Ishq Mera Kamil by Neena Khan NovelR50807 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode04
No Download Link
777.3K
37
Rate this Novel
Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode01 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode02 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode03(Part01) Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode03(Part02) Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode04 (Watching)Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode05 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode06 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode07 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode08 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode09 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode10 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode11 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode12 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode13 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode14(Part01) Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode14(Part02) Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode15(Part01) Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode15(Part02) Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode16 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode17 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode18 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode19 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode20 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode21(Part01) Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode21(Part02) Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode22 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode23 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode24 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode25 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode26 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode27 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode28 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode29 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode30 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode31 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode32 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Last Episode
Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode04
Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode04
düzenlemek meating söylemek istediğim bir şey çok gerekli…..
(میٹنگ ارینج کرواؤ میں کچھ بہت ضروری ڈسکس کرنا چاہتا ہوں۔۔۔)
محند تیز تیز مغرور چال چلتا ہوا اپنی سیکریٹری سے بول رہا تھا جو ہمیشہ کی طرح اسکے ساتھ چلنے کے لئے تقریبا” بھاگ رہی تھی
Tamam….
(ٹھیک ہے ۔۔۔)
ve evet o kuzenim onu almak senin oda ve hizmet onu özel ….
(اور ہاں یہ میری کزن ہے اسے اپنے روم لے جاؤ اور خاص طور پر سرو کرو۔۔۔۔۔)
محند اس بے شرم لڑکی سے کیا بک بک کر رہا تھا اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا بس اتنا سمجھ آرہا تھا کہ یہاں کے لوگ بھاگ بھاگ کر کام کرتے ہیں اسی لئے اتنی جلدی باہر ملکوں کے لوگ ترقی کرتے ہیں ۔۔۔۔۔
ثمال اپنی سمجھ کے مطابق جو سمجھی وہ اپنے چھوٹے سے دماغ میں محفوظ کرلیا۔۔
صبح ہی صبح بی بی جان نے ناشتے کی میز پر اس پر دھماکہ کیا تھا کہ انہوں نے اپنی سارے شیئرز اسکے نام کردئے ہیں اور اب سے وہ روز محند کے ساتھ آفس جایا کرے گی ۔۔۔۔
انکی بات سن کر اسے اچھو ہی لگ گیا تھا ساری بات میں اسے صرف یہ ہی سمجھ آئی تھی کہ وہ اس مغرور شہزادے کے ساتھ روزانہ آفس جایا کرے گی باقی شیر ویر کیا تھا اسے کچھ سمجھ نہیں آئی بلکہ الٹا اسے لگا کہ بی بی جان نے اپنے سارے شیر اسے دے دئے ہیں اور اب سے وہ انکی دیکھ بھال کرے گی ۔۔۔۔
سفید پڑتے چہرے کے ساتھ اس نے بی بی جان کو مری ہوئی آواز میں پکارا ۔۔۔۔
بی بی جان قسم لے لیں میں نے اپنی پوری زندگی میں سوائے ٹی وی کے کبھی بھی ۔۔۔۔ کبھھییی بھی شیر نہیں دیکھا تو انہیں لے کر کیا کروں گی ۔۔۔۔ اور آپ کہہ رہی ہیں آپ نے مجھے سارے شیر دے دئے ہیں۔۔۔۔۔
ثمال ڈرے ہوئے لہجے میں بولی اسے تو سوچ کر ہی وحشت ہو رہی تھی کہ شیر اسکے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے کرنے کے لئے رال ٹپکا رہا ہے ۔۔۔۔۔
ایک یہ خوبصورت شیر کم تھا کیا جو بی بی جان مجھے اپنے سارے شیر دے رہی ہیں۔۔۔۔۔
اسکی بات پر محند اور بی بی جان ناشتہ چھوڑے دنگ نظروں سے ثمال کے سفید پڑتے چہرے کی طرف دیکھنے لگے ۔۔۔
سچ میں اماں کی قسم مجھے شیر پالنے کا کوئی بھی تجربہ نہیں ہے آپ اماں سے بھی پوچھ سکتے ہیں ۔۔۔ ہاں اگر بکریاں ،خرگوش، مرغیاں، چوزے، کبوتر ،طوطے وغیرہ دینا چاہتی ہیں تو دے دیں وہ میں رکھ لوں گی سارے کے سارے ۔۔۔ انہیں پالنے کا تجربہ ہے مجھے سچ میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!
ثمال نے جب انہیں اپنی جانب تکتا پایا تو یہ سمجھی کہ شائد انہیں اسکی بات پر یقین نہیں ہو رہا کہ اسے شیر پالنے کا کوئی تجربہ نہیں ہے اس لئے قسمیں کھانے لگ پڑی اور سات ہی ساتھ باقی جانوروں اور پرندوں کے نام گنوائے کہ دینا ہے تو یہ دے دیں یہ وہ پال سکتی ہے انکا تجربہ ہے اسے ۔۔۔۔۔۔ اب بچاری انہیں کیا بتاتی کہ اسے شیر کے نام سے ہی ڈر لگتا ہے اب بےعزتی تھوڑی نہ کروانی تھی اپنی سسرال میں۔۔۔۔۔
کچھ دیر تک وہ دونوں اسے یونہی آنکھیں پھاڑے دیکھتے رہے مگر پھر محند کے منہ سے ابلتے بے ساختہ قہقہے نے ماحول پہ چھایا سکتہ توڑا۔۔۔۔۔۔
ہا ہا ہا ہا ہا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہا ہا ۔۔۔۔ او۔۔۔۔۔۔ ہا ہا ہہ۔۔۔۔۔۔
او مائے گاڈ اٹس رئیلی فنی ۔۔۔۔۔۔۔ ہا ہا ہا ہا۔۔۔۔۔
محند کے ہنس ہنس کر آنکھوں میں پانی آگیا تھا
محند۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!
بی بی جان کی تنبیہہ بھری آواز پر اس نے بہت مشکل سے اپنے قہقہے کا گلا گھونٹا ۔۔۔۔۔۔
یہ ۔۔۔۔۔ یہ ہے آپ کا انتخاب بی بی جان جسے شیر اور شیئرز میں فرق ہی نہیں معلوم ۔۔۔۔
طنزئیہ مسکراتے ہوئے محند بی بی جان سے مخاطب تھا پھر اپنی نظروں کا زاویہ اسکی طرف موڑا
سنو لڑکی کیا تم نے واقعی میٹرک کیا ہے ۔۔۔۔۔؟؟؟ کیونکہ مجھے نہیں لگتا کہ تم نے پانچویں جماعت بھی پاس کی ہو ۔۔۔۔۔۔۔
محند سیدھا سیدھا اسکا مزاق اڑا رہا تھا
ثمال جو پہلے اسکے اتنے زور سے گلا پھاڑ کے ہنسنے پر الجھی سی بیٹھی تھی اسکے یوں بولنے پر غصے سے پہلو بدل بیٹھی اگر بی بی جان نہ ہو تیں تو وہ اسے ضرور جواب دیتی اپنے انداز میں مگر پھر لحاظ کرکے خاموش ہوگئی ۔
محند آپ لیٹ نہیں ہو رہے روز تو آپ منہ اندھیرے ہی نکل پڑتے تھے مگر اب کیوں بیٹھے ہوئے ہیں ۔۔۔۔ اب جلدی نہیں ہو رہی آپ کو جانے کی۔۔۔
بی بی جان نے محند کو خشمگیں نظروں سے گھورتے ہوئے کہا
ہا ہا ہا۔۔۔۔۔ اب تو آپ مجھے چلتا کریں گیں ہی بی بی جان ۔۔۔۔۔۔
منہ ٹشو سے صاف کرکے وہ سنجیدہ ہوتا کھڑا ہوا اور اسے دو منٹ میں آنے کا کہہ کر چلا گیا جبکہ ثمال ابھی بھی ہونق بنی بی بی جان کو تکے جارہی تھی
ثمال بچے آپ پریشان مت ہوں آہستہ آہستہ آپ کو سب سمجھ آجائے گا ابھی آپ جلدی جائیں کہیں وہ گدھا آپ کو یہی چھوڑ کر ہی نہ چلا جائے ۔۔۔۔۔۔
بی بی جان اسے پیار سے بولتے سمجھانے لگیں اور پھر چند باتوں کے بعد اسے محند کے ساتھ آفس روانہ کردیا جہاں سب وہ اس آدھے کپڑے پہنے لڑکی کے ساتھ کھڑی محند کو کوس رہی تھی ۔۔۔۔۔۔
صحیح کہتی ہیں بی بی جان انہیں ہیں ہی گدھے کے گدھے پتہ نہیں کس بے شرم لڑکی کے ساتھ مجھے چھوڑ گئے ۔۔۔۔
اونچا اونچا بولتے وہ اس لڑکی کو سر سے پاؤں تک گھورنے لگی جو خود بھی اسی مشغلے میں مصروف تھی اس کے بولنے پر نا سمجھی سے بولی ۔۔۔۔
Ne….???
(کیا۔۔۔۔؟؟)
لو جی اسے بھی اس ملازمہ والی بیماری ہے شروع ہو گئی چپڑ مپڑ کرنے ۔۔۔۔۔۔
سیکریٹری ہونق بنی اسے دیکھ رہی تھی جو نہ جانے کون سی زبان میں کیا بولے جارہی تھی
اور دیکھو تو سہی زرا اسے کیسے بازو اور پیٹ ننگا کئے کھڑی ہے
اسے دیکھ کر تو مجھے شرم آرہی ہے جیسے یہ نہیں میں ہی بنا ۔۔۔۔۔۔ افففف ۔۔۔۔ استغفراللہ ۔۔۔۔۔
اب پتہ چلا مجھے ۔۔۔۔۔۔۔۔
اپنے ہاتھ پہ تالی مارتی پرجوش سے اس سے بولی جو ڈر کر دو قدم پیچھے ہٹی تھی وگرنہ کوئی شک نہیں تھا کہ اس کی یہ تالی اسکے منہ پر بھی بج سکتی تھی۔۔۔۔
اس کے برعکس ثمال نے اپنی چونچ کھول لی تھی جو اب مشکل ہی تھا جو بند ہو پاتی۔۔۔
تبھی میں کہوں وہ مجھ پر اتنا غصہ کیوں کرتے ہیں جب انہیں باہر ہی اتنا کھلم کھلا مرغ مسلم ملے گا تو میں تو گھر کی مرغی دال برابر ہی لگوں گی نہ ۔۔۔۔۔۔
سارا غصہ پھر سے عود کر آیا تھا اسے اپنے اس زبان کو نہ سمجھنے اور بولنے کی شرمندگی اتنی لگی کہ صبح کی بےعزتی کا غصہ بھی اس میں شامل ہو چکا تھا خفت سے جو منہ میں آرہا تھا فٹ سے اس ہونق بنی سیکریٹری کے منہ پہ مارتی جا رہی تھی
اب میرا منہ کیا دیکھ رہی ہو جب سب اکھٹے ہوکر میرا تماشہ نہ دیکھ لیں گے تب تک تمہیں چین نہیں آئے گا کیا ۔۔۔؟؟؟
ہاتھ نچا نچا کر وہ اسے آنکھیں نکالتی ہوئ بولی ۔۔۔۔۔
Ne……….?????
(کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟)
چلو ایک تو اسکا یہ نے اے ۔۔ نے اے نہیں بند ہو رہا وہاں لوگ میں میں کرتے ہیں مگر یہاں یہ نے نے کرے جارہی ہے آگے کچھ نہیں بول رہی ۔۔۔۔۔
خیر اگر بول بھی لے تو تمہیں کہاں سمجھ آجائے گا کچھ ثمی۔۔۔۔۔۔۔
اپنے سر پر ہاتھ مارتی وہ آخر میں بے بسی سے بولی
گو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!
اس سے پہلے کے وہ پھر سے نے اے کہتی ثمال نے جھٹ سے گنے چنے آتے انگریزی کے لفظ یاد آتے ہی بول دئیے ۔۔۔۔۔
سیکریٹری سمجھ گئی کہ اسے ترک زبان نہیں آتی اس لئے انگلش بول رہی ہے ۔۔۔۔ اور اسے اب جانے کا کہہ رہی ہے ۔۔۔
وہ بھی جان چھوٹنے پر جلدی سے چل پڑی۔۔
او چھلی ہوئی مولی مجھےکون لے کر جائے گا ۔۔۔۔۔ تم اکیلے اکیلے ہی گو ہو رہی ہو مجھے بھی تو گو کرو اپنے ساتھ ۔۔
ثمال جھنجھلاتے ہوئے بولی اور اسکا ہاتھ پکڑ کر اشارے سے اپنی اور اسکی طرف گو کہا
تم بھی گو اور میں بھی گو ۔۔۔۔ اب چلو ۔۔۔۔۔
اففف ثمال اگر اماں کے مار کھانے پر کم از کم تھوڑی اور محنت انگریزی پر کر لیتی تو کیا جانا تھا تمہارا ۔۔۔۔۔۔۔
ثمال اس کے ساتھ چلتے اونچا اونچا بولی کہ کس کو سمجھ آنی ہے اب تو جتنی مرضی بھڑاس نکال لو ۔۔۔۔۔۔ ہا ہا ہا ہا۔۔۔۔۔۔
ثمال تو اپنے میں ہی مگن تھی مگر سیکریٹری تو بچاری رونی صورت بنائے اسکے ساتھ گھسیٹ رہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محند نے سوچا تھا کہ ثمال کو آفس لے جاکر چھوڑ دے گا اور مڑ کر دیکھے گا بھی نہیں اور پھر ثمال جسے انکی زبان سمجھ نہیں آتی شرمندگی سے دوبارہ یہاں قدم بھی نہیں رکھے گی خود کو وہ ان سے بہت چھوٹا محسوس کرے گی اسے ہر وقت اپنی انسلٹ فیل ہوگی کیونکہ ثمال حلیہ ہی ایسا بنا کے آئی تھی حالانکہ بی بی جان نے اسے ایک سے بڑھ کر ایک ڈریس دئے تھے مگر ثمال اپنے ساتھ لایا اماں کے ہاتھ کا سلا جوڑا پہنے ہوئے تھی ۔۔۔۔۔
گرین کرتی اور اورنج کلر کی پٹیالہ شلوار اور اورنج کلر کا ہی دوپٹہ اوڑھا رکھا تھا ہاتھوں میں اورنج کلر کی بھر بھر چوڑیاں اور کس کے چٹیا کر رکھی تھی ۔۔۔
ثمال جان بوجھ کر اپنا حلیہ کچھ زیادہ ہی گاؤں ٹائپ بنا کے آئی تھی اسے لگا تھا کہ جب محند کے آفس والے اسکی بیوی کو دیکھیں گے تو محند کی بے عزتی ہوگی کیونکہ اسے تو کوئی نہیں جانتا تھا تو اسے کوئی کچھ نہیں کہے گا لیکن ہاں محند پہ لوگ ضرور ہنسیں گے
ثمال ان چند دنوں میں یہ تو جان ہی گئی تھی محند کو ہر معاملے میں ایک کلاس چاہیے ہے چاہے وہ کھانا پینا ہو ، کپڑے وغیرہ ہوں
گھر آفس ہر چیز میں اسے اپنی مغروریت ظاہر کرنی ہے تو جب اسکے آفس کے لوگ اسے اس حلیے میں دیکھیں گے تو اسکا کتنا مزاق بنے گا کہ محند نے اپنے لئے کسی سڑک چھاپ لڑکی سے شادی کرلی ہے جسے کپڑے پہننے کی بھی تمیز نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔ ثمال نے ظاہر تو نہیں کیا تھا مگر اسکے کانوں میں ہر وقت محند کے اسکے لئے بولے گئے شاہی الفاظ جو اس نے منہ دکھائی میں دئیے تھے ثمال کو اپنے وجود میں آگ لگاتے محسوس ہوتے تھے بس پھر ثمال محند سے حساب لینے کے چکر میں یہ تک بھلا چکی تھی کہ وہ اسکے ساتھ ساتھ اپنی زات کی بھی تزلیل کروا رہی ہے۔۔۔۔ کیونکہ جو بھی ہو وہ دونوں تھے تو ایک ہی ۔۔۔۔۔۔
محند تو اسی خوشی میں مست کہ ثمال ان ترکوں کے بیچ پھنسی یہاں آنے پہ پچھتا رہی ہوگی مگر اسے کیا خبر کہ وہاں ترک لوگ اسکے آفس آنے پہ پچھتا رہے تھے۔۔۔
ہائے قسم سے بڑے ہی تم کوئی کوجے ہو ۔۔۔۔ ایک ڈھنگ کا گانا نہیں گا سکتے ۔۔۔۔۔
ثمال سیکریٹری کے کیبن میں بیٹھی میز پر ٹانگ چڑھائے ایک ہاتھ سے اسی کے پیسوں اور ہاتھ سے منگوائے چپس کھارہی تھی اور تمام آفس کے ورکرز کی باری باری درگت بنا رہی تھی ۔۔۔۔۔۔ دیکھنے میں یوں لگ رہا تھا کہ یونی کے سینئر سے آنے والے سٹوڈنٹ کی ریگنگ ہو رہی ہہے۔۔۔۔۔
Ben………
(میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔)
ٹھس ۔۔۔۔۔ یہ مارا ثمال میڈم نے اپنا جوتا اسکے سر پر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟؟؟؟
سخت تیوروں سے اس لڑکے کو گھور تے ہوئے غنڈوں کی طرح بازو فولڈ کئے اور اسکے پاس آئی جو پینٹ شرٹ میں بڑی سی عینک لگائے اسے کچھ بولنے ہی والا تھا کہ ثمال نے جھٹ سے اسکے سر پر جوتا دے مارا۔۔۔۔۔
کمینے۔۔۔۔۔۔۔۔ انسان تیری اتنی مجال مجھے ۔۔۔۔؟؟؟
مجھے ۔۔۔۔۔۔ گالی نکالے گا ۔۔۔۔ ہیں۔۔۔۔؟؟؟
بہن کی گالی نکالتا ہے مجھے ۔۔۔۔ ٹھہر ابھی بتاتی ہوں تمہیں تو
رک زرا ۔۔۔ تیری تو۔۔۔۔۔۔
دوپٹہ کمر پر باندھ کر ثمال نے اپنا غنڈہ پن نکالا اور الٹے پیر کا بھی جوتا نکال کر اسکے پیچھے بھاگی جو اسکے خطرناک تاثرات نوٹ کرتا اتنا تو سمجھ ہی گیا تھا کہ اب اسکی خیر نہیں کب سے وہ اس سے یہی پوچھ رہا تھا کہ وہ اس سے کہہ کیا رہی ہے اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا اوپر سے جوتا پتہ نہیں کیوں مار دیا اور اب پھر سے جوتا لئے اسکے پیچھے پڑ گئی تھی ۔۔۔۔۔۔
Allah beni kurtaramaz …..
(اللہ مجھے بچا لے۔۔۔۔۔۔۔۔۔)
پورے آفس میں گھومتا ہوا وہ اونچی آوازمیں چلا رہا تھا جبکہ ثمال کب کا جوتے کا نشانہ مس کر چکی تھی اور اب جو ہاتھ میں آرہا تھا وہ وہ اٹھا کر اسے مار رہی تھی۔۔۔۔۔
محند نے جیسے ہی اپنے روم کی ایل سی ڈی آن کی تو جو منظر اسے دیکھنے کو ملا اس کے چودہ کیا چوبیس طبق روشن کرچکا تھا۔۔۔
Allah …….Allah…….!!
(اللہ۔۔۔۔۔ اللہ۔۔۔۔۔۔۔!!!!)
صدمے کے مارے اسکے منہ سے کچھ نکل ہی نہیں سکا ۔۔۔۔۔۔
پہلے تو اسے شدید حیرانگی ہوئی پورا آفس کسی سٹور روم کا منظر پیش کر رہا تھا بلکہ نہیں اسکے آفس کا سٹور روم تو اس سے بھی زیادہ بہتر حالت میں ہوتا ہے بلکہ یہاں تو یوں لگ رہا تھا کہ کوئی طوفان آیا ہو ۔۔۔۔ ساری فائلز کاغز گلاس ڈیکوریشن پیسس سب کچھ ادھر’ادھر گرا پڑا تھا کچھ تو ٹوٹ بھی گیا تھا
فرش پر ہر جگہ پانی ہی پانی نظر آرہا تھا جو ثمال نے پانی سے بھرے گلاس اٹھا کر اس لڑکے پر الٹانے کی غرض سے نشانے لگائے تھے مگر چونک گئے اور کچھ لگ بھی گئے مگر زیادہ تر فرش کو ہی نہا گئے۔۔۔۔
محند کے چہرے پر اب حیرانی کے بجائے غصے سے بھرے تاثرات آ چکے تھے وہ پھنکارتا ہوا اپنے روم سے باہر نکلا اور اس طرف بڑھ گیا جہاں ثمال اسکے ورکرز کو تگنی کا ناچ نچا رہی تھی۔۔۔۔
اے رک تجھے تو میں ابھی۔۔
ثمال نے سامنے میز پر پڑا کسی کا موبائل اٹھایا اور جارحانہ انداز میں اس پر پھینکا ہی تھا کہ بیچ میں ہی محند نے ہاتھ بڑھا کر پکڑ لیا جس سے ورکر کا دل تو واپس اپنی جگہ پر آگیا مگر ثمال دانت پیس کر رہ گئی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محند نے پٹخ کر موبائل میز پر رکھا اور ثمال کے بازو کو انتہائی سخت گرفت میں لیتے ہوئے اسے کھینچ کر وہاں سے لے جانے لگا
چھوڑو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!
چھوڑو مجھے ۔۔۔۔۔ میں نے کہا میرا ہاتھ چھوڑو ۔۔ کس کی اجازت سے پکڑا ہے تم نے میرا ہاتھ ۔۔۔۔۔ چھوڑڑڑ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بسسسسس۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محند کی دھاڑ میں کچھ تو ایسا تھا کہ ایک پل کے لئے ثمال لرز کر رہ گئی مگر پھر جلد ہی قابو پایا مگر ٹانگیں ابھی بھی لرز رہی تھیں مگر اس نے محسوس نہیں ہونے دیا
یہ مردانگی جاکر نہ کسی ہوتی سوتی کو دکھانا سمجھے ۔۔۔۔۔۔ ؟؟؟ مجھ پر تمہاری یہ چالاکیاں نہیں اثر کرنے والیں سمجھے ۔۔۔۔ اب چھوڑو میرا ہاتھ۔۔۔۔۔۔۔۔
محند ثمال کو لیکر لفٹ سے نکلا ہی تھا کہ جب ثمال نے بھی پھنکارتے ہوئے اس سے کہا ۔۔۔ وہ کیوں اس سے دب کر رہے اگر ابھی نہ بولی تو پھر کبھی بھی نہیں بول سکوں گی ۔۔۔۔ ایک تو بازو اتنے زور سے پکڑا ہوا ہے کہ جیسے میں کوئی انسان نہیں جانور ہوں اس کے لئے ۔۔۔۔۔
ثمال نے نفرت سے سوچا تھا اسے اس پر بے تحاشہ غصہ آرہا تھا۔۔۔۔
محند نے جب یہ سنا تو اسکا غصہ اور بھی سوا نیزے پہ پہنچ گیا اسکی انگلیوں نے اور بھی سختی کی تھی کہ کمال کے ضبط کے باوجود ثمال کے منہ سے چیخ نکلی تھی ۔۔۔۔
محند نے اپنے آفس روم میں داخل ہوتے ہی اسے زمین پر پٹخا تھا ثمال کو اپنی کمر چٹختی ہوئی محسوس ہوئی۔۔۔۔۔
جانور ہو تم زلیل انسان ۔۔۔۔۔ زرا بھی تمیز نہیں ہے تم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چٹاخ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ثمال کے الفاظ محند کے پڑنے والے بھاری تھپڑ نے وہی روک
دئے تھے ۔۔۔۔۔۔ ثمال آنکھیں پھاڑے اسکے ہاتھ کو دیکھ رہی تھی جس سے اس نے ثمال کو تھپڑ مارا تھا ۔۔۔۔۔۔
تمہاری ہمت بھی کیسے ہوئی یہ سب بکواس کرنے کی ۔۔۔۔۔ کیا بولا تم نے ۔۔۔۔۔۔؟؟؟
ہاں ۔۔۔۔۔۔۔ ؟؟؟جانور ہوں میں ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ زلیل انسان ہوں ۔۔۔۔۔۔؟؟ مردانگی دکھا رہا ہوں تمیز نہیں ہے مجھ میں ۔۔۔۔ ہے نہ یہی کہا تھا نہ تم نے ۔۔۔۔۔۔۔ تو ٹھیک ہے پھر تمہیں دکھانا ہی پڑے گا کہ جانور کسے کہتے ہیں ۔۔۔۔۔ زلیل انسان کیا ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔ اب دیکھو تم تمیز اور بتمیزی میں فرق ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محند کی آواز تھی یا آگ کی لپٹیں جو ثمال کے وجود کے پرخچے اڑا گئیں تھیں ۔۔۔
محند نے کوٹ اتار کر دور پھینکا تھا ٹائی کھول کر بنا اسے کچھ سمجھ آئے آگے بڑھ کر اسکے ہاتھ پیچھے کی جانب باندھے تھے اسکے لمس میں ایسی آگ تھی کہ ثمال کو لگا آج اسکا آخری دن ہے ۔۔۔۔۔۔۔
جانور ہوں میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟ میں جانو۔۔۔۔۔۔ ور ۔۔۔ہوں۔۔۔۔ مجھے جانور ۔۔۔۔۔۔ کہتی ۔۔۔۔ ہو ۔۔۔۔۔۔۔
ثمال کو اسکی غصے سے بھری بڑبڑاہٹ سنائی دی اسے اسکی آواز صاف لرزتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی تبھی اسکے الفاظ لڑکھڑا رہے تھے
نن۔۔۔۔۔۔۔ نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔ پلیز۔۔۔۔۔۔۔۔
محند اسکے سامنے اسکے بے حد قریب کھڑا تھا اسکا سانس اس قدر پھول چکا تھا کہ جیسے وہ نہ جانے کتنی مسافت سے بھاگ رہا ہو۔۔۔۔
اسکا ناک ثمال کی ناک کو چھو رہا تھا
ثمال نے پہلی بار اسکا غصہ دیکھا تھا جو بے حد نا قابل قبول تھا۔۔۔۔۔
ثمال سانس روکے بت بنی کھڑی تھی
محند اپنی بیلٹ نکال رہا تھا اور آنکھیں اسکے خوف سے کانپتے چہرے پر تھیں
ثمال نے جب اسے بیلٹ نکالتے دیکھا تو اسکی روح ہی فنا ہونے کے در پہ آگئی۔۔۔۔۔
ن۔۔۔۔۔۔ نن۔۔۔۔۔۔ نا۔۔۔۔۔۔ نم۔۔۔۔۔ ممم۔۔۔۔۔۔۔۔ پپپ پل ۔۔۔۔۔
محند دو قدم پیچھے ہٹا تھا اور۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آااااااااا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
