Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode25

Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode25

ثمال باہر گارڈن میں بیٹھی جھمکی کا ویٹ کر رہی تھی ۔۔۔ وہ چاہتی تھی کہ سب سے پہلے وہی اس سے ملے اس لئے یہاں آکر بیٹھی بار بار گیٹ کی طرف نظریں گھما رہی تھی
حامد نے اسے جھمکی کی فوٹو سینڈ کردی تھی کہ وہ اسے پہچان سکے
دروازے پر جیسے ہی ہلچل ہوئی اس نے فورا” مڑ کر دیکھا تو ایک لڑکی پیلی گہرے رنگ کی گھاگرا چولی پہنے بڑے سے دوپٹے سے اپجھتی ہوئی لال چوڑیوں سے بھرے ہاتھ لئے کوفت سے چلتی اندر آرہی تھی
ثمال نے چوکیدار سے کہہ دیا تھا کہ کوئی بھی لڑکی آئے تو بنا کوئی سوال جواب کئے اسے اندر آنے دے اسی لئے وہ اتنی آسانی سے اندر آگئی تھی
ثمال اسے دیکھ کر جلدی سے اسکے پاس گئی
جاناں خود کو عجیب سے کپڑوں میں دیکھ کوفت سے بھری دراب خان کی حویلی آئی تھی اسے حامد اور محند نے تھوڑی دور ہی اتار دیا تھا اور اسے احتیاط برتنے کا کہہ کر وہ اسے اندر جاتے ہوئے دیکھنے لگے تھے جیسے ہی وہ اندر گئی حامد اسکے لئے متفکر سا گاڑی واپس لے گیا تھا
اسکی حالت دیکھ محند نے استہزائیہ ابرو اچکائے کہ اب پتہ چلا کیسا لگتا ہے
حامد بس ہنکارہ بھر کر رہ گیا تھا
یہ تو تصویر سے زیادہ خوبصورت ہے حامد بھائی کو کیسے مل گئی یہ ملازمہ ۔۔۔۔۔ مجھے تو نہیں لگتی کہ یہ ملازمہ ہو ۔۔۔۔۔۔ بلکہ یہ تو کوئی ہیروئن لگتی ہے
ثمال اسے چاروں جانب سے گھوم گھوم کر دیکھتی ہوئی بولی تھی لیکن جاناں کو کچھ سمجھ نہیں آئی تھی
اوہ تو یہ ہے وہ چڑیل جسنے اپنے پیچھے میرے حامد کو لگا رکھا ہے ۔۔۔۔۔ شکل سے کتنی معصوم لگتی ہے مگر حرکتیں دیکھو اسکی زرا ۔۔۔ اسے تو میں بتاؤں گی اب ۔۔۔۔۔۔۔
جاناں اسے خونخوار نظروں سے دیکھتی بڑبڑائی تھی وہ تو آئی ہی اسکے لئے تھی تاکہ اسے سبق سکھا سکے ۔۔۔۔۔۔
تو تم ہو جھمکی ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
ثمال اسکی طرف انگلی اٹھاتی اسے دیکھتے ہوئے بولی تھی جس کا اشارہ سمجھتی جاناں اسے کھا جانے والی نظروں سے دیکھتی منہ بنا گئی تھی
ve Sen cadı kim astrict Kocam
(اور تم ہو وہ ڈائن جس نے میرے شوہر پر قبضہ جمایا ہوا ہے )
جاناں اسے تمسخر سے دیکھتی بولی تھی
ثمال کا پہلے تو حیرت سے منہ کھلا پھر سر پر ہاتھ مارتے ہوئے نیچے گھاس پر ہی بیٹھ گئی
ہا ہائے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لاکھ شکر کیا تھا اس۔۔۔ نے اے ۔۔۔ سے جان چھوٹی مگر یہاں بھی۔۔۔۔۔۔
نے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
ثمال کو بولتے دیکھ جاناں اس سے پوچھنے لگی کہ وہ کیا کہہ رہی ہے ۔۔۔ اسے لگا کہ وہ انگلش میں اسے ٹرانسلیٹ کردے گی مگر اسے کیا پتہ کے اسکے ساتھ ساتھ ثمال کو بھی گونگا بہرہ بننا پڑے گا
ایک اور نے اے آگئی ۔۔۔۔!!
ثمال نے اپنا رکا جملہ پورا کیا اور صدمے سے اس کو دیکھا جو اسے حیرانی سے دیکھ رہی تھی
Sen yapılan ????
(کیا تم پاگل ہو ۔۔۔۔۔؟؟؟)
Eğer daha sonra nasıl Kocam olabilir sıkışmış sizin aldatma……???
(اگر تم ہو تو میرا شوہر کیسے تمہاری چال میں پھنس سکتا ہے۔۔۔؟؟؟)
جاناں ہاتھ کمر پر رکھتی لڑاکا عورتوں کی طرح بولی تھی
ثمال کا تو وہ حال تھا کہ سامنے ہاتھی کھڑا ہے اور نیچے بیٹھی چیونٹی کو اپنے لفظوں کے وزن سے مارنے کے در پر ہے۔۔۔۔۔۔
بی بی جی آپ کو صاحب اندر بلا رہے ہیں ۔۔۔
ثمال یہی سوچ رہی تھی کہ اسکے ساتھ مل کر کام آسان ہوگا یا اور بھی مشکل کہ ملازمہ نے آکر اسے دراب خان کے بارے میں بتایا
ثمال تھکی سی اٹھی اور اسے ایک نظر دیکھ کر اندر کی طرف بڑھ گئی
جاناں جو سمجھ رہی تھی کہ ثمال اس سے دب کر ڈر گئی اس پر خوش ہوتی خود بھی اسکے پیچھے چل پڑی ۔۔۔
آؤ بیٹا بیٹھو میرے پاس ۔۔۔۔۔۔۔
دراب خان اسے دیکھ کر اپنے پاس اشارہ کرتے ہوئے بولے مگر جب جاناں کو اندر آتے اور ثمال کے ساتھ بیٹھتے دیکھا تو انکے ساتھ باقی سب بھی حیران ہوگئے
(الو کی پٹھی میرے ساتھ ہی بیٹھ گئی)
ثمال نے جاناں کو گھورا کہ نیچے بیٹھو لیکن جاناں الٹا سمجھتی اسے بھی گھورنے لگی
یہ کون ہے بیٹا ۔۔۔۔۔۔؟؟
دراب خان نے ان دونوں کو ایک دوسرے کو گھورتے دیکھ تیز لہجے میں پوچھا اسے سخت ناگوار گزرا تھا اس عجیب سے حلیے کی لڑکی کا اس طرح ان سب کو اگنور کرکے ساتھ بیٹھ جانے پر۔۔۔۔۔۔۔
وہ ۔۔۔۔ دادا جان میں نے بتایا تھا نہ جھمکی کے بارے میں ۔۔۔۔۔ یہی ہے وہ ابھی ابھی آئی ہے ۔۔۔
ثمال خفیف سا ہنستی اسے بتا کر ایک بار پھر سے جاناں کو آنکھوں سے اشارہ کرنے لگی کہ نیچے بیٹھو مگر جاناں کو اسکا خود پر رعب جمانے زرا برداشت نہ ہوا تو سب کی نظروں سے بچ کر اسکی کمر پر اتنی زوردار چٹکی کاٹی کہ ثمال کی بلند چیخ نکلی
کیا ہوا ۔۔۔۔ تم چیخی کیوں ۔۔۔۔۔؟؟؟
سلمان جو اس خوبصورت ملازمہ کو گھور رہا تھا ثمال کے چلانے پر فورا” سے اٹھ کر اسکے پاس آگیا اور اسکا ہاتھ پکڑ تے بولا تھا
اسکے اس طرح ہاتھ پکڑ نے پر ثمال کو بہت غصہ آیا لیکن اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتی جاناں نے اپنا ہیل والا پاؤں اس کے پاؤں پر مارا تھا کہ اب چیخنے کی زوردار آواز سلمان کی تھی
سلمان ثمال کا ہاتھ چھوڑتا اب اپنا پاؤں پکڑے چیخ رہا تھا
اب تمہیں کیا ہوا ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ کیوں ہر کوئی چیخے جارہا ہے
دراب خان انکی چیخوں سے تنگ آتے بولے تھے اور غصے سے اٹھ کر وہاں سے چلے ہی گئے ۔۔۔۔ مگر جاتے ہوئے وہ ثمال کو یہ کہہ کر گئے تھے کہ اپنی “ملازمہ” کو سب سمجھادینا۔۔۔
ثمال انکی بات سمجھتی سر ہلا گئی تھی
جبکہ سلمان حیرانی سے ثمال کو دیکھ رہا تھا کہ اس نے اسے کیوں مارا ۔۔۔۔۔۔۔
جاناں نے تو لمبا سا گھاگرا پہن رکھا تھا جس وجہ سے وہ اسکی ہیل نہیں دیکھ سکا تھا بلکہ ملازمہ کہاں کوئی ہیل ویل پہنتی ہے
تو اسے لگا کہ ثمال نے ہی اسے مارا ہے کیونکہ وہ بھی ہیل پہن کر بیٹھی ہوئی تھی
ان سب کے بیچ فاطمہ محض خاموش تماشائی بنی بیٹھی محند کو بار بار فون ملا رہی تھی مگر وہ تھا کہ اٹھا ہی نہیں رہا تھا بلکہ اس کا نمبر ہی بلاک کردیا تھا اس نے۔۔۔۔۔۔۔
فون صوفے پر پٹخ کرایک نظر اس نے ان پر ڈالی جو سلمان کو ہی دیکھے رہے تھے جو اپنا پیر پکڑے ابھی تک کراہ رہا تھا
تمہیں کیا ہوا بھائی ایسے کیوں بھکاریوں کی طرح انکے قدموں میں بیٹھے ہو
دانت پیس کر کہتی فاطمہ نے سلمان کو اسکی پوزیشن کا احساس دلایا تھا
اسکی بات سنتے ثمال تو ہنسی تھی مگر جاناں اب فاطمہ کو غور سے دیکھنے لگی
سلمان اٹھ کر صوفے پر بیٹھ گیا
تو یہ تمہاری ملازمہ ہے ۔۔۔۔۔۔ ہونہہ۔۔۔۔
فاطمہ جاناں کے سر پر کھڑی ہو کر اسکا تنقیدی جائزہ لیتے ہوئے بولی
ثمال نے محض اثبات میں سر ہلایا تھا
تو تم یہاں صوفے پر مالک کے ساتھ کیوں بیٹھی ہو اترو ۔۔۔۔نیچے بیٹھو فورا” بے شک تم اسکی ملازمہ ہو مگر اپنی حیثیت کبھی مت بھولنا نوکر نوکر ہی ہوتا ہے وہ کبھی اپنے مالک کے ساتھ اونچائی پر نہیں بیٹھتا ۔۔۔۔
فاطمہ اسے استہزائیہ دیکھتی اسکی بےعزتی کرتی جا رہی تھی
لیکن مقابل کو کچھ سمجھ آئے تو تب نہ ۔۔۔۔
جاناں سمجھی تو کچھ نہیں لیکن اسے یہ لڑکی بہت بری لگی تھی دل میں ایک خیال آنے سے وہ مسکراتی کھڑی ہوئی تھی ۔۔۔۔۔ اسے کھڑا ہوتے دیکھ فاطمہ مسکراتی مڑی تھی مگر پھر دھڑام سے زمین بوس ہوگئ تھی
جاناں نے اسکے پاؤں کے نیچے کارپٹ کو کھینچا تھا جس وجہ سے فاطمہ بیلنس نہ رکھ کر گری تھی
ثمال نے اپنے منہ پر ہاتھ رکھ کر اپنی چیخ کا گلا گھونٹا تھا ۔۔۔۔۔ اسے تو جاناں کوئی سیریل کلر ہی لگ رہی تھی جو جب سے آئی تھی تب سے کسی نہ کسی کو چوٹ ہی پہنچا رہی تھی
تم پاگل لڑکی ۔۔۔۔۔۔ تم نے مجھے گرایا تمہاری یہ ہمت ۔۔۔۔۔۔۔
فاطمہ کھڑی ہو کر اس پر چلانے لگی
دیکھو تم نے ہی تو اسے کہا تھا اس نے وہی کیا تو پھر کیوں چیخ رہی ہو ۔۔۔؟؟
جو بھی تھا مگر ثمال کو انکی یہ حالت دیکھ کر مزہ بہت آیا تھا خاص کر سلمان کی حالت پر تو اسے بہت ہنسی آرہی تھی
میں نے کہا تھا۔۔۔۔۔۔ ؟؟تم پاگل تو نہیں ہو گئی ہو کہیں ؟؟میں نے کب ایسا کہا اس سے کہ مجھے نیچے گراؤ۔۔۔۔۔
فاطمہ کا رخ اب ثمال کی جانب تھا
دیکھو میں نے کہا بھی تھا کہ یہ گونگی بہری ہے اسے ٹھیک سے سنائی نہیں دیتا لیکن تم ہو کے اشارے کرنے اسے نیچے بیٹھنے کا بول رہی تو جو اسے سمجھ آئے گا وہی تو کرے گی نہ وہ ۔۔۔۔۔۔۔۔
ثمال معصوم منہ بناتی ہوئی بولی تھی
کیا ۔۔۔۔۔؟؟ یہ گونگی بہری ہے ۔۔۔؟ اور تم نے کب کہا ایسا ۔۔۔۔۔؟؟
فاطمہ پہلے تو بہت حیران ہوئی پھر اسے مشکوک نظروں سے دیکھتی بولی تھی
جب تم پتہ نہیں کس سے فون پہ بزی تھی تب ۔۔۔
ثمال تھوڑی دیر پہلے اسکے فون میں گم ہو نے کا بتا نے لگی
جاناں اس بیچ لاؤنج میں گھوم کر ہر چیز کا جائزہ لے رہی تھی
گو ٹو ہیل یو بوتھ ۔۔۔۔۔۔۔۔
(جہنم میں جاؤ تم دونوں ۔۔۔۔۔۔)
پیر پٹکتی فاطمہ اسے گھوری سے نوازتی اپنے کمرے میں چلی گئی تھی
سلمان اپنا پیر پکڑے اپنے اگنور کئے جانے پر منہ بنا گیا تھا کیونکہ فاطمہ کے بعد ثمال جاناں کو کھینچتی وہ بھی جا چکی تھی پیچھے بیٹھا سلمان اپنے پاؤں کو گھور رہا تھا کہ جیسے اسی کا سارا قصور ہو۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تمہیں کس نے کہا تھا کہ اپنے سے ہی سب شروع کردو ۔۔۔۔۔۔۔؟؟
ثمال اسے اپنے روم میں لاکر جھٹکے سے چھوڑتی دروازہ لاک کرتی دھیمی غصے بھری آواز میں بولی تھی
جاناں اسکی اتنی ہمت پر مزید اس پر غصہ ہوگئی
size kız içinde kalmak için sınırları….
(تم لڑکی اپنی حد میں رہو ۔۔۔۔۔۔)
جاناں اسے دھکا مارتی چیخ کر بولی
دیکھو تم کچھ زیادہ ہی نہیں فری ہو رہی میرے ساتھ حامد بھائی نے مجھے لیڈر بنایا ہے اس کام کا تو تم میری جونئیر ہو اور جونئیر سے زیادہ مت کچھ بننے کی کوشش کرنا سمجھی تم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟
ثمال اسکے دھکا مارنے پر بیڈ پر جا گری تھی غصے سے تلملاتے ہوئے وہ اٹھی اور اسکے بالوں کو پکڑ کر کھینچا کہ جاناں کی ہلکی سی چیخ ہی نکل گئی
جاناں کو اسکی اتنی لمبی بات پہ صرف لیڈر جونئر اور حامد ہی سمجھ آیا تھا بہت زیادہ نہ سہی مگر ثمال سے پھر بہتر انگلش تھی اسکی ۔۔۔
Hamid benim ….. anlamak onun benim …. Kocam …..
(حامد میرا ہے …..سمجھ آئی تمہیں وہ میرا ہے ۔۔۔۔۔ میرا شوہر ۔۔۔۔۔۔۔)
جاناں اس سے بال چھڑواتی غرائی تھی
وہی تو کہہ رہی ہوں میں حامد بھائی نے مجھے لیڈر بنایا ہے ۔۔۔
ثمال غصے میں جھنجھلاتے ہوئے بولی کہ عجیب لڑکی ہے ایک بار میں بات نہیں سمجھتی میری ۔۔۔۔۔
Hamid değil sizin bhai o benim bhai sadece benim bhai … Yok ona tekrar bhai …
(حامد تمہارا بھائی نہیں ہے وہ میرا بھائی ہے صرف میرا بھائی ۔۔۔۔۔ دوبارہ اسے بھائی مت کہنا ۔۔۔۔۔۔۔)
جاناں اسکے بار بار حامد کے ساتھ بھائی لگانے پر تڑخ کر بولی تھی ۔۔۔۔۔ اسے لگا تھا کہ ثمال کی زبان میں بھائی کوئی رومینٹک سا نام ہے جو گرل فرینڈ اپنے بوائے فرینڈ کو بولتی ہوں گیں۔۔۔۔
ثمال اپنا سر پکڑ کر ٹہلنے لگی تھی ۔۔۔۔۔ جب دو منٹ بعد وہ کچھ سنبھلی تو اسکے پاس آئی جو اسے ہی برہمی سے دیکھ رہی تھی
دیکھو مجھے سمجھ آگیا ہے کہ تم بھی حامد بھائی کو اپنا بھائی بنانا چاہتی ہو تو ٹھیک ہے نہ بنالو تم بھی انہیں اپنا بھائی ۔۔۔ لیکن یاد رکھنا پہلے وہ میرےبھائی ہیں پھر تمہارے بھائی ۔۔۔۔۔ اور ویسے بھی وہ میرے سیو گلم پلس والے بھائی ہیں تو اس ناطے میرا عہدہ تم سے بڑا ہوگا ۔۔۔۔۔ ہاں۔۔۔۔۔
ثمال اس پر احسان جتاتی ہوئی بولی تھی
جاناں ایک تو اسکے بھائی کہنے سے ہی تلملا رہی تھی اوپر سے اس نے پلس لگاکر سیو گلم بھی بنا لیا تھا ۔۔۔۔۔ حد ہوگئی تھی بھئی ثمال کتنی بے شرم لڑکی تھی
حامد تو میرا ہی بھائی بھی ہے اور میرا ہی سیو گلم بھی۔۔۔۔۔ اسکا تو وہ سگا والا برادر ہوگا
جاناں دل میں بولتی اسکے پیچھے کھڑی ہوئی اور بلی کی طرح چھلانگ مار کر اسکی کمر پر چڑھ گئی
آاااااا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ثمال اپنی بےساختہ نکلنے والی چیخ کا گلا بمشکل گھونٹ پائی تھی
الو کی پٹھی اترو نیچے اپنا میاں سمجھ لیا ہے جو مجھسے چپک رہی ہو شرم کرو لڑکی میری کمر توڑ کر رکھ دی ہے تم نے ۔۔۔۔۔
ثمال کو لگا کہ اسکی ریڑھ کی ہڈی کی چیخ نکلی ہو ۔۔۔۔۔ ہائے بیچاری میری ہڈی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں نے جب کہا تھا کہ وہ میرا ہی بھائی اور سیو گلم ہے تو تم نے کیسے اسے اپنا سیو گلم کہا ڈائن کہیں کی میں تمہارا خون پی جاؤں گی ۔۔۔۔
جاناں اسکی کمر پر لٹکی اسکے گلے میں بازو رکھتی بولی
حامد اور محند جو کب سے کھڑکی کے ساتھ لٹکے ان دونوں کی خونخوار کیٹ فائٹ دیکھ رہے تھے محند کہ غصے سے چھلانگ مار کر جاناں کی طرف بڑھتے دیکھ حامد بھی فورا” اسکے پیچھے کودا تھا
کیا بکواس کر رہی تم جاناں ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟
محند کو روکتا وہ خود جاناں کی طرف بڑھا اور اسے ثمال کی کمر سے اتار کر اپنے مقابل کھڑا کرکے سختی سے بولا تھا
محند ثمال کو سیدھا کر رہا تھا جو ہنوز جھکی ہوئی تھی اور ہائے ہائے کر رہی تھی
تم ٹھیک تو ہو۔۔۔۔۔؟؟
محند تشویش سے پوچھتا اسے سہارہ دئے بیڈ پر لایا اور آرام سے بٹھایا
کس منحوس کو لے آئے ہیں آپ ۔۔۔۔؟؟
سب سمجھتی ہوں میں آپ نے مجھ سے بدلہ لینے کے لئے کیا ہے نہ یہ ۔۔۔۔۔؟؟؟
ثمال کمر کی درد سے بے حال ہوتی سوں سوں کرتی ہوئی بولی تھی رونا اسے درد کی وجہ سے نہیں آرہا تھا بلکہ محند کو اپنے لئے فکرمند ہوتا دیکھ پتہ نہیں کیوں دل رونے کو کر رہا تھا
تم پاگل ہو پتہ ہے مجھے خود سے ثابت کرنے کی کوشش مت کرو تم تو اچھا ہوگا
محند اسے گھور کر کہتا حامد کو اشارہ کیا کہ پھوٹ لو یہاں سے ۔۔۔۔۔
حامد سلگتا ہوا جاناں کو لیکر ڈریسنگ روم چلاگیا تھا
لیٹو میں دیکھوں زرا زیادہ چوٹ تو نہیں لگی ۔۔
محند اسکے کندھے پر زور دیتا اسے لٹانے کی کوشش کرتا ہوا متفکر سا بولا تھا
ککک۔۔۔۔۔۔کیا۔۔۔۔؟؟؟۔۔۔۔مم۔۔۔۔۔۔میں ۔۔۔ میں کیوں ۔۔۔۔۔ لیٹوں ۔۔۔۔۔ لیٹنا ہے تو آپ لیٹ جائیں میں کس خوشی میں لیٹوں ۔۔۔۔۔۔۔
ثمال لڑکھڑاتی زبان کو قابو میں کرتی اس سے الٹی ہی بات کر گئی تھی
چوٹ مجھے لگی ہے نہ جو میں لیٹوں ۔۔۔۔ چپ کرکے لیٹو مجھے چوٹ کی نوعیت جاننی ہے جلدی کرو یہ ہمارا روم نہیں ہے جو تم اتنا ایزی ہوکر بول رہی ہو کوئی بھی آسکتا ہے یہاں جلدی کرو۔۔۔۔۔۔
مگررررر۔۔۔۔۔۔۔۔
ثمال ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!
محند کے سرد انداز پر ثمال ڈرتی فورا” سے لیٹ گئی تھی اور سختی سے آنکھیں بھینچ لیں
پپپپ۔۔۔۔ پلیز لائٹ تو آف کردیں ۔۔۔۔۔۔
محند نے ہاتھ بڑھا یا ہی تھا کہ ثمال کی منمناتی ہوئی آواز اسکے کانوں میں پڑی تھی
محند اسکی جھجھک سمجھتا اپنی ہنسی چھپا گیا تھا
تو زخم کیسے دیکھوں گا پھر میں۔۔۔۔؟؟؟
محند اسے تنگ کرنے کی نیت سے بولا
ثمال اپنی بیوقوفی پر منہ بناتی اپنا چہرہ تکیے میں چھپا گئی تھی
محند اسکی شرم سے محظوظ ہوتا اسے واپس سے سیدھا کرتا اپنے ساتھ نرمی سے لگا گیا تھا
پاگل ہو تم بلکل ۔۔۔۔۔۔۔ اس لڑکی سے سپرےکروالینا پھر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گھمبیر آواز میں بولتا محند اسکے بالوں پر بوسا دے گیا تھا
ثمال سکون محسوس کرتی آنکھیں موند گئی تھی
کہا بھی تھا میں کسی اور طریقے سے وہ فائل نکلوالوں گا مگر تم نے میری ایک نہیں سنی اور آگئی یہاں ہیروئن بننے ۔۔۔۔۔
محند نے اس سے ناراضگی جتائی
ثمال اسکے بچوں جیسے انداز پر کھلکلھا کر ہنسی تھی ۔۔۔۔۔ محند اسکی ہنسی سنتا پر سکون ہوگیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اب بولو کیا بکواس کر رہی تھی تم باہر ۔۔۔۔۔۔؟؟
حامد اسکی بازو سختی سے تھامتا اسے ڈریسنگ روم میں لایا تھا اور دیوار سے لگا کر اسے مقید کرتا غراتے ہوئے بولا تھا
وہی کہ تم صرف میرے بھائی ہو اور کسی کے نہیں ۔۔۔۔
اسکے بدلے جاناں سکون سے بولتی اسکا سکون غارت کر چکی تھی
پھر سے وہی بکواس ۔۔۔۔۔۔ نہیں ہوں میں تمہارا بھائی پاگل لڑکی صرف ثمال کا بھائی ہوں ۔۔۔ یہ بات اپنے اس بھوسے بھرے دماغ میں بٹھالو ۔۔۔
شہادت کی انگلی اسکی کنپٹی پر مارتا حامد سرد آواز میں بولا تھا ۔۔۔۔ جاناں کیوں نہیں سمجھ رہی کہ وہ اسکا اور اپنا نکاح خراب کر رہی تھی بار بار بھائی بول کر ۔۔۔۔۔
اسکے تم کیوں بھائی ہو بھائی تو تم صرف میرے۔۔۔۔۔۔
اس سے پہلے کہ جاناں پھر سے اسے بھائ کہتی حامد نے اس پر جھک کر اسکی بولتی ہی بند کر دی تھی
اسکا بھائی میں صرف اس لئے ہوں کیونکہ وہ میری بہن ہے اور تمہارا اس لئے نہیں ہوں کیونکہ تم میری بیوی ہو ۔۔۔۔ اور بیوی کا شوہر اسکا بھائی نہیں ہو سکتا کبھی بھی ۔۔۔۔۔
آئی سمجھ یا نہیں ۔۔۔۔۔۔
حامد اب کی بار سنجیدہ سا اسے سمجھاتا ہوا بولا تھا مگر جاناں ابھی بھی اسے ناسمجھی سے دیکھ رہی تھی
دیکھو یار برادر والا بھائی ہے وہ ۔۔۔۔۔۔۔ اب تم مجھے اپنا بھائی کہوگی تو ہمارا نکاح خطرے میں پڑ جائے گا یار ۔۔۔۔۔ کیوں تم مجھے بھری جوانی میں طلاق یافتہ کہلوانا چاہتی ہو ۔۔۔
حامد بچارگی سے بولتا اس سے منہ موڑ کر ناراضگی جتانے لگا
اوہ ۔۔۔۔۔۔۔۔
جاناں کو اب سمجھ آئی تھی کہ وہ جسے اسکی گرل فرینڈ کہہ رہی تھی وہ تو اسکی بہن بنی ہوئی تھی ۔۔۔۔۔ چچچچ۔۔۔ کتنا غلط سوچا تھا میں نے ۔۔۔۔۔۔
جاناں افسوس سے بڑبڑائی تھی
اونچی آواز میں سوری کرو مجھے ٹھیک سے سنائی نہیں دے رہا
حامد اپنی خفگی برقرار رکھتے بولا
سوری بولتی ہے میری جوتی ۔۔۔۔۔۔
جاناں کے یوں ہری جھنڈی دکھا نے پر حامد نے گہری سانس لی تھی ۔۔۔۔۔ امید کے مطابق جاناں نے اسے ٹکا سا جواب دیا تھا
حامد اسکی جانب گھومتا جتاتی ہوئی نظروں سے دیکھا تھا کہ تم نہیں سدھر نے والی ۔۔۔
جس پر جاناں ہونہہہ کرکے رہ گئی ۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محند ثمال کو ساتھ لگائے آنکھیں موندے بیڈ پر بیٹھا ہوا تھا کہ ان کے رومینس میں حامد نے ٹانگ اڑائی تھی
بس کرو یار اب یہ رومینس بعد میں کنٹینیو کرنا ابھی ہمیں چلنا ہے ورنہ اگر کوئی یہاں آگیا نہ تو سارا پلین دہی کی طرح پھیل جائے گا
حامد کی آواز پر ثمال فورا” سے اس سے دور ہوکر کھڑی ہوئی تھی جبکہ محند اسے گھورتا کھڑکی کی طرف بڑھ گیا تھا
ثمال میں نے جاناں کو سب سمجھا دیا ہے آگے کے پلین کے بارے میں وہ تمہیں بتا دے گی ٹھیک ہے اب میں چلتا ہوں۔۔۔۔
حامد جاتے جاتے اسے پلین کے بارے میں بتا گیا تھا
ثمال منہ کھولے ہی رہ گئی تھی کیونکہ حامد نے یہ تو بتایا ہی نہیں کہ وہ اسکی بات سمجھے گی کیسے۔۔۔۔۔!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *