Ishq Mera Kamil by Neena Khan NovelR50807 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode26
No Download Link
777.3K
37
Rate this Novel
Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode01 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode02 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode03(Part01) Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode03(Part02) Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode04 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode05 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode06 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode07 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode08 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode09 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode10 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode11 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode12 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode13 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode14(Part01) Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode14(Part02) Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode15(Part01) Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode15(Part02) Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode16 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode17 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode18 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode19 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode20 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode21(Part01) Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode21(Part02) Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode22 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode23 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode24 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode25 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode26 (Watching)Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode27 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode28 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode29 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode30 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode31 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode32 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Last Episode
Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode26
Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode26
میں تو چلی سونے ۔۔۔۔۔۔
جاناں بیڈ پر چڑھ کر سونے لگی تھی اور ثمال اسے بنا کچھ سمجھائے سوتے دیکھ اس کے پاس آئی اور بلینکٹ اتار کر دور پھینکا تھا
نے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟
اے سنو میری بات۔۔۔۔!! پہلے تو تم اپنی یہ نے نے نے کی دکان بند کرو……. ورنہ میں نے تمہاری وہ حالت کرنی ہے کہ یہ نے نے کی بجائے تم ہائے ہائے کرنے لگ جاؤگی…… اور دوسری بات حامد بھائی جو تمہیں کہہ کر گئے ہیں وہ مجھے بتاؤ تاکہ میں آگے کے بارے میں کچھ سوچ سکوں ..
ثمال پہلے تو اس سے سرد مہری سے بولی تھی پھر سینے پہ ہاتھ باندھ کر اسے جیسے آرڈر دیا تھا کہ چلو جونئیر مجھے بریفنگ دو ۔۔۔۔۔۔۔
جاناں کو بہت نیند آرہی تھی جس وجہ سے وہ لمبی تان کر سونے لگی تھی مگر بھلا ثمال کے ہوتے ہوئے کسی کو چین نصیب ہو ایسا کہاں ممکن ہے ۔۔۔۔۔۔؟
دیکھو میں تمہیں کہہ رہی ہوں مجھے آرام سے سونے دو میرا سر شدید درد کر رہا ہے تمہاری پک پک پک پکا ۔۔۔۔۔۔۔ سے تو جاؤ میرے سر پر سے ہٹو ۔۔۔۔۔۔
جاناں مرغی کی آواز نکال کر اسے بولتی پھر سے لیٹ گئی تھی
اوہ میڈم ۔۔۔۔۔ایک تو تم دوپہر کی بجائے شام کو آئی ہو اور یہ کوئی رات نہیں ہے ابھی جو تم نوابوں کی طرح لمبی پڑ گئی ہو ۔۔۔۔۔۔۔ اور میڈم صاحبہ اب آپ سوئیں گیں یا مرغا نوش فرمائیں گیں جو مجھے اپنا آرڈر دے رہیں ہیں ۔۔۔۔۔
ثمال اسکے کھانے میں مرغا مانگنے پر تڑخ کر بولی تھی ۔۔۔۔۔ اب مرغے کی آواز نکالنے پر ثمال کو تو یہی سمجھ آیا تھا بلکل اسکی عقل کے مطابق ۔۔۔۔۔۔۔
اوہ اللہ اللہ ایک تو یہ پتہ نہیں کس زبان میں چنے بیچ رہی ہے ۔۔۔۔۔؟ مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا ۔۔۔۔۔۔ اوپر سے یہ لڑکی مجھے سونے بھی نہیں دے رہی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاناں کا دل کر رہا تھا کہ وہ اپنا سر دیوار پر ہی دے مارے ۔۔۔۔۔۔۔
جب اسے ساری بات سمجھ آگئی کہ یہ لڑکی کوئی حامد کی گرل فرینڈ وڑینڈ نہیں ہے بلکہ وہ دونوں تو ایک دوسرے کو بہن بھائی مانتے ہیں تو پھر اسکا مطلب کوئی اور ہی لڑکی یے جس سے حامد کا افئیر چل رہا ہے ۔۔۔۔ یہ بچاری تو ایویں ہی میرے عتاب کا شکار بننے والی تھی ۔۔۔۔۔ شکر ہے کہ وقت رہتے سب پتہ چل گیا مجھے ورنہ پتہ نہیں میں اسکے ساتھ کیا کرتی ۔۔۔
جاناں اسکی شکل پر نظریں جمائے اپنے خیالوں میں گھسی ہوئی تھی کہ ثمال اسکے ہمدردی والے ایکسپریشن کو بے چارگی بھرے ایکسپریشن سمجھتی کچھ نرم پڑی تھی
چلو سہی ہے تم سو سکتی ہو مگر پہلے مجھے پلین کے بارے میں بتاؤ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ثمال صوفے پر بیٹھ کر ٹانگ پر ٹانگ چڑھائے بازو باندھتی اس پر احسان جتاتے ہوئے بولی تھی
پلین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟
اوہ تو یہ حامد نے جو مجھے پلین بتایا ہے اس بارے میں پوچھ رہی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاناں اونچا بولتی اسکے ساتھ دھپ کرکے بیٹھی تھی اور اسے بغور دیکھتے ہوئے اسنے بات شروع کی تھی
دیکھو تم یقینا” میری زبان نہیں سمجھ پاؤگی اور نہ ہی میں تمہاری تو اس طرح ہمارے پاس انگریزی چاچو ہی بچتے ہیں جن کا سہارہ لے کر ہم سارا کچھ نہیں تو شاید کچھ کچھ تو سمجھ ہی جائیں گے۔۔۔۔۔۔
جاناں نے اسے رسان سے سمجھانا چاہا تھا یہ جانتے ہوئے بھی اسے ککھ سمجھ نہیں آیا ہوگا
ہاں ۔۔۔۔۔۔۔ ہاں۔۔۔۔۔ تو بولو نہ میں سن رہی ہوں اب تم منتیں کیوں کر رہی ہو میری اس میں ۔۔۔۔۔۔
ثمال نے امید کے مطابق اپنا ہی مطلب لے لیا تھا
جاناں خوش ہوتی اسکا رخ اپنی طرف موڑ گئی تھی کہ ان دونوں کا ایک پاؤں صوفے پر مڑا ہوا اور دوسرا نیچے کارپٹ پر تھا چہرہ ایک دوسرے کے بلکل سامنے ۔۔۔۔۔۔۔
ہم کیا چھم چھم کھیلنے لگیں ہیں ۔۔۔۔۔۔؟؟
ثمال خوش ہو کر بولتی اچھلی تھی
چھم چھم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
جاناں کو سمجھ نہیں آیا کہ چھم چھم کیا ہے ۔۔۔۔؟؟؟
ارے کہیں یہ میرا نیا نام تو نہیں رکھ رہی ۔۔۔۔؟؟
نو نو نو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دیکھو ایک تو حامد نے میرا پہلے ہی گندا سا نام رکھا ہوا ہے اور اب تم بھی رکھ رہی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ تو اس سے بھی بہت برا ہے ۔۔۔۔۔۔
جاناں گندا سا منہ بناتی ایسے بولی تھی جیسے اسکے منہ میں کڑوی گولی رکھ دی ہو۔۔۔۔۔
دیکھو ۔۔۔۔۔ اممممم۔۔۔۔۔۔
Planning……. Hamid ……. Durab khan …..???
جاناں اسے اپنی ٹوٹی پھوٹی انگلش میں بتا نے کی کوشش کرنے لگی
اچھا ۔۔۔۔ آگئی سمجھ مجھے تم کہہ رہی ہو کہ حامد بھائی نے جو کہا تھا انہوں نے تمہیں پلین بتا دیا ہے وہ تم مجھے ابھی بتاؤگی
ثمال اسکا مطلب سمجھتی سکھ کا سانس لے گئی کہ چلو اسے انگلش تو آتی ہے کم از کم اب بات کر سکیں گے ۔۔۔۔۔۔ جیسے اسے تو انگلش میں ماسٹرز کی ڈگری ملی ہو۔۔۔۔۔
اوکے ۔۔۔۔۔ ٹولڈ ۔۔۔۔۔۔ ٹولڈ ۔۔۔۔۔۔۔۔
ثمال اردو میں پہلے اسے مارکس دیتی صوفے سے ٹیک لگاکر بولی تھی
اب ٹولڈ کر بھی دو ایسے میرا منہ کیا دیکھ رہی ہو ۔۔۔۔۔
جاناں جب اسکے اسٹائل پر اسکا منہ دیکھتی رہی تو ثمال جھنجھلا کر بولی تھی
اوکے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاناں نفی میں سر ہلاتی سانس بھرکر رہ گئی تھی
یو ۔۔۔۔اینڈ ۔۔۔۔ می۔۔۔۔۔۔گوئنگ ۔۔۔۔ ڈاؤن ۔۔۔۔۔ یو ٹولڈ ۔۔۔۔۔حامد ۔۔۔۔ فون۔۔۔۔۔۔ اینڈ واچ۔۔۔۔۔۔ پیپر ۔۔۔!!
جاناں اسے نیچے تہہ خانے کی تلاشی لینے کے بارے میں بول رہی تھی جو اس نے حامد کو فون پہ بتایا تھا جس کے مطلق۔۔۔۔۔
اوہ …..تم کہہ رہی ہو میں اور تم نیچے بیٹھ جائیں اور حامد بھائی کو فون کرکے بتائیں کہ ہم نیچے بیٹھ گئے ہیں اور پھر کاغذوں کو دیکھیں ہے نہ ۔۔۔۔؟؟
ثمال اسکا مطلب سمجھتی جوش سے بولی تھی
لیکن یہ کیسا پلین ہوا ۔۔۔۔؟؟؟ ہمارے نیچے بیٹھنے سے یہ کیسے پکڑے جائیں گے ۔۔۔۔؟؟
مگر پھر ثمال کو یہ بھی خیال آیا کہ اس سے وہ دراب خان کو کیسے پکڑے گی
نے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
جاناں کو اسکی زرا سمجھ نہیں آئی تو بولی تھی مگر پھر ثمال کا خود کو گھورتے دیکھ وہ زبان دانتوں تلے دبا گئی تھی
سوری ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ !! واٹ۔۔۔۔۔۔۔؟؟
نہیں بلکل بھی نہیں۔۔۔۔۔۔ ایسے نہیں ہو پائے گا بھئی ہمیں چاہیے کہ سیدھا سیدھا حامد بھائی کو فون ہی کرلیں اس طرح کم از کم ایسے چوہوں کی طرح چک چک تو نہیں ہوگی نہ ۔۔۔
ثمال اپنا فون اٹھاتی اسے دیکھ کر بولی تھی جبکہ جاناں بس خاموشی اسکی کاروائی دیکھ رہی تھی
حامد بھائی ۔۔۔۔۔۔ آپ کو پتہ بھی ہے کہ ہم دونوں مشرق اور مغرب ہیں پھر بھی صرف جھمکی کو ہی سب بتا دیا مجھے کچھ نہیں حالانکہ لیڈر تو میں ہوں ۔۔۔۔۔
ثمال حامد کے فون اٹھاتی ہی شروع ہو گئی تھی حامد سوائے مسکرا نے کے اور کچھ بھی نہیں بولا تھا
ہیلو ۔۔۔۔؟؟ حامد بھائی کہیں آپ بھی تو مغرب نہیں چلے گئے ؟
ثمال حامد کے کچھ نہ بولنے پر اکتاتے ہوئے بولی
ڈئیر میں بھی سن رہا ہوں اور محند صاحب بھی سن رہے ہیں تم زیادہ پریشان مت ہو میں تمہیں سب سمجھا دیتا ہوں اوکے ۔۔۔۔۔۔۔
ٹھیک ہے اب سارا کام تم دونوں نے رات کو سب کے سونے کے بعد کرنا ہے احتیاط سے ۔۔۔۔ کہیں تم لوگ پکڑے نہ جاؤ ۔۔۔۔ اگر خدانخواستہ ایسا ہو بھی گیا تو تم دونوں کیسے بھی کرکے وہاں بھاگ نکلنا میں اور محند اسی جگہ جہاں جاناں کو اتارا تھا وہیں ہوں گے ۔۔۔۔ گھبرا نا مت ۔۔۔۔
تم سن رہی ہو نہ ثمال ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟
حامد اسے بولتا کنفرم کر رہا تھا کہ اسے سب سمجھ آگیا یا نہیں ۔۔۔۔۔
جی سب سمجھ آگیا مجھے ۔۔۔۔۔!
ادھر دو ۔۔۔۔۔۔۔۔
محند جو کب سے ان دونوں کی گفتگو سن رہا تھا بلآخر ضبط کھوتا اس سے فون لے گیا اور جیسے ہی اس نے سپیکر بند کرکے فون کان سے لگایا تو پتہ چلا کہ فون ہی بند ہو چکا ہے ۔۔۔۔ اس پر تو اسے مزید غصہ آیا ۔۔۔۔۔ حامد اسکی جلن پر اپنی بےساختہ امڈنے والی ہنسی کو ضبط نہ کر سکا اور اسے دیکھتا ہنسنے لگا
محند فون اس پر اچھالتا اسے سخت تیوروں سے گھورتا واک آؤٹ کر گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہیلو ۔۔۔۔۔۔۔ جی وکیل صاحب میں نے جو کام دیا تھا وہ ہوا یا نہیں ۔۔۔۔۔؟
جی میڈیم آپ کا کام ہوگیا ہے بس کسی بھی وقت نوٹس محند سلطان کو پہنچتا ہی ہوگا
وکیل متانت سے بولا
اوکے ۔۔۔۔۔
شمائل فون بند کرتی ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑی ہوئی تھی اور اپنا عکس دیکھتی لپ اسٹک کو ایک اور ٹچ دیا تھا
اب دیکھتی ہوں محند تم کیسے مجھے نہیں اپناتے ۔۔۔۔۔۔ میں تمہیں اس حد تک مجبور کر دوں گی کہ تم خود آکر مجھے پرپوز کروگے
چمکتی آنکھیں لئے وہ اپنا پرس اٹھاتی کمرے سے باہر نکلی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تم تو کہہ رہے تھے کہ تم یہاں نہیں آؤگے تو پھر اب کیوں آئے ہو ۔۔۔۔۔۔۔؟؟
دراب خان اپنے بیٹے اور بہو کو دیکھتے کچھ جتاتے ہوئے بولے تھے
بابا جان آپ بھی نہ اب آتو گئے ہیں تو کیوں پھر واویلا کر رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔ کہتے ہیں تو واپس چلے جاتے ہیں ۔۔۔۔
سلمان کا والد اسکی بات سن بگڑتے ہوئے بولا تھا
ہونہہ ۔۔۔۔۔۔ڈرپوک ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دراب خان منہ میں بڑ بڑایا
او ۔۔۔۔۔۔۔۔ واٹ آ سرپرائز ۔۔۔۔۔ موم ۔۔۔۔۔ ڈیڈ ۔۔۔۔۔ آپ لوگ آہی گئے آخر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سلمان انہیں دیکھ کر خوش ہوتا ان سے ملا اور اپنی والدہ کی گود میں سر رکھتا صوفے پر لیٹ گیا تھا
ہاں صرف تمہیں ہی ہمارے آنے کی خوشی ہوئی ہے ورنہ تو بابا جان منہ ہی بگاڑ کر بیٹھ گئے ہیں
چھوڑیں نہ ڈیڈ ۔۔۔۔۔۔ آپ تھکے ہوئے آئے ہوں گے چل کر آرام کر لیں
سلمان ثمال کو آتا دیکھ اپنے باپ سے بولا کہ کہیں اسکے سامنے اسکی ریپوٹیشن نہ خراب ہو جائے کہیں۔۔۔۔۔
اسلام وعلیکم۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ثمال کے پیچھے جھمکی بھی تھی
وعلیکم اسلام۔۔۔۔۔۔۔۔
حیرانی سے دیکھتے ہوئے ان دونوں نے اسکے سلام کا جواب دیا
ڈیڈ یہ ثمال ہے اور اسکی ملازمہ میں نے آپ کو بتایا تھا نہ فون پہ ثمال کے بارے میں؟ ۔۔۔۔۔۔ اور ثمال یہ میرے موم ڈیڈ ہیں ۔۔۔۔۔۔
سلمان نے انکا آپس میں تعارف کروایا
اچھا اچھا یہ ہے میرے بھائی کی بیٹی اسکی آخری نشانی ۔۔۔۔۔۔۔۔
لو شروع ہوگیا ڈرامہ ۔۔۔۔۔۔۔
ثمال سلمان کے باپ کا ڈراما دیکھ کر منمنائی
تایا ابو آپ تھک گئے ہوں گے چلیں چل کر آرام کر لیں پھر باتیں تو ہوتی ہی رہیں گی نہ اور ویسے بھی اب سونے کا وقت ہو چلا ہے
ثمال میں اس وقت بلکل بھی ہمت نہیں تھی کہ وہ انکی نوٹنکیاں دیکھ سکے اس لئے انہیں سونے کا کہا تھا اور ویسے بھی جتنا جلدی یہ لوگ سوتے اتنا جلدی ہی ان دونوں نے اپنا کام کرنا تھا
ہاں ٹھیک ہے ہم پھر جاتے ہیں ویسے بھی مجھے بہت نیند آرہی تھی
وہ دونوں اسے پیار کرتے آرام کرنے کی غرض سے چلے گئے تھے مگر ثمال انہیں نفرت سے جاتے ہوئے دیکھ رہی تھی جو لوگ مصیبت کے وقت اسے اپنے پاس رکھ نہیں سکے اور جن لوگوں نے بے گناہ لوگوں کو مار دیا وی کیسے اتنے سکون سے رہ سکتے ہیں ۔۔۔۔۔ اسے اپنے اندر دوڑتے اس خون سے نفرت ہو رہی تھی جو بد قسمتی سے ان گناہگاروں کا اسکی رگوں میں دوڑ رہا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات کا ایک بج رہا تھا جب ثمال اور جھمکی سب چیک کرنے کے بعد کے سب سوچکے ہیں تو آگے پیچھے دیکھتیں وہ دونوں اسی طرف گئیں تھیں جہاں دراب خان ثمال کو نہیں لے کر گیا تھا
ثمال آگے اور جاناں اسکے پیچھے تھی ۔۔۔۔ ثمال اسے کسی لیڈر کی طرح گایڈ کر ہی تھی کہ ایسے چلو یہاں رکو میرے پیچھے رہنا ۔۔۔۔ جاناں اسکی بار بار کی روک ٹوک پر اب تپ گئی تھی مگر سیچوئشن کے لحاظ سے بچاری چپ کر گئی تھی
ثمال اور جاناں نیچے بنے رہی خانے کے دروازے پر پہنچ چکے تھے اب دونوں سامنے لگے تالے کو دیکھ رہیں تھیں کہ یہ تو انہوں نے سوچا ہی نہیں تھا کہ تالا بھی لگا ہوسکتا ہے حالانکہ یہ تو یقینی بات تھی
لو چلو کر لو فائل چوری اب ۔۔۔۔۔ تمہیں نہیں پتہ تھا کہ تالا بھی ہوگا ۔۔۔۔۔؟؟
ثمال اسکی طرف منہ کرتی اس پر غصہ کرنے لگی تھی
جاناں اسکی چپڑ چپڑ کو اگنور کرتی آگے بڑھی تھی اور اپنے بالوں سے پن نکالتی تالا کھول گئی تھی
ثمال منہ کھولے اسے دیکھ رہی تھی جو اب دروازہ آہستہ سا کھولتی اندر جاتے ہوئے مڑی اور اسکا ہاتھ پکڑ کھینچا جو ابھی تک ہونق بنی اسے دیکھ رہی تھی
تم کہیں چور وور تو نہیں ہو ۔۔۔۔۔؟؟ مجھے پہلے ہی سمجھ لینا چاہیے تھا جو تم مار دھاڑ کر رہی تھی
ثمال دھیمی آواز میں بولتی ہوئی اسکے ساتھ اندر داخل ہوئی اور موبائل کی ٹارچ میں وہ دونوں اس بڑے سے ہال نما جگہ پر گھومنے لگیں جہاں ڈھیر سارا کاٹ کباڑ رکھا ہوا تھا
ثمال دوسری طرف دیکھ رہی تھی اور جاناں اسکی باتوں کو اگنور کرتی اسکی مخالف سمت دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔۔۔
بلآخر ثمال کو ایک پرانی سی الماری دکھی جہاں مکڑیوں نے جالا بنایا ہوا تھا
کچھ سوچتے اس نے وہ الماری کھولی اور اسے چیک کرنے لگی
ثمال نے جب ایک بوکس کو کھولا تو اس میں سے اسے فائل ملی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دل ہی دل دل میں دعا کرتے وہ فائل کھولی تو وہ فائل اسی کیس کی تھی جسے دراب خان نے دھوکے سے بند کر وا دیا تھا اور سارے ثبوت بھی لے لئے تھے
لیکن اس سے ایک بہت بڑی غلطی ضرور ہوئی تھی جو اس نے ان ثبوتوں کو ختم نہیں کیا تھا اور آج اسکی یہ غلطی اسے بہت مہنگی پڑنے والی تھی
ثمال اور جاناں نے بہت آسانی سے وہ فائل نکال کر حامد اور محند کو دی تھی جو مخصوص جگہ کھڑے انکا ہی انتظار کر رہے تھے
امید کے برعکس یہ کام بہت آسانی سے ہوگیا تھا جس کی انہیں امید تو بلکل بھی نہیں تھی یا پھر اللہ انکے ساتھ تھا جو کسی ظالم کو اسکے کے گئے ظلم کی سزا دینے کا فیصلہ کرچکا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
واؤ یار امیزنگ تم دونوں نے تو بہت جلدی کر لیا یہ ۔۔۔۔۔ مجھے تو لگا تھا کہ تم دونوں نے میں چیں میں ہی ٹائم لگا دینا ہے مگر یار ہیٹس آف ٹو یو بوتھ ۔۔۔
یہ چاروں واپس سلطان حویلی آچکے تھے اور اب روم میں بیٹھے ان دونوں کو حامد سراہے جا رہا تھا کہ ان دونوں نے یہ کام بنا کسی چوک کے پورا کر لیا تھا۔۔۔ لیکن محند انکے بیچ سنجیدہ سا بیٹھا ہوا تھا
یہ کیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟
اسکی تعریف پر خوش ہوتی ثمال کی اچانک نظر ٹیبل پر پڑے اینویلپ پر پڑی تھی
ہاں محند یہ ملازم دے گیا تھا مجھے کہ کوئی تمہارے نام پہ دے گیا تھا اس لئے میں نے اس سے لے کر یہاں تمہاری ٹیبل پر رکھ دیا تھا
حامد یاد کرتے ہوئے محند کو بتا نے لگا تھا
محند اپنی جگہ سے اٹھتا ٹیبل پر رکھے اینویلپ کو کھول کر پیپر نکال کر اسے پڑھنا شروع کیا تھا
ایک رنگ آرہا تھا اور ایک جارہا تھا جو محند کے چیرے کو سخت تاثرات میں بدلتا ان تینوں کو بھی چونکا گیا
کیا ہے یہ محند ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
حامد اس سے اینویلپ لیتا بولا اور جیسے ہی اسکی نظر پڑی اس نے حیرت سے محند کی طرف دیکھا جو ضبط کرتے غصے سے لال پڑچکا تھا
شماااائل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سلگتا ہوا نام اسکے بھینچے ہوئے لبوں سے نکلا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری۔۔۔۔
