Ishq Mera Kamil by Neena Khan NovelR50807 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode08
No Download Link
777.3K
37
Rate this Novel
Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode01 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode02 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode03(Part01) Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode03(Part02) Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode04 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode05 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode06 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode07 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode08 (Watching)Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode09 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode10 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode11 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode12 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode13 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode14(Part01) Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode14(Part02) Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode15(Part01) Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode15(Part02) Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode16 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode17 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode18 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode19 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode20 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode21(Part01) Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode21(Part02) Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode22 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode23 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode24 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode25 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode26 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode27 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode28 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode29 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode30 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode31 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode32 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Last Episode
Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode08
Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode08
محند غصے سے لمبے لمبے ڈگ بھرتا نچلے فلور پر آیا تھا جہاں سے گزرتے اسکی نظر حامد کے روم کے کھلے دروازے سے نظر آتے منظر پر پڑی جہاں وہ حمنہ کو گود میں لئے ٹیبل کی سامنے کی دو چئیرز میں سے ایک پر بیٹھا تھا اور سامنے مین چئیر پر ثمال بڑے مزے سے بیٹھی کر سی جھلاتے ہوئے ان دونوں کی طرف مسکراتے ہوئے دیکھ کر کچھ بول رہی تھی جس کا جواب حامد منہ بسورتے ہوئے ہاتھ جھلا جھلا کر دے رہا تھا
محند تلملاتے ہوئے اندر داخل ہوا اور سیدھا جاکے ثمال کی چئیر کو سیدھے ہاتھ سے پیچھے دھکیلتا اس پرجھکا اور اپنا چہرہ انتہائی قریب کرکے پھنکارتے ہوئے اس سے بولا
تو یہ ہے تمہاری مصروفیت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
ہونہہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!
کسی کو زوردار جھٹکا دے کر خونخوار نظروں سے ثمال کو گھورا ..
جی بلکل ۔۔۔۔۔ !!
اگر آپ کو نظر آگیا ہے تو آپ پلیز واپس تشریف لے جائیں ۔۔۔۔۔۔۔۔
پہلے ثمال اسکے انداز اور قربت پر بوکھلا ئی مگر پھر سینے پر ہاتھ باندھے اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے مضبوط لہجے میں بولی تھی
جہاں اسکی اتنی ہمت و جرات پر حامد عش کر اٹھا وہیں محند کے غصے کا گراف انتہائی بلند ہوا تھا ۔۔
آج تک کسی کی اتنی ہمت نہیں ہوئی تھی جو محند سلطان کو یوں ترکی بہ ترکی جواب دے سکے مگر آج چھٹانک بھر لڑکی کی اتنی ہمت کہ کسی کے سامنے وہ اپنے ہی شوہر سے وہ بھی محند سلطان کو اپنی بد تمیز ی سے للکار رہی تھی تو محند سلطان کا فرض بنتا تھا کہ وہ اسکی للکار کا جواب دیتا۔
آں ں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
محند مسکراتی نظروں سے اسے دیکھتا سیدھا ہوا تھا
ایک نظر حامد پر ڈالی جو پریشان نظروں سے اسی کی جانب دیکھ رہا تھا کہ اب کون سا لاوا پھٹنے کو ہے ۔۔۔۔ سب جانتا ہوں تمہاری ہمت کو جو آج میرے سامنےاتنا سر چڑھ کر بول رہی ہے ۔۔۔۔۔ اسکا اشارہ حامد کی طرف تھا جسے یقینا” ثمال سمجھ گئی تھی اور حقیقت بھی یہی تھی ثمال حامد کی موجودگی میں بنا ڈرے بولی تھی اسے لگا تھا کہ محند کم از کم حامد کے سامنے اسے کچھ نہیں کرے گا مگر یہ اسکی بھول تھی۔۔۔
اگر اتنی ہمت تم کل میرے سامنے دکھاتی جب تم بلکل تنہا و لاچار تھی میرے سامنے اور پھر جو میں نے کیا تھا ۔۔۔۔۔۔ ؟؟؟تو ضرور حیران ہوتا کہ کوئی تو ایسا ہے دنیا میں جو میرے مقابل کھڑا ہوسکتا ہے۔۔۔۔۔
طنزئیہ مسکراتے وہ حامد کی موجودگی کو یکسر نظر انداز کئے ثمال کو کل ہوئی بات یاد کروا رہا تھا
ثمال کے سامنے بھی وہ پل چھن سے لہرایا تھا اور ایک بار پھر اسکا دل ازیت سے لرزا تھا کہ اسی پل کے بل بوتے پر تو اس نے نہ جانے کیا کچھ سوچ لیا تھا اور پھر اسکے وہی خواب اور خوش فہمیاں اسی شخص کی بدولت ہوا میں تحلیل ہو کر اس پر ہنسیں تھیں
یاد ہے مسٹر محند سلطان ۔۔۔۔۔۔ بہت اچھی طرح یاد ہے مجھے۔۔۔۔کل کا دن تو میں کسی قیمت پر بھی نہیں بھولی اور نہ ہی کبھی بھولوں گی ۔۔
جب کبھی میرا دل آپ کی طرف سے زرا بھی موم ہونا چاہا نہ تو اس دن کے بارے میں لازمی سوچوں گی ۔۔۔۔۔۔۔۔ نم آنکھوں سے ہلکی آواز میں بولتی وہ محند کو چونکا گئی تھی
حامد ان کو اکیلے بات کرنے کی غرض سے دور ہو کر کھڑا ہوگیا تھا اور حمنہ کی طرف بظاہر گم وہ ان دونوں کی طرف ہی متوجہ تھا
محند کو لگا تھا کہ وہ حامد کے سامنے اسکی کل کی بات یاد دلا نے پر شرمندہ ہوگی مگر وہ تو نہ جانے کیسی معنی خیز بات کر رہی تھی
اوپر سے اسکی گہری کالی آنکھوں میں تیرتی نمی محند کو ایک بار پھر اپنی طرف کھینچ رہی تھی ۔۔۔۔۔
ثمال اس سے رخ موڑ تے حامد سے حمنہ کو لیکر اسے باہر آنے کا بولتی خود روم سے باہر چلی گئی ۔۔۔۔
حامد اسی پوزیشن میں کھڑے کچھ سوچتے محند کی جانب آیا اور اسکے کندھے پر ہاتھ رکھتے اسے اپنی طرف متوجہ کیا ۔۔۔
محند اپنے کندھے پر پڑتے دباؤ سے چونکا تھا اور پھر سامنے کھڑے حامد کو دیکھ کر ناگوار نظروں سے اسکے ہاتھ کو دیکھا تھا ۔۔۔ اشارہ صاف تھا کہ اپنا ہاتھ پرے ہٹاؤ۔۔۔۔۔۔
حامد نے ٹھنڈی سانس بھرتے اپنا ہاتھ واپس کھینچا تھا اور گلا کھنکار تے اپنی بات شروع کی تھی
دیکھو محند ثمال اور لڑکیوں سے ہٹ کر ہے ۔۔۔ مطلب۔۔۔۔۔۔۔ وہ بہت معصوم دل کی ہے اس میں آج کل کی لڑکیوں کی طرح دھوکہ بازی چالاکی یا تیز طراری نہیں ہے وہ بہت پیارے دل کی مالک ہے سب کا خیال رکھنے والی بس ہر وقت خوشیوں کی متلاشی زندگی کو انجوائے کرنے والی ہے وہ ۔۔۔ تم تو بہت خوش قسمت ہو کے تمہیں اللہ تعالہ نے ثمال سونپی ہے ورنہ جیسے تم خود کو بنا رہے ہو اس لحاظ سے تو اللہ تعالہ کو تمہیں جھٹکا دینا چاہیے تھا تاکہ تم سدھر سکو۔۔۔۔۔ مگر خیر ایک لحاظ سے ثمال تمہارے لئے ایک جھٹکا ہی ہے جو تمہیں ہلا کر رکھ دے گی میرے بھائی ۔۔۔۔۔۔۔
حامد نرم دوستانہ انداز میں محند کو ایک بھائی کی طرح کچھ سمجھانے کی کوشش کر رہا تھا حالانکہ یہ بھی اچھی طرح سے جانتا تھا کہ کوئی فائدہ نہیں ہے اسے کچھ سمجھانے کا کرے گا وہ اپنی ہی آخر پہلے کب سنی ہے اس نے کسی کی جو وہ اب سنے گا مگر پھر بھی اس نے کوشش ضرور کی تھی
مسٹر حامد بہتر ہوگا کہ تم اپنے کام سے کام رکھو کیونکہ تم بھول رہے ہو کہ میں تم سے ایک سٹیپ اوپر ہوں اور ففٹی پرسینٹ شئیرز کا مالک ہوں تو اس لحاظ سے میں تمہارا باس ہوا تو تم پچیس پرسنٹ شئیرز کے ساتھ اپنی اوقات میں رہو تو بہتر ہوگا ۔۔۔۔
حامد کے کندھے پر زور سے ہاتھ مارتے محند نے حامد کی بھڑاس بھی نکال ہی لی تھی
ہا ہا ہا ہا۔۔۔۔۔۔ محند تم میرے بھائیوں کی طرح ہو اسی لئے میرا فرض تھا تمہیں سمجھانا اب ایٹ لیسٹ میں سکون سے تو رہ سکوں گا کہ میں نے اپنا فرض تو پورا کیا باقی تم جانو اور تمہارے کام ۔۔۔۔۔۔
حامد کہہ کر مڑا ہی تھا کہ اسکے کانوں میں محند کی آواز پڑی تھی
بلکل صحیح کہا تم نے میں جانو میرے کام جانیں اور میری بیوی سے بھی میں ہی جانوں اس لئے میری بیوی اور میری بیٹی سے دور رہو تم ۔۔۔۔۔۔۔
محند کہتا اسے حیران پریشان چھوڑے خود نکل گیا تھا
اوہ ہ ہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ عشق نہیں آساں بس اتنا سمجھ لیجئے
جیلسی کا سمندر ہے اور تمہیں ڈوب کے جانا ہے
ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا۔۔۔۔۔۔۔.
حامد چئیر پر بیٹھا ہنسی سے لوٹ پوٹ ہوتے دوہرا ہو رہا تھا
محند بیٹے فائنلی مل ہی گیا تمہارے سدھار نے کا راستہ ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ثمال حامد کی گاڑی میں بیٹھی اسکا انتظار کر رہی تھی اسکے آنے پہ فورا” آنسو صاف کرتی سیدھی ہو کر بیٹھ گئی
حامد مسکراتا ہوا گاڑی میں بیٹھا اور گاڑی سٹارٹ کر کے سڑک پر چلنے چھوڑ دی ۔۔۔۔۔۔
دیکھو ثمال تم میری بہنوں کی طرح ہو نہیں بلکہ میری بہن ہو اس لئے میں جو بھی کروں گا تمہاری بہتری کے لئے ہی کروں گا ۔۔۔۔۔
حامد نے دیکھ لیا تھا کہ ثمال کب سے گاڑی میں بیٹھی آنسو بہا رہی تھی اور اسکے آنے پہ فورا” آنسو صاف کئے تھے کہ اسے پتہ نہ چل جائے اسی لئےتھوڑی دیر کی توقف کے بعد حامد نے کچھ سو چتے ہوئے بات شروع کی تھی ۔۔۔۔۔۔۔
کہنا کیا چاہتے ہیں آپ حامد بھائی ۔۔۔۔۔۔۔ ثمال الجھی الجھی سی بولی
میں جانتا ہوں ثمال کہ تمہارا اور محند کا رشتہ کیسا جارہا ہے میں زیادہ کھل کربات نہیں کروں گا کیونکہ اس سے سوائے تکلیف کے اور کچھ حاصل نہیں ہوگا
آپ کیا کہہ رہے ہیں ۔۔۔۔؟؟؟ایسا تو کچھ بھی نہیں ہے میں تو۔۔۔۔۔۔۔
بی بی جان نے مجھے سب بتایا ہے تو میں جانتا ہوں اس لئے اب جھوٹ بولنا بند کرو۔۔۔۔۔۔۔
ثمال بول ہی رہی تھی کہ حامد نے اسے بیچ میں ہی ٹوک دیا تھا
آپ کچھ نہیں جانتے حامد بھائی کچھ بھی نہیں ۔۔۔۔۔۔ ثمال کو لگا کہ اب چھپا نے سے اچھا ہے کہ وہ کسی کے کندھے پر سر رکھ کر اپنا سارا غبار باہر نکال دے ورنہ وہ ایسے ہی گھٹ گھٹ کر دوہری ہوجائے گی
میں جانتا ہوں ۔۔۔۔۔ سب جانتا ہوں ۔۔۔۔ میں یہ بھی جانتا ہوں کہ ۔۔۔۔۔۔ کہ محند نے ڈائیوورس پیپرز بھی تیار کروا لئے ہیں ۔۔۔۔
حامد کے اس انکشاف پہ ثمال اسے حیرانی سے دیکھنے لگی
مجھے سب پتہ ہوتا ہے ڈئیر میرے بھی کچھ مخبر ہیں جو مجھے پل پل کی خبریں دیتے ہیں اور اسکے علاوہ بھی ایسا بہت کچھ ہے جو مجھے معلوم ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔
حامد اسے بتاتے ہوئے سنجیدگی سے بول رہا تھا
تو ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
کیا تو ۔۔۔ تو۔۔۔۔۔۔؟؟
اب حامد کے ہاتھ ایک ترپ کا اکا لگا ہے
کیسا اکا ۔۔۔۔۔۔؟؟
بس تم دیکھتی جاؤ اب محند سلطان کے ساتھ اب ہم سلطانی کریں گے
جو بھی کریں بس آپ نے میری سائڈ لینی ہے میرا بھائی بن کے بس۔۔۔۔۔۔۔۔
ثمال کو لگا کہ حامد محند سے بدلہ لینے میں اسکا ساتھ دے گا اس لئے لاڈ سے بولی
بھائی بن کے تو نہیں۔۔۔۔۔!!
حامد منہ ہی منہ میں بڑ بڑایا
کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟؟؟
کچھ نہیں ۔۔۔۔۔ میں تو کہہ رہا تھا کہ وہ تم اپنے گھر والوں سے بات وات نہیں کرتی جب سے آئی ہو مجھے کچھ بتایا ہی نہیں کسی کے بارے میں ۔۔۔۔۔۔۔۔ حامد نے اس کا دھیان بھٹکا یا ۔۔۔۔
وہ تو ہوتی رہتی ہے کل بھی ببلو سے بات ہوئی تھی وہ سب مجھے بہت یاد کرتے ہیں اور۔۔۔۔
ثمال اسے اپنی فون پر بات چیت اور اپنی شرارتوں کے قصے سنانے میں مگن ہوگئی تھی اور حامد اسکا دھیان ہٹنے پر شکر کرتا آگے کی پلیننگ کر رہا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بی بی جان یہ دیکھیں زرا حامد بھائی کو اچھے بھلے ہم گھر واپس آرہے تھے کہ یہ ہمیں شاپنگ کرانے لے گئے بچاری حمنہ کتنے سکون سے میری گود میں سو رہی تھی مگر انہوں نے میری ایک نہیں سنی اور زبردستی لے گئے اپنے ساتھ۔۔۔۔۔۔۔
بی بی جان تسبیح پڑھتیں ثمال کی شکایتیں سن رہ تھیں جو وہ جب سے آئی تھی تب سے شروع تھیں اور اب رک ہی نہیں رہی تھیں۔۔
اچھا اچھا بس کیا ہوگیا اگر وہ تمہیں شاپنگ کرا لایا تو بھئی یہ شخص کبھی کبھی ہی اپنی جیب ڈھیلی کرتا ہے تو تم ایسے موقعے کا بھرپور فائدہ اٹھاؤ۔۔
بی بی جان حامد کے کھلے منہ کی پر واہ کئے بنا ثمال کو پٹیاں پڑھا رہیں تھیں جو حامد کے تاثرات سے لطف لیتی مزے سے اثبات میں سر ہلا گئی۔۔۔
واہ جی واہ آپ کو جو شخص اپنی ساری جما پونجی سے خوش رکھتا ہے آپ اسے ہی کنجوس کہہ رہی ہیں بی بی جان یہ تو سراسر غلط بات ہے ۔۔۔۔۔
حامد نے خفگی جتائی ۔
ہا ہا ہا ہا۔۔۔۔۔ بھئی یہ ہنسی مزاق تو چلتا رہے گا اب آپ حامد بچے یہ بتاؤ اس شاپنگ کے پیچھے تو کوئی وجہ ہوگی نہیں تو آپ بنا کوئی خاص موقعے کے اتنی جلدی میں میری بہو کو لے گئے ۔۔۔۔۔۔ضرور کوئی خاص بات ہے ۔۔۔
بی بی جان نے کچھ سوچتے ہوئے کہا
وجہ تو ہے بی بی جان اور وہ بھی بہت خاص الخاص وجہ۔۔ ۔۔
کیا وجہ حامد بھائی ۔۔۔. ۔۔؟؟؟
ثمال تجسس کے مارے جوش سے بولی
وہ کیا ہے نہ بی بی جان جو پروجیکٹ ہماری کمپنی کب سے حاصل کرنے کی جی توڑ کوشش کر رہی تھی جسے ہم نے کھو بھی دیا تھا یا یوں کہا جائے کہ ہم سے دھوکے سے بے خبر رکھ کے ہتیا لیا گیا تھا وہ پروجیکٹ ہماری کمپنی کے ہیرو دی گریٹ محند سلطان نے حریف کے حلق سے چھین لیا ہے اور اب وہ پروجیکٹ ہماری ملکیت میں ہے بی بی جان۔۔۔۔
حامد نے ڈرامائی انداز میں پرجوش لہجے میں خوشخبری سنائی جسے سن کر بی بی بی جان نہال ہوگئیں اور خوش ہوتے اللہ تعالہ کا شکریہ ادا کرنے لگیں
مجھے پتہ تھا کہ میرا ہونہار پوتا یہ پروجیکٹ ہاتھ سے جانے ہی نہیں دے گا
بی بی جان کے لہجے میں محند کے لئے مان تھا جس پر ثمال نے منہ بنا کر غائبانہ محند کو زبان نکالی ۔۔۔۔۔
ہونہہ ۔۔۔۔۔۔۔ بی بی جان کا گدھا ۔۔۔۔۔۔۔
جی بلکل کوئی شک نہیں اس میں تو اسی لئے تو میں ریلیکس رہا کہ ہمارا ہیرو سب دیکھ لے گا۔۔۔ تو بس اسی بڑی سی خوشی میں پارٹی رکھی گئی ہے ۔۔۔
ریلیکس انداز میں بیٹھتے حامد نے محند کی مزید تعریف کی۔۔۔۔
ثمال سے اب اسکی تعریف. برداشت نہیں ہوئی اسی لئے کھڑے ہو کر اپنے شاپنگ بیگز اٹھاتی جانے لگی۔۔۔۔۔
ہاں ۔۔۔۔ ثمی وہ تم جو ڈریس میں نے لے کر دیا ہے وہ ہی پہننا تم پارٹی میں ٹھیک ہے اور میں بھی تم سے میچنگ میچنگ کرتا ڈریس پہنوں گا ۔۔۔۔۔
حامد نے ثمال کو ثمی بلایا تو ثمال بہت خوش ہوئی اور اثبات میں سر ہلاتی اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی جہاں وہ پہلے ہی سوتی ہوئی حمنہ کو میڈ کی نگرانی میں بھیج چکی تھی
اچھا بی بی جان اب میں بھی چلتا ہوں کیونکہ پارٹی کی تیاریاں میں ہی دیکھ رہا ہوں نہ۔۔۔۔۔
بی بی جان کے آگے سر جھکاتے حامد نے پیار لیا اور اپنا بیگ اٹھائے سلطان پیلس سے باہر نکل آیا
گاڑی سٹارٹ کرتے اسے گیٹ سے باہر نکالتے ہوئے وہ کسی کو فون ملا چکا تھا
ہائے ۔۔۔۔ لیڈی بیوٹی ۔۔۔۔۔
ہا ہا ہا ہا۔۔۔۔۔۔ نہیں نہیں وہ میری گرل فرینڈ نہیں تھی یا ہے بھی وہ تو تمہیں پارٹی میں آکر ہی پتہ چلے گا ویسے تو میرا تمہیں انوئٹ کرنا بنتا تو نہیں کیونکہ تم آج محند سے ملی ہو تو مجھے پکا پتہ ہے کہ اس نے تمہیں سب سے پہلا انویٹیشن دیا ہوگا۔۔۔۔۔ کیوں۔۔۔۔۔۔؟؟؟
ہا ہا ہا۔۔۔۔ دیکھا مجھے پہلے سے ہی پتہ تھا ۔۔۔تو چلو پھر کل شام پارٹی میں ملتے ہیں ایک نئے دھماکے کے ساتھ ۔۔۔۔۔۔۔
ارے ویٹ تو کرو لیڈی بیوٹی سب معلوم ہو جائے گا بس تھوڑا سا صبر اور پھر میٹھا میٹھا پھل ۔۔۔۔۔
چلو بائے ورنہ تم مجھ سے اگلوا ہی لوگی آخر ۔۔
اسے بائے کہتے حامد نے فون بند کیا اور گاڑی اپنی گھر کی طرف موڑ دی ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
