Mein Kese Kahun by Umme Emman Fatima NovelR50540 Mein Kese Kahun (Episode 30)
Rate this Novel
Mein Kese Kahun (Episode 30)
Mein Kese Kahun by Umme Emman Fatima
مجھے یقین نہیں آ رہا۔میرا تو دل چاہ رہا کہ جان لے لوں تمہاری۔زین نے دانت پیس کر کہا۔
پری زیب نے اسے عجیب نظروں سے دیکھا۔۔
یہ میرے دل میں خیال کیوں نہیں آیا کہ ثانیہ ہوسکتی اسکے پیچھے۔اور مجھے معلوم ہے تم نے یہ مام کے کہنے پہ کیا ہوگا۔وہ دل ہی دل میں مخاطب ہوٸی۔۔
سر کیا اسے پولیس کے حوالے کردیں۔صفدر نے کہا۔۔
نہیں صفدر اس لڑکی نے میری اور پری زیب کی بہت بار جان بچاٸی اور اسے کے عوض آج اسے چھوڑ رہا ہوں۔اور ہاں چلو ہمیں واپسی کیلٸے نکلنا ہے۔زین نے کہا اور پھر وہ تینوں سرنگ کیطرف چلے گٸے۔۔
صفدر نے جاتے جاتے ایک الوداعی نظر اس دشمن جان پہ ڈالی جو کہ سر جھکاۓ لب کاٹ رہی تھی۔اور پھر تیزی سے وہ وہاں سے نکل گیا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پروفیسر جمال قریشی بے یقینی سے سب سن رہے تھے۔اور احمد غصے سے اپنی مٹھیاں بند کر رہا تھا اور کبھی کھول رہا تھا۔۔
یہ بات آپ نے بھی چھپا کر اچھا نہیں کیا بہن جی۔پروفیسر جمال قریشی نم لہجے میں بولے۔
میں نے سوچا کہ بچوں میں پیار ہو جاۓ گا تو سب ٹھیک ہو جاۓ گا۔اور دونوں ٹھیک جا رہے تھے مگر میری کوتاہی غلطی کا معلوم ہوتے ہی پری زیب پہ فاریہ ،زین کو ملانے کا بھوت سوار ہو گیا۔اور اب اس کی پیش بندی کیلٸے ہمیں فاریہ احمر کی شادی جلد از جلد کروانی ہوگی۔۔ناٸلہ آفندی نے کہا۔۔
احمد بیٹے۔جاٶ اور احمر اور فاریہ کو بلا کر لاٶ۔۔
جی اچھا بابا جان۔۔احمد نے کہا اور باہر نکل گیا۔۔
کچھ دیر بعد وہ اندر آیا تو اسکے پیچھے فاریہ اور احمر تھے۔۔
جی بابا آپ نے بلوایا۔احمر نے پوچھا۔۔
آپ بچے اتنے بڑے ہو گٸے ہیں کہ اب ایسے فیصلے کرنے لگے۔آپ اپنی منگیتر کی شادی اپنے بہنوٸی سے کروانا چاہتے ہیں۔شرم آنی چاہیے۔پروفیسر صاحب دھاڑ کر بولے۔
فاریہ نے کرب سے آنکھیں بند کر لیں۔۔۔
بابا جان۔۔ہماری پری اس شخص کیساتھ خوش نہیں ہے اور پھر احمر سب بتاتا چلا گیا۔پروفیسر صاحب جیسے جیسے سنتے گٸے انکا رنگ متغیر ہوتا چلا گیا۔۔پھر وہ سینہ پکڑ کر دوہرے ہوتے چلے گٸے۔۔
بابا۔۔احمد اور احمر چیخ کر پکارتے ہوۓ انکی طرف لپکے۔۔
ناٸلہ آفندی منہ پہ ہاتھ رکھے اس پریشان کن حالات پہ جہاں تہاں کھڑی رہ گٸی۔۔
پھر وہ جلد از جلد جمال قریشی صاحب کو لیکر ہاسپیٹل پہنچے۔اور ڈاکٹرز نے بتایا کہ ہارٹ اٹیک ہوا ہے۔
کٸی گھنٹوں کے ٹریٹمنٹ کے بعد جب ڈاکٹر نے باہر آکر انکے خطرے سے باہر ہونے کی نوید سناٸی تو ان سب کی جان میں جان آٸی۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سر رات ہونے والی ہے میرے خیال میں ہمیں واپس اسی حویلی میں جانا ہوگا۔کیونکہ یہ راستے پرخطر ہیں۔ہم صبح اگر سفر کریں تو ایک ڈیڑھ گھنٹے میں پہنچ جاٸیں گے ورنہ اندھیرے میں بھٹک سکتے ہیں ہم۔۔صفدر نے جھجھکتے ہوۓ کہا۔۔
اوکے ٹھیک ہے۔۔زین نے کہا اور پھر واپس وہ اسی راستے سے حویلی میں آگٸے۔۔
ثانیہ انہیں دیکھکر چونکی۔۔
تھینک گاڈ،آپ واپس آ گٸے مجھے ٹینشن ہو رہی تھی کہ کہیں جنگل میں کھو نہ جاٸیں آپ۔ثانیہ نےکہا۔
تم اپنی ان باتوں سے کیا ثابت کرنا چاہتی ہو کہ تمہیں ہماری بہت فکر ہے۔یا پھر تمہیں خود کی فکر ہے کہ تمہارے ہاتھ بندھے ہیں تو تم واپس کیسے جاٶ گی۔۔صفدر نے زہرخند لہجے میں کہا۔۔
ثانیہ کے چہرے پہ ایک سایہ سا لہرا گیا۔۔
پری زیب نے آگے بڑھ کر ثانیہ کے ہاتھ کھول دٸیے۔۔
یہ کیا کیا میم آپ نے۔یہ عورت بہت خطرناک ہے نقصان پہنچا سکتی آپ دونوں کو۔۔
نہیں صفدر یہ مجھے اور زین کو کبھی نقصان نہیں پہنچا سکتی۔اس نے ہمیں کڈنیپ جانتے ہو کیوں کیا۔کیونکہ یہ نہیں چاہتی کہ میں اور آپ کے سر کبھی الگ ہوں۔ہم دونوں کو اکھٹے ایک راحت بھری قید میں رکھا جہاں ہم ایک دوسرے کو سمجھ کر کبھی نہ ٹوٹنے والا رشتہ بنا سکے۔۔پری زیب بولی
ثانیہ اور باقی سب حیرانگی سے اسے دیکھنے لگے۔۔
مطلب تم مجھے غلط نہیں سمجھی۔۔ثانیہ نے نم لہجے سے کہا۔۔
میں تمہیں جانتی ہوں ثانیہ۔تم ایک صاف دل اور محبت بھرے دل کی مالک ہو۔اور تم کبھی بھی ہمارا غلط نہیں سوچ سکتی۔۔پری زیب نے کہا۔
زین اور صفدر شرمندگی سے سر جھکا گٸے۔۔
ایم۔ایم سوری ثانیہ۔۔اور تھینک یو بھی۔کیونکہ اتنے دنوں کی بدگمانی آج دھل چکی ہے اور ہم الحَمْدُ ِلله اب کبھی الگ ہونے کا فیصلہ نہیں کرینگے۔۔زین نے مسکرا کر کہا۔۔
اوووہ تھینک گاڈ۔۔ثانیہ نے مسکرا کر کہا۔اور پھر اس نے سرنگ والا دروازہ لاک کیا۔
چلیں کچھ کھاتے پیتے ہیں پھر صبح صبح نکلنا ہے کیونکہ میری بہن آ رہی ہے۔ثانیہ نے کہا۔۔
ہاں چلو ہم دونوں کھانا بناتی ہیں۔پری زیب نے کہا اور پھر دونوں کچن کیطرف چلی گٸیں۔۔
سر میں کیا کروں گا اب؟ صفدر نے بےچینی سے پوچھا۔۔
معافی مانگ اور کیا کرے گا۔۔
سر وہ نہیں کرے گی معاف۔میں نے اسے بہت بےدردی سے مارا ہے۔صفدر نے کہا تو زین نے منہ بنا کر اسے دیکھا۔۔
ویسے تم نے یہ بالکل ٹھیک نہیں کیا اگر آرام سے پوچھتا تو شاید بتا دیتی وہ۔زین نے کہا۔۔
بس سر آپ کی کڈنیپنگ کا سن کر میرا دماغ ماٶف ہو گیا تھا۔۔صفدر نے لب کاٹتے ہوۓ کہا۔۔
چل اب صبر کر اور معافی مانگتے رہنا۔۔زین نے کہا۔۔۔
اور پھر وہ دونوں لاٶنج میں بیٹھ کر باتیں کرنے لگے۔۔اور کچھ دیر بعد پری زیب اور ثانیہ کھانا لیکر ادھر ہی آ گٸی۔
پری جاناں ہمیں سونا چاہیے۔اور تم دونوں بیٹھ کر باتیں کرو۔زین نے کھانے کے بعد پری سے کہا اور پھر دونوں اٹھ کر روم کیطرف چلے گٸے۔۔
انکے جانے کے بعد لاٶنج میں صفدر اور ثانیہ اکیلے رہ گٸے تھے۔
ایم سوری ثانیہ۔۔
کوٸی ضرورت نہیں ہے تیرے کو سوری کرنے کی۔اور تیرا میرا رشتہ ہی کیا تھا کہ میں تجھ سے ناراض ہوٶں۔مگر ہاں تیرے سے نفرت بہت ہو گٸی ہے کیونکہ تونے میری بہن کے بارے میں غلط سوچا۔۔اور۔۔۔
ثانی میں بس سر اور میم کو بچانا چاہتا تھا ورنہ تمہاری بہن کو اغوا کرنے والی بات کبھی نہیں کرتا اور تیری بہن میری بہن ہے۔صفدر نے جلدی سے اسکی بات کاٹتے ہوۓ کہا۔
میری بہن صرف میری بہن ہے اور اب اس ٹاپک پہ کوٸی بات نہیں ہوگی۔تونے معافی مانگی مگر تیری معافی مانگنے سے مجھے فرق نہیں پڑتا کیونکہ تو میری نظر میں کچھ اہمیت نہیں رکھتا۔۔وہ تلخ لہجے میں بولی۔
مگر تم میری نظر میں بہت محترم ہو ثانیہ۔۔
صفدر کی بات پہ ثانیہ کے چہرے پہ استھزاٸیہ مسکراہٹ آگٸی۔۔
ہاں دیکھا میں نے کتنی محترم ہوں۔وہ طنزیہ انداز میں بولی۔
ثانیہ۔۔۔
بس صفدر شاہ مجھے تم سے مزید بات نہیں کرنی۔ثانیہ نے کہا اور پھر وہ ایک روم کیطرف بڑھ گٸی۔
صفدر نے اپنا سراپنے ہاتھوں میں گرا دیا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زین۔۔۔۔
ہوں۔۔۔۔زین نے پری کی پکار پہ ہولے سے کہا۔۔
صفدر بھاٸی کو ثانیہ معاف کر پاۓ گی کیا؟
پتا نہیں میری جان۔۔اللہ کرے ان دونوں میں محبت اور احترام کا رشتہ قاٸم ہو جاۓ۔صفدر اس سے بہت پیار کرتا ہے۔زین نے کہا۔۔
زین وہ اگر پیار کرتا ہے تو اسے ثانیہ پہ ٹرسٹ بھی ہونا چاہیے۔۔پری زیب نے کہا۔۔
میری جان ٹرسٹ تو آتے آتے آتا ہے اور پھر صفدر نے جو کچھ کیا اپنے فرض کیلٸے کیا۔۔زین نے اسکا دفاع کرتے ہوۓ کہا۔۔
مگر ثانیہ ایک عورت ہےاس پہ تشدد کرکےکچھ اگلوانا یہ سب ایک مرد کو سوٹ نہیں کرتا۔انہوں نے بہت غلط کیا ہے۔پری زیب نے کہا۔
اچھا یار چھوڑو ان کو۔چلو تم مجھ سے کوٸی پیار بھری باتیں کرو۔زین نے اسکی طرف جھکتے ہوۓ کہا۔۔
پری زیب کے چہرے پہ حیا کے رنگ چھا گٸے۔۔
زین نے اسے بانہوں میں بھر لیا۔۔
ویسے میں اب چاہتا کہ لٹل پرنسسز آ جاۓ اب ہماری زندگی کو مکمل کرنے کیلٸے۔زین نے شرارت سے اسکے ماتھے سے ماتھا مس کرتے ہوۓ کہا۔۔
زز۔زین آپ بہت بےشرم ہیں۔وہ لب کاٹتے ہوۓ بولی۔
ان پہ کیوں ظلم ڈھا رہی ہیں مادام۔زین نے اپنی انگلی لبوں پہ پھیرتے ہوۓ کہا۔۔
سو جاٸیں۔۔پری زیب نے اسے پیچھے ہٹاتے ہوۓ کہا۔۔۔
میرا آج سونے کا موڈ نہیں۔بہت ترسایا ہوا ہے تم نے اتنے دنوں سے۔آج بدلہ لینے کا دن ہے۔زین نے اسے کھینچ کر اپنی طرف کرتے ہوۓ کہا۔۔
پری زیب نے گھبرا کر اسکے سینے میں چہرہ چھپا لیا۔۔
کچھ نہیں کرونگا میری جان۔آج صرف وعدے ہونگے اور باتیں ہونگی۔ہماری باقاعدہ سہاگ رات ہمارے کمرے میں ہوگی۔تم پھر سے دولہن کیطرح سج کر میرا انتظار کرنا۔۔زین نے اسکی ناک دباتے ہوۓ کہا۔۔۔۔۔
پھ زین اس سے کٸی قسمیں اور وعدے کرتا چلا گیا۔۔
پری زیب کو لگا کہ اسکی خوشیوں کے دن اب آۓ ہیں۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انسپکٹر وقاص آپ ابھی تک ثانی ڈان کے متعلق کچھ پتا نہیں کر سکے۔۔کمشنر صاحب نے پوچھا۔۔
سر فکر مت کریں ایک لڑکی پہ مجھے شک ہے کہ وہ ثانی ڈان ہے۔اسکی چال اسکا سٹاٸل اسی جیسا ہے۔ویسے تو وہ خود کو ایک عام سی لڑکی کہتی ہے مگر اسکا بلیک بیلٹ ہونا چونکا دیتا ہے۔۔انسکٹر وقاص نے کہا۔۔
اووووووہ کون ہے وہ لڑکی۔۔؟کمشنر صاحب نے پوچھا۔۔۔
ایک سکول میں بچوں کو کراٹے سیکھاتی ہے۔مگر یتیم خانوں اور دار الامان کو ڈونیشن بہت دیتی ہے۔سر ایک چند ہزار کمانے والی لڑکی اتنی ڈونیشن کیسے دے سکتی ہے۔بس اسی چیز نے مجھے اسکے پیچھے لگایا۔۔انسپکٹر وقاص نے کہا۔
وااااٶ انسپکٹر وقاص یو آر سچ آ جینیٸس۔کمشنر صاحب نے کہا۔۔
تھینک یو سر۔۔اجازت چاہتا ہوں کیونکہ مجھے اپنی سسٹر کو ایٸرپورٹ سے پک کرنا ہے۔انسپکٹر وقاص نے کہا۔۔اور پھر خدا حافظ بول کر وہاں سے نکلتا چلا گیا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہانیہ جہاز میں بیٹھ کر میگزین پڑھ رہی تھی اور ایک عورت ساتھ بیٹھی تھی اور اسکے ساتھ دو بچے تھے۔۔
میرا نام فرح ہے۔۔ہانیہ نے میگزین رکھا تو وہ عورت جھٹ سے بولی۔۔
اووووہ اچھا۔میرا نام ہانیہ ہے۔ہانیہ نے دھیمے سےلہجے میں کہا۔۔
آپ بہت میٹھی ہیں اور آپ کی آواز بھی بہت میٹھی ہے۔۔ہانیہ فرح کی بات پہ مسکرادی۔
تم پاکستان کسی سے ملنے آٸی ہو۔۔؟
جی میں اپنی سٹڈی کیمپلیٹ کرکے واپس پاکستان اپنی سسٹر کے پاس جا رہی۔۔ہانیہ نےکہا۔۔
مطلب تم شادی شدہ نہیں ہو۔۔فرح نے کہا۔۔
ہانیہ نے نفی میں سر ہلا دیا۔۔
میں اپنے بھاٸی سے ملنے پاکستان جا رہی ہوں۔بیچارا بہت اکیلا ہے۔میں نے تو سوچا کہ اس بار اسکی شادی کروا کر ہی جاٶں گی۔۔فرح نے کہا۔۔
اچھی بات ہے۔۔ہانیہ نے کہا۔
اور پھر وہ عورت کافی دیر باتیں کرتی رہی اور ہانیہ ہوں ہاں میں جواب دیتی رہی۔۔
پھر پاکستان ایٸرپورٹ پہنچ کر ہانیہ سے اس نے فون نمبر لیا اور پھر ہانیہ کی جان چھوٹی۔۔
میں زرا واشروم سے ہوکر آتی ہوں۔ہانیہ نے کہا اور لیڈیز واشروم کیطرف چل دی۔اچانک اسکا موباٸل بجا تو وہ چلتے ہوۓ بیگ سے موباٸل نکال رہی تھی کہ زور سے کسی سے ٹکراٸی۔۔
اندھی ہو کیا۔۔ایک سخت مردانہ آواز آٸی۔۔
ہانیہ نے چونک کر دیکھا۔
اندھے تو آپ بھی نہیں ہیں تو میں بےدھیانی میں تھی تو آپ تو دھیان میں تھے نہ تو آپ ہی ٹکرانےسے بچ جاتے بٹ پھر بھی میں آپ سے معافی چاہتی ہوں۔ہانیہ نے نرم لہجے میں کہا۔
سامنے کھڑا لڑکا اسکے نرم لہجے پہ محض اسے دیکھ کر رہ گیا۔۔
اس سے پہلے وہ کچھ بولتا کہ فرح پاس آکر اس لڑکے کے گلے لگ گٸی۔۔
وقاص اس سے ملو یہ میری نیو فرینڈ ہانیہ ہے۔۔
اور ہانیہ یہ میرا بھاٸی وقاص ہے۔۔
ہانیہ نے گہرا سانس بھرا کیونکہ وہ فرح کوگلے ملتے دیکھ کر ہی جان گٸی تھی کہ یہ لڑکا ہی فرح کا بھاٸی ہوگا۔
ناٸس ٹو میٹ یو۔ہانیہ نے دھیما سا مسکرا کر کہا۔۔۔
وقاص اسکے دھیمے اور میٹھے لہجے میں جیسے کھو سا گیا تھا۔۔
ایم سوری۔مجھے لیٹ ہو رہا ہے میری آپی باہر گاڑی میں ویٹ کر رہی ہوگی۔ہانیہ نے کہا اور تیزی سے نکل گٸی۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وقاص چپ چاپ ڈراٸیونگ کر رہا تھا۔اسکا دماغ ہانیہ میں الجھ گیا تھا۔وہ لڑکی عام لڑکیوں سے بہت مختلف لگی۔اسکی آنکھوں میں ایک عجیب سی بےچینی تھی مگر آنکھوں کے برخلاف وہ بہت مختلف تھی۔ایک جھیل جیسے میٹھے اور ٹھنڈے پانی جیسی۔۔۔
ماموں جان آپ کو ممانی جان کیسی لگی۔۔اذلان بولا۔۔
واٹ۔۔۔کونسی ممانی۔۔۔؟
وہی جن سے آپ ٹکراۓ تھے۔کیونکہ مما بولی کے وہ ہماری ممانی بنے گی۔۔
اپیا یار۔۔۔وقاص جھلا کر بولا۔
ارے کیا اپیا یار۔کب کرنی ہے تجھے شادی؟ تیس کے ہو گٸے ہو۔۔فرح نے تپ کر کہا۔۔
اوکے بابا کر لوں گا شادی۔ابھی مجھے ایک کیس پورا کرنا ہے۔وقاص نے سر جھٹک کر کہا۔۔
وہ کرتے رہنا مگر ایک بار ہانیہ کے بارے میں غوروفکر کرو تاکہ میں رشتہ لیکر جانے والی بنوں۔۔فرح نے کہا۔
ٹھیک ہے جیسا آپ چاہتی ہیں ویسا ہی کریں۔وقاص نے کہا۔۔
فرح بےیقینی سے اسے دیکھنے لگی۔۔
تو سچ میں مان گیا۔۔وہ آنکھیں پھیلا کر بولی۔۔
وقاص کندھے اچکا کر رہ گیا۔وہ خود بےیقین تھا کہ وہ راضی کیسے ہوگیا۔
مگر پھر اسکے چہرے پہ ایک مسکراہٹ ٹھہر گٸی۔۔
نمبر دوں اسکا۔۔فرح نے پوچھا۔۔
نیکی اور پوچھ پوچھ۔وقاص نے مسکرا کر کہا۔۔فرح جلدی سے اسکا موباٸل پکڑ کر نمبر سیو کرنے لگی۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ چاروں ایٸرپورٹ کے باہر کھڑے ہانیہ کا انتظار کر رہے تھے۔۔
ثانی کب آۓ گی تیری بہن۔۔۔پری زیب نے پوچھا۔۔
بس فون کرکے پوچھتی ہوں۔۔ثانیہ نے کہا اور پھر فون ملانے لگی۔۔
یار فون نہیں اٹھاتی یہ پگلی جلدی۔۔ثانیہ جھلا کر بولی۔۔
پھر کچھ دیر بعد ہانیہ باہر نکلتی دیکھاٸی دی۔۔
ثانیہ جلدی سے اسکی طرف بڑھی۔اور اسے گلے لگا کر ماتھا چوما۔
پھر وہ سب لوگ گاڑی میں بیٹھے تو ثانیہ نے سب سے تعارف کروایا۔
پھر ثانیہ اور سب اس سے حال احوال پوچھنے لگے وہ دھیمے سے لہجے میں جواب دے رہی تھی۔۔۔
سر یقین نہیں آ رہا کہ دونوں بہنیں ہیں۔۔ایک شعلہ ہے تو دوسری شبنم۔ایک آگ ہے اور دوسری پانی۔۔صفدر زین کے کان میں بڑبڑایا۔۔
ایک چیز بولنا بھول گیا تو۔۔پوچھ کیا؟ زین نے سنجیدگی سے کہا۔۔۔
کیا سر۔۔؟
ایک کوہ قاف کی چڑیل دوسری پرستان کی شہزادی۔۔۔
زین کے سنجیدگی سے جواب پہ صفدر قہقہ لگا کر ہنس پڑا۔۔۔
وہ تینوں حیرت سے صفدر کو دیکھنے لگ گٸیں۔۔
آپ کو کیا ہوا صفدر بھاٸی؟ پری زیب نے پوچھا۔۔۔۔
کچھ نہیں میم۔۔۔صفدر نے سر جھکا کر کہا۔۔
پھر ثانیہ ان تینوں کو آفندی ولا کے سامنے اتار کر زن سے گاڑی موڑتی چلی گٸی۔۔
صفدر تیرا اللہ ہی حافظ ہے۔زین نے مسکرا کر کہا۔۔
سر اسکی اسی اداٶں پہ تو مرتا ہوں۔صفدر نے شرما کر کہا۔۔
أَسْتَغْفِرُ اللّٰه،،،تم ابنارمل ہو کیا؟ زین نے کہا۔۔
صفدر بھاٸی انکو کیا پتا اس چیز کا۔آپ لگے رہو۔ایک دن آپ دونوں ساتھ ہونگے۔پری زیب نے کہا۔۔
ان شاء اللہ میم۔صفدر نے کہا۔۔اور پھر خدا حافظ بول کر اپنی باٸیک نکال کر گھر کیلٸے نکل گیا۔۔
سو جان من۔کروں آج تیاری سہاگ رات کی۔زین نے پوچھا۔۔
شششش۔کہیں بھی شروع ہو جاتے ہو تم۔پری زیب نے ڈپٹ کر کہا۔اور پھر دونوں مسکراتے ہوۓ اندر داخل ہو گٸے۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
