Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode30

Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode30

محند حمنہ کو ملازمہ کے ہاتھ سونپ کر اپنے روم میں کب سے بند ہوگیا تھا ۔۔۔۔
جب سے وہ ثمال کے گھر سے اس سے مل کر آیا تھا عجیب سی بے چینی نے اسے گھیر رکھا تھا دل تھا کہ رک سا رہا تھا یوں لگتا جیسے وہ کچھ پیچھے چھوڑ آیا ہے کچھ بہت ہی خاص ۔۔۔۔۔۔!!
اسے شدت سے شراب کی طلب ہو رہی تھی مگر یہاں کہاں ملنی تھی اسے اب۔۔۔۔ وہ تو کب کا شراب پینا چھوڑ چکا تھا ۔۔۔۔ جب سے ثمال نے اسکے دل کو اپنی قید میں کیا تھا تب سے اس نے اس حرام شے کو منہ لگانا چھوڑ دیا تھا
جیب سے سگریٹ لگا کر اس نے اپنے لبوں سے لگائی تھی اور ساری رات پوری ڈبی ختم کرنے کے باوجود وہ اضطرابیت میں گھرا رہا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ثمال کیا ہوگیا ہے بھئی کیوں ایسے کر رہی ہو ۔۔۔۔۔ آنٹی نے مجھے سب بتا دیا ہے ۔۔۔۔۔ تم تو بہت سٹرونگ تھی ثمال تو پھر کیوں گدھے کی باتوں کو سر پر سوار کر رہی ہو ۔۔۔۔ اپنی حالت کے بارے میں تو سوچو ۔۔۔۔۔
حامد کو ثمال کی والدہ نے فون پہ سب بتا دیا تھا کہ کیسے محند کو انہوں نے بلوایا تھا یہ چیک کرنے کے لئے کہ جو وہ سوچ رہیں تھیں وہ کتنا صحیح ہے مگر ان دونوں کی لڑائی نے انکے ہر واظمے پر یقین کی مہر لگا دی تھی ۔۔۔۔ ابھی ہی ثمال کو ہوش آیا تھا تو انہوں نے حامد سے بات کرنے کے بعد ثمال کو فون پکڑایا اور اس پر ناراضگی بھری سرد نگاہیں ڈال کر وہ باہر چلی گئیں
حامد جس نے ثمال کی خیر خبر لینے کے لئے اسے فون کیا تھا اتنا سب سن کر تو وہ جھٹکوں کی زد میں آگیا ۔۔۔۔۔ محند نے اسے ایسا کہا تھا اسے تو یقین ہی نہیں ہو رہا تھا
جاناں کیسی ہے ۔۔۔۔۔۔۔؟؟
ثمال اسکی باتوں کو اگنور کرتی اس سے جاناں کے متعلق پوچھنے لگی
وہ تو ٹھیک ہی ہے اسے کیا ہونا ہے اور تم میری بات کو اگنور کرنے کی کوشش تو بلکل بھی مت کرو ۔۔۔۔۔۔
حامد سمجھ گیا تھا کہ ثمال اس کی بات کو اگنور کر رہی ہے ۔۔۔
اگر سمجھ گئے ہیں تو پھر پلیز اس ٹوپک پر مزید کوئی بات مت کیجئے گا اب۔۔.
ثمال سنجیدہ سی بولتی حامد کو بدلی بدلی سی لگ رہی تھی
اسکے بعد پھر حامد نے اس سے ایسی کوئی بھی بات کرنے کی کوشش نہیں کی تھی ۔۔۔۔۔۔ اسے ثمال پر بہت ترس آرہا تھا کہ اتنی ہنستی مسکراتی لڑکی کو کیسے محند نے سنجیدہ عورت کے روپ میں ڈھال دیا تھا کہ وہ اپنا وجود ہی کھو بیٹھی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محند نے ساری رات جاگتے ہوئے گزاری تھی پھر کہیں جاکر اسکی فجر کے وقت آنکھ لگی تو اسکے کانوں میں عجیب سے شور نے حملہ کردیا تھا
اففف۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اوندھا پڑا سر اس نے تکیے سے اٹھا کر ادھر ‘ادھر گھمایا تو دائیں طرف ہی حمنہ بیڈ پر لیٹی پاؤں مارتے ہوئے گلا پھاڑ پھاڑ کر رو رہی تھی
اسکی آنکھیں پٹ سے پوری کھلیں تھیں ۔۔۔۔۔ پہلے تو وہ اسکی موجودگی کو حیرانی سے دیکھ رہا تھا کہ آیا وہ سچ میں اسکے بیڈ پر ہے…؟؟ کیونکہ کسی بھی ملازم میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ اس کے منع کرنے کے باوجود وہ اسے اسکے روم میں چھوڑ جائے ۔۔۔۔۔۔۔ لیکن جب اسکے سر میں اٹھتی دردکی ٹیسوں نے اسے کراہنے پر مجبور کیا تو اسے یقین کرنے میں ایک لمحہ نہیں لگا کہ وہ سچ میں اسکے ساتھ اسکے بیڈ پر موجود ہے ۔۔۔۔۔۔
واٹ دا ہیل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کس کی اتنی ہمت جو اسے میرے سر چھوڑ گیا
محند بیڈ پر سے اترتا چلاتے ہوئے ملازمہ کو آوازیں دینے لگا
کیا تکلیف ہے آپ کو جو اس طرح شور مچا کر سب کو ڈسٹرب کر رہے ہیں ۔۔؟؟
بی بی جان اسکے اس طرح سے شور مچا نے پر ملازمہ کو رکنے کا اشارہ کر تیں جو روم میں آئیں تھیں
ڈر کر آگے بڑھتی ہوئی ملازمہ تو سرپٹ واپس پلٹ گئی تھی کہ کہیں بی بی جان کا ارادہ نہ بدل جائے اور اسکی اس وقت محند سے اچھی خاصی ڈانٹ نہ پڑ جائے
آپ۔۔۔۔۔۔ ؟؟
اوکے ۔۔۔۔۔ اسے کس نے میرے روم میں میں رکھا ہے ۔۔۔۔۔؟؟؟
محند انہیں اپنے روم میں آتا دیکھ کر ان سے اونچی آواز میں جھنجھلاتے ہوئے بولا ۔۔۔۔۔ ایک تو ساری رات وہ سو نہیں سکا تھا ۔۔۔۔۔ رہ رہ کر اسے پتہ نہیں کیوں ثمال کی فکر ہو رہی تھی ۔۔۔۔ اور پھر جب اسکی آنکھ ابھی لگی ہی تھی کہ حمنہ نے اسکے کان میں راگ الاپنے شروع کردیے تھے
آہستہ آواز میں بات کرو دن بدن تمیز بھولتے جارہے ہو ۔۔۔۔۔۔۔ اور یہ ۔۔۔۔؟؟
بی بی جان اسے ڈانٹتیں حمنہ کی طرف اشارہ کرنے لگیں
اسے تم ہی لیکر آئے ہو نہ تو اب باپ بن کر سنبھالو بھی ۔۔۔۔۔۔۔
بی بی جان دو ٹوک بول کر اسے کچھ بولنے کا موقعہ دیے اپنی سنانے کے بعد چلی گئیں اور پیچھے محند کھڑا اپنا سر پکڑے حمنہ کو گھور رہا تھا
بلکل اپنی ماں پر گئی ہے اس نے بھی میرا جینا حرام کیا ہوا ہے ۔۔۔۔۔!!
محند اسے ثمال کے بارے میں کہتا دھپ سے بیڈ پر گرنے کے انداز میں گرا تھا
اب اسے ہی کیسے بھی کرکے اس آفت کی معصوم پڑیا کو خاموش کرانا تھا جو اسکے لئے تو کے ٹو کا پہاڑ سر کرنے کے مترادف تھا۔۔۔۔ بلکہ وہ بھی اس سے آسان تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاناں مزے سے بلینکٹ اوڑھے لیٹی گہری نیند میں سو رہی تھی جبکہ حامد نے جب سے ثمال سے فون پر بات کی تھی وہ ڈسٹرب سا بیٹھا ہوا جاگ رہا تھا۔۔۔۔ جہاں اسے محند پر غصہ آرہا تھا وہیں اس پر ترس بھی آیا تھا کہ وہ غصے کے چکر میں اپنا ہی گھر برباد کرنے پر تلا ہوا ہے ۔۔۔۔
اسے تو دیکھو کیسے مزے سے سورہی ہے۔۔۔!
حامد بار بار جاناں کی طرف دیکھ ریا تھا لیکن وہ تھی کہ اسکی بولتی نظروں کو سمجھ ہی نہیں رہی تھی جو اسے کہہ رہیں تھیں کہ تم بھی اٹھو کیونکہ تمہارا شوہر جو جاگ رہا ہے تو تم کیوں سوئی ہوئی ۔۔۔۔۔۔۔ لیکن نتیجہ۔۔۔۔۔۔۔ صفر۔۔۔۔۔۔۔۔۔!
یہ ایسے نہیں اٹھے گی ۔۔۔۔۔۔۔۔
حامد نے ایک ہی جھٹکے سے اس پر سے بلینکٹ اتارا تھا مگر پھر خود ہی برا پھنسا تھا کیونکہ جاناں اپنی تمام حشر سامانیوں سمیت اس پر بجلیاں گرانے لگی تھی
ریڈ کلر کی فل سلیوز نائیٹی میں وہ کھلے بکھرے بالوں کے ساتھ اپنے حسین چہرے کا اس پر بلکل صحیح استعمال کر رہی تھی جو اب بے بس بیچاری سی شکل بنا کر اسے ایسے دیکھ رہا تھا جیسے اس نے پتہ نہیں اس سے کتنا قرضہ ادھار لیاہو اور اب اسے چکانے میں مشکل پیش ہو رہی ہو۔۔۔۔
حامد بے خود سا اس پر جھکنے لگا تھا ۔۔۔۔۔۔ قریب سے اسکا چہرہ اسے اور بھی حسین لگنے لگا
اسکی لمبی پلکیں اس وقت اسکے سرخ اناری گالوں پر اپنا سائیہ کئیے ہوئے تھیں
حامد مزید اس پر جھکتا اسکے ماتھے پر اپنی محبت بھری جسارت کرنے ہی والا تھا کہ اسکے کانوں میں فجر کی اذان کی آواز پڑی تھی ۔۔۔۔۔ اور اس نے ایک دم سے اپنا سر پیچھے کیا تھا
حامد مولوی کی آواز سنتا اس سے دور ہوتا کھڑا اور بغور اذان کی آواز سننے لگا جو اسے نماز کی جانب بلا رہی تھی ۔۔
چلو بھئی جاناں بیگم ۔۔۔۔۔۔۔!
شکر مناؤ اللہ کا کہ جس نے تمہیں بچالیا ورنہ آج تم مجھ سے نہیں بچنے والی تھی
حامد اسکے سامنے سے گزر کر جاتا ہوا رک کر بولا تھا اور پھر وضو کرکے اللہ کے حضور کھڑا محویت سے نماز پڑنے میں مگن ہوگیا کہ لگ ہی نہیں رہا تھا کہ یہ وہی شیطان سا حامد ہے جو ابھی کسی کو تنگ کرنے کے پلین بنا رہا تھا۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محند حمنہ سے جی بھر کر تنگ آچکا تھا
کبھی اسے گود میں اٹھاتا بیٹھتا تو وہ اور زیادہ رونا شروع کردیتی۔۔۔۔۔ محند فورا” سے کھڑا ہوجاتا کیونکہ اسے کھڑا ہونا منظور تھا مگر اسکا چیخنا نہیں ۔۔۔۔۔۔
جب وہ پھر بھی چپ نہ ہوئی تو اس نے اسے اپنے سامنے کیا ۔۔۔۔۔۔۔ ہمیشہ کی طرح اس نے حمنہ کو الٹا اٹھا رکھا تھا ۔۔۔۔۔۔ تو پھر اب بچی بچاری روتی نہ تو کیا کرتی ۔۔۔۔
دیکھو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حمنہ الٹی لٹکی اسکا الٹا چہرہ دیکھتی اپنے رونے میں مگن تھی جب محند نے اسے رازدارانہ اپنی طرف متوجہ کرنے کی کوشش کی
ٹانگوں سے پکڑ کر وہ اسکے تھوڑا نزدیک ہوا تھا لیکن پھر بھی اسکے کان اس سے دور تھے
اگر۔۔۔۔۔۔۔ تم ابھی چپ ہو کر سو گئی تو میں ۔۔۔۔۔
محند سرگوشی میں کہتا خاموش ہوکر آس پاس دیکھنے لگا کہ کوئی سن تو نہیں رہا پھر اسے دیکھ کر کہنے کی ہمت کرنے لگا
تو۔۔۔۔۔۔۔۔ میں تمہیں تمہاری مما کے پاس لے جاؤں گا ۔۔۔۔۔۔ ثمال مما کے پاس۔۔۔۔۔؟؟
کہنے کے ساتھ ہی اس نے سوالیہ ابرو اچکائے کہ منظور ہے یا نہیں ۔۔۔۔۔۔۔ لیکن حیرت انگیز طور پر وہ ایسے چپ ہو کر اسے اپنی گول روتی آنکھوں سے گھور نے لگی جیسے پوچھ رہی ہو کہ جھوٹ تو نہیں نہ بول رہے ۔۔۔۔۔۔ محند کو تو ایسا لگا تھا ۔۔۔۔۔
پکی اسکی پوجارن بن گئی ہو بیٹا۔۔۔۔۔۔ کیسے اسکے نام پر ہی خاموش ہو گئی ۔۔۔۔۔۔۔۔اب چپ کرکے ہی سو جاؤ ورنہ میں اسکے پاس نہیں لے کر جاؤں گا
نہ نہ ۔۔۔۔۔ مذاق کر رہا تھا یار ۔۔۔۔۔۔ پلیز اب پھر سے نہ اپنا بینڈ بجاناشروع کردینا۔۔۔۔۔ اب تو میرے کان بھی بجنا شروع ہوگئے ہیں
محند اسے پھر سے اپنے ساتھ لگاتا ٹہلتے ہوئے کوفت سے بولا اور جیسے ہی اسکی نظر ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے سے گزرتے ہوئے اپنے عکس پر پڑی تو حیرانی سے اپنے آپ کو دیکھنے لگا
دیکھتے ہی دیکھتے اسکے منہ سے فلگ شگاف قہقہ پھوٹ پڑا۔۔
محند کی تو یہ دیکھ کر ہنسی ہی نہیں ضبط ہو پارہی تھی
حمنہ بچاری جو پھر سے رونے کے لئے تیار ہو رہی تھی ایک دم سے اس کے ہنسنے پر چپی سادھ کر اسے دیکھنے لگی جو حمنہ کا الٹا وجود اپنے ہاتھ میں دیکھ کر زور زور سے ہنس رہا تھا
او مائی گاڈ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تم کتنی فنی لگ رہی ہو مائے بے بی ۔۔۔۔۔۔۔۔ ہا ہا ہا ہا ہا۔۔۔۔۔۔۔۔
میں تمہیں ایسے ہی ہمیشہ اٹھاتا تھا کیا ۔۔۔۔۔۔؟؟
صحیح کہتی تھی تمہاری مما مجھے تو جانور کو بھی اٹھانے کا سلیقہ نہ آئے تو پھر انسان کے بچے کو کیسے سیدھا اٹھا لوں۔۔۔۔۔۔۔۔
محند ہنستا ہوا خلا میں کچھ گھورتا ہوا اس بولا تھا اور پھر سر جھٹک کر اسے سیدھا کرنے اسکا چہرہ اپنے سامنے کیا تھا
دونوں ایک دوسرے کو بہت غور سے دیکھ رہے تھے جیسے اپنے سامنے کوئی عجوبہ شے ہو ۔۔۔
حمنہ کی پیاری سی آنکھوں میں نیند کے ڈورے تھے مگر پھر بھی وہ سو نہیں رہی تھی
محند کے دل میں ایک خواہش نے جنم لیا تھا۔۔۔۔۔۔۔ اور پھر اس نے اس پر لبیک کہتے ہوئے پہلی بار اسکی آنکھوں پر اپنے ہونٹ رکھ کر ان پر بوسہ دیا تھا
محند کو اپنی رگوں میں سکون دوڑتا ہوا محسوس ہوا ۔۔۔۔۔۔ اسے اپنی انجانی تشنگی کی پیاس مٹتی ہوئی محسوس ہوئی جسے وہ کبھی بھی سمجھ نہ پایا تھا
تم بہت اچھی ہو بےبی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ محند کو محسوس نہ ہوا کہ وہ بھی ثمال کی طرح اسے کب سے بے بی کہہ کر بلارہا ہے ۔۔۔۔۔
آؤ چلو اب بیڈ پر لیٹ کر دونوں باپ بیٹی سوتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ اور اب کوئی شیطانی نہیں اوکے ورنہ پاپا بھی آپکے ساتھ شیطانیاں کرنے لگ جائیں گے
محند ہنستے ہوئے اس سے بول کر بیڈ پر چت لیٹ گیا اور پھر اسے اپنے بازو پر سے اٹھا کر اپنے سینے پر لیٹا لیا
ایک ہاتھ کا حصار بناتا آنکھیں موندے وہ دوسرے ہاتھ سے اسے تھپک رہا تھا
کچھ ہی دیر میں حمنہ اسکے سینے پر لیٹی سوچکی تھی اور محند بھی اب نیند کی وادیوں میں گم ہو نے لگا تھا
لاشعوری طور پر اسے ثمال کا وہ درد بھرا چہرہ نہیں بھول پارہا تھا جب اس نے اسے اسکی خواہش پوری کرنے کا بولا تھا جیسے وہ بے یقینی سے اسے دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔
محند پریشان بھی ہوچکا تھا کہ اگر وہ اسکے یوں کہنے پر اتنی دکھی ہوگئی تھی تو اس نے خلع کے پیپر بھجوائے ہی کیوں تھے پھر۔۔۔۔۔۔
یہی سوچتے ہوئے وہ حمنہ کی طرف بڑھا تھا اور پھر اسکے پہلے قدم پر ہی اسے حمنہ کو لیکر اپنی زیادتیوں اور کوتاہیوں کا جی بھر کر احساس ہوا تھا
اسے حمنہ سے ثمال کا لمس محسوس ہوا تھا ۔۔۔۔ اسکی خوشبو ۔۔۔۔۔۔۔۔ اسکی شرارتی آنکھیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ اسکی بے سروپا باتیں ۔۔۔.
یہی سوچتے سوچتے وہ بے دھیانی میں مسکراتا ہوا نیند میں ڈوب چکا تھا
صبح کے پانچ بجے جاکر دونوں باپ بیٹی سوئے تھے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری۔۔۔۔۔۔ ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *