Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mein Kese Kahun (Episode 05)

Mein Kese Kahun by Umme Emman Fatima

ایم سو سوری آنٹی میں نے جانے انجانے میں زین کا بہت دل دکھایا ہے۔اور آج بھی میں ان کی اس تصویر پہ ہنس دی اور کہہ دیا کہ آپ ایسے تھے،اور میرا اس سے مطلب انکو کم صورت کہنا نہیں تھا بلکہ میرا مطلب تھا ک اتنے بھولے تھے،وہ شرمندگی سے بولی۔۔۔

کوٸی بات نہیں میرے بچے،وہ بس ایسا ہو گیا ہے اس لڑکی نے اسے بدصورت کہہ کر چھوڑا تھا،ایک انسان جب آپ کوپراعتماد بناتا ہے پھر وہی انسان آپکی کمزویاں پکڑتا ہے تو انسان ایسا ہی ہو جاتا ہے، وہ بہت ٹوٹا ہوا ہے اندر سے۔۔۔ناٸلہ آفندی نے کرب سے کہا۔۔۔

آپ ٹھیک کہہ رہی ہیں آنٹی۔۔۔وہ انکے ہاتھ پہ ہاتھ رکھ کر بولی۔۔۔

پری بچے آپ میرے بیٹے کو اپناٸیں گی“ وہ امید بھرے انداز میں پوچھنے لگی۔

مم،میں آنٹی۔۔مگر میں کیسے؟ ہم تو جب ملتے ہیں تبھی لڑتے ہیں۔۔پری زیب نے گڑبڑا کر کہا۔۔۔

پری وہ تم سے لڑتا ہے۔۔اور مجھے پتاہے تم اسکے دل میں ایسے ہی آ جاٶ گی۔۔بس تمہیں اسکے آس پاس رہ کر اسکی عادت بننا ہے۔۔اور پھر تم اتنی من موہنی سی ہو۔ناٸلہ آفندی نے کہا۔۔

پری زیب انکی باتوں پہ سر جھکا کر رہ گٸی۔۔۔

پھر وہ تینوں فنکشن ختم ہونے کے بعد گھر واپس آ گٸے۔۔

اور پری زیب کمرے میں آکر بنا کپڑے چینج کٸے لیٹ گٸی۔۔

آج وہ جو کچھ زین کے بارے میں جان پاٸی تھی اسکے بعد اسکا دل بےچین تھا“زین کا درد جان کر اسے اپنا وجود سن لگ رہا تھا۔۔پھر وہ نجانے کب خود سے الجھتی سو گٸی۔۔۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ساٸرہ اپنے سر سے جوڑا پنے اتار رہی تھی اور احمد اسکے سامنے کھڑا اسکو دیکھ رہا تھا۔۔

ویسے آج تو کمال لگ رہی تھی تم۔۔احمد کی بات پہ اسکے چہرے پہ جیسے قوس و قزاح کے رنگ کھل گٸے۔۔

ویسے میں آج بہت خوش پوں کیونکہ مجھے لگتا ہے کہ ناٸلہ آفندی زین صاحب کا رشتہ ہماری پری زیب سے کرنا چاہتی ہیں۔۔احمد نے کہا

آپ کو ایسا کیوں لگا؟ ساٸرہ نے چونک کر پوچھا۔۔۔

مجھے کیا سب کو لگ رہا تھا کہ ناٸلہ آفندی ہماری پری زیب میں بہت انٹرسٹ لے رہی ہے۔۔احمد نے کہا۔۔

مگر مجھے لگتا احمد وہ لڑکا ہماری پری زیب کیلٸے مناسب نہیں ہے۔۔ساٸرہ نے کہا۔۔

تمہیں ایسا کیوں لگ رہا کہ وہ مناسب نہیں۔۔احمد نے چونک کر پوچھا۔۔

وہ لڑکا بہت سنجیدہ ہے اور اسکی آنکھوں میں بہت خالی پن لگ رہا تھا مجھے۔۔اور ہماری پری زیب اتنی ہنس مکھ اور زندہ دل ہے۔تو یہ مس میچ ہوگا نہ۔ساٸرہ بولی۔۔

تم ساٸرہ ایک فضول سی ریزن دے رہی ہو مجھے۔پاگل ہو کیا۔۔احمد ناگواری سے بولا۔۔

ساٸرہ نے اسکی بات پہ سر جھکا لیا۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہاۓ زین“ پری زیب نے پارکنگ کیطرف جاتے زین کو مخاطب کیا۔۔

تم کیوں میرے پیچھے پڑی ہو؟ اس نے جھلا کر پوچھا۔۔

ہم فرینڈز بن سکتے ہیں“؟ پری زیب نے پوچھا۔۔۔

کیوں وجہ؟ وہ ناگواری سے بولا۔۔۔۔

بس ایویں۔۔۔۔پری زیب نے مسکرا کر کہا۔۔۔

نہیں مجھے نہیں کرنی کوٸی دوستی تم سے۔۔۔زین نے جواب دیا۔۔

کیوں نہیں کرنی،؟ وہ جلدی سی بولی۔

میری مرضی۔۔وہ کہہ کر آگے بڑھ گیا۔۔۔

اوففففف،یہ تو بات بھی نہیں کرتا اور اسکی مام مجھے اسکی محبوبہ بنانا چاہتی ہے۔۔۔وہ بڑبڑاٸی۔۔

پھر سر جھٹک کر وہ جلدی سے اسکے پیچھے بھاگی۔اور اسکی گاڑی کی فرنٹ سیٹ پہ بیٹھ گٸی

زین ہکا بکا سا اسے دیکھ رہاتھا۔۔۔

فورا اترو میری گاڑی سے، وہ جھلا کر بولا۔۔

میں گھر کیسے جاٶں گی میرے پاس پیسے نہیں ہے ،پلیز پلیز مجھے گھر تک ڈراپ کر دو۔۔

میں تمہارا شوفر نہیں ہوں۔۔وہ اسکی بات پہ تپ کر بولا۔۔۔

ہاۓ اللہ ،مجھے ڈراپ کرنے سے آپ خود کو شوفر سمجھنے لگو گے۔چھییییی چھیییی۔۔کتنی چھوٹی سوچ ہے آپکی۔۔۔ٹھیک ہے اتر جاتی ہوں مگر اتنا یاد رکھنا کہ اپنی اس چھوٹی حرکت پہ آپ کا ضمیر آپ کو ملامت کرے گا۔۔وہ بولی۔۔

زیادہ نوٹنکی مت کرو اور گاڑی سے نکلو جلدی۔۔وہ بولا۔۔

پری زیب جھلا کر اترنے لگی مگر نکلتے نکلتے اسکی گاڑی کی چابی نکال کر دوڑ لگادی۔۔

زین جلدی سے نکل کر اسکے پیچھے بھاگا۔۔تو پری زیب نے چلتے چلتے چابی پورے زور سے آگے کو پھینک دی۔۔اور خود جلدی سے دوسری طرف ہو گٸی۔

زین غصے سے اسے گھور کر آگے کو بڑھا تو پری زیب بھاگتی ہوٸی دبارہ اسکی گاڑی کیطرف آٸی اور پچھلی سیٹ کا دروازہ کھول کر وہ اس میں بیٹھ گٸی اور پھر اس نے خود کو سیٹ کے درمیان چھپا لیا۔۔

کچھ دیر بعد زین واپس آیا اور گاڑی میں بیٹھ کر گاڑی چلانے لگا۔۔اور پری زیب اطمینان سے چھپی بیٹھی تھی۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

زین کے ماتھے پہ ان گنت بل پڑے تھے۔۔وہ غصے سے اندر ہی اندر کھول رہا تھا۔وہ لب بھینچے گاڑی چلا رہا تھا

پلیز بس یہیں ڈراپ کردو۔۔۔ اچانک پری زیب پچھلی سیٹ سے سیدھی ہوکر بیٹھتے ہوۓ بولی۔۔

زین نے ایک جھٹکے سے گاڑی روکی اور پیچھے مڑ کر اسے کھا جانے والی نظروں سے دیکھنے لگا۔۔

تم انتہاٸی ڈھیٹ ہو“زین دانت پیس کر بولا۔۔

تھینک یو جی۔۔وہ مصنوعی سنجیدگی سے بولی جبکہ اسکی آنکھوں میں شرارت ناچ رہی تھی۔۔۔

اب نکلو اور دفع ہو جاٶ۔۔وہ دھاڑا۔۔

ارے چیخ کیوں رہے ہو؟ نکل ہی تو رہی ہوں۔۔وہ آنکھیں پٹپٹا کر بولی۔اور باہر نکل گٸی۔۔

اور زین نے زن سے گاڑی آگے کو بڑھا لی۔۔اور گھر پہنچ کر وہ لاٶنج میں رکھے صوفے پہ بیٹھ کر پری زیب کے متعلق سوچنے لگا۔۔

اسے بیٹھے ابھی کچھ دیرہی ہوٸی تھی کہ ناٸلہ آفندی اندر داخل ہوٸی۔۔وہ انہیں دیکھ کر سیدھا ہوکر بیٹھ گیا۔۔۔

کیا بات ہے میری جان ؟ ناٸلہ آفندی نے پوچھا۔۔

اس آفت کی پڑیا نے میرا دماغ خراب کر رکھا ہے۔وہ جھلا کر بولا۔۔۔

کون آفت کی پڑیا؟ ناٸلہ آفندی نے حیرت سے پوچھا۔۔۔۔۔

وہی پری زیب۔۔وہ دانت کچکچا کر بولا۔۔۔

ارے اتنی پیاری بچی ہے وہ،اور تم اس کیلٸے یہ سب کیسے بول سکتے ہو“ ناٸلہ آفندی نے کہا۔۔

مام۔۔آپ کیوں اسکی ساٸیڈ لیتی ہیں“وہ تپا۔۔۔۔

کیونکہ وہ ہے ہی اتنی پیاری۔میں تمہاری جگہ ہوتی تو اس سے پیار ضرور کر بیٹھتی۔۔ناٸلہ آفندی نے کہا۔۔

اووووہ رٸیلی مام۔۔خوبصورت تو سوہنی بھی تھی اور پیار بھی ہوا اس سے مگر کیا ہوا۔۔چھوڑ دیا اس نے آپ کے امیر ترین بیٹے کو بدصورت کہہ کر۔وہ تلخ لہجے میں بولا۔۔

وہ اگر اب تمہیں دیکھ لے گی تو تمہیں چھوڑنے پہ پچھتاۓ گی۔۔ناٸلہ آفندی نےکہا۔۔

صرف جسم بھرا ہے میرا مگر ہوں تو کالا ہی نہ۔۔اور آپ کی وہ پریوں جیسی پری زیب کیساتھ کھڑا اور بھی کالا لگتا ہوں۔زین نے سر جھٹک کر کہا۔۔

کیسی باتیں کر رہے ہو تم،اتنے ہینڈسم ہو۔۔لڑکیاں مڑ مڑ کر دیکھتی ہیں۔۔

مام لڑکیاں مڑ کر دیکھتی ضرور ہے مگر میں ہینڈسم ہوں اس لٸے نہیں بلکہ میرا اسٹیٹس میری شان و شوکت دیکھتی ہیں۔۔اور آپ کی جو پری زیب ہے نہ وہ وہاں یونیورسٹی میں سب کو چھوڑ کر میرے پیچھے اس لٸے ہے کیونکہ میں امیر ہوں۔وہ تلخ لہجے میں بولا۔۔

میری جان۔۔وہ لڑکی سب سے الگ ہے اور وہ تمہارے پیچھے تمہاری دولت کیوجہ سے نہیں ہے بلکہ وہ شاید تم سے محبت کرتی ہے بنا مفاد کے۔تم صرف ایک باراس سے بنا الجھے ایک پورا دن اسکے ساتھ گزار لو،ناٸلہ آفندی نے کہا۔۔

آپ کیا چاہتی ہے مام؟۔۔اس نے حیرت سے پوچھا۔۔

تمہاری دولہن بنانا چاہتی ہوں،میں چاہتی ہوں کہ تم خوش رہنا سیکھو۔۔صرف ایک بار میرے لٸے۔۔وہ نم لہجے میں بولی۔۔

اچھا روٸیں تو مت، کل اسکے ساتھ بالکل ٹھیک سے بات کروں گا۔۔وہ ان کا ہاتھ تھام کر بولا۔۔

اسکے حامی بھرنے پہ ناٸلہ آفندی کا چہرہ کھل اٹھا۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آج صبح سے ہی بادل چھاۓ تھے اور موسم بہت پیارا تھا۔

پری زیب جلدی سے تیار ہوکر معمول کے مطابق احمد کا انتظار کر رہی تھی۔اور پھر احمد اسے چھوڑنے کیلٸے نکلا مگر آدھے راستے جاکر گاڑی رک گٸی۔۔

اوفففف بھیا“اب میں کیا کروں گی ؟وہ جھلا کر بولی۔۔

سوری بیٹا۔میں دیکھتا ہوں کوٸی کیب یا رکشہ۔۔احمد کہہ کر باہر نکلا۔۔

پھر احمد گاڑی سے باہر نکلا ہی تھا کہ سامنے سے ایک واٸٹ کار آتی دیکھاٸی دی۔۔اور پھر وہ کار نے احمد کے پاس آکر بریک لگاٸی۔

تو احمد نے چونک کر دیکھا تو گاڑی میں زین تھا۔۔۔

ارے زین صاحب شکر ہے آپ مل گٸے۔۔پلیز آپ یونیورسٹی ہی جا رہے ہیں تو پری زیب کو بھی لیتے جاٸیں۔۔اکچوٸلی میری گاڑی خراب ہو گٸی ہے۔۔احمد نے کہا ۔۔

زین نے اثبات میں سر ہلادیا۔۔

اور پھر پری زیب احمد کو خدا حافظ بول کر زین کی گاڑی میں آکر بیٹھ گٸی۔۔

پری زیب پچھلے دس منٹ سے چپ چاپ گاڑی میں بیٹھی تھی۔۔

زین گاہے بگاہے اس پہ نظر ڈال رہا تھا۔۔۔

ویسے تو اتنا بولتی ہے اور آج جب میں بات کرنا چاہتا ہوں تویہ بول کیوں نہیں رہی آج۔۔۔اس نے جھلا کر سوچا۔۔

پھر گاڑی یونیورسٹی کے گیٹ کے سامنے رکی تو پری زیب نے گہرا سانس بھرا ۔۔

سن،سنو۔۔۔زین کے پکارنے پہ اسکا دروازہ کھولتا ہاتھ رکا۔۔

وہ حیرت سے اسے سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگی۔۔۔

اکچوٸلی مام نے کہا کہ انہیں لگتا کہ مجھے تم سے آرام سے بیٹھ کر بات کرنی چاہیے۔۔زین نے کہا۔۔

یہ تو مام کو لگتا ہے اور آپ کو کیا لگتا ہے؟ پری زیب نے پوچھا۔۔

مجھے لگتا ہے کہ وہ ٹھیک کہہ رہی ہیں،تو ہم آج کچھ پل اکھٹے گزار سکتے ہیں۔۔زین نے کہا۔۔

اوکے پھر فری پیڑیڈ میں ملتے ہیں۔وہ کہہ کر باہر نکل کر اندر کیطرف بڑھ گٸی۔۔۔اور زین گاڑی پارک کرنے لگ گیا۔۔۔۔

پھر فری پیڑیڈ میں پری زیب زین کے روم کیطرف بڑھ گٸی۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

زین کے ہاتھ لیپ ٹاپ پہ تیزی سے ٹاٸپنگ کر رہے تھے۔۔وہ اساٸمنٹ اپنے ڈیڈ کے مینیجر کو میل کررہا تھا تا کہ وہ اسکے پرنٹ نکلوا لے

وہ ارد گرد سے بیگانہ کام میں مصروف تھا کہ دروازے پہ ہوٸی دستک پہ چونکا۔۔۔

آ جاٶ پری زیب۔۔پھر اس نے کچھ توقف کے بعد جواب دیا تو وہ دروازہ دکھیلتی اندر داخل ہوٸی۔۔

آپ کو کیسے پتا میں ہوں؟ پری زیب نے پوچھا۔۔

باہر ساٸن بورڈ لگا ہے۔۔ ڈونٹ ڈسٹرب۔۔وہ پڑھنےکے باوجود تمہارے علاوہ کون یہاں آنے کی ہمت کر سکتا ہے۔۔

زین کے اطمینان سے دٸیے گے جواب پہ وہ کھلکھلا کر ہنس دی۔۔

زین ایک پل کیلٸے اسکی ہنسی کے سحر میں کھو گیا۔۔

کیا کر رہا ہے تو زین۔لگتا مام کی باتوں کو زیادہ سیریٸس ہی لے لیاہے۔۔وہ خود کو دل ہی دل میں سرزنش کرنے لگا۔

چلو یہ سب چھوڑو۔۔اور چلو کینٹین تک چلتے ہیں۔وہ کہنے لگی۔۔

کینٹین کیوں۔وہاں بہت جنک فوڈ ہونگے اور سوری میں بہت زیادہ ڈاٸٹ کانشش ہوں۔زین نے کہا۔۔

لو جی یہ کیا بات ہوٸی۔۔زندگی کا مزا تو انہیں چیزوں میں ہے۔۔بس ایک بار یہ کھا لیں پھر میں آپکے فیورٹ فوڈ کھاٶں گی۔وہ جلدی سے بولی۔۔

سوچ لو۔۔۔زین نے کہا۔۔

سوچ لیا۔بس اب اٹھیں اور یہ سب چھوڑیں۔۔وہ جلدی سے بولی۔۔

زین سب کچھ سمیٹ کر پری زیب کیساتھ باہر نکل آیا۔۔۔

جب ان دونوں نے کینٹین میں قدم رکھا تو سب انکی طرف ہی دیکھنے لگے۔۔مگر وہ دونوں دنیا کے عجیب انسان تھے جنکو لوگ کیا سوچتے ہیں اس بات سے کوٸی غرض نہیں تھی۔۔۔۔

پری زیب اور زین ایک ٹیبل پہ بیٹھ گٸے۔پھر پری زیب اٹھ کر کچھ کھانے کیلٸے لینٕے چلی گٸی۔کچھ دیر بعد جب واپس آٸی تو اسکے ہاتھ میں سموسوں کی دو پلیٹیں تھی۔۔۔

اففففف گاڈ،اتنا سارا کھانا۔زین نے آنکھیں پھاڑ کر کہا۔۔

ارے اتنا زیادہ کہاں ہے۔دو دو سموسے ہی تو ہیں۔پری زیب نے کہا۔۔۔۔۔۔

میں تھوڑا سا لوں گا بس۔زین نے کہا۔۔

مرضی ہے۔۔پری زیب نے کندھے اچکا کر کہا۔۔۔

اور پھر وہ چٹنے میں ڈبو ڈبو کر سموسے کھاتی زین کو سوہنی کی یاد دلا گٸی۔۔

پھر زین نے بمشکل ایک سموسہ کھایا۔۔اور پری زیب اسکا باقی کا سموسہ بھی کھا گٸی۔۔

اب کیا کرنا ہے؟ زین نے پوچھا۔۔۔

کچھ نہیں موباٸل نمبر دے دو بس۔۔

کیوں وہ کیاکرنا ہے؟ زین نے حیرت سے پوچھا۔۔۔

پڑوسن کو دینا ہے؟ وہ جل کر بولی۔۔

واٹ ؟ تم میرا نمبر پڑوسن کو کیوں دو گی۔۔وہ حیرت سے پوچھنے لگا۔۔

اسکی معصومت پہ پری زیب کے چہرے پہ مسکراہٹ آ گٸی۔۔

ارے مزاق کر رہی ہوں۔اب دوست بن چکے ہیں تو ایک دوسرے کے فون نمبر تو ہونے چاہیے نہ۔وہ جلدی سے بولی۔۔

زین گہرا سانس بھر کر اسے اپنا نمبر بتانے لگا۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جاری ہے۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *