Ishq Mera Kamil by Neena Khan NovelR50807 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode14(Part01)
No Download Link
777.3K
37
Rate this Novel
Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode01 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode02 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode03(Part01) Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode03(Part02) Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode04 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode05 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode06 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode07 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode08 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode09 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode10 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode11 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode12 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode13 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode14(Part01) (Watching)Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode14(Part02) Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode15(Part01) Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode15(Part02) Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode16 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode17 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode18 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode19 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode20 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode21(Part01) Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode21(Part02) Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode22 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode23 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode24 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode25 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode26 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode27 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode28 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode29 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode30 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode31 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode32 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Last Episode
Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode14(Part01)
Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode14(Part01)
ثمال کی آنکھ کھلی تو خود کو انیکسی میں اکیلے پایا ۔۔۔۔ محند نہ جانے کب کا چلا گیا تھا
رات کا ایک ایک منظر اسکی آنکھوں کے سامنے لہرایا تو جہاں وہ ہنسی وہیں شرم کے مارے کمبل میں منہ چھپا گئی
افففف ۔۔۔۔۔ حمنہ تو اکیلی تھی کمرے میں ۔۔۔۔
جیسے ہی اسے حمنہ کا خیال آیا فٹ سے اٹھ کر دوپٹہ صحیح سے اوڑھا اور انیکسی سے باہر نکلتی گھر میں داخل ہوئی جیسے ہی کمرے میں پہنچی تو میڈ کو حمنہ کے پاس سوتا دیکھ اسکے دل کو تسلی ہوئی تھی
شکر ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔
پر سکون سانس خارج کرتی حمنہ کو پیار کیا اور وارڈروب سے کپڑے نکالتی شاور لینے چلی گئی
ثمال تیار ہو کر جب باہر نکلی تو حمنہ جاگ چکی تھی میڈ اسے پیمپر پہنا کر کپڑے چینج کر رہی تھی
لاؤ مجھے دو میں چینج کروں گی اپنے بے بی کے پے پے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میڈ کے ہاتھ سے کپڑے لیتی وہ حمنہ کو گدگداتے پیار سے بولی تھی ایسا کرنے سے اسے محند کا کل رات اسکو گدگدانا یاد آیا تھا
شرم کی سرخی نے اسکے چہرے کو گلنار کیا تھا
حمنہ کو ریڈی کرکے جیسے ہی وہ اسے اٹھائے مڑی تب اچانک محند جاگنگ ڈریس میں ٹاول گلے میں لٹکائے روم میں داخل ہوا تھا
ثمال اسے اچانک سامنے دیکھ کر لڑکھڑاتی سنبھلی تھی اور جلدی سے اسکی سائڈ سے نکلتے باہر چلی گئی تھی
محند بھی ثمال کو دیکھ کر خجل سا ہوگیا تھا کہ ثمال کیا سوچ رہی ہوگی اسکے بارے میں کہ میں کیسا آدمی ہوں اتنی جلدی بہک گیا اور اوپر سے جو آج تک اس نے خود سے بھی نہیں شئیر کیا تھا وہ ثمال کے سامنے سب کچھ عیاں کر گیا تھا
وہ تو بس بے اختیاری لمحہ تھا اور کچھ بھی نہیں ۔۔۔۔ کچھ بھی نہیں ۔۔۔۔۔۔۔
دل کی آواز کو دبائے وہ سر جھٹکتے آفس جانے کے لئے ریڈی ہونے لگا ۔۔۔۔۔۔
حامد کی آنکھ کھلی تو وہ اکیلا بیڈ پر سو رہا تھا
ہائے کہیں بھاگ تو نہیں گئی ۔۔۔۔۔؟؟؟
چھلانگ مار کر بیڈ سے اترا اور باہر کی طرف دوڑا پھر فورا” ہی بریک لگائی تھی۔۔۔۔ سامنے ہی جاناں اپنا بیگ ٹیبل پر پٹخے صوفے پر منہ پھلا کر بیٹھی ہوئی تھی
ہیں۔۔۔۔۔۔ تم بھاگی کیوں نہیں۔۔۔۔۔۔؟؟؟
اسکے بیگ کو اٹھا کر فرش پر رکھا اور خود اسکے سامنے ٹیبل پر بیٹھتے ہوئے حیرانی سے بولا تھا
کہیں مجھ سے پیار تو نہیں ہوگیا میری جان کو۔۔۔؟؟
اسکے پھولے پھولے گلابی گال کو زور سے کھینچتا وہ شوخی سے بولا
کیسے بھاگتی دروازہ جو تم نے لاک کیا ہوا تھا
جاناں اسکا ہاتھ زور سے جھٹکتی چبا چبا کر بولی تھی
اوہ ۔۔۔۔ ہاں۔۔۔۔۔ یار ۔۔۔۔۔ میں تو دیکھو بھول ہی گیا تھا کہ میں نے احتیاط” دروازہ لاک کر لیا تھا اور اسکی چابی بھی چھپا دی تھی ۔۔ہا ہا ہا۔۔۔۔ ششششو۔۔۔۔۔۔۔۔ میں بھی نہ کتنا پاگل ہوں ایویں ہی اتنا گھبرا گیا کہ تم کہیں نکل ہی گئی نہ ہو۔۔۔۔۔۔۔
حامد ماتھے کا پسینہ پونچھتے ہنستے ہوئے بولا تھا ۔۔۔۔ جاناں جو اسکی ہنسی میں چمکتے چہرے کو بے تحاشہ دیکھ رہی تھی فورا” سے اپنی نگاہیں پلٹیں تھیں
اب ایسے منہ تو نہ بناؤ ۔۔۔۔ میری جان۔۔۔۔۔۔۔
حامد اسکے ساتھ جڑ کر بیٹھتا اسکے بال بگاڑتے بولا تھا جس پر جاناں نے اسے خونخوار نظروں سے اسے دیکھا مگر بنا اسکا اثر لئے حامد نے اسکی گال کو چوم لیا۔۔۔۔
اللہ اللہ۔۔۔۔۔۔ بے شرم انسان پیچھے ہٹو زرا تمیز ہو جو تمہیں چھو کر بھی گزری ہو۔۔۔۔۔؟؟؟
جاناں اسکے چھو نے پر پزل ہوتی شور کرتی دھڑکنوں کو ڈپٹتی جھنجھلا کر بولی تھی اور اٹھ کر وہاں سے جانا چاہا تھا کہ حامد نے اسکی کلائی تھام لی۔۔
ابھی نہ جاؤ چھوڑ کر
کہ پیٹ ابھی بھرا نہیں
حامد اسے پھر سے بٹھاتے پیٹ پر ہاتھ رکھتا بے چارگی سے بولا
تھا جس کی جاناں کو ککھ بھی سمجھ نہیں آئی تھی کیونکہ اس نے اردو میں اچھے خاصے گانے کی ہڈیاں تک توڑ ڈالیں تھیں
کیا۔۔۔۔۔۔؟؟؟
وہ مجھے ناشتے کون بنا کر دے گا۔۔۔۔ تم نے خود تو کھالیا ہوگا اب میں کیا کھاؤں گا۔۔۔۔
حامد منہ بسورتے بچے کی طرح بولا جس پر جاناں نے مشکل سے اپنی ہنسی روکی تھی
تو مجھے کھا جاؤ۔۔۔۔۔۔!!
ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
جاناں کے لاپرواہی سے مجھے کھا جاؤکہنے پر حامد ابرو اچکاتا معنی خیزی سے بولا تھا
افف میری جان چھوڑو ۔۔۔۔ کیوں صبح صبح تم میرا دماغ کھانے پہ تلے ہوئے ہو ۔۔۔۔۔۔
جاناں اسکی معنی خیز نظروں کو نہ سمجھ پائی اور مزید بولتی پھر سے اٹھنے کی کوشش کی تھی مگر حامد اب کہاں اسے جانے دینے والا تھا ۔۔۔
اےےے۔۔۔۔۔۔ کہاں جارہی ہو جان۔۔۔۔۔ اب جب خود ہی آفر کی ہے تو ۔۔۔۔۔ کھانے تو دو خود کو تاکہ مجھے پتہ تو چلے کہ تمہارا زائقہ کیسا ہے میٹھا یا کڑوا۔۔۔۔۔؟؟؟
حامد اسکے لبوں پر انگلی پھیرتا گھمبیرتا سے بولا تھا
اسکا مطلب جب جاناں کو سمجھ آیا تو وہ سر نفی میں ہلاتی مسکراتے ہوئے اس سے بولی تھی
ہاں بلکل ۔۔۔۔ ضرور چکھنا چاہیے تمہیں زائقہ تاکہ تمہیں پتہ چل سکے کہ میں کتنی تیکھی ہوں۔۔۔
جاناں نے نا محسوس انداز میں اپنا بیگ اپنے قریب کھسکایا تھا
ارے واہ اسکا مطلب میرا پیار کا جادو تم پر چل ہی گیا آخر۔۔۔۔
حامد مزید اسکے قریب ہوتا مسرور سا بولا
اپنی آنکھیں تو بند کرلو پہلے ۔۔۔۔۔
جاناں معصومیت سے آنکھیں پٹپٹاتی بولی تھی
ہائے ۔۔۔۔۔ یقین نہیں ہو رہا مجھے تم پہ کہ اتنی جلدی میری اسیر ہوگئی تم ۔۔۔۔۔۔
حامد کالر کھڑے کرتا مغرور سا بولا
کرنا بھی مت کبھی۔۔۔۔۔۔۔
وہ منہ ہی منہ میں بڑبڑائی
کیا ۔۔۔۔۔؟؟
کچھ نہیں تم آنکھیں بند کرونہ۔۔۔۔۔۔
اوکے۔۔۔۔ حامد نے جیسے ہی آنکھیں بند کیں جاناں نے فورا” پیپر سپرے نکال کر اسکے منہ کو ہاتھ سے دبا کر کھولا تھا اور سارا سپرے اسکے منہ میں ڈال دیا۔۔۔۔۔
یہ سب اتنا اچانک اور جلدی کیا تھا جاناں نے کہ حامد کو سنبھلنے تو کیا کچھ سمجھنے کا بھی موقع نہیں مل سکا نتیجتا” اب وہ سی سی کرتا۔۔۔۔۔ صوفے پہ چڑھا چھلانگیں مار رہا تھا اور جاناں اسکی حالت پہ پیٹ پکڑے ہنس رہی تھی۔۔۔۔۔۔
آااں۔۔۔۔۔ سی سی۔۔۔۔۔ ا`نے(ماں)۔۔۔۔۔ سی سی۔۔۔۔
ہا ہا ہا ہا۔۔۔۔۔۔۔ کیسا لگا زائقہہہہ۔۔۔۔۔۔ ہا ہا ہا۔۔۔ اب پتہ چلا میں کتنی تیکھی ہوں۔۔۔۔۔۔۔
جاناں اسکی بندروں کی طرح اچھل کود کو دیکھ کر ہنستے ہوئے بولی تھی
مگر حامد بے چارہ اس حالت میں ہی نہیں تھا کہ وہ کچھ کہہ پاتا بس اسے ایک عدد گھوری سے نوازتا منہ پر ہاتھ پھیرا جیسے کہہ رہا ہو تمہیں تو میں چھوڑوں گا نہیں اور بھاگتا ہوا کچن میں گیا تھا جہاں سے وہ اپنے اس چکھے تیکھے زائقے کا کچھ علاج کرسکے۔۔
ہا ہا ہا ہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جبکہ اسے اپنے پیچھے جاناں کے قہقہے صاف سنائی دے رہے تھے۔۔۔۔
نہیں ۔۔۔۔۔سی سی ۔۔۔۔۔چھوڑوں گا۔۔۔۔۔۔!!!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محند ناشتہ کر رہا تھا جب ثمال حمنہ کو گود میں اٹھائے وہاں آئی اور حمنہ کو ناشتہ کرتے محند کی گود میں بٹھا دیا تھا
منہ میں جاتا آملیٹ کا پیس باہر انتظار کرتا رہ گیا تھا ۔۔۔۔ وہ تو آنکھیں پھاڑے حمنہ کو دیکھ رہا تھا جو روتے ہوئے محند کے ہاتھ سے کانٹے کو کھینچ رہی تھی جس میں آملیٹ کا ٹکڑا پھنسا ہوا تھا۔۔۔۔۔۔ جبکہ ثمال اب چئیر پر بیٹھی اپنا ناشتہ شروع کر چکی تھی
محند نے ثمال کی طرف دیکھا پھر بی بی جان کی طرف لیکن وہ دونوں تو ایسے ناشتے کرنے میں مگن تھیں جیسے کتنے دنوں بعد کھانا نصیب ہوا ہو۔۔۔۔۔۔۔
محند تیوری چڑھاتا ملازمہ کو آواز دینے لگا
ایک دو پھر تین اور کئی ملازماؤں کو آوازیں دے ڈالیں مگر لگتا تھا کہ جیسے سب ہی نے محند کو اگنور کرنے کی قسم کھالی تھی
یہ سب کیا ہے ثمال۔۔۔۔۔۔؟؟؟
محند حمنہ کو ایک ہاتھ سے بار بار اناری پن سے اپنی طرف دھکے مار رہا تھا کہ وہ آگے ہونے کی کوشش میں کہیں گر نہ جائے ۔۔۔۔۔۔ اس لئے جھنجھلا کر غصے سےچٹخ ہی گیا تھا وہ۔۔۔۔۔۔
یہ سب یہ ہے کہ آج کا سارا دن آپ حمنہ کو سنبھالیں گے اور کل کا ثمال سنبھالیں گیں ،اسی طرح ایک دن آپ اور ایک دن ثمال یہ ڈیوٹی نبھائیں گیں۔۔۔۔۔۔
بی بی جان نے ثمال کو خاموش رہنے کا اشارہ کرکے خود ہی محند کو جواب دیا تھا
محند کانٹا پلیٹ میں پٹکتا ہنسا تھا
بہت اچھا جوک ہے آج کا بی بی جان ، اب اسے پکڑیں ناشتہ تو میرا حرام ہو ہی چکا ہے لیکن میں اب آفس سے بلکل بھی لیٹ نہیں ہونا چاہتا اور۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔
محند کر سی سے اٹھتا کھڑا ہوا تھا اور بڑے ہی عجیب انداز میں حمنہ کو اٹھایا جیسے وہ بچی نہیں ہو کوئی پپی ہو ۔۔۔ سر نیچے اور ٹانگیں اوپر تھیں اس طرح اٹھانے سے حمنہ کی ٹانگ اسکی آنکھ میں لگی تھی ساتھ ہی اس پوزیشن میں حمنہ نے خوش ہو کر کھلکھلانا شروع کردیا تھا مگر محند اپنی آنکھیں پکڑے کراہ اٹھا تھا
اب اور کچھ مت بولیے گا بچے ورنہ اسے بھی آپ کی طرح بہت غصہ آتا ہے۔۔۔۔۔
بی بی جان اسکی حالت پر ہنسی دباتیں بولیں تھیں
بس۔۔۔۔۔۔۔۔.
محند کو پھر سے بولنے کی کوشش کرتے دیکھ بی بی جان نےاسے بیچ میں ہی ٹوک دیا
اب آپ نے کچھ اور بولا اور اگر جو ہم نے کہا ہے ویسا نہ کیا تو میں یہ بچی شمائل کو دے آؤں گی چاہے وہ اس کے ساتھ پھر کچھ بھی کرے میں اسے نہیں روکوں گی بلکل بھی ۔۔۔ ۔۔۔۔
بی بی جان کا یہ کہنا تھا کہ محند وہی رک گیا تھا بی بی جان کا تیر بلکل صحیح نشانے پر لگا تھا
بی بی جان جانتی تھیں محند کی نیچر کو اس لئے چاہے چیز
اسکی پسند کی ہو یا نہ ہو وہ کسی بھی قیمت پر اپنے دشمن کو یا ناپسندیدہ شخص کو تو بلکل بھی نہیں لینے دے گا چاہے کچھ بھی ہوجائے تو یہاں تو اسکی بیٹی تھی اسکا خون تو وہ کیسے ایسی عورت کے حوالے کرنے دیتا جس نے اسے پیدا ہونے سے پہلے ہی اسے مارنے کی کوشش کی تھی۔۔۔۔۔
بظاہر وہ یہ ظاہر کرتا ہو کہ اسے حمنہ سے کوئی لینا دینا نہیں ہے مگر ہمیشہ سے نا محسوس طریقے سے اس نے حمنہ پر نظر رکھی ہوئی تھی کہ وہ کس کے ہاتھوں میں ہے کہاں ہے اور بی بی جان کو اسکی خوب خبر تھی ۔۔۔۔
اس لئے بی بی جان نے سیدھا تیرنشانے پہ لگا یا تھا
یا پھر تم میں اتنی ہمت ہی نہیں ہے کہ تم ایک چھوٹی سی بچی کی زمے داری ہی اٹھاسکو تو تم اپنی کم ہمتی کے بارے میں مجھے بتاسکتے ہو۔۔۔۔۔
میں تیار ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔ میں اسکی زمہ داری بہت احسن طریقے سے اٹھاؤں گا کہ آپ کی بہو بھی نہیں اٹھا پائے گی ۔۔۔
محند ایک نظر ثمال کو دیکھتا بی بی جان سے بولا تھا
ہونہہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محند کی بات پر ثمال نے ناک سے مکھی اڑائی تھی
پہلے بے بی کو اٹھاتے کیسے ہیں یہ تو سیکھ لیں
ثمال کی بات پر اس نے الٹے ہاتھ میں اٹھائی اپنی بیٹی کو سر جھکا کر دیکھا تھا جو الٹی لٹکی کھلکھلا نے میں مصروف تھی
بی بی جان ان دونوں کو وہیں چھوڑ جا چکی تھیں
اوہ۔۔۔۔۔۔
رکیں میں بتاتی ہوں آپ کو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایسے پکڑیں اسے نہیں تو بے بی کو کنڈی چڑھ سکتی ہے ۔۔۔۔۔۔
کیا ۔۔۔۔۔ چڑھ سکتی ہے۔۔۔۔۔؟؟؟
ثمال اسے بے بی کو پکڑ نے کا صحیح طریقہ بتا رہی تھی جب محند نے اسکے لفظ کو نہ سمجھتے ہوئے الجھن سے پوچھا تھا
وہ کنڈی۔۔۔۔ مطلب اسکی ۔۔۔(ہائے اب کیسے سمجھاؤں ) ۔۔۔۔۔ کوئی بھی اندرونی چیز ادھر ادھر ہو سکتی ہے نہ۔۔۔۔ ہی ہی ۔۔۔۔۔۔
بہت ہی بھرے طریقے سے اس نے محند کو سمجھایا تھا
واؤ۔۔۔۔۔ انسان نہ ہوئی کوئی کھلونا ہوگئی کہ اسکے پرزے نکل جائیں گے۔۔۔۔
محند اس پر طنز کرتا حمنہ کو سیدھی طرح سے پکڑا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ دونوں ایک دوسرے کے بہت قریب کھڑے تھے کہ ایک بار پھر سے محند کواسکا دل باغی کرنے لگا تھا
دور ہوکر رہو ۔۔۔۔ جب دیکھو تو مجھ سے چپکنے کی کوششیں کرتی رہتی ہو بس۔۔۔۔۔
اسے تڑخ کر کہتا وہ حمنہ کو لئے باہر نکل گیا تھا
ہا ہائے کل کا رومیو آج کا ہٹلر کیسے بن گیا
ثمال اسکے رویے پر منہ کھولے کھڑی کی کھڑی رہ گئی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حامد نے بڑی مشکل سے پتہ نہیں کتنا کچھ میٹھا کھا کھا کے منہ کا زائقہ کچھ بہتر کیا تھا مگر ابھی بھی اسکے منہ کا زائقہ تیکھا ہی تھا
جاناں صوفے پر پاؤں پسارے بڑے مزے سے حامد کو تیار ہوتے دیکھ کر مسکرا رہی تھی جو منہ کے عجیب عجیب زاویے بنا کر ٹائی باندھ رہا تھا اور ایک نظر اسکے مسکراتے چہرے پر بھی ڈال رہا تھا
بہت ہنسی آرہی ہے نہ تمہیں ۔۔۔۔۔۔۔؟؟
آخر کار مزید نہ برداشت کرتے ہوئے کوٹ پہن کر اسکے سامنے کھڑے ہو کر چلایا
ہاں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!
کمال ڈھٹائی سے جواب دیا گیا جو حامد کو اور بھی سلگا گیا
مت کرو تم اتنا غرور اپنی ان شرارتوں پر
جب ہم شرارت کر بیٹھے تو سرخ ہوجاؤگے
اسکی طرف جھکتا حامد اسکے کان میں سرگوشی میں بولا تھا جس کی جاناں کو سمجھ تو نہ آئی مگر اسکا گھمبیرلہجہ اسے بہت کچھ جتا گیا تھا
ہا ہا ہا ہا۔۔۔ ہٹو پرے میں نہیں ڈرنے والی تم سے ۔۔۔۔۔
اسکی بات کو ہوا میں اڑاتی جاناں اسکا ہاتھ ہٹاتی کھڑی ہوئی تھی کہ حامد نے اسکا ہاتھ پکڑ کر اسکا رخ اپنی طرف ایک جھٹکے سے موڑا تھا اور اپنے حصار میں قید کرتا اسے دیوار کے ساتھ لگا گیا تھا اور اسکے فرار کے سارے رستے بند کردئے تھے
کیا ہوا تم تو مجھ سے نہیں ڈرتی نہ تو اب کیوں گھبرا رہی ہو۔۔۔۔ ہاں۔۔۔۔۔؟؟
حامد اسکے گھبراتے سراپے کو دیکھتا اسکے گال کو شہادت کی انگلی سے چھو کر مخمور سا بولا تھا
دونوں ایک دوسرے کے بے انتہا قریب تھے کہ انچ بھر کا فاصلہ بھی نہیں تھا
جاناں کی تو ساری ہمت اسکے قریب آنے سے ہی ہوا میں اڑا گئی تھی وہ پلکیں جھکائے اسکی سانسوں کو اپنی سانسوں کے قریب محسوس کر کانپ گئی تھی
ہممممممم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!
اسکے چہرے سے ناک رگڑے وہ گھمبیرتا سے بولا
تمہیں ٹیسٹ کرواؤں اسکا زائقہ جو اس وقت میرے منہ میں ہے اور مجھے بہت پریشان کر رہا ہے
اسکی معنی خیز باتوں نے اسکی لرزاہٹ میں اور بھی اضافہ کیا تھا کہ اس نے بے ساختہ نفی میں سر ہلایا تھا ۔۔۔۔ آواز تو اسکی کہیں دب کر رہ گئی تھی
اوکے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!
اسکے نفی میں سر ہلانے پر وہ اس پر مزید جھکا تھا اور پھر اسے زائقہ چکھاتا اس سے دور ہوا تھا اور اسے دیکھا تھا جو اب منہ پہ ہاتھ رکھے سر جھکائے کھڑی اپنی سانسیں درست کر رہی تھی
شام کو ملتے ہیں جان۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسکے سر پر بوسا دیتے حامد اس پر گہری نظر ڈالتا آفس کے لئے نکل گیا تھا
اسکے جانے کے بعد جب جاناں نے چہرے پر سے ہاتھ ہٹائے تو اسکا چہرہ آنسؤوں سے بھیگا ہوا تھا
مت کرو مجھ سے اتنا پیار کہ میں تمہیں چھوڑ کر جا ہی نہ سکوں۔۔۔۔۔
میں نہیں رہ سکتی تمہارے ساتھ ۔۔۔۔۔۔ جب تمہارا دل مجھ سے بھر جائے گا تو تم مجھے چھوڑ کر واپس اپنی قیمتی رنگین دنیا میں چلے جاؤ گے۔۔۔۔۔ اس سے پہلے کہ تم مجھے چھوڑو میں ہی تمہیں چھوڑ کر چلی جاؤں گی ہمیشہ ہمیشہ کے لئے۔۔۔۔۔۔
شیشے کے سامنے کھڑی وہ حامد کی جسارت پر سرخ ہوئے چہرے کو دیکھتی بولی تھی جبکہ اسکے آنسو لگاتار اسکے چہرے کو بھگو رہے تھے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سارے رستے حمنہ نے اسکا جینا حرام کیے رکھا تھا کبھی وہ اسکی داڑھی کے بال کھینچتی تو کبھی اسکی ناک میں اپنی ننھی ننھی انگلیاں گھسیڑتی پھر اپنی کارستانیوں پر خود ہی ہنسنے لگ پڑتی ۔۔۔۔۔۔۔
یا اللہ کہیں یہ پاگل تو نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟؟؟؟ ایک تو گندے کام کر رہی ہے اوپر سےایسے ہنستی ہے جیسے کوئی اہم کارنامہ سر انجام دے دیا ہو۔۔۔۔۔
محند اسے دونوں ہاتھوں سے اٹھا کر اسے دیکھتا چڑ کر بولا تھا
ہی ہی ہی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محند کی بات پر وہ پھر سے کھلکھلائی تھی
سر کمپنی آگئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!
ڈرائیور گاڑی روکتا ڈور کھولے کھڑا مؤدب انداز میں بولا تھا ورنہ تو اسکا دل آج اپنے مغرور باس کی حالت پر قہقہ مارنے کو کر رہا تھا
پتہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پھاڑ کھانے والے انداز میں اس کو بولتا وہ اسے پھر سے الٹا اٹھائے چل پڑا تھا اور اس طرح اٹھانے سے حمنہ نے پھر سے ہنسنا شروع کردیا تھا
وہ عجیب عجیب منہ بناتا اسے لئے بلڈنگ میں داخل ہوا اسکے انتظار میں کھڑی اسکی سیکریٹری اسکے آنے پر جلدی سے آگے بڑھی تھی اور آج کا شیڈول بتاتے جیسے ہی اسکی نظر الٹی لٹکی پیاری سی بچی پر پڑی تو وہ وہیں رک گئی اور منہ کھولے کبھی اپنے باس کو دیکھتی تو کبھی حمنہ کو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔…..!!!
اب تمہیں کیا مسئلہ ہے کیوں چپ کر گئی ہو۔۔؟؟
محند اسکے چپ کرنے پر سیخ پا ہو کر بولا مگر اسکی سیکریٹری کی نظریں ابھی تک حمنہ پر ہی تھیں۔۔۔۔
سر ۔۔۔۔۔۔۔!!!
کیا سر سر لگا رکھی ہے آگے بھی کچھ ہے اسکے یا پھر سر ہی ہے۔۔۔۔۔۔
سر وہ بے بی۔۔۔۔۔۔۔؟؟
کیا بے بی۔۔۔۔۔۔؟؟
محند نے جب جھنجھلا کر حمنہ کی طرف دیکھا تو اسکی آنکھیں ہی باہر نکل آئیں۔۔۔۔۔
یہ بھی کرنا تھا اس نے کیا۔۔۔۔۔؟؟
صدمے سے چور محند کبھی اسے دیکھتا کبھی اپنے کپڑوں کو جہاں حمنہ نے چھیا کردیا تھا اور اسکا لش پش کرتا برائنڈڈ تھری پیس سوٹ برباد ہوچکا تھا
وہیں سیکریٹری ناک پر ہاتھ رکھتی اس سے دور ہوئی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری۔۔۔۔۔
