Ishq Mera Kamil by Neena Khan NovelR50807 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode10
No Download Link
777.3K
37
Rate this Novel
Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode01 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode02 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode03(Part01) Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode03(Part02) Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode04 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode05 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode06 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode07 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode08 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode09 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode10 (Watching)Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode11 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode12 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode13 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode14(Part01) Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode14(Part02) Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode15(Part01) Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode15(Part02) Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode16 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode17 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode18 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode19 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode20 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode21(Part01) Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode21(Part02) Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode22 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode23 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode24 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode25 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode26 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode27 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode28 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode29 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode30 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode31 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode32 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Last Episode
Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode10
Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode10
یہ کہاں چلے گئے ۔۔۔۔۔۔۔ اب مجھے ان سے کون بچائے گا اللہ جی۔۔۔۔۔؟؟
حامد کو نہ پاکر ثمال کی رہی سہی ہمت بھی ختم ہو گئی تھی
محند اسے سختی سے پکڑے گول گول گھما نے لگا تھا
اسکے تیز تیز گھمانے پر ثمال جو بمشکل ہی ہیل میں خود کو کھڑا رکھنے کی تگ ودود میں لگی تھی گرنے ہی والی تھی کہ محند نے جھٹکے سے اسے اپنی طرف کھینچا تھا
ثمال اسکے سینے سے آلگی تھی اور پھر اس سے پہلے کہ محند اسے پھر سے پھینکتا ثمال نے فورا” سے محند کے گلے میں اپنے بازو حمائل کرکے گرفت سخت کردی تھی
محند حیرت سے ثمال کو دیکھ رہا تھا جو بلکل اسکے ساتھ چپکی اسکے گلے میں بازو ڈالے کھڑی تھی محند کے ہٹانے کی کوشش پر وہ اور اس سے چپکی تھی جس پر محند کا غصہ پل میں ہی کافور ہوا تھا اور بے ساختہ اسکا دایاں ہاتھ اسکے کھلے بالوں میں اٹکا تھا اور دوسرا ہاتھ اسکی کمر کو جکڑ گیا تھا
آنکھیں بند کئے ثمال محند کو سختی سے پکڑے کھڑی تھی کہ اب کسی قیمت پر بھی نہیں اسے چھوڑنا ۔۔۔۔ اگر غلطی سے بھی چھوڑا تو آج بی بی جان کے گدھے نے اسکی ہڈیاں توڑ دینی ہیں گرا گرا کر ۔۔۔۔۔۔ اور میں گر تے ہوئے کتنی عجیب لگوں گی ۔۔۔ سب کتنا ہنسیں گے مجھ پر ۔۔۔۔نہیں نہیں چھوڑنا ہی نہیں ہے ثمی تم نے تو پھر بی بی جان کا گدھا کیسے تمہیں گرائے گا ۔۔۔
ثمال اسکی گردن میں منہ چھپائے دل ہی دل میں بول رہی تھی اور اپنی پلیننگ پر بنا یہ جانے کہ وہ کسی پر قیامت بن کے چھائی ہوئی ہے زیر لب مسکرا پڑی ۔۔۔۔
محند جو اسکے وجود کی دلکشیوں میں خود کو کھوتے اسکے بال جکڑے دوسرے ہاتھ سے اسکا چہرہ اوپر کیا تھا اور اسے مسکراتے دیکھ جو پہلے ہی مدہوش تھا اور بھی زیادہ بے خود ہوکر اسے دیکھے جا رہا تھا
یہ دونوں اپنی اپنی سوچوں میں گم اردگرد سے بے خبر ہوچکے تھے
دور کھڑا حامد اپنے موبائل میں مسکراتے ہوئے انکی ایک ایک پل کی تصویر کھینچ رہا تھا کسی کا فون آنے پر اسے ریسیو کرتا شور سے پرے ہٹ گیا تھا
ابھی وقت نہیں آیا ہے تم لوگ کچھ دیر انتظار کرو جیسے ہی صحیح وقت ملا میں تم لوگوں کو میسج کردوں گا اوکے ۔۔۔۔۔ابھی فی الحال صرف باہر ہی کھڑے رہو بعد میں تم لوگوں کو اندر آنے سے کوئی بھی نہیں روکے گا ۔۔
حامد فون بند کرتے جیسے ہی مڑا تھا سامنے سے نظر آتے نفوس پر جب نظر پڑی تو وہیں ٹھٹھک کر رک گیا
اللہ اللہ ۔۔۔۔۔۔۔ اسی کی کمی تھی اب تو ۔۔۔۔۔!!
وہ دونوں ہاتھ تھامے پارٹی میں جا چکے تھے پیچھے حامد لمبا سانس کھینچتا انکے پیچھے گیا تھا
اللہ خیر کرے اب پتہ نہیں محند کیسے ری ایکٹ کرے گا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محند کی نظریں اسکے چہرے کے ایک ایک نقش سے ہوتے اسکے لال ہونٹوں پر رکیں تھیں
دھیمی سی مسکان نے اسکے لبوں کو مزید دلکشی سونپ دی تھی وہ دھیرے دھیرے بے خودی کے عالم میں اسکی طرف جھک رہا تھا
فاطمہ جو محند کے ایک دم سے جھٹک کر چھوڑنے پر نیچے گری تھی اور ہونق بنی کب سے محند کو حامد کی گرل فرینڈ کے ساتھ ڈانس کرتا ہوا دیکھ جل جل کر کوئلہ ہو رہی تھی پیر پٹختے کھڑی ہوئی تھی
ارے ۔۔۔۔۔۔ شمائل۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
اس نے سامنے سے آتی شمائل کو دیکھ کر چلانے کے سے انداز میں بولا تھا وہ بھی شمائل کے یوں اچانک آنے پر حیران ہوئی تھی
محند کے کانوں میں جب یہ نام پڑا تو جھٹ سے ا س نے اینٹرینس کی طرف دیکھا تھا جہاں سے ایک بے انتہا خوبصورت لڑکی سلمان یزدانی کے ساتھ چلتی ہوئی آرہی تھی
شولڈر کٹ بیک لیس منی گولڈن ڈیزائینر ڈریس میں بالوں کا اونچا جوڑا بنائے لمبی ہیل میں ہرنی کی سی چال چلتی اپنے سفید دلکش سراپے کے ساتھ پارٹی میں موجود ہر کسی پر اپنی اداؤں کی بجلیاں گراتی آرہی تھی
محند کے تاثرات اسے دیکھتے ہی تبدیل ہوئے تھے
ثمال کو خود پر کی گئی گرفت ڈھیلی پڑتی محسوس ہوئی تو وہ جلدی سے اس سے دور ہوئی تھی مگر جب اسکی نظر محند کے سرخ پڑتے چہرے پر پڑی تو و ہ ٹھٹھکتے ہوئے اسکی نظروں کے تعاقب میں دیکھنے لگی تھی۔۔۔
لیکن جس پر اسکی نظر پڑی تھی وہ اسکے بھی ہوش اڑا گئی تھی
یہ تو تصویروں سے بھی کہیں زیادہ خوبصورت ہے ۔۔۔
یہ حسین عورت کوئی اور نہیں محند کی سابقہ بیوی شمائل تھی
ثمال نے محند کی جانب دیکھا تو اسے غصے سے سرخ پڑتے وہ آہستہ سے اس سے دور ہونے لگی اور پھر شمائل کی طرف دیکھا تھا جو ایک نظر محند پر ڈال کر اپنے ساتھ چلتے آدمی سے کچھ بولی تھی جس پر وہ ہنستے ہوئے اثبات میں سر ہلا گیا تھا
اوہ تو یہ جیلس ہو رہے ہیں ۔۔۔۔
ثمال کو اسکے غصے کی وجہ یہی لگی تھی کہ اسکی پہلی بیوی کسی اور کے ساتھ تھی
ثمال کا ہاتھ حامد نے تھاما تھا
حامد۔۔۔۔۔بھائی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دھیرے سے بولتی ثمال اس سے اپنا ہاتھ چھڑواتی وہاں سے ہٹ گئی تھی تاکہ وہ یہ منظر نہ دیکھ سکے۔۔۔۔۔۔
حامد نے ایک نظر انکی طرف دیکھا تھا جہاں اب شمائل اور سلمان یزدانی محند کے پاس کھڑے کچھ بات کر رہے تھے اور پھر وہ سر جھٹکتا ثمال کے پیچھے گیا تھا
ہائے مسٹر محند سلطان ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سلمان یزدانی اپنا ہاتھ اسکے آگے کرتا مسکراتے ہوئے بولا تھا
مجھے لگا تھا کہ تم نہیں آوگے ۔۔۔۔۔۔
محند اس سے ہاتھ ملاتا نارمل انداز میں بولا تھا
جبکہ اسکے عام سے بی ہیوئیر پر سلمان کے ساتھ ساتھ شمائل بھی ٹھٹھکی تھی
مبارک ہو مسٹر محند سلطان ۔۔۔۔۔۔
شمائل اسکے آگے ہاتھ کئے مسکراتے ہوئے اس سے بولی تھی اور اپنی گہری نگاہوں سے اسکا سر سے پاؤں تک جائزہ لیا تھا ۔۔۔۔۔۔
محند اسکی آنکھوں کی زبان کو پڑھتے مسکراتا ہوا اس سے ہاتھ ملانے لگا۔۔۔۔
افکورس ۔۔۔۔۔۔ مسز سلمان یزدانی۔۔۔۔۔۔۔ !!
محند کے اسکے ہاتھ پکڑ نے پر ایک سیکنڈ کے لئے شمائل نے اپنی آنکھیں بند کرکے کھولیں تھیں ۔۔۔۔.
ایکسکیوز می۔۔۔۔۔۔۔۔ انجوائے دی پارٹی۔۔۔۔۔۔۔
محند کو جب فیل ہوا کہ ثمال اسکے ساتھ نہیں ہے تو ان سے ایکسکیوز کرتا وہاں سے ہٹا تھا اور اپنی نظریں آس پاس دوڑائی تھیں
ثمال کونے میں کھڑی تھی اسکے ساتھ حامد بھی کھڑا تھا اور وہ اسکے کندھے پر ہاتھ رکھے اسے جوس پلانے کی کوشش کر رہا تھا مگر ثمال مسلسل نفی میں سر ہلا رہی تھی
محند کا غصہ پھر عود کر آیا تھا
اس سے پہلے کہ وہ اسکے پاس جاتا کسی نے اسکا ہاتھ تھاما تھا
پلٹ کر دیکھا تو شمائل تھی جو اسے دیکھ کر مسکرا رہی تھی
محند نے درشتگی سے اپنا ہاتھ کھینچا ۔۔۔۔
بہت بدل گئے ہو مان ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور کافی ہینڈسم پلس رچ بھی ۔۔۔۔۔۔۔
اسکے سامنے وائن کا گلاس کئے وہ خمار زدہ آنکھوں سے اسکی آنکھیں میں جھانکتے ہوئے بولی تھی
اور تم بھی کافی بدل گئی ہو ۔۔۔۔۔۔ مکار پلس پہلے سے بھی زیادہ بے ہودہ ۔۔۔۔.۔۔۔
محند نے طنزا” مسکراتے ہوئے اسے اسی کے انداز میں جواب دیا تھا
ہا ہا ہا ہا۔۔۔۔۔۔۔
اسکے لئے لایا ہوا وائن کا گلاس اپنے ہونٹوں سے لگاتے وہ قہقہ لگا گئی تھی
ہاں لیکن تم میں ایک چیز ابھی بھی وہی ہے ۔۔۔
شمائل اسکے تھوڑا اور قریب ہوئی تھی
تم ابھی بھی اکیلے ہو ہر چیز ہے تمہارے پاس دولت شہرت اونچا مقام واہ وائی اور تو اور صاحب اولاد بھی ہو مگر پھر بھی تمہارے پاس سکون نہیں ہے تمہارے پاس ہمسفر نہیں مان ۔۔ تمہیں نہیں لگتا تم نے مجھے ٹکھرا کے بہت بڑی غلطی کی ہے ۔۔۔۔۔۔
وہ دکھی نظروں سے اسے حسرت بھری نگاہوں سے دیکھتے ہوئے بولی
طلاق لینے والی تم تھی ۔۔۔۔۔ اپنے بچے کو بھی چھوڑنے والی تم تھی ۔۔۔۔۔۔ تمہیں چاہیے تھا مزید پیسہ ۔۔۔۔ اسی لئے مجھے گنوا کر تم گئی تھی سلمان یزدانی کے پاس ۔۔۔۔۔
محند تو اسکی بات پر چٹخ ہی گیا اور دور کھڑے کسی سے باتوں میں مصروف سلمان یزدانی کو دیکھتے سرد آواز میں اسے باور کرواتے ہنسا تھا
تو اب بھی تو میں خود ہی آئی ہوں نہ مان ۔۔۔۔
اسکے سینے پر ہاتھ رکھتی وہ نم آنکھوں سے بولی ۔۔۔۔۔
تم شائد بھول رہی ہو کہ تمہارا شوہر بھی یہی موجود ہے اگر اس نے تمہیں یوں کسی غیر مرد کے ساتھ ایسی حرکتیں کرتے ہوا دیکھ لیا نہ تو بہت برا ہوسکتا ہے تمہارے لئے ۔۔۔۔۔۔
اسکے ہاتھ کو جھٹکے سے جھٹکتے وہ تنفر سے بولا تھا مگر مقابل پر کچھ اثر ہی نہیں پڑا تھا
ہو جانے دو برا ۔۔۔۔ زیادہ سے زیادہ کیا ہوگا طلاق دے دیگا نہ وہ تو اچھا ہی ہوگا تم اور میں پھر سے ایک ہو جائیں گے مان ۔۔۔۔۔ تم نہیں جانتے کتنا مس کیا ہے میں نے تمہیں ۔۔۔۔بہت پچھتائی ہوں میں۔۔۔ اپنی زندگی کے سب سے بیوقوفانہ غلط فیصلے پر ۔۔۔۔ لیکن اب مجھے احساس ہوگیا ہے کہ میں غلط تھی ۔۔۔۔ احساس ہوگیا ہے کہ میں تم سے شدید محبت کرتی ہوں ۔۔۔ نہیں رہ سکتی میں تمہارے بغیر ۔۔۔
پلیز ایکسکیوز می مسز سلمان یزدانی مجھے کسی بہت اپنے کو ڈھونڈنا ہے آپ پارٹی انجوائے کیجئے اور میرے میگا سرپرائز کا ویٹ کریں یقینا” آپ کو بہت زیادہ اچھا لگے گا
محند سنجیدگی سے اس کی باتوں کو اگنور کئے اس سے کہتا ثمال کی طرف بڑھ گیا تھا
پیچھے شمائل اسکی پشت کو تکتی رہ گئی تھی ۔۔۔۔
چچچچچ۔۔۔۔۔۔۔ بہت افسوس ہو رہا ہے مجھے ڈئیر بھابھی ایک بار پھر سے تہی داماں رہ گئیں آپ تو ۔۔۔۔
فاطمہ کب سے ان دونوں کو بات کرتے ہوئے سن رہی تھی اور دل ہی دل میں شمائل کی حالت پر بہت خوش بھی ہو رہی تھی کہ محند نے اسے کیسے مزیدار طریقے سے اگنور کیا تھا اور پھر اسے چھوڑ کر چلا بھی گیا تھا جسکے پیچھے ایک دنیا دیوانی تھی اسے اسی کا سابقہ شوہر ٹھکرا کر چلا گیا تھا
تم کیوں اتنا خوش ہو رہی ہو کہ جیسے تمہیں محند مل گیا ہو ۔۔۔۔۔۔ میں نے تو کم از کم ایک وقت اسکی رفاقت میں گزارا ہے اور تو اور اسکے بچے کو بھی اس دنیا میں لانے والی میں ہی ہوں تو تم کیوں اتنا اڑ رہی ہو۔۔۔۔
شمائل کہاں اسے اپنی بےعزتی کرنے دیتی الٹا اسے ہی گھسیٹ لیا تھا اس نے ۔۔۔
ہا ہا ہا ہا ۔۔۔۔۔ بھابھی جان آپ کو کچھ معلوم نہیں ہے اس لئے زیادہ مت باتیں بنائیں کیونکہ ابھی بھی جو محند نے آپ سے کہا ہے نہ کہ وہ کوئی میگا سرپرائز دینے والا ہے تو میں آپ کو بتاتی چلوں کہ وہ میگا سرپرائز میں ہی ہوں۔۔۔۔ محند کی گرل فرینڈ ہوں میں ۔۔۔۔شمائل۔۔۔۔ بھابھی۔۔۔۔!!
فاطمہ محند پر نظریں ٹکائے جو کسی کو ڈھونڈ رہا تھا وہ شمائل کو بولی تھی
ہا ہا ہا ہا ۔۔۔۔۔۔
کیوں جوک کر رہی ہو فاطمہ تم ۔۔۔۔ ہا ہا ہا۔۔ مت کرو ورنہ میں ہنس ہنس کے پاگل ہو جاؤں گی۔۔۔گرل فرینڈ کی بات کرتی ہو تم ۔۔۔ ارے تمہاری تو شکل بھی نہیں یاد اسے اور تم اسکا میگا سرپرائز۔۔۔۔ ہا ہا ہا ۔۔۔
شمائل اسکی بات پر بے ساختہ ہنستے ہوئے بولی تھی
شکل…؟؟ ۔۔۔۔ ہاہہہ۔۔۔۔ افسوس کے ساتھ بھابھی میں آپ کو بتاتی چلوں کہ جو پروجیکٹ سلمان بھائی کے ہاتھ لگا تھا وہی پروجیکٹ جسکی خوشی میں یہ پارٹی دی گئی ہے وہ میری ہی وجہ سے محند کو دوبارہ حاصل ہوا ہے ۔۔۔ میں کل ہی محند کے ساتھ ایک لمبی ڈیٹ کرکے آرہی ہوں۔۔۔۔
فاطمہ کچھ سچ کچھ جھوٹ کی آمیزش لئے بولی تھی جس پر شمائل کا رنگ اڑا تھا
تم ۔۔۔۔۔ بے ہودہ لڑکی تم نے اپنے ہی بھائی کے ساتھ غداری کی۔۔۔۔
شمائل اسکے پاس ہوتی غرائی تھی زیادہ غصہ تو اسے ڈیٹ پر آیا تھا
آں ں ں۔۔۔۔۔۔ دیکھو تو سہی کون کہہ رہا ہے مجھے جو دنیا کی سب سے بڑی دھوکے باز عورت ۔۔۔ دھوکے باز بیوی اور دھوکے باز ماں ہے ۔۔۔۔
ہونہہ اپنی حد میں ہی ریں تو اچھا ہے بھابھی جان ورنہ آپ سلمان بھائی سے بھی ہاتھ دھو بیٹھیں گیں۔۔۔
گلاس کو ٹیبل پر پٹختے فاطمہ اسے بہت کچھ باور کروا کے جا چکی تھی جبکہ شمائل اسکے جانے کے بعد تلملا اٹھی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حامد ثمال کو منا رہا تھا مگر ثمال اس سے سخت ناراض ہوچکی تھی کہ وہ اسے بی بی جان کے گدھے کے پاس چھوڑ کر ہی کیوں گئے
لیکن حامد نے بہانے سے کیسے بھی کر کے اسے آخر کار منا ہی لیا تھا
ثمال محند کو شمائل سے باتیں کرتے ہوئے بھی دیکھ چکی تھی اور دل ہی دل میں کڑ بھی رہی تھی مگر اسے خود بھی نہیں پتہ چلا کہ وہ بھی جیلس ہو رہی ہے
ابھی اسے یہاں کچھ دیر ہی گزری تھی کہ محند ماتھے پر بل سجائے برہم سا اسکی طرف بڑھتا ہوا دکھا
حامد اسکے لئے جوس لینے گیا تھا کیونکہ پہلے اس کے منع کرنے پر وہ اس نے خود پی لیا تھا
افف ایک تو پتہ نہیں حامد بھائی عین موقع پر ہی کیوں غائب رہتے ہیں
ثمال کو پھر سے ڈر لگنے لگا تھا کہ وہ سب کے سامنے کیا کرے گا اسکے ساتھ۔۔۔۔
اپنے بچاؤ کے لئے اس نے آس پاس دیکھا تو ایک ویٹر ٹرے میں گلاسس رکھے یہی سے گزر رہا تھا
ثمال نے ایک نظر محند کی جانب دیکھا جو اسکے پاس تقریبا” آچکا تھا اس نے فٹ سے ٹرے سے ایک گلاس اٹھا کر سیدھا محند کے منہ پر ہی الٹ دیا ۔۔۔۔۔۔۔
محند نے سوچا بھی نہیں تھا کہ ثمال ایسا کچھ کرے گی بھی مگر اسکے ایسا کرنے پر منہ کھولے اسے حیران نظروں سے دیکھنے لگا جو اب گھبراتے ہوئے گلاس زمین پر پھینکے وہاں سے پیچھے کی طرف والی راہداری میں بھاگی تھی محند بھی اسکے پیچھے لپکا تھا اور بنا کسی تگ ودود کے اس نے ثمال کو جا لیا تھا اور پھر اسے بازو سے گھسیٹتے ایک روم میں لایا تھا اور دروازہ بند کرنے کے بعد اسےلئے باتھروم میں گھس گیا تھا
ثمال اسکے دروازہ بند کرنے پر ہی سرد پڑ چکی تھی کہ اسکے باتھروم میں. لانے پر بے ہوش ہونے پر پہنچ گئی تھی
صاف کرو میرا منہ۔۔۔۔۔۔!
اسے دیوار سے لگائے وہ غرایا تھا
ثمال اسکے غرانے پر چلائی تھی وہ تو پہلے ہی اس سے کافی حد تک ڈری ہوئی تھی مگر محند تھا کہ اس پر حکم چلا رہا تھا
اگر تم نے جلدی سے میرا منہ صاف نہیں کیا تو پھر میں اپنے طریقے سے صاف کروں گا
اسکے چیخنے پر محند کو اور بھی غصہ آیا تھا
نن۔۔۔۔۔ نہیں ۔۔۔۔۔ مم۔۔۔۔ میں کرتی ہوں۔۔۔۔۔۔
ثمال پر اسکی دھمکی کا مثبت اثر پڑا تھا اسی لئے اس نے فورا” سے نل کھولے ہڑبڑی میں اپنے ہاتھوں سے ہی اسکا منہ صاف کرنے لگی تھی
جلد بازی میں وہ خود کا بھی منہ دھوچکی تھی
محند مدہوش سا اسکے نرم ملائم ہاتھوں کا مسرور سا لمس اپنے چہرے پر گہرائی سے محسوس کر رہا تھا جبکہ اسکی نظریں ثمال کے گیلے چہرے پر تھیں جس کے نقش اسکی طرح بوکھلائے بوکھلائے سے تھے
وہ ثمال کے قریب ہوا تھا جس پر ثمال کے چلتے ہاتھ ایک دم سے تھم گئے تھے وہ یک ٹک محند کی آنکھوں میں دیکھ رہی تھی جو اسے الگ ہی پیغام دے رہی تھیں
محند نے دایاں ہاتھ بڑھاکر اسکی پیشانی سے لیکر اسکے سرخ ہونٹوں تک لکیر کھینچی تھی
ثمال جسے اسکے ارادے نیک نہیں لگ رہے تھے اور اوپر سے وہ اس کے ساتھ اکیلے بند کمرے میں اکیلے بند باتھروم میں اسکے بے حد نزدیک تھی
اس سے پہلے کہ محند کوئی گستاخی کرتا ثمال نے بائیں طرف رکھی شیمپو کی بوتل اٹھائی تھی اور اسکے بازو پر مارتی اسے دھکا دیتی باتھروم سے باہر نکلی تھی
اس سے پہلے کہ وہ روم سے بھی باہر نکلتی محند جو کہ الگ ہی کیفیت کے زیر اثر مدہوش سا کھڑا تھا اسکے مار کر باتھروم سے بھاگنے پر ہوش میں آیا تھا فورا” سے ثمال کو بازو سے اپنی طرف
کھینچا تھا جس پر وہ بہت زور سے اسکے سینے سے لگی تھی نتیجتا” وہ ٹکرانے سے زمین بوس ہوئی تھی اور اسکے ہاتھ سے شیمپو کی بوتل چھوٹ کر دور جا گری ۔۔۔۔
وہ دھڑکتے دل کے ساتھ زمین پر بیٹھی محند کو اپنی طرف بڑھتا دیکھ رہی تھی
محند دو قدم کے فاصلے پر تھا کہ ثمال نے ایک بار پھر سے ہمت پکڑی تھی اور کھڑے ہو کر ڈریسنگ ٹیبل کی طرف جاکر فورا” سے بوتل اٹھائی تھی اور اپنا رخ محند کی جانب کرکے بوتل کو اسکی طرف کیا تھا جیسے وہ بوتل نہیں بندوق ہو۔۔۔۔۔۔
محند اسکی بچکانہ حرکت ہر زیرلب مسکراتا آگے بڑھا تھا
ثمال کا دل کیا کہ وہ یہ شیمپو سیدھا محند کے سر پر دے مارے ۔۔۔
اسے پھر سے دورہ پڑ رہا ہے۔۔۔۔۔!!!
اب میں کیا کروں۔۔۔۔۔۔؟؟؟
ثمال پیچھے ہٹتی جارہی تھی اور محند کے قدم اسکی طرف اٹھ رہے تھے ۔۔
دیکھیں اگر آپ نہ رکے نہ تو میں نے اس سے آپ کا سر پھاڑ دینا ہے
ثمال نے شیمپو کی بوتل محند کو دکھاتے ہوئے اسے دھمکانا چاہا مگر محند جو بے خودی کے عالم میں اسکی طرف بڑھ رہا تھا اسکی دھمکی پر مسکرا دیا
تو پھاڑ دو سر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پر میں نہیں رکنے والا۔۔۔۔۔۔
پراسرار لہجے میں بولتا وہ ثمال کو ڈریسنگ ٹیبل سے لگا چکا تھا
اسکے دونوں طرف اپنے ہاتھ رکھتے وہ اس پر زرا سا جھکا تھا
ثمال نے فورا” اپنی آنکھیں بند کیں تھیں۔۔۔۔۔۔
محند اسکے ڈرنے پر ہنسا تھا اور اسکے گیلے چہرے کے ساتھ چپکے نم بال کانوں کے پیچھے اڑسے تھے جس پر ثمال کی ریڑھ کی ہڈی میں بجلی کی لہر اتری تھی
محند اسے مبہوت سا اسکے سرخ پڑتے چہرے کو دیکھ رہا تھا
کھٹکے کی آواز پر اس نے شیشے میں دیکھا جہاں شمائل کھڑی پردے کی اوٹ سے اندر جھانک رہی تھی
محند کی آنکھیں لال ہوئیں تھیں بہت کچھ یاد آیا تھا اسے۔۔۔
پھر اس نے ثمال کی طرف دیکھا تھا جو ہنوز آنکھیں سختی سے بند کئے ڈری ڈری سی کھڑی تھی
اسکی آنکھوں نے اس منظر پر اپنا رنگ بدلہ تھا جہاں اب لالی کی جگہ چمک نے جگہ لے لی تھی ۔۔۔۔ پھر ایک نظر شیشے میں دیکھ کر محند نے جو کیا اس پر ثمال تو کیا شمائل کی بھی سانسیں بند ہوئیں تھیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شمائل جو محند کو کسی لڑکی کے پیچھے جاتا دیکھ چکی تھی خود بھی اسکے پیچھے آئی تھی مگر اسے لڑکی کو زبردستی کمرے میں لے جا کر دروازہ بند کرتے دیکھا تو بری طرح ٹھٹھکی تھی پھر تجسس کے مارے وہ کھلی کھڑکی کا زرا سا پردہ سرکا کر اسکی اوٹ میں ہوتے اندر جھانکنے لگی تھی جہاں محند اس لڑکی کے بہت قریب کھڑا تھا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے وہ ثمال پر جھکا تھا اور شدت بھری گستاخی کر گیا تھا۔
شمائل کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئی تھیں
محند نے اس پر ہی بس نہیں کیا تھا وہ مزید اس میں اپنی شدتیں منتقل کر رہا تھا
شمائل کو سمجھ ہی نہیں آرہا تھا کہ جو وہ دیکھ رہی تھی وہ سب کیا تھا آخر محند اس طرح کسی لڑکی کے ساتھ زبردستی ۔۔۔۔۔؟؟
محند کو تو کبھی کسی لڑکی کے پاس جانے کی ضرورت نہیں پڑی تھی بلکہ لڑکیاں خود اسکی طرف قدم بڑھاتی تھیں مگر پھر بھی اس نے انکا حوصلہ نہیں بڑھایا تھا
شمائل سوچوں سے تب نکلی جب محند نے اسکے منہ پر ٹھک سے و نڈو بند کی تھی ۔۔۔
شمائل اپنی اس بے عزتی پر سلگتی وہاں سے تن فن کرتی چلی گئی تھی
ثمال کو جیسے ہی خود پر سے بوجھ ہٹتا محسوس ہوا وہ فورا” سے دروازے کی جانب لپکی تھی اور فورا” سے پیشتر دروازہ کھول کر باہر کی طرف بھاگی تھی
محند اسے بھاگتے دیکھ شوخی سے ہنسا تھا
جو بھی تھا مگر محند نے جو بھی کیا تھا وہ ناٹک تو بلکل بھی نہیں تھا جو اسکا دل چیخ چیخ کر اس سے کہہ رہا تھا
ثمال۔۔۔۔۔۔۔۔!!
ہے سے محبت بھرے لہجے میں محند بڑبڑایا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ثمال اپنا حلیہ درست کرتی پارٹی میں آئی تھی جہاں حامد اسے ہی ڈھونڈ رہا تھا
کہاں چلی گئی تھی تم ثمال میں کب سے تمہیں ڈھونڈ رہا ہوں۔۔۔۔.
ثمال کے نظر آنے پر وہ اسکے پاس آکر بولا تھا
وہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟.
حامد دو منٹ کے اندر اندر مجھے میڈیا میرے سامنے چاہیے ۔۔۔۔۔
اس سے پہلے کہ ثمال کچھ کہہ پاتی محند فورا” سے وہاں آیا تھا اور حامد کو دو ٹوک انداز میں بولا تھا اور ثمال کو کھینچتے سٹیج کی جانب بڑھا تھا
ثمال نے بہت کوشش کی مگر وہ خود کو اسکی سخت گرفت سے نہیں چھڑا پائی۔۔۔۔
محند نے سٹیج پر جاکر ہی دم لیا تھا اور اسکی کمر کو پکڑے اپنے ساتھ لگائے تمام گیسٹ اور میڈیا کی طرف متوجہ ہوا تھا جو پہلے ہی حامد نے بلوائی تھی بھاگتی ہوئی اندر داخل ہوئی تھی اور اپنے اپنے کیمرے محند پر فوکس کئے تھے
ثمال تو یہ سب دیکھ کر ساکت کھڑی تھی اسے سمجھ ہی نہیں آرہی تھی کہ یہ ہو کیارہا یے
میں آپ سب کو ایک بہت ضروری خبر سے آگاہ کرنا چاہتا ہوں
محند نے بات کا آغاز کیا تھا
سب محند کی جانب متوجہ تھے فاطمہ اور سلمان یزدانی کے ساتھ کھڑی شمائل بھی محند کی طرف متوجہ تھی
اور وہ خبر یہ ہے کہ میں محند سلطان اب بیچلر نہیں رہا ۔۔۔۔ میں نے اپنی سیو گلم sevgilim سے شادی کرلی ہے
ثمال کو پیار بھری نظروں سے دیکھتے محند نے آخر کار سب کو سچ میں سرپرائز کر ہی دیا تھا
دور کھڑا حامد مسکراتے ہوئے ان دونوں کو دیکھتے بی بی جان کو فون ملا چکا تھا آخر کار ان دونوں کا پلین سکسیسفل جو رہا تھا
ثمال محند کو دنگ نظروں سے دیکھ رہی تھی اور محند اسے محبت سے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری۔۔۔۔۔۔
