Mein Kese Kahun by Umme Emman Fatima NovelR50540 Mein Kese Kahun (Episode 02)
Rate this Novel
Mein Kese Kahun (Episode 02)
Mein Kese Kahun by Umme Emman Fatima
زین نے یونیورسٹی کے سامنے گاڑی روکی جب وہ گاڑی پارک کرکے باہر نکلا تو سامنے سے آتی پری زیب کو دیکھ کر اسکا حلق کڑوا ہوگیا۔۔
پری زیب نے بھی اسے دیکھ کر ناک سکوڑا اور پھر ہونہہ کہہ کے اسکے پاس سے گزر گٸ۔۔
زین بھی سر جھٹک کر اپنے روم کیطرف بڑھ گیا۔۔
اور پھر وہ فری پیڑیڈ میں اپنی اساٸمنٹ کمپلیٹ کر ہی رہا تھا کہ دروازہ کھلنے کی آواز پہ وہ چونک کر مڑا۔پھر پری زیب کو دیکھ کر اسکے ماتھے پہ بل آگٸے۔۔۔
“ارے واہ“کیا کلاس روم ہے آپ کا،بالکل تمہاری طرح ہے بورنگ اور بےرونق“وہ طنزیہ انداز میں بولی۔۔۔
جاٶ یہاں سے۔۔وہ تپ کر بولا۔۔۔
“کیوں جاٶں؟”میں کسی کے حکم کی غلام نہی ہوں جو دل میں آتا وہی کرتی ہوں۔۔
زین جلدی سے آگے بڑھا اور پھر اسکا بازو دبوچ کر دروازے تک لایا۔۔۔
“گیٹ آٶٹ“وہ چلایا۔۔۔
جا رہی ہوں،مگر میں ایک بات کہوں گی کہ تم ایک نمبر کے ڈرپوک انسان ہو“کیونکہ تم لوگوں کے بیچ آنے سے ڈرتے ہو“ایسا ہی ہے نہ “وہ مسکرا کر بولی۔۔
“بکواس بند کرو اپنی“وہ چیخا۔۔
اوکے اوکے ریلیکس ماماز بواۓ۔وہ طنزیہ انداز میں بولی اور پھر وہاں سے نکل گٸی۔۔
“یہ“یہ لڑکی ہے کیا چیز؟ جب بھی اس سے ملاقات ہوٸی ہے مجھے کچھ نہ کچھ سنا گٸی ہے۔۔نیکسٹ ٹاٸم اسکا سہی سے منہ توڑوں گا۔۔”وہ تپ کر بولا۔۔
اور پھر سر جھٹک کر کتاب کیطرف متوجہ ہوا۔۔۔۔
اور پھر پیڑیڈز کمپلیٹ کرکے وہ وہی بیٹھ کر اساٸمنٹ بنانے لگا اور پھر تقریبا تین بجے وہ باہر نکلا تو اسکے ڈیپارٹمنٹ کے سب سٹوڈنٹس جا چکے تھے۔۔وہ بھی باہر نکل آیا اور پھر سامنے اپنی سپورٹس کار میں بیٹھی ہستی کو دیکھ کر زور سے چونکا اور پھر وہ تیزی سے اسکی طرف بڑھا۔۔۔
تم،تم میری گاڑی میں کیسے بیٹھ گٸی۔وہ اسکے پاس آکر دھاڑا۔۔
پری زیب نے ناگواری سے دیکھا۔۔
بنا چھت کی گاڑی تھی تو اوپر سے بیٹھ گٸی تمہاری ڈبی جیسی گاڑی میں۔۔اطمینان سے جواب آیا۔۔
تمہیں کہا تھا نہ کہ میری کسی چیز کو ہاتھ مت لگانا۔۔۔
“ارے ارے“تم اپنی فیورٹ گاڑی کو بھی آگ لگا دو گے“وہ مسکرا کر بولی۔۔
زین نے غصے بھری نظروں سے دیکھا اور پھر اپنی طرف کا دروازہ کھول کر وہ ڈراٸیونگ سیٹ پہ بیٹھ کر گاڑی ڈراٸیو کرنے لگا۔۔۔
“دیکھو“کہاں لیکر جا رہے ہو تم مجھے”وہ گھبرا کر بولی۔۔
پھر وہ نسبتا ایک سنسان سڑک کے بیچ و بیچ آکر گاڑی روک کر باہر نکلا اور پھر اسکی طرف کا دروازہ کھول کر کھینچ کے باہر نکال اسے تھوڑا فاصلے پہ کھڑا کردیا۔۔
پھر اس نے گاڑی سے پٹرول کا کین نکالا اور گاڑی پہ چھڑکنے لگا۔۔اور پھر اس نے گاڑی کو آگ لگادی۔
تھوڑے فاصلے پہ کھڑی پری زیب بےیقینی سے منہ پہ ہاتھ رکھے گاڑی کو جلتا دیکھ رہی تھی۔۔
پھر وہ چلتا ہوا اسکے سامنے کھڑا ہوگیا۔۔۔
آٸندہ میری چیز کو ہاتھ مت لگانا ورنہ اس چیز کیساتھ ساتھ تمہیں بھی بھسم کر دونگا۔۔پھر وہ لمبے لمبے ڈنگ بھرتا آگے چلا گیا۔
وہ بھی خود کو سنبھالتے واپسی کیلٸے مڑ گٸ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ساٸرہ کب سے دیکھ رہی تھی کہ پری زیب کافی چپ چپ تھی۔۔
“پری زیب کیا ہوا میری جان۔۔؟ “ساٸرہ نے آخر پوچھ ہی لیا۔۔
“کچھ بھی تو نہیں بھابھی“بس آج کام بہت تھا نہ تو تھک گٸ ہوں “وہ جلدی سے چہرے پہ بشاشت لاتے ہوۓ بولی۔۔
“اچھا چلو کھانا کھا کر آرام کر لینا اور جب اٹھو تو پلیز احمر کو کال کر لینا وہ کہہ رہا تھا کہ تمہیں رات کو بھی فون کیا مگر تم نے اٹھایا ہی نہیں۔۔“ساٸرہ نےکہا۔۔
“وہ بھابھی رات کو بہت تھکی تھی تو جلدی سو گٸی تھی”میں اب سو کر اٹھوں گی تو لازمی کال کر لونگی۔۔”وہ جلدی سے بولی اور پھر اٹھ کر اپنے روم کیطرف بڑھ گٸی۔۔
وہ بیڈ پہ لیٹ کر آج جو کچھ ہوا اسکے بارے میں سوچنے لگی۔۔”
“اووووہ گاڈ“یہ شخص پاگل لگتا ہے۔۔اتنا غصہ ہے اسکے اندر اور میں نے نیکسٹ ٹاٸم اگر پنگا لیا تو مجھے بھی نقصان نہ پہنچا دے“بس فاٸنل ہوگیا ہے اب سے اسے بالکل نہیں چھیڑنا۔”ہ خود سے عہد کرنے لگی۔۔
پھر شام میں اٹھ کر وہ احمرکو ویڈیو کال ملانے لگی۔۔
ہاۓ بندریا۔۔۔احمر کال اٹینڈ کرتے ہی بولا۔۔۔
شٹ اپ بھیا۔۔۔وہ چڑ کر بولی۔۔
احمر اسکے چڑنے پہ قہقہ لگا کر ہنسا۔۔۔
“صدقے جاٶں “بڑے قہقہے لگ رہے ہیں۔۔”وہ مسکراکر بولی۔۔
“کیوں بھٸی میں یہ پہلی بار تھوڑی لگا رہا ہوں۔”ہ جلدی سے بولا۔۔
ہاۓ پری۔۔فاریہ نے احمر کو چاۓ کا مگ پکڑا کر اسکے ساتھ بیٸھتے ہوۓ کہا۔۔
“اہمممم“اہمممممم۔۔یہ وجہ تھی اتنی خوشی کی“پری زیب نے شرارتی انداز میں کہا۔۔۔
احمر دھیما سا مسکرادیا۔
“فاریہ نیکسٹ منتھ پاکستان آ رہی ہے چھٹی پہ“احمر نے کہا۔۔
“رٸیلی بھیا“یہ تو بہت ہی اچھی بات ہے لیکن آپ بھی آ جاتے تو لگے ہاتھ شادی بھی ہو جاتی آپ دونوں کی۔”پری زیب نے مسکرا کر کہا۔۔
“میں آتی ہوں“ فاریہ کہہ کر وہاں سے اٹھ کر چلی گٸی۔۔
“نہیں ابھی شادی نہیں ہوگی“جب فری بالکل تیار ہوگی اور اس کا دل اس رشتے کو مانے گا تب شادی ہوگی“احمر نے پھیکے سے لہجے میں کہا۔۔
“بھیا “فاریہ آپی کو اب خود کو تیار کرنا ہوگا کب تک وہ اپنے پہلے پیار کے حصار میں ہی قید رہیں گی۔اس شخص کی بیوفاٸی پہ وہ کب تک ایسے رہیں گی “کب تک آپ کا دل یوں جان بوجھ کر روند رہیں گی وہ؟ “پری زیب نے غصے سے کہا۔۔
“ریلیکس پری زیب“وہ کچھ بھی نہیں کہتی مجھے اور شادی کیلٸے منع نہیں کرتی لیکن جب شادی کا نام لیا جاتا تو بس اسکا غم اسکے چہرے پہ جھلکنے لگتا ہے میں صرف اسکو خوش دیکھنا چاہتا ہوں“احمر نے کہا۔۔
پری زیب محض لب بھینچ کر رہ گٸی۔۔
پھر احمر نے کال بند کردی تو وہ بھی گہرا سانس بھرتے ہوۓ اٹھ کر ساٸرہ کیساتھ کچن میں آکر رات کے کھانے کی تیاری کرنے لگی۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“پری زیب کلاس لیکر لاٸبریری کیطرف آ گٸی“اچانک اسے باہر سے زور زور سے لڑاٸی کی آواز آنے لگی۔
وہ جلدی سے باہر آٸی تو سب لوگ پچھلی طرف سے باہر کو بھاگ رہے تھے۔۔
“ارے کیا ہوا؟” پری زیب نے پوچھا۔۔
“وہ ایم ایل اے ذیشان ملک کے بیٹے کو یونیورسٹی سے نکال دیا تھا تو ایم ایل اے کے آدمیوں نے یونیورسٹی میں دھاوا بول دیا ہے۔۔اور چلو تم بھی بھاگو۔۔”پیون نے جواب دیا۔۔
وہ جلدی سے بھاگ کر واپس لاٸبریری میں آٸی اور اپنی اساٸمنٹ اکھٹی کرنے لگی۔۔
پھر وہ دس منٹ بعد باہر نکلی تو راہداری میں سناٹا تھا۔وہ باہر جانے کی بجاۓ اچانک دوڑتی ہوٸی زین کے کلاس روم کیطرف بھاگی۔۔
اس نے ایک جھٹکے سے دروازہ کھولا تو زین کو ادھر بیٹھے دیکھ کر چونکی۔۔
“آپ ابھی تک یہیں ہیں اور پوری یونیورسٹی خالی ہو گٸی ہے“وہ پاس آکر بولی۔۔
تو پھرکیا کروں؟
“ارے “چلو یہاں سے وہ جلدی سے اسکا ہاتھ پکڑ کر اٹھاتے ہوۓ بولی۔۔”
“تم اپنی حد میں رہا کرو“دفع ہوجاٶ یہاں سے۔”اور۔
“ارے چیک کرو یہاں سارے کمرے۔جو بھی ہے اسکا باہر نکال کر حشر کردو“اس سے پہلے وہ مزید بولتا مگر باہر سے آٸی آواز پہ وہ دونوں چونکے۔۔”
“دیکھتا ہوں انکو میں کیا کر لیتے ہیں یہ میرے ساتھ“زین نے دروازے کیطرف لپکتے ہوۓ کہا۔۔
پری زیب نے ایک جھٹکے سے اسے پکڑ کر کھینچا اور الماری کی اوٹ میں ہو کر اسے الماری کیساتھ لگا کر اسکے منہ پہ ہاتھ رکھ دیا۔۔
“پپ“پلیز وہ مار دینگے ہم دونوں کو۔۔”وہ متوحش لہجے میں بولی۔۔۔۔
پھر ایک آدمی نے اندر جھانک کر دیکھا۔۔۔
باس خالی ہے یہ کمرا بھی۔وہ آدمی کہہ کر واپس پلٹ گیا۔۔
“اگر اتنا ہی ڈر تھا تو بھاگی کیوں نہیں؟”کیوں آٸی ادھر،وہ اپنے منہ سے اسکا ہاتھ ہٹاتے ہوۓ چیخ کر بولا۔۔
“مجھے لگا کہ آپکی جان کو خطرہ ہو سکتا ہے تو اس لٸے دیکھنے آٸی تھی“وہ لب کاٹتے ہوۓ بولی۔۔
تم میری ماں ہو کیا؟ وہ چلایا۔۔
پری نے جلدی سے پھر اسکے منہ پہ ہاتھ رکھا۔۔
تم یہاں بیٹھی رہو میں جا رہا ہوں وہ اس کو دھکا دیتا ہوا باہر نکلا۔۔
وہ گھبرا کر پیچھے بھاگی۔۔۔
وہ جب باہر پہنچی تو وہ آدمی زین کوگھیرے کھڑے تھے۔پری جلدی سے اوٹ میں ہو گٸی۔۔
“اوووووہ گاڈ“کہیں وہ اسکو کچھ کر نہ دیں۔۔”وہ بڑبڑاٸی۔۔
“تو یہاں کیا کر رہا ہے ابھی تک“وہ آدمی بدتمیز سے بولا۔۔
“تمیز سے بات کرو“میں زین آفندی ہوں “وہ غصے سے بولا۔۔
“تو کیا کروں۔پھولوں کے ہار پہناٶں کیا۔؟”وہ آدمی طنزیہ انداز میں بولا۔۔
پھر اس آدمی نے زین کو دھکا دیا۔اور دوسرے پل زین نے ان چاروں آدمیوں کو پٹخ پٹخ پھینکا۔۔
پری زیب آنکھیں پھاڑے اسے دیکھ رہی تھی۔
ارے واہ، یہ تو بڑا فاٸٹر نکلا۔وہ بڑبڑاٸی۔۔
پھر اچانک ایک آدمی نے پیچھے سے زین کے سر پہ ڈنڈا مارا۔۔زین اپنا سر تھام کر زمین پہ بیٹھتا چلا گیا۔۔پری زیب نے جلدی سے منہ پہ ہاتھ رکھ کر چیخ روکی۔۔
ہھر وہ لوگ سب اسے پیٹنے لگے۔۔۔
اےےےے۔۔پری زیب چلا کر انکی طرف بھاگی۔۔اور پھر ڈنڈا پکڑ کر اس نے انکی وہ دھلاٸی شروع کردی کی ۔۔
اور باقی سٹوڈنٹس جو چھپ کر سب دیکھ رہے تھے وہ بھی جلدی سے پری زیب کی مدد کیلٸے آ گٸے۔۔
اور زین زمین پہ بیہوش پڑا تھا۔۔۔
پھر پری زیب وہاں کچھ لوگوں کی مدد سے زین کو لیکر ہاسپیٹل پہنچی۔۔اسکے خود کے ماتھے پہ بھی ہلکی سی خراش آٸی تھی۔تو نرس نے اسکی بینڈیج کردی۔۔
پھر زین کے پیرنٹس کے آنے کے بعد وہ ہاسپیٹل سے گھر کیطرف نکل گٸی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ناٸلہ آفندی کا رو رو کر برا حال تھا۔۔
“زبیر وہ سب کے سب میرے بیٹے کے ہوش میں آنے سے پہلے جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہوں۔”وہ غصے سے بولی۔۔
“فکر مت کرو ایسا ہی ہوگا۔”زبیر نے کہا۔۔۔
“آپ لوگوں کا بہت شکریہ کہ آپ لوگوں نے میرے بیٹے کو ہاسپیٹل بروقت پہنچایا۔۔”ناٸلہ آفندی نےکہا۔۔
“آنٹی یہ سب مس پری زیب نے کیا ہے“اگر وہ نہ ہوتی تو شاید وہ لوگ زین کو مار دیتے“ایک لڑکا جلدی سے بولا۔۔۔
“کون ہے پری زیب “اور کدھر ہیں وہ مجھے ملواٸیے ان سے“ ناٸلہ آفندی نے کہا۔۔
“آنٹی آپ جب آۓ تو وہ اسی ٹاٸم گھر کیلٸے نکل گٸی تھی“
“چلیں ٹھیک ہے پھر میں ان سے ملنے ضرور آٶں گی“ناٸلہ آفندی نے کہا۔۔
اور پھر سب کے جانے کے بعد وہ دونوں اندر زین کےپاس آ گٸے۔۔
دو گھٹوں بعد زین کو ہوش آ گیا تھا۔
“کیسے ہو میری جان؟” ناٸلہ آفندی نے پوچھا۔۔
“ٹھیک ہوں ماما اور پلیز یہ ڈرپ اترواٸیں مجھے گھر جانا ہے۔”وہ ضدی انداز میں بولا۔۔۔
“ڈرپ ختم ہو جاۓ گی تو ہم چلے جاٸیں گے“ناٸلہ آفندی نے کہا۔تو وہ جھلا کر رہ گیا۔۔
پھر رات کو زین کو چھٹی ہو گٸی تو زین نے سکھ کا سانس لیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“پری زیب کدھر ہے؟”احمد ٹیبل پہ کھانا لگاتی ساٸرہ سے پوچھا۔۔۔
“وہ آج یونیورسٹی میں کوٸی دو پارٹیوں کے بیچ لڑاٸی ہو گٸی تھی اور اس نے وہ بہت ٹینشن لی ہے اور سر پہ اسکے چوٹ بھی آٸی ہے۔”
واٹ ؟ ساٸرہ کی بات پہ احمد چلا کر بولا۔۔
اور پھر تیزی سے پری زیب کے روم کیطرف بھاگا۔۔
احمد نے دروازہ کھول کر دیکھا تو وہ کمفرٹ لیکر سو رہی تھی۔۔
احمد اسکے پاس آکر اسے دیکھنے لگا۔اور پھر ہولے سے اسکا سر چھوا تو اس نے کسمسا کر آنکھیں کھول لی۔۔
اور سامنےاحمد کو دیکھ کر وہ جلدی سے اٹھ کر اسکے سینے کیساتھ لگ گٸی۔۔
“کیسا ہے میرا بچہ؟ “احمد نے پوچھا۔۔
“بھیا میں اب ٹھیک ہوں“پتا ہے یونیورسٹی میں جو آج ہوا میں وہ سب دیکھ کر بہت ڈر گٸی تھی۔۔”وہ نم لہجے میں بولی۔۔
“ارے میرا اتنا بہادر بچہ ڈر کیسے گیا۔؟ “احمد نے پیار سے اسکی ناک دبا کر کہا۔۔
“بھیا؛۔۔ ،وہ لوگ بہت خطرناک تھے اور بہت مارتے تھے جو انکے سامنے آتا تھا۔پتا ہے ایک لڑکا تھا اسے بہت مارا تو میں نے ڈنڈے سے سب کی پٹاٸی کی اور پھر سب سٹوڈنٹس بھی میری مدد کوآ گٸے۔۔وہ جلدی سے بولتی چلی گٸی۔۔”
“بچے آٸندہ کچھ بھی ایسا ہو آپ چپکے سے وہاں سے نکل جانا“کسی کی ہیلپ کرتے اپنی جان کو یوں خطرے میں ڈالنا اچھانہیں ہے۔”احمد نے کہا۔۔
“لیکن بھیا۔۔۔”
“کچھ لیکن ویکن نہیں“بول دیا ہے نہ میں نے تو اس پہ عمل کریں ورنہ مجھے آپکی پڑھاٸی گھرمیں کروانی پڑے گی۔۔”وہ سرد اندازمیں بولا۔۔۔
پری زیب نے سر جھکالیا۔۔۔
“احمد کھانا لگ چکا ہے آ جاٸیں“ساٸرہ نے اندر آ کر کہا۔۔
“ہوووووں“آتا ہوں“پری ریب بچے آپ بھی جلدی سے آ جاٸیں۔۔”احمد کہہ کر باہر نکل گیا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“احمد آپ نے پری سے بہت سرد لہجے میں بات کی ہے وہ بہت ہرٹ ہوٸی ہوگی۔۔”ساٸرہ احمد کے ڈاٸننگ ٹیبل پہ آتے ہی اس سے بولی۔۔۔
“ساٸرہ تم نے ہی اسے ایسا بنایا ہے۔پہلے تمہاری بہن تھی اسکو سر پہ چڑھایا تم نے اور اس نے محبت کا گل کھلایا اور وہ لڑکا اسے چھوڑ گیا۔۔اور اب پلیز میری بہن کو اپنی بہن جیسی مت بناٶ،” احمد نے سخت لہجے میں کہا۔۔
ساٸرہ اسکے سرد اور بیزاری بھرے لہجے سے ہمیشہ کیطرح اندر ہی اندر صبر کا گھونٹ پی گٸی۔۔نجانے پچھلے ایک سال سے احمد کو کیا ہو گیا تھا۔وہ ساٸرہ کو بلاوجہ ڈانٹتا تھا۔۔
اور ساٸرہ شکوہ کرتی بھی تو کس سے۔۔بہن پردیس میں تھی۔۔
ساٸرہ کی ماں تو اسکے بچپن میں ہی وفات پا گٸی تھی اور والد بھی تین سال پہلے گزر گٸے تھے۔۔اور آ جا کر یہی اسکا گھر تھا۔۔وہ صرف پری وش اور پری زیب کیوجہ سے جیتی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے۔
