Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode31

Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode31

صبح کے پانچ بجے جاکر دونوں باپ بیٹی سوئے تھے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ثمال تم یہاں کیوں آؤگی ۔۔۔۔۔۔۔ سب ہی یہاں پر ہیں ۔۔۔۔ تم ایسا کرو حمنہ کے پاس چلی جاؤ ویسے بھی محند یہاں پر ہے تو تم آسانی سے حمنہ سے مل سکوگی اور کچھ ٹائم اسکے ساتھ سپینڈ کرکے تمہیں اچھا لگے گا
آج کورٹ کی پانچویں ہیئرنگ تھی اور جج صاحب نے مسلسل محند کے وکیل کو ثبوتوں اور گواہوں کے لانے کو کہا تھا اور اگلی مرتبہ کی ہیئرنگ میں ان سب کے نہ ہونے پر اپنا فیصلہ سنانے کا اندیہ دے دیا ۔۔۔۔ جس کا صاف صاف مطلب انکا کیس ہار جانا تھا
ثمال یہاں پر آنا چاہتی تھی مگر حامد نے اسے یہ کہہ کر روک دیا کہ وہ حمنہ کے پاس چلی جائے یہاں اسکا ٹائم ہی برباد ہوگا جبکہ بی بی جان سمیت سب ہی یہاں پر تھے تو حمنہ کے پاس بھی کسی کو ہونا چاہیے ۔۔۔۔ حالانکہ جاناں بھی وہاں پر تھی مگر بھی اس نے ثمال کو حویلی جانے کا بولا کہ یہاں کہیں محند
اور ثمال ایک دوسرے کے ساتھ دوبارہ سے لڑنے نہ لگ جائیں اور سب کے سامنے ہی تماشہ ہی نہ بنا لیں اپنا خاص کر کے دراب خان کے سامنے ۔۔
اچھا ٹھیک ہے میں حویلی ہی چلی جاتی ہوں ۔۔۔۔۔۔
ثمال کو اور کیا چاہیے تھا حمنہ کو تو وہ پچھلے پانچ مہینوں سے یاد کرنے تڑپ رہی تھی ۔۔۔۔۔۔ جب سے محند اس سے حمنہ کو چھین کر لے گیا تھا ثمال کی کا ایک ایک دن کانٹوں پر گھسیٹتا ہوا گزرا تھا ۔۔۔۔۔۔ فون ہر تو وہ سب سے بات کرنے اسکی خیریت معلوم کر لیتی تھی مگر اسے اپنے سینے سے لگا کر دیکھنے کی تمنا اس نے اپنے دل میں دبا لی تھی ۔۔۔۔۔۔ حامد بھی کچھ کورٹ وغیرہ کے چکر میں اسکی کوئی مدد نہیں کر پایا ۔۔۔۔۔ وہ تو محند کے ساتھ ثبوتوں اور گواہوں کی تلاش میں ہی کھپ رہا تھا لیکن نتیجہ ہمیشہ کی طرح ناکامی کا ہی انہیں سامنا کرنا پڑا تھا ۔۔۔۔ لیکن اس بار حامد کو ثمال نے جو دیا تھا وہ اس کیس کی کتھا ہی پلٹنے والا تھا ۔۔۔۔۔۔۔ جس پر حامد ریلیکس سا کھڑا کیس شروع ہونے کا انتظار کر رہا تھا ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دراب خان کی امیدوں پر پانی پھر چکا تھا جو انہوں نے سوچا تھا کے آج وہ یہ کیس جیتنے کے بعد اسکا جشن منائیں گے ۔۔۔۔۔۔۔ لیکن وکیل کے ثبوت دے دینے سے یہ کیا ہار گئ کے تھے اور آج اتنے سالوں بعد کے بند کیس کو انصاف ملا تھا
عدالت نے دراب خان کو تاعمر قید کی سزا سنائی تھی اور صدیق خان کو سزا ئے موت سنانے کے ساتھ عدالت کو گمراہ کرنے کے جرم میں جرمانہ بھی عائد کیا گیا
محند کو اپنے دل پر سے ایک بوجھ ہٹتا ہوا لگا تھا جس بوجھ نے اسے پتھر انسان بنا دیا تھا اور اس پتھر انسان نے ہر شخص سے اپنی محرومیوں کا بدلہ لے کر خود کو اتنا عادی کر لیا کہ وہ خود سے ہی اپنا بدلہ لے بیٹھا تھا
بی بی جان کی آنکھوں سے اتنے عرصے بعد کے انصاف ملنے پر آنسو بہہ نکلے ۔۔۔۔۔
انکا زہن ایک بار پھر ماضی کے تلخ دن پر چلا گیا جہاں ہنستا بستا خوش حال گھر چھوٹی سی بات پر تباہ ہو گیا
کھیتوں میں اکثر دونوں حویلییوں کے سب بچے جاکر کھیلا کرتے تھے ۔۔۔۔
وہ دن بی عام دنوں کی طرح تھا جب بچے آپ میں اچھل کود کرتے ہوئے مستیاں کر رہے تھے۔۔۔
دور کھڑا سات سالہ سلمان انہیں حسد کی نگاہ سے دیکھ رہا تھا جہاں سب ہنس ہنس کر آپس میں کھیلنے میں مگن تھے۔۔۔۔۔
سلمان چونکہ اکیلا تھا تو اسے کزنز کی کمی شدت سے محسوس ہوتی تھی اور جب انہیں آپس میں کھیلتے دیکھتا تو اور بھی آگ میں جلنے لگتا ۔۔۔۔۔ دراب خان نے اسے سختی سے کسی کے بھی ساتھ کھیلنے سے منع کر ڈالا تھا کیونکہ وہ سمجھتا تھا اسکے علاوہ باقی ہر کوئی نیچ ہے ۔۔۔۔۔۔ لوگوں کو اسکے پاس آنا چاہیے کہ وہ اسکی ہمراہی کے خواب دیکھیں اسکے ایک نظر پر خود کو خوش قسمت سمجھیں کے دراب خان نے ان پر اپنی نظر ڈالی ہے ۔۔۔۔۔ یہی عادت اس نے اپنی اولاد سے لیکر اپنی تیسری نسل اپنے پوتے سلمان میں بھی کوٹ کر ڈالی تھی جسکا وہ بہت اچھی طرح استعمال کرتا تھا ۔۔۔۔۔۔
سلمان چاہتا تھا کہ یہ لوگ خود آکر اس سے کھیلنے کی درخواست کریں اور وہ چند ایک نخرے دکھا نے کے بعد ان پر احسان جتاتے ہوئے مان جائے ۔۔۔۔۔ لیکن ایسا کچھ بھی نہیں ہوا تھا انہوں نے اسے کھیلنے کی آفر ضرور کی تھی مگر اسکے منع کرنے پر پھر سے اپنے کھیلنےمیں مگن ہوگئے اور یہی بات سلمان کی انا کو جا لگی اور اس نے حویلی جاکر من گھڑت کہانی بنا کر کے سلطان کے پوتے پوتیوں نے اس کے ساتھ بدتمیزی کی ہے اسے مارا ہے ۔۔۔۔۔ اور اسکے انکے والد کو شکایت لگا نے پر اس کے والد نے دادا اور باقی سب کو برا بھلا بولا اور گالیاں بھی نکالیں ۔۔۔۔۔۔
یہ سننے کے بعد دراب خان اور اسکے بیٹوں کو طیش آگیا کہ ان میں اتنی ہمت آئی بھی کیسے کے وہ دراب خان کے پوتے کے ساتھ اور انکے ساتھ اس طرح بد تمیزی سے پیش آسکیں۔۔۔۔۔
اور یہ لڑائی بات چیت سے بڑھتی ہا تھا پائی میں بدل کر کب ہتھیاروں میں بدل گئی پتہ ہی نہ لا اور یوں ایک چھوٹے سے بچے کے ایک جھوٹ نے ایک مکلمل خاندان ختم کر دیا
دراب خان نے شہر سیر کرنے کے لئے جانے والے سلطان کے بیٹوں اور پوتے پوتیوں سمیت بہوؤں کو بھی راستے میں ہی ختم کر دیا تھا ۔۔۔۔ بی بی جان اپنی طبیعت کی وجہ سے نہیں جاپائیں تھیں اور محند اس وقت ملک سے باہر تھا تو یہ دونوں بچ گئے تھے
اس وقت ثمال اور فاطمہ کی پیدائش عنقریب ہی تھی کے یہ ظلم کا پہاڑ دراب خان نے بی بی جان پر توڑ ڈالا تھا
پولیس کو دراب خان نے پہلے ہی خرید لیا تھا لیکن سب ایک جیسے نہیں ہوتے اور ایک ایس پی نے چھپ چھپاتے ان سب کے خلاف تمام ثبوتوں اکھٹا کرلحے اور ان بی بی جان کے تھرو جو غم میں ہی نڈھال تھیں پر کیس کروا کر عدالت میں یہ ثبوت پیش کرنے والا تھا کہ دراب خان نے اسے بھی مار ڈالا ۔۔۔۔۔
بی بی جان شکست خوردہ سی سب چھوڑ چھاڑ کر محند کے پاس ترکی چلی گئیں کے اب انکے جینے کا آخری سہارہ یہی تھا اور وہ اسے لیکر کوئی بھی خطرہ مول نہیں لے سکتی تھیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بی بی جان مبارک ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔ مبارک ہو بی بی جان آج آپکے اور میرے گناہگاروں کو سزا مل ہی گئی بی بی جان ۔۔۔۔۔۔۔۔وہ اپنے کیفر کردار تک پہنچ ہی گئے آخر ۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ لوگ بھی حویلی آچکے تھے
بی بی جان کو محند نے انکے خیالوں سے باہر نکالا تھا اور انہیں جھنجھوڑتے ہوئے اپنی خوشی بتائی اور انہیں مبارک بات دینے لگا کہ وہ کامیاب ہو ہی گیا آخر۔۔۔۔۔۔
بی بی جان نم آنکھوں سے مسکرائیں تھیں لیکن پھر وہ چونک کر حامد کی طرف متوجہ ہوئیں
مگر حامد بچے آپ کے پاس ثبوت آئے کیسے ۔۔۔؟
محند نے بھی اسکی طرف دیکھا تھا اسے بھی کب سے یہی بات چبھ رہی تھی کہ حامد کو ثبوت کہاں سے ملے اور اگر ملے بھی تو اس نے اسے کیوں نہیں بتایا اسکے بارے میں ۔۔۔۔۔۔
ہاں میں بھی یہ جاننا چاہتا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔
محند نے اسکی طرف دیکھ کر اچھنبے سے کہا کہ یہ ہوا کیسے ۔۔۔۔۔۔؟
میرے پاس نہیں بی بی جان ثمال کے پاس تھے یہ ثبوت ۔۔۔۔۔!!
حامد نے انکی سماعتوں پر دھماکہ کیا
کیا۔۔۔۔۔؟۔۔۔۔۔۔۔ ثمال کے پاس تھے یہ ثبوت ۔۔۔۔۔۔؟؟
لیکن کیسے آئے اسکے پاس ۔۔۔۔۔۔؟؟
یہ محند تھا جس نے شاکڈ ہو کر اس سے حیرانی سے پوچھا کیونکہ وہ دراب خان کی حویلی سے غلط فائل اٹھا کر لائی تھی اور پھر اسکے بعد تو وہ اپنے گھر چلی گئی تو پھر اسکے پاس کہاں سے ثبوت آگئے ۔۔۔۔۔؟
یہیں تو ہم سے غلطی ہوئی تھی ۔۔۔۔۔۔مسٹر محند ۔۔۔۔۔۔۔
حامد اسکا نام چبا چبا کر لیتا اسے ٹھٹھکنے پر مجبور کر گیا تھا
کیا مطلب ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟
محند کے دل نے کچھ غلط ہونے کا پتہ دیا ۔۔۔۔۔
مطلب یہ کہ ثمال نے فائل بلکل ٹھیک اٹھائی تھی اور یہاں درست فائل ہی آئی تھی ہمارے ساتھ ۔۔۔۔۔!!
حامد نے ان کو مزید بتایا تھا
ایسے کیسے ہوسکتا ہے۔۔۔۔؟ میں نے وہ فائل خود دیکھی تھی وہ تو کسی پروجیکٹ کی فائل تھی ۔۔۔۔۔ اور تم نے بھی تو دیکھی تھی نہ کہ نہیں دیکھی تھی ۔۔۔۔۔؟
محند اسکی عقل پر ماتم کرتا بولا تھا کہ وہ کیسی ناقابل یقین بات کر رہا تھا ۔۔۔۔ سب فائل راتوں رات ثبوت میں تو نہیں بدل سکتی تھی
حامد تھوڑا سا آگے ہو کر بیٹھا اور بغور اسکی آنکھوں میں دیکھنے لگا
ہاں وہ فائل پروجیکٹ کی ہی فائل تھی۔۔۔۔
محند کو لگا کے حامد شائد پاگل ہو گیا ہے کبھی کہتا ہے کے وہ فائل ثبوتوں والی تھی تو کبھی کہتا کہ پروجیکٹ کی فائل تھی
بات یہ ہے کے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حامد بھائی یہ دیکھیں ۔۔۔۔۔۔
ثمال فائل ہاتھ میں لئے حامد کے روم میں آئی تھی اور اسکے سامنے کرتی اس سے بولی
کیاہے یہ ؟؟
اس سے فائل لے کر حامد نے اپنے سامنے کی اور کھول کر پڑھنے لگا
یہ تو محند کی کوئی پروجیکٹ کی فائل ہے ۔۔۔ تم مجھے کیوں دکھا رہی ہو اسے۔۔۔۔۔؟
حامد فائل پر لکھا محند کا اور اسکی کمپنی کا نام پڑھ کر اسے واپس کرتا اچنبھے سے بولا تھا
ہاں۔۔۔۔۔۔ وہی فائل جسے میں دراب خان کی حویلی سے اٹھا کر لائی تھی ثبوتوں والی فائل کی جگہ ۔۔۔۔۔
ثمال اسے بولتی بری طرح چونکا گئی تھی
کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟.؟
یہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟۔۔۔۔۔۔ اسکا مطلب کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فائل تم سہی لائی تھی ۔۔۔۔۔
حامد نے خود ہی اپنے سوال کا جواب دیا تھا
ہاں ۔۔۔۔۔۔ فائل میں سہی لائی تھی ۔۔۔۔۔ اور یہ فائل انکی ہے کسی نے اصل فائل کو اس فائل سے بدل دیا تھا اور اصل فائل دراب خان کے حوالے کردی تھی ۔۔۔۔
تو پھر کس نے فائل بدلی ہوگی ۔۔۔۔۔؟؟
حامد اسے دیکھتا ہوا اس سے پوچھنے لگا
آپ کو یاد ہے آپ نے چائے منگوائی تھی اور جو ملازمہ چائے لے کر آئی تھی اس سے ایک کپ چائے کا گر گیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسی نے اسی چکر میں ہمارا دھیان بھٹکا دیکھ کر فائل بدل ڈالی اور اس کی جگہ انکی ہی فائل رکھ دی اور پھر وہ دراب خان کو پہنچادی گئی۔۔۔۔۔۔۔
اور ہم حمنہ کا کسٹڈی کے لئے کیا کیس سن کر اتنے محو ہوگئے کہ ہم نے اس فائل پر دھیان ہی نہیں دیا کہ یہ فائل محند کی ہے اور ہم ایسے ہی تمہیں بلیم کرنے لگے ۔۔۔۔۔
میں بھی تو یہی سوچ رہی تھی کے میں نے خود فائل چیک کر کے اٹھائی تھی وہ فائل ثبوتوں والی ہی فائل تھی
یہ ہوا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حامد بتا نے کے بعد محند کو دیکھنے لگا جو آنکھیں زمین پر ٹکائے پثمردہ سا لگ رہا تھا
اور ثبوت؟ ؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ کہاں سے آئے ۔۔۔۔۔۔؟
محند کو اپنی آواز دور سے آتی محسوس ہوئی
ثمال نے جب فائل اٹھائی تھی تو اس نے اسکی پکچرز کے لیں تھیں کے اگر پکڑی گئی تو اسکے پاس ثبوت کسی طرح بھی موجود رہیں ۔۔۔۔۔
ثمال نے جب مجھے یہ بتایا تو میں نے اسے تمہیں یا پھر کسی اور کو بتا نے سے منع کردیا کیونکہ تمہیں بہت ہی پیار جو آرہا تھا اس پر اسی لئے میں نے تمہیں آبزرو کیا کے کیسے تم جو اتنی اکڑ کر باتیں بگھار رہے تھے کے تم ہی سب کر لیتے تو دیکھنا چاہتا تھا کہ کیسے کرتے ہو مگر پھر بھی ایٹ دا اینڈ(At the end ) تم سے نہیں ہو پایا اور پھر ثمال جو ان پڑھ اور کم عقل تھی اسی کی وجہ سے تم یہ کیس جیتے ۔۔۔۔۔۔۔۔
حامد آج محند کو احساس دلانا چاہتا تھا کہ اس نے ثمال کو کتنا غلط کہا تھا
محند تو پہلے سے ہی اضطرابیت میں گھرا تھا اب تو وہ پچھتاوے میں ڈوب گیا تھا
خیر میں نے ثمال کو کہا تھا کہ وہ حمنہ کے پاس آجائے ۔۔۔۔۔۔ میں تو بھول ہی گیا تھا ابھی بلواکر اس سے ملتا ہوں پھر اسے چھوڑنے بھی چلا جاؤں گا
حامد نے ملازمہ سے ثمال کو بلانے کا بولا تو محند کے دل نے زور سے دھڑکنا شروع کردیا ۔۔۔۔ وہ کیسے اسکا سامنا کرسکے گا ۔۔۔۔۔۔ اسکی آنکھوں میں وہ کیسے دیکھ کر اس سے معافی مانگ پائے گا
بی بی جان بھی محند کو تاسف سے دیکھ رہیں تھیں
کیا ۔۔۔۔۔۔۔ ثمال نہیں آئی ۔۔۔۔۔۔۔ اوہ اچھا لگتا ہے کہ وہ شائد محند کے خیال سے نہ آئی ہو ۔۔۔۔ میں فون کرکے اس سے پوچھ لیتا ہوں
حامد فون ملا کر دوسری طرف سے فون اٹھانے کا انتظار کر نے لگا
یہ آپ کیا کہہ رہیں ہیں آنٹی ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
اچھ۔۔۔۔۔ اچھا ۔۔۔۔۔۔ میں دیکھتا ہوں آپ پلیزپریشان مت ہوں ۔۔۔۔
کیا ہوا حامد بیٹا ۔۔۔۔۔۔۔
سب حامد کو پریشانی سے جانتا دیکھ پریشان ہوگئے کہ کیا ہو گیا
بی بی جان آنٹی کہہ رہی تھیں کے ثمال تو تین گھنٹے پہلے ہی کب کی یہاں کے لئے نکل گئی تھی ۔۔۔۔۔۔
کیا ۔۔۔۔۔ مگر پھر وہ یہاں کیوں نہیں پہنچی ۔۔۔۔۔
محند ایک جھٹکے سے کھڑا ہو کر کانپتی آواز میں بولا ۔۔۔۔۔۔ اسے کچھ غلط ہونے کا محسوس ہوا تھا
پتہ نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔کہیں سلمان نے تو کچھ ۔۔۔۔۔۔۔۔ وہی تو باہر ہے اس وقت ۔۔۔۔۔۔ کہیں بدلہ لینے کے لئے تو۔۔۔۔۔۔۔
حامد اپنی سوچ کے مطابق جلدی سے بولا تھا۔۔۔۔۔۔۔ محند کا دل رکنے لگا ۔۔۔۔۔
نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گھٹی گھٹی سی آواز اسکے منہ سے نکلی اور پھر وہ دوڑتا ہوا جاکر گاڑی میں بیٹھ کر حویلی سے باہر نکل گیا۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *