Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode18

Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode18

سردار صاحب آپ کے لئے ایک اچھی خبر ہے
فاروق اور سلیم سردار دراب خان کے ساتھ اسکے گھر کے ڈرائنگ روم میں بیٹھے چائے سے لطف اندوز ہوتے بولے تھے
کیسی۔۔۔۔۔۔۔ خبر جلدی بتاؤ۔۔۔۔۔۔
سردار دراب خان چائے کی چسکی لیتا اپنی رعب دار شخصیت کے ساتھ بولا
ارے سردار صاحب ایسی خبر ہے کہ آپ کا دل خوش ہو جائے گا ۔۔۔۔
فاروق ہاتھ مسلتے مسکراتے ہوئے بولا تھا
تم تو رہنے ہی دو میں بتاتا ہوں سردار صاحب ۔۔۔
سلیم پیالے کو ٹیبل پر رکھتا تھوڑا آگے کو جھکا تھا
بات یہ ہے کہ سردار صاحب آپ کے دشمنوں کا بچا ہوا وارث محند سلطان یہاں واپس آچکا ہے۔۔۔۔
خبر تھی کہ خوشی کی نوید تھی سردار دراب کا چہرہ خوشی کی تمازت سے تپتپا اٹھا تھا
کیا یہ سچ ہے۔۔۔۔۔۔۔؟؟ سوچ کر جواب دینا سلیم ورنہ میری بندوق کی گولی کا حقدار سلطان کے بیٹے کی بجائے تم بنوگے ۔۔۔
سردار دراب کو یقین ہی نہیں آرہا تھا اس لئے اسے دمھکاتے وہ سختی سے بولا تھا
سو فیصد کھرا سچ ہے سردار صاحب جھوٹ نکلا تو میں ہوں گا اور میرا سینہ اتار لیجے گا گولیاں جتنی اتارنی ہیں آپ کو ۔۔۔۔۔۔۔۔
ہا ہا ہا ہا ہا۔۔۔۔۔۔۔ بہت انتظار کیا ہے میں نے اسکا بس ایک یہی تو بچ گیا تھا جو اب بلکل نہیں زندہ رہے گا
سردار دراب قہقہہ لگاتا کھڑے ہوتے جوش سے بولا تھا
سفید پگڑی پہنے اور سفید ہی کرتا دھوتی اور پاؤں میں کھسہ ہاتھ میں چھڑی اور کندھے پر لٹکتی براؤن شال بھی اسکے ساتھ غروریت کی جھلک دکھا رہیں تھیں
تو بس اسے ختم کرنے کے بعد میرا بدلہ پورا ہوگا اور پھر میں سکون سے سو سکوں گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سردار دراب خان کا چہرہ ایسے تپ رہا تھا جیسے آگ جل رہی ہو اس دیکھتے ہی انسان سمجھ جائے کہ وہ سلطان خاندان سے کس حد تک نفرت کرتا پے۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ولیمہ میں سارے مہمان حیرانی سے بی بی جان کو دیکھ رہے تھے تو کوئی کہہ رہا تھا کہ وہ شائد پاگل ہو گئیں ہیں ورنہ تو وہ اپنے اکلوتے پوتے کو کبھی بھی یہاں لے کر نہ آتیں اس گاؤں میں جہاں ان کا سب سے بڑا دشمن سردار دراب خان اس انتظار میں تھا کہ جب وہ یہاں آئے اور اسے انکے سامنے ختم کرے ۔۔۔۔۔۔۔۔
لیکن آج اتنے سالوں بعد ایسا کیا ہوا کہ بی بی جان کے اندر اتنی ہمت آگئی کہ وہ اپنے پوتے کو لئے یہاں آگئیں تھیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ثمال اورنج کلر کے ٹیل لانگ بھاری کام ہوئے شرارے اور اس رنگ کے نگوں کا ڈائمنڈ وائیٹ سیٹ اور ماہرانہ بیوٹیشن کے ہاتھوں جدید میک اپ اسے آج الگ ہی روپ میں لے آیا تھا اوپر سے پیا ملن کی سرخی نے بھی اسے اور حسین سے حسین تر بنا دیا تھا
شرمائی گھبرا ئی سی ثمال سر جھکائے ریڈ نیٹ کے گھونگھٹ میں بمشکل ہی بیٹھی ہوئی تھی
اس نے بار بار نظریں اٹھا کر چاروں طرف دیکھنا چاہا کہ اسکے اماں ابا اور ببلو کہاں ہوں گے مگر وہ انہیں کہیں نظرنہ آئے نہ ہی اس کی ان سے بات ہو پائی تھی اوپر سے کسی نے بھی اس سے نہیں کہا کہ وہ اگر کسی کو بلانا چاہتی ہو لسٹ دے دے مگر ایسا تو ہوا ہی نہیں۔۔۔۔۔۔
بی بی جان تو جب سے یہاں آئیں تھیں انہوں نے اور بھی زیادہ اس سے بے رخی برتنی شروع کردی تھی اور محند کو تو اس کے مطابق دورے پڑتے تھے تو اس کی تو اسے کوئی ٹینشن ہی نہیں تھی۔۔۔۔۔۔۔۔
اس نے ہلکہ سا رخ موڑ کر اپنے ساتھ بیٹھے اپنے ہم سفر کی طرف دیکھا جو سنجیدہ سا مٹھیاں بھینچے سامنے دیکھ رہا تھا جہاں بی بی جان کسی نئے آنے والے مہمان کے ساتھ باتیں کر رہیں تھیں ۔۔۔۔۔۔
اففف۔۔۔۔۔ ایک تو میں نے صبح سے کچھ نہیں کھایا اور یہ اتنا وزنی شرارہ ہے کہ میری تو گردن ہی جھک جھک کر ٹوٹ رہی ہے ۔۔۔۔۔ہائے کب ختم ہوگا یہ فنکشن۔۔۔۔۔۔۔
ایک دم سے محند اٹھ کر سٹیج سے نیچے اتر کر پتہ نہیں کہاں چلاگیا پیچھے ثمال دانت پیستے رہ گئی تھی ۔۔۔۔۔۔۔
کیا ہوتا اگر مجھے بھی ساتھ لے جاتے یہ ۔۔۔۔
کچھ دیر سوچتی پھر سے نظریں جھکا گئی کہ سب بار بار اسے ہی دیکھ رہے تھے جو کہ عموما” سب ہی شادیوں میں ہوتا ہے کہ دلہن کو دیکھنے کے علاوہ تو کوئی کام ہی نہیں ہوتا سب کو ۔۔۔۔۔۔۔۔
کیسے دیکھ رہیں ہیں یہ مجھے جیسے میں دلہن نہ ہوئی لچھے والا پتیسہ ہی ہوگئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ثمال کو لچھے والا پتیسہ بیت پسند تھا جو وہ اور ببلو اپنی پرانی کاپیاں یا اخباریں دے کر ردی والے سے لیکر کھاتے تھے
ثمال کے منہ میں پتیسے کا سوچ کر پانی ہی آگیا ساتھ میں ہی اسے پھر سے شدت سے اپنے گھر والوں کی یاد آئی تھی
ثمال کا دل بھی صبح سے خراب ہو رہا تھا عجیب ہی فیلنگ آرہیں تھیں اسے ۔۔۔۔۔ بچپن میں بھی جب کچھ برا ہونے والا ہوتا تو اسکا دل یونہیں لرزنے لگ جاتا تھا
اللہ خیر کرے ۔۔۔۔۔۔۔!!
اسکے منہ سے بے ساختہ یہ دعا نکلی تھی مگر کون جانے کہ یہ دعا راستے سے ہی واپس لوٹ آئی تھی اور اسکے لئے قدرت نے کڑی آزمائش رکھی تھی ۔۔۔۔۔ بیت ہی کڑی آزمائش۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سردار صاحب انکی طرف سے انکے پوتے کے ولیمے کا کرڈ آیا تھا لیکن میں نے صاف صاف منع کردیا ۔۔۔۔۔۔ مجھے پتہ تھا آپ دشمنوں سے ملنے انکی خوشیوں میں شریک ہونے کیوں جائیں گے ۔۔۔۔۔۔
سلیم ڈیرے پر موجود سردار دراب خان کو بتاتے ہنسا تھا لیکن سردار دراب خان کے چلتے پیر یک دم رکے تھے اور اس نے سخت نظروں سے اسے دیکھا تھا
کس سے پوچھ کر تم نے منع کیا ۔۔۔۔؟؟؟
مت بھولو کہ تم میرے وفادار ملازم ہو ملازم ۔۔۔۔۔میرے باپ نہیں ہو جو بنا پوچھےفیصلے کرتے پھر رہے ہو ۔۔۔۔۔۔
سلیم دو قدم پیچھے ہٹا تھا مبادہ کہیں تھپڑ ہی نہ پڑ جائے اسے ۔۔۔۔۔۔
وہ آپ کبھی دشمن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چپ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!
اس سے پہلے کہ سلیم کوئی وضاحت دیتا سردار دراب خان دھاڑے تھے
پھر سے کہہ رہا ہوں آئندہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انگلی اٹھا کر اسے سخت تنبیہ کی گئی جس پر سلیم سر کھجاتا فورا” سے سر ہلا گیا تھا
سردار دراب خان کو دشمن نے اپنی خوشیوں میں بلایا ہے تو یہ سردار ضرور جائے گا وہاں انکی آخری خوشیوں کو آخری بار دیکھنے۔۔۔
ہا ہا ہا ہا ہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سفاکیت سے کہتا قہقہے لگاتا سردار دراب خان شائد بھول چکا تھا کہ خدا کی لاٹھی بے آواز ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بہت مبارک ہو صغراں بیگم پوتے کی دوسری شادی بھی کردی اور پوتی بھی بہت معصوم ہے تمہاری اور بہو بھی میں تو تمہاری فیملی کو ہنستا بستا دیکھ بہت خوش ہوں ۔۔۔۔
ہاں جانتی ہوں دراب خان تم کتنا خوش ہوگے ۔۔۔!!
بی بی جان اسکے لفظوں میں چھپی نفرت کو سممجتی تھیں اسی لئے بے خوف مسکراتے بولیں تھیں جبکہ دل میں جوالہ مکھی پھٹ رہی تھی کہ ابھی اسے اپنے ہاتھوں سے نیست و نابود کردیں ۔۔۔۔۔۔
تو۔۔۔۔۔ دیکھو نہ میں تو تمہاری خوشی میں شریک ہونے کے لئے دوڑا چلا آیا مجھ سے تو صبر ہی نہیں ہو رہا تھا صغراں بیگم اپنے دشمنوں کے آخری چراغ کو دیکھنے کے لئے ۔۔۔۔
یقین مانو اس چراغ کو بھجانے میں بھی مجھ سے صبر نہیں ہو رہا ہے ۔۔۔۔۔۔
یہ ہمت اور حوصلہ ہی تھا جو بی بی جان اسے برداشت کر رہیں تھیں اور من ہی من اس پر دھماکہ کرنے کے لئے بہت متجسس بھی تھیں
سردار دراب خان تیار رہو کیونکہ تم پر ایسا آسمان ٹوٹنے والا ہے کہ تمہاری بنیادیں تک ہل جائیں گیں تمہیں کیا لگتا ہے کہ تم اپنے پوتے کی پہچان بدل کر اسے یہاں سے بھیج دوگے اور کہوں گے کہ تمہارا کوئی پوتا نہیں تو یہ تمہاری بھول ہے دراب خان ۔۔۔۔۔ سارے پر دوں سے ایک ایک راز کا پردہ سرک چکا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ اور اب وقت تمہاری بربادی کا شروع ہونے والا ہے ۔۔۔۔ اب تم سسکو گے دراب خان تمہاری نسلیں فنا ہوں گیں ۔۔۔
اور تم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟
کچھ بھی نہیں کر سکوگے ۔۔۔۔۔۔۔
بی بی جان کی بات پر دراب خان کے ہوش اڑے تھے مگر چہرے کے تاثرات نارمل رکھتے وہ نارمل سا بولا تھا
کیا مطلب ہے تمہارا ۔۔۔۔۔۔؟؟
بی بی جان دراب خان کے اپنے خوف بھرے تاثرات چھپا نے پر مسکرائی تھیں
بتاتی ہوں سردار دراب خان ۔۔۔۔۔۔ سب بتاتی ہوں میں تمہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تمہارا پوتا بھی ہے اور پوتی بھی اور جو خبر تم نے اڑائی تھی کہ تمہارا بیٹا بہو اور بچے ایکسیڈینٹ میں مر گئے تھے جو کہ سراسر افواہ تھی ۔۔۔۔۔ وہ مرے نہیں تھے بلکہ تم نے ایسا ظاہر کیا تھا دراب خان اور ان سب کو یہاں سے غائب کروا دیا ۔۔۔۔۔۔
اب کی بار دراب خان کے ماتھے پر پسینے کی بوندیں پھوٹیں تھیں جنہیں مسکراتی نظروں سے دیکھتیں بی بی جان مزید گویا ہوئی تھیں
اور میں اپنی آنکھوں کے سامنے رہتے دشمن کے خون کو نہ پہچان سکی ۔۔۔
نن۔۔۔۔ نہیں یہ ۔۔۔۔۔ سب جھوٹ ہے ایسا کچھ نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔
پسینہ صاف کرتے وہ بوکھلا یا تھا اور یہی بوکھلاہٹ سردار دراب خان کی بی بی جان کے سینے میں سکون پہنچا رہی تھی وہ جانتی تھیں اپنوں کی طرف کوئی آنکھ اٹھا کر بھی دیکھے تو کیسے کیسے خوف لاحق ہوتے ہیں
رہی بات یہ کہ تم نے یہ سب صرف محند کے بچ جانے اور اسکے واپس لوٹ کر بدلہ لینے کے علاوہ دراب خان اور بھی بہت سارے دشمن ہیں جنکی بہن بیٹیوں کی عزتوں کو تار تار کیا تھا تمہارے بیٹوں نے ۔۔۔۔۔۔ اب وقت تمہارے پوتے پوتی کا ہے دراب خان وقت بہت بے رحم ہے سود سمیت بدلہ لیتا ہے ۔۔۔۔۔۔
جھ۔۔۔۔۔۔ جھوٹ میرا کوئی پوتا پوتی نہیں ہے تمہیں غلط فہمی ہوئی ہے۔۔۔۔۔۔
دراب خان بہت کوشش کر رہا تھا اپنے لہجے پر قابو پانے کی مگر ناکام ٹھہر رہا تھا
سلمان ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سلمان یزدانی ۔۔۔۔۔۔۔۔!!
یہی ہے نہ تمہارا پوتا ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟..
یہ کیا ۔۔۔۔۔ سردار دراب خان نے جسے دنیا سے تو کیا خود سے بھی چھپا یا تھا اپنے سے دور رکھا تھا وہ یوں سامنے آجائے گا انہیں یقین ہی نہیں ہو رہا تھا
تم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تم کچھ نہیں بگاڑ سکتی میرے پوتے کا ۔۔۔۔ تم ۔۔۔۔۔
غصے سے سردار دراب خان کے منہ سے جھاگ نکلنے لگ گئی
یہ تو کچھ بھی نہیں ہے دراب خان ابھی تو بہت کچھ پڑا ہے تمہارے وجود کے پرخچے اڑا نے کے لئے۔۔۔۔۔۔
زرا سوچو تو اگر تمہیں فون آئے کہ تمہارے اکلوتے پوتے کا ایکسیڈینٹ۔۔۔۔۔۔۔
نہیں ں ں ں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سردار دراب خان کی دھاڑ نے سںب کو انکی طرف متوجہ کیا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ثمال کب سے اکیلے بیٹھے بیٹھے بری طرح تھک چکی تھی اور دیکھ رہی تھی کہ بی بی جان آئیں اور اسے آرام کرنا کا کہیں مگر وہ تو پتہ نہیں کس سے رازو شناس کر رہیں تھیں کہ آہی نہیں رہیں تھیں۔۔۔۔۔
اس سے پہلے کہ ثمال خود ہی اٹھتی اسے وہی شخص چلاتا ہوا محسوس ہوا اس نے جھٹ سے اس طرف دیکھا تھا
ابھی وہ پریشانی سے اٹھ کر چلی ہی تھی کہ اسے کسی نے کھینچا تھا وہ جو اپنے ہی دھیان میں بہت مشکلوں سے بھاری لہنگے کو اٹھا کر چل رہی تھی دھڑام سے کسی کے سینے سے آلگی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔
کھنچنے والے نے اسے سختی سے سیدھا کیا اور گھسیٹتا ہوا ہال سے باہر لے گیا
ثمال نے جب اسکی طرف دیکھا تو وہ محند تھا
اللہ انہیں پھر سے دورہ پڑ گیا ۔۔۔۔
وہ یہی سوچتی کہ اسے غصہ چڑ چکا ہے اور اب ہمیشہ کی طرح وہ اپنا غصہ اسی پر نکالنے والا ہے مگر اتنی خوفزدہ نہیں ہوئی تھی
کیونکہ محند جب بھی اس پر اپنا غصہ اتارتا تھا وہ غصہ کم پیار زیادہ ہوتا تھا
ثمال یوں سب مہمانوں کے سامنے کھینچ کر لے جا نے پر خائف سی ہوئی تھی اور مسلسل اس سے اپنا ہاتھ چھڑوا نے کی کوشش کر رہی تھی
مگر محند اسے گاڑی میں پٹکتا فل سپیڈ پر گاڑی دوڑائے حویلی جانے والے راستے کی طرف مڑ گیا
اچانک ہی طوفان چلنا شروع ہوگیا اور دیکھتے ہی دیکھتے زوردار بارش نے برسنا شروع کردیا
بجلی چمک کے ساتھ خوفناک آوازیں نکال رہی تھی اور اس سب سے ثمال سردی سے ٹھٹرتی بے حد خوفزدہ ہوگئی تھی کیونکہ محند نے گاڑی کے تمام شیشے نیچے کئے ہوئے تھے وہ شدید غصے میں کانپ رہا تھا غصہ اور جنوں اتنا تھا کہ ہر چیز تہس نہس کرنے کا دل کر رہا تھا غصے سے اسکی آنکھوں میں پانی آ رہا تھا
حویلی پہنچ کر محند اسے کھینچ کر نیچے اتارتا بے دردی سے گھسیٹتا روم میں لاکر فرش پر پھینکا تھا
ثمال ٹوٹی ہوئی ڈال کی طرح نیچے فرش سے زور سے لگی تھی کہ اسکا سر پھٹ گیا اور خون کی لکیر یں فوارے کی طرح بہنا شروع ہوگئیں
آہ ہ ہ ہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محند پاگلوں کی طرح اپنے بال نوچتا چلاتا دھاڑتا کمرے کی ہر چیز تباہ کرنے لگ گیا
ثمال اسے اتنے غصے میں دیکھتی ڈر کر دیوار سے جا لگی تھی وہ ڈر کے مارے سر سے بہتے خون سے بھی لاپرواہ ہوگئی
بادل زور زور سے چیخ رہے تھے جیسے محند کے ساتھ بھرپور شامل ہوں اسے ڈرا نے میں اور وہ کامیاب بھی ہوگئے تھے ثمال کی آنکھوں کے آگے اندھیرا چھانے لگا تھا مگر وہ اپنی آنکھوں کو جھپک جھپک کر کھلا رکھنے کی کوشش میں تھی
محند نے اسکی جانب اپنا چہرہ کیا تھا اور اسے دیکھتی ثمال چیختی دیوار میں منہ دے گئی تھی
محند کی آنکھیں انتہائی لہو خیز ہو چکیں تھیں
وہ اسکے پاس آکر گھٹنوں کے بل بیٹھ چکا تھا
ثمال اسے اپنے قریب محسوس کرتی خود میں سمٹی تھی
محند نے اسے ایک جھٹکے سے اپنی گود میں اٹھایا تھا اور باہر برستی شدید بارش میں لے کر آیا
ثمال کی چیخ اس طوفان کے شور میں ہی دب کر رہ گئی تھی
محند سامنے دیکھتا بڑھتا ہی جارہا تھا اسکے کانوں میں بی بی جان اور سردار دراب خان کی باتیں گونج رہیں تھیں
محند اپنے حواسوں سے باہر تھا وہ کچھ سوچ سمجھ نہیں رہا تھا کہ کیا کر رہا ہے
ثمال اسکے ساتھ ساتھ پوری طرح بھیگ چکی تھی آنکھیں تو اسکی تب باہر آئیں جب اس نے دیکھا کہ محند بلکل سوئیمنگ پول کے کنارے کھڑا ہوئے کھوئے کھوئے انداز میں پانی کو دیکھ رہا تھا جو بارش کی بوندوں سے اچھل رہا تھا
ثمال کو خطرے کی گھنٹی سنائی دی ۔۔۔۔۔۔ اس نے اور بھی سختی سے اسے گردن سے پکڑ لیا
نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نن۔۔۔۔۔ پپ۔۔۔۔۔ پلیز۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *