Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode23

Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode23

ہائے۔۔۔۔۔ اب آئے گا مزہ جب تمہاری بیوی تمہیں چھوڑ کر میرے پاس آئے گی تو مجھے بہت مزہ آئے گا ۔۔۔۔۔۔ شمائل بھی چھین لی تھی میں نے تم سے اب اسے بھی چھین لوں گا ۔۔۔۔۔ ہر خوشی ہر اس چیز کو تم سے چھین لوں گا جس سے تمہیں سکون نصیب ہو چین ملے۔۔۔۔۔۔
سلمان دبے پاؤں چلتا ثمال سے کچھ فاصلے پر اسکے پیچھے کھڑا دل میں بول رہا تھا
ثمال کو روم میں عجیب سی گھٹن نے گھیر رکھا تھا جس سے تنگ آکر وہ یہاں پر آئی تھی اور سکون کی سانس لی تھی کہ ٹھنڈی ہوا نے اس کی بوجھل طبیعت پر کافی خوشگوار اثر ڈالا تھا لیکن کچھ دیر بعد ہی اسے پھر سے گھبراہٹ ہونا شروع ہو گئی تھی اسے یوں لگ رہا تھا کہ کوئی اسے دیکھ رہا ہے مگر کون ۔۔؟
شائد تم نے مجھے پہچانا نہیں ڈئیر کزن ۔۔۔۔۔
بھاری مردانہ آواز ثمال کے کانوں پر پڑی تو وہ ڈر کر اچھل ہی پڑی
کیا ہوا تم ڈر گئی۔۔۔؟؟
اسکے سراپے کا مکمل جائزہ لیتے وہ بھاری آواز میں بولا
آپ۔۔۔۔۔۔۔؟؟
ثمال جب ڈر کر مڑی تو سلمان عجیب سی نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا اور پھر اسکے ساتھ ریلنگ پر ہاتھ ٹکاتا باہر کی طرف دیکھنے لگا جہاں سے کھیت باآسانی نظر آتے تھے مگر اس وقت اندھیرے کی وجہ سے منظر نا تمام تھے
ڈرو مت مجھ سے کزن میں تمہارا بڑا کزن ہوں تمہارے تائے کا بیٹا ۔۔۔۔۔
اس پر ایک نظر ڈالتا وہ اسکے متوجہ ہونے پر سامنے دیکھ کر بولا کہ وہ سمجھ گیا تھا ثمال اس کی نظروں کو پہچان رہی ہے اسی لئے وہ احتیاط برت رہا تھا تاکہ وہ اسے اعتماد میں لے کر اسے اپنی گرفت میں لے سکے
تائے کا ۔۔۔۔۔۔۔ لیکن میں نے انہیں نہیں دیکھا یہاں ۔۔۔۔۔ کیا کہیں گئے ہوئے ہیں وہ ۔۔۔۔؟؟؟
ہاں وہ اسلام آباد میں ہی رہ گئے تھے کیونکہ انہیں کوئی کام تھا تو ۔۔۔۔۔۔۔ تم بتاؤ تم نے مجھے پہچانا یا نہیں ۔۔۔۔۔؟
اسے بتاتے وہ پھر سے وہی سوال کر بیٹھا
جی ۔۔۔۔۔۔۔ یاد آگیا ہے مجھے آپ محند کی پہلی بیوی کے دوسرے شوہر ہیں ۔۔۔۔۔۔ جو اس شام پارٹی میں آئے تھے
ثمال پتہ نہیں کیوں اس پر طنز کر گئی تھی جس پر سلمان قہقہہ لگا گیا
ہا ہا ہا ہا۔۔۔۔۔۔ بہت کیوٹ ہو تم اور حاضر جواب بھی ۔۔۔۔۔
صحیح کہا تم نے میں اسکی پہلی بیوی کا دوسرا شوہر ہوں ۔۔۔۔۔۔ اور ایک دن اسکی دوسری بیوی کا دوسرا شوہر بھی بنوں گا
سلمان آخری بات دھیرے سے بولا تھا کہ ثمال سن نہیں پائی
جی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ ۔۔۔۔ میں کہہ رہا تھا کہ تم بتاؤ تم نے پورے گاؤن کی سیر ویر کی یا پھر تمہارے سو کالڈ شوہر نے گھر کی بندی بنا کر ہی رکھا ہوا تھا تمہیں۔۔۔۔۔۔
سلمان منہ بناتا محند کے بارے میں تحیر سے بولا جو ثمال کو زرا اچھا نہیں لگا
سلمان بھائی مجھے نیند آرہی ہے میں سونے کے لئے جاتی ہوں آپ بھی سو جائیے پھر کبھی اس موضوع پر بات کریں گے
ثمال اس سے جان چھڑاتی بولی
اوکے فائین ۔۔۔ تم جاؤ مگر یہ یاد رکھنا تمہیں گھمانے میں ہی لے کر جاؤں گا
دوستانہ انداز میں سلمان اس سے جیسے وعدہ لینا چاہتا تھا جس پر ثمال سر ہلاتی مروتا” مسکراتی چلی گئی
اور ساتھ ہی تمہارے شوہر کو بھی۔۔۔۔۔ ہا ہا ہا ہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حد ہوگئی بھئی ایسا بھی کبھی ہوتا ہے کیا ان دونوں نے تو قسم کھا رکھی ہے کہ یہ نہ تو خود چین سے بیٹھیں گے نہ ہی کسی دوسرے کو بیٹھنے دیں گے۔۔۔
حامد کمرے میں ادھر سے ادھر پریشانی سے ٹہلتا اونچا اونچا بول رہا تھا اور اسے یوں چڑیل کے لئے پریشان دیکھ کر جاناں کا دماغ اور بھی گرم ہوتا جا رہا تھا
دیکھو ۔۔۔۔۔۔۔تم پریشان مت ہو وہ دونوں سمجھدار ہیں اپنی پرابلم خود سولو کرلیں گے
جاناں اسکے سامنے آتی اسکا کالر جو پہلے سے ہی ٹھیک تھا درست کرتی پیار سے بولی تھی مقصد اسکا دھیان چڑیل پر سے ہٹانا تھا
اگر حامد پریشان نہ ہوتا تو ضرور اسکے خود سے قریب آنے پر لازمی خوش ہو کر پھولے نہ سما تا مگر ابھی تو وہ ثمال کو لیکر کچھ زیادہ ہی پریشان تھا کہ وہ اکیلی اس سلمان کے ساتھ ایک ہی چھت تلے رہ رہی ہے جو کسی بھی لحاظ سے قابل اعتبار نہیں ۔۔۔
کیسے انکا مسئلہ ہے جاناں یار محند کو تو چھوڑو لیکن ثمال۔۔۔۔۔۔۔
ثمال۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟
جاناں نے ثمال کا نام چبا کر بولا کہ وہ اسکے دانتوں کے نیچے ہو ۔۔۔۔
ہاں ۔۔۔۔۔ ثمال کو میں ایسے نہیں چھوڑ سکتا وہ بہت معصوم ہے یار ۔۔۔۔ اسے کیا پتہ کہ دراب خان کیا چیز ہے میں تو ایسے نہیں بیٹھ سکتا مجھے محند سے دو ٹوک بات کرنی ہی ہوگی ایسے تو پتہ نہیں کیا ہوجائے
حامد اسکا ہاتھ ہٹاتا کمرے سے باہر چلا گیا
اللہ اللہ یہ تو کچھ زیادہ ہی اسکا سگا بن رہا ہے
تمہیں تو میں چھوڑوں گی نہیں چڑیل کہیں کی ایک شوہر ہونے کے باوجود میرے شوہر کو بھی اپنے قابو میں کیا ہوا ہے ۔۔۔۔۔
جاناں کو جی بھر کر طیش آرہا تھا
کچھ سوچ کچھ سوچ جاناں نہیں تو یہ حامد تو گیا سمجھو پھر۔۔۔۔۔۔
بیڈ پر پاؤں پسارے وہ گہری سوچ میں چلی گئی جہاں اسے حامد کو قابو کرنے کا آئیڈیا ملا
یسس۔۔۔۔۔۔۔۔
اب دیکھتی ہوں میں تم کیسے اس چڑیل کو نہیں بھولتے۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محند دیکھو ۔۔۔۔سمجھنے کی کوشش تو کرو یار تم جانتے نہیں ہو کیا وہاں پر سلمان یزدانی ہے ایک نمبر کا فلرٹی ہے وہ ۔۔۔۔ کیا نہیں کرسکتا وہ ثمال کے ساتھ وہاں ۔۔۔۔۔۔ اور کون بچائے گا اسے وہاں جب کوئی اونچ نیچ ہوگئی نہ تو بیٹھے رہنا تم پھر۔۔۔۔
محند حامد کی باتیں سن کر ایک بار پھر وحشت میں مبتلا ہوگیا تھا
یہ سب تقریر تم اس کے سامنے کرو جاکر جسے کوئی عقل ہی نہیں کب کسی کی سنتی ہے وہ جو میری سنے گی ۔۔۔
کیا مطلب ۔۔۔۔۔؟؟
یہ مطلب وطلب تم اسی سے پوچھ لینا اب ہٹو میرے سامنے سے ۔۔۔۔۔
محند اسے دھکا مارتا چلا گیا لیکن حامد منہ کھولے جھنجھلا ہی گیا تھا
اب یہ کیا بکواس تھی
حامد بیڈ شیٹ کی چادر خراب کرتا بولا کہ اب بال نوچنے کی کسر رہ گئی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ثمال کمرہ لاک کئے بیڈ پر کروٹوں پر کروٹیں لے رہی تھی نیند اسکی آنکھوں سے کوسوں دور تھی بے چینی تھی کہ حد سے سوا تھی
اففف پتہ نہیں یہ نیند کیوں نہیں آرہی ہے مجھے ۔۔۔۔۔
زچ آکر وہ جھٹکے سے اٹھی تھی دوپٹہ سائیڈ پر رکھا ہوا تھا کھلے بالوں نے اسکے کندھوں کو ڈھک رکھا تھا
کلمہ طیبہ پڑھتی وہ پھر سے سونے کی کوشش کرنے لگی
تھوڑی ہی دیر میں ثمال نیند میں گم ہوچکی تھی
کوئی کھڑکی سے کود کر اسکے سرہانے آکر رکا تھا اسکی نظریں ثمال کے چہرے کا طواف کر رہی تھیں ہاتھ بٹھا کر اس نے اسکے چہرے پر آتی آوارہ لٹوں کو ہٹایا تھا
بہت ستایا ہے تم نے مجھے ۔۔۔۔۔ اب پورا بدلہ لوں گا تم سے اسکا تیار ہوجاؤ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسکی انگلیاں ثمال کے چہرے کے ایک ایک نقش کو چھو رہی تھیں
ثمال نیند میں تھی کہ اسے عجیب سی گھٹن ہونے لگی تھی چہرے پر کچھ رینگتا ہوا محسوس ہو رہا تھا
ہاتھ بڑھتے ہوئے اب اسکی گردن تک پہنچ چکا تھا ۔۔۔۔ ثمال جو کسی کے شدید لمس پر کسمسارہی تھی فورا” سے اس نے آنکھیں کھولیں تھیں
پورا کمرہ اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا
میں نے تو لائٹ آن رکھی تھی ۔۔۔
ایک خیال سا اسکے زہن میں کوندا تھا اس سے پہلے کہ وہ اٹھ کر لائٹ آن کرتی وہ جو یہ سمجھ رہی تھی کہ وہ سب جو اس نے ابھی محسوس کیا وہ اسکا وہم تھا کیونکہ دروازہ تو اس نے لاک کیا ہوا تھا تو کوئی کیسے اندر آسکتا ۔۔۔۔ مگر یہ اسکی محض خام خیالی تھی جس کا اندازہ اسے ابھی کسی کے شدید عمل سے ہوگیا تھا۔۔۔
کوئی اسکا بلینکٹ ہٹاتا بلکل اس کے نزدیک لیٹ چکا تھا اور اسے اپنی گرفت میں لیتا اپنا چہرہ اسکے بالوں میں چھپا یا تھا
چھ۔۔۔۔۔ چھو۔۔۔۔ چھوڑ۔۔۔۔۔۔ ڑ۔۔ڑڑڑ۔۔۔۔۔ مجھ۔۔۔۔۔ چھھھھ۔۔۔۔۔۔
ثمال کی سانسیں تھیں جو رکنے لگی تھیں خوف سے اسکے پورے جسم میں لرزش شروع ہو گئی تھی یہ خیال ہی سوہان روح تھا کہ اسکی عزت خطرے میں ہے
کیا اس کا فیصلہ جو اس نے یہاں آنے کا کیا تھا غلط ثابت ہونے والا تھا
آواز تھی کہ گلے میں ہی کہیں گم ہوگئی تھی
ٹوٹ ٹوٹ کر سانس لیتی وہ خود کو بے انتہا ازیت میں محسوس کر رہی تھی
ہمت کرکے اس نے چلانا چاہا تھا کہ اسکی یہ مزاحمت بھی اس ظالم شخص نے گھونٹ دی تھی
سیو گلم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!!
شدت بھری گستاخی کرتا وہ اسکے کان میں سرگوشی کر گیا تھا
ثمال جو اب بے ہوش ہونے کے در پہ تھی مانوس سی آواز پر اس کی روتی آنکھیں پٹ سے پوری کھلیں تھیں
دل کو لگا کہ اس نے اسکی آواز سنی ہے ۔۔۔۔۔ جب اسکی نظر چہرے پر پڑی تو حیرانی کے ساتھ ساتھ اسے اس پر بے انتہا غصہ آیا۔۔۔
شرم تو نہیں آتی۔۔۔۔۔۔۔ ایسے کرتا ہے کوئی ۔۔۔۔۔۔ بہت برے ہیں آپ ۔۔۔۔ میں مارڈالوں گی آپ کو ۔۔۔۔
ثمال بے تحاشہ روتی محند کو اپنے نازک ہاتھوں کے مکے مار رہی تھی مگر محند پر تو اسکا کیا اثر پڑنا تھا الٹا وہ مسکراتا ہوا اسے دیکھنے لگا کیسے کیسے وہم و اندیشے نہیں تھے جو اسے نہیں آئے تھے
بہت کوشش کرنے کے باوجود بھی وہ خود کو یہاں آنے سے روک نہیں سکا تھا
بہت گندے ہیں آپ جان نکال دی میری ۔۔۔۔۔۔ میں تو بس مرنے وال۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ششش۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محند نے اسکے ہلتے لبوں پر اپنا ہاتھ رکھا تھا
اسکی زمے دار بھی تم خود ہی ہو ۔۔۔۔ کس نے کہا تھا یہاں آؤ ۔۔۔۔۔۔ ہاں۔۔۔۔۔ بہت بڑی بنتی ہو تم میرا جانا ضروری ہے ایسے ہم اپنے مقصد میں کامیاب ہو جائیں گے نہیں تو کبھی بھی دراب خان کو سزا نہیں دلا سکے گیں ۔۔۔۔۔
محند اسی کی طرح آواز بنانے کی کوشش کرتا اسکی نقل اتار رہا تھا کہ ثمال اسکے منہ کے اسٹائل پر روتے میں ہنسنے لگ گئی
ہا ہا ہا ہا۔۔۔۔۔۔۔۔ آپ کتنے کیوٹ لگ رہے ہیں
اسکے گال کھینچتی وہ ہنستے ہوئی بولی ۔۔۔۔۔ محند اسکے ہاتھ ہٹاتا اسکا سر سینے پر رکھ گیا اور اسکے بالوں میں انگلیاں چلانے لگا
ثمال جسے بے چینی نے جب سے پریشان کر رکھا تھا اب سکون سے اپنی آنکھیں بند کر گئی تھی
اب مجھے پوری رپورٹ دو اول سے آخر تک ۔۔۔۔۔
محند اس کہتا اسکے بالوں کو ہوا میں اڑا نے لگا
ابھی کیا رپورٹ دوں آج تو پہلا دن تھا تو کچھ نہیں کیا کچھ دن تو لگیں گے مجھے یہاں ۔۔۔۔ اب اتنی جلدی تو نہیں کچھ ہوسکتا نہ۔۔۔
آنکھیں موندے ہی اس نے بھاری آواز میں جواب دیا تھا وہ پھر سے نیند میں جا رہی تھی
کیا مطلب ہے تمہارا تم کچھ نہیں کرسکی ۔۔۔۔۔ کیا کرنا چاہتی تھی تم اس سلمان کے ساتھ۔۔۔۔
محند تو اسکی بات سن ہتھے سے ہی اکھڑ گیا اسے بالوں سے ہی سختی سے پکڑ کر اسکا چہرہ اونچا کرکے رخ اپنی طرف کیا تھا اور خونخوار نظروں سے اسے دیکھتے غرایا تھا
آئییییییی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اللہ جی کیا کر رہے ہیں آپ چھوڑیں ۔۔۔۔۔۔۔ ہو کیا گیا اچانک آپ کو۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ثمال کا چہرہ محند کے چہرے سے مس ہورہا تھا لیکن اس وقت وہ صرف درد ہی محسوس کر رہی تھی
کیا ہوا ہے۔۔۔۔۔؟؟ تم مجھے کہہ رہی ہو کہ تم اس چھچھوندر کے ساتھ کچھ نہیں کر پائی اور کہہ رہی ہو کیا ہوا ہے ۔۔۔۔۔۔
بالوں کو زوردار جھٹکا ملا تھا ثمال کو مگر جو جھٹکا محند کی ہوش اڑا نے والی بات نے دیا تھا وہ اس جھٹکے سے کافی بڑا تھا
کیااااااا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟
ثمال تو چیخ ہی پڑی
میں نے کیا کرنا تھا اس کے ساتھ ۔۔۔۔۔؟ آپ ہوش میں بھی ہیں کہ نہیں ۔۔۔۔۔۔۔ لگتا ہے پھر سے شراب پینا شروع کردیا ہے آپ نے جو ایسی بے ہودہ باتیں کر رہے ہیں
اب غصہ کرنے کی باری ثمال کی تھی اور وہ زور زور سے بولتی محند کے بال پکڑ کر کھینچنے لگی
واہ واہ واہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ میں شراب پینے لگ گیا ہوں اور تم ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟ تم کیا لینے لگ گئی ہو جو شوہر کے ہوتے ہوئے چھچھوندر جیسے شخص کے ساتھ اسکے گھر میں رہ رہی ہو ۔۔۔۔۔
محند کہاں چپ رہنے والا تھا سارا غصہ ہی اس بات کا تھا
اور آپ اپنی پیاری معصوم بیوی کے ہوتے کسی دوسری چڑیل جیسی عورت سے کسی لیتے ہوئے نہیں گھبراتے کہ قیامت والے دن اللہ آپ کے اس گال کو دوزخ کی آگ میں دہکے چمٹے سے کھینچیں گے ہاں۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟
ثمال اس انداز سے بیٹھتی جیسے کسی شکار پر شیر جھپٹتا ہے اسکے گریبان کو کھینچتی بولی تھی
اور تم جو کسی کمنیے کی آنکھوں کو خوراک دے رہی ہو یہاں رہ کر اس سے تم نہیں گھبراتی کہ تمہارا اللہ کیا حشر کریں گے
محند اسے دھکا دیتا اب ثمال والی پوزیشن میں آچکا تھا
مجھ پر الزام مت لگا ئیں آپ نہیں تو میں نے چھوڑنا نہیں ہے ۔۔۔۔ میں نے کب اسے کسی کرنے دے جو آپ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محند کی چلتی زبان کو تب بریک لگی جب محند غصے سے بپھرا اس پر جھکا تھا اور اسے اپنے سخت عمل سے ہی باور کروا دیا کہ وہ کیا غلط بول گئ تھی
ظاہر سی بات تھی محند کہاں یہ برداشت کر سکتا تھا کہ سلمان اسے۔۔۔۔۔۔ اسے جیسے وہ منظر اپنی آنکھوں کے سامنے ہوتا نظر آیا تو وہ طیش میں یہ سب کر گیا
وہ تمہیں اپنے وجود کے کسی حصے سے چھو تو کیا اگر دیکھے گا بھی نہ تو اسکے اس حصے کو ہی میں آگ لگا دوں گا
محند اسکا منہ دبوچتا کھولتے لہجے میں بولا کہ ثمال کو اپنی جان نکلتی ہوئی لگی
واؤ ۔۔۔۔۔۔ فینٹیسٹک ۔۔۔۔۔ امیزنگ۔۔۔۔۔۔۔۔
اور بھی کوئی سین میں ڈائیلاگ ہے تو وہ بھی بول دو میں ریکارڈ کر رہا ہوں۔۔۔ لیکن ہاں قسم سے میں نے کچھ بھی نہیں دیکھا ۔۔۔۔۔ صرف سنا ہے وہ بھی تم لوگوں نے صرف زہر ہی اگلا ہے قسم سے تم لوگ بھی عجیب ہو عمل کچھ کر رہے ہو اور بول کچھ رہے ہو ۔۔۔۔
محند اور ثمال ایک دوسرے کو ہی دیکھے رہے تھے کہ انکے کانوں میں کسی کی شوخ سی آواز گونجی تھی جس پر محند تو ایک پل ٹھٹھک کر آرام سے سیدھا ہو بیٹھا تھا مگر ثمال تو اپنی پوزیشن اور اسکی اس وقت موجودگی پر سٹپٹا ہی گئی تھی
حامد بھائی آپ ۔۔۔۔۔۔۔؟؟
دوپٹے سے خود کو چھپاتی وہ حیرانی سے بولی
جی میں وہ تو شکر ہے کہ میں ہی ہوں ورنہ جس حصاب سے تم لوگ چلا کر جو بول رہے تھے نہ کسی نے تو لازمی آجانا تھا اور تم لوگوں کا بھانڈہ پھوٹ جانا تھا لیکن مجھے تو لگتا ہے کہ سب نے بھانگ پی رکھی ہے جو ٹلی ہو کے سو رہے ہیں ۔۔۔۔۔
حامد جب بولنے پر آیا تو بولتا ہی چلا گیا تھا
لیکن خیر ۔۔۔۔۔۔ مجھے تم دونوں یہ تو بتاؤ کہ یہ چکر کیا ہے ۔۔۔۔۔۔ ویسے میں سمجھ تو گیا ہوں مگر پھر بھی مجھے الف سے لیکر ے تک سب کہانی رٹو طوطے کی طرح سناؤ ۔۔۔۔ چلو شاباش۔۔۔۔۔۔۔
صوفے پر بیٹھتا پاؤں ٹیبل پر رکھے موبائل جیب میں رکھتا وہ بولا تھا اور نظریں ثمال پر جما لیں تھیں جو اب ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑی نظریں جھکائے کھڑی تھی یہ سوچ کر کے پتہ نہیں حامد بھائی کب سے یہاں تھے اور ہمیں پتہ بھی نہیں چلا ۔۔۔۔۔۔
محند ایک نظر اسے گھوری ڈالتا کھڑکی کے سامنے کھڑا ہوگیا جو اب کھلی ہوئی تھی کیونکہ حامد یہیں سے تو آیا تھا
اچھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!
ویسے آئیڈیا تو تمہارا صحیح ہے ۔۔۔۔مگر سیکیور نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔۔
حامد ساری کہانی سننے کے بعد سراہتے ہوئے بول رہا تھا مگر جب محند نے اسے گھورا تو اسے سرزنش بھی کی کہ محفوظ تو بلکل بھی نہیں ہے وہ۔۔۔۔۔
لیکن اسکے بغیر کوئی چارہ بھی تو نہیں نہ حامد بھائی۔۔۔۔۔۔
ثمال بے چارگی سے بولی
ہاں ں ں ں۔۔۔۔ اب یہ بھی۔۔۔۔۔ ٹھیک ہے۔۔۔۔
لیکن آپ یہاں کیا کر رہے ہیں ۔۔۔۔؟؟
ثمال اسکی یہاں آنے کی وجہ پوچھنے لگی
وہ میں تمہیں لے کر ٹینس تھا کہ پتہ نہیں تم کیسی ہوگی تو تمہیں دیکھنے آیا تھا
حامد اسکے پاس آتااسے دیکھ کر بولا
دیکھنے کے لئے میں کافی ہوں تم اپنی والی کو دیکھو تو بہتر ہوگا
محند یکدم اسکے اور ثمال کے بیچ آیا تھا اسے حامد کا ثمال کے لئے پریشان ہوکر یہاں آنا بلکل بھی اچھا نہیں لگا تھا اسکے لئے وہ ہی کافی تھا
اپنے والی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مطلب حامد بھائی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟
ثمال ناسمجھی سے اسے دیکھ کر بولی
وہ کچھ نہیں تم چھوڑو یہ کچھ بھی بولتا رہتا ہے
حامد اسکے ایکدم سامنے آنے سے اسے گھورتا اور من ہی من ہنستے پھر سے بیٹھنے والا تھا کہ دروازہ پر دستک ہونے لگی
یہ کون آگیا اس وقت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟
محند ثمال کو گھورتا اس سے بولا
کیا مطلب آپ کا ۔۔۔۔۔۔؟ آپ مجھے کیوں دیکھ رہیں ایسے کیا میں نے بلایا ہے کسی کو جو مجھے ایسے کھا جانے والی نظروں سے دیکھ رہے ہیں ۔۔۔۔
ثمال اب بے حد چڑ چکی تھی کہ کچھ زیادہ ہی محند پوزیسیونس دکھا رہا تھا اسے لیکر جیسے دو جسم ایک جان کی مانند وہ دونوں کوئی لور ہوں ۔۔۔۔۔ مطلب کہ حد ہی ہوگئی بھئی۔۔۔۔
تو پھر کون ہے باہر اس وقت رات کے دو بجے ۔۔۔ ہاں۔۔۔۔
آہستہ آواز میں محند نے اسے طیش سے دیکھا تھا
مجھے کیا پتہ کہ کون ہے ۔۔۔۔ میں کیا کوئی جادوگرنی ہوں جو بتادوں گئ باہر کون کھڑا ہے
ثمال بھی دھیرے سے بولتی حامد کے پاس آئی تھی
حامد بھائی پلیز انہیں لیکر یہاں سے جائیں ورنہ سارا بھانڈہ پھوٹ جائے گا
ثمال اسے چھوڑ حامد سے التجا کر رہی تھی کیونکہ وہ کوئی بھی غلطی نہیں کرنا چاہتی تھی جس سے سارا پلین ہی خراب ہو جائے لیکن محند کو اسکا اس طرح اس سے ہٹ کر حامد کے پاس جانا ناگوار گزرا تھا
ثمال ۔۔۔۔۔؟؟ دروازہ کھولو۔۔۔۔۔۔۔
ثمال۔۔۔۔۔؟؟
حامد نے چار قدم لئے ہی تھے کہ دروازے کے پار سے سلمان کی پریشان سی آواز آئی
اسکی تو میں ۔۔۔۔۔۔ یہ کر کیا رہا ہے یہاں میری بیوی کے کمرے میں ۔۔۔۔۔؟؟
محند اسکی آواز سن کر آگ بگولا ہی ہو گیا فورا” سے دروازے کی طرف بڑھا کہ اسے کھول کر اس سے پوچھ سکے ۔۔۔
پوچھوں تو سہی کہ وہ تمہارے کمرے میں اس وقت کیا کرنے آیا ہے
محند حامد کو راستے سے ہٹاتے ہوئے بولا
اوہ بھائی ۔۔۔۔۔۔ ٹھنڈا ہوجا ٹھنڈا کیوں رائتہ پھیلا رہا ہے چلو میرے ساتھ یہاں سے تم۔۔۔۔
حامد اسے روکتا آہستہ سے بولا کہ آواز باہر نہ چلی جائے دوسری جانب سلمان مسلسل دستک دے رہا تھا
ثمال تم ٹھیک تو ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟
سلمان کی آواز پھر سے آئی تھی جو محند کو بلکل اچھی نہیں لگ رہی تھی
دیکھو تو سہی میری بیوی کے لئے کیسے پریشانی کا ناٹک کر رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
دیکھو محند تم چلو اس وقت بعد میں اسے بھی دیکھ لیں گے اور یہ گھر اسکا ہے ہمارا نہیں ہے جو تم اتنا اکڑ رہے ہو وہ کبھی بھی کہیں بھی آ جا سکتا ہے
حامد اسے پھر سے آگے بڑھے دیکھ روک کر بولا تھا
تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ کسی کی بھی بیوی کے کرے میں رات کو آئے ۔۔۔۔۔۔
محند اسے دھکا دیتا چٹخ کر بولا
افف ۔۔۔۔ رکیں ایک کام کرتے ہیں میں دروازہ کھولے بنا سلمان ۔۔۔۔۔۔۔۔
نام مت لو اسکا اپنی زبان سے ۔۔۔۔۔۔۔۔
اس سے پہلے کہ ثمال کچھ کہتی محند نے جب سلمان کا نام اسکے لبوں سے سنا تو اسکا بازو دبوچتے بولا تھا
لو۔۔۔۔۔ لگ گیا عشق کا کیڑا اس بد دماغ کو بھی۔۔۔۔۔۔۔
حامد اسکی حالت پر منہ چھپاتا ہنس رہا تھا
اچھا اچھا بھائی بول ۔۔۔۔۔۔
نہیں ۔۔۔۔۔۔۔ میرا مطلب بھائی تو۔۔۔ اس جیسا ہے مگر تم اسے وہ بولو گی جو میں کہوں گا
محند کچھ سوچتے گردن اکڑاتے بولا
کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
ثمال غور سے اسے دیکھتی پوچھںتی زرا آگے ہوئی تھی کہ پتہ نہیں ایسا بھی کیا کہنا ہے
حامد نے بھی کان لگا لئے تھے
محند نے ایک نظر اسے دیکھا اور پھر ثمال کی آنکھعں میں دیکھتا دو ٹوک انداز میں بولا تھا
چھچھوندر۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!!
ثمال۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
اب کی بار سلمان دروازہ توڑنے پر آگیا تھا
ثمال اور حامد جو منہ کھولے محند کو دیکھ رہے تھے دروازے پر لگنے والی ضربوں کی طرف متوجہ ہوئے تھے
کیا ہوگیا ہے کیوں دروازہ توڑ رہیں ہیں آپ۔۔۔۔۔
ثمال نے محند کا غصہ اس پر نکال دیا
سلمان جو اسکے روم سے چلا نے کی آواز سن کر آیا تھا اور بار بار دستک بھی دی مگر پھر بھی جب ثمال نے کوئی جواب نہ دیا تو وہ تشویش سے دروازہ توڑنے کی کوشش کرنے لگا تھا کہ تبھی ثمال کی جھنجھلاتی غصے بھری آواز اسے آئی تھی
تم ٹھیک ہو میں کب سے کھٹکھٹا رہا ہوں تم کچھ بول ہی نہیں رہی
سلمان لگاوٹ سے بولا وہ اسے یہ بتانا چاہتا تھا کہ وہ اسکے لئے متفکر تھا
میں ٹھیک ہوں آپ جائیں اچھی خاصی سو رہی تھی کہ آپ نے آکر جگا دیا اب مزید مت تنگ کریں مجھے ۔۔۔
لیکن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کہا نہ جائیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ اب آپ کی آواز نہ آئے مجھے ۔۔۔۔۔
اوکے جارہا ہوں۔۔۔۔۔۔
سلمان بیزار سا بولتا کہ کوئی فائدہ نہیں ہوا اتنی محنت کا اوپر سے کندھا بھی توڑ لیا اپنا وہاں سےچلا گیا تھا
بس اب جائیں یہاں سے ورنہ پھر مجھ سے کوئی برا نہیں ہوگا
ثمال محند کی طرف رخ کرتی دانت پیستے بولی تھی جس پر محند نے اسے تمسخرانہ نظروں سے دیکھا جیسے کہہ رہا ہو تم چھٹانک بھر لڑکی میرا کیا بگاڑ لوگی
چلو ۔۔۔۔۔۔
حامد کو بولتا وہ کھڑکی کی طرف مڑا اور ہاں سے اتر کر نکل گیا اسکے پیچھے حامد اسے پر سکون رہنے کا اشارہ کرتے ہوئے خود بھی اتر گیا تھا
ہائے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بیڈ پر گرتی ثمال سر پکڑ کر رہ گئی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *