Ishq Mera Kamil by Neena Khan NovelR50807 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode29
No Download Link
777.3K
37
Rate this Novel
Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode01 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode02 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode03(Part01) Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode03(Part02) Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode04 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode05 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode06 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode07 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode08 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode09 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode10 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode11 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode12 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode13 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode14(Part01) Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode14(Part02) Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode15(Part01) Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode15(Part02) Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode16 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode17 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode18 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode19 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode20 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode21(Part01) Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode21(Part02) Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode22 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode23 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode24 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode25 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode26 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode27 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode28 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode29 (Watching)Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode30 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode31 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode32 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Last Episode
Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode29
Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode29
ثمال تندور پر روٹیاں لگا رہی تھی کہ ایک دم سے اسے چکر آیا اور وہ فورا” کھڑے سے بیٹھ گئی تھی
اماں چارپائی پر بیٹھیں اسے ہی دیکھ رہیں تھیں ۔۔۔۔۔۔ وہ کتنے دنوں سے نوٹ کر رہیں تھیں کہ ثمال بجھی بجھی سی رہتی ہے ۔۔۔۔ کھانا بہت کھانے لگی ہے حالانکہ پہلے تو اسکی خوراک اتنی تو نہیں تھی ۔۔۔۔۔۔۔ اسکے علاوہ انہیں یہ کھٹکا لگا ہوا تھا کہ وہ محند سے لڑ کر یہاں آئی ہے کیونکہ جب سے وہ آئی تھی کبھی بھی انہوں نے اسے محند کے ساتھ ایک بھی بار فون پہ بات کرتے ہوئے نہیں سنا تھا اور نہ ہی محند اس سے ملے یہاں آیا تھا
ثمال تندور سے روٹیاں اتار کر پلیٹ میں سالن ڈالتی انکے پاس آئی تھی اور انکے پاس بیٹھتی انہیں کھانا کھانے کا کہہ کر خود بھی نوالہ توڑنے لگی
ثمی۔۔۔۔ تو کب تک کے لئے یہاں آئی ہے ۔۔۔۔۔۔۔؟؟
اماں نے نوالہ منہ میں رکھ کر اسے چباتے ہوئے پوچھا
ثمال کا منہ میں جاتا ہاتھ ہوا میں ہی رک گیا تھا
امم۔۔۔۔۔۔اماں وہ ۔۔۔۔۔۔ بس کچھ دنوں کے لئے آئی ہوں ۔۔۔۔۔۔۔ جب سے ترکی گئی تھی نہ تو تجھے بہت یاد کرتی تھی میں بس انہی دنوں کا بدلہ چکا رہی ہوں میں ایسا ہی سمجھ لے۔۔۔۔۔
ثمال گڑبڑاتی خود کو نارمل کرتے بولی تھی وگرنہ دل تو اسکا رونے کو چاہ رہا تھا مگر وہ اپنی وجہ سے اماں کو پریشان نہیں کرنا چاہتی تھی تو چپکی سادھ لی
اچھااااا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو اپنے شوہر سے بات چیت تو ہوتی ہوگی نہ فون پہ تیری ۔۔۔۔۔؟؟
اماں اسکے چہرے کو جانچتے ہوئے سرسری سا بولیں تھیں
ہا۔۔۔۔۔ ہاں نہ ۔۔۔۔۔ ہوتی ہے نہ ۔۔۔۔۔ کل ہی ہوئی تھی میری ان سے بات رات کو ۔۔۔ زیادہ نہیں ہوتی کیونکہ وہ اپنا سارا کام جو باہر سے یہاں شفٹ کر رہے ہیں تو بس کبھی کبھی ہی ہو پاتی ہے
ثمال بہانہ بناتے ہوئے بولی اور جلدی سے کھانا ختم کرنے لگی کہ جلد سے جلد یہاں سے جا سکے تاکہ اماں کے مزید کسی سوال کا جواب نہ دینا پڑے
ثمی ۔۔۔۔۔ ادھر دیکھ میری طرف۔۔۔۔۔۔
ثمال کا چہرہ ہاتھ سے اپنی طرف موڑا اور غور سے اس کے چہرے کو دیکھنے لگیں
کک۔۔۔۔۔ کیا ۔۔۔۔۔ دیکھ رہی ہے اماں ۔۔۔۔؟
ثمال کو لگا کہ اماں کو شائد اس پر شک ہوگیا ہے کہ وہ کچھ ان سے چھپا رہی ہے آخر کو اسکی ماں جو تھیں ۔۔۔۔ سگی نہ سہی لیکن انہوں نے اسے پالا تو تھا اسکی ایک ایک رگ سے بخوبی واقف تھیں وہ۔۔۔۔۔۔
تو امید سے ہے کیا۔۔۔۔۔۔۔۔؟
اسکی سوچ کے برعکس انہوں نے کچھ اور ہی پوچھا تھا
تمہیں کس نے کہا اماں ۔۔۔۔۔۔؟ ہا ہا ہا۔۔۔۔۔۔ تو بھی نہ کچھ بھی سوچتی ہے۔۔۔۔۔
ثمال خود کو بے خبر ظاہر کرتی کمال مہارت سے شرماتے ہوئے بولی تھی کہ اماں کو بھی لگا کہ شائد یہ نہ جانتی ہو اس بارے میں کچھ بھی۔۔۔۔۔
تجھے نہیں پتہ ثمی ان معاملوں کا میں سب جانتی ہوں۔۔۔۔ دیکھ تو سہی کیسی اتری اتری شکل ہوگئی ہے تیری ۔۔۔۔ میں تو کہتی ہوں کہ ثمی ڈاکٹر کے پاس چلتے ہیں دیکھ لینا میں جو کہہ رہی ہوں نہ وہی ہوگا
اماں پر یقین لہجے میں بولیں پھر آذان کی آواز سننے پر وہ نماز کے لئے اٹھ کر چلی گئیں اور ثمال نے خود کو ڈھیلا چھوڑا تھا
اففف۔۔۔۔۔ ایک تو پتہ نہیں ان ماؤں کو کیسے پتہ چل جاتا ہے سب پہلے سے ہی۔۔۔۔۔
ثمال شکر کرتی اپنے کرے میں گئی تھی اور ایک نظر حمنہ کو دیکھ کہ وہ سو رہی ہے وہ بھی نماز کی نیت سے وضو کرنے چلی گئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج کورٹ کی پہلی تاریخ تھی سب کو لگا کہ حمنہ کی کسٹڈی کے لئے جو نوٹس آیا تھا اس کے لئے محند کورٹ گیا ہے مگر یہ تو محند ہی جانتا تھا کہ اس نے کتنی تگ ودود کے بعد اتنے کم وقت میں پھر سے کئی سالوں پرانابند کیا کیس ری اوپن کروا کر دراب خان کو آگ لگا دی تھی مگر پھر ثبوتوں کے بنا محند انکا کیا بگاڑ سکے گا وہ محظوظ ہو کر اسکی کوششیں دیکھنا چاہتا تھا کہ کیسے وہ ہار کر خود کو بے بس محسوس کرتا ہے
کورٹ میں دونوں کی جانب سے وکلاء نے بھرپور دلیلیں دی تھیں اور اپنے اپنےکلائنٹ کا پلڑا بھاری رکھنے میں جان لگا دی تھی
جج صاحب نے دونوں کی طرف سے بات سنی اور محند کے وکیل کو ثبوت یا گواہ لانے کا کہا اور پولیس کو مزید تفتیش کی ہدایات دیتے اس کیس کی اگلی پیشی کی تاریخ ایک مہینے بعد کی دی تھی
دراب خان اپنی گاڑی کے پاس کھڑا ہوا محند کو دیکھ رہا تھا جو اپنے وکیل سے کچھ بات چیت کرتا ہوا اپنی گاڑی کی طرف آرہا تھا
دراب خان کے ساتھ سلمان اور اسکابڑا بیٹا بھی تھا جو محند کو طنز بھری نظروں سے دیکھ رہے تھے
او ہو دیکھو تو سہی کوئی پریشان ہوگیا ہے ۔۔۔ چچ چچ۔۔۔۔۔۔۔ پر کیا کریں ہار تو پھر بھی آنی ہی ہے ۔۔۔۔۔ لیکن فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے مقتول کے وارث ہا ہا ہا ہا۔۔۔۔۔۔۔ تمہاری ہار پر ڈھول تاشے بانٹنے ضرور آئیں گے ہم ۔۔۔۔۔۔ ہا ہا ہا
محند نے جب دروازہ کھول کر پاؤں اندر رکھنا ہی چاہا تھا کہ اسکے کانوں میں سلمان کے الفاظ پڑے تھے ۔۔۔۔۔۔ محند وہی رکتا اسکی بات پر خود پر ضبط کے پہرے بٹھاتا اسکی طرف جلادینے والی مسکراہٹ لئے بڑھا تھا
فی الحال تو میں ڈھول تاشے کی تیاری کر رہا ہوں تاکہ تمہاری بیوی اور تم دونوں کی بہو کی بہت جلد طلاق لینے کے بعد تیسری شادی ہوسکے ۔۔۔۔۔۔
محند ان سب پر استہزائیہ نظر ڈالتا واپس مڑ چکا تھا مگر اسکی بات سن دراب خان ہتھے سے اکھڑ گیا
یہ کیا بکواس کر کے گیا ہے۔۔۔۔۔؟؟
دراب خان سلمان کو سخت نظروں سے گھورتا بولا تھا
آپ چلیں بابا حویلی جاکر بتاتا ہوں میں آپ کو سب کچھ۔۔۔
صدیق خان سلمان کو خشمگیں نظروں سے گھورتا انہیں لئے گاڑی میں جا کر بیٹھا تھا
پیچھے سلمان چلتا دل ہی دل میں شمائل کی خبر لینے کی ٹھان چکا تھا جو اسے زلیل کروارہی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ کیا کہہ رہے ہو تم صدیق ہوش میں تو ہو نہ کہ پی رکھی ہے ۔۔۔۔۔۔؟؟؟
یہ لوگ جیسے ہی حویلی پہنچے صدیق خان نے سارا کچھ بتا دیا تھا شمائل کے بارے میں جسے سن کر دراب خان طیش میں آگئے
میں ٹھیک بول رہا ہوں بابا آپ کے پوتے سے ایک عورت نہیں سنبھالی جارہی ۔۔۔۔۔
صدیق خان سلمان کی طرف کڑی نظروں سے دیکھتے ان سے بولے تھے
سلمان ۔۔۔۔۔۔۔۔ میں کچھ نہیں جانتا اس مسئلے کو جتنا جلدی ہوسکے ختم کرو ۔۔۔۔۔۔ ایک تو اس نے تمہیں شادی کے بعد سے کوئی بھی خوشخبری نہیں دی ابھی تک ۔۔۔۔۔۔۔ ایک ہی تو پوتے ہو میرے تم ۔۔۔۔۔۔ مجھے وارث چاہیے اس جائیداد کے لئے ۔۔۔۔۔ کیا میں یہ سب کچھ ایسے چھوڑ جاؤں گا ۔۔۔۔۔۔ نسل چاہیے مجھے نسل اگر تم سے تمہاری ایک بیوی نہیں سنبھلتی تو مجھے بتادو میں ایسی عورتوں کا دماغ ٹھیک کرنا اچھی طرح سے جانتا ہوں۔۔۔۔
دراب خان کو محند کے منہ سے اپنی بےعزتی برداشت ہی نہیں ہو رہی تھی جسکا سارا غبار اس نے اس پر نکال دیا تھا
اپنی چادر کو جھٹکتے وہ اس پر سلگتی ہوئی نگاہ ڈال کر جا چکا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تمہاری ہمت کیسے ہوئی اس بچی کی کسٹڈی کا کیس کرنے کی ۔۔۔۔۔۔ کس سے پوچھ کر تم نے یہ قدم اٹھایا بتاؤ مجھے ۔۔۔۔۔ ہاں جواب دو ۔۔۔۔ نکمی عورت ۔۔۔۔۔۔
سلمان جب روم میں آیا تو شمائل ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑی اپنی تیاری کو فائنل ٹچ دے رہی تھی سلمان اسے دیکھتے ہی غصے سے اسکی طرف بڑھا تھا اور اسے اپنی طرف موڑتا چلایا تھا
پیچھے ہٹو جنگلی انسان ۔۔۔۔۔ اور یہ تم نے نکمی کسے بولا ہاں ۔۔۔۔
میں تم سے پوچھ کر اب ہر کام کروں گی ۔۔۔۔۔
شمائل اسے دھکا دیتی خود بھی چلاتے ہوئے بولی تھی
اپنا کیس واپس لو ورنہ میں تمہیں طلاق دے دوں گا
سلمان کو کچھ نہ سوجھا تو اس نے اسے طلاق کی دھمکی دے ڈالی اور اندھا کیا جانے دو آنکھیں کے مصداق شمائل کی تو دل کی مراد بر آئی تھی وہ تو خود اس سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے سوچ رہی تھی مگر سلمان جیسے شخص سے چھٹکارا حاصل کرنا کہاں اتنا آسان تھا مگر اب جب وہ خود ہی کہہ رہا تھا تو شمائل تو خوشی سے پاگل ہی ہوگئی
تو روکا کس نے ہے دینی ہے تو دیدو اور ویسے بھی تم جیسا شخص صرف گرجتا ہے برستا نہیں ہے تو کہیں اور جاکر یہ ڈینگیں مارو۔۔۔۔
شمائل نے اپنی خوشی کو قابو کرتے اس کو بڑھاوا دیا تھا کہ وہ غصے میں آکر اس پر عمل کرسکے ۔۔۔۔۔۔ اسکی بات کا مثبت اثر ہی پڑا تھا جو سلمان نے بنا سوچے سمجھے اسکی خواہش پوری کر ڈالی
اچھااااا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو ٹھیک ہے میں برس بھی دیتا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں سلمان تمہیں اپنے پورے ہوش و حواس میں تمہیں شمائل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ طلاق دیتا ہوں ۔۔۔۔۔ طلاق دیتا ہوں۔۔۔۔۔۔ طلاق دیتا ہوں۔۔۔۔۔۔
تین الفاظ اس نے اسکے منہ پر مار کر اسے دور جھٹکا تھا اور اسے ساکت چھوڑتا ڈریسنگ روم گھس گیا
شمائل خوشی کے مارے ساکت ہی ہوگئی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حویلی میں جب سب کو پتہ چلا کہ محند کسٹڈی کیس کے بجائے سالوں پرانے بند کئے گئے کیس کی سنوائی کے لئے گیا ہے تو سب کو بہت حیران ہوئی تھی کہ محند نے انہیں کیوں نہیں بتایا کچھ ۔۔۔۔۔۔ سب بیٹھے محند کا انتظار کر نے لگے تھے اور دل ہی دل میں کیس کو لے کر دعا بھی کر رہے تھے کہ سب اچھا اچھا ہو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محند ابھی گاؤں میں اینٹر ہوا ہی تھا کہ اماں کا فون اسے آنے لگا تھا ۔۔۔۔۔۔ محند نے فون کان سے لگا کر ان سے سلام دعا کی اور پھر اماں کے گھر بلانے پر کچھ سوچتے ہوئے حامی بھرتا کار ثمال کے گھر کی طرف موڑ گیا تھا
محند ثمال کے گھر کے صحن میں بیٹھا تھا اور اماں اسکی خاطر داری میں کوئی کمی نہیں آنے دے رہیں تھیں
اماں نے پورا ٹیبل بھردیا تھا لوازمات سے ۔۔۔۔۔۔۔۔
محند اردگرد دیکھتا ان سے بات کر رہا تھا تھا کہ وہ کب سے یہاں پر بیٹھا تھا مگر ثمال کی اکڑ تو دیکھو کہ وہ ایک بار بھی نہیں نکلی ۔۔۔۔۔۔۔
اماں سے حمنہ کے بارے بول کر ملنے کے لئے اٹھ کر انکا بنا کوئی جواب سنے اندر بڑھ گیا
آاااااپ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟
ثمال گھبراتے ہوئے بیڈ سے اتر کر کھڑی ہوئی تھی
کیوں کسی اور نے آنا تھا ۔۔۔۔؟؟
سرد لہجے میں اس سے پوچھا گیا
آپ یہاں کیا کر رہے ہیں۔۔۔۔۔۔؟؟
ثمال اسکی بات کو اگنور کرتی بولی تھی
اپنی بیٹی کو لینے آیا ہوں ۔۔۔۔
محند اسے کہتا آگے بڑھا تھا جہاں حمنہ بیڈ پر بیٹھی کھلونوں کے بیچ کھیل رہی تھی جو آج ہی ببلو اسکے لئے لے کر آیا تھا
کیوں لینے آئے ہیں آپ اسے ۔۔۔۔ یہ کہیں نہیں جائے گی ۔۔۔۔
ثمال ایکدم سے اسکے سامنے آتی اسے بازو سے پکڑ کر روکتی بوکھلا کر بولی تھی
محند نے ایک نظر اپنی بازو پر ڈالی تھی جو ثمال کی کمزور گرفت میں تھی اور ایک جھٹکے سے چھڑواتا اسے کندھوں سے دبوچتا اپنے بے حد قریب کرتے غرایا تھا
باپ ہوں میں اسکا ۔۔۔۔۔ باپ۔۔۔۔۔۔!!
جب چاہوں جہاں چاہوں جس وقت چاہوں اسے لیجاسکتا ہوں ۔۔۔۔۔ محند ایک پل کو رکا تھا
اور اسکے لئے مجھے تم جیسی عورت سے پرمیشن لینے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔۔
اسے پیچھے کی طرف دھکا دیتا محند پھر سے حمنہ کی طرف بڑھا تھا
میں بھی ماں ہوں اسکی ۔۔۔۔۔ ایسے نہیں لے کے جاسکتے آپ اسے ۔۔۔۔۔
ثمال جو دھواں ہوتے چہرے کے ساتھ خود کو بڑی مشکل سے گرنے بچا پائی تھی اسے حمنہ کی طرف پھر سے بڑھتے دیکھ وہ اسکے راستے میں حائل ہوئی تھی اور چلاتے ہوئے بولی تھی
اسکے چلانے سے باہر بیٹھی اماں بھاگ کر اندر آئیں تھیں
تم کون ہوتی ہو مجھ پر اونچی آواز میں چلانے والی ۔۔۔۔۔۔۔۔ محند سلطان ہوں میں ۔۔۔۔۔۔ محند سلطان۔۔۔۔۔۔۔۔ اور جو سوتیلا رشتہ ہے نہ تمہارا وہ بھی میں تمہاری خواہش کے عین مطابق بہت جلد ختم کرنے والا ہوں۔۔۔۔۔
محند اسکے یوں چلانے پر آگ بگولا ہوتا اسکا چہرہ دبوچتا اس پر دھاڑا تھا
اماں حیران پریشان سی انہیں دیکھ رہیں تھیں
اسکے منہ کو زور سے جھٹکتے محند نے حمنہ کو اپنی گود میں اٹھایا تھا اور بنا کسی کی بھی نظروں میں دیکھتا باہر نکل گیا
ثمال بت بنی کھڑی اسکے ابھی کہے گئے لفظوں میں ہی سن ہوچکی تھی
میری خواہش۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟
اور پھر وہ لہراتے ہوئے زمین پر گری تھی
ثمی۔۔۔۔۔۔۔۔!!!
جاری۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
