Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode21(Part02)

Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode21(Part02)

کچھ سوچنے کے بعد ثمال گاڑی سے اتری اور دراب خان کے اشارے پر سلیم کے دروازہ کھولنے پر انکے ساتھ فاصلہ رکھتی بیٹھ گئی
مر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
امم۔۔۔۔ اسلام وعلیکم۔۔۔۔۔۔۔
ثمال کو ترکی میں مرحبا بولنے کی عادت ہوگئی تھی تو وہ یہاں بھی یہی بولنے والی تھی مگر پھر رک کر انسانوں کی طرح صحیح طرح سے سلام کیا۔۔۔۔۔
دراب خان نے اسکے مر کہنے پر اچھنبے سے اسکی طرف دیکھا تھا پھر سر جھٹکتے اپنے سوچے گئے پلین کی طرف آئے تھے
تم جانتی ہو میں کون ہوں ۔۔۔۔۔۔؟
سوال سے انہوں نے بات کا آغاز کیا تھا
بس یہ کہ بی بی جان آپ کو جانتی ہیں ۔۔۔۔۔۔ مطلب آپ کو میں نے ان سے ولیمے والے دن بات کرتے ہوئے دیکھا تھا
جتنا ثمال جانتی تھی اسی لحاظ سے جواب دیا
ہممم۔۔۔۔۔۔ لیکن پھر بھی تمہیں نہیں لگتا مجھے دیکھ کر تمہیں سب سے پہلے یہ پوچھنا چاہیے کہ میں تمہارا کیا لگتا ہوں کہ اس طرح تمہیں گاڑی میں بلا لیا اور تم بھی آکر بیٹھ گئی ۔۔۔۔ اس سے مجھے اندازہ ہوتا ہے کہ انہوں نے تمہیں کتنی آسانی سے بیوقوف بنایا ہوگا
دراب خان اپنے چہرے پر انتہائی شفقت بھرے تاثرات لاتا دھیمے نرم لہجے میں اس سے بول رہا تھا
جی میں یہی پوچھنے والی تھی کون ہیں آپ اور مجھے کیوں بلایا اس طرح آپ نے۔۔۔
ثمال اپنی عقل پر ماتم کرتی اعتماد سے بولی تھی
ہممم۔۔۔۔۔۔ میں۔۔۔۔۔۔ میں تمہارا ۔۔۔۔۔ یا یہ کہنا بہتر رہے گا کہ تم میرا خون ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔ میرے بیٹے کی واحد نشانی میری پوتی ہو تم۔۔۔۔۔۔۔۔
آنکھوں میں نمی لاکر اسکے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے دراب خان ڈرامائی انداز میں بولے
جی۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟
ثمال کو سمجھ ہی نہیں آئی انہوں نے کیا کہا ہے یا پھر وہ سمجھ کر بھی انجان بن رہی تھی
میں صحیح کہہ رہا ہوں بیٹا تم کچھ ہی دن کی تھی کہ میرے گھر کام کرنے والی ملازمہ سلمی نے تمہیں اغواء کر لیا اور پھر ہمیشہ کے لئے تمہیں مجھ سے دور لے گئی ہمیشہ کے لئے ۔۔۔۔ ارے میں تو اپنے بیٹے اور بہو کی موت کا ٹھیک سے غم بھی نہیں منا پایا تھا کہ تمہیں بھی مجھ سے چھین لیا گیا
دراب خان نے اپنی چال بہترین اندازمیں چلی تھی آنکھوں سے آنسو بہاتا وہ ثمال کو شاک دے چکا تھا کہ وہ حیرانی کی تصویر بنی اسے دیکھ رہی تھی
ہاں میں سچ کہہ رہا ہوں میرا جگر کا ٹکڑا تمہیں مجھ سے جدا کردیا ان ظالم لوگوں نے میرے خون کو مجھ سے جدا کردیا ۔۔۔
اور اس سب کی سربراہ تھیں تمہاری بی بی جان تمہارے شوہر کی دادی۔۔۔۔۔۔
یہ دھماکے ہی تو تھے جو دراب خان مسلسل ثمال کی سماعتوں میں کر رہا تھا پھٹی پھٹی آنکھوں سے وہ پیلے پڑتے چہرے کے ساتھ اسے دیکھ رہی تھی
ی۔۔۔۔ یہ ۔۔۔۔ آاا۔۔۔۔ پ۔۔۔۔۔۔۔ کیا۔۔۔۔۔۔
میں تمہارا دادا ہوں میرے بچے ۔۔۔۔۔۔ بہت تڑپا ہوں تمہارے لئے ۔۔۔۔۔ کتنا یاد کیا میں نے تمہیں میرے بچے کتنا یاد کیا
ثمال کو سینے سے لگاتے شاطرانہ مسکراہٹ سجائے وہ اپنے پلین کو کامیاب ہوتا دیکھ سرشار ہوگیا تھا
ثمال کی آنکھوں سے لگاتار آنسو گرنا شروع ہوگئے
اور پھر دراب خان نے جھوٹ کی کہانی گڑ کر اسے اپنی مٹھی میں قید کر ہی لیا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا مصیبت ہے ۔۔۔۔۔۔۔ ایک تو یہ بیوقوف لڑکی فون بھی اپنا گھر چھوڑ گئی ہے
محند کب سے ثمال کا ویٹ کر رہا تھا مگر وہ تھی کہ دوپہر کی گئی رات ہوگئی تھی ابھی تک حویلی واپس نہیں آئی تھی
ڈرائیور بھی فون نہیں اٹھا رہا سب کو ہی پتہ نہیں کیا مصیبت پڑ گئی ہے
یہاں سے وہاں ٹہلتا محند پریشانی میں فون کر رہا تھا مگر کوئی جواب نہیں مل رہا تھا
فون کو بیڈ پر پھینک کر اس نے پیچھے دیکھا تو ثمال تھکی تھکی سی چال چلتی کمرے میں آئی تھی
کہاں تھی تم ۔۔۔۔ کچھ اندازہ بھی ہے تمہیں کہ میں یہاں پر کتنا پریشان ہو رہا ہوں کب سے ۔۔۔۔ اور تم یہ فون کیوں گھر پر چھوڑ کر گئی تھی
محند اسے دیکھتے ہی اس پر برسنا شروع ہوگیا تھا
ثمال سر جھکائے خاموشی سےاسے سن رہی تھی
کیا پوچھ رہا ہوں میں تم سے یوں بہری گونگی بن کر کیوں کھڑی ہو کچھ منہ سے بولو گی بھی کہ نہیں ۔۔۔۔۔۔
اسکے سر جھکا کر خاموش کھڑے رہنے پر محند کو اور غصہ آیا تھا تیزی سے اسکے قریب آتے اسے جھنجھوڑتے ہوئے وہ تقریبا” چلا رہا تھا
ٹھک ٹھک۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صاحب وہ۔۔۔۔۔۔۔
ابھی وہ اسے کچھ بولنے ہی والا تھا کہ ملازمہ دستک دیتی بوکھلا ئی ہوئی اندر داخل ہوئی تھی
واٹ دا ہیل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کس کی اجازت سے تم اندر آئی ہو۔۔۔۔۔۔؟
محند تیش سے اسکی جانب بڑھتا بولا
وہ۔۔۔۔ وہ صاحب باہر کوئی شمائل نامی خاتون آئیں ہیں اور آپ سے کب سے ملنے کی ضد کئے جارہی ہیں ۔۔۔۔۔ میں نے کہا بھی جی کہ وہ اس وقت کسی سے نہیں ملتے کل آجانا مگر انہیں غصہ ہی آگیا اور مجھے ۔۔ مجھے اتنی زور سے تپھڑ مار کر بولیں کہ اپنے صاحب کو بلاؤ اسکی پہلی بیوی ہوں میں ۔۔۔
ملازمہ اسے غصے سے اپنی طرف بڑھتے دیکھ دو قدم پیچھے ہٹتی جلدی سے بولی تھی کہ کہیں دوسرا تھپڑ صاحب سے بھی نہ پڑ جائے
شمائل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟
ثمال جو کب سے بت بنی کھڑی تھی شمائل کے نام پر جھٹکے سے اس نے سر اٹھایا تھا اور اسکا نام لیا تھا
