Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode12

Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode12

ثمال کی جب آنکھ کھلی تو محند آفس جا چکا تھا سائیڈ میں دیکھا تو حمنہ بھی نہیں تھی شائد میڈ لے گئی ہوگی ثمال سوچتے ہوئے اٹھی کیونکہ جب سے وہ یہاں آئی تھی ایسے اکثر ہوتا تھا جب ثمال نہ جگی ہوئی ہوتی تو میڈ آکر حمنہ کو لے جاتی تھی ابھی بھی ایسا ہی ہوا تھا
ثمال فریش ہوکر واشروم سے باہر نکی اور ڈریسنگ کے سامنے کھڑے ہو کر بالوں میں برش کرنے لگی اور ساتھ ہی ساتھ آج کے لئے پلیننگ بھی دماغ میں دہرانے لگی کہ اس نے کیا اور کیسے کرنا ہے ۔۔۔۔۔
ہممممم چلو ثمال شروع کرو بی بی جان کے گدھے کی ٹھکائی مشن کو ۔۔۔۔۔۔۔۔
اپنے بیگ میں سے اس نے ڈائری نکالی اور اس میں آج کی ساری پلیننگ لکھنے لگی کہ اسے تب یہ کرنا ہے اس ٹائم یہ کرنا ہے اور ہر پوائنٹ کے سامنے کر اس اور گڈ کے لئے نشان لگایا کہ جو جو پلین کام کر گیا وہاں ٹک نہیں تو کر اس لگائے گی
ہاں یہ تو ہوگیا اب چلو بھئی پہلے پوائنٹ پر عمل کرتے ہیں
ثمال جلدی سے تیار ہو کر نیچے آئی اور راہداری سے ہوتے ہوئے ملازمہ سے بی بی جان کے بارے میں پوچھ کر گارڈن میں آگئی جہاں بی بی جان حمنہ کو لے بیٹھی ہوئیں تھیں اور گھاس پر حمنہ کے بہت سارے کھلونے بھی پڑے ہوئے تھے
اسلام وعلیکم بی بی جان ۔۔۔۔۔۔
بی بی جان کو سلام کرتی وہ نیچے گھاس پر ہی بیٹھ گئی تھی آسمان پورا بادلوں سے ڈھکا ہوا تھا اور ہوا بھی چل رہی تھی
وعلیکم اسلام ۔۔۔۔۔ کیا ہوا بچے بجھے بجھے سے ہو اور آج تو آپ اٹھے بھی کافی لیٹ ہو کیا بات ہے طبعت تو ٹھیک ہے نہ آپ کی ۔۔۔۔۔۔
بی بی جان سلام کا جواب دیتیں اسکے اترے ہوئے منہ کو دیکھ کر بولیں ۔۔
نہیں بی بی جان بس وہ رات کو نیند پوری نہیں ہوئی نہ تو اسی لئے آپ کو ایسا لگ رہاہے ساری رات حمنہ نے جگائے رکھا مجھے ۔۔۔
تو آپ مجھے یا میڈ کو دے دیتیں بچے ۔۔۔۔
نہیں نہیں بی بی جان اب اگر میں نہیں سنبھالوں گی تو پھر اس طرح اس کی شخصیت پر اثر پڑے گا نہ ۔۔۔۔آپ کو پتہ ہے بی بی جان میرے گاؤں میں بھی ایک بچی تھی اس کے ماں باپ ہر وقت آپس میں لڑتے رہتے تھے اور اپنی اس لڑائی میں بچی بچاری کو اگنور کرنے لگے اس طرح وہ غلط صحبت میں چلی گئی پھر تو نہ ہی پوچھیں بی بی جان وہ نشئی بن گئی پوری کی پوری پھر اسی طرح اس نے اپنی زندگی تک گنوادی اس کے ماں باپ کو جب سمجھ آئی تھی تب بہت دیر ہوچکی تھی بچی بچاری جوانی میں قدم رکھتے ہی اپنی زندگی کی ڈور کاٹ گئی اور اسکے زمےدار صرف اسکے ماں باپ تھے ۔۔۔۔
اب آپ ہی بتائیں بی بی یہ تو پہلے ہی حمنہ گڑیا سے دور دور رہتے ہیں تو میں کیسے اسے کسی اور کے حوالے کرکے اسے بھی احساس کمتری میں مبتلا کردوں ۔۔۔
ثمال نے ایسا خطرناک نقشہ کھینچا کہ ایک پل کے لئے بی بی جان کو اس بچی میں حمنہ دکھائی دی تھی
نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اللہ نہ کرے کہ کسی کو بھی ایسی بری لت لگے ۔۔۔۔۔۔
جی بلکل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!
ثمال نے بی بی جان کی ہاں میں ہاں ملائی۔۔۔۔۔
وہ بی بی جان مجھے نہ آپ سے یہ بھی کہنا تھا کہ آپ ان سے بھی بات کریں نہ کہ وہ حمنہ کو ٹائم دیا کریں میرے ساتھ ساتھ حمنہ کو انکی بھی ضرورت ہے۔۔۔
ثمال اصل بات کی طرف آئی وہ محند کو سبق سکھا نے کے ساتھ ساتھ وہ دل سے یہ چاہتی تھی کہ محند حمنہ کو اپنا لے۔۔۔۔۔۔۔
ہمم ۔۔۔۔۔۔۔ میں بات کروں گی محند سے کیسے بھی کرکے اسے راضی کر لوں گی میں تم فکر مت کرو ۔۔۔ میں حمنہ کو ویسا بلکل بھی نہیں بننے دوں گی ۔۔۔. بلکل بھی نہیں۔۔۔۔۔۔
بی بی جان پریشانی سے بولیں تھیں اور ثمال کو بھی کہہ دیا تھا کہ آج محند سے وہ دو ٹوک بات کریں گی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شمائل نائیٹی میں ابھی تک اپنے گھر کے ٹیرس پہ کھڑی کل کی پارٹی کے بارے میں سوچے جارہی تھی اسے امید بھی نہیں تھی کہ محند دوسری شادی کر بھی لے گا۔۔۔ اسے تو لگا تھا کہ وہ اس کے عشق میں پاگل ہو کر اس کی منتیں کرے گا یا پھر اسے واپس پانے کی کوششیں کرےگا کیونکہ وہ تو ہے ہی اتنی حسین کہ کوئی بھی اسکے حسن کے آگے اپنا سب کچھ وار دے سکول کالج یونیورسٹی میں بھی اس کے حسن نے سب کو پاگل کر رکھا تھا ہر کوئی اسکی رفاقت پانے کے لئے بے چین تھا مگر جسکے پیچھے ایک دنیا دیوانی تھی وہ خود محند سلطان کے پیچھے دیوانی تھی مگر وہ تھا کہ اپنی مغرور شخصیت کے ساتھ اس کو تو کیا کسی کو بھی گھاس نہیں ڈالتا تھا لیکن شمائل نے اسکا پیچھا کسی قیمت نہیں چھوڑا تھا وہ ہر وقت جہاں کہیں بھی محند پایا جاتا وہیں شمائل بھی پہنچ جاتی اور یہ سب دیکھ کر سلمان یزدانی کو بے انتہا غصہ چڑھتا تھا
وہ دیوانوں کی حد تک شمائل کو چاہتا تھا مگر دولت مند اور ہینڈسم ہونے کے باوجود وہ شمائل کو اپنی طرف نہ کھینچ سکا اور پھر یہ شمائل کی خوش قسمتی ہی تھی کہ محند بزنس سٹیبلش کرنے کے بعد بی بی جان کے بار بار مجبور کرنے کے بعد اس نے شمائل سے ہی شادی کرلی تھی وہ جانتا تھا کہ شمائل یونیورسٹی کے زمانے سے اسے پسند کرتی تھی تو اس نے اسی سے شادی کرلی ۔۔۔۔
اور یہاں شمائل کو لگا کہ وہ اس سے محبت کرتا ہے اسی لئے اس نے شادی کی مگر یہ اسکی خام خیالی ہی تھی
کچھ عرصے تک تو وہ بہت خوش رہی لیکن جب محند کی طرف سے روک ٹوک کچھ زیادہ ہی ہونے لگی تو وہ محند سے چڑنے لگی تھی حد تو تب ختم ہوئی جب اسے معلوم ہوا کہ وہ ماں بننے والی ہے تو وہ ہتھے سے ہی اکھڑ گئی اور محند سے ابارشن کا کہنے لگی مگر محند نے اسے سختی سے منع کردیا مگر شمائل اس سے متنفر ہو چکی تھی
اور باقی کسر سلمان یزدانی پوری کر رہا تھا اسے بھٹکا کر اور وہ بھٹک بھی گئی تھی ۔۔۔۔۔
جیسے تیسے کرکے وقت سرکا اور پھر حمنہ کی پیدائش کے بعد حالات کچھ زیادہ ہی خراب ہونا شروع ہوگئے اور پھر وہ محند سے طلاق لے کر سلمان یزدانی کے پاس آئی اور اس سے شادی کرلی ۔۔۔
لیکن پھر اسے آہستہ آہستہ احساس ہونا شروع ہوا کہ سلمان نے اسے حاصل کرنے کے لئے وہ سب کیا تھا اور وہ بھی اسکی باتوں میں آگئی اور اپنی شادی توڑ بیٹھی ۔۔۔۔ اسے اس بات کا شدت سے احساس ہوا کہ کیا ہوتا اگر وہ محند کو بہلا پھسلا کر اپنی حسن میں جکڑ کر ہر بات منوا لیتی لیکن یہ اسکی سوچ تھی محند عام مردوں سے ہٹ کر تھا جو لڑکی شادی ہونے کے عرصے میں نہ اسے جکڑ سکی تو بعد میں کیا جکڑتی۔۔۔
پھر کل جو ہوا اس نے شمائل کو جھلسا کر رکھ دیا تھا اس کا ہر پل ازیت میں گزر رہا تھا
میں تمہیں چھین لوں گی مان ۔۔۔۔ تم صرف میرے ہو صرف شمائل کے ۔۔۔۔۔۔ شمائل کے ہو تم ۔۔۔میرے ہو۔۔۔۔۔۔ ہاں۔۔۔۔۔ تت۔۔۔۔۔ تم۔۔۔۔ مم۔۔۔ میر۔۔۔۔ہع ۔۔۔۔۔ میرے۔۔۔۔ ہہ۔۔۔۔۔ہو۔۔۔۔۔ تت ۔۔۔تم۔۔۔۔۔۔
شمائل چلاتے ہوئے چیزیں توڑتی ہوئی پاگل لگ رہی تھی ۔۔۔۔۔
اب نہ جانے حسد کی آگ میں کس کو جلنا تھا یا پھر کس کو جلانا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تم میرے ساتھ ایسا کیسے کر سکتے ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟
محند جیسے ہی میٹنگ روم سے باہر نکلا تبھی فاطمہ یزدانی اسکے سامنے آئی تھی اور چلاتے ہوئے اس سے بولی تھی
محند اس پر ایک ناگوار نظر ڈالتا آگے بڑھا تھا اور میٹنگ روم میں داخل ہوا تھا اسکے پیچھے پیچھے فاطمہ بھی آئی تھی اور اب وہ دونوں میٹنگ روم میں تنہا کھڑے تھے
محند تم نے میرا استعمال کیا ۔۔۔۔۔ پروجیکٹ حاصل کرنے کے لئے مجھے اپنے جال میں پھنسایا اور جیسے ہی پروجیکٹ واپس
لے لیا اور دوسری شادی وہ بھی کسی اور سے کا ڈھنڈھورا پیٹ دیا ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟
بولو کیوں کیا تم نے ایسا۔۔۔۔۔۔؟؟
فاطمہ پر سکون کھڑے محند کا بازو جھنجھوڑنے ہوئے چلا رہی تھی
محند نے اسکے ہاتھ سے اپنا بازو بڑے آرام سے نکالا اور مسکراتے ہوئے دو قدم پیچھے ہو کر چئیر پر ایک انداز سے بیٹھا اور اسے دیکھتے سرد لہجے میں بولا
میں نے تم سے شادی کا کب کہا مس فاطمہ یزدانی ۔۔۔۔۔؟؟؟
محند کا استہزائیہ لہجہ فاطمہ کو منہ کے بل گرا گیا تھا
میں نے تم سے صرف یہ کہا تھا کہ تم مجھے اپنے بھائی سے میرا پروجیکٹ دلانے میں میرا کام کروگی ۔۔۔۔
محند نے مدد کے بجائے کام کہا
اور تم فورا” ہی ہاں کر گئی
محند اب کھڑا ہوا تھا اور چلتے پروجیکٹر کو آف کرتے اس سے مزید بولا تھا
تم بھی شمائل کی طرح کی ہی لڑکی تھی مس فاطمہ اور تم ہی کیا تم جیسی بے شمار ایسی لڑکیاں تھیں اور ہیں بھی جو یونیورسٹی میں میرے آگے پیچھے پھرتی تھیں مگر افسوس کہ تمہاری دوست بازی لے گئی اور میں نے اسے یہ شرف بخش دیا لیکن اسکا یہ مطلب تو نہیں کہ میں اب ہر کسی سے شادی کے وعدے کرنے لگ جاؤں یا ہر لڑکی سے ہی شادی کر بیٹھوں ۔۔۔۔
محند چلتا اسکے سامنے آیا تھا
مانا کہ دنیا میں لڑکوں کی تعداد لڑکیوں کے مقابلے بہت کم ہے مگر آئی سو ئیر میں آخری مرد تو نہیں ہوں کہ تم میرے پیچھے ہی پڑ گئی ہو ۔۔۔
مزاق اڑا نے کے سے انداز میں محند نے اسے جلا کر رکھ دیا تھا
اور ہاں۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!
محند جاتے جاتے مڑا تھا
میں نے جس سے شادی کرنی تھی کرلی ہے اور جس سے کی ہے وہ میری آخری بیوی ہے ۔۔۔۔
بائے۔۔۔۔۔۔۔۔
محند اس سے کہتا جا چکا تھا اور وہ آنکھوں میں آگ لئے ابھی تک دروازے کو ہی گھور رہی تھی۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محند جیسے ہی گھر آیا بی بی جان کا پیغام ملا کہ وہ اسے اپنے کمرے میں بلا رہی ہیں محند جو چینج کرکے لیپ ٹاپ لے کر بیٹھا ہی تھا پر سوچ لکیریں ماتھے پر سجائے انکے روم میں اب بیٹھا انکی بات کا منتظر تھا
دیکھو محند ہم چاہتے ہیں کہ آپ ثمال بچے کے ساتھ مل کر حمنہ کی دیکھ ریکھ کریں جیسے ایک بچے کے والدین کرتے ہیں اور ہم کوئی بھی بہانہ نہیں سنیں گے ورنہ ہم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ٹھیک ہے بی بی جان اور کچھ۔۔۔۔۔؟؟
بی بی جان ابھی اسے دھمکی دینے ہی والیں تھیں کہ محند نے بیچ میں ہی اہنی رضامندی دے دی تھی جس پر بی بی جان حد درجہ حیران ہوئیں تھیں کہ یہ سورج کہاں سے نکل آیا آج۔۔۔۔۔۔۔
بی بی جان اور کچھ۔۔۔۔۔۔؟؟
بی بی جان کو سوچتے دیکھ محند نے پھر سے پوچھا تھا
ہاں۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟ نہیں۔۔۔۔۔۔ نہیں بس ۔۔۔یہی کہنا تھا
ٹھیک ہے میں چلتا ہوں مجھے بہت ضروری میل چیک کرنی تھی
محند ان سے سر پہ پیار لیتا اپنے روم میں چلا گیا مگر بی بی جان ابھی تک حیرت میں ہی ڈوبی ہوئی تھیں کہ اس گدھے نے کیسے میری بات ایک ہی بار میں مان لی وہ بھی. بنا کسی دھمکی کے۔۔۔۔۔۔۔؟؟
حیرت پہ حیرت تھی۔۔۔۔
کچھ تو گڑ بڑ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محند روم میں واپس آیا تو بیڈ پہ حمنہ کو سوتے ہوئے پایا
وہ چل کر بیڈ کے پاس آیا اور حمنہ کے سامنے بیٹھ کر اسے دیکھنے لگا
کتنی ہی دیر گزر گئی اور وہ اسے یونہی دیکھتا رہا مگر نظریں تھیں کہ پلٹنے سے انکاری تھیں
دھیرے سے وہ اٹھ کر ٹیرس میں آیا اور سگریٹ سلگا کر ہونٹوں سے لگایا
گھٹن اتنی تھی کہ وہ شیڈ کے نیچے کھڑا برستی بارش کو دیکھ رہا تھا
ایک سگریٹ ختم ہوئی کہ دوسری جلا رہا تھا کہ اسے کسی کے ہنسنے کی آواز آئی ۔۔۔۔۔ لائیٹر کو بجھا کر اس نے آگے ہو کر دیکھا تو نیچے گارڈن میں ثمال تیز بارش میں بھیگتی گول گول گھوم کر ہنسے جارہی تھی
محند بے ساختہ اسے نہارنے لگا
بارش میں مکمل بھیگی بھیگی سی وہ اسے بہت حسین لگ رہی تھی
ثمال سوچکی حمنہ کو کمرے میں چھوڑنے آئی تو اچانک ہونے والی بارش کو دیکھ کر وہ الٹے پیر باہر بھاگی تھی اور پھر وہ بارش میں بھیگتی ہنسے جارہی تھی اسے کوئی احساس نہ ہوا کہ کوئی اس کے ہوشربا حسن میں جکڑ اگیا تھا اور وہ ساکت کھڑا اسے تپش بھری نظروں سے دیکھ رہا تھا
ثمال لال گلاب کو بارش میں بھیگتے لہراتے دیکھ اسے توڑنے کے لئے آگے بڑھی تھی کہ اسے کسی نے کمر سے پکڑ کر اپنے کندھے پر ڈالا تھا اور اندر کی جانب چل دیا
پہلے تو ثمال گھبرا گئی مگر محند کی سینٹ کی مخصوص خوشبو کو پہچانتے اسے جہاں تسلی ہوئی وہی وہ پریشان بھی ہوئی کہ اسے پھر سے کون سا دورہ پڑ گیا
مگر اس سے بے پرواہ محند اسے گھر کی پچھلی سائڈ بنی بند انیکسی میں لایا تھا جو گھر کے بلکل پچھلی سائڈ پر تھی اور اسے کافی عرصے سے بند رکھا گیا تھا
ثمال حیران ہوتی گھبرا ئی تھی کہ وہ اسے کہاں لے کے آگیا ہے مگر پھر جب محند نے اسے ایک جھٹکے سے اندر صوفے پر پھینکا توثمال ہکابکا سی رہ گئی
یا اللہ اب کون سا جن چڑھا ہے ان پر ۔۔۔۔۔۔؟؟؟
ثمال فورا” سے اٹھ کر بیٹھی مگر اسکی ریڑھ کی ہڈی میں خوف کی لہر دوڑی تھی
محند کی آنکھیں بے تحاشہ لال ہوچکی تھیں
ماتھے سے ٹپکتا پانی اور اسکا بگڑا تنفس اسے خوفناک بنا رہا تھا اوپر سے بادلوں کی گڑگڑاہٹ اور گہرا اندھیرا کچھ الگ ہی داستان سنا رہا تھا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *