Mein Kese Kahun by Umme Emman Fatima NovelR50540 Mein Kese Kahun (Episode 25)
Rate this Novel
Mein Kese Kahun (Episode 25)
Mein Kese Kahun by Umme Emman Fatima
یہ بات تم نے مجھے بتاٸی کیوں نہیں زین۔۔پری زیب نے لب کاٹتے ہوۓ پوچھا۔۔
جس دن شو کا پہلا دن تھا تب ہی مجھے پتا چلا اورتب اگر میں تمہیں کچھ بتاتا چاہتا تو تمہیں جھوٹ ہی لگتا۔۔۔۔
لیکن زین آپکو بعد میں بتانا چاہیے تھا۔۔وہ نم لہجے میں بولی۔۔۔
ایم سوری۔۔زین نےاسکا ہاتھ تھام کر کہا۔۔۔
نو ایم سوری ،غلطی میری ہی ہے میں نے اسے اپنی لاٸف میں زیادہ امپورٹینس دے دی۔اور میرے بارے میں غلط سوچنےلگا۔۔وہ سر جھکاکربولی۔۔
ایسا نہیں ہے۔وہ تم سے پہلی نظر میں پیار کا دعوی کر رہا ہے۔تمہاری غلطی نہیں ہے وہ ہے ہی گھٹیا۔۔زین نے اسےساتھ لگاتے ہوۓ کہا۔۔
زین اب کیا ہوگا۔۔وہ گھبرا کر بولی۔۔
کچھ نہیں ہوگا پری زیب۔۔ناٸلہ میم سنبھال لینگی۔۔ثانیہ نے کہا۔۔۔
بالکل پری میم۔۔ناٸلہ میم کی این جی او لڑکیوں کو جو ہراس کرتے ہیں ان کے خلاف لڑتی ہے۔۔تو آپ تو انکی بہو ہے۔میں نے ابھی ناٸلہ میم کو بتایا تو فیضان علی کا حشر قریب ہے۔۔صفدر نے مسکرا کر کہا۔۔۔
یہ تو ہے۔۔میری سپر مام ہر چیز کو سنبھال لیتی ہیں۔۔زین نے فخریہ لہجے میں کہا۔
ہمممممممم۔۔۔پری زیب پرسوچ لہجے میں بولی۔۔
چلو پری ہم باہر کچھ کھانے چلتے ہیں۔زین نےکہا اور پھر دونوں باہر نکل گٸے۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ کیا پاگل پن تھا ثانیہ۔اگر تمہیں کچھ ہو جاتا تو؟ صفدر برہم لہجے میں بولا۔۔۔
اوووووہ ہیرو۔۔چلا مت مجھ پہ۔۔۔۔۔
ارے چلا نہیں رہا یار۔صفدر نے جلدی سے کہا۔۔
اس سے زیادہ کیا چلانا ہوتا ہے۔۔ثانیہ نے ناگواری سے کہا۔۔
اچھا سوری۔وہ کان پکڑ کر بولا۔۔
ثانیہ نے ناگواری سے رخ پھیر لیا۔۔۔
ثانیہ یار یہ میں تو ڈر ہی گیا تھا۔صفدر نے اسکے ہاتھ پہ ہاتھ رکھ کر کہا۔۔
اےےے پاگل ہے کیا۔۔؟ کب سے بہانے سے چھوۓ جا رہاہے مجھے۔۔وہ تپی۔۔
ثانیہ آٸی لو یو۔۔وہ بے چین ہوکر بولا۔۔
ثانیہ ساکت اسے دیکھنے لگی۔پھر وہ کھلکھلا کر ہنس دی۔۔
تجھے میں سولہ سال کی الہڑمٹیار لگتی ہوں جو یہ تیرے آٸی لو یو کے لولی پاپ کو تحفہ سمجھ لوں گی۔وہ تڑخ کر بولی۔
مذاق نہیں کر رہا“ایم سیریٸس۔۔صفدر نے جھنجھلا کر کہا۔۔
اپنی شکل لیکر یہاں سے نکل۔ورنہ میں حشر کر دونگی تیرا۔۔وہ غراٸی۔۔
صفدر لب بھینچ کر اسے دیکھنے لگا۔۔
پھر سر جھٹک کر باہر آ گیا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زین اورپری زیب باہر ہاسپیٹل کی لابی میں بیٹھے۔۔صفدر کو تھکے تھکے قدموں سے چلتا دیکھ کر وہ ٹھٹھکے۔۔پھر وہ تیزی سے اٹھ کر اسکی طرف بڑھے۔۔
کیا ہوا صفدر۔۔۔؟ زین نے بےچینی سے پوچھا۔
سر میں نے اسکو آٸی لو یو بولا۔۔تو مجھے اتنا کچھ سنا گٸی۔۔۔
ہووووو۔مگر کیوں۔۔۔؟ پری زیب نے آگے بڑھ کر پوچھا۔۔۔
پتا نہیں میم۔۔۔صفدر سر جھکا کر بولا۔۔
آپ فکر مت کریں میں بات کرتی ہوں۔۔پری زیب نے تسلی دی۔
پھر کچھ دیر بعد ثانیہ اپنے کپڑے چینج کرکے باہر نکلی۔وہ دونوں گھبرا کر اسکی طرف لپکے۔۔
تم ایسے کیسے اٹھ کر آ گٸی۔
چپ رہو سب کے سب اور چلو میرے پیچھے۔۔۔وہ ناگواری سے بولی۔۔
تو وہ سب جلدی سے اسکے پیچھے ہو لٸے۔۔
پھر وہ صفدر کیساتھ آگے فرنٹ سیٹ پہ بیٹھ گٸی اور اسے راستہ سمجھانے لگی۔۔
ہم یہاں ٹھہریں گے اور صفدر تم ناٸلہ میم کو سب کچھ بتاٶ۔۔ثانیہ نے کہااور پھر نڈھال سی اندر چلی آٸی۔۔۔۔۔
صفدر نے اثبات میں سر ہلا دیا۔اور جلدی سے ناٸلہ آفندی کا نمبرملانے لگا۔۔
پھر وہ ناٸلہ آفندی کو سب بتا کر واپس آیا تو پری زیب اور ثانیہ ایک صوفے پہ بیٹھی تھی۔۔
اور زین سامنے صوفے پہ نیم دراز موباٸل یوز کر رہا تھا۔۔۔
ہو گٸی بات۔۔زین اسے دیکھ کر بیٹھتےہوۓ بولا۔۔
یس سر۔۔میم نے کہا کہ اور وہ صبح سویرے ہمیں واپسی کیلٸے نکلنے کا کہہ رہی اور ہم باۓ روڈ ہی جا رہے ہیں کراچی۔وہ کہتی فکر نہیں کرنی۔صفدر نے کہا۔۔۔
زین سر ہلا کر اٹھ کھڑاہوا۔۔تینوں نے چونک کر دیکھا۔
تم کدھر جا رہے ہو۔۔۔؟ پری زیب نے حیرت سے پوچھا۔۔۔
کچھ کھانے کے لٸے بنانے جا رہا ہوں۔۔زین نے کہا۔۔۔
میں بناتی ہوں نہ۔وہ جلدی سے بولی۔
نہیں یارا۔۔تم بیٹھو ثانیہ پاس۔۔میں اور صفدر کھانا بناٸیں گے۔۔زین نے کہا۔۔۔
اوکے ایز یو وش۔۔پری زیب نےکہا۔۔
پھر زین اور صفدر کچن کیطرف چلے گٸے۔۔پھر دو گھنٹوں بعد وہ ٹرالی گھسیٹتے ہوۓ لاٶنج میں آۓ تو پری زیب اور ثانیہ سیدھی ہوکر بیٹھ گٸی۔۔
دونوں نے کھانا ڈرتے ڈرتے ڈالا مگر جب کھایا تو کھانا بہت لذیذ تھا۔۔۔
ماٸی گاڈ۔۔۔آپ دونوں تو شیف بھی نکلے۔۔پری زیب نے کہا۔۔
ان دونوں کے چہرے پہ رونق آ گٸی۔۔۔
پھر انہوں نے خوشگوار ماحول میں کھانا کھایا۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پری تم نے بات کی ثانیہ سے۔۔۔زین نے اپنے کندھےپہ سر رکھ کر بیٹھی پری زیب سے پوچھا۔۔۔
جی کی تھی۔۔مگر وہ کہنےلگی کہ اسے صفدر میں کوٸی انٹرسٹ نہیں ہے اور زین میں اسے مجبور نہیں کر سکی۔۔وہ شرمندگی بھرے لہجے میں بولی۔۔
اٹس اوکے۔صفدر خود ہی مناتا رہے اسکو۔۔زین نے مسکرا کر کہا۔۔۔۔۔۔۔
ابھی وہ بیٹھے ہی تھے باہر سے انہیں برتن پٹخنے کی آوازیں آنے لگی۔۔
وہ گھبرا کر تیزی سے باہر کیطرف لپکے۔۔۔
تو ثانیہ سخت غصے میں صفدر کو گھور رہی تھی۔صفدر سرخ چہرے کیساتھ کھڑا تھا۔۔
کیا ہوا ثانیہ۔؟ پری زیب نے ڈرتے ڈرتے پوچھا۔۔۔
یہ گھٹیا انسان صبح سےمیرے عشق میں مبتلا ہوا ہے۔کتنی بار بہانے سے ہاتھ لگایا اس نے مجھے۔۔میری برداشت سے باہر ہوتاجا رہا ہے۔۔ثانیہ نے چیخ کر کہا۔۔۔
ثانیہ تم بات کا ایشو بنا رہی ہو۔۔صفدرنے لب کاٹتے ہوۓ کہا۔۔۔
میں ایشو بنا رہی ہوں۔۔تم مردوں کو صرف عورت کا جسم چاہیے ہوتا ہے۔۔اور۔۔۔
بسسس۔بہت سن لی بکواس تمہاری۔تم ایک گھمنڈی لڑکی ہو۔اور غلطی ہو گٸی مجھ سے جو تمہیں دل میں بسا لیا۔۔مگر اب خود سے نفرت محسوس ہو رہی ہے۔کہ تمہیں پسند کیا۔۔صفدر نے غصے سے کہا۔۔
صفدر ریلیکس ہو جاٶ۔۔۔زین نے اسکے کندھے پہ ہاتھ رکھ کر کہا۔
صفدر نے غصے سے سر جھٹکا اور وہاں سے چلاگیا۔۔۔
ثانیہ بھی ہولے ہولے چلتی ہوٸی اپنے روم کیطرف آٸی۔۔پھر کرب منہ پہ ہاتھ رکھ کر بیڈ کیساتھ لگ کر زمین پہ بیٹھتی چلی گٸی۔۔۔
پری زیب تیزی سے اسکی طرف بڑھی۔۔
ثانیہ تم ٹھیک ہو۔۔پری زیب نے پوچھا۔۔۔
ثانیہ اسکے گلے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رودی۔۔
ثانیہ کیاہوا ہے کچھ مجھے بھی بتاٶ۔۔اور مجھے تم سے یہ بھی پوچھنا تھا کہ تم نے ہماری جان بچانے کیلٸے اپنی جان خطرے میں کیوں ڈالی۔پری زیب نے پوچھا۔۔
ثانیہ نے اپنے ہاتھ پھیلا کر دیکھا۔پھر اس نے زور سے آنکھیں میچی۔۔
پری زیب میں کوٸی عام لڑکی نہیں ہوں۔۔میں ایک کریمنل ہوں ڈان ہوں۔۔پولیس میری تلاش میں ہے۔میری اصلیت کوٸی نہیں جانتا۔
پری زیب کا منہ حیرت سے کھل گیا۔۔
تتت۔تم ایک ڈان ہو۔۔۔پری زیب نے ہکلا کر پوچھا۔۔
ثانیہ نے اثبات میں سر ہلا دیا۔۔
میم ناٸلہ اور اب تم ہی میرا راز جانتی ہو۔۔۔وہ سر جھکا کر بولی۔۔۔
مام جانتی ہیں تمہیں۔۔۔؟پری زیب کی آنکھیں پھیل گٸی۔۔
دو سال پہلے مجھے گولی لگی تھی میم نے میری جان بچاٸی تھی۔
ثانیہ نے کہا۔۔
مگر تم لڑکی ہوکر ڈان کیوں بنی۔جبکہ تم دیکھنے میں بہت نازک سی ہو۔۔
ثانیہ نے کرب سے آنکھیں میچ لیں۔اور اسے اپنا ماضی بتانے لگی۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وقار احمد او سلمی کے تین بچے تھے۔۔سب سے بڑی بیٹی ثانیہ وقار۔ہانیہ وقار،حسان وقار۔
یہ پانچ افراد پہ مشتمل گھرانہ بہت ہی عزت کی نظر سے دیکھا جاتاتھا۔۔کیونکہ سلمی محلے کی بچیوں کو قرآن پڑھاتی تھی۔۔
اورسولہ ثانیہ کا آج کالج میں فرسٹ ڈے تھا۔۔وہ بولاٸی بولاٸی سی پھر رہی تھی۔
آپی کیا ہو گیا ہے آپکو۔۔جتنا آپ لوگوں سے ڈرتی ہو اتنا ہی ڈراتے ہیں یہ لوگ۔۔آپ بہادر بنٸے۔۔ہانیہ نے جھلا کر کہا۔۔
ہنی میں کیا کروں یار مجھے بہت ڈر لگتا ہے۔۔ثانیہ نے انگلیاں چٹخاتے ہوۓ کہا۔۔
اچھا چلیں ٹینشن نہ لیں۔ہانیہ نےکہا۔۔
ثانیہ جب کالج پہنچی تو ہر طرف گہما گہمی تھی۔
وہ ڈرتی ڈرتی کلاس میں پہنچی تو وہاں بیٹھی اسکے کلاس فیلوز نے اسے حیرت دیکھا۔۔۔
پھر ان میں سے ایک لڑکا اٹھ کر اسکی طرف بڑھا۔۔
ثانیہ کا دل اچھل کر حلق میں آگیا۔۔
سہمی ہوٸی ہرن لگ رہی ہو۔۔وہ لڑکا پاس آکر بولا۔
ثانیہ کا دل کانپ گیا۔۔
ویسے میرا نام وسیم ہے۔وہ اسکی ٹھوڑی سے پکڑ کر چہرہ اونچا کرتے ہوۓ بولا۔۔
ثانیہ نے کرب سے آنکھیں میچ لیں۔۔
پھر وہ ہر روز اسے تنگ کرنے لگا۔ثانیہ سہم کر رو پڑتی تو وہ اسکی جان چھوڑ دیتا تھا۔۔۔
پھر وہ دن بہت ہی کرب ناک تھا۔صبح سے بارش ہو رہی تھی تو ثانیہ نےکالج سے چھٹی کر لی تھی۔
ثانیہ أور سلمی کچن میں تھیں اور باقی باہر بیٹھے تھے جب دروازہ زور سے بجا۔۔
حسان نے دروازہ کھولا تو وسیم اسے پیچھے ہٹاتا اندر داخل ہوا۔۔۔
ارے انکل کون ہیں آپ۔۔۔؟دس سالہ حسان نے پوچھا۔۔
تجھے انکل دکھتا ہوں“جیجو بول جیجو۔۔وسیم نے خباثت سے کہا۔۔۔۔
پھر وہ آکر وقار احمد کے سامنے بیٹھ گیا۔۔
یہ کیا بدتمیز ہے،کون ہو تم؟۔۔۔وقار احمد دھاڑے۔۔۔
ثانیہ اور سلمی تیزی سے باہر آٸیں۔۔سامنےوسیم کو دیکھ کر ثانیہ کا رنگ زرد پڑگیا۔۔
وسیم چلتا ہوا پاس آنے لگا تو ثانیہ جلدی سے سلمی کے پیچھے چھپ گٸی۔۔
اس نے کھینچ کر سلمی کو کھینچ کر سامنے کیا۔۔
تم نے چھٹی کرنی تھی تو کل کیوں نہیں بتایا۔۔وقار احمد کا خون کھول اٹھا۔۔
میری بیٹی کا ہاتھ چھوڑے۔وہ آگے بڑھتے ہوۓ بولے اور پھر ایک زور دار تھپڑ وسیم کو مارا۔۔
وسیم نے خون رنگ آنکھوں سے دیکھا اور پھر پسٹل نکال کر وقار احمد پہ گولی چلا دی۔۔حسان غصے سے وسیم کو چمٹ گیا۔وسیم نے اسکے سر میں گولی مار دی۔پھر وہ تیزی سے ثانیہ کیطرف بڑھا۔
سلمی نے اسے روکنا چاہا تو اس نے سلمی کو بھی مار دیا۔
پھر وہ ثانیہ کو پکڑ کر گھسیٹتا ہوا وہاں سے نکل گیا۔۔اور ثانیہ کی چیخ و پکار کے باوجود وہ اسے گھسیٹتا ہوا گاڑی میں ڈال کرلے گیا۔۔اور ثانیہ گاڑی میں گرتے ہی ہوش و حواس سے بیگانہ ہو گٸی۔اوپر چھت پہ کھڑی ہانیہ کا وجود زمین پہ گرتا چلا گیا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ثانیہ کی جب آنکھ کھلی تو کمرے میں گھپ اندھیرا تھا۔وہ گھبرا کر آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھنے لگی۔
پھر وہ دروازے کے پاس آٸی تو دروازہ باہر سے لاک تھا۔۔وہ پوری جان سے دروازہ پیٹنے لگی۔۔
کچھ دیر بعد دروازہ کھول کر وسیم اندر آیا اور خباثت سے مسکرایا۔۔
مجھ سے پنگا لینے کا انجام دیکھا۔تمہارا سارا خاندان لاوارثوں کیطرح بیٹھا ہے اور تمہیں پہلی نظر میں دیکھا تو مجھے پسند آگٸی۔میں کالج میں جانتی کیوں جاتا۔لڑکیاں پھسلاتا پھر انکو بیچتا اور تمہیں دیکھ کر مجھے لگا کہ اب کی بار کچھ دن اپنے ساتھ رکھوں گا پھر تمہیں بیچوں گا۔اور ہاں آج رات تم تیار رہنا سہاگ رات ہے ہماری۔۔وہ اسکے پاس آتے ہوۓ بولا۔۔
ثانیہ کے اندر نفرت کی لہر دوڑ گٸی۔وہ اس پہ جھپٹی۔وسیم کو اس سے توقع نہیں تھی۔وہ کراہتا ہوا منہ پہ ہاتھ رکھ کرنیچے بیٹھ گیا۔۔ثانیہ تیزی سے باہر کو بھاگی۔وسیم بھی خود کو سنبھالتا تیزی سے پیچھے بھاگا۔۔
وہ لاٶنج میں آکر رکی اور وسیم کی ٹیبل سے پسٹل اٹھا کر اس پہ تان لی۔۔
تو مجھ پہ کانپتے ہاتھوں سے نشانہ لگاۓ گی کیا۔۔وسیم طنزیہ انداز میں بولا۔
ثانیہ کی آنکھوں میں خون اتر آیا۔وسیم منہ اوپر کٸے ہنسی جا رہا تھا۔۔
ثانیہ نے دل میں اللہ کو پکارا اور آنکھیں بند کرکےگولی چلا دی جو کہ وسیم کے ماتھے کے بیچوں بیچ لگی کہ وہ دوسرا سانس بھی نہ لے سکا۔۔ثانیہ کتنی دیر بےیقینی سے دیکھتی رہی پھر وہ تیزی سے آگے بڑھنے لگی تو اسکا پاٶں کسی چیز سے ٹکرایا۔۔وہ تیزی سے مڑی تو بریف کیس تھا۔اس نے کھول کر دیکھا تو اس میں ہزار ہزار کے نوٹوں کی گڈیاں تھی۔وہ بیگ اٹھا کر چہرے پہ نقاب ڈال کر باہر نکلی تو باہر سڑک سنسان تھی۔وہ تیزی سے دوڑ لگاتی ایک جگہ پہ پہنچی جہاں ٹیکسی کھڑی تھی۔۔
وہ ایک ٹیکسی میں بیٹھ گٸی۔وہ ٹیکسی والا اسے دیکھ کر چونکا۔۔۔
پھر ثانیہ کے راستہ بتانے پہ چپ چاپ ٹیکسی چلانے لگا۔پھر ٹیکسی اسکی گلی میں جاکر رکی تو وہ کانپتے ہاتھوں سے اپنے کانوں سے بالیاں اتارنے لگی۔کیونکہ بریف کیس کھول کر وہ پیسے نہیں نکال سکتی تھی۔۔
یہ بالیاں رکھ لو،میرے پاس پیسے نہیں ہے۔ثانیہ بولی۔
ایسے کیسے بالیاں رکھ لوں ہو سکتا نقلی ہوں۔وہ بگڑکر بولا۔۔
نہیں اصلی ہیں۔ثانیہ نم لہجے میں بولی۔
چل رہنے دے۔معاف کیا۔۔۔وہ ٹیکسی ڈراٸیور بولا اور گاڑی اڑا کر وہاں سے چلا گیا۔۔
وہ اپنے گھر کے سامنے چلتی ہوٸی آٸی تو اسکے گھر کے سامنے پولیس کی بھاری نفری کھڑی تھی۔۔
وہ اپنا منہ چھپاتے ادھر کھڑی عورتوں کے پاس آٸی۔۔
توبہ توبہ۔وقار صاحب کی بیٹی کادوستانہ تھا بڑا کسی مرد سے۔وہ سب کو مار کر سواۓ چھوٹی بیٹی کے۔اس بڑی کو لے گیا۔اتنی عزت تھی خاک میں مل گٸی۔۔وہ عورتیں آپس میں لگی تھیں۔۔۔۔ثانیہ نے کرب سے آنکھیں بند کی پھر کونے میں ساکت بیٹھی ہانیہ کو دیکھا۔۔
اور پھر تیزی سے واپس مڑ گٸی۔اور اس نے وہ رات اس نے فٹ پاتھ پہ گزاری۔۔پھر اگلے دن سب کی لاشیں ملی پوسٹ مارٹم کے بعد اور جب جنازہ اٹھا ہانیہ نے زور زور سے ہنسنا شروع کر دیا۔۔ثانیہ ایک منہ چھپا کر بیٹھی اپنے حلق سے اٹھتی چیخیں دبا رہی تھی۔پھر تدفین کے بعد وہ پوری رات قبرستان میں بیٹھ کر روتی رہی۔اگلے دن صبح وہ جب آٸی تو ہانیہ کو پاگل خانے کی وین لیکر چلی گٸی۔ثانیہ کا دل کیا وہی دھاڑیں مار مار کر روۓ۔
پھر ثانیہ اس بریف کیس کو لیکر ایک بلیک بیلٹ ماسٹر کے پاس گٸی۔۔
اور بریف کیس کھول کر اسکے سامنے رکھ دیا۔۔
مجھے جوڈو کراٹے سیکھنے ہیں اور یہ قیمت ہے۔اس آدمی نے حیرت سے دیکھا۔
پھر چپ چاپ بریف کیس رکھ لیا۔ثانیہ نے چھ ماہ جوڈو کراٹے سیکھے۔پھر جب وہ رخصت ہونے لگی تو ماسٹر نے اسے ایک رات کی آفر دی۔ثانیہ کے چہرے پہ پھیکی سی مسکراہٹ آگٸی۔اور مردوں پہ بےاعتباری اور نفرت کی گرہ مزید مضبوط ہو گٸی۔۔ثانیہ نے ماسٹر کے سیکھاۓ ہنر سے ماسٹر کو معذور کردیا۔۔
اور پھر دوزانو اسکے سامنے بیٹھ گٸی۔۔
تمہاری آنکھوں میں ہوس دیکھ سکتی تھی مگر چپ تھی۔کبھی سوچا تھاتم اپنے ہنر سے ہی موت سے بدتر زندگی جٸیوں گے۔۔وہ طنزیہ انداز میں بولی
پھر ثانیہ اسکے کمرے سے اسکا مال سمیٹ کر فرار ہو گٸی۔۔۔
اسکا اگلا ٹارگٹ ہانیہ کو پاگل خانے سے نکالنا تھا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