محند نے ثمال کی طرف دیکھا جو آنکھوں میں عجیب سا تاثر لئے اسکی آنکھوں میں دیکھ رہی تھی اسے بہت سے اندیشوں نے ٹھٹھکنے پر مجبور کر دیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تمہاری ہمت بھی کیسی ہوئی میری حویلی میں قدم بھی رکھنے کی ۔۔۔۔
محند طیش میں بھرا لاؤنج میں آیا تھا اور اس پر چیختے ہوئے بولا کہ ایک پل کے لئے شمائل بھی ڈر گئ
یہ تم مجھ سے کس طرح سے بات کر رہے ہو محند ۔۔۔۔۔؟؟
تڑخ کر کہتی شمائل صوفے پر پھر سے بیٹھی تھی
اٹھو ۔۔۔۔۔۔۔
بازو سے پکڑ کر اسے کھڑا کیا
اور نکل جاؤ یہاں سے تم میری کچھ نہیں لگتی اور نہ ہی میں نے انجان لوگوں کو اتنی اجازت دی ہے کہ وہ مجھے میرے نام سے پکاریں سو ۔۔۔
گیٹ آؤٹ ۔۔۔۔۔۔
آگے کی طرف دھکیلتے اس نے شمائل کو دو ہی منٹ میں اسکی اوقات دکھا دی تھی
تم۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اوہ تم پر تو فی الحال اپنی نئی نویلی دلہن کا نشہ چڑھا ہوگا نہ تو اسی لئے اتنا تڑخ رہے ہو ۔۔۔۔۔۔ کوئی بات نہیں ڈارلنگ۔۔۔۔۔۔۔ اسکے قریب آتی وہ اسکے گلے کے گرد اپنے بازو رکھ چکی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔ جب دل بھر جائے نہ تو مجھے بتا دینا ہم دونوں مل کر اسے نکالیں گیں۔۔۔۔ اسکے گال پر لب رکھتی اسے آنکھ دبا کر کہتی وہ فورا” سے چلی گئی کیونکہ اپنا کام تو وہ کر چکی تھی ثمال کو آتے دیکھ جو اسے محند کی باتوں سے غصہ چڑھا تھا پل بھر میں اس نے اپنا شیطانی دماغ چلایا اور محند کے قریب ہوئی تھی مقصد صرف اسکا ثمال کو بھی انگاروں پر رکھنا تھا اور تکلیف پہنچانی تھی جس سے وہ آجکل گزر رہی تھی
ثمال کے تو تن بدن میں آگ سی لگ گئی تھی یہ سب دیکھ اور سن کر ۔۔۔۔
وہ صرف آخر میں اسکے دل بھر جانے والے الفاظ ہی سن پائی تھی اوپر سے اسکا محند کے قریب آکر اسے چھونا اسے پاگل کر گیا تھا
ہوگئی عیاشی مسٹر محند سلطان یا ابھی اور کرنی باقی ہے ۔۔۔۔۔۔
چیختی ہوئی وہ اسکے سامنے کھڑی ہوئی تھی
محند اسکے یوں چیخنے پر حیران ہوا تھا اور اوپر سے اسکے الفاظوں نے اسے مزید غصہ دلایا
کیا بکواس کر رہی ہو تم۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ تو اس سے بھی زیادہ بلند آواز میں دھاڑا تھا
بکواس ۔۔۔۔۔۔؟ بکواس میں کر رہی ہوں ۔۔۔۔۔۔۔ ؟؟؟؟
اور تم ۔۔۔۔۔۔ تم جو یہ کھلے عام دن دہاڑے بے ہودگیاں کر رہے ہو وہ کچھ نہیں۔۔۔۔۔۔
ثمال نے اسکا گریبان ہی پکڑ لیا اور چیخ چیخ کر اس سے باز پرس کرنے لگی
سارے ملازم بھی شور سن کر آگئے تھے جنہیں محند لال آنکھوں سے گھور کر واپس بھیج چکا تھا
بی بی جان بھی شور سن کر لاؤنج میں آگئیں تھیں اور انہیں آپس میں یوں لڑتا دیکھ دنگ رہ گئیں تھیں
یہ سب کیا ہو رہا ہے ۔۔۔۔۔۔۔؟؟
سختی سے کہتیں بی بی جان محند کا گریبان ثمال سے چھڑوا چکی تھیں
مجھ سے کیا پوچھ رہیں ہیں پوچھئے اپنے آپ سے اور اپنے اس عیاش پوتے سے جو۔۔۔۔۔۔۔۔
چٹاخ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بس۔۔۔۔۔۔۔ بہت ہوگیا ۔۔۔۔۔۔ بہت برداشت کر لیا میں نے ۔۔۔۔۔۔ تمہاری بکواس اور نہیں سنوگا میں تمہاری ہمت بھی کیسے ہوئی بی بی جان سے یوں بات کرنے کی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ثمال جو مزید بول رہی تھی محند نے اسے زوردار تھپڑ مار کر اسکی بولتی ہی بند کر دی اور وہ لہراتے ہوئے صوفے پر جا گری تھی
محند۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صدمے سے بی بی جان نے اسکے تھپڑ مارنے پر مری سی آواز میں اسے کہا تھا انہیں یقین ہی نہیں ہو رہا تھا کہ محند نے ان کے سامنے ثمال کو تھپڑ مار دیا ہے
کب سے تمہاری جلی کٹی سن رہا ہوں اسکا مطلب یہ نہیں کہ میں اتنا بے غیرت بن جاؤں کہ بی بی جان کے ساتھ بھی تمہیں بد تمیزی کرنے دوں۔۔
اسے کندھوں سے جکڑ کر وہ اپنا چہرہ اسکے نزدیک کرتے غرایا تھا اسکی لہو چھلکاتی آنکھیں اسکے شدید غصے میں ہونے کا پتہ دے رہیں تھیں
ثمال اسکے ہاتھوں کی سختی اپنے کندھوں پر محسوس کرتی سسکی تھی اور ہمت جٹاتی اپنے پورے زور سے اسے خود سے دور دھکیلا تھا
آپ انتہائی گھٹیا بے غیرت اور لوز کریکٹر انسان ہیں ۔۔۔ اور آپ کو ایسا بنانے والیں یہ بی بی جان ہیں جنہوں نے آپ کو غلط باتیں اور بدلے کی آگ میں جلا جلا کر اتنا اندھا کردیا کہ آپ کو صحیح غلط کا کچھ ہوش ہی نہیں رہا
ثمال کے انداز آج ہر طرح سے بدلے ہوئے تھے وہ تو شائد خود بھی نہیں جانتی تھی کہ غصے میں کیا سے کیا بولے جارہی ہے
بی بی جان لڑکھڑائی تھیں انہیں اپنی بوڑھی سماعتوں پر یقین ہی نہیں ہو رہا تھا کہ یہ سب جو وہ سن رہیں تھی وہ ثمال کہہ رہی ہے
مجھے نہیں پتہ تھا کہ جس شخص کو میں نے اپنا سب کچھ سونپ دیا اس سے مجھے کبھی اتنی نفرت بھی ہوگی ۔۔۔
مسٹر محند سلطان میں۔۔۔۔۔ آپ ۔۔۔۔ سے۔۔۔۔ نفرت کرتی ہوں ۔۔۔۔۔ بے انتہا ۔۔۔۔۔ شدید ترین نفرت کرتی ہوں میں ۔۔۔۔ سنا آپ نے ۔۔۔۔۔۔ نفرت کرتی ہوں میں آپ سے ۔۔۔۔۔۔۔
ثمال اتنی زور سے چیخی تھی کہ اسے اسکے گلے میں خراشیں پڑتی محسوس ہوئی تھیں
بے یقینی ہی بے یقینی تھی جو محند کو ابھی تک ہوش میں ہی نہ لا سکی تھی۔۔۔۔۔ بت کی مانند کھڑا وہ اسے دنگ نظروں سے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
کیا کہا تم نے ۔۔۔۔۔۔۔؟؟
سر جھٹکتے اس نے ثمال کو کندھوں سے تھامتے پوچھا
وہی ۔۔۔۔۔۔ جو ۔۔۔۔ آپ نے سنا ۔۔۔۔۔۔۔
محند کے ہاتھ درشتگی سے ہٹاتی ثمال اسکی آنکھوں میں بے خوف سی دیکھ کر بولی
نفرت ۔۔۔۔۔۔۔۔!!
نفرت کرتی ہوں میں آپ سے ۔۔۔۔ آپ جیسے شخص سے نفرت کرتی ہوں میں ۔۔۔۔۔۔
چلا کر بولتی ثمال نے ایک بار پھر سے اس کے کانوں میں صور پھونکا تھا
تو۔۔۔۔ نفرت۔۔۔۔۔۔ کرتی ہو تم ۔۔۔۔۔ مجھ سے۔۔۔۔۔۔؟؟
اس سے رخ موڑتا بالوں میں اضطرابیت سے ہاتھ پھیرتا محند اٹک کر بولا تھا
ہاں۔۔۔۔۔۔
مضبوطی سے بولتی ثمال کی آنکھ سے موتی ٹوٹ کر گرا تھا
اچھا۔۔۔۔؟؟
ایک منٹ تک وہ رخ موڑے کھڑا رہا پھر اسکی کلائی کو سختی سے پکڑتا اسے گھسیٹتے ہوئے حویلی کے گیٹ پر لایا اور زور سے باہر روڈ پر دھکا دے دیا
ثمال منہ کے بل نیچے گری تھی
دفعہ ہوجاؤ یہاں سے ۔۔۔۔۔۔۔ نکل جاؤ ۔۔۔۔۔۔ نفرت ہے نہ تو میرے ساتھ رہ کر کیا کر رہی ہو ۔۔۔۔۔ چلی جاؤ۔۔۔۔
دھاڑتے ہوئے محند اس سے بولا اور پھر زوردار آواز کے ساتھ گیٹ بند ہوا تھا
محند یہ کیا کر رہے ہو تم ۔۔۔۔۔۔ پاگل ہوگئے ہو کیا ۔۔۔۔ یوں حل کرتے ہیں مسئلے کہ اپنی ہی عزت کو یوں باہر اچھال دیں ۔۔۔
بی بی جان جو ابھی تک صدمے میں سن کھڑیں تھیں محند کو اس طرح گھسیٹ کر لے جاتے اور پھر باہر ہی نکال دینے پر ہوش میں آئیں تھیں اور اسکا رخ اپنی طرف کرتے غصے سے بولیں تھیں
نہیں ہے وہ اب میری عزت ۔۔۔۔۔۔۔
آئندہ اس حویلی میں اگر کسی کی بھی زبان سے اسکا نام بھی نکلا تو گدی سے کھینچ نکالوں گا اسکی وہ زبان۔۔۔۔۔
بی بی جان کا ہاتھ تھپتھپا تے وہ دھیرے سے ان سے بول کر آس پاس نظر دوڑا تے گویا سب کو چلا کر اعلان کیا کہ آج سے کوئی بھی ثمال کا نام بھی نہیں لے گا ورنہ سخت ترین سزا کا حقدار ہوگا
اور اسکی یہ آواز باہر گری ثمال نے بھی سنی تھی اور پھر وہیں بیٹھی گھٹنوں میں منہ چھپائے اپنی اس قدر تزلیل پر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگ گئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *