Mein Kese Kahun by Umme Emman Fatima NovelR50540 Mein Kese Kahun (Episode 07)
Rate this Novel
Mein Kese Kahun (Episode 07)
Mein Kese Kahun by Umme Emman Fatima
یہ“یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں؟ پری زیب نے پریشان ہوکر کہا۔۔۔
کیا میں تمہیں اچھا نہیں لگتا پری زیب؟ اس نے پرامید لہجے میں پوچھا۔۔۔
ایسی بات نہیں ہے زین،بس اتنی جلدی آپ مجھ میں انٹرسٹڈ کیسے ہو گٸے۔ابھی چند دن پہلے تک میری شکل نہیں دیکھنا چاہتے تھے اب اچانک سے پرپوز کر دیا تو سمجھ نہیں آ رہی کیا کروں،وہ لب کاٹتے ہوۓ بولی۔۔۔
میں نے تمہارے ساتھ جو کچھ ٹاٸم گزارا تو اندازہ لگایا کہ میرے ہر زخم کی دوا ہو تم۔تمہارا ساتھ میرے لٸے راحت کا باعث ہے۔۔وہ اسکا چہرہ ہاتھوں میں تھام کر بولا۔
زین مجھے کچھ ٹاٸم چاہیے۔وہ سر جھکا کر بولی۔۔۔
نہیں پری زیب میں تمہارے بغیر نہیں رہنا چاہتا۔تم مجھے جواب دو تاکہ میں رشتہ بھیجوں ہماری شادی ان دس دنوں میں ہی ہو،
تصور کرو پری میں اور تم ایک ساتھ ہونگے۔ایک دوسرے کے محرم ہونگے۔اکھٹے یونیورسٹی جاٸیں گے تو کیا مزے ہونگے۔۔زین نے جذباتی انداز میں کہا۔۔
وہ پریشان ہو کر اسے دیکھنے لگ گٸی۔
مم،میں اتنی جلدی نہیں کر سکتی شادی۔۔وہ گھبرا کر بولی۔۔
ٹھیک ہے تو پھر تم بھی مجھے ٹھکرا دو تاکہ میں جو پہلے زندہ رہا اس بار شاید مر جاٶں۔وہ اسے جھنجھوڑ کر بولا۔۔۔
اللہ نہ کرے۔پری نے تڑپ کر اسکے منہ پہ ہاتھ رکھتے ہوۓ کہا۔۔
میں تو بس اس لٸے کہہ رہی کہ میں آپکو جانتی تک نہیں۔خود کو جاننے کا موقعہ تو دیں۔۔پری زیب نے کہا۔۔
اوووووہ اچھا۔۔تمہیں مجھے جاننا ہے نہ تو میں تمہیں سب بتاتا ہوں کہ میں کیسا ہوں۔۔اور مجھے کیا پسند ہے۔۔وہ جلدی سے اسکا ہاتھ تھام کر بولا۔۔
نہیں اسکی ضرورت نہیں۔۔آپ جب چاہے اپنی مام کو بھیج سکتے ہیں۔۔وہ ہولے سے سر جھکا کر بولی۔
زین اسکے جواب سے کھل گیا۔۔اس کے چہرے پہ بشاشت آ گٸی۔۔
۔اور تمہاری ہونے والی بھابھی چلی گٸی کیا تم کل فون پہ بتا رہی تھی کہ انکو ایبٹ آباد جانا ہے۔۔۔زین نے سرسری انداز میں پوچھا۔۔۔۔۔
جی وہ صبح ہی چلی گٸی تھی۔پری زیب نے جواب دیا۔۔۔
زین نے اثبات میں سر ہلادیا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مام ،مام کدھر ہیں آپ؟ زین نے اندر آتے ہی شور مچانا شروع کردیا..
ناٸلہ آفندی نے جو کہ سکاٸپ پہ میٹنگ کر رہی تھی چونک کر باہر دیکھا۔۔
اوکے لیڈیز میں آپ سے بعد میں بات کرتی ہوں“میرا بیٹا آ گیا ہے۔اور آپ جانتی ہی ہیں کہ میرے لٸے سب سے پہلے میرا بیٹا ہے۔ناٸلہ آفندی نے کہا۔۔اور پھر انہوں نے کال کاٹی ہی تھی کہ زین اندر داخل ہوا۔۔
میں آ ہی رہی تھی میری جان۔ناٸلہ آفندی نے کہا۔۔۔
زین انکو جواب دٸیے بنا انکی وارڈروب کیطرف بڑھا۔اور سکن اور بلیک ساڑھی نکال کر بیڈ پہ رکھ کر ناٸلہ کے پاس آکر صوفے پہ بیٹھ گیا۔۔
کہیں جا رہےہم؟ ناٸلہ آفندی نے حیرت سے پوچھا۔۔
جی ہاں۔۔زین نے سر ہلا کر کہا۔۔۔
کدھر؟ ناٸلہ آفندی نے حیرت سے پوچھا۔۔۔
پری زیب کے گھر“ زین نے کہا۔۔
وہ کیوں۔۔۔۔؟
کیونکہ مام میں اور پری زیب شادی کرنا چاہتے ہیں۔ہم دس دن کے اندر اندر شادی کرنا چاہتے ہیں۔۔وہ جلدی سے بولا۔۔
واٹ؟ اووووہ ماٸی گاڈ اتنی جلدی۔۔ناٸلہ آفندی نے کہا۔۔
پلیز مام“میں نے پری کو بہت مشکل سے منایا ہے تو جلد از جلد ہمارا رشتہ طے کر دیں۔۔زین بےچین ہو کر بولا۔۔
اسکی بےقراری دیکھ کر ناٸلہ آفندی کے چہرے پہ مسکراہٹ آ گٸی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زبیر آفندی میٹنگ کرکے باہر نکلے توناٸلہ آفندی کا فون آ گیا۔۔۔
جی جان بولیں۔۔۔زبیر آفندی نے مسکرا کر کہا۔۔۔
زبیر فورا گھر آٸیں مجھے آپ کو بہت بڑی خوشخبری دینی ہے۔۔
کیسی خوشخبری؟ زبیر آفندی نے حیرت بھرے انداز میں پوچھا۔۔۔
آپ فورا گھر آٸیں میں بتاتی ہوں۔ناٸلہ آفندی نے کہہ کر فون کاٹ دیا۔
زبیر آفندی نے کندھے اچکاۓ اور باہر نکل کر گاڑی میں آکر بیٹھ گٸے۔۔
گھر چلو۔۔انہوں نے ڈراٸیور سے کہا۔اور خود موباٸل میں مصروف ہو گٸے۔۔
پھر گاڑی گھر کےسامنے رکی تو وہ تیزی سے اندر کیطرف بڑھے۔۔
وہ جب لاٶنج میں پہنچے تو ناٸلہ آفندی اور زین ادھر ہی بیٹھے تھے۔۔۔اور ناٸلہ آفندی لسٹ پکڑ کر بیٹھی تھیں۔۔
ہاۓ۔۔۔یہ کیا ہو رہا ہے بھٸی۔۔۔زبیر نے کاٶچ پہ بیٹھتے ہوۓ کہا ۔۔
بتاتی ہوں ایک منٹ۔۔ناٸلہ آفندی نے کہا۔
اس کو پڑھو زرا تاکہ میں دیکھ سکوں کچھ میسنگ تو نہیں۔۔ناٸلہ آفندی نے پاس کھڑے صفدر(ہیڈ سرونٹ )کو لسٹ تھماتے ہوۓ کہا۔۔۔
دو مٹھاٸی کے ٹوکرے“دو پھلوں کے ٹوکرے“ گجرے۔الحمرا سے ڈریسسز پک کرنے۔اور وکی جیولرز سے ڈاٸمنڈ نیکلس اور ڈاٸمنڈ رنگ لانی۔زین سرکا فارمل ڈریس لانا۔اور گفٹس شاپ سے گفٹ لانے۔۔صفدر نے لسٹ پڑھ کر مسز ناٸلہ کیطرف دیکھا۔۔
دیکھ کیا رہے ہو فورا جاٶ اور یہ سب لیکر آٶ کیونکہ شام کو ہمیں جانا ہے۔۔ناٸلہ آفندی نے کہا۔۔
یس میم۔۔صفدر کہہ کر باہر نکل گیا۔
یہ سب کیا ہو رہا ہے بھٸی؟۔زبیر آفندی نے جھلاکر پوچھا۔۔
جی میری جان میں آپکی طرف ہی آ رہی تھی۔۔ناٸلہ آفندی نے کہا تو زبیر آفندی منتظر نگاہوں سے انہیں دیکھنے لگے۔۔
ہماری زندگی زین نے شادی کا فیصلہ کیا ہے اور وہ بھی پری زیب سے۔۔ناٸلہ آفندی نے زین کے ہاتھ پہ ہاتھ رکھ کر محبت بھرے انداز میں کہا۔۔
کیا بات کر رہی ہیں آپ؟ زبیر آفندی نے کہا۔۔
بالکل میری جان“ناٸلہ آفندی نے مسکرا کر کہا۔۔
اووووہ ماٸی گاڈ،۔۔۔۔۔
میں کیا بولوں اور کیا کروں إ۔زبیر آفندی نے پرجوش انداز میں کہا۔۔
کچھ بھی کر لیں۔۔ناٸلہ آفندی نے کہا۔۔۔
یار ڈھول والے کو کیوں نہیں بلوایا۔اس کو بھی بلواٸیں کیونکہ ہم بھنگڑا ڈالیں گے۔۔زبیر آفندی نے پرجوش انداز میں کہا۔۔۔
اچھا جی بھنگڑا ڈالنا ہے تو ابھی پنجابی میوزک پہ کر لیتے ہیں۔مگر پہلے آپ پری زیب کے بھاٸی احمد کو فون کرکے بتاٸیں کہ ہم لوگ آ رہے ہیں۔۔ ۔مسز ناٸلہ آفندی نے کہا۔۔
زبیر آفندی سر ہلا کر احمد کا فون ملانے لگے۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
السلام علیکم“احمد نے اندر آکر سلام کیا۔۔
وعلیکم السلام بیٹے“آج آپ جلدی نہیں آ گٸے۔۔جمال قریشی صاحب نے پوچھا۔۔
جی بابا وہ رات کو میرے باس زبیر آفندی فیملی کیساتھ ڈنر پہ آ رہے ہیں۔احمد نے کہا۔۔
کیا مطلب وہ اتنے بڑے آدمی ہمارے گھر کیا کرنے آ رہے ہیں۔؟۔۔۔
بابا مجھے لگتا وہ اپنے صاحبزادے زین آفندی کیلٸے ہماری پری زیب کا رشتہ لینے آ رہے ہیں۔۔احمد نے انکی بات کے جواب میں کہا۔۔
اووووہ اچھا“کیسا لڑکا ہے زین آفندی۔۔مطلب کردار کے لحاظ سے کیسا ہے۔جمال قریشی صاحب نے کہا۔۔
بابا یہ زین آفندی آپ سے ٹیوشن لے چکا ہے۔ لاہور میں جس اکیڈمی میں آپ ٹیوشن پڑھاتے تھے۔آپ کو یاد ہوگا ایک کمزور سا لڑکا تھا سب اسکا مزاق اوڑاتے تھے۔آپ اسے ہمیشہ حوصلہ دیتے تھے۔احمد نے کہا۔۔
اس بچے کا رشتہ آنے والا ہے میری پری زیب کیلٸے“جمال قریشی نے کہا۔۔
جی بابا۔۔۔۔
ماشاءاللہ بہت نیک اور ہمدرد لڑکا ہے۔جمال قریشی صاحب نے کہا۔۔۔۔
احمد نے اثبات میں سر ہلادیا۔۔
پھر وہ ساٸرہ کے پاس کچن میں آیا۔۔
میں چاۓ لا ہی رہی تھی۔۔ساٸرہ نےکہا۔۔
اس سب کو چھوڑو اور ڈنر کا انتظام کرو۔۔احمد نے کہا۔
تو ساٸرہ نے اثبات میں سر ہلا دیا۔اور پری زیب کے روم کیطرف بڑھ گٸی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پری زیب تکیے کو بازٶوں میں بھینچے سکون سے سو رہی تھی۔۔
پری میری جان۔اٹھو ۔۔۔ساٸرہ نے اسکے پاس بیٹھ کر پیار سے بالوں میں انگلیاں چلاتے ہوۓ کہا۔۔۔
ہووووں،بھابھی اٹھتی ہوں بس۔۔وہ غنودگی میں بولی۔۔
میری جان رات کو مہمان آ رہے ہیں تو ڈنر کا انتظام کرنا ہے۔۔ساٸرہ نے کہا۔۔
کون آرہا ہے بھابھی۔وہ آنکھیں کھولے بغیر بولی۔۔
احمد کے باس زبیر آفندی آ رہے ہیں۔۔
ساٸرہ کی بات سن کر اسکی پٹ سے آنکھیں کھل گٸی۔۔
کون آ رہا ہے؟ کیا نام لیا آپ نے ؟ وہ جلدی سے بیٹھتے ہوۓ بولی۔۔
زبیر آفندی آ رہے ہیں،۔۔ویسے تم اتنی خوش کیوں ہو رہی ہو۔۔۔ساٸرہ نے مسکرا کر پوچھا۔۔
میں “میں تو خوش نہیں ہو رہی۔۔وہ جلدی سے بولی۔۔
اچھا مطلب کہ اگر وہ زین کا رشتہ لیکرآٸیں تو منع کر دیں۔۔ساٸرہ نے مصنوعی سنجیدگی سے کہا۔۔
نن“نہیں تو میں نے یہ تو نہیں کہا۔وہ جلدی سے بولی۔
ساٸرہ اسکے انداز پہ مسکرادی۔۔
مجھے آپ کو کچھ بتانا تھا بھابھی۔وہ ساٸرہ کا ہاتھ تھام کر بولی۔۔
ہاں میری جان بولو۔۔۔ساٸرہ نے کہا۔۔
وہ زین نے مجھے پرپوز کیا تھا۔۔وہ انگلیاں مروڑتی ہوٸی بولی۔۔
ساٸرہ نے چونک کر اسے دیکھا۔۔
کب کیا؟ اور تم نے مجھے کیوں نہیں بتایا“وہ جلدی سے بولیں۔۔۔
بھابھی آج ہی کیا،اور میں نے سوچا شام میں اٹھ کر بتاٶں گی۔۔وہ سر جھکا کر بولی۔۔
اچھا ٹھیک ہے۔۔چلو پھر جلدی سے آ جاٶ کچن میں۔۔ساٸرہ کہہ کر واپس مڑی تو پری زیب نے اسکا ہاتھ تھام کر روکا۔۔
ساٸرہ نے مڑ کر سوالیہ نظروں سے دیکھا۔۔
پری زیب جلدی سے ساٸرہ کے گلے لگ کر رودی۔۔
پری میری جان کیا ہوا ہے؟ رو کیوں رہی ہو۔۔ساٸرہ نے گھبرا کر پوچھا۔۔۔
بھابھی شاید میری شادی دس پندرہ دن میں ہی ہو جاۓ۔۔۔وہ آنسو صاف کرتے ہوۓ بولی۔۔
واٹ؟ یہ تم کیا کہہ رہی ہو،ساٸرہ نے گھبرا کر کہا۔۔
زین چاہتے ہیں کہ وہ دس دن کے اندر اندر شادی کرلیں۔۔اور پھر وہ سب بتاتی چلی گٸی۔۔
ساٸرہ فق چہرے کیساتھ اسے دیکھ رہی تھی۔۔
تمہیں زین کیسا لگتا ہے؟ ساٸرہ نے پوچھا۔۔
بہت اچھا“سب سے الگ۔۔پہلی بار اسے چنگاڑتے دیکھا مگر مجھے اسکا وہ روپ ہی بھا گیا۔۔خاص طور پہ اسکی آنکھیں جن میں ایک درد دکھا مجھے۔۔پھر پارٹی کی رات انکی مام نے بتایا کہ وہ کسی کو پسند کرتے تھے مگر اس لڑکی کے دھوکے نے زین کو توڑ دیا تھا۔۔تو میرے دل میں اسکے لٸے وہ جذبہ ابھرا جس کو میں پیار کہہ سکتی ہوں۔۔وہ بول رہی تھی مگر زین کا پیار اسکے رخسار پہ دھنک کے رنگ بکھیر رہا تھا۔۔
تو پھر سیڈ کیوں ہو؟ ساٸرہ نے پوچھا۔۔۔
میں جلد شادی سے سیڈ ہوں۔اتنی جلدی شادی سے گھبراہٹ ہو رہی ہے۔وہ افسردہ انداز میں بولی۔۔
چلو گھبراٶ مت وہ لوگ آتے ہیں پھر دیکھتے ہیں کیا کہتے ہیں وہ۔۔ساٸرہ نے اسکا رخسار تھپتھپا کر کہا۔
پری زیب نے سر جھکا لیا۔اور پھر وہ منہ ہاتھ دھو کر ساٸرہ کیساتھ کچن میں آ گٸی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زین نے پینٹ کورٹ پہنا تھا۔وہ کافی ہینڈسم لگ رہا تھا۔۔
وہ تیار ہوکر باہر نکلا تو ناٸلہ آفندی اور زبیر آفندی پہلے سے لاٶنج میں بیٹھے تھے۔۔
ماشاءاللہ “میرا بیٹا بہت ہی پیارا لگ رہا ہے۔۔وہ مسکرا کر بولیں۔۔
تھینک یو مام“تو پھر چلیں۔۔۔زین نے کہا۔۔
ناٸلہ آفندی نے اثبات میں سر ہلا دیا۔اور پھر باہر نکل آۓ۔۔
پھر ایک ہی گاڑی میں تینوں بیٹھ گے۔۔اور انکے باڈی گارڈز کی گاڑی ان سے پیچھے تھی۔۔
پھر انکی گاڑیاں پری زیب کے گھر کے سامنے رک گٸی۔اور وہ لوگ باہر نکل آۓ اور زین نے آگے بڑھ کر گھنٹی بجاٸی تو کچھ دیر بعد احمد باہر نکل کر آیا۔۔
السلام علیکم۔۔کیسے ہیں آپ سب۔بہت خوشی ہوٸی کہ آپ نے ہمیں یہ اعزاز بخشا۔۔احمد نے خوشدلی سے ویلکم کرتے ہوۓ کہا۔۔۔۔۔۔
احمد شرمندہ تو مت کریں،ہم تو آج خود سوالی بن کر آپکے در پہ آۓ ہیں۔۔
ارے ارے“ایسی بات نہیں ہے۔۔بس آپ کی آمد پہ بہت خوش ہوں تو اس لٸے بول دیا۔۔،آٸیے اندر تشریف لاٸیں۔احمد نے پیچھے ہٹتے ہوۓ انہیں اندر جانے کا راستہ دیا۔۔
پھر وہ لوگ اندر آکر لاٶنج میں بیٹھ گٸے..کچھ دیر بعد جمال قریشی صاحب اندر داخل ہوۓ تو وہ تینوں جلدی سے احتراما اٹھ کر کھڑے ہو گٸے۔۔
بیٹھیے بیٹھیے۔۔جمال قریشی صاحب نے مسکرا کر کہا۔
ناٸلہ آفندی اور زبیر آفندی تو بیٹھ گٸے مگر زین جلدی سے آگے بڑھا اور بڑے ادب سے جمال قریشی صاحب سے ہاتھ ملایا۔۔۔
ماشاءاللہ “زین بیٹے تو پہلے سے بھی زیادہ پیارے ہوگٸے ہیں۔۔جمال قریشی صاحب نے کہا۔۔
پھر وہ لوگ آپس میں ایک دوسرے کا تعارف کروانے لگے۔۔اور کچھ دیر بعد ساٸرہ کولڈڈرنک لیکرآ گٸی۔اس نے اندر آکر سلام کیا
اور سب کو کولڈڈرنک سرو کرنےلگی۔
ساٸرہ بیٹی۔۔باہر کچھ بچے بھی کھڑے تھے میں نے انکو اپنے کمرے میں بیٹھایاہے۔۔تو انکے لٸے بھی کچھ بھیج دیں۔جمال قریشی صاحب نے کہا۔۔
جی بابا میں نے پانی ڈال کررکھا ہے وہ احمد کو کہنے ہی والی تھی۔۔ساٸرہ نے کہا۔۔
اچھا ۔۔احمد بیٹے آپ انکو پانی دیکر آٸیں اور دسترخوان بھی لگا دیں۔۔اور ساٸرہ بیٹی آپ پری زیب کیساتھ مل کر ادھر کھانا رکھواٸیں۔۔جمال قریشی صاحب نے کہا۔۔
ساٸرہ سرہلا کر باہر کچن کیطرف چلی گٸی۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زین نے ایک طاٸرانہ نگاہ لاٶنج میں ڈالی۔اچانک بےدھیانی میں گلاس ٹیڑھا ہوگیا اور کولڈ ڈرنک اسکے اوپر گر گٸی۔۔
اوووووہ شٹ۔۔۔وہ جلدی سے گلاس ٹیبل پہ رکھتے ہوۓ بولا۔۔
اوہو۔۔آپ کے تو کپڑے خراب ہو گٸے۔۔آپ ایسا کریں ادھر سے سامنے کمرے میں جاکر واش بیسن پہ صاف کر لیں۔جمال قریشی صاحب نے کہا۔۔
زین سرہلاتاہوا اس طرف بڑھا۔۔اچانک سیڑھیوں سے اوپر نظر پڑی جہاں کسی بچی کی توتلی زبان میں بولنے کی آواز آ رہی تھی۔
زین تیزی سے سیڑھیاں پھلانگتا اوپر پہنچا اور سامنے کمرے میں داخل ہوا تو پری زیب بیڈ پہ بیٹھی تھی اور اسکے پاس پری وش بیٹھی تھی۔۔
پری گڑیا کتنی بری بات ہے آپ کتنا گند ڈالتے ہو۔پری زیب نے کہا۔۔اور پھر وہ ڈوپٹہ لینے کیلٸے مڑی تو زین کو دیکھ کر چونک گٸی۔۔
اووووہ گاڈ“آپ یہاں کیا کر رہے ہیں“پری زیب نے گھبرا کر کہا۔۔
کچھ نہیں۔۔بس تمہیں دیکھ رہا ہوں۔۔زین نے اسکے قریب آتے ہوۓ کہا۔۔
زین جیسے جیسے اسکی طرف بڑھ رہا تھا وہ پیچھے ہٹتی جا رہی تھی۔۔یہاں تک کے وہ بالکل دیوار کیساتھ لگ گٸی۔۔
پپ“پلیز زین۔کوٸی آ جاۓ گا۔وہ گھبرا کر بولی۔۔
تو آ جاۓ،زین نے کہا۔۔
مگر زین۔۔۔۔۔۔۔۔
ششششش۔کچھ مت بولو۔۔۔وہ اسکے ہونٹوں پہ انگلی رکھتے ہوۓ بولا۔۔۔۔۔
جاری ہے۔۔
