Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode09

Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode09

پارٹی شروع ہو گئی تھی سارے مہمان زرق برق سے تیار یہاں وہاں ہنستے مسکراتے پھر رہے تھے
حامد مہمانوں سے ملتے دروازے کی طرف دیکھ رہا تھا اسے اکیلے ہینڈل کرنے میں کوفت ہو رہی تھی مگر محند تھا کہ نواب صاحب ابھی تک آہی نہیں رہے ۔۔۔
یہ دیکھو بھلا پورے ترک میں سے نامور بزنس مین آچکے ہیں اور ان کو دیکھو پتہ نہیں کونسی فئر اینڈ لولی لگوارہے ہیں کہ آنے کا نام ہی نہیں لے رہے
حامد بھلا شوخ مزاج بندے کو جب سنجیدگی کا لباس پہننا پڑے تو یہ ویسا ہو جائے گا کہ اچھے خاصے موٹے بندے کو تنگ فٹنگ کپڑے پہنادئے جائیں جس میں وہ سانس بھی نہ لے سکے ۔۔۔۔ یہی حال حامد کا بھی تھا اس وقت ۔۔
اب جب نظر گھما ئی تو نواب صاحب کسی کے ساتھ کھڑے باتیں بھگار رہے تھے
یہ کب آیا ۔۔۔۔۔۔۔؟؟
میں تو کب سے اینٹرینس پر نظر جمائے کھڑا ہوں مگر مجھے تو یہ آتا ہوا نہیں دکھا۔۔۔۔
افف ۔۔۔۔۔۔
حامد نے اب جاکر پر سکون سانس لی کہ چلو اب کم از کم اسے تو کسی کو کمپنی نہیں دینی پڑے گی کیونکہ اب سارے کے سارے محند سلطان کی کمپنی کو ہی ترجیح دیں گے
محند اپنی رعب دار شخصیت کے ساتھ ایک ہاتھ پینٹ میں پھنسائے دوسرے ہاتھ میں وائن کا گلاس اٹھائے ہر کسی پر گہرا اثر چھوڑ رہا تھا
حامد ایک نظر اس کو دیکھتا اسکی طرف چلتا ہوا کسی کو فون ملانے لگا
ثمال جو کب سے تیار ہو چکی تھی اب آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر مسلسل خود کو گھورے جارہی تھی بی بی جان بھی اسکے کمرے میں بیٹھی ہوئ تھیں اور حمنہ بیڈ پر لیٹی کھل کھل کر رہی تھی
بس بھی کردو بچے اب کتنا دیکھو گی کتنی پیاری لگ رہی ہو میں تو کہتی ہوں افعت کہ ایک بار پھر سے اسکی نظر اتارو بھئی ۔۔۔۔ میرا بچہ کتنا پیارا لگ رہا ہے ۔۔۔
بی بی جان اس کو دیکھتے ہوئے پاس ہی کھڑی افعت سے بولیں تھیں
بی بی جان یہ کچھ زیادہ ہی بھڑکیلا نہیں ہے ۔۔۔ میرا مطلب ایسے لگ رہا ہے جیسے میں کوئی فلم کی اداکارہ ہوں ۔۔۔۔
ثمال جھجھکتے ہوئے دھیمے سے بولی
تو کیا ان سے تم کم ہو کوئی بلکہ انکے منہ پہ تو پتہ نہیں کون کون سے ٹیکے لگے ہوتے ہیں ۔۔
بی بی جان ہاتھ اٹھاتے ہوئے بولیں
ہا ہا ہا۔۔۔۔ بی بی جان یہ تو آپ کا پیار ہے
ثمال انکے گلے میں بازو حمائل کئے لاڈ سے بولی
اوہ حامد بھائی کا فون ہے ۔۔۔۔۔۔
فون کی بیل پر اس نے دیکھا تو حامد کی کال آرہی تھی
مرحبا ۔۔۔۔۔۔۔۔ حامد بھائی ۔۔۔۔۔۔!!
ہا ہا مرحبا ۔۔۔۔۔۔ میری چھوٹی سی جان ۔۔۔۔۔۔۔
محند کے پچھلی سائڈ ٹیبل کے سامنے کھڑے ہو کر حامد نے چہکتے ہوئے جواب دیا اسکی پشت بلکل محند کے ساتھ تھی
حامد بھائی کیا پارٹی شروع ہو گئی ۔۔۔۔؟؟
شروع ۔۔۔۔۔؟؟ارے یہاں تو آدھا بھی ہوگیا ہے مگر تم ہو کے آہی نہیں رہی ۔۔۔۔ اور کتنا انتظار کرواؤگی بھئی تم مجھے۔۔۔۔۔
حامد لہجے کو بے چین بناتے اس سے بولا جبکہ محند اسکی آواز صاف اپنے کانوں میں محسوس کر سکتا تھا اور پھر ناگوار نظر اس پر ڈال کر دوبارہ اپنے گیسٹ کی طرف متوجہ ہوا ۔۔۔۔۔
اسے لگ رہا تھا کہ وہ شائد اپنی کسی گرل فرینڈ سے بات کر رہا ہے۔۔۔
حامد بھائی کیا میرا آنا ضروری ہے۔۔۔۔؟؟؟
جہاں بی بی جان نے اسکی وہی رٹ پر اسے خشمگیں نظروں سے گھورا وہیں حامد مصنوئی ناراضگی جتانے لگا۔۔۔
بلکل بھی نہیں ۔۔۔تمہیں صرف میرے لئے آنا ہے سمجھی تم سوئیٹی اور وہی ڈریس پہن کر آنا ہے جو میں نے تمہیں کل شام شاپنگ کراکے دیا تھا اوکے۔۔۔!! میں نے بھی بلکل ویسے کلر کا میچنگ سوٹ پہنا ہے ہاں ٹھیک ہے۔۔۔۔؟؟
جی۔۔۔۔۔۔۔۔
ثمال نے آخر کار تھک ہار کر بات مان ہی لی ۔۔۔
گڈ سوئیٹی ۔۔۔۔ مجھے پتہ تھا تم کبھی بھی مجھے نہ کر ہی نہیں سکتی ۔۔۔۔ اب جلدی سے ڈرائیور کے ساتھ آجاؤ میں تمہیں گیٹ پہ پک کرتا ہوں پھر ہم ساتھ ہی اندر جائیں گے اوکے۔۔۔۔؟؟
حامد نے پیار بھرے لہجے میں ثمال سے کہا مگر ثمال اسکے پیار کو بھائی والا رعب سمجھتی مسکراتے ہوئے اثبات میں سر ہلا گئی
کیا کہہ رہا تھا۔۔۔؟؟
بی بی جان نے اسکے فون بند کرنے کے بعد اس سے پوچھا
وہ کہہ رہے تھے کہ وہ مجھے باہر گیٹ سے پک کر لیں گے پھر ساتھ ہی اندر جائیں گے۔۔۔
ثمال اب تھوڑی ریلیکس ہوئی تھی ورنہ اسے یہ سوچ کر ہی عجیب لگ رہا تھا کہ وہ اس حلیے میں اکیلے کیسے جائے گی اندر۔۔۔
چلو جلدی کرو ڈرائیور کب سے انتظار کر رہا ہے
بی بی جان نے اسے پھر سے شیشے کی طرف بڑھتے ہوئے دیکھ کر کہا تھا
بی بی جان اسکا تو دوپٹہ بھی نہیں ہے اوپر سے کتنا لمبا بھی ہے اور وہاں تو کتنے لوگ بھی ہوں گے میں چینج نہ کر لوں ۔۔۔۔
ثمال نے الجھی نظروں سے بی بی جان کو کہا
بس اب بہت ہوگیا ثمال اب جلدی سے جانے کی کرو ورنہ مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا اب ۔۔ حد ہوگئی پوری تو تم ڈھکی ہوئی ہو اس میں ۔۔۔ وہاں دیکھنا تم کیسے کیسے کپڑے پہن کر لڑکیاں مٹکتے ہوئے ملیں گیں تمہیں۔ ۔۔
بی بی جان اسے ہاتھ سے پکڑ کر باہر کی طرف دھکیلتے ہوئے بولیں ۔۔۔
ثمال بھی اب کی بار چپ کرکے گاڑی میں بیٹھ گئی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اوہ تو تم آگئی لیڈی بیوٹی۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
حامد کھڑا جوس کا گلاس پکڑے ثمال کا ویٹ کر رہا تھا کہ اسے پیچھے سے کسی نے آواز دی اس نے مڑ کر دیکھا تو فاطمہ یزدانی پیچھے کھڑی اسے دیکھتے مسکرا رہی تھی
کیسے نہ آتی دی موسٹ ہینڈسم بیچلر ہاٹ مین نے جو بلایا تھا مجھے۔۔۔۔۔۔
لال رنگ کا سلیو لیس گہرے گلے کے ساتھ چست گاؤن پہنے وہ پارٹی میں آئے مردوں کی مرکز نگاہ بنی ہوئی تھی ۔۔۔۔ اسے گلے ملتے آنکھ دبا کر بے ہودگی سے بولی۔۔۔۔۔
اوہ تو تم ٹائم کیوں ویسٹ کر رہی ہو اپنے بیچلرررر۔۔۔۔۔۔۔ بوائے کے پاس جاؤ نہ یقینا” اسے تمہارا بے چینی سے انتظار ہوگا
حامد اسکے گلے ملنے پر اسے خود سے دور کرتے زبردستی ہنستے ہوئے بولا تھا۔۔۔ وہ جلد از جلد اس بلا سے اپنا پیچھا چھڑانا چاہتا تھا
وہ تو میں مل ہی لوں گی ۔۔۔۔۔۔ تم بتاؤ آخر کس دھماکے کی بات کر رہے تھے تم فون پر اور وہ لڑکی اس دن جو تمہاری ساتھ تھی وہ کہاں ہے مجھے ملواؤگے نہیں اس سے۔۔۔۔۔۔۔۔
حامد کی بات پر اتراتی ہوئی فاطمہ اس سے دھماکے کی بابت دریافت کرنے لگی جو حامد نے فون پر اس سے کہا تھا
دھماکہ تو آج ہی ہوگا ڈیئر اور وہ بھی محند سلطان خود کرے گا یہ دھماکہ۔۔۔۔۔۔۔
حامد پراسرار لہجے میں دور کھڑے وائن کا گلاس ہونٹوں سے لگائے محند کو دیکھتے ہوئے بولا تھا
اور لڑکی سے بھی تم تب ہی لوگی پہلے اسے آنے تو دو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اوہ کہیں محند اس پارٹی میں مجھے پرپوز تو نہیں کرنے والا کہیں۔۔۔۔۔ ؟؟؟
فاطمہ جھٹ خوشی سے اچھلتے ہوئے بولی
ہونہہ۔۔۔۔۔۔۔ کر ہی نہ لے کہیں اس سے شادی۔۔۔۔
حامد ہولے سے بڑبڑایا
اگر ایسا ہے نہ تو میں تو خوشی سے مر ہی جاؤگی
تو جلدی سے مر جاؤ نہ۔۔۔۔۔۔۔۔.
فاطمہ اسے پکڑ کر جوش سے بولی تھی جس پر حامد ہنستے ہوئے اردو میں اس سے بولا تھا جس کی مقابل کو بلکل سمجھ نہیں آئی
اوہ تھینک یو سو مچ۔۔۔۔۔۔
فاطمہ اسکے مبارکباد دینے پر اسے ہوائی بوسہ دیتی فورا” سے محند کی جانب بڑھی تھی جبکہ اسکے جاتے ہی حامد اسکی بے وقوفی پر مشکل سے اپنے قہقہے کا گلا گھونٹ رہا تھا
تبھی اسے فون پر ثمال نے میسج کیا کہ وہ آگئی ہے۔۔۔۔ تو حامد دور کھڑے محند کے ساتھ چپکی فاطمہ کو طنزئیہ دیکھ کر ہنستا باہر نکل گیا ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
واؤ ۔۔
امیزنگ۔۔۔۔۔۔۔
Sen are seyir çok güzel…..
(تم بہت خوبصورت لگ رہی ہو ۔۔۔۔۔)
کیا ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
حامد کا ثمال کے گرد گول گول گھوم کر کہنے پر وہ ناسمجھی سے بولی۔۔۔۔
میں نے کہا تم بہت خوبصورت لگ رہی ہو ثمی یار۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حامد نے اسکے سر پر چپت لگاتے ہوئے کہا جس پر ثمال شرما کر ہنس دی
چلو اب جلدی سے اندر چلو آخر تمہارے سو کالڈ شوہر کو بھی تو ایک حسین تتلی سے ملانا ہے۔۔
حامد نے اسکے آگے اپنا بازو پھیلا کر اسکا ہاتھ اس میں ٹکا کر کہا
مجھے نہیں ملنا ان سے ۔۔۔۔۔۔
ثمال منہ بناتے ہوئے بولی
اوکے اوکے مت ملنا اس سے تم پر میرے ساتھ اندر تو چلو اور سنو اندر ہم دونوں نے کھل کر انجوائے کرنا ہے ۔۔۔۔ بتادو محند کھڑوس کو کہ تمہیں اس کی موجودگی سے کوئی فرق نہیں پڑتا تم اسکے بغیر بھی خوش رہ سکتی ہو ۔۔۔
حامد اندر جانے سے پہلے پلین کے مطابق اس سے بولا
ہاں بلکل میں تو بہت مزے کروں گی جل جل کر نہ مار دیا نہ انہیں تو میرا نام ثمال نہیں ہونہہ۔۔۔۔۔۔
ثمال ناک رگڑتی ادا سے بولی تھی
وہ تو آج ویسے بھی سو فیصد جلنے والا ہے ہا ہا۔
کیا۔۔ ؟؟؟
حامد کے منہ ہی منہ بڑبڑا نے پر ثمال نے اسکی طرف دیکھ کر پوچھا تھا
وہ ۔۔۔ کچھ نہیں اب ایک بات تو تم غور سے سنو میری ۔۔اندر یہ بھائی بھائی مت بولنا تم مجھے بلکل بھی سمجھ آئی ورنہ میں محند کی ٹیم میں چلا جاؤں گا
حامد نے اسے ڈرانا چاہا
نہیں نہیں میں تو نہیں کہوں گی آپ کو کوئی بھائی وائی ۔۔۔۔ لیکن پھر میں آپ کو کیا کہہ کر بلاؤں گی ۔۔۔
ثمال نے فورا” سے اسکی ہاں میں ہاں ملائی تھی کیونکہ اسے حامد بھائی کو کسی بھی قیمت پر اپنی ٹیم میں رکھنا تھا
اممممن۔۔۔۔۔۔۔۔ تم مجھے۔۔۔۔۔. ؟؟؟
sevgilim…..
(Darling)
بولنا تم مجھے ٹھیک ہے اور اسکا مطلب میں تمہیں پہلے ہی بتادوں کہ پیارے دوست کو کہتے ہیں ۔۔۔۔ اور ہاں یہ صرف تم مجھے محند کے سامنے ہی بلانا اور کسی کے بھی نہیں ٹھیک ہے
حامد نے چالاکی سے اسے یہ ورڈ بتایا جس پر ثمال زور سے سر ہلاتی تیار ہو چکی تھی
ٹھیک ہے تو چلیں سیو گلم (sevgilim) مشن محند جلانے پر ۔۔۔۔۔۔
ہا ہا ہا ہا۔۔۔۔ ہاں چلو سوئیٹی ۔۔۔۔۔۔
دونوں ہنستے ہوئے اینٹرینس کی طرف بڑھے تھے۔۔.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محند ڈارلنگ چلو نہ ڈانس کرتے ہیں۔۔۔۔۔
فاطمہ محند کے بلکل ساتھ لگی اس سے ڈانس کرنے کو کہہ رہی تھی مگر مغرور شہزادے کو تو اپنے نخرے اٹھوا نے کی عادت تھی تو وہ ڈھیٹ بنا اسے مزید ترسا رہا تھا
اوہ ۔۔۔۔۔۔۔ تو آہی گئی حامد کی گرل فرینڈ ۔۔۔ ویسے ماننا پڑے گا کہ گرل فرینڈ اسکی واقعی میں بہت خوبصورت ہے ۔۔۔
فاطمہ کی نظر بلاارادہ ہی اینٹرینس پر پڑی تھی کہ اسے حامد کے ساتھ ایک حسین لڑکی آتی ہوئی دکھی تو وہ اسے حامد کی گرل فرینڈ سمجھتے پرجوش سی بولی۔۔۔۔۔۔
محند کے کانوں میں آواز پڑی تو اس نے بھی سرسری سا اس طرف دیکھنا چاہا تھا مگر اسکی سرسری نظر کب وہی کی وہی جم کر رہ جائے گی اسے کہاں پتہ تھا
حامد کے ساتھ ہنستی مسکراتی اسکے ہاتھوں ہیں ہاتھ دئے قریب ہو کے دھیرےسے چلتی پارٹی میں شامل ہوئی تھی
محند اسکی معصوم سی خوبصورتی پر ٹھٹکا ضرور تھا مگر پھر بہت جلد اسکے مبہوت زدہ تاثرات میں غصیلے سلگتے ہوئے تاثرات شامل ہوئے تھے جس سے بے پرواہ وہ حامد کی کسی بات پر کھلکھلاتی اسی کی نظروں کے سامنے سے گزر چکی تھی
وہ دونوں دوسری سائڈ پر ٹیبل کے سامنے کھڑے ہوئے تھے اور کن ا کھیوں سے محند کو جلتا ہوا صاف صاف دیکھ رہے تھے
حامد کو تو خبر تھی کہ محند کس وجہ سے جل بھن رہا ہے مگر ثمال اسی خوشی میں مزید چہکی تھی کہ وہ ثمال کو خوش دیکھ کر برداشت نہیں کر پایا اسی لئے اب اس کو اپنی تیز ترار نظروں سے گھور رہا ہے۔۔۔۔
سیو گلم sevgilim پلین کامیاب ہو رہا ہے ہمارے ٹارگٹ نے تو ا بھی سے جلنا شروع کردیا ہے
ثمال حامد کے ہاتھ پر تالی مارتی چہکتے ہوئے بولی
ہممممم وہ تو ہوگا ہی ۔۔۔۔۔بس۔۔۔۔۔۔
تم آگے آگے دیکھو ہوتا ہے کیا
یہ ہینڈسم کھوتا، کھوتا ہے کیا
ہا ہا ہا ہا ہا۔۔۔۔ کیا۔۔۔۔۔؟؟؟
اپنا ٹیمپر اور کیا۔۔۔۔۔۔۔ ہا ہا ہا ہا۔۔۔
یہ دونوں تو یہاں اپنی باتوں میں مگن ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو رہے تھے مگر وہاں محند انگاروں پر لوٹ رہا تھا اسے ثمال کا یوں بار بار حامد کو چھونا برداشت ہی نہیں ہو رہا تھا
اسکا دل کر رہا تھا کہ وہ اسے گھسیٹ کر یہاں لائے اور پھربتائے کہ کسے چھونا ہے اس نے ۔۔۔
وہ کیسے کسی اورکے ساتھ اتنا قریب جاکر ہنس سکتی ہے ۔۔۔
مٹھیاں بھینچے محند کا ضبط آخری حدوں پر جا رہا تھا جسے اس نے بڑی مشکلوں سے یہ کہہ کر روک رکھا تھا کہ وہ تو ثمال کو طلاق دینے والا تھا تو اس لحاظ سے وہ جو چاہے جس سے چاہے ملے جلے اسے کوئی فرق نہیں پڑنا چاہیے مگر پھر بھی نہ جانے کیوں وہ برداشت نہیں کر پارہا تھا وہ اسی کشمکش میں کھڑا غصے سے کبھی انکی طرف دیکھ رہا تھا تو کبھی دوسری طرف مگر نظریں تھیں کہ پلٹ پلٹ کر ادھر جائے جا رہیں تھیں
چلو نہ ڈارلنگ ڈانس کریں ۔۔. چلو اب۔۔۔۔
فاطمہ کب سے اسکی بے دھیانی نوٹ کر رہی تھی پھر جب برداشت نہیں ہوا تو اسے بازو سے کھینچتے ڈانس فلور پر لے آئی اور اسکے گلے میں بازو حمائل کئے اسکے قریب ہوتے تھرکنا شروع کردیا
ثمال نے جب محند کا جلتا چہرہ دیکھنے کے لئے ترچھی نظروں سے اس طرف دیکھا جہاں وہ کھڑا تھا مگر پھر اسے وہاں نہ پاکر وہ ارد گرد نظر دوڑا نے لگی تھی جب اسے محند کسی لڑکی کے ساتھ ڈانس کرتا ہوا دکھا
ہونہہ ۔۔۔۔ بی بی جان کا گدھا ۔۔۔۔۔
ہاتھ میں پکڑا جوس کا گلاس ثمال نے پٹخ کر ٹیبل پر رکھا جس پر حامد نے اسکی طرف دیکھا جو تیوری چڑھائے ڈانس فلور پر موجود محند کو گھور رہی تھی جو فاطمہ کے ساتھ ڈانس کر رہا تھا
چل کرو بھئی سوئیٹی ۔۔۔۔۔ تم نے اسے جلانا ہے الٹا خود نہیں جلنا ہے اس سے۔۔۔۔۔۔
حامد اسکے تیور سے گھبراتا اسے پر سکون کرنے لگا کہ کوئی پتہ نہیں جاکے فاطمہ کے بال جکڑ کر جڑ سے ہی نہ اکھاڑ دے ۔۔۔ پاکستان میں تو بیویاں ایسا ہی کچھ کرتی ہیں تو وہ ہڑبڑاتے ہوئے اسے ہاتھ سے مضبوطی سےپکڑ کر ٹھنڈا کر رہا تھا
آپ کو کیا ہوا ۔۔۔۔؟؟ اتنا زور سے کیوں پکڑ رکھا ہے مجھے ۔۔۔۔۔
ثمال نے چونکتے ہوئے حامد کی طرف دیکھا جو بوکھلائے تاثرات سےاسے ایسے دیکھ رہا تھا کہ جیسے کسی الگ مخلوق کو دیکھ لیا ہو
چھوڑیں مجھے میں بلکل نارمل ہوں آپ ٹینشن مت لیں اور چلیں ہم بھی ڈانس کرتے ہیں جاکر۔۔
کہتے ساتھ ہی ثمال اسے کھینچتے ہوئے ڈانس فلور پر لے آئی بنا یہ سوچے کہ اسے تو سوائے بھنگڑا ڈالنے کہ اور کچھ بھی نہیں آتا۔۔۔
محند جو فاطمہ کے ساتھ زبردستی بندھا ہوا تھا ثمال کو حامد کا ہاتھ پکڑ کر ڈانس فلور پر لاتے دیکھ اسکی دماغ کی رگیں پھر سے تن گئیں تھیں جو پہلے ہی کافی خطرناک حد تک تنی ہوئیں تھیں
ثمال حامد کے ساتھ ڈانس کرنا شروع کر چکی تھی یا پھر یہ کہا جائے کہ صرف کھڑی ہو کر پاؤں اٹھا کر ہل رہی تھی جس پر حامد اسکے ہونق تاثرات کے ساتھ عجیب ڈانس کرتے ہوئے دیکھ مشکل سے اپنی ہنسی روکے ہوئے تھا
ہا ہائے ۔۔۔۔۔۔ مجھے تو آنا ہی نہیں چاہیے تھا سب کیسے کررہے ہیں ڈانس مجھے تو کچھ نہیں آتا ایسے ہی آگئی میں تو اب قسم سے بہت ہی پچھتاوا ہو رہا ہے مجھے تو۔۔۔۔
ثمال حامد کی مسکراتی نظروں کو سمجھتے ہوئے شرمندہ لہجے میں منہ جھکائے ہی بولی جو وہ کب سے جھکائے ہوئے تھی شرمندگی سے۔۔۔۔
ہاں اب تو واقعی تمہیں پچھتانا چاہیے سوئیٹی۔۔۔۔
حامد غصے سےانکی طرف آتے محند کو دیکھتا ہوا زیرلب بولا تھا جس پر ثمال نے جھٹکے سے منہ اٹھا کر ناسمجھی سے اسے دیکھا تھا
اس سے پہلے کہ وہ کچھ پوچھتی کسی نے بے دردی سے اسکی کمر کو جکڑ کر پیچھے کھینچا تھا
ثمال کے منہ سے اس اچانک افتاد پر چیخ نکل گئی تھی جو تیز میوزک میں کسی کو بھی سنائی نہیں دی تھی۔۔۔.
محند نے اسے ایک ہی جھٹکے میں موڑ کر اسکا رخ اپنی طرف کیا تھا اور اپنے ساتھ بھینچنے کے انداز میں اپنے انتہائی قریب کیا تھا
ثمال نے جب ایسا کرنے والے کی طرف دیکھا تو ڈر سی گئی کیونکہ محند اسکے بے انتہا قریب کہ جس سے ان دونوں کی دل کی دھڑکنیں آپس میں ہی الجھ رہیں تھیں اس کو غصیلی آنکھوں سے گھور رہا تھا
ڈانس کرنا ہے تمہیں۔۔۔۔۔ہونہہ۔۔۔۔؟؟
اپنی انگلیاں اسکی کمر میں دھنساتے اسے تڑپنے پر مجبور کرتے محند اسکے کان کے پاس غرایا تھا
ثمال کو ایک دم سے اس سے خوف آنے لگا تھا
ڈری نظروں سے اسکی طرف دیکھنے کی کوشش کی مگر اسکی شعلے برساتی نظروں کی تاب نہ لاتے وہ آنکھیں بھینچ گئی
اب میں تمہیں بتاتا ہوں کہ ڈانس کیسے کرتے ہیں۔۔۔۔۔!!
اسکا جوڑا کھولتے اپنا منہ اس میں چھپاتے محند نے غصے سے بھری جسارت کی تھی
ثمال کو لگا کہ اسکی گردن پر کسی نے گرم پانی ڈال دیا ہو نم ہوتی بند آنکھوں سے وہ خود کو اس سے چھڑا نے کی کوشش کرنے لگی مگر بے سود مقابل کی گرفت کافی سخت تھی
نہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ ڈانس کرنا تھا نہ تمہیں ۔۔۔۔۔ تو کرو اب ڈانس ۔۔۔۔
کسمساتی ہوئی ثمال کو روکتے اسے گھمایا تھا اور پیچھے سے اسکے گرد حصار باندھتا اسکے گال کو ناک سے چھوتا پھنکارا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔
ایسا ڈانس کرواؤں گا کہ تم ساری زندگی نہیں بھولوگی۔۔۔۔۔۔
گرفت سخت کرتے اس نے ثمال کی ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ دوڑائی تھی
ثمال نے مدد طلب نظروں سے حامد کی طرف دیکھا مگر وہ ہوتا تو مدد کرتا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *