Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode01

Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode01

آپ نے تو بلاوجہ اتنا تکلف کرلیا ہم نے کہا بھی تھا کہ اسکی کوئی ضرورت نہیں تھی فردوس بی بی جان چائے کا گھونٹ بھرتے ہوئے ٹھہر کر بولیں بی بی جان سفید سلک کا غرارہ زیب تن کئے ہاتھ کی چھڑی پرانے گندمی صوفے پر ٹکائے اپنی سنجیدہ مگر نرم شخصیت سمیت بیٹھی ہوئی تھیں_
اس میں تکلف کی کیا بات ہے بی بی جان چائے ہی تو ہے اور بسکٹ وغیرہ آپ بھی نہ حد کرتی ہیں ایسے کہہ رہی ہیں کہ جیسے نہ جانے میں نے چھپن بھوگ لگادئے ہوں۔
بی بی جان اپنے سامنے بیٹھیں سلمہ بیگم کی بات سن کر زرا سا مسکرا ئیں
خیر چھوڑیں ہمیں یہ تو بتائیں کہ ہم جس کام سے آئیں ہیں وہ شروع کیا جائے یا نہیں۔۔؟؟
آں ااااا۔۔۔۔۔۔۔ بی بی جان وہ تو شروع ہی شروع ہے آپ پہلے یہ سموسے تو چکھیں بہت لزیذ ہیں
سلمہ بیگم ہکلاتے ہوئے انکا دھیان بھٹکا نے لگیں اور ساتھ ہی ٹیڑھی نظر دروازے پر بھی رکھی ہوئی تھی
کہاں رہ گئی یہ ثمی ۔۔۔۔۔؟؟؟
بی بی جان انکی الجھن کو بخوبی سمجھ رہی تھیں ۔۔۔۔
کیا ہوا سلمہ ۔۔۔۔؟؟؟ ثمال بچہ کہیں باہر گئی ہیں کیا۔۔۔۔۔۔؟؟؟
چائے کا آخری گھونٹ بھرتے پیالی میز پر رکھی اور سنجیدہ آواز میں پوچھا
وہ ۔۔۔۔۔ وہ دراصل بی بی جان اسے میں نے بتایا نہیں تھا کہ آپ آج ہی آرہی ہیں تو ۔۔۔۔۔۔۔
کوئی بات نہیں سلمہ بیگم ۔۔۔۔۔۔۔۔ ابھی وہ کنواری ہے جی لینے دو زندگی اپنی مرضی سےپھر بعد میں تو عورت بے چاری شوہر اور بچوں میں ہی گم ہو جاتی ہے ۔۔۔۔۔ کہاں ہوش رہتا ہے اسے اپنے لئے۔
بی بی جان کی بات پر سلمہ بیگم نے بھی نم آنکھوں سے تائید کی ۔۔۔۔۔۔ وہ اپنی دلاری بیٹی کی شادی کا سن کر افسردہ ہو گئی تھیں
مگر ساتھ ہی اسکے اچھے نصیب کے لئے دعا گو بھی تھیں
یہ لیں نہ بی بی جان آپ تو کچھ لے ہی نہیں رہیں یہ کھائیں یہ سموسے ثمی نے ہی بنائے ہیں
اور یہ گلاب جامن تو پورے محلے میں مشہور ہیں میری ثمی کے ہاتھ کے۔۔۔۔
انکے اتنی صاف گوئی پر جھوٹ بولنے پر دس سالہ ببلو انکا دوسرا اور آخری بیٹا جو کچن کی کھڑکی سے تانک جھانک کر رہا تھا بے ہوش ہو کر گرنے سے بال بال بچا۔
بی بی جان نے صرف مسکرا نے پر ہی اکتفا کیا
سلمہ بیگم ہمارے پاس وقت کی کمی ہے اس لئے زیادہ دیر نہیں رک سکتے ۔۔۔۔ زرا یہ بلاول کو بھیج کر ثمال بچے کو تو بلواؤ ۔۔۔۔ اسکے بعد ہمیں حویلی واپس جلدی جانا ہے محند جو آرہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہائے ماشااللہ ۔۔ ماشااللہ۔۔۔۔۔ اللہ لمبی اور صحت مند زندگی دے میرے بچے کو۔۔
سلمہ بیگم اپنے ہونے والے داماد کا نام سن کر خوشی سے نہال ہی ہوگئیں
آمین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بی بی جان نے بھی صدقے دل سے آمین کی کہ اب وہی تو تھا انکا سب کچھ۔
———————-
ارے ۔۔ ارے۔۔۔۔ یہ چیٹنگ ہے ۔۔۔۔ میری باری ہے ادھر دو مجھے ڈنڈا ۔۔۔۔ الو کا پٹھا نہ ہو تو ۔۔۔ڈیش ۔۔۔ ڈیش انسان ۔۔۔۔۔۔
دوپٹے کو کمر کے ساتھ باندھے گرین کرتی اور پیلی پٹیالہ شلوار کے ساتھ وہ اپنے سے پانچ سالہ چھوٹے لڑکے سے گلی کے نکڑ پر گلی ڈنڈہ کھیل رہی تھی
کہاں چیٹنگ کی ہے میں تو جیت گیا اور تم ۔۔۔۔ ہااااار گئی۔۔۔۔۔۔ ہی ہی ہی ۔۔۔۔۔۔
لڑکا پہلے تو غصے سے ۔۔۔۔ پھر مزے سے دانت نکالتے ہوئے بولا اور اسے زبان چڑھا کر بھاگ نکلا۔۔۔۔۔۔
ہا ۔۔۔۔۔ ہائے ۔۔۔. مجھے زبان چڑھاتا ہے مجھے ۔۔۔۔ صادق آباد کی ڈان کو ۔۔۔۔ ٹھیہر تجھے تو میں بتاتی ہوں ۔۔۔۔ آستینیں چڑھاتی وہ اپنے حلیے سے بے پرواہ اسکے پیچھے لپکی جبکہ آس پاس کھڑے منچلے جو اسکے لئے ہی کھڑے تھے اسکے چلے جانے پر منہ بسورتے وہ سب بھی آگے پیچھے نکل گئے
ٹھہر تو تجھے میں بتاتی ہوں ۔۔۔۔ مجھے منہ چڑھاتا ہے تو ۔۔۔۔ تیری تو میں۔۔۔۔۔۔۔۔
ثمی آپا ……??
اس سے پہلے کہ وہ اسے پکڑ پاتی ببلو بھاگتا ہوا اسکے پاس آیا اور اسے فورا” سے گھر جانے کو کہا
چلو۔۔۔۔۔۔ آپا ۔۔۔۔۔ گھر چلو۔۔۔۔!
ببلو کا سانس پھول چکا تھا بہت مشکل سے اپنی بات مکلمل کر پایا تھا
کیوں ہمارے گھر میں چنے بٹ رہے ہیں
ثمی نے اسے لتاڑ کر رکھ دیا اچھا خاصا وہ پھٹیچر ہاتھ لگنے والا تھا بیچ میں آگیا یہ ۔۔۔۔
ارے بھئی تمہاری ساس آئیں ہیں اور انہیں نہیں پتہ کہ تم گلی محلے میں ایسی حرکتیں کر رہی ہو۔۔۔۔
ببلو بڑے مزے سے کسی بڑے کی طرح اسے خشمگیں نظروں سے گھور رہا تھا
ہا۔۔۔ ہائے ۔۔۔۔ پہلے کیوں نہیں بتایا کمبخت ۔۔۔۔
فورا” سے اپنے نازک ہاتھوں سے دوپٹہ کھول کر لیا اور لاتعداد شکنوں کو ہاتھ سے رفع کرنے لگی
اب چلو گی بھی ۔۔۔۔۔ بچاری کب سے انتظار کر رہی ہیں۔۔۔۔۔۔۔
ہاں چلو ۔۔۔۔ دیکھ ببلو سن ۔۔۔۔۔ وہ ۔۔۔. بھی آئے ہیں کیا ۔۔۔۔
ثمی شرماتے ہوئے بولی
آے کہیں میں صدمے سے فوت ہی نہ ہوجاؤں ۔۔۔۔
بس کردو ثمی آپا تم اور شرم کبھی بھی نبھ نہیں سکتے ہو ۔۔۔۔ اس لئے یہ سب چھوڑو اور اب چلو بھی ۔۔۔۔۔
ببلو کو تو صدمہ ہی لگ گیا تھا اسکے شرمانے پر ۔۔
چل چل بڑا آیا نبھ نہ سکے ۔۔۔ ہونہہ۔۔۔۔ ہٹ پرے کب سے مجھے باتوں میں لگا یا ہوا ہے میری ساس میری راہ تک رہی ہونگیں ۔۔۔۔۔
ببلو کو دھکا دیتے وہ دوڑتی ہوئی گھر کی طرف بھاگی جبکہ پیچھے ببلو منہ بسورتا اسے صلواتیں سنانے لگا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ثمال جیسے ہی گھر پہنچی اسے اپنی ماں اور بی بی جان کی آوازیں سنائی دیں ۔۔۔۔ ایک بار پھر سے اپنے کپڑے درست کرتی وہ
شرماتے ہوئے لاؤنج میں داخل ہوئی
اسلام وعلیکم ۔۔۔۔۔۔۔
بی بی جان کے کانوں میں آواز پڑی تو انہوں نے سامنے دیکھا جہاں ثمال اپنے بے ترتیب حلیے میں نظریں جھکائے نروس سی کھڑی تھی۔۔. اسکا حلیہ چیخ چیخ کر بتا رہا تھا کہ وہ باہر بچوں کے ساتھ کھیلتے ہوئے آرہی ہے۔۔
وعلیکم اسلام۔۔۔۔۔۔۔
اس سے نظریں ہٹا کر بی بی جان نے سنجیدہ آواز میں جواب دے کر اٹھیں اور سلمہ بیگم سے ثمال کے ساتھ اکیلے میں بات کرنے کا کہا
سلمہ بیگم ہم ثمال بچے سے اکیلے میں کچھ بات کرنا چاہتے ہیں
جج۔۔۔۔۔ جی جی کیوں نہیں چلیں آئیں میں آپ کو ثمال کے روم میں لے جاتی ہوں۔۔۔۔۔
سلمہ بیگم نے فورا” سے اٹھتے ہوئے کہا ساتھ ہی دل میں تجسس بھی ابھرا کہ انہیں نہ جانے کیا بات کرنی ہے ثمال سے اکیلے میں ۔۔۔۔۔۔
نہیں ۔۔۔۔۔ ثمال بچہ ہمیں لے جائے گی ۔۔۔۔ آپ یہیں ہمارا انتظار کریں ۔۔۔۔۔
بی بی جان نے انہیں آنے سے منع کیا اور پھر باہر نکل گئیں ۔۔۔ پیچھے کھڑی ثمال حیرانی سے ماں کی طرف دیکھ رہی تھی
جا نہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سلمہ بیگم نے اسے گھرکا کہ کھڑے میرا منہ کیا دیکھ رہی ہو ۔۔۔
ثمال ماں کے گھورنے پر بھاگتی ہوئی بی بی جان کے پیچھے گئی اور اپنی تقلید میں انہیں لے کر روم میں داخل ہوئی
بی بی جان کچھ سالوں پہلے پنجاب کے ایک گاؤں میں اپنی بڑی سی حویلی میں اپنے چار بچوں کے ساتھ رہتی تھیں خوش باش گھرانہ تھا انکا مگر کسی کی نظر کھا گئ اور یہ ہنستا بستا گھرانہ تباہ ہوگیا دشمنوں نے پورے گھرانے کو قتل کر ڈالا تھا بی بی جان یہ سب برداشت نہیں کرسکیں تھیں اور بے رحم وقت نے انہیں اور بھی لاچار و محتاج کر دیا تھا مگر پھر اگر کوئی تھا جو انکی ٹوٹتی سانسوں کو پھر سے جوڑ گیا تھا تو وہ تھا محند انکا سب سے چھوٹا پوتا جو بیرون ملک ضد کرکے تعلیم حاصل کرنے گیا تھا وہ بچ گیا تھا مگر جب اسے اپنے گھر والوں پر بیتے ظلم کا پتہ چلا تھا تو وہ ٹوٹ گیا تھا بکھر گیا تھا ہر وقت وہ بس بدلے کی آگ میں جلتا رہتا تھا مگر بی بی جان نے اسے اپنی قسم دے کر اسے روک دیا تھا اور پھر اسے لیکر بیرون ملک سدھار گئیں کہ اب وہ اپنی باقی کی زندگی اپنے پوتے کے ساتھ ہنسی خوشی گزارنا چاہتی تھیں اگر یہاں وہ رہتا تو اسے بھی دشمن مار دیتا جو وہ ایسا کبھی نہیں چاہتی تھیں وقت نے محند کو مکلمل طور پر بدل کر رکھ دیا تھا وہ لڑکا جو ہر وقت ہنسی مزاق کرتا رہتا تھا آج وہ مغرور شہزادہ بن چکا تھا دن رات کی تگ ودود کے بعد وہ اونچے مقام پر کھڑا غرور سے سینہ تانے کھڑا تھا دنیا اسے جانے مانے بلین ائیر محند سلطان بزنس مین کے طور پر جانتی تھی تیس سال کی عمر میں اس نے چھڑا بیسٹ بزنس مین ایوارڈ جیتا تھا اگر یوں کہیں کہ چھینا تھا تو زیادہ بہتر ہوگا وہ جب بھی کسی کو اپنے ماں باپ یا کسی رشتے دار کے ساتھ ہنستا مسکراتہ دیکھتا تو اندر تک جل جاتا کہ اسکے پاس یہ سب کیوں نہیں ہے کیوں اس سے اسکے رشتوں کو چھین لیا تھا کیوں اسے اکیلا کر دیا تھا اس میں اس کا کیا قصور تھا تو جب میں بھی بے قصور ہو کر خوشیوں سے محروم ہوں تو یہ لوگ بھی محروم رہیں گے ۔۔۔۔۔ بس پھر کوئی موقعہ نہ جانے دیتا جب وہ کسی کو بھی کسی بھی طرح خوشی سے محروم نہ کردے ایسا کرنے سے اسے ان جانی سی خوشی ملتی تھی سکوں ملتا تھا ۔۔۔۔۔۔۔ حسد کی آگ نے اسے کیا سے کیا بنا دیا تھا جزباتوں سے عاری انسان ہر وقت سنجیدگی کا لبادہ اوڑھے مغرور چال چلے دنیا فتح کرنے میں لگا رہتا نہ جانے اسے کیا چاہے تھا جو وہ رک ہی نہیں رہا تھا اپنی حسد کی آگ میں وہ اتنا آگے نکل چکا تھا کہ کوئی احساس باقی نہیں بچا تھا اسکے اندر دل تو مردہ ہو چکا تھا جیسے ۔۔۔۔
تمہیں اسکے مردہ دل کو زندہ کرنا ہے بچے ۔۔۔۔ اسے زندگی کی طرف لانا ہے ۔۔۔. مجھے میرا پرانا شرارتیں کرتا ہوا محند لوٹانا ہے ۔۔۔۔۔
بی بی جان روتے ہوئے اسے اپنی کتھا سنا رہی تھیں انہیں لگتا تھا ثمال کو شادی سے پہلے سب پتہ ہونا چاہیے تاکہ اسے انکے محند کو زندگی کی طرف لانے میں آسانی ہوسکے ۔۔۔۔
اسکی پہلی شادی کی ناکامیابی میں بھی شائد کسی حد تک میرا ہی قصور تھا
نہ میں اس سے ضد کرتی اور وہ تنگ آکر کسی سے بھی شادی کر لیتا اور پھر وہ عورت اپنی ایک ماہ کی بچی چھوڑ کر نہ جاتی وہ معصوم تو بچاری اپنے ماں باپ کی زندگی میں تو جیسے کوئی اہمیت ہی نہیں رکھتی ماں نے تو دیکھا تک نہیں تھا ایک ماہ تک تو وہ میرے پاس تھی پھر وہ طلاق لے کر چلی گئی اور باپ وہ تو اپنی دنیا میں اتنا مصروف ہے کہ اسے یہ تک یاد نہیں کہ اسکی ایک چار ماہ کی بیٹی بھی ہے
بی بی جان اپنے آنسو صاف کرکے اٹھیں اور اسکے پاس آئیں جو خود بھی رو رہی تھی زیادہ دکھ تو اسے بچی کا سن کر ہو رہا تھا
اتنے چھوٹے سے پیارے سے بے بی کو کوئی کیسے چھوڑ دیتا ہے میں تو کسی کا بھی بچہ دیکھ لوں تو دل کرتا ہے کہ اسے چھپا کر لے جاؤں اور اپنے پاس رکھ لوں اور اتنا پیار کروں اتنا پیار کروں کہ بس۔۔۔۔۔۔
بی بی جان اسکے چہرے کے اتار چڑھاؤ کو دیکھ رہیں تھیں
کیا تم میرا ساتھ دو گی اس میں۔۔۔۔۔۔؟
اس کو دیکھتے ہی بی بی جان نے اس سے پوچھا
وہ ۔۔۔۔ وہ باقی تو ٹھیک ہے پر وہ نہ مجھے مار سے بہت ڈر لگتا ہے جب اماں بھی مجھے جوتے سے تاک تاک کے تاک تاک کے مارتی ہیں نہ تو اففف قسم سے بہت درد ہوتا ہے ابھی بھی کمر میں ہو رہا کل ہی لیٹ آنے پر اماں نے وہ دور سے ہی گلی میں مجھ پر جوتا پھینکا تھا قسم سے ایسا تاک پہ لگا تھا پورا جوتا ہی چھپ گیا میری نازک کمر پر ۔۔۔۔
وہ تو نہیں ماریں گے نہ ۔۔۔۔۔۔ باقی مجھے کوئی مسئلہ نہیں ہوگا مجھے صرف مار سے ہی ڈر لگتا ہے ۔۔۔۔۔
بی بی جان منہ کھولے اسکی بے تکی بات سن رہیں تھی جو اس وقت تو بلکل بھی اسے نہیں کرنی چاہیے تھی ۔۔۔۔۔۔پھر بے ساختہ ہنسنے لگ پڑیں ۔۔۔۔ ہا ہا ہا ہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسی لئے میں نے تمہیں چنا ہے بچے مجھے پوری امید ہے کہ تم اس مقصد میں ضرور کامیاب ہوگی ۔۔۔۔۔۔
بی بی جان ہنستے ہوئے بولیں
ہممممم ۔۔۔۔۔
ثمال بس کھسیانی ہوکے اتنا ہی بول پائی
تمہاری ماں بہت اچھی عورت ہے جب میں اپنے گاؤں میں رہتی تھی نہ تو تمہاری ماں میری خاص خدمت گزار تھی بلکہ رازدار یا بیٹی ہی سمجھ لو بہت عرصے بعد ملنا ہوا ہے مجھے اور ملنا بھی اتنا مبارک ہوا کہ مجھے تم مل گئی اپنے محند کے لئے ۔۔۔۔۔
بی بی جان اسکی چھوٹی سی تھوڑی پکڑے پیار سے بولیں جبکہ ثمال اپنی کالی سیاہ ترین گہری کالی آنکھوں میں شرم سموئے نظریں جھکا گئی ۔۔۔۔۔
جیتی رہو میری بچی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسکے سر پر بوسہ دے کر وہ سلمہ بیگم سے مل کر نکل گئیں کہ اب تیاریاں جو کرنی تھیں دن ہی کتنے رہ گئے تھے انکی شادی میں ۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Efendim! size bir toplantı sonra 5 dakika ….
(سر آپ کی میٹنگ ہے پانچ منٹ بعد۔۔۔)
منی اسکرٹ ود سلیو لیس شرٹ کے ساتھ اسکی سیکریٹری تقریبا” بھاگتے ہوئے اسے یاد دلا رہی تھی
olduğunda bir dakika sol sonra olacak bilgilendirmek beni aldım ….
(جب ایک منٹ رہ جائے تب تم مجھے بتانا آئی سمجھ۔۔۔۔۔۔)
تیز تیز مغرورانہ چال چلتا وہ ایک دم مڑا اور سنجیدہ آواز میں اپنی سیکریٹری کو تنبیہ کی۔۔۔ اسکی سیکریٹری تو اسکے اتنے نزدیک وجیہہ چہرے کو دیکھ کر کھو چکی تھی منہ میں پین دبائے وہ مسکراتے ہوئے اسےدیکھ رہی تھی کہ حمند نے اونچی آواز میں اسے کہا تھا ۔۔۔۔۔ آئی سمجھ۔۔۔۔۔۔۔
evet .. evet Efendim ….
(جی۔۔ جی سر۔۔۔۔۔۔)
سیکریٹری جلدی سے ہوش میں آئی اور سر جھکا کر فورا” بولی
آفس کے تمام ورکرز اپنے باس کی دھاڑ سن کر جلدی جلدی ہاتھ چلا کر یہ شو کرنے لگے کہ انہیں تو بس کام سے ہی پیار ہے اور کیا ہے کیا نہیں انہیں کیا پتہ ۔۔۔۔ یہ تو بس اپنے کام کو ہی دل جمعی سے پورا کرنا جانتے ہیں۔۔۔
محند سلطان ترکی کا جانا مانا بلین ائیر بیسٹ آف دا بیسٹ بزنس مین تھا ہر کوئی اسکی زہانت اور ہنر کا دلدادہ تھا بہت کم عمر سے ہی محند سلطان ترکی میں اپنے مضبوط قدم جما چکا تھا ۔۔۔۔
چھ فٹ سے نکلتا قد، کسرتی جسم ،کالے گھنے بال ،مغرور ناک بلکل اسکی زات کی طرح، سختی سے پیوست ہونٹ کہ انہیں کبھی مسکان نے چھوا تک نہ ہو ۔۔۔ مغرور چال چلتا اپنے پانچ منزلہ آفس بلڈنگ میں داخل ہوا تھا جس کے پیچھے اسکی سیکریٹری بھاگتی ہوئی اسکے پیچھے آرہی تھی اور اسے آج کے شیڈول کے بارے میں یاد دہانی کروارہی تھی
محند لفٹ کے سامنے رکا اور پھر اسکے کھلنے پر اندر چلا گیا پیچھے اسکی سیکریٹری ایک جانب کھڑی ہوگئی کہ ایک یہی جگہ تھی جہاں اسکے اور کچھ خاص لوگوں کے علاوہ آنے کی اجازت نہیں تھی۔۔۔ لفٹ بند ہوچکی تھی اور پھر چوتھے فلور پر ہی جا کر کھلی تھی ۔۔۔ لفٹ کے کھلتے ہی بلکل سامنے وائٹ کلر کے بیش قیمتی شاہی صوفہ سیٹ رکھے ہوئے تھے یہ ایک بڑا سا ہال تھا درمیان میں ایک قطار کی صورت بڑے خوبصورت ترین وائٹ ہی کلر کے مہنگے ترین فانوس لٹکے ہوئے تھے جبکہ چھت پر جدید ڈیزائن میں سیلنگ کی گئی تھی دائیں طرف کی پوری دیوار شیشے کی تھی جس میں سے اسکا چلتا ہوا وجود نظر آرہا تھا ۔۔۔ بائیں طرف دیوار گیر فش ایکوریم تھا جو دیکھنے والے کو جکڑ لیتا تھا
اسکے اس فلور پہ اسکے آفس کے ساتھ ساتھ اسکا چھوٹا سا گھر بھی تھا ایک روم اوپن منی کچن ایکسرسائز روم ۔۔۔۔۔
وہ سیدھا چلتا ہوا آیا اور ڈور کو سلائیڈ کرکے اندر داخل ہوا اور اپنا کوٹ اتار کر چئیر کی بیک پر رکھا اور بیٹھ کر لیپ ٹاپ آن کیا اور سامنے لگی اسکرین روشن ہوئی جہاں اسکے آفس کے مختلف جگہوں کے مناظر نظر آرہے تھے
تمام ورکرز اپنے اپنے کام میں بزی تھے
اس نے انٹر کام سے اپنے لئے بلیک کافی منگوائی جب تک وہ بلیک کافی نہیں پی لیتا تھا کوئی بھی کام شروع نہیں کرتا تھا اسکا جیسے دماغ ہی نہیں کھلتا تھا
بلیک کافی اسے مل چکی تھی جو اسے صرف اسکے آفس فلور کے لئے ہی رکھا گیا تھا اور وہ کسی کا کام نہیں کرسکتا تھا
محند سلطان کے بزنس کرنے کے بھی اپنے ہی شاہانہ طریقے تھے
ابھی وہ کافی کا لاسٹ سپ لے کر ہٹا ہی تھا کہ اسکے موبائل پر کال آنے لگی
موبائل کی اسکرین پر پاکستان کا نمبر شو ہو رہا تھا ۔۔۔۔
بی بی جان۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!
گہری سانس خارج کرکے وہ چئیر پر سے اٹھا اور چئیر کے پیچھے آکر کھڑا ہوگیا جہاں دیوار گیر شیشے کی بڑی سی دیوار تھی جس کے پار سڑک پر رواں دواں گاڑیاں نظر آتی تھیں
فون کان سے لگا کر اس نے خود کو کمپوز کیا اور ترکی میں سلام کیا
Merhaba……!!!!
آپ اب تک آئے کیوں نہیں بچے ۔۔۔۔۔۔
دوسری طرف بی بی جان سلام کا جواب دے کر اصل بات پر آئیں ۔۔۔۔
کہاں آنا تھا genç bayan……..
(Young lady)
فضول باتیں مت کریں محند ۔۔۔۔۔۔ کب آرہے ہیں پاکستان ۔۔۔۔۔ دو دن رہ گئے ہیں آپکی شادی میں اور آپ ہیں کہ ابھی تک نہیں آئے ہیں اب کیا دلہن سے میں شادی کروں گی ۔۔۔۔۔؟؟
بی بی جان اسکے غیر سنجیدہ انداز پر غصہ ہی ہوگئیں ۔۔۔۔۔ حد ہے جب مان ہی گیا تھا تو اب آنے میں کیا مسئلہ تھا
کر ہی لیں تو بہتر ہوگا کم از کم اس عزاب سے جان چھوٹے گی میری ۔۔۔۔۔۔۔۔
محند نے تو بےزاریت کی حد کردی تھی
محندددد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بی بی جان اسکی بتمیزی پر چیخ پڑیں۔۔۔۔۔
اب آپ ہمارے ساتھ اس لہجے میں بات کریں گے بھول گئے ہماری تربیت ۔۔۔۔۔۔۔
محند سلطان کو انکی آواز میں نمی محسوس ہوئی تھی جس سے وہ ڈھیلا پڑا تھا اور پھر ایک بار پھر گھٹنے ٹیک دئے ۔۔۔۔ کچھ بھی ہوجائے وہ کبھی بھی بی بی جان سے بتمیزی نہیں کرسکتا تھا اس سے بہتر تو وہ مرنا پسند کرےگا مگر بی بی جان سے بتمیزی بلکل بھی نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کل صبح پہنچ جاؤں گا اور ٹھیک ایک گھنٹے بعد آپ اسے لے کر میرے ساتھ واپس ترکی آئیں گیں ورنہ شائد اس بار میں انتقام کی آگ کو نہ دبا سکوں۔۔۔۔۔
سنجیدہ آواز میں بولتے ہوئے محند نے کال ڈراپ کردی اور ایک بار پھر پورے آفس کا ستیا ناس کرنے لگا ان چیزوں پر اپنا غصہ نکالنے کے بعد وہ اپنے روم چلا گیا جہاں ایک درمیانی سائز کی الماری میں اس نے اپنا منی بار بنایا ہوا تھا
شراب کی دو بوتلیں نکال کر وہ بیڈ پر آیا اور کوٹ اتار کر پھینکا اور پھر شرٹ کے ساتھ بھی ایسا ہی کیا اور شروع ہوگیا ہمیشہ کی طرح والے شغل میں کیونکہ ایک بار پھر اسے وہ سب یاد آیا تھا اپنوں کا قتل ۔۔۔۔۔۔۔۔
انتقام کی آگ ایک بار پھر بھڑک چکی تھی جسے وہ بمشکل صرف بی بی جان کے لئے دبا پایا تھا مگر صرف اس لڑکی سے نکاح کی وجہ سے اسے اب پاکستان جانا پڑ رہا تھا جہاں وہ سانس بھی نہیں لے پاتا تھا جہاں کی ہوا میں اسے اپنوں کی خون کی مہک آتی تھی ۔۔۔۔۔
تم۔۔۔۔۔ تمہیں تو میں نہیں چھوڑوں گا مس ثمال۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!!
کچھ نشے اور کچھ غصے سے اسکی آنکھیں لہو رنگ ہو گئی تھیں کہ اسکی بڑی حسین آنکھوں کو خوفناک کرچکی تھیں۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *