Mein Kese Kahun by Umme Emman Fatima NovelR50540 Mein Kese Kahun (Episode 31)
Rate this Novel
Mein Kese Kahun (Episode 31)
Mein Kese Kahun by Umme Emman Fatima
ناٸلہ آفندی نے مسکراتے ہوۓ اندر داخل ہوتے زین اور پری کو حیرت اور خوشی سے دیکھا۔۔
زین کے قدم انکو دیکھ کر سست پڑ گٸے۔مگر پری زیب جلدی سے جاکر ناٸلہ آفندی کے گلے لگ گٸی۔
ایم سو ہیپی مام۔۔۔پری زیب بولی۔۔
ہمیشہ ایسے ہی خوش رہو۔ناٸلہ آفندی نے کہا اور پھر بانہیں پھیلا کر زین کو پاس بلایا۔۔
پری زیب تمہارے لاڈ ختم ہو جاٸیں تو روم میں جاکر تیار ہو جانا کیونکہ ہم لنچ ڈیٹ پہ جا رہے ہیں۔۔زین نے ناٸلہ آفندی کو اگنور کرتے ہوۓ کہا۔۔۔
اور پھر تیز تیز قدم اٹھاتا واپس باہر نکل گیا۔
ناٸلہ آفندی کے چہرے پہ سایہ سا لہرا گیا۔۔
اٹس اوکے مام وہ ٹھیک ہو جاٸیں گے۔۔بٹ آپ اور ثانیہ نے جو بھی کیا بہت اچھا کیا۔۔پری زیب نے کہا۔
ناٸلہ آفندی نے اثبات میں سر ہلا دیا۔۔
تم جاکر تیاری کرو۔۔ناٸلہ آفندی نے کہا۔
پری زیب سر ہلا کر اپنے روم کیطرف بڑھ گٸی۔۔
ایم سوری پری بیٹے میں آپ کے والد کی طبیعت کا چھپا گٸی آپ سے مگر آج آپ دونوں کی خوشیوں کو خراب نہیں کرونگی۔۔ناٸلہ آفندی نے دل ہی دل میں پری زیب کو مخاطب کیا۔۔۔
اور پھر سر جھٹک کر موباٸل پہ اپنا کام کرنے لگی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
احمد اور احمر پروفیسر جمال قریشی کے داٸیں باٸیں بیٹھے تھے۔۔
احمد بیٹے۔۔۔انہوں نے احمد کو پکارا۔۔
جی بابا صاحب۔۔
پری زیب کو لیکر آٶ اپنے گھر اب میں مزید اس دھوکے باز فیملی کا حصہ نہیں رہنے دے سکتا۔۔اور احمر تم مجھے گھر لیکر جانے سے پہلے فاریہ سے بولو کہ وہ میرے گھر سے چلی جاۓ میں کسی دھوکے باز کو اپنے گھر برداشت نہیں کر سکتا۔۔جمال قریشی صاحب نے کہا۔۔۔
احمد اور احمر ایک دوسرے کو دیکھنے لگے اور پھر وہ دونوں باہر نکل آۓ۔۔اور احمد آفندی ولا کیطرف چل پڑا اور احمر گھر کیلٸے نکل پڑا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ساٸرہ آپی چلیں کھانا تیار ہے اور ہمیں ہاسپیٹل کیلٸے نکلنا ہے۔فاریہ نے کہا۔۔
ساٸرہ اور وہ باہر نکلنے ہی لگے تھے کہ احمر سر جھکاۓ اندر داخل ہوا۔۔ساٸرہ اور فاریہ کا دل گھبرا سا گیا۔
احمر آپ ٹھیک ہیں۔فاریہ جلدی سے پاس آکر بولی۔۔۔
احمر نے سر اٹھا کر خالی خالی نظروں سے اسے دیکھا وہ کبھی اسے کانٹا بھی چھبنے نہیں دیتا تھا مگر آج وہ اسے اس گھر سے نکالنے آیا تھا۔۔
احمر نے زور سے آنکھیں بند کرکے ہمت مجتمع کی۔۔
ساٸرہ بھابھی۔۔فاریہ کے بیگ تیار کرنے میں فاریہ کی مدد کر دیں کیونکہ ہم بابا کو گھر لا رہے ہیں تو فاریہ کو اس گھر سے جانا ہوگا۔۔احمر نے کہا۔۔
فاریہ بے یقینی سے اسے دیکھے گٸی۔۔
احمر نے نظریں چرا لیں۔۔
تمہارے لٸے کسی ہوٹل روم کا انتظام کر دیتا ہوں۔۔
اس کی کوٸی ضرورت نہیں ہے مسٹر احمر۔میں کوٸی کمزور یا بزدل لڑکی نہیں ہوں۔جسکو آپ کی مدد کی ضرورت ہوگی۔۔میں مینج کر لونگی۔۔فاریہ نے مضبوط لہجے میں کہا اور پھر تیزی سے اپنے روم کیطرف بڑھی۔۔کچھ دیر بعد وہ واپس نکلی تو اسکے ہاتھ میں ایک اٹیچی تھا اور ہینڈ کیری تھا۔۔
پھر وہ ساکت جامد کھڑی ساٸرہ کے پاس آٸی اور اسکے گلے لگ گٸی۔۔
پھر وہ احمر پہ نگاہ ڈالے بغیر وہاں سے نکلتی چلی گٸی۔
ساٸرہ اسکے جاتے ہی زمین پہ بیٹھتی چلی گٸی۔۔
احمر نم آنکھوں سے انہیں دیکھتا ہوا انکے پاس زمین پہ بیٹھ گیا۔۔
ایم سوری بھابھی۔بابا کے حکم کو ٹال نہیں سکا۔۔احمر نم لہجے سے بولا۔۔
احمر بھاٸی۔وہ کہاں جاۓ گی۔کوٸی بھی تو نہیں ہے ہمارا اس گھر والوں کے علاوہ۔وہ بہت محبت کرتی ہے آپ سے۔مر جاۓ گی آپ کے بنا۔۔ساٸرہ روتے ہوۓ بولی۔
وہ مجھ سے پیار نہیں کرتی بھابھی۔وہ صرف زندگی گزار رہی تھی۔جی نہیں رہی تھی۔اور زین اسکو بہت خوش رکھے گا۔۔احمر نے کہا۔۔
آپ کو ایسا کیوں لگتا کہ وہ زین کو اپناۓ گی۔آپ کو لگتا وہ زین کیطرف گٸی ہے۔مگر میں اسے موت کیطرف جاتے دیکھ رہی ہوں۔۔ساٸرہ تڑپ کر بولی۔۔
اللہ نہ کرے بھابھی۔۔احمر تڑپ ہی اٹھا۔۔
جاٸیے احمر بھاٸی۔آپ جو مرضی کریں آج سے کچھ نہیں کہوں گی۔ساٸرہ نے کہا۔۔
احمر بوجھل دل سے ہاسپیٹل جانے کیلٸے نکل آیا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زین نہا کر نکلا تو پری زیب اپنی تیاری مکمل کرکے بیڈ پہ بیٹھی سینڈل پہن رہی تھی۔اس نے بلیک میکسی پہنی تھی فل سلیوز کی۔اور بالوں میں کرل ڈال کر آگے سے فرنچ بناٸی تھی۔ہونٹ ریڈ کلر کی لپ اسٹک سے مزین تھے۔۔
زین تو اسے دیکھ کر مبہوت سا رہ گیا۔۔
وہ سینڈل پہن کر اٹھی اور تھوڑا سا لڑکھڑاٸی توزین نے تیزی سے اسے بانہوں میں بھر لیا۔۔
اوففففففففف،بچے کی جان لوگی کیا۔۔زین نے اسے نگاہوں میں سموتے ہوۓ کہا۔۔۔
چھوڑیں مجھے۔وہ مچلی۔۔
ابھی پکڑا ہی کہاں ہیں۔زین کی ذومعنی بات پہ پری زیب بلش کرنے لگی۔۔
اتنا خوبصورت نہیں دکھنا چاہیے تھا آپ کو مادام ہم تو خود کو سنبھال نہیں پا رہے۔زین نے اسکے ناک کو دباتے ہوۓ کہا۔۔
ہم لنچ کیلٸے لیٹ ہو رہے ہیں اور ابھی تم کو تیار ہونا ہے۔وہ جھلاٸی۔۔
زین نے ہولے سے اسے چھوڑا اور جلدی سے شرٹ اور کورٹ پہن کر بال بنا کر اسکی طرف متوجہ ہوا۔۔
آٸی ایم ریڈی جاناں۔۔زین نے کہا۔
چلیں۔۔زین نے کہہ کر بازو فولڈ کیا پری زیب اسکا بازو تھام کر نیچے اتری تو ناٸلہ آفندی نے محبت سے انہیں دیکھا۔
پھر وہ لوگ اس سے پہلے باہر نکلتے کہ احمد اندر داخل ہوا۔۔
پری زیب پرجوش انداز میں اسکی طرف بڑھی۔
گڑیا چلو میرے ساتھ ،بابا کا حکم ہے کہ اب تم اس شخص کیساتھ نہیں رہو گی۔۔ہمیں سب پتا چل چکا ہے۔احمد نے کہا۔۔
یہ کیا پاگل پن ہیں احمد صاحب۔پری اور زین اب اپنی لاٸف کو سیرٸیس لے رہے ہیں اور آپ انکو الگ کرنے آ گٸے۔ناٸلہ آفندی نے تلخ لہجے میں کہا۔۔
پری زیب چلو۔۔۔احمد نے دھاڑ کر کہا۔۔
پری زیب نفی میں سر ہلاتی پیچھے ہٹتی ہوٸی زین کے پاس آٸی اور اسکا بازو دبوچ کر کھڑی ہو گٸی۔۔
پری زیب تمہیں سناٸی نہیں دے رہا۔احمد نے کہا اور پھر پری زیب کا بازو کھینچ کر باہر کیطرف لپکا۔زین نے تڑپ کر اسے کھینچ کر اپنی بانہوں میں چھپا لیا۔
احمد بھاٸی آپ میری پری کو مجھ سے الگ نہیں کر سکتے۔میں آپ کی بہت عزت کرتا ہوں۔اس لٸے چپ ہوں۔زین نے لب کاٹتے ہوۓ کہا۔۔
یہ تمہاری ماں نے تم لوگوں کو بتایا ہی نہیں ہوگا کہ ہمارے بابا ہاسپیٹل میں ہیں۔یہ عورت صرف تمہارا سوچتی کہ اسکا زین خوش رہے باقی دنیا جاۓ بھاڑ میں۔احمد نے تپ کر کہا۔۔
بابا۔۔بابا ہاسپیٹل کیوں ہیں۔۔؟ پری زیب نے متوحش لہجے میں پوچھا۔۔
تم میں انکی جان بستی ہے۔اور انکی جان تکلیف میں ہوں تو یہ بات وہ سہہ نہیں پاۓ اور ہارٹ اٹیک ہوا انکو۔۔احمد نے کہا۔۔
مم۔مجھے بابا پاس جانا ہے زین۔پری زیب تڑپ کر بولی۔۔
ہاں میری جان ہم ابھی بابا پاس جاٸیں گے۔زین نے کہا۔۔
اپنی نوٹنکی بند کرو زین۔اور تمہارا اور میری بہن کا اب سے کوٸی رشتہ نہیں ہے۔احمد نے پری زیب کو اپنی طرف کھینچا اور پھر کھینچتا ہوا وہاں سے لے گیا۔۔
بھیا نہیں۔پلیز مجھے زین کیساتھ جانا ہے۔وہ روتے ہوۓ چیخی۔۔
زین ساکت جامد سا لاٶنج میں کھڑا تھا۔۔
زین میری جان۔ناٸلہ آفندی نے اسکے پاس آکر پکارا۔
مام۔آپ نے سب کچھ ختم کردیا۔وہ کھوۓ کھوۓ انداز میں بولا۔۔
کچھ ختم نہیں ہوا ہم پروفیسر صاحب کے پاٶں پکڑ کر منت سماجت کر لیں گے اور پری کو لیکر آٸیں گے۔۔ناٸلہ آفندی نے کہا۔
زین نے زخمی نگاہوں سے انہیں دیکھا اور پھر بوجھل قدموں سے سڑھیوں کیطرف بڑھ گیا۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
احمد سپاٹ چہرے کیساتھ گاڑی چلا رہا تھا۔۔
بھیا پلیز مجھے زین کیساتھ جانا ہے بابا کے پاس۔۔وہ سسکی۔
احمد نے زور سے بریک لگا کر گاڑی کوروکا اور ناگواری سے روتی پری زیب کو گھورا۔۔
گڑیا وہ شخص تمہیں درد دیتا رہا دھوکہ دیتا رہا اور تم نے سب کچھ چھپایا ہم سے۔پتا بھی ہے بابا نے اس چیز کو کتنا دل پہ لیا ہے اور تم جانتی ہو ہمارے نرم خو بابا دھوکہ کبھی پسند نہیں کرتے۔انہوں نے فاریہ کو بھی گھر سے نکال دیا ہے۔۔۔احمد نے سنجیدگی سےکہا۔۔
پری زیب بےیقینی سے احمد کو دیکھنے لگی۔۔
ایسا کیسے کر سکتے ہیں آپ لوگ۔۔وہ تڑپ اٹھی۔۔
یہ دیکھو ہاتھ جڑے تمہارے آگے بابا کے سامنے جرح مت کرنا اور یہ تو اب طے ہے کہ پری زیب تمہارا اور زین کا اور احمر فاریہ کا رشتہ ختم ہی ہونا ہے۔اور بابا اپنے آس پاس دھوکے باز لوگوں کو پسند نہیں کرتے۔۔اور اگر تمہیں اور احمر کو بابا سے پیار ہے تو اب جو بابا کہیں گے وہی تم دونوں کرو گے۔۔احمد نے سخت لہجے میں کہا۔۔
پری زیب پھوٹ پھوٹ کر رودی۔
پھر احمد نے گاڑی سٹارٹ کی اور آندھی طوفان کیطرح گاڑی دوڑاتا گھر تک پہنچا۔۔۔
اترو۔۔۔۔
نہیں میں نہیں اتروں گی۔وہ تڑپ کر بولی۔۔
احمد تیزی سے باہر نکل کر اسکی طرف آیا اور پری زیب کو کھینچ کر باہر نکالا اور کھینچتا ہوا زبردستی اندر لاکر صوفے پہ پٹخا۔
ساٸرہ تڑپ کر اسکی طرف بڑھی اور اسے سینے کیساتھ لگا لیا۔
کیا ہوگیا ہے احمد آپکو“ساٸرہ چیخی۔۔
یہ اپنی لاڈلی سے پوچھو کہ کیا ہوا ہے اس کو وہ گھٹیا دھوکے باز انسان اتنا عزیز ہو گیا کہ بابا کی بات کی اہمیت نہیں رہی“ یہ اس زین کو چھوڑنا نہیں چاہتی۔سمجھاٶ اسکو۔۔۔احمد نے غصے سے کہا۔۔
ساٸرہ نے سرخ آنکھوں سے احمد کو دیکھا اور اٹھ کر احمد کے سامنے کھڑی ہو گٸی
کیا سمجھاٶ اسے میں کہ اپنے شوہر کو اپنے پیار کو چھوڑ دے۔وہ صحیح ہے اسکے باوجود اسے غلط بولوں۔۔آپ کے اور بابا کے غلط فیصلے کو ٹھیک کہوں۔۔ساٸرہ نے چیخ کر کہا۔۔
چٹاخ۔۔۔احمد کا ہاتھ اٹھا اور ساٸرہ کے چہرے پہ نشان چھوڑتا چلا گیا۔۔
خبردار۔۔جو تم نے میرے بابا کو غلط کہا۔۔احمد دھاڑ کر بولا۔۔
پری زیب نے سہم کر اسے دیکھا۔۔۔
ساٸرہ زخمی نگاہوں سے احمد کو دیکھ کر رہ گٸی۔۔
احمد سر جھٹک کر واپس چلا گیا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ساٸرہ کے سینے سے لگی پری زیب بس روۓ جا رہی تھی۔
بھابھی میں زین کے بنا مر جاٶں گی۔
چپ پگلی۔۔تم دیکھنا زین بھاٸی تمہیں لینے ضرور آٸیں گے۔۔ساٸرہ نے اسکا ماتھا چومتے ہوۓ کہا۔۔
ایم سوری۔میرے پاگل پن اور نادانی کیوجہ سے فاریہ آپی اور آپ کو کیا نہیں سہنا پڑ رہا۔مگر پھر بھی آپ مجھ سے ناراض نہیں ہوٸی۔۔پری زیب نے بھیگے لہجے سے کہا۔۔
میری جان ماں بھلا اپنے بچوں سے ناراض ہوتی ہے۔ساٸرہ نے محبت سے کہا۔۔
فاریہ آپی سے بات ہوٸی۔وہ کدھر جا رہی ہیں اور کدھر رہے گی۔پری زیب نے پوچھا۔۔
ساٸرہ نے نفی نے سر ہلا دیا۔۔۔
احمر بھاٸی کی بےرخی نے فاریہ کو مار ہی ڈالا تھا۔وہ زندہ نہیں گٸی اپنا بےجان وجود گھسیٹتی یہاں سے گٸی ہے۔ساٸرہ نے نم لہجےسے کہا۔۔
پری زیب کی آنکھیں پھر سے بھیگنے لگی۔۔
پھر کچھ دیر بعد احمد اور احمر جمال قریشی صاحب کو سہارا دیکر لاتے ہوۓ اندر داخل ہوۓ۔۔
پری زیب اپنے ٹوٹے بکھرے بابا جان کو دیکھ کر گم صم ہی ہو گٸی تھی۔۔وہ دو دن میں صدیوں کے بیمار لگ رہے تھے۔وہ دوڑ کر انکے سینے سے لگ گٸی۔۔
پروفیسر صاحب نے اسکا ماتھا چوما اور پھر اپنے بازوٶں کے گھیرے میں لٸے وہ صوفے پہ آکر بیٹھ گٸے۔۔
بابا جانی آپ ٹھیک ہو۔۔۔؟
جی میری جان۔اب تمہیں دیکھ لیا بالکل ٹھیک ہوں۔اور زین کا آپ نے نہ بتا کر بہت زیادتی کی۔اب اس شخص کا سایہ بھی نہیں پڑنے دونگا اپنے بچے پہ۔۔۔
پری زیب کا رنگ فق ہوگیا۔۔
بابا وہ میں۔۔۔۔
پری گڑیا بابا کو آرام کی ضرورت ہے۔احمد نے آنکھوں سے تنبیہہ کرتے ہوۓ نرمی سے کہا۔۔
پری زیب لب بھینچ کر رہ گٸی۔۔
پھر احمد سہارا دیکر انکے کمرے میں چھوڑنے چلا گیا۔۔
اور احمر پری زیب کے پاس کھڑا تھا
کیسی ہے میری گڑیا۔۔۔احمر نے پوچھا۔
کیسی دکھ رہی ہوں آپ کو بھیا۔ایک اجڑی ہوٸی۔۔
پتا ہے یہ میکسی زین نے مجھے گفٹ کی ۔۔پہلی دفعہ میں زین کے سنگ آسمان کی بلندیوں کو چھو رہی تھی۔مگر میرے بھاٸیوں اور بابا نے میرے پنکھ کاٹ دٸیے۔۔وہ کاٹ دار لہجے میں بولی۔
مطلب۔تم اب زین کیساتھ رہنا چاہتی تھی۔احمر نے حیرت سے پوچھا۔۔
جی ہاں۔۔اور صرف میں ہی نہیں فری آپی بھی آپ کے ساتھ رہنا چاہتی تھی۔انہوں نے زین سے کہا کہ احمر کی محبت لہو کیطرح دوڑتی ہیں انکے اندر۔۔وہ تلخ لہجے میں بولی۔
احمر سر پکڑ کر دھپ سے صوفے پہ بیٹھ گیا۔۔
یہ کیا کردیا ہم نے پری۔ایک بار بھی ان سے نہیں پوچھا کہ وہ کیا چاہتے ہیں اپنے فیصلے ان پہ تھوپ دٸیے۔۔احمر نے کرب سے کہا۔۔
اور مجھے افسوس ہے آپ پہ کہ آپ نے فری آپی کو نکل جانے کا کیسے کہا“وہ تپی۔۔
بابا کا حکم تھا۔۔احمر سر جھکا کر بولا۔۔
اوففففففففف۔مگر پھر بھی آپ کو انہیں اکیلے نہیں جانے دینا چاہیے تھا۔نجانے کہاں بھٹک رہی ہونگی“ وہ تڑپ کر بولی۔
احمر لب بھینچ کر رہ گیا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ناٸلہ آفندی پریشان سی اپنی این جی او کیلٸے گھر سے نکل کر گاڑی میں بیٹھ کر روانہ ہو گٸی۔
اچانک آگے ہجوم کیوجہ سے انہوں نے گاڑی کو روکا۔۔
کیا ہوا ہے یہاں؟ ناٸلہ آفندی نے باہر نکل کر ایک شخص سے پوچھا۔
میم کوٸی لڑکی ہے کار والا ٹکر مار گیا اسے۔اور کب سے گاڑیوں کو روک کر ہیلپ مانگ رہے ہیں کیونکہ اگر ایمبولینس کا انتظار کیا تو جان جا سکتی ہے اسکی“اس آدمی نے کہا۔۔
اووووووہ۔بہت بےحس قوم ہے ہم،آپ ایسا کریں اسے میری گاڑی میں لیکر آٸیں میں لے جاتی ہوں۔ناٸلہ آفندی نے کہا۔۔
اووووہ تھینک یو میم“وہ شخص کہہ کر تیزی سے واپس مڑ گیا۔
کچھ دیر بعد وہ ایک لڑکی کو اٹھا کر لیکر آۓ تو ناٸلہ آفندی نے چونک کر غور سے اس خون آلود چہرے کو دیکھا۔دوسرے پل انہیں لگا انکی سانسیں انکے سینے میں اٹک گٸی ہیں۔۔وہ گم صم سی پھٹی پھٹی نگاہوں سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے۔۔
