Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode27

Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode27

کیا بکواس ہے یہ ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟
محند فائل ہاتھ میں لئے ان دونوں کی طرف مڑا تھا اور اس حد تک چلایا کہ انہیں اپنے کان پھٹتے ہوئے محسوس ہوئے تھے
محند ان پر کیوں غصہ کر رہا ہے یار ۔۔۔۔۔۔ انکا کیا قصور اس سب میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟
حامد ان دونوں کے سامنے جا کر کھڑا ہوگیا جو اسکی دھاڑ پر سہم گئیں تھیں
کیا قصور ہے ۔۔۔۔؟؟؟۔۔۔۔۔۔ یہ دیکھو کیا کارنامہ سر انجام دیا ہے ان دونوں کی بے وقوفوی نے ۔۔۔۔
محند اس پر فائل اچھالتا برہمی سے بولا تھا ۔۔۔ حامد نے حیرانی سے فائل اٹھائی کہ اب اس کو کیا ہوا ۔۔۔۔۔ جب اس نے فائل کھول کر پڑھی تو اس کو بھی شدید جھٹکا لگا تھا ۔
یہ تو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟
ہاں یہ تو وہ فائل ہے ہی نہیں جو ہمیں چاہیے تھی ۔۔۔۔۔۔ پتہ نہیں کیا سوچ کر انہوں نے یہ فائل اٹھائی تھی ۔۔۔۔ کیا سوچ کر ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
محند تو پہلے ہی شمائل کے بھجوائے نوٹس پر بھرا بیٹھا تھا مگر دماغ میں کچھ کلک ہوا تو اس نے فائل اٹھائی تھی جو ثمال اور جاناں لے کر آئیں تھیں ۔۔۔۔
یہ تو کسی پروجیکٹ کی فائل ہے ثمال ۔۔۔۔۔۔ یہ تو وہ فائل ہے ہی نہیں جو دراب خان کے خلاف تمام ثبوتوں کی ہمیں چاہیے تھی
حامد وہ فائل ثمال کے سامنے کرتا پریشانی سے بولا تھا
کیا۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
ثمال اس سے فائل لیتی دیکھنے لگی کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے مگر یہ سچ تھا یہ تو کوئی اور ہی فائل تھی ۔۔۔۔۔
ایسا کیسے ہوسکتا ہے ۔۔۔؟؟میں نے تو خود دیکھا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔
ثمال شاکڈ سی محند کے سامنے آئی اور اسے دیکھتی بولنے لگی مگر محند تھا کہ اپنی تیز نظروں سے اسے گھور رہا تھا
ہاں بلکل میڈم صاحبہ آپ نے اپنی آنکھوں سے پروجیکٹ کی فائل کو ثبوتوں والی فائل سمجھ کر اٹھایا اور اپنی اس بیوقوفی پر خوش ہوتی کہ تم نے تو تمغہ جرات حاصل کر لیا ہے یہاں بیٹھی اپنی تعریفیں سن رہی ہو ۔۔۔۔۔۔۔
محند نے سارا غصہ اس پر ہی نکالنے کی ٹھان لی تھی۔۔۔۔۔۔۔
اور یہ سب ہوا اس لئے کہ مجھے ایک ان پڑھ اور جاہل گنوار بیوی ملی ہے ۔۔۔۔۔۔
ثمال کو اپنا وجود بکھرتا ہوا لگا ۔۔۔۔۔ سب کے سامنے محند اسکی شخصیت کی دھجیاں اڑاگیا تھا
کہا بھی تھا ایسی بچی سے مجھے شادی ہی نہیں کرنی لیکن نہیں ۔۔۔۔۔ کرادی ایسی امیچیور ان پڑھ سے میری شادی جسے پتہ ہی نہیں چلا کہ وہ جو فائل اٹھا رہی ہے وہ صحیح فائل ہے یا بھی نہیں بس منہ اٹھا کر چلی آئی ۔۔۔۔۔۔ جب نہیں کر سکتی تھی تو گئی کیوں تھی وہاں ۔۔۔ منع بھی کیا تھا میں نے خود کر لوں گا میں سب دیکھ لوں گا۔۔۔۔۔۔۔ مگر نہیں چلی گئی ضد کرکے اور میں بھی ایک نمبر کا بیوقوف تھا جو اسکی بچوں جیسی باتوں پر آگیا تھا ۔۔۔ سب تباہ کردیا اس نے ۔۔۔۔۔۔ سب کچھ اب تو لوگ بیٹھے ہم پر ہنس رہے ہوں گے ۔۔۔۔ مزاق اڑا رہے ہوں گے میرا ۔۔۔۔۔
محند غصے میں اپنے زہریلے لفظوں کے تیر اس پر برسائے جا رہا تھا بنا یہ سوچے سمجھے کے سامنے کھڑا وجود دھواں دھواں ہو رہا ہے
ثمال سر جھکائے اسکے سامنے کھڑی خود کو مجرم سمجھ رہی تھی۔۔۔۔۔۔ محند نے اسے سب کے سامنے ایسا ہی تو ثابت کردیا تھا کہ وہ آنسو بہاتی اپنی تزلیل ہوتے سن رہی تھی
اب ہٹو میرے سامنے سے۔۔۔۔ اپنی یہ شکل لے کر بھی میرے سامنے مت آنا اب کہیں ایسا نہ ہو کہ میں اپنا آپا کھو کر کچھ غلط ہی نہ کردوں۔۔۔
محند اسے دھکا دے کر حویلی سے ہی نکل گیا تھا ۔۔۔۔۔۔ ثمال زمین پر گری خود کو اسکے اندر دھنستا محسوس کر رہی تھی
ایسی بھی کیا غلطی کردی اس نے کہ محند اس کو سب کے سامنے بے مول کر گیا تھا
ثمال۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ثمال نے آنسؤوں سے بھرا چہرہ اٹھایا تو حامد اسے بازو سے پکڑے زمین سے اٹھا کر بیڈ پر لایا اور جاناں کو پانی کا گلاس لانے کا اشارہ دیا
جاناں جگ میں سے پانی نکال کر گلاس میں ڈالتی اسکے پاس آئی تھی اور افسوس بھری نگاہ سے اسے دیکھتی گلاس اسے پکڑا گئی تھی
اسے اتنا تو اندازہ ہو ہی گیا تھا کہ محند نے اسکی بےعزتی کی ہے جس پر وہ اب رو رہی تھی
پانی پیو ثمال۔۔۔۔۔۔!
ثمال نے نفی میں سر ہلایا کہ وہ بلکل نہیں پئے گی
حامد سانس خارج کرتا گلاس واپس سے جاناں کو پکڑا کر ثمال کی طرف متوجہ ہوا تھا
ثمال محند اس وقت غصے میں ہے ۔۔۔۔۔۔ شمائل۔۔۔ تم تو جانتی ہو اسکی فرسٹ وائف۔۔۔۔۔ اس نے اسے حمنہ کی کسٹڈی لینے کا نوٹس بھجوایا ہے ۔۔۔۔ بس اسی چکر میں اب فائل غلط لانے پر وہ جو پہلے ہی غصے میں تھا اور بھی پاگل ہو گیا اور پھر تمہیں اسکا شکار بنا دیا ۔۔۔۔۔۔
حامد نے جب اسے نوٹس کے بارے میں بتایا تو ثمال نے ٹھٹھک کر اسکی طرف دیکھا تھا
حمنہ ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
ہاں ۔۔۔۔۔ وہ حمنہ کو واپس چاہتی ہے اپنے پاس ۔۔۔۔ اور پاکستان کے قانون کے مطابق اتنی چھوٹی بچی ماں کے پاس ہی جاتی ہے ایسے ہر کیس میں ۔۔۔۔۔۔ تو بس اسی لئے محند اپنے آپے سے باہر ہو کر سارا غصہ تم پر انڈیل کر چلا گیا ۔۔۔ پر تم فکر مت کرو جب اسکا غصہ ٹھنڈا ہوگا تو وہ خود تم سے سوری کرے گا اسکے لئے ۔۔۔۔
حامد اسے بتاتے ہوئے تسلی دے رہا تھا لیکن ثمال اپنے کان بند کئے بیٹھ گئی ۔۔۔۔۔ وہ محند کے بارے میں مزید کچھ نہیں سننا چاہتی تھی ۔۔۔۔ وہ تو ابھی حمنہ کو لیکر پریشان ہو گئی تھی کہ کیا شمائل حمنہ کو لے لیگی اس سے ۔۔۔۔۔ ایسا کیسے ہوسکتا ہے ۔۔۔۔۔ وہ کیسے رہے گی اسکے بغیر ۔۔۔۔۔۔
ابھی بھی کتنی مشکلوں سے اس نے دراب خان کی حویلی میں وقت گزارا تھا ۔۔۔ کتنا یاد کیا تھا اس نے حمنہ کو ۔۔۔۔۔۔ آخر کو اس نے بہت کم وقت میں ہی اس کے دل میں ایک خاص بہت گہری جگہ بنا لی تھی کہ وہ اس سے اب چھڑ جائے گی یہ خیال ہی اسے تڑپا رہا تھا
نہیں ۔۔۔۔۔ میں ایسا نہیں ہونے دوں گی ۔۔۔۔ حمنہ میری بیٹی ہے اب ۔۔۔۔۔۔ وہ اسے نہیں لے کر جائے گی ۔۔۔۔۔ میں ایسا ہونے ہی نہیں دوں گی ۔۔۔۔۔
کیوں ۔۔۔۔ اب کیوں وہ چاہتی ہے حمنہ کو لینا ۔۔۔؟؟ پہلے کہاں تھی جب حمنہ کو اسکی ضرورت تھی ۔۔۔۔؟ تب تو وہ اسے چھوڑ کر خود دوسری شادی کرکے بیٹھ گئ تھی تو اب کون سی ممتا نے سر اٹھایا ہے کہ وہ یہ نوٹس بھیج رہی ہے ۔۔۔۔۔۔
ثمال کے تو پیروں پر لگی اور تلووں پر جاکر لگی تھی یہ بات ۔۔۔۔ طیش سے کہتی وہ ایک ماں کا ہی روپ لگ رہی تھی جو اپنی اولاد کو اپنے سے دور ہوتا دیکھ تڑپ اٹھے
حمنہ ۔۔۔۔۔؟؟؟ کہاں ہے وہ ۔۔۔۔۔ کہاں ہے میری بیٹی ۔۔۔۔۔؟؟
حمنہ کا نام لیتی ثمال اپنے کمرے سے باہر نکلی تھی اور پوری حویلی میں چکر لگاتی وہ حمنہ کے سامنے کھڑی دوڑتے ہوئے آئی تھی اور اسے اپنے سینے میں بھینچ لیا تھا
میں تمہیں اسکے حوالے نہیں کروں گی ۔۔۔۔۔۔ کبھی بھی نہیں کروں گی۔۔۔۔۔ تم میری بیٹی ہو میری جان ۔۔۔۔۔۔ صرف میری ۔۔۔۔۔۔ تمہیں اپنا مانا ہے میں نے اور اب یہ رشتہ تب تک نہیں ٹوٹے گا ۔۔۔۔۔۔ جب تک میری یہ سانسیں چل رہیں ہیں
چاہے تمہارے لئے مجھے کسی بھی حد تک کیوں نہیں جانا پڑے میں جاؤں گی مگر تمہیں اسکے حوالے نہیں کروں گی ۔۔۔۔۔۔
ثمال اسے بے تحاشہ چومتی بڑبڑائے جارہی تھی
آہستہ آہستہ اسکی آواز دھیمی ہوتی گئی اور پھر بلکل بند ہو کر وہ اپنے ہوش و حواس سے بیگانہ ایک طرف لڑک گئی تھی
۔۔۔۔۔ حمنہ اسکے سینے پر گری اسکی طرف دیکھ رہی تھی جو آنکھیں بند کئے بے ہوش ہو چکی تھی
ثمال۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟
حامد اسے گرتا دیکھ دوڑتا ہوا اسکے پاس آیا تھا اور ڈاکٹر کا ملازمہ کو کہہ کر اسے لئے روم کی طرف گیا تھا جاناں حمنہ کو اپنی گود میں اٹھاتی اسکے پیچھے گئی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محند حویلی سے نکل کر بے مقصد سڑک پر گاڑی دوڑا رہا تھا اسے شمائل کے نوٹس بھیجنے پر شدید طیش آیا ہوا تھا اسکا دل کر رہا تھا کہ وہ جاکر شمائل کے منہ پر تھپڑوں کی برسات کردے ۔۔۔۔۔ اسکی ہمت بھی کیسے ہوئی محند کو عدالت سے نوٹس بھجوانے کی ۔۔۔۔۔۔
اسے کیا لگتا ہے کہ میں اتنی آسانی سے اسکی یہ خواہش پوری ہونے دوں گا ۔۔۔۔۔۔؟؟؟
سپیڈ بڑھاتا محند زہرخند ساچسوچ رہا تھا
فون کی بیل پر اس نے اپنی بائیں طرف نظر ڈالی ۔۔۔۔۔۔۔۔ اسکرین پر شمائل کا نمبر دیکھ کر اسکی رگیں تن گئیں تھیں ۔۔۔۔۔۔ گاڑی کو ایک جھٹکے سے روکا تھا اس نے فون نکال کر اسکی اسکرین کو لال آنکھوں سے گھور نے لگا جیسے یہ شمائل ہی ہو ۔۔۔۔۔۔۔
محند جب سے پاکستان آیا تھا تب سے شمائل اسے کونٹیکٹ کرنےکی کوشش میں تھی اس سے ملنے بھی آئی تھی مگر اسے کوئی فائدہ نہیں ہوا تھا اسے۔۔۔۔۔۔ پھر اسی لئے اس نے حمنہ کو واپس لینے کا کیس کر دیا تھا اس پر تاکہ وہ محند کی دکھتی رگ کو دبا کر اسے حاصل کرسکے جانتی تھی چاہے ثمال اس سے الگ ہی کیوں نہ ہوجائے وہ پھر بھی اس سے شادی نہیں کریگا
کیسے ہو مائے ڈئیر ایکس ہزبینڈ۔۔۔۔۔۔۔؟
شمائل کی کھنکتی ہوئی آواز سپیکر سے نکلی تھی
بکواس بند کرو ۔۔۔۔۔
محند اسکے ایکس ہزبینڈ کہنے پر غرایا تھا
اوہ۔۔۔۔۔ تمہیں بھی اچھا نہیں لگتا نہ یہ ورڈ “ایکس”…….؟ہے نہ ۔۔۔۔۔؟تو ایسا کرتے ہیں کہ اس ورڈ کو ہی ختم کر دیتے ہیں ۔۔ کیسا ہے اچھا ہے نہ یہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟
تمہاری ہمت بھی کیسے ہوئی مجھے نوٹس بھجوانے کی ۔۔۔۔۔۔ تمہیں یہ خیال بھی کیسے آیا کہ تم مجھ سے حمنہ کو لے بھی سکوگی ۔۔۔ یو۔۔۔۔۔
محند اسکی بات کو اگنور کرتا چلایا تھا۔۔۔ بہت مشکل سے اس نے خود کو کچھ غلط کہنے سے روکا تھا
کیسا لگا سرپرائز ۔۔۔۔؟؟ یقینا” پسند آیا ہوگا ۔۔۔
بھاڑ میں گیا تمہارا سرپرائز تمہیں کیا لگتا ہے کہ میں تمہیں جیتنے دوں گا ۔۔۔۔محند ہوں میں ۔۔۔۔۔محند ۔۔۔۔۔۔ آج تک مجھے کوئی بھی نہیں ہراسکا
ہمیشہ جیتا ہوں میں ۔۔۔۔ تو تم کیسے سوچ سکتی ہو کہ تم جیسی معمولی سی عورت مجھے ہراپائے گی ۔۔۔۔۔۔۔
ہا ہا ہا ہا۔۔۔۔۔۔۔ محند ڈئیر ۔۔۔۔۔۔۔ تم اس بار لازمی ہاروگے مائے بےبی۔۔۔۔۔ مان۔۔۔۔۔۔!
شمائل اس وقت پارلر گئی ہوئی تھی منہ پر ماسک لگائے وہ دھیرے سے بولی تھی
ناممکن۔۔۔۔۔۔۔!
ممکن ہوگا ڈئیر ۔۔۔۔۔ ممکن ہوگا کیونکہ تمہارے ملک کی عدالت خود اتنی چھوٹی بچی کو اسکی ماں کے حوالے کرے گی اور تم یہ بات خود بھی جانتے ہو محند ڈئیر ۔۔۔۔۔۔ لیکن اگر تم ایسا نہیں چاہتے تو میں خود ہی اسکا حل بھی بتا دیتی ہوں ۔۔۔۔۔۔ شمائل ایک پل کے لئے رکی تھی مگر جب دوسری طرف محند کچھ نہ بولا تو اس نے بات جاری رکھی۔۔۔۔
اگر تم مجھ سے شادی کرلو تو میں یہ کیس واپس لے لوں گی پھر ہم دونوں مل کر اپنی بیٹی کی پرورش کریں گے
شمائل سکون سے بولتی اب اسکا ری ایکشن سننا چاہتی تھی
تمہیں تو میں دیکھ لوں گا ۔۔۔۔۔
محند اسکی بکواس پر بولتا فون کاٹ گیا تھا
شمائل بند کال کو دیکھتی ہنستی چلی گئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فکر کی کوئی بات نہیں بس ایسی حالت میں ایسی کنڈیشن ہو جاتی ہے اور یہ بہت ویک بھی ہیں تو ان کے کھانے پینے کا خاص خیال رکھنا ہے آپ نے اور یہ چند دوائیاں لکھ رہی ہوں میں یہ انہیں کھلا دیجئے گا ۔۔۔۔۔۔
ڈاکٹر پیشہ ورانہ بولتیں اسے حیرت میں مبتلا کر گئیں تھیں حامد انہیں چھوڑتا واپس روم میں آیا تھا جہاں ثمال انجیکشن کے زیر اثر سو ری تھی
او گاڈ ۔۔۔۔ جاناں ۔۔۔۔ جاناں ۔۔۔۔ جاناں ۔۔۔۔ میں بہت خوش ہوں ۔۔۔۔ بہت بہت بہت خوش ہوں تم جانتی ہو میں مامو پلس چاچو بننے والا ہوں۔۔۔
حامد جاناں کو گود میں اٹھائے گول گول گھوماتے ہوئے خوشی سے بولا
واقعی حامد ۔۔۔۔۔ یہ تو بہت خوشی کی بات ہے اس لحاظ سے تو میں بھی مامی پلس چاچی بننے والی ہوں۔۔۔۔
جاناں نے سنا تو وہ بھی اسکی گود سے اترتی خوشی سے بھرپور لہجے میں بولی تھی
اتنی ٹینشن کے ماحول میں اس گڈ نیوز نے انہیں سکون پہنچا دیا تھا
جب محند کو پتہ چلے گا تو وہ کتنا خوش ہوگا نہ ۔۔۔۔؟؟؟
جاناں سوئی ہوئی حمنہ کو ثمال کے ساتھ لیٹا دیکھ کر تجسس سے بولی تھی
حامد کے مسکراتے لب یکدم سکڑے تھے
محند ۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ تو اپنی پہلی بیٹی کی پیدائش پر خوش نہیں ہوا تھا تو کیا اس بار بھی نہیں ہوگا ۔۔۔؟؟
کیا۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟
حامد خود سے بولتا جاناں کے متوجہ کرنے پر ہوش میں آیا تھا اور یہ خبر بی بی جان کو سنانے کی غرض سے جاناں کو ثمال کا دھیان رکھنے کا بول کر بی بی جان کے روم چلا گیا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بی بی جان میں کب سے نوٹ کر رہا ہوں کہ آپ نے آج کل اس جگہ کو ہی اپنا ہجرہ بنا لیا ہے نہ زیادہ بولتی ہیں نہ کھاتی پیتی ہیں ۔۔۔۔۔ یہ سب کیا ہے ۔۔۔۔۔؟؟
حامد روم میں آیا تو ملازمہ کھانے کی بچی ہوئی ٹرے اٹھائے روم سے جا رہی تھی جسے دیکھتا حامد ان سے خفگی سے بولا تھا
تم لوگوں کو کیا لگے میں جیوں یا مروں ۔۔۔۔۔؟؟
بی بی جان سنجیدہ سا بولتیں اپنا رخ موڑ گئیں تھی
لا حولا ولا قوت۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیسی باتیں کر رہیں ہیں آپ بی بی جان ۔۔۔؟؟
حامد کا تو دل ہی دہل گیا تھا
تو کیسی باتیں کروں جب بچے خود سے ہی فیصلے کرکے اس پر عمل کرنے لگ جائیں اور مجھ سے پوچھنا تو دور بتانا بھی ضروری نہ سمجھیں۔۔۔۔۔۔
بی بی جان نم آواز میں بولیں ۔۔۔۔۔ انہیں گہرا دکھ پہنچا تھا کہ وہ یہاں دکھ سے آدھی ہو رہیں تھیں اور یہ لوگ اپنا ہی پلین بنائے اس پر چل رہے تھے اگر وہ انکی باتیں نہ سنتیں تو انہیں کب پتہ چلنا تھا
مطلب آپ کو سب معلوم ہوگیا ہے ۔۔۔۔۔؟؟
جسکا اسے ڈر تھا وہی ہوا تھا بی بی جان کو دکھی دیکھ کر حامد اپنا سر جھکا گیا
بی بی جان ثمال آپ کے خفا ہونے پر دلبرداشتہ ہوگئی تھی اور پھر اس نے دراب خان کے بارے میں انہیں بتایا کہ کیسے وہ ثمال کو ملا اور کیا کیا جھوٹ گھڑا تھا
بی بی جان یہ سن کر آگ بگولا ہو گئیں
اللہ غارت کرے اس خبیث کو ظلم ہم پر کیا اس نے اور اب مظلوم بننے کی کوشش کر رہا تھا یہ سفاک انسان ۔۔۔۔۔۔۔
بی بی جان وہی تو دیکھیں آپ کو کتنا غصہ آیا اگر ثمال آپ کے سب بتا نے اور اسکی والدہ کی آپ کے ساتھ باتیں نہ سن لیتی تو شائد دراب خان کی باتوں میں آجاتی ۔۔۔ وہ تو اچھا ہوا کہ پارلر سے واپسی پر وہ اپنے والدین کے گھر ان سے ملنے چلی گئی اور پھر اس نے آپ دونوں کی باتیں سنیں وہ بہت ٹوٹ چکی تھی بی بی جان یہ سب اسکے لئے بہت بڑا تھا کہ وہ جن کو اپنے والدین مانتی آئی تھی وہ اسکے والدین تھے ہی نہیں بلکہ اسکے والدین تو ظالم تھے قاتل تھے ۔۔۔۔۔۔۔
بی بی جان اس انکشاف پر حیران رہ گئیں
پھر بس جب وہ گھر آئی تو اس نے محند کو قسمیں وعدے دے دے کر اسے اس پلین میں راضی کیا کیونکہ محند نے اس بتا دیا تھا کہ دراب خان کے پاس وہ فائل ہے جو یہ ثابت کردے گی کہ سلطان خاندان کا قاتل دراب خان اور اسکے بیٹے تھے تو پھر وہ آپ پر یہ ثابت کرنے کے لئے کہ وہ بے شک دراب خان کا خون ہے مگر وہ
آپ کے ساتھ ہے اسی لئے اس نے وہاں جاکر وہ فائل لانے کا پلین بنایا تھا ۔۔۔۔ محند تو راضی ہی نہیں ہو رہا تھا بی بی جان لیکن ثمال کی ضد اور بار بار رونے سے تنگ آکر اس نے اسے صرف تین یا چار دن تک وہاں رہنے کی اجازت دی تھی کیونکہ اس سے زیادہ وہ اسے وہاں چھوڑ نہیں سکتا تھا
بی بی جان ثمال کا خیال سن کر تھوڑی شرمندہ بھی ہوئیں تھیں کیونکہ انکے اکھڑے برتاؤ کی وجہ سے ہی تو ثمال کو لگا تھا کہ وہ اس سے اب نفرت کرنے لگیں ہیں کیونکہ وہ دراب خان کا خون تھی
پھر وہ آپ کی چڑیل شمائل ایکس بہو کی تشریف آوری ہوگئی جو انکے بیچ لڑائی کا موقع دے گئی جس سے محند اسے گھر سے نکال چکا تھا یہ جانتے ہوئے کہ دراب خان کا آدمی ثمال پر نظر رکھے ہوئے تھا تو بس پھر آگے یہ ہوا کہ سارے کئے کرائے پر پانی پھر گیا
حامد انہیں مزید بتاتا پر تجسس سا بولتا رک گیا
کیا مطلب کیا ہوا۔۔۔۔۔۔؟؟؟
پھر یہ کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ حامد انہیں ساری بات بتاتا چلا گیا اور بی بی جان منہ پر ہاتھ رکھتی حیرت سے سننے لگیں تھیں
اللہ۔۔۔۔۔ یہ تو بہت برا ہوا ۔۔۔۔۔۔
بی بی جان کو بھی سب سن کر بہت دکھ ہوا تھا اور محند پر غصہ بھی کہ شمائل کا سارا غصہ اس نے ثمال پر نکال دیا ۔۔۔ ٹھیک ہے اس سے غلطی ہوگئی بچی ہے وہ ۔۔۔۔ اسکے لئے یہی کافی ہونا چاہیے تھا کہ وہ اپنی جان جوکھم میں ڈال کر وہاں گئی تھی صرف اسکے لئے اور اسی نے اسے بے عزت کردیا
حامد نے انہیں وہ سب بتا دیا جو اسے محند سے معلوم ہوا تھا
ہمممم۔۔۔۔۔۔۔
بی بی جان آپ یہ چھوڑیں آپ کو میں بتا نے کیا آیا تھا اور بتا کیا رہا ہوں ۔۔۔۔۔۔
حامد کچھ یاد آنے پر خوشی سے انکے برابر آکر بیٹھا تھا
بی بی جان آپ پھر سے پردادی بننے والی ہیں ۔۔
حامد نے انہیں آخر سرپرائز دے ہی دیا تھا
کیا ۔۔۔۔۔۔ واقعی ۔۔۔۔۔ چلو یہ بھی اچھا ہوا کہ تم بھی باپ کے عہدے ہر فائز ہونے جارہے ہو
بی بی جان اسکے سر پر ہاتھ پھیرتی خوشی سے چور بولیں تھیں
ارے ہمارے ایسے نصیب کہاں ابھی۔۔۔۔۔۔۔
حامد دکھی لہجے میں بولتا بی بی جان کو چونکا گیا
کیا مطلب تم نہیں تو پھر ۔۔۔۔۔۔۔۔؟
کیا ۔۔۔۔۔۔؟؟؟
مطلب محند اور ثمال۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟
بی بی جان سے خو شی میں کچھ بولا ہی نہیں جارہا تھا
جی بی بی جان آپ سہی سمجھیں ۔۔۔۔۔
حامد ان کے شک پر یقین کی مہر لگاتا اس بات کی تصدیق کر گیا تھا
بی بی جان خوشی سے بھریں تشکر سے سجدے میں چلی گئیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محند جب گھر لوٹا تو رات کے بارہ بج رہے تھے شمائل سے فون کال پر بات کرنے کے بعد وہ سیدھا مشہور اور مہنگے ترین لائیر کے پاس گیا تھا جہاں اس نے امید تو بہت دلائی مگر اس نے بھی وہی بات کی تھی کہ قانون کے مطابق اتنی چھوٹی بچی ماں کے پاس ہی جاتی ہے ۔۔۔۔ جسے سن کر محند اسے سرد انداز میں دھمکاتا یہ باور کروا آیا کہ اگر وہ یہ کیس ہارا تو اسکا کیرئیر تباہ کردے گا
محند روم میں داخل ہوا تو خالی کمرہ اسے منہ چڑا رہا تھا
اندر آتے ہی اسے اپنی کی گئی ثمال پر زیادتی یاد آئی تھی مگر ابھی بھی اسکا غصہ اترا نہیں تھا اور وہ ثمال کا یوں روم سے چلے جانے پر اپنی انا کا مسئلہ بناتا واشروم گھس گیا تھا
ثمال کو جیسے ہی ہوش آیا اور جب حامد نے اسے خوشخبری کے بارے میں بتایا تو وہ خاموش سی ہوگئی اس نے اس خبر پر کوئی ردعمل نہیں دیا تھا بلکہ حامد کو منع کردیا تھا کہ وہ ابھی یہ بات محند کو نہیں بتائے گا اور پھر وہ حمنہ کو گود میں اٹھائے گیسٹ روم میں شفٹ ہو گئی تھی اور اب جب اسے محند گاڑی کا ہارن سنائی دیا تو ایک بار پھر سے اسے وہ سب یاد آیا تھا جو محند نے اس سے زہر اگلا تھا ایک بار پھر سے اسکی آنکھیں برسنا شروع ہوگئیں تھیں ۔۔۔۔۔۔۔
ناراض سہی لیکن اسے یہ کہیں امید تھی کہ وہ اسے منانے آئے گا لیکن جب سوئی نے تین کا ہندسہ پار کیا تو ثمال ایک فیصلہ کرتی پھوٹ پھوٹ کر رودی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *