Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode07

Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode07

ثمال حمنہ کے ساتھ تھی صبح صبح جوگنگ کرنے سے اس کی طبیعت میں کافی خوشنما تبدیلی آئی تھی نہیں تو کل جو ہوا وہ ثمال کو بار بار ڈسٹرب کر رہا تھا حالانکہ پھر حامد کی وجہ سے وہ کچھ دیر کے لئے تو سب فراموش کر بیٹھی تھی مگر پھر جیسے رات کو سونے کے لئے لیٹی تو چھن سے سارا کچھ ایک بار پھر سے اسے نظر آنے لگا تھا ثمال کو ابھی تک سمجھ نہیں آئی تھی کہ محند نے اچانک سے کیا کردیا تھا وہ تو اسے مارنے جا رہا تھا تو پھر ۔۔۔۔۔۔
ساری رات اسکی بےچینی سے کروٹیں بدلتے ہوئے گزری تھی اب جب تنہائی ملی تھی تو اسے کچھ سوچنے سمجھنے کا موقعہ ملا تھا تو شرم سے اسکا پورا چہرہ لال ہوگیا تھا شرم ایسی تھی کہ آنکھیں بند کئے منہ بلینکٹ میں چھپا رکھا تھا کہ محند جیسے پھر سے کہیں سے نکل آئے گا اور دوبارہ سے وہ سب کردے گا
ہائے اللہ جی کیا مصیبت ہے کیوں بار بار وہ منظر میری آنکھوں پر سے ہٹ ہی نہیں رہا ہے جتنا سونے کی کوشش کرتی ہوں اتنا ہی وہ بی بی جان کا گدھا مجھے ستانے آجاتا ہے ۔۔ اففف
ایک جھٹکے سے اٹھ کر بیٹھی تھی اور منہ گھٹنوں میں چھپا لیا تھا ۔۔۔
تھوڑی دیر بعد منہ نکالا جو دونوں ہاتھوں میں چھپا رکھا تھا ۔۔۔۔۔ تھوڑی سی جھری بنا کر اس نے پورے کمرے میں آنکھیں مٹکائیں تھیں پھر حمنہ کی طرف دیکھا تھا جو اسکے ساتھ بڑے مزے سے سو رہی تھی ۔۔۔۔ جب یقین ہوگیا کہ اسے کوئی نہیں دیکھ رہا تو چہرے پر سے ہاتھ ہٹا لئے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔
پیاری سی شرمیلی مسکان تھی جو اسکے مکھڑے پر ثبت ہوچکی تھی ۔۔۔۔۔
دل میں کہیں گد گدی سی ہو رہی تھی ایک الگ ہی طرح کا سرور تھا جو اس پر چھائے جا رہا تھا ۔۔۔۔۔۔ ہر طرف جیسے جلترنگ سے بجنے لگ پڑے تھے ۔۔۔۔
عجیب سی کیفیت تھی تو اس پر طاری ہوچکی تھی۔۔۔۔۔
اففف کیا ہے مسٹر بی بی جان کے گدھے ۔۔۔۔!!
کیا کردیا ہے آپ نے میرے ساتھ کہ مجھے کچھ ہوش ہی نہیں آرہا ۔۔۔۔ میری نیند حرام کرکے آپ خود اس وقت یقینا” خواب خرگوش کے مزے لے رہے ہوں گے مگر میں بھی نہ ثمی ہوں صادق آباد کی ڈان جو اپنا بدلہ تو لے کر ہی چھوڑتی ہے ایسے ہی نہیں بخشتی وہ ہاں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بستر سے اٹھ کر حمنہ کے دونوں سائیڈ میں اس نے تکیے سیٹ کئے کہ کہیں سائیڈ پلٹنے پر وہ گر ہی نہ جائے پھر اس کے ماتھے پر پیار کرتی وہ دھیرے سے چوروں کی طرح اپنے کمرے سے نکل کر محتاط قدموں سے چلتی محند کے روم میں آئی تھی جیسے ہی اس نے دروازہ دھیرے سے بند کیا اور کمرے میں نظر دوڑائی تو اسے پتہ چلا کہ محند تو ابھی تک آیا ہی نہیں ہے یا پھر شائد سٹڈی روم میں ہو۔۔۔۔۔
کوئی بات نہیں چلو بدلہ کسی اور دن سہی ابھی آپ کے کمرے کی زرا تلاشی تو لے لی جائے کیا خزانہ چھپا رکھا ہے آپ نے……..
ثمال اسکے کمرے کی تلاشی لیتے ہوئے بولی
پورا کمرہ بہت ہی پیارا تھا پہلے بھی جب وہ آئی تھی تو پلک جھپکنا تک بھول گئی تھی۔۔۔
ہائے لگتا ہے بی بی جان کے گدھے نے سب سے اچھا والا کمرہ تو خود ہی ہڑپ لیا ہے ۔۔۔ دیکھو تو کتنا بڑا کمرہ ہے انکا۔۔۔۔۔۔۔
انکی الماری تو چیک کروں میں شائد کچھ مزے دار مل ہی جائے پھر وہ میں چھپا لوں گئی ڈھونڈتے رہیں پھر بعد میں۔۔۔۔۔۔۔
آخر بدلہ بھی تو لینا تھا نہ ثمال نے۔۔۔۔۔۔۔
ادھر تو کپڑے ہی کپڑے ہیں توبہ کتنے کپڑے پہنتے ہیں یہ ۔۔۔۔۔
ثمال محند کی وارڈروب میں گھسی چیکنگ کر رہی تھی اسے یہ کرنے میں بہت مزا آرہا تھا ۔
ہائے ثمی کتنی بیویوں والی فیلنگ آرہی ہے ۔۔۔۔۔
ہا ہا ہا ہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ویسے والی فیلنگ کا کیا مطلب بیوی ہوں تو بیوی جیسا ہی کام کروں گی نہ۔۔۔۔۔۔
کھلی آنکھوں سے ثمال حسین خواب دیکھنے لگ گئی تھی یہ سب محند کی اس حرکت کے بعد ہوا تھا اسے لگنے لگا تھا کہ محند کو وہ شائد اچھی لگنے لگ پڑی ہے اسی لئے محند اسے مار ہی نہیں سکا اور پھر وہ سب ۔۔۔۔۔۔۔۔
کوئی بات نہیں ویسے ہر کسی کو ایک موقع ملنا چاہیے تو انہیں بھی میں ایک موقع ضرور دوں گی ویسے بھی تب وہ غصے میں ہوں گے اسی لئے وہ سب برا بول گئے لیکن میں بھلا دوں گی معاف کرنے والا اللہ کے نزدیک ہوتا ہے تو میں بھی انہیں معاف کردوں گی ۔۔۔۔۔
ثمال وارڈروب کے سب سے نچلے ڈرار میں ہاتھ مارتے ہوئے کہہ رہی تھی کتنا سکون مل رہا تھا اسے یہ سوچ کر کہ وہ محند کو معاف کرکے اسکے ساتھ پھر سے نئی زندگی شروع کرے گی ۔۔۔ طمانیت کا احساس ہی کتنا خوش کن تھا۔۔۔۔۔۔۔
اوہ۔۔۔۔۔۔۔۔ اپنے خوابوں میں وہ اتنا ڈوب گئی تھی کہ اسے دھیان ہی نہیں رہا اور اس کا ہاتھ لگنے سے کچھ چیزیں نیچے گریں۔۔۔
اوہ ہو ثمی دھیان کہاں ہے تمہارا ۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ کیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ کوئی البم لگتی ہے یہ تو ۔۔۔۔۔؟؟
ثمال ساری چیزیں سمیٹ کر اوپر رکھ رہی تھی کہ اس کی نظر چھوٹی فوٹو البم پر پڑی ۔۔۔ دیکھنے سے تو وہ کوئی شادی کی البم لگ رہی تھی۔۔۔۔۔۔
دیکھتے ہیں کس کی شادی کی ہے ۔۔۔۔۔۔
ثمال نے جیسے ہی البم کھولا سامنے ہی بڑے بڑے حرفوں میں مسٹر اینڈ مسز محند سلطان لکھا ہوا تھا ۔۔۔۔۔
ایک دم سے ثمال کے تاثرات بدلے تھے
ساری البم میں محند کی اور کسی لڑکی کی تصویریں تھیں شائد محند کی پہلی بیوی ۔۔۔ نہیں پہلی بیوی ہی ہے یہ۔۔۔۔۔۔۔
ثمال نے اپنے شک کو یقین دیا۔۔۔۔
دونوں ہی تصویروں میں بہت قریب تھے اور خوش بھی بہت زیادہ نظر آرہے تھے ۔۔۔
یہ تو مجھ سے بھی پیاری ہے ۔۔۔۔۔۔
بجھے دل کے ساتھ اسکی تصویر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے ثمال نے ہولے سے کہا ۔۔۔۔۔
یہ دونوں اگر اتنے خوش تھے تو طلاق کیوں ہوئی پھر ۔۔۔۔۔؟؟انہیں دیکھ کر تو ایسا بلکل بھی نہیں لگ رہا کہ ان میں لڑائی بھی ہوتی ہوگی بلکہ ایسا لگ رہا ہے کہ دونوں ایک دوسرے سے بہت محبت کرتے ہیں ۔۔۔۔اور اب یہ البم انہوں نے اپنے پاس کیوں رکھی ہوئی ہے اب تک ۔۔۔۔۔کہیں وہ ابھی بھی اس سے پیار کرتے ہیں ؟؟ کیا وہ اسے بھلا نہیں پائے ؟؟؟
ثمال کا دل بہت عجیب ہو رہا تھا
ثمال نے وہ البم واپس اس جگہ پر رکھی تھی کہ اس میں اور ہمت نہیں ہو رہی تھی اپنے شوہر کو کسی اور کے ساتھ اتنا قریب اور خوش دیکھ کر چاہے وہ اسکی سابقہ بیوی ہی کیوں نہ ہو۔۔۔۔۔۔
ابھی وہ البم رکھ کے سیدھی ہی ہوئی تھی کہ اسکی نظر آدھے کپڑوں کے نیچے اور آدھے باہر نکلے پیپر پر پڑی ۔۔۔۔ وہ شائد اسے اگنور کر دیتی مگر اس پر موجود اپنا لکھا نام دیکھ کر اسکے ہاتھ بے خودی میں اس طرف بڑھے تھے اور اگلے ہی پل وہ کاغز اسکے ہاتھ میں تھا
کیا تھا یہ ۔۔۔۔؟؟ ابھی تو اسے ایک جھٹکا تصویروں کی صورت میں ملا ہی تھا کہ دوسرا جھٹکا بھی تیار کھڑا تھا۔
ابھی تو وہ خوش ہوئی تھی ۔۔۔ ابھی تو اسے لگا تھا کہ سب ٹھیک ہورہا ہے ۔۔۔ابھی تو اسکے معصوم دل نے نئی لے پر دھڑکنا شروع کیا تھا
کتنی خوش ہو کر وہ اپنی آگے کی زندگی محند کے ساتھ ہنسی خوشی گزارنے کے خواب دیکھ رہی تھی کہ اس کے ہاتھ میں لٹکتے اس عام سے کاغذ نے اس کے سارے خواب ایک ہی وار میں چکنا چور کردئے تھے ۔۔۔۔جھٹکا ایسا شدید ترین تھا کہ ثمال کے ہاتھوں سے وہ کاغذ لہراتا ہوا اسکے پیروں میں گرا تھا ۔۔۔ اسکے ہاتھ ہوا میں ہی رہ گئے تھے ۔۔۔
طلاق۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
ساری خوشی پلیننگ پل بھر میں ملیا میٹ ہوگئی تھی ۔۔۔۔
تو وہ سب جھوٹ تھا ؟؟ فریب تھا ۔۔۔؟؟
ان ن ن ۔۔۔۔۔ کا وہ ۔۔۔۔۔۔ جو اس ۔۔۔۔۔ دن ۔۔۔۔۔۔۔۔آفس۔۔۔۔۔۔
تو کیا وہ وقتی۔۔۔۔۔۔؟؟
مطلب ۔۔۔۔۔۔ مطلب۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ وہ۔۔۔۔۔ وہ سب ناٹک تھا ۔۔۔۔۔ وہ مجھے دھوکے سے ۔۔۔۔۔۔
نہیں ۔۔۔۔۔۔ میں ۔۔. ۔ میرے ساتھ ۔۔۔۔۔ کیوں ۔۔۔۔۔۔
چوٹ تھی کہ شدید لگی تھی اور درد بی بے تحاشہ ہو رہا تھا
یہ جان کر ہی کہ محند اسے طلاق دینے والا ہے اسکے وجود میں سے جان نکلتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی
نہیں ۔۔۔۔۔ اپنے چہرے سے آنسو صاف کرتے اس نے نفی میں سر ہلایا
اب اور نہیں مسٹر محند سلطان اب میں آپ کو کوئی موقع نہیں دوں گی بہت ہوگیا میں ہی بے وقوف تھی جو آپ پر بھروسا کرکے اتنا آگے تک سوچ بیٹھی تھی مگر اب آپ کو میں بتاؤں گی کہ دل دکھانا کسے کہتے ہیں ۔۔۔۔۔۔
میں آپ کو کبھی معاف نہیں کروں گی کبھی بھی نہیں۔۔۔۔۔۔
ایک بار پھر سے وہ گھٹنوں کے بل بیٹھی اشک بہا رہی تھی ۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
او او او ۔۔۔۔۔ واؤ یہ تو میری اینجل ہے ۔۔۔۔۔۔
حامد سلطان پیلس داخل ہوا تو سامنے سے ثمال حمنہ کو گود میں اٹھائے آرہی تھی ۔۔
مرحبا حامد بھائی ۔۔۔۔۔۔
مرحبا میری بہن جان۔۔۔۔۔۔
اسے کہاں لیکر جارہی ہو صبح صبح اتنا تیار شیار کرکے۔۔۔۔۔۔؟
حمنہ کو اس سے لیکر اپنی گود میں لے کر اسے پیار کرتا ہوا بولا
آفس جارہی ہوں حامد بھائی آپ کو بتایا تو تھا کہ بی بی جان نے مجھ کم عقل پر اتنی بڑی زمیداری سونپ دی ہے اب بے شک نبھا نہ سکون مگر جانا تو لازمی ہے نہ۔۔۔۔
ہا ہا ہا ہا ۔۔۔۔ ہائے میری کم عقل بہن ۔۔۔۔ کتنا ظلم ہے نہ تمہارے ننھے سے دماغ پر ۔۔۔۔ چچچ۔۔۔
ہا ہائے حامد بھائی آپ کو تو یہ کہنا چاہیے کہ تم اداس نہ ہو فکر مت کرو میں ہوں نہ تمہارا بھائی تو ٹینشن کی کیا بات ہے مگر آپ ہیں کہ میرا مزاق بنا رہے ہیں۔۔۔۔
ثمال منہ بسورتے بولی کہ اسے پہلے ہی اتنا ڈر لگ رہا تھا کہ اب اوپر سےحامد بھائی نے جلتی پر تیل کا کام کیا ۔۔۔
او ہو یار میں بنا نہیں رہا بلکہ مزاق اڑا رہا ہوں تمہارا۔۔۔۔۔۔۔
حمنہ کو ہوا میں اچھالتے حامد نے ثمال کو مزید تنگ کیا جبکہ حمنہ انکی باتوں سے انجان کھلکھلا نے میں مصروف تھی
حامد بھائی ییییی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اچھا اب چلو بھی کہ یہی جھنڈے گاڑنے ہیں اپنی کم عقلی کے میری بہن نے ۔۔۔۔۔۔۔
حامد کہہ کر فورا” سے حمنہ کو لئے باہر نکل گیا پیچھے ثمال منہ کھولے پاؤں پٹختی ان دونوں کے پیچھے چل دی
دیکھ لوں گی میں آپ کو بھی ۔۔۔۔ہونہہ۔۔۔!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔.
کتنی دفعہ کہا ہے مجھے تنگ مت کیا کرو بار بار فون کرکے ۔۔۔۔۔
محند سیکریٹری کے فون کرنے پر چلاتے ہوئے بولا تھا
سوری سر وہ بہت ضروری تھا اسی لئے آپ کو ڈسٹرب کرنا پڑا ۔۔۔۔۔
اب بکو بھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اب کی بار آواز پہلے سے زیادہ اونچی تھی
جی ۔۔۔۔۔ وہ سر فاطمہ یزدانی آئیں ہیں میں نے بہت روکا انہیں مگر وہ سن ہی نہیں رہیں الٹا دھمکیاں دینے لگ گئی ہیں کہ اگر اندر نہ جانے دیا تو میرے ساتھ بہت برا پیش آئیں گیں۔۔۔۔
سیکریٹری نے ڈرتے ڈرتے جلدی جلدی سارا مسئلہ اسے بتادیا کہ کہیں اسکا جلاد باس اب فون سے ہی نہ اسکا گلا دبادے۔۔۔۔۔۔
محند نے یہ سننے پر اپنے تاثرات یکدم بدلے تھے اسکے چہرے پر پر اسرار سی مسکراہٹ چھائی تھی ۔۔۔۔۔۔۔
تو سہی کہہ رہی تھی وہ تم نے اسے اندر کیوں نہیں آنے دیا بلکہ تمہیں تو اسے فورا” اندر بھیجنا چاہیے تھا ۔۔۔۔ اب بنا دیر کئے عزت سے اسے میرے روم میں بھیجو ہڑی اپ۔۔۔۔۔۔۔
محند نے دھیمے لہجے میں کہتے فون رکھ دیا تھا مگر سیکریٹری منہ کھولے فون کو گھور رہی تھی کہ اس کے باس نے بھی اس سے جو کہا ہے کیا وہ وہی کہا ہے کہ جو اس نے سنا ہے یا پھر اسکا وہم ہے۔۔۔۔۔
مگر پھر خجل ہوکر فون رکھتےاس نے سامنے کھڑی ہستی کو اندر جانے کا کہا تھا جس پر وہ طنزئیہ مسکراتی بلیک اونچی ہیل پہنے گولڈن کمر تک آتے بال لہراتے فل میک اپ اور بلیک ہی ٹوپ اور منی اسکرٹ پہنے ایک ادا سے چلتی محند کے آفس روم میں داخل ہوئی تھی اور اپنے اسٹائلش پرس کو شیشے کی میز پر پھینکتی گلاس وال کی طرف منہ کئے محند کی جانب بڑھی اور اسے پشت سے اپنے گورے ہاتھوں سے جکڑ کر اپنا سر اسکے کندھے پر ٹکا دیا تھا ۔۔۔۔۔
آئی مس یو سو مچ بے بی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لال رنگ سے رنگے بھرے بھرے ہونٹ اسکی گردن پر رکھے تھے جو اپنا نقش اس پر چھاپ گئے تھے
می ٹو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسکے حصار کو توڑ کر پیچھے مڑ تے اسکی نیلی آنکھوں میں دیکھتا بولا تھا جس پر مقابل خوشی سے دیوانہ ہوتی شوخ سی گستاخی کر گئی تھی
تھینک یو کے تم نے میری اتنی ہیلپ کی جس سے میں یہ پروجیکٹ حاصل کر پایا ۔۔۔
اسے آہستہ سے پیچھے کرتے اسکے بال جو منہ پر آرہے تھے کانوں کے پیچھے اڑستا رومانوی انداز میں بولا تھا
نو۔۔۔۔۔۔۔۔ اسکا چلتا ہاتھ روکتی وہ اسکے اور قریب ہوئی تھی
تھینکس ٹو یو کے تم نے میری غلطی معاف کرتے مجھے دوسرا موقع دیا ۔۔۔۔۔۔
پھر وہ اسکے گلے لگتی آنکھیں موند گئی تھی
محند اسکے گرد حصار باندھتا اب سنجیدہ ہو چکا تھا اسکی نظریں گلاس وال سے نظر آتے باہر کے منظر پر ٹھہر گئی تھیں جہاں حامد حمنہ کو گود میں اٹھائے ثمال کا ہاتھ پکڑے ہوئے ہنستا ہوا آرہا تھا اور ثمال منہ بسورتے اسکے بال خراب کرتی شائد اپنی ناراضگی کا اظہار کر رہی تھی
اس منظر نے محند کی آنکھوں میں مرچیں سی بھر دیں تھیں۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حد ہوگئی حامد بھائی آپ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
ششششش۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حامد نے جھٹ سے ثمال کے آگے آتے اسکے منہ پر اپنا ہاتھ رکھا تھا اسے چپ کروانے کے لئے۔۔۔۔۔۔۔
کیا ہوا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟
حامد کے اس طرح کرنے پر ثمال چونکتے ہوئے بولی
دیکھو ایک بات تو تم کان ناک منہ ہاتھ پیر کھول کر سن لو کہ تم مجھے آفس ورک میں بھائی تو بلکل بھی نہیں بولو گی اور نہ ہی اس کے علاوہ باہر یا گھر میں کسی لڑکی کے سامنے تو بلکل بھی نہیں بولو گی ۔۔۔۔۔ بھئی میری کوئی پرسنالٹی ہے یار کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہاری دیکھا دیکھی ساری لڑکیاں مجھے بھائی بولنے لگ جائیں اور میں یونہی کنوارہ رہ جاؤں۔۔۔۔۔۔۔
حامد نے اسے سرگوشی میں بتایا کیونکہ آفس گرلز اسکے سامنے سے گزر کر جا رہی تھیں جنہیں وہ دیکھتے مسکراتے ہاتھ ہلاتے ہوئے ثمال کو بول رہا تھا
اوہ تو آپ بھی مجھے چڑانا بند کریں نہیں تو میں بھی آپ کو ایک ایک لڑکی کے سامنے پکڑ کر بھائیییی کہوں گی بلکہ کہلواؤں گی بھی ۔۔۔
ثمال کو تو موقع چاہیے تھا تو بس لگا دی دھمکی حامد کو ۔۔۔۔۔
اب آیا چوہا ہاتھی کے نیچے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پہلے ہم تھے جو لوگوں کو چونا لگاتے
مگر اب یہ ہیں جو ہمیں چونا لگاتے
یک ۔۔۔۔ چھی۔۔۔۔۔۔ آہ۔۔۔۔۔۔ الٹی آرہی ہے مجھے تو آپ کے ان باسی شعروں سے ۔ ۔۔ نہ کرا کریں نہ ایسی باتیں ابھی میں نے ناشتہ کیا تھا آپ کے ان باسی تباسی شعروں سے کہیں سارا یہی نہ اگل دوں ۔۔۔۔۔۔
ثمال منہ بناتی حامد کا منہ بسور کر آگے بڑھ چکی تھی جبکہ حامد اپنے شعروں کی بےعزتی پر منہ کھولے ابھی بھی وہی کھڑا صدمے میں چلا گیا تھا
ب۔۔۔۔ ا ۔۔۔۔۔ س۔۔۔۔۔ ی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ثمال یار یہ کیا کہہ دیا۔۔۔۔۔۔۔ رکو۔۔۔۔۔!!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ثمال ہنستے ہوئے آگے بڑھ رہی تھی کہ سامنے سے آتی فاطمہ یزدانی اس سے ہلکا سا ٹکرائیں تھی مگر دونوں نے بنا ایک دوسرے کو دیکھے اپنی خوشی میں مگن ہاتھ اٹھاتی ایک دوسرے کے مخالف چلیں گئیں تھیں۔۔۔۔۔
محند اپنے آفس میں کھڑا طیش سے مٹھیاں بھینچے خود پر کنٹرول کر رہا تھا مگر اسے سمجھ بھی نہیں آرہا تھا کہ اسے اتنا غصہ کس لئے چڑھ رہا ہے۔۔۔۔
فون اٹھا کر اس نے اپنی سیکریٹری کو ثمال کو اسکے روم میں بھیجنے کو کہا تھا پھر فون رکھے اسکا انتظار کر نے لگا
اسکی آنکھوں کے سامنے صبح کے وقت کا منظر اور ابھی کا منظر بار بار آنکھوں کے سامنے گھوم رہا تھا حامد کا اسکے منہ پر ہاتھ رکھنا پاس آکے سرگوشی کرنا حتی کہ ثمال کا بھی حد درجہ اس سے فری ہونا محند کو برداشت نہیں ہو رہا تھا دل کر رہا تھا کہ کھینچ کر ثمال کے منہ پر مارے جو حامد کے ساتھ اتنا چپک کر ہنسے جارہی تھی ۔۔۔۔
انتظار طویل سے طویل ہوتا گیا مگر ثمال نہیں آئی اس نے سیکریٹری سے فون کرکے دوبارہ کہا تو اسے اس نےبتایا کہ ثمال نے کہا ہے کہ وہ ابھی بزی ہے تو نہیں آسکتی اس لئے جس کو بھی اس سے کام ہے وہ اسکی مصروفیت ختم ہونے کے بعد خود چل کر آئے کیونکہ کام اسے ہے ثمال سے ۔۔۔۔ ثمال کو نہیں۔۔۔۔۔۔
فون پٹخنے کے انداز میں پھینکتا وہ تن فن کرتا لفٹ میں داخل ہوا تھا ۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *