Ishq Mera Kamil by Neena Khan NovelR50807 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode06
No Download Link
777.3K
37
Rate this Novel
Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode01 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode02 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode03(Part01) Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode03(Part02) Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode04 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode05 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode06 (Watching)Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode07 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode08 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode09 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode10 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode11 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode12 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode13 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode14(Part01) Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode14(Part02) Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode15(Part01) Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode15(Part02) Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode16 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode17 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode18 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode19 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode20 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode21(Part01) Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode21(Part02) Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode22 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode23 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode24 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode25 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode26 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode27 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode28 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode29 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode30 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode31 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode32 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Last Episode
Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode06
Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode06
محند صبح جلدی اٹھ گیا تھا جو بھی تھا وہ بزنس کو لیکر کچھ زیادہ ہی الرٹ رہتا تھا کہ رات ہوئے واقعے باوجود وہ اب سنبھل چکا تھا مگر پھر بھی اپنی کی گئی بے اختیاری اسے بھلائے نہیں بھول رہی تھی بار بار اسے ثمال کی حیرانی سے پھٹی آنکھیں یاد آجاتیں اور وہ بے کل ہو جاتا ۔۔۔۔ یہ سب اسکے ساتھ کیا ہو رہا تھا اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا اور نہ ہی وہ اب کچھ سمجھنا چاہتا تھا ۔۔۔۔
تم اپنی اداؤں سے اپنے وجود کی دلکشیوں سے مجھ پر اور وار نہیں کر سکتی مسز محند ۔۔۔!!
میں جانتا ہوں تمہارا مقصد تم مجھے اپنے مقصد سے ہٹانے آئی ہو مجھے برباد کرنے آئی ہو تم چاہتی ہو کہ میں کمزور پڑجاؤں تمہارا غلام بن کر تمہارے آگے پیچھے پھروں تو یہ تمہاری بھول ہے ایسا بلکل بھی نہیں ہوگا ۔۔۔۔۔
بلکل ۔۔۔۔۔ بھی ۔۔۔۔۔۔۔نہیں۔۔۔۔۔۔۔
آفس جانے کے لئے تیار ہوتا محند آئینے کے سامنے کھڑا ثمال کے عکس سے مخاطب تھا
جیسے ہی وہ لاؤنج سے گزرا بی بی جان نے اسے آڑے ہاتھوں لیا۔۔۔۔۔
آپ کو ہوش بھی ہے کچھ محند ۔۔۔۔۔۔۔ ؟؟
محند جو نکل ہی رہا تھا بی بی جان کی طنز بھری آواز پر ٹھٹھک کر رکا تھا
کیا مطلب بی بی جان ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خلاف معمول محند نے بھی سنجیدگی سے پوچھا تھا جو بی بی جان کو چونکا گیا تھا وہ انہیں الجھا الجھا سا لگا تھا
ثمال آپ کے ساتھ ہی گئی تھی نہ کل آفس تو واپس بھی وہ آپ کے ساتھ کیوں نہیں آئی گھر۔۔۔۔
کیا۔۔۔۔۔؟؟ کیا مطلب بی بی جان وہ ۔۔۔۔۔ وہ گھر نہیں آئی کیا۔۔۔۔۔۔۔؟؟
محند جو اپنی کل کی حرکت میں الجھا تھا کہ اسے پتہ ہی نہیں چلا کہ کب ثمال نکل گئی اور گھر بھی پہنچی یا نہیں اسے کچھ پتہ نہیں چلا اور ابھی بھی وہ یہ سب فراموش کئے آفس جانے والا تھا اگر بی بی جان اس سے نہ پوچھتیں تو اسے تو اپنی ہی پریشانی میں کچھ محسوس ہی نہ ہوتا ۔۔۔
وہ ایسی غلطی کیسے کر سکتا تھا کیسے دھیان نہیں دیا کہ ثمال کہاں گئی جبکہ آئی تو وہ اسکے ساتھ ہی تھی تو جاتے وقت کہاں گئی ۔۔۔۔
محند جو خود کو یہ باور کروا کہ اپنے روم سے نکلا تھا کہ وہ اب ثمال کہ کسی جال میں بھی نہیں آئے گا لیکن اب وہ ازحد پریشان ہوتا فورا” اندر کی جانب بڑھا تھا کہ چیک کرسکے کہ ثمال گھر سہی سلامت موجود ہے یا نہیں اسے یہ تک سوچ نہیں آئی کہ وہ بی بی جان سے ہی پوچھ لے اس کے بارے میں مگر وہ بوکھلاہٹ میں سوچ ہی نہ سکا ۔۔۔۔۔۔
وہ آگئی تھی گھر حامد کے ساتھ شائد اسی نے بلالیا تھا اسے لینے کے لئے۔۔۔۔
محند کے بڑھتے قدم بی بی جان کی آواز پر ساکت ہوئے تھے
حامد کے ساتھ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
ہاں پتہ نہیں تم نے ایسا کیا کیا اسکے ساتھ کہ وہ حامد کے ساتھ واپس آگئی ۔۔۔۔۔ لیکن اچھا ہوا کہ حامد کے ساتھ ہی آئی ورنہ اسے تو یہاں کے راستے کا ہی نہیں پتہ تو واپس کیسے آتی ضرور آفس سے کسی کی مدد سے حامد کوبلوایا تھا اس نے ۔۔۔۔۔
بی بی جان بغیر اسکے پتھریلے تاثرات دیکھے اپنی ہی کہے جارہی تھیں
حامد نے اور ثمال نے بی بی جان کو کچھ نہیں بتایا تھا کل کے واقعے کے بارے میں اور نہ ہی بی بی جان نے ثمال کو خوش دیکھ کر کچھ بھی پوچھنا مناسب سمجھا تھا مگر وہ پریشان ضرور ہوئی تھیں کہ ثمال محند کے بغیر واپس کیوں آئی تھی ۔۔۔
اسی لئے اب انہیں جو لگا تھا وہ محند سے کہہ رہی تھیں مگر محند کے دماغ میں تو نہ جانے کیا چل رہا تھا کہ وہ بنا کوئی جواب دئے لمبے لمبے ڈگ بھرتا وہاں سے چلا گیا تھا پیچھے بی بی جان متفکر سی کھڑی رہ گئی تھیں
نہ جانے کب میرا بچہ ایک عام انسان کی طرح زندگی جی سکے گا ۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اچھا ہوا حامد بھائی آپ مجھے جوگنگ پر لے آئے ورنہ میں یہ تازہ ہوا اور خوبصورت مناظر نہ دیکھ پاتی ۔۔۔۔
ثمال حامد کے ساتھ اسکے ضد کرنے پر صبح ہی صبح جوگنگ پر نکلی تھی اسکا دل نہیں چاہ رہا تھا کیونکہ حمنہ کبھی بھی اٹھ سکتی تھی اس لئے وہ جانا نہیں چاہ رہی تھی مگر حامد اسے یہ کہہ کر لے آیا تھا کہ اسے بی بی جان دیکھ لیں گیں تم چلو میرے ساتھ اور پھر وہ دونوں جوگنگ کرتے واپس آرہے تھے
Oh onun benim sağ için katılması benim yeni kardeş hayatımda…!!
(اوہ یہ میرا حق ہے کہ میں اپنی نئی بنی بہن کو اپنی زندگی میں جوائن کروں۔۔۔۔۔۔!!)
حامد نے اسے ترک زبان میں کچھ کہا جو اسے بلکل سمجھ نہ آیا کہ کیا کہا ہے بس اتنا سمجھ آیا کہ سارا کچھ سر پر سے گزر گیا۔۔۔۔۔
ہائے حامد بھائی قسم سے یہ نہ میرا سب سسسسےےے بڑا والا مسئلہ ہے کہ مجھے یہ زبان نہیں آتی سچ میں بڑی مشکل ہوتی ہے ۔۔۔
حامد بھائی آپ مجھے سکھائیں گے نہ یہ ترکی زبان۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟
ثمال نے شرمندگی بھرے لہجے میں کہا اور پھر کچھ سوچنے پر اسے کہا کہ وہ اسے یہ زبان سکھائے۔۔ ۔
او ہو یہ تو بہت پریشانی والی بات ہے پھر تو مجھے واقعی میں تمہیں سکھانا پڑے گا
جی جی بلکل نہ یہ تو بہت ضروری ہے میرے لئے ۔۔۔۔۔
ثمال نے جھٹ معصوم منہ بناتے پرجوش لہجے میں کہا تھا
تو ٹھیک ہے ڈئیر میں تمہیں روز تھوڑا تھوڑا سکھا دیا کروں گا اور پھر تم سارا دن اسکی پریکٹس کیا کرنا ۔۔۔۔۔۔۔۔
ہممممم ۔۔۔۔۔ جی ضرور میں ایسا ہی کروں گی آپ مجھے سکھاؤ پھر آج کا۔۔۔ میں پھر سارا دن پریکٹس کروں گی اسکی۔۔۔
ثمال بہت خوش ہوگئی تھی کہ چلو یہ مسئلہ تو حل ہوا ورنہ اسے کتنی پریشانی اٹھانی پڑتی تھی اس سے۔۔۔۔۔۔
ٹھیک ہے تو تمہارا آج کا لفظ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟
مرحبا۔۔۔۔۔۔۔۔!!
اسکا مطلب ہے
جیسے پاکستان میں تم سلام کرتے ہو تو یہاں عام طور پر مرحبا بولا جاتا ہے ویسے سلام بھی کہا جاتا ہے۔۔۔۔
یہ تو مجھے پتہ ہے بی بی جان کو اکثر کہتے سنا ہے آپ مجھے کوئی مشکل لفظ سکھائیں نہ۔۔۔۔
یہ دونوں گھر داخل ہوچکے تھے اب لان میں ٹہلتے ہوئے باتیں کر رہے تھے
اچھا تو پھر اممم۔۔۔۔۔۔۔
nasılsın … ??
(آپ کیسے ہیں۔۔۔؟؟)
تم یہ سیکھو۔۔۔۔۔
چلیں سہی ہے ویسے بھی سلام کرنے کے بعد پھر پہلے حال چال ہی پوچھا جاتا ہے
ثمال نے خوش ہوتے اچھے سٹوڈنٹ کی طرح زور سے سر ہلایا تھا اور پھر اپنا ہاتھ آگے کئے اسے مرحبا بولا تھا
مرحبا۔۔۔۔۔۔۔!!
حامد نے بھی زور و شور سے ہاتھ ملایا
nasılsın … ??
ثمال نے اگلا جملہ بھی بول دیا پھر۔۔۔
میں بلکل فٹ فاٹ ہوں خوبصورت لڑکی ۔۔۔۔
حامد نے اسکے بال بکھیر تے ہوئے کہا تھا جو جوگنگ کی وجہ سے ٹیل پونی سے نکل آئے تھے
ہا ہا ہا ہا ہا ہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حامد کے اس طرح کرنے سے ثمال کھلکھلا کر ہنس پڑی تھی اور دور کھڑے محند کو اسکی ہنسی ایک آنکھ نہ بھائی تھی اسے حامد کا ثمال کے ساتھ ہاتھ ملانا اور پھر اسکے بالوں میں ہاتھ پھیرنا زرا بھی اچھا نہیں لگا تھا اسے پتہ نہیں کیوں ثمال پہ اور خاص کر حامد پر غصہ آرہا تھا ۔۔۔۔۔
دونوں کو گھورتا ہوا وہ گاڑی میں بیٹھ کر ضبط کی لگامیں تھامے وہ گھر سے نکل گیا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محند اس وقت میٹنگ روم میں تھا جہاں سلمان انٹرپرائزز کی طرف سے خود سلمان یزدانی اس میٹنگ میں شریک ہوا تھا جو بمشکل اپنے تاثرات کنٹرول کئے بیٹھا ہوا تھا مگر اسے محند پر بے تحاشہ غصہ آرہا تھا کیونکہ نہ جانے اس نے ایسا کیا کیا تھا کہ اسکا حاصل کردہ پروجیکٹ محند نے اسکے حلق سے چھین لیا تھا آخر ایسا کیسے ہوسکتا تھا کہ محند سلطان اتنا بڑا پروجیکٹ
ہاتھ سے نکلنے پر خاموش رہ جائے ایسا ہو نہیں سکتا تھا بلکل بھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ابھی بھی طنزئیہ مسکراہٹ اپنے عنابی لبوں پر سجائے وہ اسے انگاروں پر گھسیٹ رہا تھا
اوہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ چچچچ۔۔۔۔۔۔۔ لگتا ہے مسٹر سلمان یزدانی کو میری کامیابی پر سکتہ ہو گیا ہے یا پھر اتنی بڑی خوشی ملنے پر تم کچھ بول ہی نہیں پارہے کہ کیسے مجھے کونگریٹ کرسکو۔۔۔۔
میٹنگ کب کی ختم ہوچکی تھی مگر محند دیکھ رہا تھا کہ سلمان یزدانی ایک ہی نقطے پر نظریں جمائے ابھی تک بے خبر تھا کہ میٹنگ ختم ہو گئی ہے کوٹ کو ایک اسٹائل سے جھٹکتے وہ مغرور قدموں سے چلتا ہوا اسکے مقابل آیا اور اسکی چئیر کی پشت پر دایاں ہاتھ ٹکائے اسکی ہاری ہوئی آنکھوں میں دیکھ کر مزے سے بولا تھا
تمہیں کیا لگتا ہے محند سلطان کہ تم جیت گئے ہو۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
نہ نہ نہ نہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!! تم جیتے نہیں ہوئے بلکہ تم نے اپنی ہار کی بنیاد رکھی ہے محند سلطان۔۔۔
سلمان یزدانی چئیر پیچھے گھسیٹتا ہوا جھٹکے سے اٹھا تھا اور اسکے مقابل آکر طیش بھرے انداز میں چیخا تھا۔۔۔۔
چچچچچ۔۔۔۔۔۔۔۔ بنتا ہے ۔۔۔۔۔ اتنی بڑی ہار کے بعد اتنا غصہ تو بنتا ہے دی گریٹ سلمان یزدانی ۔۔۔ مگر کیا ہے نہ کہ تم بھول رہے ہو کہ چوہا کبھی شیر سے نہیں جیت سکتا ۔۔۔۔کبھی بھی نہیں ۔۔!
اسکی آنکھوں میں دیکھتا نڈر بے باک انداز میں بولتا وہ کوٹ کو جھٹکا دئیے میٹنگ روم سے باہر نکل گیا تھا مگر اسکے جانے کے فورا”بعد سلمان یزدانی نے اپنا آپا کھو دیا تھا جو وہ کب سے ضبط کئے بیٹھا تھا۔۔۔۔
تمہیں اسکی قیمت چکانی ہوگی مسٹر محند سلطان ۔۔۔۔۔۔ چکانی ہوگی ۔۔۔۔۔۔ بہت جلد ۔۔ ۔ بس اس وقت سے بچنے کے لئے تم دعائیں کرنا شروع کردو کیونکہ اب میں تمہیں نہیں چھوڑوں گا بلکل بھی نہیں ۔۔۔۔۔۔
زخمی جانور کی طرح چیختے وہ چلا رہا تھا اسکا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ کیا کر بیٹھے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ۔۔۔۔
