Ishq Mera Kamil by Neena Khan NovelR50807 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode03(Part02)
No Download Link
777.3K
37
Rate this Novel
Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode01 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode02 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode03(Part01) Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode03(Part02) (Watching)Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode04 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode05 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode06 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode07 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode08 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode09 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode10 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode11 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode12 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode13 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode14(Part01) Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode14(Part02) Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode15(Part01) Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode15(Part02) Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode16 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode17 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode18 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode19 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode20 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode21(Part01) Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode21(Part02) Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode22 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode23 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode24 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode25 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode26 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode27 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode28 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode29 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode30 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode31 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode32 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Last Episode
Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode03(Part02)
Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode03(Part02)
اس سے پہلے کہ بی بی جان کچھ کہتیں سامنے سے آتے محند نے بی بی جان کو دیکھتے سلام کیا اور حامد کو اگنور کئے دو قدم بڑھائے ہی تھے کہ بی بی جان نے اسے مخاطب کیا
کھانا کھانے کے بعد آپ ہمارے روم میں آئیے گا کچھ ضروری بات کرنی ہے۔۔۔
بی بی جان نے محند کو بنا دیکھے گہری سنجیدگی سے کہا اور حامد کو اشارہ کیے گارڈن میں چلی گئیں
جبکہ انکے پیچھے جاتے حامد کو دیکھتے ہوئے محند متفکر نظر آرہا تھا
آج سے پہلے ایسا نہیں ہوا تھا جو بی بی جان نے اسے ایسے بنا دیکھے سرد مہری سے بات کی ہو
ضرور کچھ ہوا ہے جو بی بی جان کے انداز کچھ الگ سے ہیں ۔۔۔۔۔۔
پر سوچ چلتا وہ اپنے روم کی طرف بڑھ گیا کہ اب کچھ نہیں پتہ چل سکتا جب تک وہ حامد انکے ساتھ ہے تب تک وہ بی بی جان سے کچھ پوچھ نہیں سکتا ۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہاں تو ہر کوئی بگڑا ہوا ہے بی بی جان جسے دیکھو وہ منہ بنا کہ وہ گیا کہ وہ گیا۔۔۔۔۔!!!!
جن کی نظروں میں ہم نہیں اچھے
کچھ تو وہ لوگ بھی برے ہوں گے
حامد نے منہ بسورتے ہوئے اس بار اصلی کا شعر داغا۔۔۔۔
چھوڑو بیٹا ان کو یہ تو چلتا ہی رہے گا جانے کب تک ۔۔۔۔۔۔. بی بی جان نے آہ بھرتے ہوئے کہا کہ وہ بھی نہیں جانتی تھیں کہ اب کیا ہوگا جس امید پہ انہوں نے محند کی دوسری شادی کروائی تھی وہ انہیں ڈولتی ناؤ میں ڈوبتی ہوئی نظر آرہی تھی
حامد جو غیر سنجیدہ سا بیٹھا ہوا تھا وہ فورا” سنجیدہ ہو کر سیدھا ہوکر بیٹھا اور بی بی جان کا لرزتا ہوا ہاتھ تھاما
بی بی جان کیا ہوا ہے کچھ ایسا ہوا ہے کہ جو آپ کو تکلیف دینے کا باعث بنا ہے کہ آج آپ میرے سامنے ہی بھیگی آنکھیں لئے بیٹھی ہیں کیا ہوا ہے پلیز مجھے بتائیں ۔۔
Şimdi söyle ….. !!!
(اب بتا بھی دیں۔۔۔۔!!!)
جھنجھلاتے ہوئے کچھ چڑ کر حامد نے بی بی جان کا ہاتھ پکڑ ہلایا کہ اب برداشت نہیں ہو رہا تھا تجسس ۔۔۔۔۔۔۔
وہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اووووو۔۔۔۔۔۔۔۔۔ !!!!
سوپرررررررر۔۔۔۔۔۔۔ یہ تو کوئی پریشانی والی بات نہیں بی بی جان آپ خوانخواہ ٹینشن لے رہی ہیں ۔۔۔۔۔
ساری بات جاننے کے بعد حامد نے ناک سے جیسے مکھی اڑائی ۔۔۔۔۔۔۔
بی بی جان اسکے ہلکے انداز پر عش کر اٹھیں
تمہیں یہ سب معمولی لگ رہا ہے حامد اتنی زیادہ ٹینشن ہے مجھے کہ ۔۔۔۔ اور تم۔۔۔۔۔۔؟؟
جی بلکل کیونکہ اس بار جس کو آپ نے اپنے پوتے کی زوجہ کا درجہ دیا ہے نہ وہ کوئی عام لڑکی نہیں ہے (آگے کو جھک کر بی بی جان سے رازدارانہ بولا ) اور اگر اس لڑکی نے آپ کے سپوت کو سیدھا نہ کرکے رکھ دیا نہ تو میرا نام حامد کی جگہ حامدہ رکھ لیجئے گا ۔۔۔۔۔۔
کیا حامدہ ۔۔۔۔۔۔؟؟۔۔۔۔۔۔۔۔ ہا ہا ہا ہا۔۔۔۔۔۔۔۔
بی بی جان اسکی بے تکی بات پر محظوظ ہوتے ہنس پڑیں
ہاں بس دیکھ لیجئے گا ۔۔۔۔۔ ایسسسسسا ہی ہوگا
ہا ہا ہا ہا ہا ۔۔۔۔۔۔۔
اب حامد تھا اور اسکی بے تکی باتیں جو بی بی جان کو کچھ دیر کے لئے ہی سہی دھیان ہٹانے میں کامیاب رہی تھیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہا ہائے ۔۔۔۔۔۔ کتنا پیالا بے بی ہے ہائے میں صدقے میں واری ۔۔۔۔۔۔۔ اممممممماہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ادھل بھی کسی کروں گی ۔۔۔۔ ادھل بھی ۔۔ ادھھھل بھی۔۔۔
اممممممممماہ۔۔۔۔۔
ثمال جب سے بے بی کو لیکر روم میں آئی تھی تب سے چٹا چٹ چوم چوم کے۔۔ چوم چوم کے اسکا سارا منہ سفید سے لال کردیا تھا
بچی بھی شائد اس عنایت پر نہیں اچانک پڑنے والی افتاد پر یک ٹک اس انجان خوبصورت چہرے کو آنکھیں کھولے دیکھے جا رہی تھی
میں آپ کی مم ۔۔ آاں ں ۔۔۔۔۔ مما۔۔۔۔۔ ہوں ۔۔۔۔
اور آپ میری بے ے ے بی ی ی۔۔۔۔۔۔۔ بے بی ۔۔ ہو
ہائے ماشاءاللہ کتنا اچھا لگ رہا ہے نہ میں تمہاری مما تم میرا بےبی ۔۔۔ ہا ہا ہا ہا ہا ۔۔۔۔۔۔
ثمال اپنی بات کہہ کر کھلکھلا کر ہنسنے لگی
بے بی کو زور سے اپنے میں بھینچتی وہ کہیں سے بھی اسکی بے بی نہیں لگ رہی تھی خود بھی تو وہ چھوٹی سی تھی
اب وہ اسے باہوں میں بھرے گول گول گھوم رہی تھی اب تو بےبی بھی کو شائد اچھا لگ رہا تھا اس لئے وہ بھی کھلکھلا رہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔
ثمال اس کی وجہ سے ہر غم ہر تکلیف کو بھلا بیٹھی تھی اور اسکے جو ارادے ڈگمگائے تھے وہ اس معصوم فرشتے کی وجہ سے پھر سے مضبوط ہوگئے تھے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بی بی جان آپ یہ کیا کہہ رہی ہیں ۔۔۔۔۔۔؟؟؟
محند پر تو حیرانی کا دورہ پڑ چکا تھا بیٹھے سے وہ کھڑا ہوچکا تھا بی بی جان نے بات ہی ایسی کی تھی
میرے خیال سے آپ کے کان صحیح سلامت ہیں لاڈ صاحب ۔۔۔۔۔۔
بی بی جان پر یہ کیسے ممکن ہے ۔۔۔۔۔۔ آپ ایسے کیسے کر سکتی ہیں وہ بھی بنا مجھے بتائے ۔۔۔
آ ااپ نے اتنا بڑا فیصلہ کر ڈالا ۔۔۔۔۔
Ben inanmıyorum bu…….
(مجھے تو یقین ہی نہیں آرہا۔۔۔۔۔۔)
تو میں کچھ نہیں کر سکتی اس میں ۔۔۔۔۔
بے نیازی پہ بے نیازی تھی ۔۔۔۔
آپ کیسے ایک ان پڑھ جاہل گوار لڑکی کو اپنے سارے شیئرز دے سکتی ہیں ۔۔۔کئسے بی بی جان۔۔۔۔۔۔۔؟؟
محند تو ابھی تک شاک تھا اس سے یہ بات ہضم ہی نہیں ہو رہی تھی کہ بی بی جان نے اپنے سارے شیئرز کیسے کسی انجان لڑکی کے نام کردئیے جو کبھی بھی انہیں دھوکہ دے کر جاسکتی تھی اور اب تو شائد اسے جو چاہیے تھا وہ مل بھی گیا تھا ۔۔۔۔۔۔ دولت۔۔۔۔۔۔۔
میری مرضی میں جو چاہوں وہ کروں گی محند سلطان اور وہ کوئی ان پڑھ نہیں ہے میٹرک پاس ہے اور جب آپ نے میری بات کا مان نہیں رکھا تو میں کیوں آپ کو اپنے فیصلوں میں شامل کرنے لگوں۔۔۔۔ کس طرح اس بچی کو آپ نے شادی کی پہلی ہی رات بری طرح سے بے عزت کردیا ۔۔۔۔ کچھ بھی نہیں بھولی میں اور نہ ہی بھول پاؤگی ۔۔۔۔۔۔۔
آپ سے ایسا اس لڑکی نے کہا ہے۔۔۔؟؟؟
محند کو لگا کہ ثمال نے ساری بات جاکر بی بی جان کو بتائی ہے اس لئے بی بی جان اس سے متنفر ہوگئی ہیں ۔۔۔ غصے سے اسکی آنکھیں لال ہوگئی تھیں دانت پر دانت جماتے اس نے بی بی جان سے پوچھا
ہمارے کان بھی سلامت ہیں اور آنکھیں بھی کہ ہم بزات خود دیکھ اور سن سکتے ہیں جو آپ اس گھر میں گل کھلارہے ہیں۔۔۔۔
بی بی جان نے بھی سرد آواز سے محند کو باور کروا دیا کہ وہ بھی شدید غصے میں ہیں اور اس بار تو محند کو کوئی رعایت نہیں دی جائے گی
محند وقت کی مناسبت سے خاموش ہوگیا اور کچھ سوچتے ہوئے دروازے کی طرف مڑا مگر بی بی جان کے الفاظوں نے اسے مزید برہم کردیا
اب کل سے وہ آپ کے ساتھ روزانہ آفس جائے گی ۔۔۔۔۔۔۔
بی بی جان۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟
آواز میں واضح حیرانگی اور ناگواریت در آئی تھی
دروازہ بند کرکے جائیے گا
صاف صاف اشارہ تھا کہ اب مزید کچھ نہیں سننا اور۔۔۔۔۔۔
محند دو پل انہیں ناراض نظروں سے دیکھتا رہا اور پھر لمبے لمبے ڈگ بھرتا وہاں سے چلا گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ثمال نے تھوڑی دیر پہلے ہی حمنہ کو فیڈر پلاکر سلادیا تھا اب وہ اسے سوتے ہوئے بیڈ سے ٹیک لگائے اسے ہی نہارے جا رہی تھی کتنی بار تو وہ اللہ کا شکر کر چکی تھی اسے اتنی پیاری گڑیا دے دی تھی اسکے لئے تو وہ کچھ بھی کرسکتی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔
ثمال اسی میں گم تھی کہ کوئی آندھی طوفان کی طرح اسکے کمرے میں داخل ہوا
ثمال نے جیسے ہی سر اٹھایا محند نے اتنی ہی تیزی سے اسے بالوں سے پکڑ کر ایک جھٹکے سے اپنے مقابل کھڑا کیا ۔۔۔۔۔ وہ اسے اتنا قریب کر چکا تھا کہ ہوا کا بھی گزر بہت مشکل تھا
تم ۔۔۔۔۔۔ تم فضول لڑکی ایسا کیا جادو کیا تم نے بی بی جان پر کہ انہوں نے اپنی ساری جائیداد. تمہارے نام کر دی ۔۔۔۔۔۔
محند بولا نہیں تھا پھنکارا تھا اسکی انگلیاں اسکی کمر کی چیخیں نکال رہی تھیں
جاہل گنوار کہیں کے چھوڑو مجھے ۔۔۔ اندھے۔۔۔۔ بد تمیز ۔۔۔۔۔ نکمے انسان ۔۔۔ گلی کی نکڑ پر بہتی ناک کے ساتھ چھولے بیچنے والے کم عقل انسان ہٹو پرے ۔۔۔۔۔۔۔ کہتے ساتھ ثمال نے اسے پوری قوت لگا کر خود سے پرے دھکیلا اور خوف سے دھڑکتی اپنی دل کی دھڑکنوں کو واپس اپنی اصلی جگہ پر لانے لگی ۔۔۔۔۔۔
جبکہ محند تو ناک پر ہاتھ رکھے یہ سوچ رہا تھا کہ اس نے کب بہتی ناک کے ساتھ گلی کے ٹکڑ (نکڑ) پر چھولے بیچے۔۔۔۔۔۔ باقی سب تو جیسے اس نے سنا ہی نہیں۔۔۔۔۔
محند جو اتنے غضب زدہ تاثرات کے ساتھ اسکی خبر لینے آیا تھا اب ہونق بنا بے وقوفوں کی طرح کھڑا تھا
دیکھو تمہاری ناک بہتی ہوگی میری تو کبھی نہیں بہی ۔۔۔۔۔
ناک کو صاف کرتے وہ الجھا سا خفت سے بولا ساتھ میں یہ بھی سوچ رہا تھا کہ کیا واقعی کبھی نہیں بہی اسکی ناک ۔۔۔۔۔
ہا ہائے اتنا بڑا جھوٹ تو نہ بولو بھائی ہر کوئی اپنے بچپن میں اپنی بہتی ناک کا زائقہ چکھتا ہے ۔۔۔۔
ثمال کہاں ہار ماننے والوں میں سے تھی جب بھی بولنے پر آتی تو سامنے والوں کی بولتی بند کر دیتی تھی سوائے اپنی اماں کے ۔۔۔۔۔۔
kirli kız ..
(گندی لڑکی۔۔۔)
محند منہ پہ ہاتھ رکھے بولا اس نے ثمال کی بات پہ ایک پل کو ایمیجن کیا کہ وہ روتا ہوا ۔۔۔۔
یک ۔۔۔۔ چھی۔۔۔۔. اسے تو سوچ کر ہی الٹی آنے لگی۔۔۔۔۔۔۔
ششششش۔۔۔۔۔۔۔آہستہ نہیں بول سکتے دیکھ نہیں رہے کہ ہماری بے بی سو رہی ہے۔۔۔۔۔۔
او۔۔۔۔۔ سوری۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ثمال ہی کی طرح محند نے بھی اسکے کان میں جھک کر سرگوشی کی۔۔۔۔۔
ہممم۔۔۔۔ اوکے اب آپ جائیں باقی بعد میں یہی سے شروع کریں گے ابھی بےبیز ٹائم ہے نہ۔۔۔۔۔
ثمال نے اسے ہاتھ ہلاتے ہوئے سیانے لوگوں کی طرح نقل کرتے ہوئے کہا دل ہی دل میں وہ اسکے دھیان بھٹکا نے پر چھلانگیں مار رہی تھی ورنہ تو اسکی جان حلق تک آچکی تھی اسکا خوفناک روپ دیکھ کر۔۔۔۔۔
اوکے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محند ہلکا سا الجھا الجھا بول کر پلٹ کر اپنے روم میں آگیا جبکہ اسکے نکلنے کے فورا” بعد ہی ثمال چھلانگیں مار مار کے ناچ رہی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محند اپنے روم میں تو آگیا تھا مگر کچھ دیر بعد وہ اپنے بے وقوف بنائے جانے پر حیران ہوا کہ کیسے وہ اس چھٹانک بھر لڑکی کی باتوں میں پھنس گیا۔۔۔۔۔
پھر اسکی باتیں یاد کرتے ہوئے اسکے لب خود بخود پھیلے تھے جو اسے خود بھی نہیں پتہ تھا
محند شاور لے کر جیسے ہی واشروم سے باہر نکل کر بالوں میں برش کرنے کے لئے ڈریسنگ ٹیبل کی طرف بڑھا اسکے زہن میں ایک جھماکا سا ہوا۔۔۔۔۔۔۔
ne…..??
(کیا۔۔۔۔۔؟؟)
تیز تیز قدم اٹھاتا وہ پھر سے ثمال کے روم میں کھڑا تھا مگر سامنے ثمال کو ناچتے دیکھ اسکے پاؤں کو فورا” بریک لگے
ثمال آرام آرام سے سلو موشن میں ایسے اچھل کر ڈانس کر رہی تھی کہ بے بی کی نیند ڈسٹرب نہ ہو ۔۔۔۔۔۔۔
محند اسے یوں ناچتے ہوئے دیکھ وہی کھڑا تھا ثمال کے ہر انداز میں بچپنا سا تھا وہ سوچ رہا تھا کہ کیسے اس نے اسکے غصے کو ختم کرکے اسکا دھیان اپنے پر سے ہٹایا ورنہ تو شائد وہ واقعی میں اسے ایک لگا ہی دیتا لیکن کیسے اس نے چالاکی سے اسے ٹھنڈا کر دیا۔۔۔۔۔۔۔۔
محند اسے دیکھ ہی رہا تھا کہ اسکی نظر اسکے دوپٹے پر پڑی جس کا کونہ زمین سے لگ رہا تھا اور اس پر کوئی کیڑا چپکا ہوا اسکے ساتھ پورا ڈانس میں بھی شامل ہو چکا تھا محند کو سوچ کر ہی ہنسی آنے لگی کہ جب ثمال کو پتہ چلے گا تو وہ کیسا ڈانس کرے گی ۔۔۔۔۔۔
اسکی نظر سوئی ہوئی اپنی بیٹی پر پڑی جو ڈھیروں معصومیت لئے مکمل نیند میں گم تھی
ایک پل کے لئے محند کا دل چاہا کہ وہ اسکے ماتھے پر بوسہ دے مگر پھر اسے اس میں اسکی ماں کی شکل نظر آنے لگی اور وہ پھر سے سنجیدہ ہوگیا پہلے والے نرم تاثرات غائب ہوچکے تھے
دوپٹہ دو مجھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ثمال ڈانس میں مگن تھی کہ اسے محند کی آواز آئی۔۔۔۔۔۔۔
جی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
حیرانی سے پوچھا اسے لگا کہ اسے سننے میں کوئی غلطی ہوئی ہے محند کیوں مانگے گا اسکا دوپٹہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مگر دل میں گھبراہٹ سی ہوئی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اپنا ۔۔۔۔۔ دوپٹہ ۔۔۔۔۔ اتار ۔۔۔۔ کر ۔۔۔۔۔ مجھے ۔۔۔۔ دو۔۔
محند نے بھی چبا چبا کر کہا اس مرتبہ۔۔۔
ثمال کے تو پاؤں ہی سن ہوگئے
کک۔۔۔ کیوں۔۔۔۔ کیوں دوں ۔۔۔۔۔میں آپ کو ۔۔؟؟
آپ کوئی لڑکی ہیں جو میرا دوپٹہ چھین رہے ہیں
ثمال پہلے تو بہت گھبرا ئی مگر پھر بظاہر خود کو مضبوط ظاہر کرتی وہ اسکی آنکھوں میں دیکھتی ہوئی بولی
جو میں نے کہا ہے وہ کرو ۔۔۔۔۔ بس۔۔۔۔۔۔!!!
محند بھی تلملاتے ہوئے غصے سے بولا
نہیں ۔۔۔۔۔ دوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس سے پہلے کہ وہ پھر انکار کرتی محند کو اپنے قریب ہوتے دیکھ اسکی ہوائیاں اڑنے لگیں ۔۔۔۔
محند اسکے بلکل قریب آچکا تھا اتنا کہ اس کی گرم سانسیں ثمال کے ماتھے کو چھو رہی تھیں جہاں پھوٹتا پسینہ اسکی قربت کو بلکل بھی برداشت نہیں کر پارہا تھا
محند اسکے لرزتے ہونٹوں کو دیکھتا کھویا کھویا سا اپنا ہاتھ بڑھاکر اس کے دوپٹے کو اتارنے لگا
ثمال لرزتی ٹانگوں کے ساتھ بمشکل خود کو کھڑا رکھنے کی تگ ودود میں تھی
تم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محند ایک پل کو رکا اسکی گھمبیر آواز ثمال کے ہوش اڑا رہی تھی
کچھ کر ۔۔۔۔ کچھ کر ثمی نہیں تو یہ بانس آج تجھے لٹکا کر رہے گا
محند کو جھکتے دیکھ ثمال دل میں بڑبڑائی
محند اسکا دوپٹہ اتار کر اب جھاڑ رہا تھا جس سے کیڑا نیچے گرا اور محند نے فورا” بوٹ رکھ کر اسے بری طرح مسل دیا
ثمال کو جب وجہ پتہ چلی تو سکھ کا سانس لیا
محند نے دوپٹہ اسکی طرف بڑھایا جسے ثمال نے ہاتھ بڑھا کر لینا چاہا تو اسکی انگلیاں دوپٹے کے نیچے محند کے ہاتھ سے ٹکرائیں ۔۔۔
ایک بجلی سی تھی جو اسکے رگ و پے میں اترتی چلی گئی محند کا بھی حال ایسا تھا
لرزتی پلکوں سے اس نے جھپٹنے کے سے انداز میں اس کے ہاتھ سے دوپٹہ پکڑا اور فورا” رخ موڑ لیا
محند جو اسکے بھائی بولنے پر اسے جھاڑ نے آیا تھا سرے سے ہی سب بھول چکا تھا
اسکی پشت پر اپنی نرم گرم تپش چھوڑتا محند جا چکا تھا مگر ثمال کو ابھی بھی اسکی نظروں کی تپش اپنی پشت پر محسوس ہو رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
