دروازہ ڈھونڈتے رہیں گے اور پھر ایک دوسرے سےلڑیں گے۔ایک دوسرے کا خیال بھی رکھیں گے۔تو شاید کچھ احساس ہو۔۔ثانیہ نے کہا۔۔
یہ زیادہ فلمی نہیں ہے۔۔ناٸلہ آفندی نے کہا۔۔
آپ کا بیٹا بہو بھی تو فلمی ہیں۔۔ثانیہ نے مسکرا کر کہا۔۔
ناٸلہ آفندی بھی مسکرا دی۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے
