Ishq Mera Kamil by Neena Khan NovelR50807 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode13
No Download Link
777.3K
37
Rate this Novel
Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode01 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode02 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode03(Part01) Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode03(Part02) Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode04 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode05 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode06 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode07 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode08 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode09 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode10 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode11 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode12 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode13 (Watching)Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode14(Part01) Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode14(Part02) Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode15(Part01) Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode15(Part02) Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode16 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode17 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode18 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode19 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode20 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode21(Part01) Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode21(Part02) Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode22 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode23 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode24 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode25 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode26 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode27 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode28 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode29 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode30 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode31 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode32 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Last Episode
Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode13
Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode13
حامد آفس سے تھکا ہارا واپس آیا تو پھر سے محترمہ نے دروازہ لاک کیا ہوا تھا
ایک تو پتہ نہیں اسے کیوں دروازے لاک کرنے کا شوق چڑھا رہتا ہے ہر وقت بندہ کہے کہ مجھے اندر لاکر لاک کرلے مگر نہیں اکیلے اکیلے ہی بند ہونا ہے محترمہ نے تو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بند دروازے کو دیکھ کر اس کا منہ ہی بن گیا جب سے اسکا نکاح ہوا تھا وہ ایسے ہی کر رہی تھی اسے اپنے پاس تو کیا اپنے روم میں بھی نہیں گھسنے دیتی تھی
حامد کوکچھ یاد آنے پر وہ ڈرار میں سے چابیوں کا گچھا نکال لایا اور مطلوبہ چابی سے دروازہ کھولنے لگا
ٹک کی آواز پر لاک کھلا اور حامد چہکتے ہوئے دروازہ بند کرتے اندر داخل ہوا مگر اسکی سوچ کے برعکس کے وہ اسے اندر آتا دیکھ کر حیران رہ جائے گی مگر وہ تو پورے بیڈ پر مزے سے پھیل کر سو رہی تھی
حامد منہ کے عجیب سے زاویے بناتا سکے سرہانے آکر کھڑا ہوگیا اور اسے یک ٹک گھورنے لگا
ہائے ربا تیریاں شاناں۔۔۔۔۔۔۔!!
اسکی من موہنی صورت تکتے وہ ہولے سے بڑبڑایا تھا
آہستہ سے وہ اسکے داہنی سائڈ پر بمشکل جگہ بناتا سمٹ کر لیٹ گیا اور اپنی نظریں اسکے خوابیدہ چہرے پر ٹکالیں ایک بار پھر سے اسے تین دن پہلے کا واقعہ یاد آنے لگا
حامد کے آفس جانے والے راستے میں پھولوں کی دکان پڑتی تھی جہاں پر اس نے جاناں کو دیکھا تھا عمر میں اسے وہ انیس بیس کی لگی تھی ایپرن پہنے روز وہ مسکراتے ہوئے گاہکوں کو پھول بیچا کرتی تھی اور حامد ہر روز صبح ہی صبح جا کر اسکا دیدار کرتا تھا پسند کی نگاہ کب محبت میں بدل گئی حامد کو خود بھی پتہ نہیں چلا ۔۔۔۔۔
حامد نے اسکے بارے میں سب پتہ لگا لیا تھا وہ ایک ہی بیٹی تھی اپنے باپ کی اور ان دونوں کا ایک دوسرے کے علاوہ اور کوئی بھی نہیں تھا مگر جاناں پھولوں کی دکان پر کام کرکے اپنا اور اپنے باپ کا سارا خرچا اٹھاتی تھی
حامد صحیح وقت کے انتظار میں تھا کہ کب وہ جاناں سے اظہار محبت کرے مگر خدا کو کچھ اور ہی منظور تھا جاناں کے باپ کی اچانک وفات اور اوپر سے جاناں کو کام سے نکال دینے سے وہ گھر کا کرایہ بھی نہیں دے سکی اور پھر چھوٹا سا بیگ تھامے وہ فٹ پاتھ پر آگئی تھی
حامد کو جب پتہ چلا تو بھاگا بھاگا آیا تھا اور جاناں کو فٹ پاتھ پر بیٹھے روتے دیکھ اس کے دل کو کچھ ہوا تھا اور پھر وہی کھڑے کھڑے اس نے فیصلہ کر لیا تھا کہ اس نے کیا کرنا ہے
جاناں کو وہ جاب کا دلاسہ دے کر اپنے فلیٹ لایا اور پھر زبردستی اس سے نکاح بھی کر لیا وہ تو اب حامد ہی جانتا تھا کہ اس نے کیسے ڈرا ڈرا کے اسے نکاح کے لئے راضی کیا تھا
تم بہت پیاری ہو۔۔۔۔۔۔۔۔!!.
حامد اسکی ناک کو چھوتا کسی بچے کی طرح بولا
تمہاری نیلی آنکھوں کا رنگ گہرے سمندر جیسا ہے ۔۔۔
اسکی بند آنکھوں پہ بوسہ دیتا وہ اسکے بالوں میں اپنی انگلیاں چلانے لگا
اسکا سر اپنے بازو پر رکھ کر وہ اسے دیکھتے دیکھتے نیند کی وادیوں میں اتر گیا
جب اسکی گہری سانسوں کی آواز سنائی دی تو جاناں نے آنسوؤں سے بھری اپنی آنکھیں کھولیں تھیں اور اس کے چہرے پر ٹکالیں تھیں جو اسکے قریب گہری نیند سو رہا تھا
seni seviyorum…..
( I love you)
seni seviyorum çok…….
(I love you so much…..)
Ama Ben hiçbir zaman size bu……
(مگر میں تمہیں کبھی نہیں بتاؤں گی ۔۔۔)
آنکھوں سے بہتے مسلسل آنسو اسے دیدار یار میں مشکل پیش کر رہے تھے کتنے دنوں بعد تو وہ اسے جی بھر کر دیکھ رہی تھی کیسے اس نے شدت سے اس پل اسے یاد کیا تھا جب وہ ہر چیز سے کٹ گئی تھی ۔۔۔۔۔ کتنا پیار تھا اسے اس سے مگر وہ ہمیشہ کی طرح اس بات سے انجان کہ جاناں اسے بے پناہ چاہنے لگی تھی ۔۔۔۔ روز وہ اسے فلاور شاپ کے سامنے سے گزرتے ہوئے دیکھتی تھی مگر پھر فورا” ہی نظر جھکا لیتی تھی کے کہیں اسے کچھ پتہ ہی نہ چل جائے ۔۔۔ خواب تو بہت دیکھے تھے اس نے اسکے سنگ مگر صرف خوابوں تک ہی محدود رکھا تھا اس نے خود کو کیونکہ وہ اسکے اور اپنے بیچ کے تمام فاصلوں کو بہت اچھے سے جانتی تھی کہاں وہ شہزادوں سی آن بان رکںھنے والا اور کہاں یہ غریب گھرانے کی معمولی سی لڑکی ۔۔۔۔۔۔۔۔
نیند اسکی آنکھوں سے کوسوں دور تھی وہ اسے جی بھر کر دیکھنا چاہتی تھی کیونکہ جاگتے میں تو وہ اس سے نظریں ہی نہیں ملاتی تھی کہ کہیں اسکا راز ہی نہ کھل جائے کہ وہ اس سے محبت کرتی ہے بلکہ نہیں وہ تو عشق کرتی ہے اس سے ۔۔۔۔۔۔۔۔
اب ساری رات اسکی اسکے لمس کے میٹھے احساس اور حواسوں پر چھا جانے والی خوشبو میں مقید اسے نہارنے میں گزرنی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چمکتی بجلی میں ثمال محند کے خوفناک چہرے کو دیکھ کر کانپ رہی تھی کہ یہ کیا کرے گا اسکے ساتھ ۔۔۔۔۔۔۔۔
محند پوری طرح سے بھیگ چکا تھا
اپنی سرخ آنکھوں سے ثمال کو مسلسل خود سے خوف کھا کر لرزتے دیکھ وہ چل کر بیڈ پر بیٹھ گیا تھا اور نیچے بچھے قالین کو گھورنے لگا تھا
ثمال اسکا دھیان اپنی طرف سے ہٹنے پر حیران ہوتی سیدھی ہوئی تھی اور گردن اونچی کرکے اسے دیکھنے لگی
انہیں کیا ہوا اب مجھے کچھ کہہ کیوں نہیں رہے ۔۔۔۔؟؟؟
اب اسے یہ پریشانی کھائے جا رہی تھی کہ وہ اسے کچھ کہہ کیوں نہیں رہا ۔۔۔۔ اسے تو شکر منانا چاہیے تھا مگر یہ تو ثمال تھی الٹی کھوپڑی کی مالک۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کافی دیر تک جب محند نے سر نہ اٹھایا اور نہ ہی اسے کچھ کہا تو وہ تجسس کے مارے اٹھ کھڑی ہوئی اور آہستہ سی چلتی اسکے بلکل ساتھ آکر بیٹھ گئی
محند محسوس کر رہا تھا کہ ثمال اس کے کچھ نہ کہنے پر اضطراب اور تجسس کے مارے چڑ رہی ہے اور پھر خود ہی آکر اسکے پاس بیٹھ کر اپنا منہ نیچے کرکے اسکے ماتھے پر بکھرے بالوں کو زرا سا ہٹاتی اسے دیکھنے کی کوشش کر رہی تھی
ثمال اسکے فیس ایکسپریشن سے اندازہ لگانا چاہتی تھی کہ وہ کیا سوچ رہا ہے مگر وہ اس بات سے انجان کہ اس نے سانپ کے بل میں خود ہی اپنا ہاتھ دے دیا ہے تو ہاتھ آئی خوراک کو سانپ کیسے چھوڑ دیتا اسی لئے اسکے اور قریب ہوکر دیکھنے پر فٹ سے اسے پکڑ کر اپنی طرف کھینچا اور پیچھے بیڈ پر گر گیا
محند کے اچانک رد عمل پر ثمال چیخ پڑی جسے اس نے خود ہی ہاتھ رکھ کر روک لیا وگرنہ کچھ بعید نہیں کہ پچھلی بار کی طرح ۔۔۔
محند نے اسکے سرخ پڑتے چہرے کو دیکھ مزید شوخ ہوا تھا
کیا ہوا منہ میں درد ہونے لگ گیا اچانک۔۔۔۔؟؟
اوہون۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ثمال ہنوز منہ پہ ہاتھ رکھے سر نفی میں ہلا کر جواب دینے لگی محند اپنے اوپر کمبل ڈالتا جو بیڈ کو ڈھکی ہوئی چادر کے نیچے تھا اسے پاؤں سے نکال کر اپنے اور ثمال کے اوپر دیا تھا
ثمال اسکے کندھے میں منہ چھپائے ہوئے تھی
اچھھھھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟
محند اسکے بال سائیڈ پر کرتا اسکا چہرہ اوپر کرکے اسے تنگ کرنے کی نیت سے اسے محبت بھری نظروں سے دیکھنے لگا
ہا ۔۔۔۔۔۔ ہائے۔۔۔۔۔۔۔ ایسے کیوں دیکھ۔۔۔۔۔۔ رہے ہیں ۔۔؟؟
ثمال اسکی جزبے لٹاتی آنکھوں سے سٹپٹاتی بوکھلا کر بولی ۔۔۔۔
کیونکہ تم پہ پیار جو آرہا ہے مجھے۔۔۔۔۔۔ !!
اسکے بھیگے گال پر پیار کرتا وہ مزے سے بولا تھا
ثمال اسکی حرکت پر مزید لال ہوئی تھی۔۔۔
کیوں آرہا ہے پیار۔۔۔۔۔۔؟؟
ہڑبڑی میں ثمال کو خود بھی نہیں پتہ تھا کہ وہ کہہ کیا رہی ہے ۔۔۔۔
محند اسکی بات پر بائیں ابرو اچکاتا اسکے مزید قریب ہوا تھا اور اسکے کان میں ہلکی آواز میں بولا تھا
کیونکہ میرا دل کر رہا ہے اس لئے۔۔۔۔۔۔۔۔ ساتھ ہی اسکے ماتھے پہ بھی پیار کیا وہ اسکو ایسی باتیں کرتی ہوئی بہت اپنی سی لگی تھی کہ دل کچھ اور ہی کہہ رہا تھا کرنے کو۔۔۔۔۔
کیوں۔۔۔۔۔۔۔ ؟؟؟ دل کیوں کر رہا ہے۔۔۔۔۔؟؟ ۔۔۔۔ اسکی گرم سانسوں کو محسوس کرتی وہ الجھی سی بولی
کیونکہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟؟
محند کو سمجھ ہی نہیں آرہا تھا کہ وہ اسے کیسے بتائے کہ ایسی باتیں کرکے وہ اس کے جزباتوں کو اور بھڑکا رہی ہے۔۔۔۔۔
کیونکہ یہ دل تم پہ آگیا ہے اس لئے ۔۔۔۔۔۔۔
محند کو خود پتہ نہیں تھا کہ اس نے کیا کہا ہے ابھی ۔۔وہ تو اسکے گال پر مزے سے پیار کرکے بولا تھا
نہیں مجھ پہ تو آپ آئے ہوئے ہیں دل تو آپ کے اندر ہے ۔۔۔۔۔۔۔
ثمال جھٹ سے سر ہلاتی ہوئی اسکی بات کو رد کرکے بولی تھی اور اسکی اس قدر معصومیت پر محند اسکے ماتھے پر بوسہ دیتا قہقہہ لگانے لگ گیا تھا
ثمال خجل سی ہوتی کمبل اپنے کندھے تک کرتی منہ بسور گئی تھی کہ اس نے تو سہی کہا ہے الٹا شرمندہ ہونے کی بجائے یہ تو ہنس رہے ہیں ۔۔۔۔۔ بڑے ہی کوئی ڈھیٹ قسم کے بی بی جان کے گدھے ہیں یہ تو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ثمال دل میں ہی اسے گھورتے ہوئے بولی تھی
کیا جان لوگی کیا اب میری ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟
محند اسکے اسے اس طرح دیکھنے پر خود کو روکتا اسے بولا تھا ورنہ دل تو کر رہا تھا کہ وہ اسے عملی مظاہرے کرکے بوکھلا دے جیسے وہ اسے اپنی اداؤں سے بہکا رہی تھی
توبہ استغفراللہ ۔۔۔۔۔۔۔۔
ثمال نے اپنے کانوں کو ہاتھ لگایا تھا
میں کیوں کسی گدھے کو مارنے لگی توبہ۔۔۔۔
کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
محند اسکے خود کو گدھا کہنے پر صدمے سے چیخ پڑا تھا اور ثمال اسکے اتنے زور سے چلانے پر اپنے کانوں پر ہاتھ رکھ کر آنکھیں بند کر گئی تھی ۔۔۔۔۔
کیا کہا ابھی تم نے مجھے۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
محند اسے تکیے پر لٹا کر خود اس پر جھکا اور اسکے دونوں ہاتھ کانوں سے ہٹا کر اپنے ہاتھوں میں جکڑے تھے اور پہلے سے بھی زیادہ چلا کر پوچھا تھا
ثمال اسکی اس حد درجہ قربت پر زبان تالو سے لگا گئی تھی اور بے ساختہ اپنی پلکیں جھکائیں تھیں
مگر محند اسکی حالت سے انجان ابھی تک اسی بات میں اٹکا ہوا تھا کہ اس نے ابھی ابھی مجھے یعنی ترکی کے دی موسٹ ہینڈسم رچ ڈیشنگ پرسنیلٹی رکھنے والے بندے کو گدھا بولا تھا ۔۔۔۔۔۔؟؟؟
گدھا.۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
میں کیا پوچھ رہا ہوں تم سے جواب دو مجھے۔۔۔؟؟؟
اسکے پلکیں جھکا کر مسلسل خاموش رہنے پر محند نے پہلے سے بھی زیادہ چلا کر کہا تھا
میں نے تھوڑی آپ کو کوئی اپنا گدھا کہا ہے میں نے تو بی بی جان کا گدھا والا کہا تھا ۔۔۔ بس۔۔۔!!
ثمال سکون سے معصومیت سے بولی تھی
بی بی جان کا گدھا والا کا کیا مطلب ۔۔۔۔؟؟
محند حیرانی سے الجھتے اس سے پوچھ بیٹھا مگر اسکا پوچھنا تھا کہ اس نے توبہ ہی کی اپنے پوچھنے پر کہ جو آگے سے ثمال نے جو اسے ڈیفینیشن دی تھی وہ سن کر اسکا دل چاہا تھا کہ اپنا سر دیوار پر دے مارے ۔۔۔
ارے آپ کو اتنا نہیں پتہ بی بی جان کا گدھا مطلب بی بی جان کا گدھا۔۔۔۔۔۔!!.
تم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
محند کو سمجھ نہیں آیا کہ کیا کہے اسے ۔۔۔۔ اس نے تو مجھے گدھا ہی بنا دیا۔۔۔۔
چلو بی بی جان کا تو گدھا ہوا میں مگر تمہارا کیا ہوا پھر۔۔۔۔۔۔۔
محند ایک ہاتھ سے اسکے دونوں ہاتھ پکڑتا دوسرا ہاتھ اسکے پیٹ تک لایا تھا
ہمممم۔۔۔۔۔۔بولو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آں ں ں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ویسے اماں کہتی ہیں کہ شوہر کو عزت سے بلانا چاہیے مگر جب آپ مجھے اپنی بیوی ہی نہیں مانتے تو پھر اس ناطے میں بھی آپ کو شوہر نہیں مانتی اور پھر اسی لحاظ سے آپ کو میں کچھ بھی کہہ سکتی ہوں ۔۔۔۔ تو۔۔۔۔۔؟؟؟
محند اسکی دلیل پر عش کر اٹھا
ثمال نے بھرپور طرح سے سوچ میں ڈوبتے اس کے لئے نام سوچا تھا
ہاں۔۔۔۔۔۔۔۔!!
مل گیا نام۔۔۔۔۔۔؟؟
ہاں مل گیا ۔۔۔۔۔۔. !!
اسکے پوچھنے پر ثمال پرجوش سی بولی ۔۔۔
کیا ۔۔۔۔۔ ؟؟
محند اسکی ناک پہ پیار کرتا گھمبیر آواز میں بولا
آپ بی بی جان کے گدھے اور میرے” ککڑ”۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ثمال چہکتے ہوئے بولی
کیا ۔۔۔؟؟ یہ ککڑ کیا چیز ہے۔۔۔۔۔۔؟؟
محند کو سمجھ نہیں آیا کہ ککڑ کا کیا مطلب ہے۔۔۔۔۔۔
لے۔۔۔۔۔۔۔۔ ثمال نے اپنے سر پر ہاتھ مارا۔۔
آپ کو ککڑ کا مطلب نہیں پتہ ۔۔۔۔۔؟؟
چچچچچ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اتنے بڑے بزنس مین کو جو پڑھا لکھا بھی ہے ۔۔
ظاہر ہے پڑھا لکھا ہی بزنس مین ہوتا ہے۔۔
اس پہلے کہ ثمال مزید بولتی محند اسکے بالوں میں منہ چھپاتا مخمور لہجے میں بولا
ہاں ۔۔۔۔۔۔ اچھا میری بات تو سنیں نہ۔۔۔۔۔
ثمال خجل ہوتی بولی تھی
ہاں۔۔۔۔۔۔ سناؤ۔۔۔۔۔۔۔
محند کی آواز بھاری ہو رہی تھی ثمال اس سے انجان اپنی ہی کہہ رہی تھی
ککڑ۔۔۔۔۔ ہمارے گاؤں میں مرغے کو کہتے ہیں ۔۔۔۔
ثمال اسے خوشی سے اتنے پڑھے لکھے بندے کو بتاتی اترائی تھی مگر محند جو اس میں گم ہو رہا تھا جھٹکے سر اٹھا کر اسے منہ کھولے دیکھا تھا
کیا ۔۔۔۔۔۔ کہا ۔۔۔۔۔ تم ۔۔۔۔۔ نے؟؟؟؟
صدمے پہ صدمہ تھا
پہلے گدھا اور اب ککڑ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی کہ مرغا۔۔۔۔
ہاں ککڑ مرغے کو ہی کہتے ہیں وہ بھی آپ کی طرح بے سری آواز میں بس بانگیں ہی دیتا رہتا ہے چاہے اگلے بندے کے کانوں سے خون ہی کیوں نہ نکل آئے۔۔۔۔۔۔
ثمال اسکے تاثرات سے بے خبر اپنی ہی جون میں بولی تھی
میں ککڑ مطلب مرغا ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
محند بیٹھتے ہوئے بولا اس طرح کے وہ ابھی بھی اسکے حصار میں قید تھی
ہاں ۔۔۔۔۔ چکن۔۔۔۔۔۔!!
ثمال کو لگا کہ اسے انگریزی میں بھی بتائے۔۔۔
ہممممم اب دیکھو کہ یہ ککڑ مطلب چکن تمہارے ساتھ کیا کرتا ہے ۔۔۔۔۔
یہ کہتے ہی محند بنا اسے کچھ بولنے دیے اس پہ حملہ کردیا اور یہاں شور ہوا ثمال کے قہقہوں کا ۔۔۔۔۔۔
ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نہیں۔۔۔۔۔۔ ہا ہا ہا ہا ہا۔۔۔۔۔
ہائے ۔۔۔۔۔ ہا ہا ہا ہا۔۔۔۔ اللہ ۔۔۔۔ ہا ہا۔۔۔ جی ۔۔۔۔۔ مر ۔۔۔ہا ہا۔۔۔۔۔ گئی۔۔۔۔۔۔
محند ثمال کو گد گدا رہا تھا اور ثمال کسی چھوٹے بچے کی طرح ہنس رہی تھی۔۔
اچانک محند کو کچھ یاد آیا اور اسکے ہاتھ بے ساختہ تھمے تھے
ثمال ابھی بھی ہنس رہی تھی
محند کی آنکھوں میں آنسو چمکے تھے اور پھر جب ثمال کی اچانک نظر محند پر پڑی تو اسکی ہنسی ایک دم تھمی تھی۔۔۔۔۔۔
محند کی آنکھیں آنسوؤں سے لبالب بھری ہوئی تھیں اور وہ ثمال کی طرف ہی دیکھ رہا تھا
کیا ہوا ۔۔۔۔۔؟؟
آپ رو کیوں رہے ہیں ۔۔۔۔۔؟؟
ثمال محند کے آنسو دیکھ کر بوکھلا گئی
بتائیں نہ کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ثمال نے بولتے ہوئے اپنا ہاتھ اسکے دائنے گال پر رکھا ہی تھا کہ محند سیدھا اسکے کندھے میں منہ چھپائے دھاڑیں مار مار کر رونے لگا
ثمال محند کی حالت پر بری طرح سے گھبرا گئی تھی محند کی چیخیں اسکے دل کو چیر رہیں تھیں
مار۔۔۔۔۔۔ دیا ۔۔۔۔۔۔۔ آااااا۔۔۔۔۔۔۔ مار دیا سب کو ۔۔۔۔۔۔ مار دیا ان کمینوں نے میرے بابا ۔۔۔۔۔۔۔ میری ماما کو۔۔۔۔۔۔۔ اہہہہہہ۔۔۔۔۔۔۔۔ میرے بھائی کو بھی میری گڑیا کو بھی نہیں چھوڑا ۔۔۔۔۔۔۔۔ نہیں چھوڑا کسی کو بھی سب کو مار دیا ۔۔۔۔۔۔۔۔ ہا ہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میرے دوست میرے چاچو ۔۔۔۔۔ میرے پورے خاندان کو مار دیا ثمال ۔۔۔۔۔ آاااااااااااااا۔۔۔۔۔۔۔!!
محند اسکے کندھے پر سر رکھ کر آج اتنے سالوں کا بوجھ اپنے کندھے سے اتار رہا تھا
اسکی چیخیں اتنی دردناک تھیں کہ ثمال کو اپنا دل پھٹتا ہوا محسوس ہو رہا تھا
اسکے ہاتھ بے ساختہ اسکی کمر کو جکڑ گئے تھے
وہ خود بھی اسکے رونے پر بے تحاشہ رو رہی تھی
آاااااااااااااااااااااا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محند بیڈ پر زور زور سے ہاتھ مارتا چلا رہا تھا۔۔۔ اسے بتارہا تھا کہ کیسے اس سے اسکے اپنوں کو ان ظالموں نے چھین لیا ۔۔۔۔ کس بے دردی سے انہیں مار دیا ۔۔۔۔۔۔۔
ثمال محند کا بوجھ نہیں سہہ پارہی تھی اس کی سانسیں تھم رہی تھیں بہت مشکل سے وہ سانس لے پارہی تھی لیکن وہ محند کو روک بھی نہیں رہی تھی بی بی جان سے پہلے ہی اسے سب کچھ پتہ چل گیا تھا تو اسی لئے وہ محند کے یوں رونے اور اپنی تکلیف اس سے شئیر کرنے پر اسے بولنے دے رہی تھی ۔۔۔
ثمال چاہتی تھی کہ وہ آج اپنا سارا درد بہادے جس کی وجہ سے وہ اپنی زندگی کے اتنے سال کرب اور دوسروں سے نفرت میں بہا گیا تھا
ہاہہہہ۔۔۔۔۔ پاپا ۔۔۔۔۔۔ مممممم۔۔۔۔۔ پا پا بھی مجھے ایسے ہی پکڑ کر گدگداتے تھے ۔۔۔۔۔۔ اور. ۔۔۔۔۔۔ اور میں ایسے ہی ہنستا رہتا تھا ۔۔۔۔۔ لیکن وہ مجھے اور زیادہ ہنساتے تھے ۔۔۔
محند اسکے ماتھے پر اپنا ماتھا رکھے روتے ہوئے اسے مزید بتا رہا تھا ۔۔۔۔ اسکی آنکھوں سے نکلتے گرم پانی کے قطرے ثمال کی آنکھوں کو اپنے درد کا احساس بخشتے ثمال کی آنکھوں سے بہہ رہے تھے
مجھے ان کی ۔۔۔۔۔ بب۔۔۔۔ بہت یاد.۔۔۔۔۔۔۔۔ بہت ۔۔۔ یاد آتی ہے۔۔۔۔۔۔ مجھے انکا گدگدانا ۔۔۔۔۔ میں بہت ۔۔۔۔۔۔ مس کرتا ہوں انہیں ۔۔۔۔۔ آواز بھی دیتا ہوں مگر ۔۔۔۔۔ ہہہہہہ۔۔۔۔۔۔۔ کوئی ۔۔۔۔۔ بھی۔۔۔۔ نہءں۔۔۔۔۔۔۔ نہیں۔۔۔۔ آتا ۔۔۔۔۔۔. بی بی جان۔۔۔۔۔ کہتی ہیں کہ مرد روتے ہوئے بہت برے لگتے ہیں ۔۔۔۔ لوگ دیکھیں تو ہنستے ہیں ان پر ۔۔۔۔ مزاق بناتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ لیکن میں ۔۔۔۔۔۔۔ میں ۔۔۔۔ بھی تو ایک انسان ہوں نہ ۔۔۔۔۔ میرے سینے میں بھی ۔۔۔۔۔ تو۔۔۔۔ گوشت کا بنا دل ہے جس میں بھی بہت ۔۔۔۔ بہت درد ہوتا ہے ۔۔۔۔۔ مجھے بھی رونا ہے
ثمال ۔۔۔۔ بہت زیادہ ۔۔۔۔۔۔ مجھے بہت درد ہوتا ہے یہاں ثمال۔۔۔۔۔۔ بہت درد ہوتا ہے ۔۔۔ پلیز میرا درد کم کردو ۔۔۔۔۔۔ مجھے رونے دو۔۔۔۔۔۔ میں بہت تھک گیا ہوں ان آنسؤوں کو روکتے روکتے ۔۔۔۔۔ پلیز
محند آنکھیں بند کئے اس سے التجا کر رہا تھا
ثمال محند کو ایسی حالت میں دیکھ کر تڑپ اٹھی تھی ۔۔۔۔ اس سے تو اچھا تھا کہ وہ غصے میں ہی رہتا اور اسے جو چاہے کہتا ۔۔۔ لیکن ایسے تو ۔۔۔۔
ثمال خود بھی محند کے ساتھ ہچکیوں سے رو رہی تھی۔
آج جب محند نے حمنہ کو غور سے دیکھا تو اسے اپنا بچپن اپنے والدین یاد آئے تھے اسی لئے وہ ضبط نہیں کر پایا آج۔۔۔
کافی دیر تک محند روتا رہا ۔۔۔. آہستہ آہستہ اسکی آواز مدھم ہونے لگی تھی مگر جب محند کو احساس ہوا کہ وہ تو چپ لیکن ۔۔۔۔۔؟؟
ثمال ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟
محند نے دیکھا کہ ثمال ہچکیوں سے بلند آواز میں رو رہی ہے تو وہ جو اپنا درد باںٹنے کے بعد ہلکا ہوچکا تھا اسے روتے دیکھ تعجب سے بولا تھا
تم کیوں رو رہی ہو۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔؟؟
رونے سے محند کی آواز بیٹھ گئی تھی
کیونکہ۔۔ آپ ۔۔۔۔۔۔۔۔ جو۔۔۔۔۔ روئے۔۔۔۔ تو ۔۔۔ میں ۔۔۔۔ بھی ۔۔۔۔تو۔۔۔ روؤں ۔۔۔ گی ۔۔۔ نہ۔۔۔۔۔
ثمال ہچکیوں کے درمیان مشکل سے بولی تھی
محند کو ثمال بہت اچھی لگی تھی ایسے بولتے ہوئے بلکل اپنی اپنی سی۔۔۔
رونے سے ثمال کی آنکھیں سوج گئی تھیں اور وہ روتے ہوئے اسکی طرف دیکھ رہی تھی
ثمال۔۔۔۔۔۔؟؟
ہممممم۔۔۔۔۔
وہ۔۔۔۔۔۔ تمہاری ۔۔۔۔ ناک بہہ رہی ہے۔۔۔۔۔۔!!
محند اپنی ہنسی روکے اس سے بولا جس کا ناک غبارے بنا رہا تھا اور وہ اس حالت میں بہت مضحکہ خیز لگ رہی تھی
اچھھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ثمال سر ہلاتی محند کے قریب ہوئی تھی اور پھر اپنا ناک اس کی شرٹ کے کالر سے صاف کیا تھا
اب ٹھیک ہے۔۔۔۔۔۔۔
سوں سوں کرتی وہ محند کو حیران کرتی معصومیت سے بولی تھی
کچھ پل تو وہ اسے دیکھتا رہا ۔۔۔۔۔ ثمال بھی اسے ہی دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔ دونوں ایک دوسرے کی آنکھوں میں کھوچکے تھے۔۔۔۔۔
بادلوں کے زور زور سے گرجنے پر ثمال کی چیخ نکلی تھی
کچھ یاد آتے محند نے مسکراتے ہوئے اسکی چیخ کا گلا ایک بار پھر سے اپنے ہی انداز میں گھونٹا تھا
ثمال جس نے خود سے ہزار وعدے کئے تھے کہ آئندہ کبھی بھی محند کے سامنے نہیں چیخے گی مگر وہ غلطی سے یہ کام کر بیٹھی تھی اور اب محند کی گرفت میں تیز دھڑکتی دھڑکنوں کے ساتھ بری طرح پھنس چکی تھی
محند نے تھوڑی دیر بعد سر اٹھا کر ثمال کی طرف دیکھا جہاں وہ لال ٹماٹر چہرے کے ساتھ لمبے لمبے سانس لے رہی تھی
ثما۔۔۔۔۔۔ل۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟
جزباتوں سی بھاری آواز میں محند نے لڑکھڑاتی آواز میں اس کا نام ٹکڑوں میں ادا کیا تھا
جس پر ثمال بری طرح سے کانپتی ہوئی اسکے سینے میں اپنا منہ چھپا گئی تھی
اسکا مطلب سمجھ کر محند مسکرا دیا تھا اور پھر اس برستی بارش میں آج جہاں محند نے اپنے اندر کا سارا غبار نکالا تھا وہیں برستی بارش کی بوندوں کی طرح وہ بہت پیار سے اس پر برسا تھا۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
