Ishq Mera Kamil by Neena Khan NovelR50807

Last updated: 22 July 2026

Ishq Mera Kamil by Neena Khan 

محند غصے سے لمبے لمبے ڈگ بھرتا نچلے فلور پر آیا تھا جہاں سے گزرتے اسکی نظر حامد کے روم کے کھلے دروازے سے نظر آتے منظر پر پڑی جہاں وہ حمنہ کو گود میں لئے ٹیبل کی سامنے کی دو چئیرز میں سے ایک پر بیٹھا تھا اور سامنے مین چئیر پر ثمال بڑے مزے سے بیٹھی کر سی جھلاتے ہوئے ان دونوں کی طرف مسکراتے ہوئے دیکھ کر کچھ بول رہی تھی جس کا جواب حامد منہ بسورتے ہوئے ہاتھ جھلا جھلا کر دے رہا تھا
محند تلملاتے ہوئے اندر داخل ہوا اور سیدھا جاکے ثمال کی چئیر کو سیدھے ہاتھ سے پیچھے دھکیلتا اس پرجھکا اور اپنا چہرہ انتہائی قریب کرکے پھنکارتے ہوئے اس سے بولا
تو یہ ہے تمہاری مصروفیت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
ہونہہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!
کسی کو زوردار جھٹکا دے کر خونخوار نظروں سے ثمال کو گھورا ..
جی بلکل ۔۔۔۔۔ !!
اگر آپ کو نظر آگیا ہے تو آپ پلیز واپس تشریف لے جائیں ۔۔۔۔۔۔۔۔
پہلے ثمال اسکے انداز اور قربت پر بوکھلا ئی مگر پھر سینے پر ہاتھ باندھے اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے مضبوط لہجے میں بولی تھی
جہاں اسکی اتنی ہمت و جرات پر حامد عش کر اٹھا وہیں محند کے غصے کا گراف انتہائی بلند ہوا تھا ۔۔
آج تک کسی کی اتنی ہمت نہیں ہوئی تھی جو محند سلطان کو یوں ترکی بہ ترکی جواب دے سکے مگر آج چھٹانک بھر لڑکی کی اتنی ہمت کہ کسی کے سامنے وہ اپنے ہی شوہر سے وہ بھی محند سلطان کو اپنی بد تمیز ی سے للکار رہی تھی تو محند سلطان کا فرض بنتا تھا کہ وہ اسکی للکار کا جواب دیتا۔
آں ں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
محند مسکراتی نظروں سے اسے دیکھتا سیدھا ہوا تھا
ایک نظر حامد پر ڈالی جو پریشان نظروں سے اسی کی جانب دیکھ رہا تھا کہ اب کون سا لاوا پھٹنے کو ہے ۔۔۔۔ سب جانتا ہوں تمہاری ہمت کو جو آج میرے سامنےاتنا سر چڑھ کر بول رہی ہے ۔۔۔۔۔ اسکا اشارہ حامد کی طرف تھا جسے یقینا" ثمال سمجھ گئی تھی اور حقیقت بھی یہی تھی ثمال حامد کی موجودگی میں بنا ڈرے بولی تھی اسے لگا تھا کہ محند کم از کم حامد کے سامنے اسے کچھ نہیں کرے گا مگر یہ اسکی بھول تھی۔۔۔
اگر اتنی ہمت تم کل میرے سامنے دکھاتی جب تم بلکل تنہا و لاچار تھی میرے سامنے اور پھر جو میں نے کیا تھا ۔۔۔۔۔۔ ؟؟؟تو ضرور حیران ہوتا کہ کوئی تو ایسا ہے دنیا میں جو میرے مقابل کھڑا ہوسکتا ہے۔۔۔۔۔
طنزئیہ مسکراتے وہ حامد کی موجودگی کو یکسر نظر انداز کئے ثمال کو کل ہوئی بات یاد کروا رہا تھا
ثمال کے سامنے بھی وہ پل چھن سے لہرایا تھا اور ایک بار پھر اسکا دل ازیت سے لرزا تھا کہ اسی پل کے بل بوتے پر تو اس نے نہ جانے کیا کچھ سوچ لیا تھا اور پھر اسکے وہی خواب اور خوش فہمیاں اسی شخص کی بدولت ہوا میں تحلیل ہو کر اس پر ہنسیں تھیں
یاد ہے مسٹر محند سلطان ۔۔۔۔۔۔ بہت اچھی طرح یاد ہے مجھے۔۔۔۔کل کا دن تو میں کسی قیمت پر بھی نہیں بھولی اور نہ ہی کبھی بھولوں گی ۔۔
جب کبھی میرا دل آپ کی طرف سے زرا بھی موم ہونا چاہا نہ تو اس دن کے بارے میں لازمی سوچوں گی ۔۔۔۔۔۔۔۔ نم آنکھوں سے ہلکی آواز میں بولتی وہ محند کو چونکا گئی تھی
حامد ان کو اکیلے بات کرنے کی غرض سے دور ہو کر کھڑا ہوگیا تھا اور حمنہ کی طرف بظاہر گم وہ ان دونوں کی طرف ہی متوجہ تھا
محند کو لگا تھا کہ وہ حامد کے سامنے اسکی کل کی بات یاد دلا نے پر شرمندہ ہوگی مگر وہ تو نہ جانے کیسی معنی خیز بات کر رہی تھی
اوپر سے اسکی گہری کالی آنکھوں میں تیرتی نمی محند کو ایک بار پھر اپنی طرف کھینچ رہی تھی ۔۔۔۔۔
ثمال اس سے رخ موڑ تے حامد سے حمنہ کو لیکر اسے باہر آنے کا بولتی خود روم سے باہر چلی گئی ۔۔۔۔
حامد اسی پوزیشن میں کھڑے کچھ سوچتے محند کی جانب آیا اور اسکے کندھے پر ہاتھ رکھتے اسے اپنی طرف متوجہ کیا ۔۔۔
محند اپنے کندھے پر پڑتے دباؤ سے چونکا تھا اور پھر سامنے کھڑے حامد کو دیکھ کر ناگوار نظروں سے اسکے ہاتھ کو دیکھا تھا ۔۔۔ اشارہ صاف تھا کہ اپنا ہاتھ پرے ہٹاؤ۔۔۔۔۔۔
حامد نے ٹھنڈی سانس بھرتے اپنا ہاتھ واپس کھینچا تھا اور گلا کھنکار تے اپنی بات شروع کی تھی
دیکھو محند ثمال اور لڑکیوں سے ہٹ کر ہے ۔۔۔ مطلب۔۔۔۔۔۔۔ وہ بہت معصوم دل کی ہے اس میں آج کل کی لڑکیوں کی طرح دھوکہ بازی چالاکی یا تیز طراری نہیں ہے وہ بہت پیارے دل کی مالک ہے سب کا خیال رکھنے والی بس ہر وقت خوشیوں کی متلاشی زندگی کو انجوائے کرنے والی ہے وہ ۔۔۔ تم تو بہت خوش قسمت ہو کے تمہیں اللہ تعالہ نے ثمال سونپی ہے ورنہ جیسے تم خود کو بنا رہے ہو اس لحاظ سے تو اللہ تعالہ کو تمہیں جھٹکا دینا چاہیے تھا تاکہ تم سدھر سکو۔۔۔۔۔ مگر خیر ایک لحاظ سے ثمال تمہارے لئے ایک جھٹکا ہی ہے جو تمہیں ہلا کر رکھ دے گی میرے بھائی ۔۔۔۔۔۔۔
حامد نرم دوستانہ انداز میں محند کو ایک بھائی کی طرح کچھ سمجھانے کی کوشش کر رہا تھا حالانکہ یہ بھی اچھی طرح سے جانتا تھا کہ کوئی فائدہ نہیں ہے اسے کچھ سمجھانے کا کرے گا وہ اپنی ہی آخر پہلے کب سنی ہے اس نے کسی کی جو وہ اب سنے گا مگر پھر بھی اس نے کوشش ضرور کی تھی
مسٹر حامد بہتر ہوگا کہ تم اپنے کام سے کام رکھو کیونکہ تم بھول رہے ہو کہ میں تم سے ایک سٹیپ اوپر ہوں اور ففٹی پرسینٹ شئیرز کا مالک ہوں تو اس لحاظ سے میں تمہارا باس ہوا تو تم پچیس پرسنٹ شئیرز کے ساتھ اپنی اوقات میں رہو تو بہتر ہوگا ۔۔۔۔
حامد کے کندھے پر زور سے ہاتھ مارتے محند نے حامد کی بھڑاس بھی نکال ہی لی تھی

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *